Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مؤثر رابطوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، شازیہ مری

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مؤثر رابطوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، شازیہ مری

    اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کو خطے میں امن، استحکام اور سفارتی پیش رفت کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے مذاکرات، سفارتکاری اور پرامن بقائے باہمی کا حامی رہا ہے۔

    اپنے بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت نے قومی سلامتی اور سفارتی محاذ پر پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مؤثر رابطوں اور سفارتی کاوشوں کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔شازیہ مری کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے قومی قیادت کے ساتھ مل کر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ جنگ کے بجائے امن، استحکام اور باہمی احترام کی پالیسی اپنائی ہے اور عالمی برادری کو بھی تنازعات کے حل کے لیے سفارتکاری اور مذاکرات کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی متوازن اور ذمہ دار خارجہ پالیسی کو دنیا بھر میں پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، جبکہ بھارتی عصبیت، جنگی جنون اور ہٹ دھرمی جنوبی ایشیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے امن اور مذاکرات کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔

    شازیہ مری نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہر مشکل وقت میں ایک ذمہ دار ریاست ہونے کا عملی ثبوت دیا ہے اور امن ہی ترقی، خوشحالی اور علاقائی تعاون کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سیاسی قیادت قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر یکجہت ہیں جبکہ قومی مفادات پر پوری قوم ایک صفحے پر کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی امن، اقتصادی تعاون اور مشترکہ ترقی کے وژن پر یقین رکھتا ہے اور سفارتکاری ہی پائیدار امن کا واحد راستہ ہے، جبکہ طاقت کا استعمال مسائل کا مستقل حل نہیں۔ شازیہ مری نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی ہے۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھارتی جارحیت کے خلاف عالمی سطح پر متحرک سفارتکاری کے ذریعے پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔ شازیہ مری کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی خطے میں امن، جمہوریت اور عوامی خوشحالی کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور دنیا کو نفرت، انتہا پسندی اور جنگی بیانیے کے بجائے مفاہمت، تعاون اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہوگا۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جنوبی ایشیا کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی کے مستحق ہیں اور تمام تنازعات کا حل مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

  • محدود دفاعی بجٹ،پاکستان نے معرکہ حق میں پیشہ ورانہ مہارت کا لوہا منوایا

    محدود دفاعی بجٹ،پاکستان نے معرکہ حق میں پیشہ ورانہ مہارت کا لوہا منوایا

    محدود دفاعی بجٹ کے باوجود پاکستان نے معرکۂ حق میں عسکری برتری اور پیشہ ورانہ مہارت کا لوہا منوایا

    بڑے دفاعی بجٹ اور اخراجات کے باوجود آپریشن سندور میں پاکستان کے ہاتھوں بدترین شکست نے بھارت کو عالمی سطح پر رسوائی کا شکار کر دیا ،عالمی تحقیقاتی ادارہ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (SIPRI) کے مطابق؛سال 2025 میں بھارت دنیا کا پانچواں بڑا دفاعی اخراجات کرنے والا ملک رہا،2025 میں بھارت کے فوجی اخراجات 8.9 فیصد اضافے کے بعد 92.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے،بھارت سے جنگ کے باوجود 2025 میں پاکستان کے فوجی اخراجات 11 فیصد اضافے کے بعد صرف 11.9 ارب ڈالر رہے،بھارتی حکام کے مطابق؛ بھارت نے 27-2026 میں دفاعی بجٹ کو تقریباً 15 فیصد اضافہ کیساتھ 80 ارب ڈالر(7.85 لاکھ کروڑ روپے) تک مختص کر دیا

    بھارت جیسے دشمن کے باوجود بھی حکومت پاکستان نے 27-2026 میں دفاعی بجٹ 10.8 ارب ڈالر (3 ہزار ارب روپے) تک محدود رکھا .ماہرین کے مطابق 2025 میں کئی گنا زیادہ دفاعی بجٹ اور فوجی اخراجات بھی بھارت کو میدان جنگ میں جیت نہ دلا سکے.جدید جنگی تقاضوں اور انسدادِ دہشتگردی کی ضروریات کے باعث پاکستان کےدفاعی بجٹ میں اضافہ ناگزیر ہے

  • کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ دھرنا بری طرح فلاپ

    کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ دھرنا بری طرح فلاپ

    آزاد کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام راولاکوٹ میں دیے گئے دھرنے کو عوامی سطح پر خاطر خواہ پذیرائی نہ مل سکی۔ دریک عیدگاہ میں منعقدہ احتجاجی اجتماع میں شرکاء کی کم تعداد اور خالی کرسیاں نمایاں رہیں، جسے مبصرین نے عوامی عدم دلچسپی اور لاتعلقی کی علامت قرار دیا۔

