Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • لندن کا معروف ریسٹورنٹ گروپ ماروش   انتظامی بحران کا شکار

    لندن کا معروف ریسٹورنٹ گروپ ماروش انتظامی بحران کا شکار

    لندن: برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں عرب اور لبنانی ثقافت کی پہچان سمجھے جانے والے معروف لبنانی ریسٹورنٹ گروپ ماروش کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ کمپنی انتظامی نگرانی ے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ تاہم ریسٹورنٹ انتظامیہ نے ان خبروں کے باوجود اپنے صارفین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کاروبار معمول کے مطابق جاری ہے اور مستقبل میں بھی خدمات فراہم کرنے کا عزم برقرار ہے۔

    رپورٹس کے مطابق لبنانی نژاد میاں بیوی معروف اور ہدیٰ ابوزکی نے 1981 میں ماروش کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ جوڑا لبنان کی خانہ جنگی کے دوران لندن منتقل ہوا تھا اور اس نے برطانوی عوام کو مستند لبنانی کھانوں اور ثقافت سے روشناس کرانے کے لیے ایج ویئر روڈ پر پہلا ریسٹورنٹ قائم کیا۔چند ہی برسوں میں ماروش لندن کے عرب کمیونٹی مراکز میں شمار ہونے لگا اور اس نے برطانوی اور عرب صارفین کی بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ ایج ویئر روڈ پر قائم اس کا مرکزی ریسٹورنٹ اپنی پرجوش فضا، رات گئے تک سروس، لبنانی موسیقی اور روایتی تفریحی پروگراموں کی وجہ سے خاص شہرت رکھتا تھا۔

    میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ لندن گزٹ میں شائع ہونے والے ایک نوٹس کے بعد کمپنی انتظامی عمل میں داخل ہو چکی ہے، تاہم ماروش انتظامیہ نے اس حوالے سے براہِ راست کوئی وضاحت نہیں کی۔ ریسٹورنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’’ماروش بدستور کھلا ہے اور معمول کے مطابق اپنے صارفین کی خدمت کر رہا ہے۔ ہم 1981 سے لندن کا حصہ ہیں اور آنے والے کئی برسوں تک اپنے مہمانوں کی میزبانی جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔‘‘

    دوسری جانب مالی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی گزشتہ چند برسوں سے مالی دباؤ کا سامنا کر رہی تھی۔ مارچ 2024 کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران ماروش کو 34 لاکھ پاؤنڈ سے زائد خالص نقصان برداشت کرنا پڑا، جبکہ آڈیٹرز نے بھی کمپنی کے مستقبل میں کاروبار جاری رکھنے کی صلاحیت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

    ماہرین کے مطابق برطانیہ کی مہمان نوازی اور ریسٹورنٹ انڈسٹری اس وقت بڑھتی ہوئی آپریٹنگ لاگت، افرادی قوت کی کمی اور صارفین کے بدلتے ہوئے اخراجاتی رجحانات جیسے چیلنجز سے دوچار ہے، جس کے باعث متعدد کاروبار مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔تاحال منتظمین کی جانب سے کمپنی کی مالی مشکلات کی وجوہات یا ماروش برانڈ کے مستقبل کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ریسٹورنٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے صارفین کو بہترین لبنانی کھانوں اور مہمان نوازی کی روایت فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے

  • بھارت کی عالمی ہزیمت مسلسل جاری ، امریکا نے بھارت کو پس پشت ڈال دیا

    بھارت کی عالمی ہزیمت مسلسل جاری ، امریکا نے بھارت کو پس پشت ڈال دیا

    نام نہاد "وشو گرو” کے دعوے کرنے والے بھارت کو عالمی سطح پر مسلسل سفارتی چیلنجز اور بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں اپنی بالادستی اور "نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر” بننے کا بھارتی خواب شدید دھچکوں سے دوچار ہو چکا ہے۔

