Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایف سی ہیڈکوارٹر کوہلو میں کھلی کچہری ،قبائلی عمائدین کی شرکت

    ایف سی ہیڈکوارٹر کوہلو میں کھلی کچہری ،قبائلی عمائدین کی شرکت

    ایف سی ہیڈکوارٹر کوہلو میں آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ کی سربراہی میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈپٹی کمشنر کوہلو، ضلعی انتظامیہ کے افسران اور کثیر تعداد میں قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔

    کھلی کچہری میں کوھلو کے علاقے میں عوام کو درپیش مسائل کے بروقت حل، امن و استحکام کے قیام، ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی مرتب کرنے پر غور کیا گیا۔

    آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کا راستہ امن و اتحاد سے وابستہ ہے اور عوامی مسائل کا بروقت اور فوری حل ہماری اولین ترجیح ہے, بلوچستان کی عوام نے دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانا ہے، اور ہم سب نے مل کر وطن کو دشمن عناصر کے ناپاک عزائم اور سازشوں سے نجات دلانی ہے ۔ علاقے میں امن قائم رکھنے میں قبائلی عمائدین کا کردار نہایت اہم ہے۔

    اس موقع پر قبائلی عمائدن کا کہنا تھا کہ کھلی کچہری عوامی مسائل کے حل کا ایک اہم جزو ہے۔ ہم نے اپنے مسائل بیان کیے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ حکومت بلوچستان ان کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے گی۔شرکاء نے اس عزم کا ا اعادہ کیا کہ بلوچستان کی خوشحالی اور امن کے لیے بلوچستان حکومت، سیکیورٹی فورسز ، ضلعی انتظامیہ اور قبائلی عمائدین کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔

  • آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ)   کا کوہلو بازار کا اچانک دورہ

    آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کا کوہلو بازار کا اچانک دورہ

    آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ نے کوہلو بازار کا بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اچانک دورہ کیا۔ ان کے اس دورے کا مقصد علاقے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا، عوامی مسائل سے آگاہی حاصل کرنا اور مقامی لوگوں سے براہِ راست رابطہ قائم کرنا تھا۔

    دورے کے دوران آئی جی ایف سی نے بازار میں موجود دکانداروں، مقامی شہریوں اور نوجوانوں سے غیر رسمی گفتگو کی۔ انہوں نے لوگوں سے علاقے میں امن و امان، کاروباری ماحول اور دیگر عوامی سہولیات کے متعلق دریافت کیا۔ شہریوں نے انہیں مختلف مسائل سے آگاہ کیا، جنہیں میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ نے توجہ سے سنا اور متعلقہ اداروں تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی۔عوام نے ایف سی بلوچستان اور پاک فوج کی جانب سے کوہلو سمیت پورے بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھرپور انداز میں سراہا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ ایف سی کی موجودگی سے علاقے میں نہ صرف امن بہتر ہوا ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔

    مقامی لوگوں نے آئی جی ایف سی کو اپنے درمیان پا کر خوشی کا اظہار کیا اور ان کے ساتھ یادگاری تصاویر بھی بنوائیں۔ بازار میں موجود ضعیف شہریوں اور نوجوانوں نے ان سے مصافحہ کیا اور اپنے محبت بھرے جذبات کا اظہار کیا۔میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ کا یہ دورہ عوام کے ساتھ قریبی رابطے، زمینی حقائق سے آگاہی اور بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایف سی کے مضبوط عزم کی واضح مثال سمجھا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں نے امید ظاہر کی کہ اس طرح کے دورے عوام اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان فاصلے مزید کم کریں گے اور علاقے میں امن و ترقی کے سفر کو مزید تقویت بخشیں گے۔

