Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ٹرمپ کا ایران معاہدہ اوباما کے جوہری معاہدے سے کس طرح مختلف ہے؟

    ٹرمپ کا ایران معاہدہ اوباما کے جوہری معاہدے سے کس طرح مختلف ہے؟

    امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے سے بہتر قرار دیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر یہ فیصلہ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا نیا معاہدہ واقعی 2015 کے جوہری معاہدے سے زیادہ مؤثر ثابت ہوگا یا نہیں۔

    فرانس میں الیکٹرانک طور پر دستخط کیے گئے 14 نکاتی فریم ورک کے مطابق ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے اور حاصل نہ کرنے کا عہد کیا ہے، جبکہ امریکا نے پابندیوں کے خاتمے، 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی پر اتفاق کیا ہے۔نئے معاہدے اور اوباما دور کے جوہری معاہدے میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ 2015 کے JCPOA میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی اور واضح شرائط شامل تھیں۔ اس معاہدے کے تحت ایران کو 15 سال تک صرف 3.67 فیصد تک یورینیئم افزودہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی، جو توانائی کے مقاصد کے لیے کافی سمجھی جاتی تھی، جبکہ ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فیصد افزودگی سے بہت کم تھی۔

    اس کے برعکس موجودہ مفاہمتی یادداشت میں جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی شرائط شامل نہیں کی گئیں اور اس معاملے کو آئندہ 60 روزہ مذاکراتی مرحلے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران کو یورینیئم افزودہ کرنے کی کتنی اجازت ہوگی یا سرے سے اجازت دی بھی جائے گی یا نہیں۔

    معاہدے کے تحت امریکا نے ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور علاقائی شراکت داروں کے تعاون سے 300 ارب ڈالر کے اقتصادی و تعمیر نو پروگرام پر کام کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اوباما دور کے معاہدے میں پابندیوں میں نرمی ایران کی جانب سے جوہری شرائط پر عمل درآمد سے مشروط تھی، جبکہ نئے معاہدے میں پابندیوں کے خاتمے کا حتمی شیڈول آئندہ مذاکرات کے بعد طے کیا جائے گا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 300 ارب ڈالر کا مجوزہ فنڈ ایران کی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے اور اسے بین الاقوامی اقتصادی تنہائی سے نکالنے میں مدد دے سکتا ہے۔ معاہدے میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ان اثاثوں کا بڑا حصہ امریکا کے بجائے چین اور عراق جیسے ممالک میں موجود ہے، جس کے باعث ان کی واپسی مکمل طور پر واشنگٹن کے اختیار میں نہیں۔

    نئے معاہدے کا ایک اہم پہلو آبنائے ہرمز سے متعلق ہے، جو عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کا اہم ترین راستہ سمجھا جاتا ہے۔ جنگ کے دوران اس راستے کی بندش سے عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہوا تھا۔ معاہدے کے تحت امریکا بحری ناکہ بندی ختم کرے گا جبکہ ایران اور عمان مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظامی امور پر مذاکرات کریں گے۔

    علاقائی سلامتی کے حوالے سے بھی معاہدے میں کئی سوالات بدستور موجود ہیں۔ جس طرح اوباما دور کے معاہدے میں حماس،حزب اللہ اور حوثی گروہوں کا براہ راست ذکر نہیں تھا، اسی طرح نئے معاہدے میں بھی ان گروہوں سے متعلق کوئی واضح شرط شامل نہیں کی گئی۔ البتہ لبنان سمیت مختلف محاذوں پر فوجی کارروائیاں ختم کرنے کا ذکر ضرور موجود ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ مفاہمتی یادداشت فی الحال ایک ابتدائی فریم ورک کی حیثیت رکھتی ہے اور اس میں کئی اہم نکات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ ان کے نزدیک موجودہ مرحلے پر یہ معاہدہ اوباما دور کے JCPOA سے زیادہ جامع یا مؤثر دکھائی نہیں دیتا، تاہم آئندہ 60 روز کے مذاکرات میں اگر تفصیلی شرائط طے پا جاتی ہیں تو اس کی نوعیت اور اثرات میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔

  • وزیرداخلہ کی زیر صدارت اجلاس،پاسپورٹ نظام میں جدید سہولیات کی فراہمی بارے فیصلے

    وزیرداخلہ کی زیر صدارت اجلاس،پاسپورٹ نظام میں جدید سہولیات کی فراہمی بارے فیصلے

    اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ہیڈکوارٹرز میں ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاسپورٹ نظام میں اصلاحات اور جدید سہولیات کی فراہمی سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

