Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ سنانے سے روکنے کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں استدعا

    توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ سنانے سے روکنے کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں استدعا

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹرائل کورٹ کو توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ سنانے سے روکنے کی استدعا کر دی۔

    بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں بریت کی درخواستوں پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے کی،بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے روسٹرم پر آ کر توشہ خانہ کیسز میں مشترکہ گواہ انعام اللّٰہ شاہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی توشہ خانہ کیس بنائے گئے، اس کیس میں بھی گواہ ایک جیسے ہی ہیں، بشریٰ بی بی کو عدت نکاح کیس میں عدالت نے بری کر کے گھر جانے کا کہا، بریت کے بعد اڈیالہ جیل کے گیٹ نمبر 5 پر ان کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا،پہلے تفتیش میں تحائف اکٹھے کیے تو بلغاری سیٹ الگ کر دیا کہ اسے بعد میں دیکھیں گے، اسلام آباد میں ایسی کوئی ایجنسی نہیں جس نے توشہ خانہ کیس میں تفتیش نہیں کی، پہلے الیکشن کمیشن، پھر نیب، پھر ایف آئی اے اور ایک تھانہ کوہسار میں بھی مقدمہ ہے، آپ کی عدالت میں ریلیف ملنے کے بعد مجھے ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا کی عدالت پیش ہونا ہے، ان سب میں ایک ہی چیز مشترکہ ہے اور وہ ہے نیب، یعنی پہلے بھی نیب نے تفتیش کی اور دوبارہ بھی، نیب نے تفتیش شروع کی تو پھر ایف آئی اے آگئی انہوں نے کام شروع کیا، قوانین کا تحفظ حاصل ہے کہ ایک کیس میں بار بار سزا نہیں ہوسکتی۔

    بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے ٹرائل کورٹ کو توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ سنانے سے روکنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ عدالت سے استدعا ہے کہ جج صاحب کو کیس کا حتمی فیصلہ سنانے سے روک دیں،جس پر جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے کہا کہ اس کو بھی دیکھ لیتے ہیں۔،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس کیس میں کُل 35 گواہان ہیں، 19 گواہان نے اپنے بیانات قلمبند کرائے، بطور ملزم بیان قلمبند کرانے کے لیے سوال نامے آگئے، کل جوابات مانگے ہیں، شاید پرسوں سزا بھی ہو،جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ میں اس کیس میں نوٹس کرتا ہوں۔

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اگر آپ اسٹے نہیں دیتے تو میرے دلائل کا کوئی فائدہ نہیں، جس دن یہ چارج فریم ہوا دوسرا چارج ان کے سامنے پڑا تھا، مجھے پہلے اور دوسرے چارج کو پڑھنے کی اجازت دیں، تفتیشی ایجنسی پہلے ایک اور پھر دو ہوگئیں،جسٹس انعام امین منہاس نے وکیل سے استفسار کیا کہ مگر اس میں تو اختیارات کا ناجائز استعمال بھی ہے نا،بیرسٹر سلمان صفدر نے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی جانب سے ضمانت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے فیصلے کے دو پیراگراف پڑھ لیتے ہیں، سارا معاملہ اس میں لکھا ہوا ہے، جسٹس میاں گل نے اسی کیس میں دونوں ملزمان کو ضمانت دی تھی۔ میرے پاس 5 پروٹیکشنز ہیں،جسٹس انعام امین منہاس نے وکیل سے کہا کہ وہ ضمانت کا معاملہ ہے ایسے تو آپ فیصلے پڑھتے رہیں گے، اس کا مطلب کہ رولز کی خلاف ورزی ہوئی ہے، کوئی سٹیچوٹری نہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ نہیں میرا کیس ہے کہ اگر کوئی بندہ نہ بتائے کہ تحفہ لیا تب کیس بنتا ہے، مگر اگر ایک بندہ خود آکر کہے کہ میں نے یہ چیز لی ہے تو پھر کیس کیسا،جسٹس انعام امین منہاس نے بیرسٹر سلمان صفدر سے استفسار کیا کہ آپ پر چارج کیا ہے وہ بتائیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میرے موکلان پر جیولری گراف سیٹ سمیت دیگر تحائف لینے کا الزام ہے، صہیب عباسی اور انعام شاہ گواہان ہیں اور اگلے صفحے پر ملزمان کی لسٹ میں بھی شامل ہیں، توشہ خانہ ون کیس میں 31 جنوری 2024 کو سزا دی جاتی ہے، سائفر کیس کے ساتھ ہی میرے موکل کو توشہ خانہ ون کیس میں سزا سنائی جاتی ہے، جو جج صاحب سزا دیتے ہیں وہ 342 کا بیان قلمبند کرنے کا موقع بھی نہیں دیتے، توشہ خانہ میں پہلے ایک کیس بنایا پھر دوسرا کیس بنایا، توشہ خانہ ٹو کیس اب اختتامی مراحل میں ہے، ہم نے بریت کی درخواست گزشتہ سال دائر کی تھی، توشہ خانہ ون میں سزا سنائی گئی تو ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے سزا معطل کردی، توشہ خانہ ٹو کیس میں انعام اللّٰہ شاہ اور صہیب عباسی ملزمان بھی ہیں اور گواہ بھی، سنگل خط سے یکم اگست 2022 سے تفتیش شروع ہو جاتی ہے، 5 اگست 2022 کو چیئرمین انکوائری کی اجازت دیتا ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس انعام امین منہاس نے توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی کے وکیل کو کیس سے متعلق تمام عدالتی فیصلوں کے حوالہ جات جمع کرانے کی ہدایت کر دی،عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی، آئندہ تاریخ سماعت بعد میں بتائی جائے گی۔