  • عمران خان کے ساتھ بھی جیل قانون کے مطابق سلوک ہو رہا ،ملک احمد خان

    عمران خان کے ساتھ بھی جیل قانون کے مطابق سلوک ہو رہا ،ملک احمد خان

    اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ جیل قانون کے مطابق سلوک ہو رہا ہے۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف سے بھی جیل قانون کے تحت ہی سلوک کیا گیا تھا اور عمران خان کے ساتھ بھی جیل قانون کے مطابق سلوک ہو رہا ہے، صاف ستھرا پنجاب اپنی نوعیت کا بڑا پروگرام ہے، ماربل فیکٹریوں میں کام کرنے والوں کی اموات زیادہ ہوتی تھیں، جب ماربل کو کاٹا جاتا تھا تو اُس کی دھول سے مہلک بیماری ہوتی تھیں، اس مسئلے کا حل بھی پنجاب اسمبلی میں نکالا گیا.اسمبلیز عوام کے نمائندے ہیں، ان کی بنیادی ذمہ داری مسائل حل کرنا ہے۔ اگر ممبرز صرف جھگڑے یا احتجاج کریں، گورننس اور اوور سائٹ چھوڑ دیں، تو یہ ناقابل قبول ہے۔ رائٹ ٹو ریپریزنٹیشن روکنا نہیں چاہیے، لیکن زیادتی کی صورت میں کارروائی ضروری ہے۔’ستھرا پنجاب‘‘ ایک بڑا اور منفرد پروگرام ہے جس میں پنجاب کی واضح ملکیت ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے کامیاب کرے۔ وزراء اس پر بات کریں گے، لیکن اسپیکر کے طور پر میں نے ہاؤس کے اندر اسپیشل سیشنز میں محسوس کیا کہ اس کے بنیادی تقاضے قانون اور نظم و نسق کے تحت حل کیے جانا ضروری ہیں۔نواز شریف کا بیان ’عمران خان کو لانے والے بھی ذمہ دار ہیں‘ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے قطعی طور پر یہ نہیں کہا کہ کسی کو پکڑ کرٹانگ دو؟ میں نے ان کی پوری بات سنی ہے انہوں نے صرف یہ کہا یہ پاکستان کی ترقی کے سفر کو روک کر اس ملک کے ساتھ جرم کیا گیا،

  • سہیل آفریدی کی ساری توجہ ایک غیر قانونی مطالبے پر مرکوز ہے،عطا تارڑ

    سہیل آفریدی کی ساری توجہ ایک غیر قانونی مطالبے پر مرکوز ہے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ساری توجہ ایک غیر قانونی مطالبے پر مرکوز ہے کہ کرپشن کیس میں اڈیالہ جیل میں سزا کاٹنے والے بانی سے ہی سیاسی رہنمائی لینی ہے۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے ایسا سیاسی طرزعمل اپنایا ہے جس سے صوبے کے عوام کو گورننس کی فراہمی پس پشت چلی گئی ہے، ان لوگوں کی ساری توجہ ایک غیر قانونی مطالبے پر مرکوز ہے کہ کرپشن کے کیس میں اڈیالہ جیل میں سزا کاٹنے والے بانی سے ہی سیاسی رہنمائی لی جائے، یہ جیل رولز کے خلاف ہے، صوبائی حکومت اپنی ترجیحات امن، ترقی اورعوامی ریلیف کے بجائے دن رات اسلام آباد میں اسی غیر قانونی بیانیے کے گرد گھمارہی ہے۔مبینہ طور پر تحریک انصاف کی ایک خاتون سیاستدان نے انتہائی منفی حکمت عملی کے تحت افغانستان سے چلنے والے پاکستان دشمن اکاؤنٹس اور بھارتی میڈیا پر خان صاحب سے متعلق ایک گھٹیا مہم چلوائی جس سے پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشس کی گئی۔

  • وادیِ تیراہ  میں خوارج کی بڑھتی دہشت گردانہ سرگرمیاں،پشاور کیلیے خطرے کی گھنٹی

    وادیِ تیراہ میں خوارج کی بڑھتی دہشت گردانہ سرگرمیاں،پشاور کیلیے خطرے کی گھنٹی

    وادیِ تیراہ میں خوارج کی بڑھتی دہشت گردانہ سرگرمیوں نے پشاور کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    فتنہ الخوارج نے ایک بار پھر وادی تیراہ کے نیٹ ورکس کے ذریعے پشاور پر دہشتگردانہ حملے شروع کر دیے، تیراہ اور پشاور کا درمیانی فاصلہ تقریباً 70 کلومیٹر اور سفر کا وقت صرف دو گھنٹے ہے، 24نومبر کوپشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر حملے میں ملوث افغان خوارجیوں نے تیراہ کا راستہ ہی اپنایا، 25 نومبر کو حسن خیل، پشاور میں گیس پائپ لائن آئی ای ڈی سے تباہ کرنے والے خوارجی بھی وادی تیراہ سے آئے،ماضی میں خارجی حکیم اللہ محسود کا مرکز طویل عرصہ تک تیراہ میں قائم رہا، خارجی حکیم اللہ محسود پورے قبائلی علاقے ، پشاور اور ملک بھر میں تیراہ سے کارروائیاں کرتا رہا،حالیہ متعدد حملوں میں ملوث افغان شہریوں کے روابط بھی تیراہ میں قائم نیٹ ورکس سے منسلک پائے گئے، 2014 میں اے پی ایس حملے کی منصوبہ بندی بھی خوارج نے تیراہ میں واقع انہی خفیہ مراکزِ میں کی تھی، تیراہ میں ایک بار پھر دہشتگردوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، ذرائع

    منشیات کے کاروبار سے جڑے اندرونی مفادات بھی اسی خطّے میں کھل کر سامنے آ رہے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر پہلے بھی اپنی پریس کانفرنس میں کہہ چکے ہیں کہ منشیات کے کاروبار اور دہشتگردی میں گہرا تعلق ہے،تیراہ میں اس بڑھتے گٹھ جوڑ اور اس سے پیدا ہونے والی دہشتگردی کو اگر ختم نہ کیا گیا تو پشاور میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہو سکتاہے،صوبائی حکومت کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ورنہ پشاور سمیت پورے خیبر پختونخوا میں حملوں میں اضافے کا خدشہ ہے،

  • امریکا میں افغان شہری کی جانب سے فائرنگ کا واقعہ،پاکستان کی مذمت

    امریکا میں افغان شہری کی جانب سے فائرنگ کا واقعہ،پاکستان کی مذمت

    پاکستان نے واشنگٹن میں افغان شہری کی جانب سے فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان دو دہائیوں میں متعدد ایسے حملوں کا سامنا کرچکا ہے۔

    پاکستان نے وائٹ ہاؤس کے قریب افغان شہری کی فائرنگ سے فوجی کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان متاثرہ خاندانوں اور امریکی حکومت سے ہمدردی کا اظہارکرتا ہے، حملہ امریکا کی سرزمین پر دہشت گردی کی واضح کارروائی ہے، پاکستان دو دہائیوں میں متعدد ایسے حملوں کا سامنا کرچکا ہے، کئی دہشتگرد واقعات کے روابط افغانستان سے جڑے رہے ہیں، واشنگٹن واقعہ سرحد پار دہشتگردی کے بڑھتے خطرات کا اشارہ ہے،عالمی برادری دہشتگردی کے دوبارہ سر اٹھانے کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔

    پاکستان نے مشترکہ عالمی انسداد دہشت گردی کوششوں کو تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور عالمی برادری کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔

  • انسانی حقوق تنظیموں کی مودی اور آر ایس ایس کی پالیسیوں پر شدید تنقید

    انسانی حقوق تنظیموں کی مودی اور آر ایس ایس کی پالیسیوں پر شدید تنقید

    بھارت میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ایک تازہ بحث نے شدت اختیار کر لی ہے، جہاں مختلف انسانی حقوق تنظیموں اور سکھ، مسلمان اور دیگر اقلیتی حلقوں کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی اور آر ایس ایس کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

    ناقدین کے مطابق بھارتی فوج اور ریاستی اداروں کو ہندوتوا نظریے کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے ملک کے سیکولر تشخص پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں،رپورٹس کے مطابق اقليتی رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ آر ایس ایس اور مودی حکومت کے گٹھ جوڑ نے ریاستی اداروں کے سیاسی استعمال کو بڑھایا ہے، جبکہ مذہبی آزادی کے ماحول پر دباؤ محسوس کیا جا رہا ہے،ناقدین کا دعویٰ ہے کہ رام مندر کی تعمیر اور اس مقام پر فوجی نمائندوں کی موجودگی بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی سیاست کی عکاس ہے۔

    اس حوالے سے متعدد مذہبی اور سماجی تنظیموں نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد رام مندر کا قیام بھارت میں بڑھتے ہوئے نظریاتی تنازعات کو نمایاں کرتا ہے،ان کے مطابق عسکری قیادت کی طرف سے مندروں کے دورے اور سرکاری سطح پر ہندوتوا نظریہ کے فروغ کے اشارے ملک میں اقلیتوں کے لیے عدم تحفظ کے احساس کو بڑھا رہے ہیں،انسانی حقوق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی معاشرتی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مضبوط اقدامات ناگزیر ہیں

  • قومی اسمبلی اجلاس کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی

    قومی اسمبلی اجلاس کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی

    قومی اسمبلی حکومت اور اتحادی جماعتوں کے 240 ارکان کی موجودگی کے باوجود کورم کی عدم تکمیل کے باعث اجلاس جاری نہ رکھ سکی۔

    جمعہ کو ہونے والے اجلاس کے آغاز میں ہی اپوزیشن رکنِ اسمبلی نے کورم کی نشاہدہی کردی، جس کے بعد ایوان کی کارروائی معطل کرنا پڑی۔اجلاس شروع ہوتے ہی رکن قومی اسمبلی محبوب جان نے ایوان میں کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کی۔ کورم کی گنتی کے دوران واضح ہوا کہ ایوان میں مطلوبہ تعداد 84 ارکان موجود نہیں، جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اجلاس کی کارروائی آگے بڑھانا مناسب نہ سمجھا۔کورم پورا نہ ہونے پر اسپیکر نے کارروائی فوری طور پر روک دی اور اجلاس پیر کی شام 5 بجے تک ملتوی کر دیا۔

    پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کے مجموعی طور پر 240 ارکان قومی اسمبلی میں موجود ہیں، اس کے باوجود اجلاس میں مطلوبہ حاضری یقینی نہ بنائی جاسکی، جس پر اپوزیشن نے حکومت کی پارلیمانی کارکردگی پر شدید تنقید بھی کی ہے۔ایوان میں ایک بار پھر کورم کی نشاندہی سے نہ صرف قانون سازی کا عمل متاثر ہوا بلکہ حکومتی بینچوں کی عدم دلچسپی بھی نمایاں طور پر سامنے آئی ہے۔

  • بولان گھر میں دھماکہ،ڈی آئی خان 22 دہشتگرد ہلاک،گوادر ایک گرفتار

    بولان گھر میں دھماکہ،ڈی آئی خان 22 دہشتگرد ہلاک،گوادر ایک گرفتار

    پاکستان: خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی، جھڑپوں اور سیکیورٹی کارروائیوں کے متعدد واقعات

    ملک کے مختلف حصوں خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دہشت گردی، فائرنگ، ڈرون حملے، بارودی مواد کے دھماکوں اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے متعدد افسوسناک واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

    باجوڑ: سیکیورٹی فورسز نے متعدد بارودی سرنگیں ناکارہ بنا دیں

    باجوڑ کی تحصیل خار کے علاقے جنّت شاہ میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی جانب سے مختلف مقامات پر نصب متعدد بارودی مواد (IEDs) برآمد کرکے کامیابی سے ناکارہ بنا دیا۔یہ وہی علاقہ ہے جہاں ایک روز قبل دو نوجوان شہید ہوئے تھے جب وہ دہشت گردوں کے نصب کردہ ایک بارودی آلے کی زد میں آ گئے تھے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بارودی مواد بڑے سانحے کا سبب بن سکتا تھا، تاہم بم ڈسپوزل اسکواڈ نے پیشہ ورانہ مہارت سے تمام ڈیوائسز کو تلف کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع کو آپریشنز کے ذریعے کلیئر کر دیا گیا ہے، لیکن دہشت گرد فرار ہوتے ہوئے مختلف مقامات پر بارودی سرنگیں اور IEDs نصب کر گئے تھے، جو وقتاً فوقتاً المناک واقعات کا باعث بنتی رہتی ہیں۔پاکستان آرمی قبائلی اضلاع میں وسیع ڈی مائننگ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ شہریوں کی جانیں محفوظ رہ سکیں اور علاقے میں مکمل امن بحال ہو سکے۔