    اجلاس کے دوران ڈی جی پاسپورٹس اینڈ امیگریشن محمد علی رندھاوا نے وفاقی وزیر داخلہ کو مختلف امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں پاسپورٹ کے اجراء کے نظام کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ای پاسپورٹ پر منتقلی سے فراڈ اور جعلسازی کا مؤثر خاتمہ ممکن ہو سکے گا اور پاسپورٹ نظام مزید محفوظ اور جدید بنایا جا سکے گا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پریمیم سروسز حاصل کرنے والے شہریوں کو پاسپورٹ کے اجراء پر آنے والے اخراجات کے مطابق فیس ادا کرنا ہوگی۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ بیرون ملک اور ملک کے اندر پاسپورٹ کی ہوم ڈلیوری کے لیے ابتدائی کام مکمل کر لیا گیا ہے اور شہریوں کو پاسپورٹ ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔

    اجلاس میں یکم جولائی سے تمام پاسپورٹ دفاتر میں کیش لیس نظام نافذ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، جبکہ آن لائن پاسپورٹ درخواستوں کو پاک آئی ڈی کے پلیٹ فارم پر منتقل کرنے کی منظوری دی گئی۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہدایت کی کہ بزنس پاسپورٹ سے متعلق پالیسی کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی مشاورت سے جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ کاروباری برادری کو بہتر اور سہل سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب کی  نواز شریف میڈیکل سٹی میں سات جدید ہسپتالوں کے قیام کی منظوری

    وزیراعلیٰ پنجاب کی نواز شریف میڈیکل سٹی میں سات جدید ہسپتالوں کے قیام کی منظوری

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت صوبے میں بڑے ترقیاتی اور صحت کے منصوبوں کی منظوری دیتے ہوئے نواز شریف میڈیکل سٹی میں سات جدید ہسپتالوں کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔

    مریم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں انسٹیٹیوٹ آف سرجیکل آرتھوپیڈک اینڈ میڈیکل ری ہیب اور چلڈرن ہسپتال فور کے قیام کی منظوری دی گئی۔ یہ منصوبے نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ کا حصہ ہوں گے۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ میڈیکل سٹی میں پلاسٹک ری کنسٹرکٹو سرجری اینڈ برن سینٹر، انسٹیٹیوٹ آف جینیٹک اینڈ بلڈ ڈیزیز، سنٹر آف ایکسی لینس نرسنگ اینڈ مڈوائفری، انسٹیٹیوٹ آف آپتھلمالوجی اور انفیکشن ڈیزیز ہسپتال بھی قائم کیے جائیں گے۔حکام کے مطابق نواز شریف میڈیکل سٹی میں مجموعی طور پر 1519 بستروں پر مشتمل سات بڑے ہسپتال مرحلہ وار تعمیر کیے جائیں گے، جس سے صوبے میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

    اجلاس میں پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے 19 سال بعد مکمل طور پر فعال ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر پنجاب بھر میں 110 مجوزہ ترقیاتی منصوبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے امکانات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پہلی مرتبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت طلبہ کے لیے ہاسٹل قائم کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا، جبکہ سڑکوں، ٹرکنگ ٹرمینلز، بس اسٹینڈز، ماڈل بازاروں اور فوڈ اسٹریٹس کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں ترقی کا سفر ہر صورت جاری رکھا جائے گا اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا مقصد ترقیاتی عمل میں نجی شعبے کی مؤثر شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے وژن کے تحت ترقیاتی منصوبوں کو بروقت اور مؤثر انداز میں پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔

  • ایران امریکہ امن معاہدہ ناکام بنانے کیلئے یہود وہنود کا گٹھ جوڑپھرسامنے آگیا

    ایران امریکہ امن معاہدہ ناکام بنانے کیلئے یہود وہنود کا گٹھ جوڑپھرسامنے آگیا

    ایران امریکہ امن معاہدہ ناکام بنانے کیلئے یہود وہنود کا گٹھ جوڑپھرسامنے آگیا

    بھارت اور اسرائیل پاکستان کی دنیا کو جنگ کے شعلوں سے بچانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے سرگرم ہیں،بھارت میں تعینات اسرائیلی سفیر کی حالیہ گفتگو نے بھارت اوراسرائیل کے مذموم عزائم کو بے نقاب کردیا،اسرائیلی سفیر کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمارا دوست نہیں ہے،ہم اسے کسی مثبت مذاکراتی فریق کے طور پرنہیں دیکھتے، ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ دوسرے ممالک آگے بڑھیں، نہ کہ پاکستان جیسا کوئی ملک، ہم پاکستان کوان ممالک میں شمار نہیں کرتے جنہیں ہم اس عمل کا حصہ بنانا چاہتے ہیں،

