Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر  کی قیادت میں افواج پاکستان نے افغانستان کے حملوں کو پسپا کیا ،وزیراعظم

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے افغانستان کے حملوں کو پسپا کیا ،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حوالے سے اعلی سطح اجلاس ہوا.

    اجلاس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف، وفاقی وزراء، وزیرِ اعظم آزاد جموں و کشمیر، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلی، خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلی کے نمائندے اور وفاقی و صوبائی اعلی حکام نے شرکت کی. وزیرِ اعظم نےاجلاس کے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، انہیں مبارکباد دی اور وفاق کی جانب سے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی. خیبر پختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے، وفاقی حکومت اس کے عوام کی فلاح و ترقی کیلئے صوبائی حکومت کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کیلئے تیار ہے.

    اجلاس میں وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی عدم شرکت کی وجہ سے انکی نمائندگی مزمل اسلم نے کی.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دہائیوں سے مشکلات میں گھرے افغانستان کی پاکستان نے ہر مشکل وقت میں مدد کی.پاکستان نے دھشتگردی کی جنگ میں ہزاروں قیمتی جانوں اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان اٹھایا.افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر دھشتگرد حملے اور افغانیوں کا ان حملوں میں ملوث ہونا تشویشناک ہے. نائب وزیر اعظم و وزیرِ خارجہ، وزیرِ دفاع اور اعلی حکومتی عہدیدار متعدد بار افغانستان کے دورے پر گئے اور افغان نگران حکومت کو پاکستان میں دھشتگردی کیلئے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے کے حوالے سے مزاکرات کئے.پاکستان نے افغانستان سے پاکستان میں خوارج کی در اندازی کو روکنے کی سفارتی و سیاسی اقدامات کے ذریعے بھرپور کوشش کی.پاکستان کے بہادر عوام، جنہوں نے دھشتگردی کی جنگ میں اپنے پیاروں کی قربانیاں دیں، ہم سے سوال کرتے ہیں کہ حکومت کب تک افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھائے گی.

    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تمام صوبائی حکومتیں، وفاقی و صوبائی ادارے قریبی تعاون کے ساتھ پاکستان میں غیر قانونی طور پر موجود افغان باشندوں کی جلد از جلد وطن واپسی یقینی بنائیں گے.افغانستان کا پاکستان پر حالیہ حملہ اور خوارج کی پاکستان میں در اندازی کی کوششوں کا ساتھ دینا تشویشناک امر ہے.پاکستان کی بہادر افواج نے اس حملے کا بھرپور انداز سے جواب دیا. فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف کی قیادت میں افواج پاکستان نے افغانستان کے حملوں کو پسپا کیا جس پر مجھ سمیت پوری قوم انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے.فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف کی قیادت میں افواج پاکستان بھارتی جارحیت کے دوران یہ ثابت کر چکیں کہ ہماری بہادر افواج اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے ارض وطن کا دفاع کرنا جانتی ہیں.

    اجلاس کو افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی.بتایا گیا کہ اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی مرحلہ وار وطن واپسی شروع کی گئی. 16 اکتوبر 2025 تک 14 لاکھ 77 ہزار 592 افغانیوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے. افغان مہاجرین کو کسی بھی قسم کی اضافی مہلت نہیں دی جائے گی اور انکی وطن واپسی جلد یقینی بنائی جائے گی. پاکستان میں صرف انہی افعانی باشندوں کو رہنے کی اجازت ہوگی جن کے پاس پاکستان کا ویزہ موجود ہوگا. اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ افغانستان کی جانب ایگزٹ پوائنٹس کی تعداد کو بڑھایا جا رہا ہے تاکہ افغانیوں کی وطن واپسی سہل اور تیزی سے ممکن ہو سکے. اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر موجود افغان باشندوں کو پناہ دینا اور انہیں گیسٹ ہاؤسز میں قیام کی اجازت دینا قانوناً جرم ہے، ایسے افغانی باشندوں کی نشاندہی کی جارہی ہے. پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے عمل میں عوام کو شراکت دار بنایا جائے گا اور کسی کو بھی افغانیوں کو حکومت کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں پناہ دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی. وزیرِ اعظم نے غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے دوران بزرگوں، خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے ساتھ باعزت طریقے سے پیش آنے کی ہدایت کی.