    بھارت کی خارجہ اور سیکیورٹی پالیسیوں کو حالیہ برسوں میں متعدد محاذوں پر مشکلات کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث عالمی منظرنامے میں اس کی پوزیشن کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی کے ضامن کے طور پر خود کو پیش کرنے کی بھارتی کوششیں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکیں۔بھارتی ذرائع ابلاغ اور جریدوں میں شائع ہونے والے تجزیوں کے مطابق انڈو پیسفک سے لے کر وسیع بحرالکاہل خطے تک بھارت کو تزویراتی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، جبکہ مختلف علاقائی اور عالمی معاملات میں اس کا کردار پہلے کی نسبت محدود ہوتا جا رہا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی خارجہ ترجیحات میں تبدیلی اور خطے میں نئی حکمت عملیوں کے باعث بھارت اور امریکا کے درمیان نام نہاد اسٹریٹجک شراکت داری کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن اب اپنے مفادات کے تحت مختلف علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو نئے انداز میں ترتیب دے رہا ہے، جس سے بھارت کی توقعات متاثر ہوئی ہیں۔دفاعی و تزویراتی امور کے ماہرین کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی اور پاکستان کے ساتھ تنازعات کے تناظر میں بھارت کے "نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر” ہونے کے دعوؤں کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق نے ثابت کیا ہے کہ بھارت کو نہ صرف سفارتی بلکہ سیکیورٹی محاذ پر بھی سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بھارت نے اپنی خارجہ پالیسی اور علاقائی حکمت عملی پر نظرثانی نہ کی تو اسے مستقبل میں مزید سفارتی دباؤ، تزویراتی مشکلات اور عالمی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • فتنہ الہندوستان سے منسلک دہشت گردوں کے سہولت کار ساجد احمد کو 14 سال قید کی سزا

    فتنہ الہندوستان سے منسلک دہشت گردوں کے سہولت کار ساجد احمد کو 14 سال قید کی سزا

    انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے فتنہ الہندوستان سے منسلک کالعدم تنظیموں کے سہولت کار ساجد احمد کو جرم ثابت ہونے پر 14 سال قید کی سزا سنا دی۔

    سیکیورٹی فورسز نے ساجد احمد کو ضلع پنجگور میں ایک کارروائی کے دوران گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے وقت اس کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا تھا۔ تحقیقات کے دوران ملزم کے کالعدم تنظیموں کے ساتھ روابط اور دہشت گرد سرگرمیوں میں معاونت کے شواہد سامنے آئے۔تحقیقات کے مطابق ساجد احمد طلبہ کو کالعدم تنظیموں میں بھرتی کرنے، انہیں ریاست مخالف سرگرمیوں پر اکسانے اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے افرادی قوت فراہم کرنے میں ملوث رہا۔ سیکیورٹی اداروں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزم فتنہ الہندوستان کی پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی سرگرمیوں میں سرگرم تھا۔حکام کے مطابق تفتیش کے دوران ملزم کے بھارتی اسپانسرڈ نیٹ ورکس سے روابط بھی سامنے آئے۔ مزید برآں اسے ایک خودکش حملے کے لیے گاڑی تیار کرنے کا ٹاسک بھی سونپا گیا تھا، جس کے شواہد تفتیشی ریکارڈ کا حصہ بنے۔

    عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ساجد احمد کو 14 سال قید کی سزا سنائی، سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی تاکہ امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • سودی نظام کے خاتمے کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں،حافظ مسعود اظہر

    سودی نظام کے خاتمے کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں،حافظ مسعود اظہر

    پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ کا تقریباََ آدھا حصہ سود پر لیے گئے قرضوں کی ادائیگی میں چلے جانا ملک کی سالمیت پر سوالیہ نشان ہے ۔ سودی نظام کے خاتمے کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں اور نہ ہی ملک کے معاشی حالات میں بہتری لائی جا سکتی ہے ۔ سود معیشت کے لیے تباہ کن زہر ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کھلی جنگ ہے۔ کلمہ طیبہ کے نام پر قائم ہونے ملک پاکستان میں سودی نظام کا تسلسل ملک کی سالمیت پر سوالیہ نشان ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ آج ملک کو جن سنگین معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری اور مالی بحرانوں کا سامنا ہے، ان کی بنیادی وجوہات میں سود پر مبنی معاشی ڈھانچہ بھی شامل ہے۔ قومی بجٹ کا ایک بڑا حصہ سودی قرضوں اور ان پر واجب الادا سود کی ادائیگی میں صرف ہو رہا ہے، جس کے باعث تعلیم، صحت، بنیادی سہولتوں اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے لیے وسائل محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشی ترقی کی رفتار کو سست کر رہی ہے بلکہ آنے والی نسلوں پر بھی قرضوں کا بوجھ منتقل کر رہی ہے۔ اگر سودی نظام سے نجات حاصل نہ کی گئی تو وہ وقت دور نہیں جب قومی بجٹ کا سارا حصہ صرف سود کی ادائیگی میں خرچ ہو جائے گا اور عوامی خدمت کے شعبوں کے لیے خاطر خواہ وسائل دستیاب نہیں رہیں گے۔ ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے حکومت، معاشی ماہرین اور پالیسی ساز اداروں پر زور دیا کہ وہ سود سے پاک اسلامی معاشی نظام کے نفاذ کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کریں۔ ملکی خودمختاری، معاشی استحکام اور عوامی خوشحالی کا راستہ سودی قرضوں پر انحصار کم کرنے، پیداواری شعبوں کو مضبوط بنانے اور اسلامی مالیاتی اصولوں کو فروغ دینے میں مضمر ہے۔ ا نہوں نے مزید کہا کہ قوم کو قرض اور سود کے اس تباہ کن چکر سے نکالنے کے لیے فوری اور جرات مندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے، کیونکہ یہی راستہ ملک کو پائیدار ترقی، معاشی آزادی اور حقیقی عوامی خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کر سکتا ہے۔

  • اوکاڑہ، ہمت کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب، ثانیہ عاشق کی شرکت

    اوکاڑہ، ہمت کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب، ثانیہ عاشق کی شرکت

    اوکاڑہ(نامہ نگار ملک ظفر)مریم نواز سنٹر آف ایکسیلنس میں ہمت کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب میں معاون خصوصی وزیراعلیٰ ثانیہ عاشق نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی،

    وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر پنجاب میں 29 ہزار 768 خصوصی بچوں میں ہمت کارڈ کی تقسیم کا آغاز کر دیا گیا۔ مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق محکمہ سپیشل ایجوکیشن کاخصوصی بچوں کے لیے شاندار اقدام ہے۔ معاون خصوصی ثانیہ عاشق سیکرٹری اور ڈی جی سپیشل ایجوکیشن نے ایم پی اے میاں محمد منیر، ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید، لیگی رہنما چوہدری فیاض ظفر اور ڈی پی او ڈاکٹر اسد اعجاز ملہی کے ہمراہ ہمت کارڈز تقسیم کا افتتاح کیا۔

    معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب ثانیہ عاشق نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب بھر میں 29ہزار 768 اہل خصوصی بچوں میں ہمت کارڈ تقسیم کیے جائیں گے۔ مریم نواز سنٹر آف ایکسلینسن اوکاڑہ کے 96بچوں میں آج ہمت کارڈ تقسیم کر دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت ہمت کارڈ،ضروری آلات،ہیلدی فوڈ، تھیراپی سمیت مختلف صورتوں میں بچوں کو سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ پنجاب کے ہر ڈویژن میں آٹزم سکول کا سیٹلائٹ کیمپس بنے گا۔ معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ خصوصی بچے کیمپس میں اپنی اسسمنٹ اور تھیراپی کروا سکیں گے۔ 45 ہزار خصوصی بچوں کو روزانہ کی بنیاد پر فوڑٹیفائڈ بسکٹ اور پروٹین سے بھرپور دودھ دے رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ان بچوں کو بہتر سے بہترین سہولیات فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز اور انکی ٹیم ان بچوں کے متعلق والدین والا درد رکھتی ہیں۔ ہمت کارڈ خصوصی بچوں کی خودمختاری اور معاشی بہتری کے لیے وزیر اعلی پنجاب کا اہم فلاحی اقدام ہے۔ سنٹر آف ایکسیلنس میں میسر سہولیات پرائیویٹ سیکٹر میں بھی نہیں ہیں۔ ہمت کارڈ خصوصی بچوں کی خوداعتمادی اور خودمختاری کا استعارہ ہے۔ خصوصی بچوں کو باعزت، خودمختار زندگی کی جانب گامزن کیا جارہا ہے۔ پاکستان آج روشن مستقبل کی طرف بڑھ چکا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی محنت اور قیادت میں پاکستان کا پوری دنیا نام روشن ہوا ہے۔ یہ سب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ذاتی توجہ اور نگرانی کی وجہ سے ہے۔ ہمت کارڈ خصوصی بچوں کے لیے تحفظ، اعتماد اور بہتر مستقبل کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو رہا ہے