  • میر علی،انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد

    میر علی،انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد

    میرعلی کے نزدیک سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا گیا جس میں ایک مشکوک ٹرالی کو روک کر اس سے بڑی مقدار میں ہتھیار، گولہ بارود اور دھماکہ خیز سامان برآمد کر لیا گیا۔

    حکام کے مطابق کارروائی قابلِ عمل خفیہ معلومات پر مبنی تھی اور فورسزنے حدِ ہدف کو محاصرہ کر کے فوری کارروائی انجام دی، جس کے نتیجے میں ٹرالی کو مزید منتقل ہونے سے قبل ہی قابو کر لیا گیا۔آپریشن کے دوران ای او ڈی (Explosive Ordnance Disposal — بم و دھماکہ خیز اشیاء سے نمٹنے والی ٹیم) نے موقع پر موجود متعدد چیزیں محفوظ انداز میں ڈسپوز کیں۔ ڈسپوز کی جانے والی اشیاء کی فہرست درج ذیل ہے

    16 آر پی جی (RPG) گولے
    3 روسی قسم کے ہائی ایکسپلوسیو (HE) گرینیڈ
    7 دیگر HE گرینیڈ
    1 اینٹی پرسنل مائن (APM)
    3 تیار شدہ IEDs (بارود سے بنے دھماکہ خیز آلات)
    20 کلو گرام دھماکہ خیز مواد
    5 راؤنڈز 81 ملی میٹر مورٹر گولہ بارود
    15 شاٹ گن راؤنڈز (12 گیج)
    23 آر پی جی-7 کے بوسٹر چارجز
    6 IED فیوزز

    مزید تحقیقات اور عدالتی جانچ پڑتال کے لیے مندرجہ ذیل اشیاء ضبط کر کے لیبارٹری تک بھیج دی گئی ہیں
    3 آر پی جی-7 لانچرز
    1 بھاری مشین گن (زارکائی) کا بیرل
    1 12.7 ملی میٹر بندوق کا زنگ آلود جسمانی حصہ
    2 اضافی بھاری مشین گن کے بیرلز
    1 سب مشین گن کے تحت لگایا جانے والا گرینیڈ لانچر (UBGL) کِٹ
    1 راکٹ لانچر باڈی (نوعیت نامعلوم)
    1 ٹرائی پوڈ ماؤنٹ

    گولہ بارود کی تفصیلی مقدار (جو بعد ازاں فورنزک استعمال کے لیے رکھی گئی):
    1,445 راؤنڈز 12.7 ملی میٹر (AAMG) کی گولیاں
    30,400 راؤنڈز زارکائی کالیبر ہتھیاروں کے لیے
    2,240 راؤنڈز 14.5 ملی میٹر ایچ ایم جی (HMG) گولیاں
    190 پستول راؤنڈز

