سعودی عرب، اومان، کویت، بحرین، یو اے ای میں حملے جاری
مشرق وسطی میں کئی ملک ٹوٹنے کے قریب، بن گورین کینال روٹ کا پلان
ایران کے بعد پاکستان کی باری ؟؟؟
Author: ممتاز حیدر

اسرائیل کا دفاعی نظام فیل، ایران اور لبنان میں سینکڑوں شہید

مودی کےشائننگ انڈیا کےدعوے حقیقت سےکوسوں دور، بھارتی معیشت زوال پذیر
بڑے بڑے انتخابی نعروں کے برعکس مودی کی ناقص معاشی کارکردگی کھل کرسامنے آگئی
نام نہاد بڑی معیشت کادعویٰ کرنے والی نااہل مودی کو برطانوی جریدہ”دی اکانومسٹ ” نے آئینہ دکھا دیا،دی اکانومسٹ کے مطابق بھارت کی معیشت اتنی بڑی نہیں جتنی سمجھی جاتی ہے،گزشتہ سال دسمبر کی سرکاری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھاکہ بھارت چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے ،
رواں سال فروری میں جاری ہونے والے نئےاعدادوشمار بھارتی معیشت کیلئے مایوس کن ثابت ہوئے، بھارت کا جی ڈی پی پہلے کے مقابلے میں 3.3 فیصد کم رہا ، معاشی ماہرین کے مطابق بھارت اب بیرونی سرمایہ کاری کیلئے ایک رسک مارکیٹ بن چکا ہے کیونکہ بھارتی معیشت مسلسل تنزلی کاشکار ہے،مودی حکومت کی غیر مستقل معاشی پالیسیوں، بڑھتی بیروزگاری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی نے بھارتی معیشت کی رفتار کو شدید متاثر کیا ہے،بھارت کا اقتصادی قوت بننےکا خواب ناکام مودی حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سےزمین بوس ہوچکا ہے،

آپریشن غضب للحق،ارندو، کرم سیکٹر میں اہم پوسٹوں اور مراکز کو تباہ کر دیا گیا
آپریشن غضب للحق جاری ،افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کیخلاف پاک فوج کی مؤثر جوابی کارروائیاں جاری ہیں
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نےارندو، کرم سیکٹر میں بروقت کارروائی کے دوران اہم پوسٹوں اور مراکز کو تباہ کر دیا، ان موثر حملوں اور جوابی کارروائیوں میں بزدل افغان طالبان پوسٹیں چھوڑ کر بھی فرار ہو گئے،پاک افواج افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں اور صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہیں،پاک فوج کی جانب سے دشمن کو بھر پور جواب دیا جا رہا ہے،

ایران کی جانب سے عرب ممالک پر داغے گئے ڈرونز اور میزائل حملوں کی تفصیلات جاری
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایران کی جانب سے عرب ممالک پر داغے گئے ڈرونز اور میزائل حملوں کی تفصیلات جاری کر دیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران نے حالیہ جنگ کے آغاز سے عرب ممالک میں اپنے اہداف پر 2000 ڈرونز اور 500 میزائل داغے،نیویارک ٹائمز میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے میزائل کم ہونےکے تاثر کے برخلاف حملوں کی شدت میں کوئی کمی نہیں آئی جبکہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے حملوں کی تفصیلات کی عدم فراہمی رہی۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ تل ابیب میں 10 خیبر شکن میزائل داغے ہیں،پاسداران انقلاب کے مطابق بتا دیا تھاکہ اب مقبوضہ فلسطین میں سائرن کے بعد سائرن کی گونج بند نہیں ہوگی جبکہ امریکی نیوی پر بھی خیبرشکن میزائل سے حملہ کیا ہے۔
ایران کے خلاف جنگ کےابتدائی دنوں میں امریکی فوج نے تقریباً 5.6 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار اور گولہ بارود استعمال کیے،امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پینٹاگون کی جانب سے 5.6 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار جنگ کے صرف ابتدائی دو دنوں میں استعمال کیے گئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی افواج نے قلیل مدت میں بڑی مقدار میں جدید اور مہنگا اسلحہ استعمال کیا۔رپورٹ کے مطابق اس صورتحال نے امریکی کانگریس کے بعض ارکان میں تشویش پیدا کر دی ہے کہ امریکی فوج تیزی سے اپنے انتہائی جدید اور محدود ذخیرے والے ہتھیاروں کو استعمال کر رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج ایران میں اب تک 5 ہزار اہداف کو نشانہ بناچکی ہے اور ان حملوں کے دوران ایران کے50 جنگی جہازوں کو تباہ یا انہیں نقصان پہنچایا گیاہے۔

آسٹریلیا کا متحدہ عرب امارات کو جاسوس طیارہ اور میزائل فراہم کرنے کا اعلان