  • دریائے ستلج سے نامعلوم شخص کی لاش برآمد

    دریائے ستلج سے نامعلوم شخص کی لاش برآمد

    احمد پور شرقیہ: دریائے ستلج میں بستی کبیر خان، موضع سرور آباد کے قریب ایک نامعلوم شخص کی لاش پانی میں تیرتی ہوئی دیکھی گئی، جس پر مقامی افراد نے فوری طور پر ریسکیو 1122 اور مقامی پولیس کو اطلاع دی۔

    اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے دریا کے دوسرے کنارے سے لاش کو نکال کر اپنی تحویل میں لے لیا۔بعد ازاں لاش کو ضروری قانونی کارروائی اور شناخت کے عمل کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر (ٹی ایچ کیو) ہسپتال احمد پور شرقیہ کے سرد خانے منتقل کر دیا گیا۔
    پولیس کے مطابق متوفی کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ لاش کی شناخت اور موت کی وجوہات کا تعین پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

    رپورٹ،حبیب خان

  • ایران نے پاکستان کو خطے کا اہم اور قریبی دوست ملک قرار دے دیا

    ایران نے پاکستان کو خطے کا اہم اور قریبی دوست ملک قرار دے دیا

    اسلامی جمہوریہ ایران نے پاکستان کو خطے کا ایک اہم اور قابلِ اعتماد دوست ملک قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور ایران کے قائم مقام وزیر دفاع کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی، غزہ کی صورتحال اور اسلامی دنیا میں امن و استحکام کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔گفتگو کے دوران دونوں وزرائے دفاع نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اور تعاون ناگزیر ہے۔ اس موقع پر علاقائی سلامتی کے فروغ اور خطے میں ایک مؤثر مشترکہ سیکیورٹی نظام کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ایرانی قوم کی مزاحمت اور استقامت کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ انہوں نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو برادرانہ اور تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک باہمی احترام، اعتماد اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔ایرانی قائم مقام وزیر دفاع نے مختلف مواقع پر پاکستان کی جانب سے ایران کی حمایت اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان کو خطے میں امن، استحکام اور تعمیری کردار ادا کرنے والا اہم ملک قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ایران خطے میں پائیدار امن، استحکام اور مشترکہ ترقی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے اور اسلامی دنیا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو فروغ دیں گے۔

  • برطانیہ میں سیاسی ہلچل، وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے استعفے کی قیاس آرائیاں

    برطانیہ میں سیاسی ہلچل، وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے استعفے کی قیاس آرائیاں

    لندن: برطانوی سیاست میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے اور وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے ممکنہ استعفے سے متعلق قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔ برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹارمر آج اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلہ کر سکتے ہیں، تاہم ڈاؤننگ اسٹریٹ نے اب تک ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم اپنے عہدے پر برقرار ہیں اور کسی بھی قیادت کے چیلنج کا مقابلہ کریں گے۔

    سیاسی بحران اس وقت مزید گہرا ہوگیا جب اینڈی برنہم پارلیمنٹ میں رکن اسمبلی کے طور پر حلف اٹھانے کے لیے ویسٹ منسٹر واپس پہنچ گئے۔ برنہم نے حال ہی میں میکرفیلڈ کے ضمنی انتخاب میں نو ہزار سے زائد ووٹوں کی واضح برتری سے کامیابی حاصل کی تھی اور وہ پہلے ہی لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے اسٹارمر کو چیلنج کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی برطانوی سیاسی بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسٹارمر جلد مستعفی ہونے والے ہیں۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ برطانوی وزیراعظم امیگریشن اور توانائی جیسے اہم معاملات پر بری طرح ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے برطانیہ کو شمالی سمندر میں تیل کی پیداوار بڑھانے کا مشورہ بھی دیا۔تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے پاس اسٹارمر کے ممکنہ استعفے کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات ہونے کے شواہد موجود نہیں ہیں اور ان کا بیان محض سیاسی قیاس آرائی معلوم ہوتا ہے۔