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایک ممکنہ بڑے حملے کو ناکام بنانے کی کوشش میں سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ موقع پر پہنچنے والی ای او ڈی ٹیم نے شواہد کی حفاظت اور ابتدائی تفتیش کے بعد اشیاء کا معائنہ کیا، جبکہ تفتیشی ٹیمیں برآمد شدہ اشیاء کی ماخذ، ممکنہ کارپوریٹرز اور ان کے نیٹ ورک کی شناخت کے لیے مزید تفتیش کر رہی ہیں۔علاقائی سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو عارضی طور پر سیل کر رکھا تھا اور اس بات کی تصدیق کی جارہی ہے کہ اس واقعے میں عام شہریوں یا فورسز کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا

  • فیصل آباد،  چھت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق، تین افراد زخمی

    فیصل آباد، چھت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق، تین افراد زخمی

    فیصل آباد میں چھت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق تین افراد زخمی ہو گئی

    ریسکیو 1122 ترجمان کے مطابق فیصل آباد محمود ٹاؤن، اسٹریٹ نمبر 24، نواباں والا روڈ، مظفر کالونی کے قریب ایک مکان کی چھت گرنے کی اطلاع موصول ہوئی، جس پر فوری طور پر امدادی ٹیم روانہ کر دی گئی۔ ٹی آر گارڈر کی بنی ہوئی خستہ حال چھت اچانک زمین بوس ہو گئی، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد ملبے تلے دب گئے۔ریسکیو ٹیم نے فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کا آغاز کرتے ہوئے متاثرہ افراد کو ملبے سے نکالا اور ابتدائی طبی امداد فراہم کی، ریسکیو ٹیم نے تمام متاثرین کو جنرل ہسپتال سمن آباد منتقل کر دیا گیا۔ واقعہ میں زاہدہ بی بی زوجہ اللہ دتہ، عمر 55 سال کی موت ہو گئی جبکہ اللہ دتہ ولد محمد علی، عمر 55 سال، علیشبا دختر اللہ دتہ، عمر 19 سال ، وارث علی ولد اللہ دتہ، عمر 1 سال زخمی ہوئے.

  • جعفر ایکسپریس ٹرین  پھر نشانے پر،دھماکے سے دو بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں

    جعفر ایکسپریس ٹرین پھر نشانے پر،دھماکے سے دو بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں

    کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس ٹرین پھر نشانے پر،40 ڈاؤن جعفر ایکسپریس کو سلطان کوٹ کےقریب حادثہ، دھماکے سے دو بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔ ٹرین صبح پر شکارپور سے جیکب آباد کے لئے روانہ ہوئی تھی

    سندھ کے ضلع شکارپور کے علاقے سلطان کوٹ کے قریب سومرو واہ ریلوے ٹریک پر ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس کے دو ڈبے پٹڑی سے اتر گئے، جس کے باعث چار افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔پولیس کے مطابق دھماکہ سومرو واہ کے قریب اُس وقت ہوا جب جعفر ایکسپریس موقع سے گزر رہی تھی۔ دھماکے سے ٹریک کا ایک حصہ تباہ ہوگیا جبکہ ٹرین کے دو ڈبے پٹڑی سے اترنے کے باعث متعدد مسافروں میں بھگدڑ مچ گئی۔ تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کرلیا گیا تاکہ جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کیا جا سکے۔

    ڈی پی او شکارپور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دھماکہ ایک دستی ساختہ بم کے ذریعے کیا گیا، تاہم حتمی رائے تفتیش مکمل ہونے کے بعد دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ریلوے نظام کو نقصان پہنچانے اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش ہوسکتی ہے۔

  • خیبر پختونخوا ،بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگردی کے واقعات،سیکورٹی فورسز کا سرچ آپریشن

    خیبر پختونخوا ،بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگردی کے واقعات،سیکورٹی فورسز کا سرچ آپریشن

    خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بدامنی کے متعدد واقعات پیش آئے جن میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ خوش قسمتی سے تمام واقعات میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم املاک کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

    اپر اورکزئی: پولیس چیک پوسٹ کے قریب دھماکہ
    اپر اورکزئی میں کُرپا پولیس چیک پوسٹ کے قریب دیسی ساختہ بم کا دھماکہ ہوا۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) شوکت علی کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار کو جزوی نقصان پہنچا۔پولیس اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ بم ڈسپوزل اور فرانزک ٹیمیں دھماکے کی نوعیت جانچنے میں مصروف ہیں۔ ڈی پی او شوکت علی کا کہنا ہے کہ "پولیس جائے وقوعہ پر موجود ہے، تحقیقات جاری ہیں۔”

