Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • قصور و گردو نواح میں ٹریفک پولیس اہلکاروں کو کیا ٹاسک مل گیا؟

    قصور و گردو نواح میں ٹریفک پولیس اہلکاروں کو کیا ٹاسک مل گیا؟

    قصور و گردو نواح میں ٹریفک پولیس اہلکاروں کو کیا ٹاسک مل گیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر ٹرانسپورٹ نے سیکرٹری ڈی آرٹی آے حافظ عثمان احمد اورٹریفک پولیس اہلکاروں کوضلعی حکومت کاخزانہ بھرنے کی ذمہ داری سونپ دی، قصور اور گردونواح میں سروس روڈ پرورکشاپ میں کھڑی گاڑیاں بندکردی،ٹریفک پولیس اہلکار ٹریفک کنٹرول کرنے کی بجائے اپناخزانہ بھرنے میں مصروف ہیں

    سماجی حلقو ں کے نمائندوں نے بتایا کہ ڈی آر ٹی اے بمعہ عملہ آئے روز بے گناہ اورورکشاپ میں کھڑی گاڑیوں کوبندکرناشروع کردیا جب گاڑیوں کے مکمل کاغذات ہونے کابتایا جاتا ہے لیکن کاغذات مکمل ہونے کے باوجود گاڑیاں تین تین دن تک حوالات میں بند کردی جاتی ہیں جب گاڑیاں بندہوتی ہیں تو پھر پولیس تھانہ سٹاف اورسیکرٹری عملہ کی کی توعیدیں بن جاتی ہیں اگر مالکان گاڑی کے مکمل کاغذ لیکر آئے تو سارا سارا دن دفتر کے باہر کھڑا کرکے ذلیل ورسوا کیاجاتاہے اورشام کو بتایاجاتاہے اب صبح دفتر آئے اب دفتر ٹائم ختم ہوچکا ہے.

    اب دوسرے دن پھر عملہ ہرگھنٹے بعد اپناجیب خرچ بڑھاچڑھاکر گاڑی جلد چھڑوانے کایقین دلاتا ہے اسی طرح کم از کم تین دن تک گاڑی حوالات میں بند ہونے کی وجہ سے گاڑی کاعملہ فاقوں پرمجبور ہوجاتاہے جس سے گاڑی عملہ تو خودکشی کرنے پر مجبور ہورہا ہے اسی طرح ٹریفک پولیس اہلکار جہاں ٹریفک جام ہوگی وہاں نظرنہیں آئیں گے اورجہاں بالکل رش نہ اورنہ ہی کوئی آمدورفت ہووہاں کھڑے ہوکر ٹریکٹر ٹرالی،ہیوی وہیکل گاڑیاں،کوسٹربس،ٹیوٹاہائی ایس،مزدا ٹرک اور رکشوں سمیت بے گناہ شہریوں کوتنگ کرنے میں مصروف ہیں سماجی حلقوں کے نمائندوں نے اعلیٰ افسران نے فوری نوٹس لینے کامطالبہ کیاہے۔

  • عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ہمشیرہ اور عافیہ موومنٹ کی رہنما ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے عافیہ کے حوالہ سے چپ حکمرانوں کی ریمنڈ ڈیوس اور کرنل جوزف کی رہائی میں امریکی فرمانبرداری کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عافیہ تعلیمی شعبے میں ملک اور قوم کی خدمت کرنا چاہتی تھی، اس نے فزکس، کیمسٹری یا بایولوجی میں نہیں بلکہ تعلیم کے شعبے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ عافیہ کی پی ایچ ڈی کا مقالہ بچوں میں ذہنی برداشت کی قوت بڑھا کر ان کی تعلیمی قابلیت میں اضافہ کرنا تھا۔

    وہ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ سے اظہار یکجہتی کیلئے گلشن اقبال میں واقع ان کی رہائش گاہ پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی آمد کے موقع پر گفتگو کررہی تھیں۔جن میں سابق ڈپٹی سیکریٹری ایجوکیشن ڈاکٹر کاشف شاہ، معروف سماجی رہنما انجینئر وسیم فاروقی، فہیم برنی، عبدالستار، شاعرہ ہما عزمی، تعلیمی شعبہ سے وابستہ پروفیسر ڈاکٹر سردار احمد نازش، پروفیسر تنویر ملک ، نفیس احمد خان ، شفیق احمد عباسی ، ڈاکٹر ضیاء الرحمان فاروقی، مہربان علی خان اور نایاب ویلفیئر آرگنائزیشن کے صدر کمال میمن اور مسز نایاب کمال شامل تھے۔