    ماہرین کا کہناہے کہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان پیغام رسانی میں مرکزی کردارادا کیا اورانہیں مذاکرات کی میزپرلے کرآیا،پاکستان کی سول وعسکری قیادت نے شاندارسفارت کاری سے دنیا کو تباہ کن جنگ سے بچایا جوبھارت اوراسرائیل کو ہضم نہیں ہورہا،

  • آزادکشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کیخلاف سخت ترین کریک ڈاون کا مطالبہ

    آزادکشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کیخلاف سخت ترین کریک ڈاون کا مطالبہ

    آزادکشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کیخلاف سخت ترین کریک ڈاون کا مطالبہ زورپکڑگیا

    آزاد کشمیرکا غریب اورمتوسط طبقہ کالعدم کمیٹی کے بیرونی ایجنڈے کی قیمت ادا کرنے پرمجبورہے،شہریوں کاکہنا ہے کہ شرپسند عناصراپنے ذاتی مفاد کیلئے ریاست کا ماحول خراب کررہے ہیں، ریاست اپنی رٹ قائم کرے ،قانون سازاسمبلی میں مہاجرین کی نشستوں کے مسئلے کا واحد حل آئینی ترمیم ہے،ریاست کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے شرپسندوں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے ،آزادکشمیرکے عوام کا پاکستان اورپاکستانیوں سے لازوال وابستگی پرمبنی رشتہ قائم ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی ایماء پرسرگرم کالعدم ایکشن کمیٹی پرحکومتی پابندی کے فیصلے کو تمام طبقات کی طرف سے تائید حاصل ہے،

  • ایران امریکا معاہدہ،چار روز میں 2 کھرب ایرانی ریال کی خریداری

    ایران امریکا معاہدہ،چار روز میں 2 کھرب ایرانی ریال کی خریداری

    ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے بعد پاکستان میں ایرانی ریال کی خرید و فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں صرف چار روز کے دوران ملک بھر میں 2 کھرب ایرانی ریال خرید لیے گئے ہیں۔

    ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے پہلے روز 40 ارب ایرانی ریال کی خریداری ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم بعد ازاں اس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔انہوں نے کہا کہ تازہ اطلاعات کے مطابق امن معاہدے کے بعد کے چار دنوں میں مجموعی طور پر 2 کھرب ایرانی ریال خریدے جا چکے ہیں، جو سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔

    دوسری جانب مارکیٹ میں ایرانی ریال کی طلب میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث اس کی قدر میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور اقتصادی سرگرمیوں کی بحالی کی توقعات کے باعث ایرانی کرنسی میں سرمایہ کاری کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

  • مودی کو امریکی صدر نے قاتل کا لقب دے دیا

    مودی کو امریکی صدر نے قاتل کا لقب دے دیا

    جی سیون سمٹ میں مودی کی شرکت بھارت کیلئے بدنامی کا سبب بن گئی

    خود کو عالمی رہنما کے طور پر پیش کرنے والے مودی کو امریکی صدر سے ملاقات مہنگی پڑ گئی ،بھارت میں طویل ترین مدت تک اقتدار میں رہنے والا مودی امریکی صدر سے گفتگو کے دوران بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا،ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے ایک لفظ نہ بول پانے والے مودی کو امریکی صدر نے قاتل کا لقب دے دیا،ٹیلی پرامپٹر کے سہارے تقریریں کرنے والا مودی ہاتھ میں پرچی لیکر بھی ٹرمپ کے سامنے اعتماد سے دو لفظ نہ بول سکا،سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کاکروچ جنتا پارٹی نے طنزیہ ٹوئٹ میں کہا کہ؛کیا ملاقات میں مودی بغیر ٹیلی پرومپٹر کے ایک لفظ بھی نہیں بول سکتا؟

  • نیویارک،ٹائمز اسکوائر میں فائرنگ سے خوف و ہراس، بھگدڑ میں ایک شخص زخمی

    نیویارک،ٹائمز اسکوائر میں فائرنگ سے خوف و ہراس، بھگدڑ میں ایک شخص زخمی

    نیویارک کے مصروف ترین علاقے ٹائمز اسکوائر میں فائرنگ کے واقعے کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ بھگدڑ مچنے کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔

    پولیس کے مطابق واقعہ دوپہر 3 بج کر 40 منٹ پر پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں موجود سیاحوں اور شہریوں میں شدید خوف پھیل گیا اور لوگ جان بچانے کے لیے اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث 17 سالہ مشتبہ نوجوان کو پولیس نے فوری تعاقب کے بعد حراست میں لے لیا، جبکہ زخمی شخص کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    فائرنگ کا یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب باسکٹ بال ٹیم نیویارک نِکس کی کامیابی کے حوالے سے شہر بھر میں تقریبات جاری تھیں۔ سیکیورٹی کے پیش نظر تقریباً 10 ہزار پولیس اہلکار مختلف مقامات پر تعینات تھے۔واضح رہے کہ 16 جون کو بھی نیویارک نِکس کی تاریخی کامیابی کے بعد ٹائمز اسکوائر میں فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 17 سالہ لڑکا زخمی ہو گیا تھا۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