    لوئر دیر: سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش
    لوئر دیر کے تحصیل لال قلعہ میدان کے علاقے مرجان خوڑ کے قریب سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کے گزرنے کے دوران سڑک کنارے نصب دیسی ساختہ بم پھٹ گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق گاڑی معمول کے گشت پر تھی۔ خوش قسمتی سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ حملے میں ملوث عناصر کا سراغ لگایا جا سکے۔

    لکی مروت: پولیس افسر کی گاڑی پر حملہ
    لکی مروت کے علاقے بیست خیل گیٹ کے قریب ورغری بیٹنی پولیس اسٹیشن کے ایڈیشنل ایس ایچ او کی گاڑی پر دیسی ساختہ بم سے حملہ کیا گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق گاڑی کو نقصان پہنچا تاہم تمام افسران محفوظ رہے۔ دھماکے کے بعد فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ تفتیشی ٹیمیں شواہد اکٹھے کر رہی ہیں تاکہ حملے کی نوعیت اور ملزمان کا تعین کیا جا سکے۔

    بلوچستان: خاران میں عدالتی عمارت پر دہشتگردوں کا حملہ
    بلوچستان کے ضلع خاران میں دہشتگردوں نے جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ کر کے عمارت کو آگ لگا دی۔ پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آور ڈیوٹی پر موجود جج جان محمد کو اغوا کر کے فرار ہوگئے۔واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور جج کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں جبکہ سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

    بولیدہ: سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش
    بلوچستان کے علاقے بولیدہ میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر دیسی ساختہ بم سے حملہ کیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ معمول کے گشت کے دوران ہوا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    خضدار: سیکیورٹی قافلے پر بم حملہ
    خضدار میں بھی ایک الگ دیسی ساختہ بم دھماکہ رپورٹ ہوا جو مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز کے قافلے کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا۔ دھماکے سے گاڑی کو معمولی نقصان پہنچا تاہم تمام اہلکار محفوظ رہے۔ فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور سرکاری تصدیق کا انتظار ہے۔

    ڈیرہ مراد جمالی: تعمیراتی مقام سے مزدور اغوا
    بلوچستان کے ضلع ڈیرہ مراد جمالی میں زیر تعمیر بے نظیر میڈیکل کالج سے نامعلوم مسلح افراد نے متعدد مزدوروں کو اغوا کر لیا۔پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آور تعمیراتی مقام پر پہنچے اور مزدوروں کو زبردستی گاڑیوں میں ڈال کر نامعلوم مقام پر لے گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر اغواکاروں کی تلاش کے لیے آپریشن شروع کر دیا ہے۔

  • عدم اعتماد سے پہلے  اسد قیصراپنے گھرکی خبر لیں، خواجہ آصف

    عدم اعتماد سے پہلے اسد قیصراپنے گھرکی خبر لیں، خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کو جواب دیتے ہوئےکہا کہ اسد قیصر کو عدم اعتماد کی بات کرنے سے پہلے اپنا گھر درست کرنا چاہیے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ علی امین گنڈاپور اور علیمہ خان ایک دوسرے پرالزامات لگارہےہیں، اسد قیصراپنے گھرکی خبر لیں، ہمارے گھر کو چھوڑدیں ہم اپنا گھرسنبھال لیں گے، نہروں کے معاملے پر اختلافات پیدا ہوئے تھے جو مل کر طے کیے گئے، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی قیادت معاملات کو سنبھال لے گی، مریم نواز پارٹی کی مستقبل کی قیادت ہیں،کشیدگی کو کم کرنے میں آصف زرداری ماہر ہیں،آصف زرداری کا طویل تجربہ ہے وہ تصادم میں یقین نہیں رکھتے،ہ ہماری قیادت بھی پیپلزپارٹی کے ساتھ تصادم نہیں چاہتی، شہباز شریف کے واپس پہنچنے پر معاملات طے ہوجائیں گے نوازشریف کی طبیعت اب بہتر ہے، نوازشریف کی غیر موجودگی پر بہت ساری قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں، ماضی میں نواز شریف سے مستفید ہونے والے بہت سے لوگ ان سے متعلق غلط باتیں کر رہے ہیں۔

  • پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج

    پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج

    تحریک انصاف کی خاتون رہنما صنم جاوید کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے یہ مقدمہ تھانہ شرقی پشاور میں صنم جاوید کی قریبی دوست خاتون وکیل کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