    اس موقع پر ڈاکٹر عافیہ کی والدہ عصمت صدیقی بھی موجود تھیں۔میٹنگ کے شرکاء نے ڈاکٹر عافیہ کی امریکی حراست سے رہائی اور وطن واپسی میں تاخیر کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔

    انہوں نے کہا کہ جب بھی ڈاکٹر عافیہ کی امریکی حراست سے رہائی کا معاملہ سامنے آتا ہے ، اس وقت ہمیں ریمنڈ ڈیوس اور کرنل جوزف کی رہائی میں حکمرانوں اور انتظامیہ کی امریکی فرمانبرداری شرمندہ کردیتی ہے۔

    انہوں نے تجویز پیش کی کہ 24 جنوری، 2020 ء کا ”عالمی یوم تعلیم” عافیہ سے منسوب کرکے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے۔ جس پر اتفاق رائے سے پروفیسر تنویر ملک، انجینئر وسیم فاروقی، کمال میمن اور فہیم برنی پر مشتمل چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جو کہ تقریبات کے انعقاد کیلئے انتظامات کرے گی۔

    جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی قید سے رہائی کے لیے قرارداد سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرا دی ہے،

    سینیٹ سیکرٹریٹ‌ میں جمع کروائی گئی قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ "یہ  ایوان  پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکہ میں ناحق قید کے 16 اسال مکمل ہونے پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ یہ ایوان اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے گزشتہ سالوں میں حکومتوں کی طرف سے کئی مواقع ضائع کیے گئے۔

    قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان حکومت کی توجہ سینیٹ آف پاکستان کی قرارداد نمبر 399 مورخہ 15 نومبر 2018ء کی طرف مبذول کراتا ہے جوکہ متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی اور جس میں سفارش کی گئی تھی کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے حکومت ٹھوس اقدامات اٹھائے، اسی طرح یہ بھی کہا گیا کہ سینیٹ کا یہ ایوان گزشتہ سال قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی میں چیئرمین نیب کی طرف سے اس بیان پر کہ ”مشرف دور میں چار ہزار افراد ڈالرز لے کر بیرونِ ملک کے حوالے کیے گئے“ کی تحقیق کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔

    قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب کا یہ بیان اُس خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو بھی ڈالرز کے عوض امریکہ کے حوالے کیا گیا۔ سینیٹ آف پاکستان کا یہ ایوان یاددہانی کراتا ہے کہ مورخہ 21اگست 2008  قومی اسمبلی کے ایوان میں موجودہ وزیر خارجہ جو کہ اسوقت بھی وزیر خارجہ تھے،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے متفقہ قرارداد منظور کروا چکے ہیں۔

    یہ ایوان وزیر اعظم پاکستان کے آئندہ طے شدہ دورہ امریکہ کے موقع پر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کو ترجیحِ اول کے طورپر رکھنے کا مطالبہ کرتا ہے اور اُمید کرتا ہے وزیر اعظم پاکستان قوم سے اپنے کیے گئے انتخابی وعدہ کو پورا کرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان واپس لانے کے لیے نتیجہ خیز مذاکرات کریں گے۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے صاحبزادے حافظ احمد نے نماز تراویح میں قرآن مکمل کر لیا

  • بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی، پاکستان نے کس پر کروایا احتجاج ریکارڈ؟

    بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی، پاکستان نے کس پر کروایا احتجاج ریکارڈ؟

    بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی، پاکستان نے کس پر کروایا احتجاج ریکارڈ؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیاء و سارک) زاہد حفیظ چوہدری نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر گوراو اَہلووالیا کو ہفتہ کودفتر خارجہ طلب کیا اور 18جنوری کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل اوسی) کے کوٹ کوٹیرا سیکٹرز میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔

    بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں جگول پال گاؤں کی رہائشی چھتیس سالہ بے گناہ خاتون شمیم بیگم زوجہ راجہ ساجد شدید زخمی ہوئیں۔قابض بھارتی افواج ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری کی مسلسل خلاف ورزیاں کرتے ہوئے آرٹلری، بھاری اور خودکار ہتھیاروں کے ذریعے عام شہری آبادیوں کو نشانہ بنارہی ہیں۔

    بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنرکی دفتر خارجہ طلبی،ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ پر احتجاج

    ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ شہری آبادیوں کو دانستہ نشانہ بنانا انتہائی قابل افسوس، انسانی عظمت ووقار، عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے صریحاً منافی ہے۔ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی ان خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں جس کا نتیجہ سٹریٹجک غلطی کی صورت نکل سکتا ہے۔

    کشمیریوں کے ساتھ کھڑے تھے ،ہیں اور رہیں گے، پاک فوج کا کشمیریوں‌ کو پیغام

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    کشمیر کے لیے ‏‎آخری گولی،آخری سپاہی،آخری حد تک جائیں گے،ترجمان پاک فوج

    بھارت سن لے، جنگیں اسلحہ سے نہیں جذبہ حب الوطنی سے لڑی جاتی ہیں، ترجمان پاک فوج

    ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیاء وسارک) نے بھارت پر زوردیا کہ دوہزار تین کے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ان واقعات کی تحقیقات کرائے، بھارتی فوج کو جنگ بندی کے احترام کا حکم دے، ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر اس کی روح کے مطابق امن برقرار رکھے۔ انہوں نے زوردیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین (یواین ایم او جی آئی پی)کو اپنا کردارادا کرنے کی اجازت دے۔

    قبل ازیں بھارتی ہائی کمیشن کے ایک سینئر سفارتکار کوہفتہ کو دفتر خارجہ طلب کرکے پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کو حوالے سے انفرادی اور من گھڑت واقعات پر بھارت کے بے بنیاد پراپیگنڈے کو مسترد کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی سفارتکار پر زور دیا گیا کہ اس طرح کے حربوں سے اقلیتوں کے خلاف بھارت کی امتیازی پالیسیوں اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشتگردی پر کی جانے والی تنقید سے توجہ نہیں ہٹائی جاسکتی۔بھارت کوآگاہ کیا گیا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو آئین کے تحت مکمل تحفظ اور حقوق حاصل ہیں اور زور دیا گیا کہ پاکستان کا قانونی نظام اپنے تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

    بھارتی حکام سے کہا گیا کہ وہ اپنے مذموم سیاسی مقاصد کیلئے ہمسایہ ممالک کی اقلیتوں کے مسائل پر ڈرامہ بازی سے باز رہیں اور اپنے معاملات ٹھیک رکھنے پر توجہ مرکوز رکھیں اور بھارتی اقلیتوں کا موثر تحفظ یقینی بنائیں کیونکہ اس کی پراپیگنڈہ مہم کی وجہ سے ہجوم کے ہاتھوں تشدد کے واقعات اور نفرت پر مبنی جرائم مسلسل رونما ہو رہے ہیں۔

  • فردوس عاشق اعوان نے وزیراعلیٰ سے ملاقات میں کس کا دیا "خاص پیغام”

    فردوس عاشق اعوان نے وزیراعلیٰ سے ملاقات میں کس کا دیا "خاص پیغام”

    فردوس عاشق اعوان نے وزیراعلیٰ سے ملاقات میں کس کا دیا "خاص پیغام”

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سے ہفتہ کے روز وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ملاقات کی ـ90 شاہراہ قائد اعظم پر ہونے والی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور ، سیاسی صورتحال اور ملکی امور پر تبادلہ خیال کیا گیاـ

    وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ تنقید برائے تنقید کرنے والے ملک و قوم کے خیر خواہ نہیں اورایسے عناصر محض ذاتی مفادات کے ایجنڈے کو لیکر چل رہے ہیں لیکن ہمارا مقصد عوام کو ریلیف دینا اور ان کیلئے آسانیاں پیدا کرنا ہے ۔ پنجاب میں آٹے کی قیمتوں میں استحکام کیلئے ہرضروری اقدام اٹھایا ہے۔ گندم کا سرکاری کوٹہ اوپن مارکیٹ میں فروخت کرنے والی فلور ملوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری ہے ۔انہوںنے کہاکہ عوام کے حقوق کا نگہبان ہوں ،کسی کو عوام کے مفادات پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دوںگا۔پنجاب حکومت کے موثر اقدامات سے صوبہ بھر میں آٹامقرر کردہ قیمت پر وافر دستیاب ہے ۔ فرائض سے غفلت برتنے پر محکمہ خوراک کے افسران کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی ہے ۔

    حریم شاہ کی دبئی میں کر رہے ہیں بھارتی پشت پناہی، مبشر لقمان نے کئے اہم انکشاف

    حریم شاہ کو کریں گے بے نقاب، کھرا سچ کی ٹیم کا بندہ لڑکی کے گھر پہنچا تو اسکے والد نے کیا کہا؟