    آزاد جموں و کشمیر کے وزیرِ اعظم، پنجاب، سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان کے وزراء اعلی اور حکومت خیبر پختونخوا کے نمائندے نے پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو سراہا، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف کے اس حوالے سے مرکزی کردار کی تعریف کی.اجلاس کے اختتام پر فورم نے فیصلہ کیا کہ اجلاس میں پیش کردہ تمام سفارشات پر سختی سے عمل کیا جائے. وزیرِ اعظم نے افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حوالے سے صوبوں کو مکمل تعاون کی درخواست کی.

  • عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    خیبر پختونخوا حکومت نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ملاقات کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔

    ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایت پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے کے بعد وہ سپریم کورٹ بھی پہنچے،ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ وزیراعلیٰ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھا ہے۔خط میں کہا ہے کہ میں صوبے کا منتخب وزیراعلی اور ساڑھے 4 کروڑ عوام کا نمائندہ ہوں،میری آئینی اور اخلاقی فریضہ ہے کہ اپنی جماعت کے پیٹرن ان چیف عمران خان سے ہدایات لوں جو اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں، میں نے وفاقی وزارت داخلہ اور ہوم منسٹری پنجاب کو پہلے ہی لکھا ہے، متعدد کوششوں کی باوجود ملاقات نہیں کرائی گئی، لہذا سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سمیت حکام کو عمران خان سے ملاقات کے لیے احکامات جاری کیے جائیں.

  • سکیورٹی فورسز کی شمالی وزیرستان کے علاقہ دتہ خیل میں کارروائی، 6 خوارج جہنم واصل

    سکیورٹی فورسز کی شمالی وزیرستان کے علاقہ دتہ خیل میں کارروائی، 6 خوارج جہنم واصل

    شمالی وزیرستان کے علاقے ٹنگ کلی( دتہ خیل) میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا ہے

    سکیورٹی فورسز کو مضافاتی علاقوں میں دہشتگردوں کی نقل و حرکت کی خفیہ اطلاعات موصول ہوئیں، سکیورٹی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اطلاعات کے پیش نظر 8 سے 10 روز تک علاقے کی بھرپور نگرانی کی،16 اکتوبر کو سکیورٹی فورسز نے ان دہشتگردوں کو گھیرے میں لے لیا،فائرنگ کے تبادلے میں 6 چھ دہشتگرد جہنم واصل جبکہ 3 زخمی ہو گئے،ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں فتنہ الخوارج کا کمانڈر محبوب عرف محمد بھی شامل ہے، سکیورٹی فورسز کی یہ کارروائی علاقے میں امن دشمن عناصر کے خلاف جاری آپریشن کا حصہ ہے، عوام اور سکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پرعزم ہیں، گزشتہ چار روز میں افغان طالبان کے بھیجے گئے 94 خوارج جہنم واصل کئے جا چکے ہیں،نیشنل ایکشن پلان کے تحت عوام اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف بلا امتیاز اور مسلسل کارروائیاں جاری ہیں،

  • افغان طالبان کی جارحیت،  سرحد پر کھڑے  فرنٹیئر کور کے جوانوں کے حوصلے  غیر متزلزل

    افغان طالبان کی جارحیت، سرحد پر کھڑے فرنٹیئر کور کے جوانوں کے حوصلے غیر متزلزل

    افغان طالبان کی جارحیت، سرحد پر کھڑے فرنٹیئر کور کے جوانوں کے حوصلے غیر متزلزل ہیں