    موصولہ تصاویر کے مطابق دھرنے کے لیے لگایا گیا پنڈال بڑی حد تک خالی دکھائی دیا، جبکہ اجتماع میں صرف محدود تعداد میں افراد شریک ہوئے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ عوام کی اکثریت نے اس احتجاجی سرگرمی میں شرکت نہیں کی۔ تصاویر میں پنڈال کا بیشتر حصہ خالی نظر آ رہا ہے، جسے ناقدین تنظیم کے عوامی اثر و رسوخ میں کمی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔راولاکوٹ دریک عیدگاہ میں کالعدم کمیٹی کے دھرنے میں خالی پنڈال نے شرپسند ٹولے سے عوامی لاتعلقی کوواضح کردیا،شرپسند ایکشن کمیٹی کے نام نہاد دھرنے میں صرف چند کرائے کے شرپسند ہی موجود ہیں اورتقریباً سارا میدان خالی پڑا ہے،دھرنے کا ویران میدان اورخالی کرسیاں واضح ثبوت ہیں کہ عوام کی بھاری اکثریت نے اس انتشاری گروہ کو مسترد کردیا ہے،تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ منظرنامہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام انتشار اور اشتعال انگیز بیانیوں سے دور رہتے ہوئے امن، استحکام اور تعمیری سیاسی عمل کو ترجیح دے رہے ہیں۔

  • عمرکوٹ: پولیس موبائل میں چرس کی سگریٹ بنانے کی ویڈیو وائرل

    عمرکوٹ: پولیس موبائل میں چرس کی سگریٹ بنانے کی ویڈیو وائرل

    عمرکوٹ میں پولیس موبائل کے اندر چرس کی سگریٹ تیار کرنے کی مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اعلیٰ پولیس حکام نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق اعلیٰ حکام نے ڈی ایس پی پیتھورو سے واقعے کی تین روز کے اندر تفصیلی انکوائری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وائرل ویڈیو میں دو افراد جو سفید رنگ کا لباس پہنے ہوئے ہیں کو پولیس موبائل کے اندر چرس کی سگریٹ بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس پر عوامی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں موجود نوجوانوں کی شناخت کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ساتھ ہی متعلقہ پولیس افسران اور اہلکاروں کی ممکنہ غفلت یا لاپرواہی کا بھی تعین کیا جائے گا۔

    حکام نے ہدایت کی ہے کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔

  • وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کے اخراجات کی تفصیلات طلب

    وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کے اخراجات کی تفصیلات طلب

    پاکستان انفارمیشن کمیشن نے وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کے استعمال اور اس پر آنے والے اخراجات کی تفصیلات جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ اداروں سے 2017 سے اب تک کا مکمل ریکارڈ 10 روز کے اندر طلب کر لیا ہے۔

    کمیشن کی جانب سے جاری فیصلے کے مطابق وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کی پروازوں، ایندھن کے اخراجات، مرمت و دیکھ بھال اور عملے سے متعلق تمام معلومات فراہم کی جائیں گی۔ یہ فیصلہ معلومات تک رسائی سے متعلق درخواست پر کیا گیا۔فیصلے میں وفاقی حکومت کے اس مؤقف کو بھی مسترد کر دیا گیا جس میں قومی سلامتی اور قانونی استثنیٰ کی بنیاد پر معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔ کمیشن نے قرار دیا کہ طلب کی گئی معلومات نہ تو دفاعی نوعیت کی ہیں اور نہ ہی ان کا تعلق کسی حساس قومی سلامتی کے معاملے سے ہے۔پاکستان انفارمیشن کمیشن کا کہنا ہے کہ عوامی وسائل کے استعمال سے متعلق معلومات عوام کا حق ہیں، اس لیے متعلقہ ریکارڈ مقررہ مدت کے اندر فراہم کیا جانا چاہیے۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں وزیراعظم نے وفاقی حکومت کے اخراجات میں کمی کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی، جبکہ سربراہانِ مملکت کے اخراجات کے تعین کے لیے قانون سازی کی ہدایت بھی جاری کی گئی تھی۔ ایسے میں وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کے استعمال اور اس پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات منظرِ عام پر آنے سے حکومتی اخراجات کے حوالے سے مزید شفافیت متوقع ہے۔

  • پی آئی اے میں فضائی میزبانوں پر دوران ڈیوٹی سگریٹ نوشی پر پابندی

    پی آئی اے میں فضائی میزبانوں پر دوران ڈیوٹی سگریٹ نوشی پر پابندی

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نئی انتظامیہ نے فضائی میزبانوں کے لیے دورانِ ڈیوٹی سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس حوالے سے باقاعدہ حکم نامہ بھی جاری کر دیا گیا ہے جس میں عملے کو نئی ہدایات سے آگاہ کیا گیا ہے۔