    مبشر صاحب ،گند میں نہ پڑیں، ایس ایچ او نے حریم شاہ کے خلاف مقدمہ کی درخواست پر ایسا کیوں کہا؟

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    وزیراعلیٰ پنجاب نے کہاکہ آٹے کی قیمتوں میں استحکام کے لئے ضروری انتظامی اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گے،چکی مالکان کوبھی آٹے کی قیمت میں اضافے کی اجازت نہیں دیںگے۔آٹے کی قیمت میں بلاجواز اضافہ کرنیوالوں کیخلاف قانون اپنا راستہ خودبنا رہا ہے ۔پنجاب میں اتحادی جماعت کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں ۔صوبے کے عوام کی خدمت کے سفر میں کسی کو رکاوٹ نہیں ڈالنے دوں گا۔

    وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی قیادت میں پنجاب حکومت نے آٹے کی مقرر قیمت پر دستیابی یقینی بنانے کیلئے بروقت اقدامات کیے ہیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے موثر اقدامات پر پنجاب حکومت کو خراج تحسین پیش کیا۔

    فردوس عاشق اعوان نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب صوبے کو بہترین انداز سے چلا رہے ہیں ۔پاکستان تحریک انصاف کی ٹیم وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں متحد ہےـ وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار نے صوبے کے عوام کی خدمت کیلئے شاندار اقدامات کئے ہیں۔ وزیراعلیٰ عثمان بزار کی قیادت میں پنجاب حکومت نے مختصر عرصے میںریکارڈ قانون سازی کر کے بے مثال کام کیا ہے ۔ اپوزیشن کا بیانیہ بری طرح بے نقاب ہوچکا ہے اورسیاسی یتیم پاکستان کی سیاست سے آؤٹ ہوچکے ہیں۔

  • سلمان خان نے ایسا کیا کر دیا کہ وزیراعظم بھی تعریف کیے بنا نہ رہ سکے

    سلمان خان نے ایسا کیا کر دیا کہ وزیراعظم بھی تعریف کیے بنا نہ رہ سکے

    سلمان خان نے ایسا کیا کر دیا کہ وزیراعظم بھی تعریف کیے بنا نہ رہ سکے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ پوری قوم کوسلمان خان کی بہادری پرفخرہے، یہ وہ نوجوان ہے جس نے انتہائی بہادری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے کچلاک میں شدید برفباری کے باعث پھنسے 100 سے زائد افراد کو بچایا۔

    اپنے ایک ٹویٹ میں وزیر اعظم نے کہا کہ پوری قوم کو سلمان خان کی بہادری پرفخرہے جس نے بغیر کسی غرض کے انتہائی بہادری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے برف میں پھنسے افراد کی مدد کی۔ وزیر اعظم نے ٹویٹر پر ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کی نیوز رپورٹکا بھی تبادلہ کیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے علاقے کچلاک سے تعلق رکھنے والا 30سالہ نوجوان ہیرو بن گیا ہے جس نے گزشتہ ہفتہ جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے برف سے ڈھکی سڑکوں میں پھنسے 100سے زائد لوگوں کی زندگیاں بچائیں۔ خراب موسم کی صورتحال کے باعث سینکڑوں گاڑیاں برف میں غائب ہو گئی تھیں جن میں سوار مرد و خواتین اور بچے اور بزرگ شہری مناسب خوراک اور کپڑوں کی کے بغیر خطرے میں گھر چکے تھے۔ سلمان خان نے نہ صرف ان لوگوں کو اپنے گھر میں قیام و طعام کی پیشکش کی بلکہ انہیں اپنی گاڑی میں سوار کر کے محفوظ مقام پر منتقل کیا۔

  • ایک قوم ایک نصاب، طاہر اشرفی نے کیا دبنگ اعلان اور ساتھ دی بڑی وارننگ

    ایک قوم ایک نصاب، طاہر اشرفی نے کیا دبنگ اعلان اور ساتھ دی بڑی وارننگ

    ایک قوم ایک نصاب، طاہر اشرفی نے کیا دبنگ اعلان اور ساتھ دی بڑی وارننگ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ قابل اعتراض کتب اور لٹریچر کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی،بیرون ملک سے آنے والی بعض کتب میں ایسا نفرت انگیز مودار موجود ہوتا ہے جو معاشرے میں منافرت اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کا سبب بن رہا ہے،حکومت پنجاب بیرون ملک سے آنے والی ایسی کتب کی روک تھام کے لیے قانون سازی کرنے جارہی ہے،اس سلسلہ میں وزارت قانون اور متحدہ علماءبورڈ کے مابین رابطہ ہے،وزارت قانون پنجاب کی قائمہ کمیٹی نے بھی اس حوالے سے کچھ سفارشات مرکز کوبھجوائی ہیں ا ور وزیر اعلیٰ پنجاب اور سپیکر پنجاب اسمبلی کا مکمل تعاون حاصل ہے۔