    باجوڑ: ایم پی اے انور زیب خان کے گھر پر دھماکا، ایک شخص زخمی

    خار کے علاقے رگاگان میں صوبائی اسمبلی کے رکن انور زیب خان کے گھر پر بم دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔پولیس کے مطابق زخمی کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ایم پی اے انور زیب خان نے تصدیق کی کہ واقعے کے وقت وہ گھر پر موجود نہیں تھے،پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی طور پر سی ٹی ڈی نے واقعے کو ذاتی دشمنی کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔

    شمالی وزیرستان: TTP کمانڈر اندرونی اختلافات کی فائرنگ میں ہلاکڈیرہ اسماعیل خان: سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 22 شدت پسند ہلاک
    آئی ایس پی آر کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران بھارت نواز تنظیم فتنہ الخوارج کے 22 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔فورسز نے ایک مصدقہ ٹھکانے پر کارروائی کی جہاں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
    ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائی آپریشن عزمِ استحکام کے تحت کی گئی، جو نیشنل ایکشن پلان کے سلسلے میں وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری کے بعد جاری ہے۔مزید دہشت گردوں کی تلاش کے لیے علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    لکی مروت کے علاقے فتح خان خیل سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کو نامعلوم شدت پسندوں نے اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا۔اس کی لاش بنوں ضلع کے ہواڈ تھانے کی حدود سے ملی۔واقعے کی وجوہات سامنے نہیں آ سکیں۔ پولیس نے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    ٹانک ضلع میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے نوجوان بائیت اللہ جاں بحق ہو گیا۔مقامی ذرائع کے مطابق حملہ آور موقع واردات سے فرار ہو گئے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔تھانہ حوید کے علاقے شیخ لنڈک میں شدت پسندوں نے ایک کواد کاپٹر ڈرون کے ذریعے پولیس چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ڈرون سے بم گرنے کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار حمید اللہ، اسلم شاہ اور اسماعیل خان زخمی ہو گئے۔زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    گوادر میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے 18 سالہ مشتبہ شدت پسند ساتھی غلام قادر ولد مراد بخش کو کوسٹل اسپتال کے قریب سے گرفتار کر لیا۔حکام کے مطابق نوجوان کے دہشت گرد گروہوں سے ممکنہ روابط کی تحقیقات جاری ہیں۔بولان کی تحصیل سنی میں ایک گھر میں نصب دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے تین بچے جاں بحق جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہو گئے۔دھماکے کے نتیجے میں گھر کی چھت اور دیواروں کو شدید نقصان پہنچا۔ پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے دو رات قبل گھر کے اندر بارودی مواد نصب کیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹارگٹڈ اٹیک تھا۔

  • دہشت گردی امریکا میں ہو  یا کہیں بھی ، قابلِ مذمت ہے،علی امین گنڈا پور

    دہشت گردی امریکا میں ہو یا کہیں بھی ، قابلِ مذمت ہے،علی امین گنڈا پور

    سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے بانی پی ٹی آئی عمران خان صحت مند ہیں اور بشریٰ بی بی بھی ٹھیک ہیں۔

    ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر تشویش کا اظہار کیا،اور کہا کہ مران خان سے ملاقات نہ کرانے کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے، احتجاج بھی ریکارڈ کرائیں گے،انہوں نےبانی پی ٹی آئی کی جلد رہائی کا بھی مطالبہ کردیا،علی امین گنڈاپور نے گفتگو کے دوران دہشتگردانہ واقعات کی مذمت کی، ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی امریکا میں ہو یا کہیں بھی ، قابلِ مذمت ہے، علی امین گنڈاپور نے دہشت گردی کے خلاف مل کر مشترکہ حکمتِ عملی بنانے پر زور دیا۔