  • یقین دہانیوں کے بعد  مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی اجازت دی،ایرانی سپریم لیڈر

    یقین دہانیوں کے بعد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی اجازت دی،ایرانی سپریم لیڈر

    ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے اہم پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کے بارے میں ان کا ذاتی نقطۂ نظر مختلف تھا، تاہم صدر مسعود پزشکیان اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے اتفاقِ رائے کے بعد انہوں نے اس کی منظوری دی۔

    اپنے بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ مستقبل میں امریکا کے ساتھ انفرادی سطح پر مذاکرات کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایران نے دشمن کے مؤقف یا مطالبات کو قبول کر لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکی فریق غیر معمولی یا حد سے زیادہ مطالبات پیش کرے گا تو ایران انہیں تسلیم نہیں کرے گا۔ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ صدر پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ایرانی قوم کے حقوق، قومی مفادات اور مزاحمتی محاذ کے تحفظ کی ذمہ داری پوری طرح نبھائی جائے گی۔ ان یقین دہانیوں کے بعد ہی انہوں نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی اجازت دی۔

    دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیراعظم پاکستان کے درمیان بھی رابطہ ہوا، جس میں وزیراعظم نے ایرانی صدر کو تاریخی امن دستاویز پر دستخط کرنے پر مبارک باد دی اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا۔

  • الیکشن کا اصلی نتیجہ دیا جائے ورنہ اسمبلی میں آرام سے نہیں بیٹھنے دوں گا،مولانا فضل الرحمان

    الیکشن کا اصلی نتیجہ دیا جائے ورنہ اسمبلی میں آرام سے نہیں بیٹھنے دوں گا،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ الیکشن کا اصلی نتیجہ دیا جائے ورنہ اسمبلی میں آرام سے نہیں بیٹھنے دوں گا۔

    چارسدہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جب تک برصغیر میں علماء کی حکومت تھی تو امن تھا۔ جب سے علماء سے قیادت چھینی گئی بے امنی بڑھ گئی۔ فرقہ واریت کو ہوا دی گئی تو ہم نے اس کا راستہ روکا، امریکی صدر کی نظر دنیا کی دولت پر ہے، خطے کے وسائل پر قبضے کیلئے بے امنی پھیلائی گئی ہے، الیکشن میں ہمارے ساتھ دھاندلی ہوئی، جس کا اعتراف بھی کیا گیا۔ اس الیکشن پر شہباز شریف حکومت کرے گا اور میں اسے جائز مانوں گا، الیکشن کا اصلی نتیجہ دیا جائے ورنہ اسمبلی میں آرام سے نہیں بیٹھنے دوں گا، انڈیا کے ساتھ جنگ اور امریکا ایران ثالثی میں ہم نے آپ کو سپورٹ کیا۔ملک میں کوئی نمائندہ حکومت نہیں، ہارے ہوئے کو جتوانا اور جیتے ہوئے کو ہروانا مقتدرہ کے بائیں ہاتھ کا کھیل بن چکا ہے اور پھر جب ٹرمپ بھی اسکی پیٹھ تھپتھپائے

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت نے عمر بھر کے لیے خود کو استثنیٰ دے دیا۔ غریب کو روٹی نہیں ملتی اور حکمران عیاشی کرتے ہیں،ہمارے صدر صاحب کہتے ہیں کہ معاہدہ کرنا کیا قرآن و سنت کی بات ہے؟ آپ نے اپنے لیے تاحیات استثنیٰ لے لی۔ زرداری صاحب ہم کب آپ پر مقدمہ کرنا چاہتے ہیں لیکن کل کو صدارت کے بعد تم نے کسی کوقتل کر دیا تو تمہیں کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہو گا، اگر ملک چلانا ہے تو جے یو آئی (ف) کا راستہ کھولنا ہوگا۔ پاکستان کی سیاست آئین و دلیل کی نہیں قوت کی سیاست ہے، افغانستا ن کے ساتھ مسائل بھی مذاکرات سے حل کیے جائیں،افغانستان کے ساتھ کیوں لڑائی چھیڑ رہے ہیں؟ آپ افغانستان کو کمزور کررہے ہیں لیکن اگر امریکا اور مغرب افغانستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں تو پراکسی کا کردار پاکستان ادا کررہا ہے،