    ان خیالات کا اظہار چیئرمین پاکستان علماءکونسل و متحدہ علماءبورڈ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے تاجران اردو بازار ، دینی کتب کے پبلشرز سے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر انجمن تاجران ناشران تاجران دینی کتب اردو بازار لاہور کے صدر ناصر مقبول ، انجمن تاجران و ناشران قرآن مجید کے صدر کاشف اقبال ، انجمن تاجران اردو بازارکے سینئر نائب صدر سید احسن محمود شاہ کی قیادت میں 30رکنی وفد موجود تھا جبکہ متحدہ علماءبورڈ کے کوآرڈی نیٹر ضیاءالحق نقشبندی، مولانا عثمان بیگ فاروقی ، علامہ افضل حیدری ،مولانا محمد علی نقشبندی ، مولانا محمد اسلم صدیقی و دیگر بھی موجود تھے۔

    علامہ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اردو بازار کے تاجران اور پبلشرز نے نفرت آمیزکتب کی اشاعت سے برات کا اظہار کیا ہے،دینی کتب کے مصنفین ، پبلشرز اور تاجران نے ہمیشہ قابل اعتراض کتب اور لٹریچر کی روک تھام کے لیے متحدہ علماءبورڈ سے تعاون کیا ہے، جس کے باعث صوبہ بھر میں قابل اعتراض مواد کی 99.9فیصد اشاعت کی روک تھام ممکن ہوچکی ہے۔

    علامہ طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ اضلاع اور ڈویژن کی سطح پر بھی متحدہ علماءبورڈ تاجران اور پبلشرز کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا تاکہ ہر سطح پرقابل اعتراض مواد کی روک تھام کو یقینی بنایا جاسکے۔

    حریم شاہ کی دبئی میں کر رہے ہیں بھارتی پشت پناہی، مبشر لقمان نے کئے اہم انکشاف

    حریم شاہ کو کریں گے بے نقاب، کھرا سچ کی ٹیم کا بندہ لڑکی کے گھر پہنچا تو اسکے والد نے کیا کہا؟

    مبشر صاحب ،گند میں نہ پڑیں، ایس ایچ او نے حریم شاہ کے خلاف مقدمہ کی درخواست پر ایسا کیوں کہا؟

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    انہوں نے مصنفین اور پبلشرز سے اپیل کی ہے کہ وہ بین المسالک و بین المذاہب رواداری کے مکالمے کو فروغ دیں اوراس حوالےسےکتب شائع کریں،اسلام اورنظریہ پاکستان کی بنیادی اساس پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائگا،حکومت مدارس عربیہ کے نظام میں کوئی مداخلت کر رہی ہے نہ ہی اس کے نصاب کو تبدیل کیا جارہا ہے اس حوالے سے محض شکو ک و شبہات پھیلائے جارہے ہیں’’ایک قوم ایک نصاب ‘‘کی پالیسی صرف مدارس کے لیے نہیں بلکہ تمام تعلیمی اداروں کے لیے ہے،یہ بات خوش آئند ہے کہ ستر سال میں پہلی بار مدارس کی رجسٹریشن وزارت صنعت کے بجائے وزارت تعلیم کرے گی، اس سلسلہ میں صوبائی سطح پر رجسٹریشن آفس کھول دیا گیا ہے،جس سے مدارس کی رجسٹریشن اکاؤنٹس سمیت تمام مسائل حل ہونگے۔

    مشرق وسطیٰ کے حالات، طاہر اشرفی بھی میدان میں آ گئے، کیا کہا؟

  • ایم کیو ایم پھر نہ مانی، جہانگیر ترین کو بھی ہوئی ناکامی، اگلے مذاکرات کب ہوں گے؟ اعلان کر دیا

    ایم کیو ایم پھر نہ مانی، جہانگیر ترین کو بھی ہوئی ناکامی، اگلے مذاکرات کب ہوں گے؟ اعلان کر دیا