    جاری کردہ حکم نامے کے مطابق فضائی میزبان اب اپنے ہینڈ کیری یا دیگر سامان میں سگار، سگریٹ اور تمباکو کی مصنوعات ساتھ نہیں لے جا سکیں گے۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی فضائی ضوابط کے مطابق نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ فضائی میزبان دورانِ ڈیوٹی ہوٹلوں، عوامی مقامات یا کسی بھی ایسی جگہ پر سگریٹ نوشی نہیں کر سکیں گے جہاں وہ سرکاری فرائض انجام دے رہے ہوں۔ انتظامیہ نے ہدایت کی ہے کہ تمام عملہ نئی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

    یاد رہے کہ حالیہ عرصے میں پی آئی اے کے بعض فضائی میزبان مختلف تنازعات کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں، جن میں دبئی سے ملتان آنے والی پرواز کے عملے سے قیمتی موبائل فونز کی برآمدگی اور ٹورنٹو پرواز پر تعینات ایک فضائی میزبان کے کینیڈا میں لاپتا ہونے کے واقعات بھی شامل ہیں۔ نئی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ یہ اقدام ادارے میں نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ معیار کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

  • بی ایل اے کی دہشتگردی ،پاکستان سمیت خطے بھر کے لئے سنگین خطرہ

    بی ایل اے کی دہشتگردی ،پاکستان سمیت خطے بھر کے لئے سنگین خطرہ

    کوئٹہ: بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیم بی ایل اے بلوچ عوام کے حقوق کے نام پر ایسی کارروائیوں میں ملوث ہے جن کے باعث مقامی آبادی کی معاشی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

    مبصرین کے مطابق سپلائی گاڑیوں، ریلوے نظام اور مواصلاتی ڈھانچے پر حملوں سے نہ صرف تجارتی راہداریوں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے بلکہ روزگار کے مواقع بھی محدود ہوتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر عام شہریوں پر پڑتا ہے۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق مختلف ممالک نے بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکا نے اگست 2025 میں جبکہ آسٹریلیا اور برطانیہ نے 2026 میں بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا۔

    عالمی نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ سمیت متعدد بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بھی بلوچستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے پس منظر پر رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔ ان تجزیوں میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خطے میں سرگرم بعض شدت پسند گروہوں کے بیرونی روابط اور معاونت کے پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔سکیورٹی اور علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے سے سب سے زیادہ نقصان مقامی آبادی اور کاروباری طبقے کو پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کی پائیدار ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ کے لیے امن و استحکام ناگزیر ہے۔

    دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں، مواصلاتی رابطوں اور اقتصادی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری ہیں تاکہ صوبے کے عوام کو معاشی ثمرات پہنچ سکیں اور خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست ،بھارت کی عالمی سطح پر ہزیمت کا سفر تاحال جاری

    معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست ،بھارت کی عالمی سطح پر ہزیمت کا سفر تاحال جاری

    اسلام آباد: معرکۂ حق میں بھارت کو درپیش ناکامی کے اثرات عالمی سطح پر نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ دفاعی اور سفارتی حلقوں میں جاری بحث کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے انڈو پیسیفک کمانڈ کے نام میں تبدیلی کرتے ہوئے دوبارہ "یو ایس پیسیفک کمانڈ” کی اصطلاح کو اہمیت دینا شروع کر دی ہے، جسے خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی اور تزویراتی ترجیحات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں چین اور پاکستان کا بڑھتا ہوا جغرافیائی، معاشی اور عسکری کردار عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کے باعث پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ چین کے ساتھ اس کی شراکت داری بھی مزید مضبوط ہو رہی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت اور امریکا کے تعلقات میں بھی بعض معاملات پر سرد مہری کے آثار دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کیے جانے کے فیصلے کو بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں پیدا ہونے والی نئی پیچیدگیوں سے جوڑا جا رہا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ علاقائی صورتحال نے عالمی برادری کو یہ پیغام دیا ہے کہ بھارت اب خطے میں اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کرنے یا پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ ان کے مطابق پاکستان نے دفاعی، سفارتی اور معاشی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا مؤثر اظہار کیا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر اس کے مؤقف کو زیادہ توجہ مل رہی ہے۔دفاعی مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں جنوبی ایشیا میں نئی صف بندیاں اور تزویراتی شراکت داریاں جنم لے سکتی ہیں، جن میں پاکستان اور چین کا کردار مزید اہم ہونے کا امکان ہے۔