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانی نے اعلان کیا ہے کہ آسٹریلیا متحدہ عرب امارات میں مقیم اپنے شہریوں اور دیگر عام شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک جدید جاسوس طیارہ اور میزائل فراہم کرے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آسٹریلوی وزیر اعظم نے بتایا کہ حکومت خطے کی فضائی نگرانی اور سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے ایک جدید E-7A ویج ٹیل ریڈار طیارہ Boeing E-7A Wedgetail متحدہ عرب امارات بھیج رہی ہے۔ یہ طیارہ طویل فاصلے تک نگرانی اور فضائی حدود کی مؤثر نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے۔آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ کے مطابق اس طیارے کو چلانے کے لیے تقریباً 85 افراد پر مشتمل عملہ تعینات کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آسٹریلیا دفاعی مقاصد کے لیے جدید ایڈوانسڈ میڈیم رینج ایئر ٹو ایئر میزائلز AIM-120 AMRAAM بھی فراہم کرے گا، تاہم میزائلوں کی درست تعداد ظاہر نہیں کی گئی۔وزیر دفاع نے کہا کہ یہ فوجی سازوسامان خلیجی ممالک، خاص طور پر متحدہ عرب امارات کے دفاع میں مدد کے لیے تعینات کیا جا رہا ہے جہاں بڑی تعداد میں آسٹریلوی شہری مقیم ہیں۔
دوسری جانب آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانی نے واضح کیا کہ ان کی حکومت کا یہ اقدام کسی بھی جارحانہ کارروائی کا حصہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا ایران کے خلاف کوئی حملہ آور کارروائی نہیں کر رہا اور نہ ہی آسٹریلوی فوجی دستے ایران بھیجے جائیں گے۔

ایران کے اسرائیل اور امریکی اہداف پر ایک بار پھر میزائل و ڈرون حملے
ایران نے کہا ہے کہ اس نے آپریشن “سچا وعدہ 4” کی 33ویں لہر کا آغاز کر دیا ہے، جس میں اسرائیل اور امریکی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی عسکری ذرائع کے مطابق اس کارروائی کو “لبیک یا خامنہ ای” کے کوڈ نام سے انجام دیا گیا۔ایرانی بیان کے مطابق اس حملے میں بڑی تعداد میں خیبر شکن بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے، جو ٹھوس ایندھن سے چلنے والے جدید میزائل ہیں اور ہر میزائل میں تقریباً ایک ٹن وزنی وارہیڈ نصب تھا۔ایرانی حکام کے مطابق اس مرحلے میں اسرائیل کے مرکزی شہر تل ابیب کو نشانہ بنایا گیا اور کم از کم 10 سے زائد خیبر شکن میزائل شہر اور اس کے اطراف میں گرے۔ ایرانی بیان میں کہا گیا کہ “مقبوضہ علاقوں میں سائرن مسلسل بجتے رہیں گے۔”
میزائل اسرائیلی دفاعی نظام کو عبور کرتے ہوئے اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے،ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے مطابق اس کارروائی میں امریکی اور اسرائیلی فوجی مراکز کو بھی ہدف بنایا گیا، جن میں مقبوضہ علاقوں میں “ریحوام” نامی جنگی معاونت یونٹ،امریکی بیس 512 پر قائم ابتدائی وارننگ ریڈار اسٹیشن شامل ہیں۔کویت میں امریکی اڈے پر ڈرون اور میزائل حملہ کیا گیا ہے،ایرانی بیان کے مطابق بحریہ نے آج علی الصبح مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کویت میں واقع العدیری امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ڈرونز اور کروز میزائل استعمال کیے گئے اور یہ کارروائی امریکی فوج کے ہیلی کاپٹر بیس اور اسلحہ کے گوداموں کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی۔
امریکہ،ایران جنگ محض “مختصر مہم” ہے، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر حملے سے پہلے ہم نے وینزویلا میں کامیاب آپریشن کیا ،ہم نے ایران کے ڈرونز اور 46 بحریہ کے جہاز تباہ کیے ہیں ،اسرائیل کے ساتھ مل کر ہم ٹیکنالوجی کی مدد سے جنگ لڑ رہے ہیں ،ایران کے پاس اب بچاؤ کے لیے کچھ نہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک چھوٹی مہم کی کیونکہ ہمیں کچھ برائی ختم کرنا ضروری محسوس ہوا۔اور میری سوچ ہے کہ آپ دیکھیں گے یہ ایک علاقائی، مختصر مہم ہی رہے گی،فلوریڈا کے شہر ڈورال میں ریپبلکن ارکان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس وقت غیر معمولی کارکردگی دکھا رہا ہے۔ انہوں نے ایران میں جاری کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا “ہمارا ملک بہت اچھا کر رہا ہے، اس سطح پر جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ہم نے ایک چھوٹی سی مہم شروع کی کیونکہ ہمیں لگا کہ کچھ برائیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ دیکھیں گے کہ یہ ایک مختصر مدت کی مہم ثابت ہوگی۔”اپنی تقریر کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکی فوج کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ انہوں نے حاضرین سے مخاطب ہو کر کہا “ہماری فوج کتنی شاندار ہے، ہے نا؟”