    افغان طالبان اور خوارج کی جارحیت کیخلاف سرحد پر موجود فرنٹیئر کور کے جوان ملکی دفاع کیلئے پرعزم ہیں ،خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی مٹی سے جنم لینے والے فرنٹیئر کور کے فوجی جوان اپنے وطن کے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں، دفاع وطن کا فریضہ سرانجام دینے والے فرنٹیئر کور کے جوانوں کا کہنا ہے کہ ہم پاک افغان سرحد پر کھڑے ہیں اور اپنے ملک کا دفاع کرنا جانتے ہیں،اگر افغان طالبان نے دوبارہ یہ حرکت کی تو جواب اس سے بھی زیادہ سخت ہوگا،فتنہ الخوارج ہماری سرحدوں پر ناپاک حملے کی کوشش کی، ہم نے جواب میں ان کی پوسٹوں کو تباہ کردیا،کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا کیونکہ اس کے فوجی سرحد حفاظت کیلئے موجود ہیں، ہم اپنے ملک اور مادر وطن کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے، ہم تمام جوان اور ہمارے ٹینک ہمہ وقت تیار ہیں،دشمن اس خام خیالی میں نہ رہے کہ وہ ہم سب سے بچ کر نکل جائے گا،اگر دشمن نے دوبارہ ہمارے ملک پر حملہ کی کوشش کی تو وطن کے بیٹے منہ توڑ جواب دینگے،

  • ماڑی انرجیز کا سندھ کے شہر ڈھرکی سے تیل اور گیس کی دریافت کا اعلان

    ماڑی انرجیز کا سندھ کے شہر ڈھرکی سے تیل اور گیس کی دریافت کا اعلان

    گھوٹکی، ماڑی انرجیز نے سندھ کے شہر ڈھرکی سے تیل اور گیس کی دریافت کا اعلان کیا ہے۔

    ماڑی انرجیز کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے سندھ کے ضلع گھوٹکی کے شہر ڈھرکی سے تیل اور گیس کا ذخیرہ دریافت ہوا ہے،دریافت ماڑی غزیج سی ایف بی ون ایکسپلوریشن ویل سے ہوئی، ماڑی انرجیز، ماڑی ڈیولپمنٹ اینڈ پروڈکشن لیز کی100 فیصد حقوق کے ساتھ آپریٹر ہے،ایف بی ون ایکسپلوریشن کنواں تیل سے بھرپور زونز کو ہدف بنا کر کھودا گیا تھا، ٹیسٹنگ کے دوران کنویں سے 305 بیرل یومیہ تیل حاصل ہوا جب کہ یومیہ 30 لاکھ مکعب فٹ گیس حاصل ہوئی،کمپنی ڈھرکی ماڑی فیلڈ میں پاکستان کے سب سے بڑے گیس ذخیرے کو چلارہی ہے اور ماڑی انرجیز تقریباً 30 فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ ملک کی گیس پیدا کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہے۔

  • امریکہ اور برطانیہ میں حسن صدیقی کے عالمی اعزازات، مگر حکومتِ پاکستان کی عدم پذیرائی

    امریکہ اور برطانیہ میں حسن صدیقی کے عالمی اعزازات، مگر حکومتِ پاکستان کی عدم پذیرائی

    دنیا کے ہر کونے میں پاکستانی نوجوان اپنی صلاحیتوں، جد و جہد اورعزم سے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ انہی نوجوانوں میں ایک نمایاں نام ہے لاہور کے رہائشی 25 سالہ پاکستانی مصنف حسن صدیقی کا ، جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود عالمی ادب کے افق پر پاکستان کا پرچم بلند کیا۔ حسن صدیقی اُن گنے چنے پاکستانیوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے قلم کو انسانیت، ہمدردی اور امید کے پیغام کا ذریعہ بنایا، اور دنیا کو دکھایا کہ اصل قومی ہیرو وہی ہوتے ہیں جو علم و اخلاق کے ذریعے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں۔