    ایم کیو ایم پھر نہ مانی، جہانگیر ترین کو بھی ہوئی ناکامی، اگلے مذاکرات کب ہوں گے؟ اعلان کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی بنائی گئی حکومتی کمیٹی نے ایم کیو ایم مرکز کا دورہ کیا، خالد مقبول صدیقی کو کابینہ میں واپسی کی پیشکش کی لیکن وہ نہ مانے جس کے بعد مذاکرات کے اگلے دور پر اتفاق کے بعد حکومتی کمیٹی اور اتحادی جماعت نے پریس کانفرنس کی

    ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز بہادرآباد پر پاکستان تحریک انصاف کا اعلی سطحی وفد وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں ایم کیو ایم پاکستان کے صدر دفتر میں ملاقات کی۔تحریک انصاف کے وفد میں جہانگیر ترین،وفاقی وزیر اسد عمر،ارباب شہزاد،سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیدر فردوس شمیم نقوی،اراکین سندھ اسمبلی خرم شیر زمان،حلیم عادل شیخ،جمال صدیقی،حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن ارباب شہزاد اور دیگر بھی موجود تھے جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی،سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان،ڈپٹی کنوینرزنسرین جلیل،کنور نوید جمیلو اراکین رابطہ کمیٹی ملاقات میں موجود تھے۔ایم کیو ایم پاکستان کے رکن رابطہ کمیٹی و ممبر قومی اسمبلی سید امین الحق اراکین رابطہ کمیٹی فیصل سبزواری،ابو بکر صدیقی،ارشاد ظفیر،شکیل احمد،زاہد منصوری،راشد سبزواری و دیگر نے پی ٹی آئی کے وفد کا استقبال کیا

    سہ پہر چار بجے سے شروع ہونے والی ملاقات بغیر کسی وقفے کے چھ بجے تک جاری رہی۔بعد ازاں نماز مغرب کے بعد میڈیا نمائندگان سے پی ٹی آئی کے وفد کے سربراہ پرویز خٹک اور ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مشترکہ گفتگوکی۔

    کنوینر ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا اہم وفد آج ایم کیو ایم کے مرکز آیا ہے جو جسے ہم نے دل سے خوش آمدید کہا وفد بہت یقین کے ساتھ آیا اور ہم نے امیدوں کے ساتھ ان کا انتظار کیا ہماری گفتگو مثبت رہی ہے اور ہم نے پی ٹی آئی کی حکومت کی حمایت کی تھی اور اس وعدے کو نبھاتے آئے ہیں ہم نے اتحاد کرتے وقت انہیں شہری سندھ کے تمام مسائل سے آگا ہ کیا تھا،ہم نے اپنا نکتہ نظر پی ٹی آئی کے سامنے رکھا تھا جس پر اتفاق ہواجو بعد میں تیرہ نکاتی معاہدوں کی شکل میں سامنے آگیا۔ہم نے کوئی بھی معاہدہ اپنی ذات کیلئے نہیں کیا بلکہ خالصتاعوام کے مفاد میں کئے گئے نکات تھے کیونکہ گیارہ سال سے سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ معاشی دہشت گردی کی جارہی تھی اٹھارویں ترمیم کے ذریعے دھوکہ دیا گیا اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے بجائے ان پر قبضہ کر لیا گیا ہم نے باور کیا ہے کہ سندھ کے شہری علاقے نزاع کے عالم میں ہیں انہیں آئی سی یو سے نکالا جائے ہم صرف سندھ کے شہری عوام کا نہیں بلکہ پاکستان بھر کی عوام کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ کراچی نے وفاق کو 65فیصد سے ذائد ٹیکس دیا ہے ہمیں اسی میں سے ہمارا جائز حصہ دے دیا جائے۔

    وفاقی وزیر دفاع اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان اوروفاقی حکومت کے درمیان کوئی ناراضگی نہیں ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا وفاقی کابینہ سے علیحدہ ہونے کے فیصلے کے بعد جو غلط فہمیاں پھیلادی گئی تھیں مختلف معاملات پر بات کرنے کے علاوہ ہم ان ابہام کو بھی دور کرنے آئے تھے ایم کیو ایم کے پیش کردہ تمام نکات پر سحر حاصل گفتگو ہوئی ہے جس پر ہم کافی نکات پر ہم میں انفاق رائے ہوگیا ہے اور جلد اسلام آباد میں دوسرا سیشن ہوگا جس کے بعد آپ خوش خبریاں سنیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ آج کے اجلاس میں ہم نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے وفاقی کابینہ میں واپس آنے کی درخواست کی ہے اور ایم کیو ایم ہماری اتحادی ہے اور رہے گی ہم اپنا ٹرن اوور ایک ساتھ مکمل کریں گے۔ میڈیا نمائندگان کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے باور کیا کہ جمہوریت کے استحکام اور اتحادیوں کی شکایات کو دور کرنے کیلئے رابطوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    مذاکراتی کمیٹی کے رکن جہانگیر ترین نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ ہم جھوٹے وعدے نہیں کررہے عملی کام کرکے دکھائیں گے۔