    برطانوی ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ نے وزیراعظم سے نجی طور پر ملاقات میں کہا ہے کہ انہیں عہدہ چھوڑنے پر غور کرنا چاہیے۔ اطلاعات کے مطابق یہ گفتگو گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہوئی، جب اسٹارمر اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ وزیراعظم کی سرکاری دیہی رہائش گاہ چیکرز میں موجود تھے۔اگرچہ حکومت کی جانب سے اس ملاقات کی تفصیلات کی تصدیق نہیں کی گئی، تاہم اس خبر نے لیبر پارٹی کے اندر جاری اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

    کاروبار اور تجارت کے سیکریٹری نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے جمعہ کے روز وزیراعظم سے کھل کر گفتگو کی تھی، تاہم ان کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں جن سے استعفے کی افواہوں کی تصدیق ہو سکے۔پیٹر کائل نے کہا کہ اسٹارمر اس وقت اپنی تمام تر توجہ حکومتی امور پر مرکوز کیے ہوئے ہیں اور وہ ملک کے مفاد کو اولین ترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے مستقبل میں قیادت کے کسی ممکنہ مقابلے پر تبصرہ کرنے سے بھی گریز کیا۔

    سیاسی بحران کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لیبر پارٹی کے تقریباً ایک چوتھائی اراکین پارلیمنٹ اب کھل کر اسٹارمر کے خلاف سامنے آ چکے ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق 100 لیبر بیک بینچ اراکین نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم اپنی رخصتی کے لیے واضح ٹائم لائن دیں۔اسٹارمر کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے والوں میں متعدد نمایاں لیبر ارکان شامل ہیں، جن کا مؤقف ہے کہ پارٹی کو اگلے عام انتخابات سے قبل نئی قیادت کی ضرورت ہے۔

    دوسری جانب لیبر پارٹی کے کئی ارکان اب بھی اسٹارمر کے ساتھ کھڑے ہیں۔اس تمام صورتحال پر روسی حکام نے بھی طنزیہ ردعمل دیا ہے۔ کریملن کے سرمایہ کاری نمائندے نے سوشل میڈیا پر اسٹارمر کے ممکنہ استعفے سے متعلق تبصرے کرتے ہوئے برطانوی سیاسی بحران کا مذاق اڑایا اور کہا کہ اس معاملے پر مختلف ممالک کے درمیان غیر معمولی اتفاق رائے دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق برطانیہ میں حکمران لیبر پارٹی اس وقت اپنی حکومت کے سب سے بڑے اندرونی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ اگرچہ ڈاؤننگ اسٹریٹ مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ وزیراعظم مستعفی نہیں ہو رہے، تاہم پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی مخالفت اور اینڈی برنہم کی واپسی نے اسٹارمر کی قیادت پر سوالات مزید گہرے کر دیے ہیں۔ اب تمام نظریں وزیراعظم کے آئندہ فیصلے اور لیبر پارٹی کے اندر ممکنہ قیادت کی تبدیلی پر مرکوز ہیں

  • گھر میں اکیلی تایا زاد خاتون سے مبینہ زیادتی، نازیبا ویڈیو بنا کر بلیک میلنگ

    گھر میں اکیلی تایا زاد خاتون سے مبینہ زیادتی، نازیبا ویڈیو بنا کر بلیک میلنگ

    ملزم دیوار پھلانگ کر گھر داخل ہوا، چاقو کے زور پر کپڑے اتارے زبردستی زیادتی کی اور ویڈیو وائرل کر دی متاثرہ کا پولیس کو بیان
    معاملے کی احساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس نے متاثرہ کی مدعیت میں سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے تمام زاویوں سے تفتیش کا آغاز
    گوجرخان (قمر شہزاد) تھانہ گوجرخان کی حدود میں خاتون کو مبینہ طور پر برہنہ ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے اور زیادتی کا نشانہ بنانے کا تشویش ناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے متاثرہ خاتون کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے مختلف زاویوں سے تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