    Cupertino Library میں پہلا پاکستانی مصنف
    حال ہی میں حسن صدیقی نے ایک اور نمایاں عالمی اعزاز اپنے نام کیا۔ اُن کی کہانی "A Hope for One Homeless” کو 10 اکتوبر 2025 کو World Homeless Day کے موقع پر امریکہ، کیلیفورنیا کی معروف عوامی لائبریری Cupertino Library میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ یہ لائبریری Silicon Valley کے علمی و ثقافتی مراکز میں ایک اہم مقام رکھتی ہے اور Apple کے عالمی ہیڈکوارٹر کے قریب واقع ہونے کے باعث دنیا بھر میں اپنی شہرت رکھتی ہے۔

    یوں حسن صدیقی وہ پہلے پاکستانی مصنف بن گئے جن کا کام اس نمایاں امریکی ادارے میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ یہ ایک غیر معمولی اعزاز ہے جو نہ صرف اُن کی صلاحیتوں بلکہ پاکستان کے تخلیقی نوجوانوں کی قوتِ ارادی کا مظہر ہے۔

    ادبی سفر کا آغاز، ماں کی جدائی اور کم عمری کی ذمہ داریاں
    حسن صدیقی کی زندگی کا سفر آسان نہ تھا۔ محض 14 سال کی عمر میں اُن کی والدہ کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد زندگی نے اُنہیں وقت سے پہلے بڑا کر دیا۔ کم عمری میں گھریلو ذمہ داریاں اور تعلیمی تقاضے ایک ساتھ نبھانا اُن کے لیے ایک مشکل مرحلہ تھا، مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ اُن کے والد ایک فرنیچر کی دکان پر کام کرتے ہیں، اور محدود آمدنی کے باوجود انہوں نے ہمیشہ بیٹے کے خوابوں کو جینے دیا۔ یہی وہ ماحول تھا جہاں سے حسن صدیقی نے سیکھا کہ اصل کامیابی وسائل سے نہیں، عزم سے حاصل ہوتی ہے۔ مایوس کن حالات اور محدود وسائل کے باوجود، انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے وہ کر دکھایا جس کا بہت سے لوگ خواب دیکھتے ہیں۔

    کینٹربری کیتھیڈرل میں عالمی اعزاز
    اس سے قبل دسمبر 2024 میں، حسن صدیقی کی کہانی “A Christmas Homeless” برطانیہ کے عظیم تاریخی و ثقافتی ورثے کینٹربری کیتھیڈرل میں نمائش کے لیے پیش کی گئی، جو یونیسکو کے عالمی ورثہ میں شامل ہے۔ یہ کہانی دسمبر 2024 سے مارچ 2025 تک وہاں نمایاں طور پر آویزاں رہی۔ یہ اعزاز صرف اُن کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ تھا، کیونکہ وہ اس عالمی شہرت یافتہ مقام پر نمایاں ہونے والے پہلے پاکستانی مصنف بنے۔
    حسن صدیقی کی اس کامیابی کو متعدد بین الاقوامی اداروں نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا, جن میں برطانوی حکومت (7 جولائی 2025)، یونیسکو (20 جولائی 2025)، اقوامِ متحدہ (19 اگست 2025)، اور برطانوی ہائی کمیشن پاکستان (20 مئی 2025) شامل ہیں۔ یہ تسلیم شدہ اعزاز اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ پاکستانی نوجوان بھی عالمی ادب کے افق پر نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔

    وطن میں خاموشی کیوں؟
    جب ایک نوجوان اپنی تحریر سے دنیا بھر کے قارئین کے دل جیت لے، عالمی تنظیمیں اس کے کام کو سراہیں، تو یہ لمحۂ فخر ہونا چاہیے۔ لیکن پاکستان میں جب ایسے نوجوانوں کو نظرانداز کر دیا جائے تو یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آخر ہمارے قومی ہیرو کب پہچانے جائیں گے؟

    ادب، فن اور ثقافت کسی قوم کا چہرہ ہوتے ہیں۔ اگر ایک مصنف اپنے الفاظ سے دنیا میں انسانیت، ہمدردی اور اخلاق ک پیغام پھیلا رہا ہے تو یہ پوری قوم کے لیے باعثِ عزت ہونا چاہیے۔

    ورلڈ اسکالرز کپ اور عالمی ادبی پلیٹ فارمز میں نمایاں کامیابیاں، NASA
    حسن صدیقی کی علمی اور تخلیقی صلاحیتیں صرف ادبی دنیا تک محدود نہیں ہیں، انہوں نے NASA سے مضمون نویسی میں اعترافی سرٹیفکیٹ حاصل کیا، جبکہ World Scholars Cup میں تحقیق اور تحریر کے شعبے میں گولڈ میڈلسٹ کے طور پر نمایاں کارکردگی دکھائی، ان کی تحریریں Spillwords Press، Illumination، Storymaker اور دیگر بین الاقوامی ادبی پلیٹ فارمز پر شائع ہو چکی ہیں اور ان کی کتاب Twenty Bright Paths: Stories of Growth & Learning امریکہ میں شائع ہوئی، جسے نوجوان قارئین نے بے حد سراہا، اور یہ حسن صدیقی کو عالمی سطح پر ایک باصلاحیت پاکستانی مصنف کے طور پر متعارف کروانے کا سبب بنی۔


    خواتین کے لیے آواز: “The Female Times”
    حسن صدیقی صرف ایک مصنف نہیں بلکہ ایک سماجی شعور رکھنے والے لکھاری بھی ہیں۔ وہ دی فیمل ٹائمز کے بانی ہیں ، ایک غیر منافع بخش ڈیجیٹل میگزین جو خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کی آواز کو بلند کرنے کے لیے وقف ہے۔یہ پلیٹ فارم اُن خواتین کے لیے امید کی کرن ہے جنہیں اپنی کہانیاں سنانے کے مواقع کم ملتے ہیں۔ حسن صدیقی کا ماننا ہے کہ معاشرے میں حقیقی تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب خواتین اپنی بات خود کہہ سکیں اور اپنی جدوجہد کو کھلے عام پیش کر سکیں۔

    حکومتی اعتراف اور قومی فخر کی ضرورت
    دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنے لکھاریوں اور دانشوروں کو قومی ہیرو کا درجہ دیتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ لوگ اُن کے ملک کی پہچان ہیں۔ لیکن پاکستان میں جب کوئی نوجوان عالمی سطح پر کامیاب ہوتا ہے تو اکثر سرکاری سطح پر خاموشی چھا جاتی ہے۔

    حسن صدیقی کی مسلسل عالمی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی نوجوانوں میں تخلیقی صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں۔ اگر حکومت ایسے مصنفین کو سرکاری اعزازات، مالی معاونت، اور سرپرستی فراہم کرے تو یہ پاکستان کے عالمی تشخص کو مضبوط کرے گا۔حسن صدیقی نے ثابت کیا ہے کہ وطن کے حقیقی سفیر وہی ہوتے ہیں جو عمل، اخلاق، اور علم سے دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔ وہ آج بھی اس یقین کے ساتھ لکھ رہے ہیں کہ ایک دن پاکستان بھی اُن کی کاوشوں کو تسلیم کرے گا ، کیونکہ قومی ہیرو ہمیشہ اپنی قوم کے لیے لکھتے ہیں، چاہے قوم اُنہیں کب تسلیم کرے۔

  • پنجاب کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دے دی

    پنجاب کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دے دی

    پنجاب کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی کی منظوری دیدی۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پوری دنیا غزہ جنگ بندی کے معاملے پر پاکستان کے کردار کی معترف ہے لیکن یہاں ایک جماعت نے غزہ کے لیے احتجاج کا اعلان کیا،مذہبی جماعت کی جانب سے احتجاج کا اعلان اس وقت کیا گیا جب غزہ امن معاہدہ ہو چکا تھا، احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ کی گئی اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا، پرتشدد احتجاج کرنے والے ملک اور عوام کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے، کیا پولیس کی گاڑیاں جلانے سے غزہ کا مسئلہ حل ہو گیا، ریاست نے فیصلہ کیا پاکستان ایسے احتجاج اور توڑ پھوڑ کا متحمل نہیں ہو سکتا،کسی کو بھی بنیادی حقوق صلب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، تاجر برادری ،ٹرانسپورٹرز اور عوام کا شکریہ کہ ہڑتال کی کال کو رد کیا، پنجاب کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دیدی ہے، ٹی ایل پی پر پابندی کے لیے سمری وفاقی حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے۔

  • مذہبی جماعت کیخلاف کریک ڈاؤن جاری،5100 ملزمان گرفتار،ہڑتال کی کال ناکام

    مذہبی جماعت کیخلاف کریک ڈاؤن جاری،5100 ملزمان گرفتار،ہڑتال کی کال ناکام

    مذہبی جماعت کے خلاف پولیس کا کریک ڈاؤن جاری ہے۔
    پنجاب پولیس کے مطابق مذہبی جماعت کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران لاہور سے گرفتار ملزمان کی تعداد 624 ہوگئی ہے اور لاہور کے مختلف علاقوں میں کریک ڈاؤن اب بھی جاری ہے،اس وقت تک پنجاب بھر سے 5100 ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

    دوسری جانب انسداد دہشتگردی عدالت لاہور میں آج مذہبی جماعت کے 11 کارکنوں کو پیش کیا گیا،سماعت کے بعد عدالت نے مذہبی جماعت کے 11 کارکنوں کا 10 دن کا جسمانی ریمانڈ دے دیا،مذہبی جماعت کے کارکنوں کے خلاف تھانہ باغبان پورہ میں مقدمات درج ہیں

    دوسری جانب مذہبی جماعت کی جانب سے دی گئی آج کی ہڑتال کی کال کو آل پاکستان تاجر برادری اور سول سوسائٹی نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ تاجر رہنماؤں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے اور عام عوام کی زندگی مزید مشکلات کا شکار ہوتی ہے۔ انہوں نے پرامن کاروباری ماحول اور قانون کی بالادستی کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق لاہور، گوجرانوالہ، ملتان، ساہیوال، فیصل آباد، نارووال، شیخوپورہ، راجن پور، چنیوٹ، میانوالی اور بہاول نگر سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں ٹریفک رواں دواں ہے اور معمولاتِ زندگی بلاتعطل جاری ہیں۔ مارکیٹیں، کاروباری مراکز اور بازار کھلے ہیں، اور شہری اپنے روزمرہ کاموں میں مصروف ہیں۔کسی بھی شخص کو ہڑتال یا احتجاج کی آڑ میں قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی،پنجاب پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور قانون کی پاسداری کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔

    لاہور میں میٹرو بس سروس محدود کر دی گئی ہے، میٹرو بس سروس اب صرف گجومتہ سے ایم اے او کالج تک چلائی جا رہی ہے، ایم اے او کالج سے شاہدرہ تک میٹرو بس سروس بند کر دی گئی،اورنج لائن ٹرین مکمل طور پر چل رہی ہے، تاہم اورنج لائن ٹرین کے دو اسٹیشن بند کر دیے گئے ، بند روڈ اسٹیشن اور ملتان روڈ اسٹیشن مکمل طور پر بند ہیں ، سیکورٹی خدشات کے باعث محکمہ ٹرانسپورٹ نے جزوی بندش کا فیصلہ کیا

    علاوہ ازیں جے یو پی کے سیکرٹری جنرل شاہ اویس نورانی کا کہنا ہے کہ آج وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ اور وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری سے ملاقات کی انہیں مدارس اور مساجد کی تالہ بندی کے حوالے سے شدید تحفظات سے آگاہ کیا۔فردا فردا ملاقات میں تمام وزراء نے یہ یقین دہانی کروائی کہ تمام بے گناہ افراد کو فوری رہا کر دیا جائے گا مساجد اور مدارس کو ڈی سیل کر دیا جائے گا۔شرپسندی میں ملوث افراد کو بھی فوری قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ پاکستان میں باہمی امن و آشتی کے لیے تمام شرپسندوں کے خلاف بغیر تخصیص کاروائی کی جائے گی۔

  • ملک ریاض کے مال آف اسلام آباد کو ضبط کرنےکا عدالتی حکم

    ملک ریاض کے مال آف اسلام آباد کو ضبط کرنےکا عدالتی حکم

    منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات کے معاملے میں کراچی احتساب عدالت نے ملک ریاض کے مال آف اسلام آباد کو ضبط کرنے کی تحریری اجازت دے دی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق مال آف اسلام آباد کو ضبط کرنے کی درخواست نیب نے 27 مارچ کو دائر کی تھی،نیب کورٹ کراچی نے منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات کے کیس میں بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کا مال آف اسلام آباد ضبط کرنے کا تحریری حکم دے دیا،رپورٹ کے مطابق مال آف اسلام آباد سیکٹر ایف سیون-1 بلیو ایریا کے پلاٹ 65 این پر واقع ہے، مال آف اسلام آباد کو ضبط کرنے کی درخواست نیب نے 27 مارچ کو دائر کی تھی،نیب کے مطابق ملزموں کے خلاف منی لانڈرنگ کی سیکشن 8 کے تحت ریفرنس زیر سماعت ہے، دوران تفتیش منی لانڈرنگ کے شواہد ملے ہیں، مال آف اسلام آباد کا پلاٹ 2014ء ایاز خان اور وقار رفعت نے خریدا تھا،درخواست میں کہا گیا ہے کہ 385 ملین کا مال آف اسلام آباد ملک ریاض کی فرنٹ کمپنیوں کا ہے، عدالت ملک ریاض اور ان کے بیٹوں سمیت 9 ملزموں کی گرفتاری کا حکم کئی بار جاری کرچکی ہے۔

  • مودی حکومت کا سیاہ باب،سفارتی ناکامی ،معاشی زوال اور اندرونی خلفشار عروج پر

    مودی حکومت کا سیاہ باب،سفارتی ناکامی ،معاشی زوال اور اندرونی خلفشار عروج پر

    مودی حکومت کی سفارتی لاپرواہی، ناقص خارجہ پالیسی اور ناکامیوں نے بھارت کو ذلت آمیز مقام پر پہنچا دیا

    این ڈی ٹی وی کے مطابق بھارتی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں بڑی تنزلی دیکھنے میں آئی ہے،ہینلے پاسپورٹ انڈیکس میں بھارتی پاسپورٹ 85 نمبر پر چلاگیا ہے .مودی حکومت نے عوامی وسائل کو ہتھیاروں کی خریداری اوراپنے جنگی جنون میں دھکیل دیا

    نا اہل مودی حکومت کی ناکامی اور جنگی جنون نے بھارت میں روزگار،تعلیم اور صحت کے نظام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دہا ہے،بھارتی میڈیا کے مطابق ؛ بھارت کے سرکاری ہسپتالوں میں70 فیصد وینٹی لیٹر خراب ہیں،ہسپتالوں میں بنیادی ضروریات کی کمی اور جعلی ادویات مریضوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہی ہیں، بھارت میں بیروزگاری کی شرح 5.1 فیصد ہو گئی جو نوجوان میں مایوسی کا باعث ہے ،بھارت میں 6 سے 14 سال کے 11 لاکھ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں،

    مودی حکومت کی ناقص پالیسیوں اور ذاتی مفادات کی سیاست کا خمیازہ بھارتی عوام بھگت رہے ہیں ،ظالم مودی کی تمام تر توجہ مسلمانوں ا ور دیگر اقلیتوں کی نسل کشی اور ہندو توا نظریے کو ریاستی پالیسی میں بدلنے پر مرکوز ہے،نااہل مودی حکومت کی ناکام پالیسیوں اور دہشت گردی کی حمایت نے بھارت کو سفارتی تنہائی میں دھکیل دیا ہے