ان کے اس جملے پر حاضرین نے زور دار تالیاں بجائیں جبکہ صدر ٹرمپ نے “شارٹ ٹرم” یعنی مختصر مدت کی اصطلاح کو مزید دو مرتبہ دہرایا، جس سے انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جنگ زیادہ طویل نہیں ہوگی۔
ٹرمپ کے بیان سے چند گھنٹے قبل امریکی وزیر دفاع نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی جس میں لکھا تھا:
“ہم نے ابھی لڑائی شروع ہی کی ہے۔”اس پیغام کو ایران کے ساتھ ممکنہ طور پر طویل اور شدید فوجی تصادم کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔دوسری جانب ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ تہران طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔ ایرانی عہدیدار کے مطابق ایران خلیج فارس کے ممالک پر حملوں کو جاری رکھنے پر بھی غور کر سکتا ہے تاکہ امریکہ پر دباؤ بڑھایا جا سکے اور واشنگٹن کو جنگ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے۔
اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک دشمن کو مکمل اور فیصلہ کن شکست نہ دے دیں۔ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی موت کے بعد اس بات کا کسی کو اندازہ نہیں کہ ملک کی قیادت کون سنبھالے گا،فلوریڈا میں ریپبلکن ارکانِ کانگریس کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ” رہنما یا تو ختم ہو چکے ہیں یا ان کے ختم ہونے میں چند ہی لمحے باقی ہیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایران کی آئندہ قیادت کے بارے میں شدید غیر یقینی پائی جاتی ہے۔صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے حکومتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور اس وقت واضح نہیں کہ ملک کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ "اب کسی کو اندازہ نہیں کہ وہ لوگ کون ہوں گے جو اس ملک کی قیادت کریں گے۔”ایران کے پاس ایٹم بم آ جاتا تو یہ بہت مشکل صورتحال ہوتی ،ایران کے پاس اب کچھ بھی نہیں ہیں ،ایران ایک ہفتے میں حملہ کرنے والا تھا۔ایران کی فوجی اور میزائل صلاحیت کو بڑا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نہ مانا تو مزید سخت حملے کیے جائیں گے۔ ٹرمپ کے مطابق مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔دُنیا اس وقت ہماری جتنی عزت کر رہی ہے، اتنی عزت پہلے کبھی نہیں تھی،ایران کو ایک بڑا اور طاقتور ملک سمجھا جاتا تھا۔اگر ہم بی ٹو بمبار سے حملہ نہ کرتے تو اسرائیل تباہ ہوچکا ہوتا، ہم نے ایران کو بری طرح کچل دیا اور آپ جانتے ہیں، مجھے نہیں معلوم وہ کب ہار مانیں گے، لیکن انہیں تو دو دن پہلے ہی ہار مان لینی چاہیے تھی، ہے نا؟لیکن اب ان کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہا۔دشمن (ایران) کے بڑے نام مٹ چکے ہیں اور اب کوئی نہیں جانتا کہ ان کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہے۔ ہم اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک دشمن کو مکمل اور فیصلہ کن شکست نہ دے دیں۔قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر کے درمیان پیر کے روز ایک اہم ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں ایران سمیت متعدد بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ روسی صدارتی معاون کے مطابق یہ گفتگو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی اور رواں سال دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی براہِ راست بات چیت تھی۔یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ گفتگو کاروباری انداز، کھلے پن اور تعمیری ماحول میں ہوئی، جیسا کہ روسی اور امریکی قیادت کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں عموماً دیکھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق صدر پیوٹن نے اس موقع پر ایران سے متعلق جاری کشیدگی کے جلد سیاسی اور سفارتی حل کے لیے مختلف تجاویز اور خیالات پیش کیے۔