    پولیس کو دی جانے والی درخواست میں (الف) نامی متاثرہ خاتون نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنے والدین کے ہمراہ گھر پر مقیم ہوتی ہے۔ مورخہ 30/04/2026 کو وہ گھر پر اکیلی موجود تھی، جبکہ اس کے والد کام پر گئے ہوئے تھے اور والدہ گاؤں میں فوتگی پر تعزیت کے لیے گئی ہوئی تھیں۔ اور گھر کے مرکزی گیٹ کو باہر سے تالا لگا ہوا تھا۔خاتون کے مطابق، اس دوران ان کے تایا کا بیٹا، جس کا گھر متاثرہ کے گھر کے بالکل ساتھ جڑا ہوا ہے، دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہو گیا۔ ملزم نے برآمدے میں بیٹھی خاتون کو دبوچ لیا اور چاقو دکھا کر جان سے مارنے کی دھمکی دی، جس کے باعث وہ خوف زدہ ہو کر خاموش ہو گئی۔ ملزم اسے زبردستی کمرے میں لے گیا، جہاں اس نے مبینہ طور پر خاتون کے زبردستی کپڑے اتارے، اپنے موبائل فون سے نازیبا ویڈیو بنائی اور اسے زبردستی اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔متاثرہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ واقعے کے بعد ملزم نے دھمکی دی کہ اگر گھر والوں کو کچھ بتایا تو وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دے گا، جس کے خوف سے میں اپنی عزت بچانے کی خاطر خاموش رہی۔ تاہم، کچھ دنوں بعد ایک نامعلوم نمبر سے میرے نمبر پر ویڈیو ٹائم لگا کر بھیجی گئی۔ شک ہونے پر میں نے اپنے بھائی کے موبائل کے ذریعے اس ویڈیو کو محفوظ کر لیا۔ اب مذکورہ نازیبا ویڈیو وائرل ہو چکی ہے، جس کے بعد میں نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے والد کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔

    متاثرہ خاتون نے پولیس سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ تایا زاد کے خلاف نازیبا ویڈیو بنانے، بلیک میل کرنے، زیادتی اور ویڈیو وائرل کرنے کے جرم میں سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ پولیس نے متاثرہ خاتون کی مدعیت میں سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق، واقعے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام پہلوؤں اور تکنیکی شواہد بشمول سائبر کرائمز کے زاویوں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، اور اصل حقائق تفتیش کے مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے لائے جائیں گے تاکہ قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

  • قومی پیغام امن کمیٹی کا محرم  میں بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کا عزم

    قومی پیغام امن کمیٹی کا محرم میں بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کا عزم

    اسلام آباد: قومی پیغام امن کمیٹی حکومتِ پاکستان نے محرم الحرام کے دوران ملک بھر میں امن و امان کے قیام، بین المسالک ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے فروغ کے لیے اپنی کاوشوں کو مزید مؤثر بنانے کا اعلان کیا ہے۔

    قومی پیغام امن کمیٹی کے مطابق حکومتِ پاکستان کی اپیل پر "قافلہ امن، محبت اور رواداری” ملک بھر میں سرگرم عمل ہے، جس کا مقصد محرم الحرام کے دوران بھائی چارے، یکجہتی اور قومی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔کمیٹی کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں علماء کرام، مشائخ عظام، ذاکرین، واعظین اور خطباء کے ساتھ مضبوط روابط قائم ہیں، جبکہ "پیغام پاکستان” کے ضابطۂ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ مذہبی ہم آہنگی اور امن کی فضا برقرار رہے۔بیان میں واضح کیا گیا کہ ضابطۂ اخلاق کی کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کمیٹی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ محرم الحرام کے مقدس ایام میں بالخصوص اور سال بھر بالعموم امن، محبت، برداشت اور رواداری کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

    قومی پیغام امن کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وطنِ عزیز پاکستان کو امن، محبت اور رواداری کا گہوارہ بنانے کے لیے تمام مکاتبِ فکر کے درمیان اتحاد، بھائی چارے اور باہمی احترام کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ انتہاپسندانہ اور متشددانہ رویوں کے مقابلے میں برداشت، مکالمے اور قومی یکجہتی کو ترجیح دی جائے گی۔