  • وزیراعظم کا "میڈیکل” کروائیں، آئی جی سندھ کونسا کام کریں؟ سعید غنی برس پڑے

    وزیراعظم کا "میڈیکل” کروائیں، آئی جی سندھ کونسا کام کریں؟ سعید غنی برس پڑے

    وزیراعظم کا "میڈیکل” کروائیں، آئی جی سندھ کونسا کام کریں؟ سعید غنی برس پڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی پہچان ہمیشہ پڑھے لکھے لوگ رہے ہیں، شہر میں تقافتی سرگرمیوں کی بحالی میں پی پی پی کے کارکنان کا خون شامل ہے۔

    ان خیالات کا اظہار پی پی پی کراچی کے صدر اور سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی نے کراچی آرٹس کونسل میں طلبہ کے طرف سے منعقدہ فن پاروں کی نمائش کے دورے کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ وہ ہفتے کی صبح آرٹس کونسل پہنچے، جہاں نمائش کے دورے سے پہلے آرٹس کونسل کی نئ زیر تعمیر عمارت و فائن آرٹس اسکول کا دورہ کیا۔

    دورے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے دعوہ کیا کہ پولیس کے چند افسران ساذشوں میں مصروف ہیں۔ گذشتہ تین دن میں جو کچھ چند پولیس افسران بشمول آئی جی کلیم امام نے کیا، اس سے عوام میں یہ ہی تاثر جارہا ہے کہ سندھ کابینہ کا آئی جی کو ہٹانے کا فیصلہ درست تھا۔ جو میرے اور امتیاز شیخ کے خلاف جھوٹی خبریں چلو رہے ہیں، ان سے اس گھناونی ساذش کا آزالہ بھی کروائیں گے، ہم جھوٹوں کو انکے گھر تک چھوڑ کر آئیں گے۔

    پی ٹی آئی کے حلیم عادل شیخ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ میں ہر قسم کی انکوئری کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہوں، حلیم عادل شیخ میرا اور وزیر اعظم عمران خان کا بھی منشیات استعما ل کرنے کا میڈیکل کروائیں اور میں یہ بھی کہتا ہوں کہ حلیم عادل شیخ پر آج تک جو الزامات لگتے رہے اور میرے پر جو الزام حلیم عادل شیخ لگا رہے ہیں، دونوں پر لگنے والے الزامات کی بھی عدالتی تحقیقات ہو تو میں تیار ہو ۔

    آئی جی سندھ کی مختلف میڈیا نمائندوں سے ملاقاتوں کے سوال پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کلیم امام اور چند پولیس آفسر اس طرح کے کاموں میں ملوث ہیں، بیشتر ہولیس افسران ایمانداری سے اپنا کام انجام دے رہے ہیں جبکہ چند افراد کا ٹولہ کلیم امام کی سربرائی میں ساذش میں مصروف ہے، اگر انھیں میڈیا اور سیاست کا شوق ہے تو ضرور کریں مگر پولیس کی وردی اتار کر پی ٹی آئی یا کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرلیں ناکہ سرکاری کام انجام دیتے ہوئے سیاسی جماعت کیلئے کام کرتے رہیں۔آئی جی سندھ کے تبدیلی میں عمران خان کی رضامندی شامل ہے مگر پی ٹی آئی سندھ کے چند رہنما جن کی روزی روٹی آئی جی سندھ اور ان کے کرتا دھرتا چند آفسران کی مرہون منت ہے وہ کیلم امام کو ہٹائے جانے پر پریشان ہیں، جھوٹی اور من گھڑت خبریں چلو کر اپنے من کو تسلیاں دے رہے ہیں۔

    ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر سعید غنی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے پی پی پی سے پانچ بار اتحاد صرف پیٹرول کی قیمت بڑھنے پر ختم کیا حالانکہ اس وقت عالمی منڈی میں ہیٹرول کی قیمت لگ بھگ 140 سے 150 ڈالز فی بیرل تھی جو آج 70 ڈالر ہے اور کچھ عرصہ پہلے تک 60 ڈالر فی بیرل تک تھی۔ مگر آج پاکستان میں مہنگائی اور تیل کی قیمتیں تاریخی بلندیوں کو چھو رہی ہیں اور درجنوں بار بجلی، گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوچکا لیکن عوامی مسائل ایم کیو ایم کی ترجیح نہیں، آج پی ٹی آئی پنجاب کے صوبائی جنرل سیکریٹری خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی دور میں بدعنوانی میں کئیں گناہ اضافہ ہوگیا۔ آج عمران خان کے سارے اتحادی یہ کہتے پائے جارہے ہیں کہ بدعنوانی اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے ہمارے دور میں کسی بھی اتحادی نے ایسے دعوے نہیں کیے جو آج کی حکومت کے اتحادی کر رہے ہیں کہ آئے روز مہنگائی بیروزگاری اور کرپشن میں اضافہ ہورہا ہے۔

  • ہمارے دور میں یہ "کام” بھی ہوتا تھا،شہباز شریف کے دعوے پر سب حیران

    ہمارے دور میں یہ "کام” بھی ہوتا تھا،شہباز شریف کے دعوے پر سب حیران

    ہمارے دور میں یہ "کام” بھی ہوتا تھا،شہباز شریف کے دعوے پر سب حیران

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان ہاوَس تبدیلی آئینی اورقانونی پارلیمنٹ کا حق ہے،پاکستان کی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے،آٹا اور گندم کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں،گندم اورآٹا عام آدمی کی پہنچ سےباہر ہوگیا ہے،مسلم لیگ ن کے دور میں گندم کی ریکارڈ پیدوار ہوتی تھی،

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوچکی ہے،ایسی صورتحال میں ان ہاوَس تبدیلی نہ غیرقانونی ہے اور نہ غیرسیاسی،نواز شریف کی میڈیکل ٹریٹمنٹ جاری ہے میرے اور بھتیجی کے خلاف ریفرنس نیب اور نیازی گٹھ جوڑ ہے،

    واضح رہے کہ شہباز شریف اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے ہمراہ لندن ہیں، نواز شریف طبی بنیادوں پر عدالت سے رہا ہوئے اور لندن علاج کے لئے گئے، ابھی تک نواز شریف کا لندن میں علاج جاری ہے، ان کی وطن واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے

  • مودی کی "میک ان انڈیا” مہم ہوئی بری طرح ناکام

    مودی کی "میک ان انڈیا” مہم ہوئی بری طرح ناکام

    مودی کی "میک ان انڈیا” مہم ہوئی بری طرح ناکام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم کے اقدامات کے خلاف جہاں ملک بھر میں احتجاج ہو رہا ہے وہیں مودی کی میک ان انڈیا مہم بھی ناکام ہو گئی ہے، میک ان انڈیا مہم پر کروڑوں روپے صرف اشتہارات کی مد میں خرچ کئے گئے لیکن مہم کو ناکامی ہوئی، مودی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس مہم سے بھارت میں روزگار بڑھے گا اور کم خرچ پر بہترین چیزیں میسر ہوں گی .

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں میک انڈیا مہم کی ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مالی سال 2014 کے بعد سولر فوٹو وولٹک سیل اور ماڈیول کی برآمدگی قیمت 90 ہزار کروڑ روپے تک بڑھ گئی ہے،بھارت میں یسولر پاور کی ڈیمانڈ زیادہ ہے اور 85 فیصد سامان چین، ملیشیا، ویتنام سے برآمد کیا گیا ہے.

    پی وی سیلس اور ماڈیول امپورٹ کرنے پر خرچ کی گئی رقم تقریباً 4.83 بلین ڈالر ہے، جو ڈائریکٹ بیرون ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ اتنا ہی نہیں، یہ رقم مالی سال 2014 سے 2019 تک حکومت کے ذریعہ رینوئبل انرجی سیکٹر کے لیے الاٹ بجٹ رقم سے 6 گنا زیادہ ہے۔

    بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا ہے کہ مودی کا ’میک ان انڈیا ‘ اب ’ریپ ان انڈیا‘ میں تبدیل ہو چکا،میک ان انڈیا منصوبے میں ناکامی پر بھارت کی اہم شخصیات نے مودی کو آڑے ہاتھوں لیا اور کڑی تنقید کی.