اوشاکوف کے مطابق روسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ایران سے متعلق بحران کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے فوجی اقدامات کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو کا مؤقف ہے کہ خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ جاری تنازع کے بارے میں اپنا تجزیہ اور مؤقف پیش کیا، تاہم روسی حکام نے اس بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ ٹرمپ نے اس بحران کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اس حوالے سے مزید وضاحت کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے، تاہم تاحال امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس گفتگو پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ایران مزید اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کرے،ترک صدر
انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردگان نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ مزید “اشتعال انگیز اقدامات” سے گریز کرے، خصوصاً اس واقعے کے بعد جس میں ایک بیلسٹک میزائل مبینہ طور پر ترک فضائی حدود میں داخل ہوگیا تھا۔
ترک صدر کے مطابق ایران کو ایسے اقدامات سے باز رہنا چاہیے جو دونوں ممالک کے درمیان “ہزار سالہ ہمسائیگی اور برادرانہ تعلقات پر سایہ ڈالیں۔” انہوں نے کہا کہ ترکی کی جانب سے بارہا “مخلصانہ تنبیہات” کے باوجود ایران کی طرف سے ایسے اقدامات جاری ہیں جنہیں انقرہ انتہائی غلط اور اشتعال انگیز سمجھتا ہے۔ترک سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ترک وزارتِ دفاع نے کہا کہ ایران سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل مختصر وقت کے لیے ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہوا۔ وزارتِ دفاع کے مطابق اسے مشرقی بحیرۂ روم میں تعینات نیٹو کے فضائی و میزائل دفاعی نظام نے ناکارہ بنا دیا۔ترک وزارتِ دفاع کے مطابق میزائل کے ٹکڑے جنوبی وسطی ترکی کے شہر Gaziantep کے قریب ایک خالی علاقے میں گرے، تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
دوسری جانب ایران نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ترکی کی جانب کوئی میزائل فائر نہیں کیا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس واقعے کو ممکنہ طور پر “فالس فلیگ آپریشن” قرار دیا، تاہم انہوں نے کسی مخصوص ملک پر الزام عائد نہیں کیا۔
صدر اردوان کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے آغاز کے بعد سے ترک مسلح افواج مکمل الرٹ پر ہیں اور ملک کی فضائی حدود کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نگرانی کے لیے F-16 Fighting Falcon طیارے، فضائی وارننگ طیارے اور ٹینکر طیارے چوبیس گھنٹے فعال ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کو اب نو دن گزر چکے ہیں، جس کے بعد تہران کی جوابی کارروائیوں نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔اسی دوران اسرائیل نے گزشتہ پیر سے لبنان پر بھی شدید بمباری شروع کر رکھی ہے۔ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق ان حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق آج جنوبی لبنان میں اسرائیلی ٹینک فائرنگ سے ایک پادری بھی ہلاک ہوگیا۔
28 فروری سے جاری اس تنازع میں مختلف ممالک میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد درج ذیل بتائی جا رہی ہے
ایران
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران میں کم از کم 1,205 شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 194 بچے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 187 فوجی اہلکار بھی مارے گئے۔لبنان:
اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 486 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران دو اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے۔عراق:
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں 13 ارکان Popular Mobilization Forces کے مارے گئے۔ اس کے علاوہ تین ایرانی کرد جنگجو اور کردستان ریجنل گورنمنٹ کا ایک سیکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوا۔کویت:
کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے جن میں چھ امریکی فوجی اور دو کویتی فوجی شامل ہیں۔اسرائیل:
ایران کے میزائل حملوں میں 11 افراد مارے گئے، جن میں سے 9 افراد شہر بیت شمش میں ایک رہائشی عمارت پر براہِ راست میزائل گرنے سے ہلاک ہوئے۔متحدہ عرب امارات:
ایرانی ڈرون حملوں میں تین افراد ہلاک ہوئے جبکہ دبئی میں میزائل کے ملبے سے ایک پاکستانی شہری بھی جاں بحق ہوا۔سعودی عرب:
فوجی گولہ گرنے سے دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ امریکی فوجی اڈے پر حملے میں زخمی ہونے والا ایک امریکی فوجی بعد میں دم توڑ گیا۔بحرین:
ایک غیر ملکی جہاز پر میزائل کے ملبے سے لگنے والی آگ کے باعث ایک شخص ہلاک ہوا۔عمان:
عمانی ساحل سے دور ایک آئل ٹینکر پر ڈرون بوٹ حملے میں ایک بھارتی شہری جان سے گیا۔
دبئی ،فضائی دفاعی کاروائی کا ملبہ گرنے سے شہید پاکستانی کی شناخت
دبئی میں فضائی دفاعی کارروائی کا ملبہ گرنے سے شہید پاکستانی کی شناخت مظفر علی نام سے ہوگئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ علاقہ البرشا میں 7 مارچ کو فضائی دفاعی کارروائی کے دوران ملبہ گرا تھا، ملبے کی زد میں آکر مظفر علی جان کی بازی ہار گیا تھا،مظفر علی دبئی میں بطور ڈرائیور کام کر رہا تھا تعلق صوبہ سندھ سے ہے۔
خیال رہے کہ دبئی کے علاقے البرشا میں گاڑی پر میزائل کا ملبہ گرنے سے پاکستانی جاں بحق ہوگیا تھا، جس کے بعد اموات کی تعداد 2 پاکستانیوں سمیت 4 ہوگئی،اس سے قبل 2 مارچ کو ابوظبی میں ڈرون حملے میں جاں بحق پاکستانی کی شناخت مرید زمان کے نام سے ہوئی تھی،پاکستانی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ جاں بحق پاکستانی کی میت وطن منتقل کرنے کے اقدامات جاری ہیں، سفارتی حکام نے متاثرہ خاندان کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر قبضے پر غور، ایران کی فوجی طاقت ختم ہونے کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے پیر کے روز ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کی حکومت دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک آبنائے ہرمز پر ممکنہ طور پر کنٹرول حاصل کرنے کے بارے میں غور کر رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ آبنائے ہرمز اس وقت کھلی ہوئی ہے، تاہم وائٹ ہاؤس اس پر قبضہ یا اس کے انتظامی کنٹرول کے امکانات پر “سوچ رہا ہے”۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ یہ گزرگاہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے نہایت حساس سمجھی جاتی ہے کیونکہ دنیا بھر میں منتقل ہونے والے تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس وجہ سے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا فوجی کارروائی عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ایران کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس وقت بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے قریب منڈلا رہی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ خلیج کے اہم راستوں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران کے خلاف جنگ تقریباً مکمل ہونے کا دعویٰ
انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے بارے میں دعویٰ کیا کہ یہ جنگ تقریباً اپنے اختتام کے قریب ہے۔ ان کے مطابق ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا“میرا خیال ہے کہ جنگ تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ ایران کے پاس اب نہ بحریہ رہی ہے، نہ موثر مواصلاتی نظام، اور نہ ہی فضائیہ۔ ان کے میزائل منتشر ہو چکے ہیں اور ان کے ڈرون ہر جگہ تباہ کیے جا رہے ہیں، حتیٰ کہ ان کی ڈرون بنانے والی فیکٹریاں بھی نشانہ بنائی جا رہی ہیں۔ اگر آپ دیکھیں تو فوجی لحاظ سے ان کے پاس اب کچھ بھی باقی نہیں رہا۔”انٹرویو کے دوران صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا وہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ایکے لیے کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں امریکی صدر نے مختصر ردعمل دیتے ہوئے کہا “میرا ان کے لیے کوئی پیغام نہیں ہے، بالکل بھی نہیں۔”