  • مبشر لقمان کا ہسپتال سے اہم پیغام

    مبشر لقمان کا ہسپتال سے اہم پیغام

    لندن: سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے لندن کے اسپتال سے ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ گزشتہ کئی روز سے علیل ہیں اور لندن آمد کے روز ہی ان کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی، جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں‌مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کافی دن سے میں کام نہیں کر سکا کیونکہ میں بیمار تھا،10 جون کو لندن پہنچا اور اسی شام طبیعت بگڑنے پر ایمرجنسی میں داخل ہونا پڑا،تب سے ابھی تک یہیں ہوں، بے انتہا میسج کالز آ رہی ہیں،دوستوں کی،کولیگز کی،فین کی،سب کا بہت بہت شکریہ،دوسرا ان لوگوں کے میسج بھی آ رہے ہیں جو یقین کرنے کے لئے میسج کر رہے کہ واقعی بیمار ہے یا نہیں، چلیں انکا بھی شکریہ، میرے لئے ممکن نہیں تھا کہ ہر ایک کا فون سنوں، ہر ایک کا جواب دوں،جب میں وارڈ ہوتا ہوں تو کچھ نہیں کر سکتا،ہسپتال میں ویسے بھی فون سے دور ہی ہونا چاہئے، اللہ کرم کرے گا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بیمار میں ہوا ہوں دکان پتہ نہیں کس کس کی کھل گئی ہے،مختلف چیزیں لوگ پھیلا رہے ہیں، کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں آؤٹ آف بارڈر ہوں اور دھڑا دھڑ انٹرویو کا سلسلہ شروع کر دیا، فکر نہ کریں میں بہتر ہو رہا ہوں،جو پروگرامز کر رہے ہیں انکا بھی مجھے پتہ ہے، جن لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور غلط خبریں ان میں سے چند ایک ہیں جن کو جواب دینا بنتا ہے،الحمدللہ میں‌ٹھیک ہو گیا ہوں، فکر کی کوئی بات نہیں، میں اب بھی زیر علاج ہوں،صحت میں بہتری آ رہی ہے، دوست یاد کرتے ہیں، فکر کرتے ہیں، اچھی بات ہے،دعاؤں پر مداحوں، دوستوں اور ساتھیوں کا شکریہ ادا ہوں،سوشل میڈیا پر بیماری سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، لیکن جلد صحت یاب ہو کر معمول کی سرگرمیوں میں واپس آؤں گا کوشش کروں گا کہ کل سے اگلا پروگرام ریکارڈ کروا دوں،

  • قومی اسمبلی اجلاس،حکومتی و اپوزیشن اراکین میں تلخ کلامی،گالم گلوچ

    قومی اسمبلی اجلاس،حکومتی و اپوزیشن اراکین میں تلخ کلامی،گالم گلوچ

    قومی اسمبلی اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی، جہاں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین اور تحریک انصاف کے ارکان کے درمیان جملوں کا تبادلہ گالم گلوچ تک جا پہنچا۔ اس دوران اسپیکر قومی اسمبلی مسلسل مداخلت کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کرتے رہے۔

    اجلاس کے دوران اپوزیشن کی تنقید کے جواب میں رانا تنویر حسین نے تحریک انصاف کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کے مقابلے میں الیکشن لڑوایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ "مکافاتِ عمل” ہے، جبکہ حکومتی ارکان بھی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر ایوان میں آئے ہیں۔ رانا تنویر کے ریمارکس پر اپوزیشن ارکان نے سخت ردعمل دیا جس سے ایوان کا ماحول مزید کشیدہ ہوگیا۔بعد ازاں رانا تنویر حسین نے اپنے الفاظ پر تحریک انصاف کے ارکان سے معذرت کرلی، جسے چیئرمین پی ٹی آئی نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ معذرت کو تسلیم کرتے ہیں۔

    دوسری جانب اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور اپوزیشن ارکان کے درمیان بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر ایوان میں بحث جاری ہے تو شور شرابے کا آغاز اپوزیشن نے کیا، اور اگر حکومتی رکن کی تقریر کے دوران ہنگامہ آرائی کی جائے گی تو حکومت بھی جواب دے گی۔وزیر مملکت کے ریمارکس کے بعد ایوان میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ اس موقع پر رکن اسمبلی عامر مگسی نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ حد سے بڑھ رہا ہے اور اسے فوری طور پر روکا جائے۔ایوان میں ہنگامہ آرائی اور شور شرابے کے باعث اپوزیشن رکن زین قریشی اپنا خطاب مکمل نہ کر سکے، جبکہ اسپیکر نے بارہا ارکان کو تحمل اور پارلیمانی آداب کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی۔