    درج ایف آئی آر کے متن کے مطابق، صنم جاوید کو پشاور کی ایک مصروف شاہراہ پر اس وقت روکا گیا جب وہ اپنی گاڑی میں سفر کر رہی تھیں۔ عینی شاہدین کے مطابق، نامعلوم پانچ افراد نے ان کی گاڑی کو زبردستی روکا، انہیں گاڑی سے نکالا اور ایک دوسری گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔مدعیہ نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں، سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کی جائیں، اور ملوث افراد کی شناخت و گرفتاری کو یقینی بنایا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔

  • بھارتی چیف جسٹس بھی "جوتاکلب”میں شامل،دوران سماعت وکیل نے جوتا پھینکا

    بھارتی چیف جسٹس بھی "جوتاکلب”میں شامل،دوران سماعت وکیل نے جوتا پھینکا

    سپریم کورٹ آف انڈیا میں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا، دوران سماعت وکیل نے بھارتی چیف جسٹس بی آر گوائی پر جوتا پھینک دیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق پیر کو چیف جسٹس بی آر گوائی نے دن کا پہلا مقدمہ سننا شروع ہی کیا تھا کہ اچانک 71 سالہ وکیل نے نعرے بازی شروع کی اور چیف جسٹس آف انڈیا پر جوتا پھینک دیا،جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لے لیا،پولیس کے مطابق، ملزم وکیل کی شناخت راکیش کشور کے نام سے ہوئی ہے، جس نے صبح تقریباً 11:35 بجے کورٹ نمبر 1 میں کارروائی کے دوران اپنا جوتا اتار کر چیف جسٹس کی جانب پھینکا،ایک سینیئر پولیس افسر نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر جوتا پھینکنے والے شخص کو پکڑ لیا اور سپریم کورٹ کی سکیورٹی یونٹ کے حوالے کر دیا،بھارتی میڈیا کے مطابق ملزم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا رجسٹرڈ رکن ہے،ابتدائی تفتیش میں پتہ چلا ہے کہ وکیل چیف جسٹس کے حالیہ ریمارکس سے ناراض تھا، جو مدھیا پردیش کے کھاجوراہو مندر سے متعلق ایک سماعت کے دوران دیے گئے تھے،چیف جسٹس گوائی نے اس واقعے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا اور وکلا کو کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت دی۔

  • مرکزی مسلم لیگ کی  امدادی سرگرمیاں،قصور،جلال پور پیر والا،علی پور میں خشک راشن تقسیم

    مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیاں،قصور،جلال پور پیر والا،علی پور میں خشک راشن تقسیم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،گنڈا سنگھ قصور،علی پور اور جلال پور پیر والا میں ساڑھے 11 ہزار متاثرین میں خشک راشن و گھریلو سامان تقسیم کیا گیا، قصور میں مرکزی سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری،چیئرمین خدمت خلق شفیق الرحمان و دیگر رہنما بھی راشن تقسیم کی تقریب میں شریک ہوئے،علی پور میں 6 ہزار خاندانوں میں خشک راشن،امدادی پیکج تقسیم کیا گیا جلال پور پیر والا میں مرکزی مسلم لیگ فیصل آباد کے سیکرٹری جنرل احسن تارڑ نے خشک راشن تقسیم کیا،

    مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے ستلج گنڈا سنگھ کے مقام پر سیلاب متاثرین کیلئے گرینڈ ریلیف پروگرام کے تحت پانچ ہزار خاندانوں میں راشن بیگ، برتن، مچھر دانیاں تقسیم کی گئیں، مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصور، چیئرمین شعبہ خدمت خلق چوہدری شفیق الرحمان وڑائچ،مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ عبدالرؤف،صدر مرکزی مسلم لیگ پنجاب محمد سرور چوہدری،چوہدری حمیدالحسن گجر، رانا محمد اشفاق ودیگر بھی امدادی پیکج کی تقسیم کی تقریب میں شریک ہوئے،تقریب میں قصور بھر سے سیاسی، سماجی و تاجر رہنماؤں نے بھی شرکت کی، علی پور کی خیمہ بستی میں مرکزی مسلم لیگ لاہور کی جانب سے 5 ہزار خاندانوں میں راشن تقسیم کیا گیا، میونسپل کمیٹی گراؤنڈ میں 1 ہزار متاثرہ خاندانوں میں بھی امدادی پیکج تقسیم کیا گیا، اس موقع پر خدمت خلق کے چیئرمین شفیق الرحمان وڑائچ،صدر وسطی پنجاب حمید الحسن گجر،مرکزی مسلم لیگ لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی موجود تھے،چیئرمین خدمت خلق شفیق الرحمان وڑائچ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ ریسکیو اور ریلیف کے بعد اب سب سے بڑا مرحلہ بحالی ہے، جس کیلئے مرکزی مسلم لیگ نے باقاعدہ منصوبہ بندی کر لی ہے۔ اب تک 1 لاکھ 27 ہزار افراد کو ریسکیو، 25 لاکھ کو کھانا، 22 لاکھ کو طبی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں جبکہ 25 ہزار متاثرین کو خیمہ بستیوں میں رہائش دی گئی، اب متاثرین ایک مہینے کا راشن اور گفٹ پیک دے کر گھروں کو بھیجنے کا عمل شروع ہو چکا ہے ،ہمارے پاس 2 ہزار گھرانوں کا ڈیٹا موجود ہے، سروے کی بنیاد پر ان کے گھروں کی تعمیر و مرمت کرائی جائے گی، ساتھ ہی متاثرین کیلئے سہولتِ روزگار سکیم بھی شروع کی جارہی ہے۔شعبہ خدمتِ خلق مرکزی مسلم لیگ فیصل آباد کی جانب سے جلال پور پیر والا میں سیلاب متاثرین کے لیے قائم کی گئی دوسری خیمہ بستی میں مقیم متاثرہ خاندانوں میں ایک ماہ کا خشک راشن، مچھر دانیاں، بچوں کے لیے بسکٹس، برتن، سوٹ، بستر اور دیگر ضروری اشیاء تقسیم کی گئیں،امدادی سامان تقسیم کی تقریب کے مہمان خصوصی محمد احسن تارڑ سیکرٹری جنرل مرکزی مسلم لیگ فیصل آباد، ڈاکٹر ظفر اقبال چیمہ، رانا عمر فاروق اور عامر بٹ تھے۔

  • لاپتہ شہری کی اہلیہ کے اکاؤنٹ میں 50 لاکھ روپے منتقل ،عدالت کو آگاہ کر دیا گیا

    لاپتہ شہری کی اہلیہ کے اکاؤنٹ میں 50 لاکھ روپے منتقل ،عدالت کو آگاہ کر دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ،لاپتہ شہری عمر عبداللہ کی بازیابی کیلئے اہلیہ زینب زعیم کی درخواست پر سماعت ہوئی

    لاپتہ عمر عبداللہ کی اہلیہ کے اکاؤنٹ میں حکومت نے 50 لاکھ روپے کی امدادی رقم منتقل کر دی،لاپتہ شہری عمر عبداللہ کے والد خالد عباسی ایڈوکیٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا ،وزارتِ دفاع کے نمائندوں کی جانب سے عدالت کو ان کیمرہ بریفنگ دی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے لاپتہ عمر عبداللہ سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ ان کیمرہ بریفنگ سے قبل عدالت یہ رپورٹ دیکھ لے،

    درخواست گزار کے وکیل نے 2018 کے ہائیکورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کا معاملہ اٹھا دیا،درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اس عدالت میں 2017 میں تفتیشی افسر نے مانا کہ شہری جبری گمشدہ ہے،والد لاپتہ شہری کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر نے مانا تھا لاپتہ شہری آئی ایس آئی یا کسی اور ایجنسی کی تحویل میں ہے،وکیل نے کہا کہ 2018 میں اسی عدالت نے اس وقت کے آئی جی، سیکرٹری داخلہ و دفاع، ایس ایس پی اور تفتیشی پر جرمانہ عائد کیا، والد لاپتہ شہری نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 2018 کے حکم پر تاحال کوئی عمل درآمد نہ ہوا،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اس وقت کے آئی جی کے خلاف کیا کاروائی ہوئی؟ وہ تو ریٹائر ہو گیا ہو گا، ایس ایس پی اور تفتیشی بھی ملوث تھے انکے خلاف کیا کاروائی ہوئی،عدالتی آرڈر میں تھا کہ ملوث افسران کی تنخواہ سے کٹوتی ہو گی اُنہیں تنخواہ اور پیشن اب تک مل رہی ہو گی، عدالتی حکم کے باوجود کاروائی نہ ہونے بارے میں آج آرڈر میں لکھوں گا، کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی،