Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سندھ نے نواز شریف کو کالاباغ ڈیم بنانے نہیں دیا تو مریم نواز کی کیا حیثیت،نثار کھوڑو

    سندھ نے نواز شریف کو کالاباغ ڈیم بنانے نہیں دیا تو مریم نواز کی کیا حیثیت،نثار کھوڑو

    پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نےوزیر اعلی پنجاب مریم نواز کے ریمارکس پر سخت رد عمل دیا ہے.

    پیپلز پارٹی نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے متنازعہ کینال منصوبے کے متعلق ریمارکس کو سی سی آئی کے فیصلے کی خلاف ورزی اور آئینی فورم کی توہین قرار دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے مریم نواز کے ریمارکس کا نوٹس لینے اور پارٹی پالیسی واضح کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ سی سی آئی کا آئینی فورم متنازعہ کینال منصوبے کو مسترد اور دفن کرچکا ہے۔سی سی آئی کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کے جب تک تمام صوبے اتفاق نہیں کرینگے تب تک کوئی کینال منصوبہ نہیں بنے گا اور سندھ کو کسی صورت متنازعہ کینال منصوبے قبول نہیں ہیں۔مریم نواز کو اپنے صوبے کے اندر اپنے دریاؤں پر اپنے پانی سے ڈیم بنانے سے کسی نے نہیں روکا مگر سندھو دریاء پر لنک کینالز اور ڈیم بنانے کی بات کرینگے تو سندھ نے نواز شریف کو کالاباغ ڈیم بنانے نہیں دیا تو مریم نواز کی کیا حیثیت ہے؟

  • اہل غزہ کی جبری بے دخلی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی، صدر مرکزی مسلم لیگ

    اہل غزہ کی جبری بے دخلی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی، صدر مرکزی مسلم لیگ

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ امریکی صدر کے پیش کردہ امن منصوبے پر حماس کی آمادگی خوش آئند ہے،تاہم ضروری ہے کہ القدس الشریف کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنایا جائے، اہل غزہ کیخلاف اسرائیلی جارحیت کو فوری روکا جائے، اسلامی ممالک اہل غزہ کیلئے کردار ادا کریں

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھاکہ امریکی صدر کی جانب سے امن منصوبہ پر حماس نے جو ردعمل دیا مرکزی مسلم لیگ اس کی تائید کرتی ہے،تا ہم کوئی بھی سیاسی حل اس وقت تک قابلِ قبول نہیں ہو سکتا جب تک فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قبضے کا خاتمہ نہ ہو اور فلسطینیوں کو ان کا حق خودارادیت اور مکمل آزادی نہ ملے،اسرائیلی جارحیت فوری رکنی چاہئے اور امن منصوبے پر عملدرآمد کے لئے مسلم ممالک کو آگے بڑھنا چاہئے،اسرائیل و امریکہ کا ہمیشہ دوہرا رویہ رہا ہے اسلئے مسلم ممالک کو اہل غزہ کے حقوق کی پاسداری کے لئے ذمہ داری لینی چاہئے، حماس نے جو مؤقف اختیار کیا تمام مسلم ممالک امریکہ سے اس معاہدے کی پاسداری یقینی بنوائیں،فلسطین کے مستقبل کے فیصلے کا اختیار صرف فلسطینی عوام کو ہے،اہل غزہ کی جبری بے دخلی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی، مرکزی مسلم لیگ اہل غزہ کے ساتھ کھڑی ہے.

  • فلک جاوید کے جسمانی ریمانڈ میں 4 دن کی توسیع

    فلک جاوید کے جسمانی ریمانڈ میں 4 دن کی توسیع

    لاہور کی مقامی عدالت نے 2 مقدمات میں پاکستان تحریک انصاف کی کارکن فلک جاوید کے جسمانی ریمانڈ میں 4 دن کی توسیع کر دی۔

    نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے فلک جاوید کو 4دن کا جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر ضلع کچہری لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو کی عدالت میں پیش کیا اور ان کا مزید جسمانی ریمانڈ مانگا،فلک جاوید کے وکیل نے مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی مخالفت کی اور اسے غیر ضروری قرار دیا،عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا اور بعد میں فیصلہ سناتے ہوئے فلک جاوید کے جسمانی ریمانڈ میں 4 روز کی توسیع کر دی۔

    صنم جاوید کی بہن فلک جاوید کے خلاف ریاست مخالف ٹوئٹ کرنے اور ایک صوبائی وزیر کی نامناسب تصویر اَپ لوڈ کرنے کےالزامات کے تحت 2 مقدمات درج ہیں۔

  • بھارت کی کشمیر میں خونریزی کی خواہش کبھی  پوری نہیں ہوگی، امیر مقام

    بھارت کی کشمیر میں خونریزی کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی، امیر مقام

    آزادکشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کے رکن اور وفاقی وزیر برائے امور کشمیر امیر مقام نےکہا ہےکہ آزاد کشمیر میں مذاکرات کی کامیابی سے بھارت کے مذموم عزائم خاک میں مل گئے۔

    آزادکشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے کامیاب مذاکرات کے بعد اسلام آباد پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر امیر مقام کا کہنا تھا کہ بھارت کی کشمیر میں خونریزی کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی، آزادکشمیر میں معاملات خوش اسلوبی سے طے پاگئے ہیں، آزادکشمیر میں مذاکرات کی کامیابی پر وزیراعظم شہباز شریف کے مشکور ہیں، مقبوضہ کشمیر کے عوام سے بہن بھائی کا رشتہ ہمیشہ قائم رہےگا، پاکستان مقبوضہ کشمیر کے حق خودارادیت کے لیے حمایت جاری رکھےگا، آزادکشمیر میں مذاکرات کی کامیابی سے بھارت کے مذموم عزائم خاک میں مل گئے ، آزاد کشمیر میں پیش آنے والے واقعات پر افسوس ہے۔

    وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں معمولات زندگی بحال ہوچکے ہیں، مذاکرات میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے مفادکو مدنظر رکھا گیا، محدود وسائل میں مشکلات کو حل کرنے کی پوزیشن میں ہیں، مذاکرات میں کامیابی آزاد کشمیر کے عوام اور جمہوریت کی جیت ہے،انتظامی ڈھانچے میں کمی اورکوتاہی کو دور کیا جانا چاہیے، وفاقی حکومت نے جو وعدے کیے ہیں انہیں پورا کریں گے، معاہدے کی کامیابی پر آزاد کشمیر کے عوام مبارک باد کے مستحق ہیں،راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام میں کوئی دراڑ نہیں ڈال سکتا، آزاد کشمیر جوائنٹ کمیٹی سے کامیاب مذاکرات سے امن بحال ہوا، آزادکشمیر جوائنٹ کمیٹی کے مطالبات حل کیے جائیں گے۔

  • غیر ملکی زبان کی خاتون ٹیچر کے ساتھ اجتماعی زیادتی، چار ملزمان گرفتار

    غیر ملکی زبان کی خاتون ٹیچر کے ساتھ اجتماعی زیادتی، چار ملزمان گرفتار

    بھارت میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں،گروگرام سے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک معروف نجی اسکول میں غیر ملکی زبان پڑھانے والی خاتون ٹیچر کے ساتھ مبینہ طور پر چار افراد نے اجتماعی زیادتی کی۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ یکم اکتوبر کی رات پیش آیا، جب ملزمان نے خاتون کو ایک فلیٹ میں بلا کر سنگین جرم کا ارتکاب کیا۔

    متاثرہ خاتون نے جمعرات کے روز وومن پولیس اسٹیشن ایسٹ میں شکایت درج کرائی، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جمعہ کو چاروں ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت گورو، نیرج، ابھیشیک، اور یوگیش کے نام سے ہوئی ہے۔پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون نے بتایا کہ اس کی ملزم گورو سے گزشتہ سال ستمبر میں ایک پارٹی کے دوران ملاقات ہوئی تھی، جس کے بعد دونوں کے درمیان جان پہچان بڑھ گئی۔ یکم اکتوبر کی رات گورو نے خاتون کو فون کرکے اپنے دوست کے کمرے میں آنے کا کہا۔ ابتدائی طور پر وہ اکیلا تھا، مگر کچھ دیر بعد اس نے اپنے دیگر تین دوستوں کو بھی وہاں بلالیا۔تحقیقات کے مطابق، گورو نے پہلے خود متاثرہ خاتون کی عصمت دری کی، پھر اپنے دوست نیرج کو بلایا، جس نے بھی خاتون کے ساتھ زیادتی کی۔ اس کے بعد دونوں نے اپنے دیگر دوستوں ابھیشیک اور یوگیش کو بھی موقع پر بلایا، جنہوں نے مل کر اجتماعی زیادتی کی۔ جرم کے بعد چاروں ملزمان متاثرہ خاتون کو وہیں چھوڑ کر موقع سے فرار ہوگئے۔اگلے روز، یعنی 2 اکتوبر کو متاثرہ خاتون نے اپنے اہلِ خانہ کو سارا واقعہ بتایا اور پولیس سے رجوع کیا۔ پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کرتے ہوئے چاروں ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان پیشے کے اعتبار سے جم ٹرینر اور زومبا انسٹرکٹر ہیں، اور معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ متاثرہ خاتون کا میڈیکل ٹیسٹ کرایا جاچکا ہے، جس کی رپورٹ پولیس تفتیش کا حصہ بنائی گئی ہے۔پولیس نے کہا کہ ملزمان کے موبائل فون اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں، جبکہ متاثرہ کو مکمل تحفظ اور قانونی معاونت فراہم کی جارہی ہے۔ذرائع کے مطابق، واقعے کے انکشاف کے بعد اسکول انتظامیہ نے پولیس سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

  • اسحاق ڈار کا سعودی ہم منصب سے رابطہ،غزہ صورتحال پر تبادلہ خیال

    اسحاق ڈار کا سعودی ہم منصب سے رابطہ،غزہ صورتحال پر تبادلہ خیال

    وزیرِخارجہ اسحاق ڈار اور سعودی وزیرِخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، دونوں وزرائے خارجہ نے غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال بالخصوص غزہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا،دونوں رہنماؤں نے نیویارک میں اسلامی ممالک کی امریکا سے مشاورت اور سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا،ان کوششوں کا مقصد فوری اور پائیدار جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد اور غزہ میں دیرپا امن کا قیام ہے،اسحاق ڈار نے سعودی وزیرِخارجہ کے مثبت کردار اور سفارتی کوششوں کو سراہا،دونوں رہنماؤں نے امریکی صدر کی پیشکش اور حماس کے جواب پر بھی تبادلہ خیال کیا،دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان فلسطینی کاز کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا گیا اور عالمی برادری کے ساتھ قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق ہوا۔

  • خیبر پختونخوا کابینہ،9مئی کیس واپس لینے کی منظوری

    خیبر پختونخوا کابینہ،9مئی کیس واپس لینے کی منظوری

    خیبرپختونخوا کابینہ نے 9 مئی کو مردان میں توڑ پھوڑ اور فائرنگ کا کیس واپس لینے کی منظوری دے دی

    خیبرپختونخوا حکومت نے پبلک پراسیکیوٹر کا تبادلہ کردیا اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل انعام اللہ کو 9 مئی کیس کےلیےاسپیشل پراسیکیوٹرمقرر کیا گیا ہے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کیس واپس لینےکا ایڈیشنل ہوم سیکرٹری کا خط عدالت میں جمع کرادیا جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت کے لیے 15 اکتوبر کی تاریخ مقررکی ہے۔

    واضح رہے کہ مردان میں 9 مئی کو پتھراؤ اور فائرنگ کے واقعات میں کارکن، راہگیراورپولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے جب کہ اس کیس کے ملزمان میں ظاہر شاہ طورو، ایم این اے مجاہد خان اور دیگرشامل ہیں۔

  • سنگاپور،جسم فروش خواتین بھی بھارتیوں سے محفوظ نہ رہیں،لوٹ مار پر دو کوسزا

    سنگاپور،جسم فروش خواتین بھی بھارتیوں سے محفوظ نہ رہیں،لوٹ مار پر دو کوسزا

    سنگاپور کی ایک عدالت نے دو بھارتی شہریوں کو جسم فروش خواتین کو لوٹنے اور ان پر تشدد کرنے کے الزام میں پانچ سال اور ایک ماہ قید کی سزا سنادی۔

    عدالتی دستاویزات کے مطابق 23 سالہ اَروکیاسامی ڈیسن اور 27 سالہ راجندرن مئیلاراسن نے جرم کا اعتراف کرلیا۔ دونوں پر لوٹ مار کے دوران دانستہ طور پر جسمانی نقصان پہنچانے کے الزامات ثابت ہوئے۔مقامی اخبار اسٹریٹس ٹائمز کے مطابق دونوں ملزمان 24 اپریل کو بھارت سے سنگاپور سیاحت کی غرض سے پہنچے تھے۔ دو روز بعد جب وہ لِٹل انڈیا کے علاقے میں گھوم رہے تھے تو ایک نامعلوم شخص نے ان سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کیا وہ جسمانی خدمات حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس شخص نے انہیں دو خواتین کے رابطہ نمبرز دیے اور خود وہاں سے چلا گیا۔

    اَروکیاسامی نے راجندرن کو بتایا کہ ان کے پاس پیسے نہیں ہیں اور تجویز دی کہ وہ ان خواتین کو ہوٹل کے کمرے میں بلا کر انہیں لوٹ لیں۔ راجندرن نے اس منصوبے سے اتفاق کیا۔اسی روز شام چھ بجے کے قریب انہوں نے ایک خاتون کو ہوٹل کے کمرے میں بلایا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی دونوں نے خاتون کے ہاتھ اور پاؤں کپڑوں سے باندھ دیے اور اسے تھپڑ مارے۔انہوں نے خاتون سے زیورات، 2000 سنگاپور ڈالر نقدی، پاسپورٹ، اور بینک کارڈز چھین لیے۔اسی رات تقریباً 11 بجے، دونوں نے دوسری خاتون کو ایک اور ہوٹل میں ملنے کے لیے بلایا۔ جب وہ آئی تو ملزمان نے اسے بازوؤں سے پکڑ کر گھسیٹا اور راجندرن نے اس کا منہ بند کردیا تاکہ وہ شور نہ مچا سکے۔انہوں نے خاتون سے 800 سنگاپور ڈالر، دو موبائل فونز اور پاسپورٹ چھین لیا اور دھمکی دی کہ وہ کمرہ نہ چھوڑے ورنہ انجام برا ہوگا۔

    دوسری متاثرہ خاتون نے اگلے روز ایک شخص کو واقعے کی اطلاع دی جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔
    تحقیقات کے دوران دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ عدالت میں پیشی کے دوران دونوں نے جرم تسلیم کیا اور نرمی کی اپیل کی۔

    اَروکیاسامی نے مترجم کے ذریعے عدالت کو بتایا "میرے والد گزشتہ سال وفات پا گئے، میری تین بہنیں ہیں جن میں سے ایک کی شادی ہوچکی ہے، ہمارے پاس کوئی مالی وسائل نہیں، اسی لیے یہ کام کیا۔”راجندرن نے کہا "میری بیوی اور بچہ بھارت میں اکیلے ہیں، وہ شدید مالی مشکلات میں ہیں۔”

    سنگاپور کے قانون کے مطابق اگر کوئی شخص ڈکیتی کے دوران کسی کو نقصان پہنچائے تو اسے پانچ سے بیس سال قید اور کم از کم ۱۲ کوڑوں کی سزا دی جاسکتی ہے۔عدالت نے سماعت مکمل کرنے کے بعد دونوں ملزمان کو پانچ سال ایک ماہ قید اور ۱۲ کوڑوں کی سزا سنائی۔

  • نیشنل پریس کلب پر حملے کے خلاف تمام صحافتی گروپ متحد، جوائنٹ ایکشن کمیٹی قائم

    نیشنل پریس کلب پر حملے کے خلاف تمام صحافتی گروپ متحد، جوائنٹ ایکشن کمیٹی قائم

    نیشنل پریس کلب پر حملے کے خلاف تمام صحافتی گروپ متحد، جوائنٹ ایکشن کمیٹی قائم کر دی گئی۔

    نیشنل پریس کلب میں قائم مقام صدر احتشام الحق کی سربراہی میں کمیٹی کے پہلے اجلاس میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو چارٹر آف ڈیمانڈ کی تیاری کا مینڈیٹ دیا گیا۔اجلاس میں متفقہ طور پر کمیٹی کی صدارت صدر نیشنل پریس کلب اظہر جتوئی کو سونپی گئی جبکہ سیکرٹری نیشنل پریس کلب نیر علی کو سیکریٹری کمیٹی کی زمہ داری دی گئی یے۔ کمیٹی ممبران میں صدر پی ایف یو جے افضل بٹ، صدر آر آئی یو جے طارق ورک، صدر پی ایف یو جے دستور حاجی نواز رضا، صدر آر آئی یو جے دستور رانا کوثر علی، صدر پی ایف یو جے ورکرز سعدیہ کمال اور جاوید ملک، سیکریٹری جنرل پی ایف یو جے (رانا عظیم گروپ) شکیل احمد، صدر آر آئی یو جے (رانا عظیم گروپ) طارق عثمانی، صدر آزاد گروپ شکیل قرار اور محبوب الرحمن تنولی، صدر پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن ایم بی سومرو، جنرل سیکرٹری پی آر اے نوید اکبر پر مشتمل ہو گی۔

    جوائنٹ ایکشن کمیٹی ارکان نے نیشنل پریس کلب پر حملے کے خلاف چارٹر اف ڈیمانڈ کی تیاری کے لیے اپنی تجاویز سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ ان تجاویز کی روشنی میں چارٹر آف ڈیمانڈ کو جلد حتمی شکل دی جائیگی۔

    قبل ازیں نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر پولیس گردی کے خلاف لاہور پریس کلب کے باہر صحافیوں کا بھرپور احتجاجی مظاہرہ سیاہ پرچم لہرائے گئے۔دور آمریت میں بھر پولیس نے پریس کلب پر حملہ نہیں کیا ۔ واقعہ کے ذمہ داران اعلیٰ پولیس حکام کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے و صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری، صدر سی پی این ای کاظم خان، سینئر نائب صدر ایمنڈ ایاز خان، سابق صدر سی پی این ای سید ارشاد عارف، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی شریک چیئرپرسن منیرے جہانگیر، صدر پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی خواجہ نصیر، سینئر نائب صدر پی یو جے یوسف رضا عباسی، جنرل سیکرٹری پی یو جے قمر الزمان بھٹی ، جنرل سیکرٹری پی یو جے (دستور) رحمان بھٹہ کا خطاب

    نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر پولیس گردی کے خلاف پی ایف یوجے کی کال پر ملک بھر کی طرح لاہور پریس کلب میں بھی بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ سیاہ پرچم لہرائے گئے۔ پی ایف یوجے کے سیکرٹری جنرل ارشد انصاری ،سی پی این ای کے صدر کاظم خان ، ایمنڈ کے سینئر نائب صدر ایاز خان ،سابق صدر سی پی این ای سید ارشاد عارف ، ایچ آر سی پی کی کو چیئرپرسن منیزے جہانگیر سمیت صحافی قائدین نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طورپر نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر پولیس گردی کے ذمہ دار اعلی پولیس حکام کے خلاف کارروائی کرے۔ سیکرٹری جنرل پی ایف یوجے و صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے اس واقعہ کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر مقدمہ درج نہ کیا گیا تو ہم اس مقدمہ کے اندارج کے لئے ہائیکورٹ میں رٹ دائر کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف اسلام آباد پولیس نیشل پریس کلب کے اندر گھس کر صحافیوں کو مارتی اور تشدد کا نشانہ بناتی ہے اور پھر وزیر مملکت طلال چودھری معافی مانگنے نیشل پریس کلب پہنچ جاتے ہیں اور غیر مشروط معافی مانگتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اس سے زیادہ منافقت ہو نہیں سکتی،انہوں نے کہا کہ حکومت پیکا جیسے کالے قوانین کا نفاذ کر کے آزادی صحافت اور آزادی اظہار پر حملہ آوور ہے جس کے خاتمے کے لئے صحافی کھڑے ہیں،ہم لاٹھیوں اور گرفتاریوں سے گھبرانے والے نہیں، ہمارے بڑوں نے کوڑے اور قید و بند کی سزائیں برداشت کی ہیں اور ہم بھی جیل جانے اور جیل بھرو تحریک چلانے کےلئے تیار ہیں، ہم اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دیں گے یہ بھلے ہمیں گرفتار کریں، ہتھکڑی ہمارا زیور ہے، انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے اس معاملہ کا مستقل حل نکالنے اور پیکا کے قانون کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔سی پی این ای کے صدر کاظم خان نے کہا کہ پی ایف یوجے ، سی پی این ای اور ایمنڈ سمیت تمام صحافی تنظیمیں پیکا کے کالے قانون کے خاتمہ کےلئے متحد ہیں۔ سابق صدر سی پی این ای سید ارشد عارف نے کہا کہ پریس کلب آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کے ادارے ہیں،ماضی کے دور آمریت اور مارشل لاءمیں بھی پولیس کو پریس کلب پر حملہ اور گھسنے کی جرات نہیں ہوئی،انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں اسلام آباد پولیس کے اعلی ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ایمنڈ کے سینئر نائب صدر ایاز خان نے کہا کہ آزادی صحافت پر کوئی حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا،اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ پیکا جیسے قوانین یوٹیوبرز کے خلاف نہیں بلکہ صحافیوں کے خلاف ہیں جو کسی بھی صحافتی تنظیم کے لئے قابل قبول نہیں ۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی کو چیئرپرسن اور معروف صحافی منیزے جہانگیر نے کہا کہ نیشنل پریس کلب پر پولیس کا دھاوا ایک سنگین حملہ ہے، میڈیا کے ادارے آزادی صحافت اور آزادی اظہار کے ادارے ہیں۔مسائل کے شکار دور آمریت میں بھی عوام اپنے مسئلے پریس کلبوں میں صحافیوں کے سامنے رکھتے تھے مگر اب پولیس پریس کلب آنے والے لوگوں کو گرفتار کرنے کی آڑ میں پریس کلب پر حملہ آوور ہو جاتی ہے جو قابل برداشت نہیں ہے۔انہوں نے کہا اس افسوناک واقعہ کے خلاف پارلیمنٹ میں ایک قرار داد پاس کی جائے جس میں اس بات کی گارنٹی رکھی جائے کہ عوام کے حق اظہار اور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنے کا پورا اختیار ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ پریس کلب ملک میں آزادی اظہار کی علامت ہیں ان پر پولیس کے حملے شہری اور انسانی حقوق پر حملے ہیں۔انہوں نے کہا ماضی میں کوئی پریس کلب پر حملہ کیا اور اسے سیل کیا گیا اور اب معاملہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر حملہ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ جس کے خلاف انسانی حقوق کمیشن پاکستان صحافی قیادت اور پی ایف یوجے کے ساتھ ہے۔ پنجاب اسمبلی پریس گیلری کے صدر خواجہ نصیر نے کہا کہ آزادی صحافت پر کسی بھی حملے کو روکنے کے لئے پنجاب اسمبلی کے تمام پارلیمانی رپورٹر اپنے قائد اور سیکرٹری جنرل پی ایف یوجے ارشد انصاری کے ساتھ کھڑے ہیں،ہم اس معاملہ میں اسمبلی کی کارروائی کے بائیکاٹ سے لے کر اسلام آباد پارلیمنٹ کے باہر دھرنے میں شرکت کے لئے تیار ہیں۔ پی یوجے کے سینئر نائب صدر یوسف رضا عباسی نے کہا کہ ہم اپنے صدر نعیم حنیف کی قیادت میں پی ایف یوجے کی اس تحریک کا ہراول دستہ ہیں، کاظم خان ، ایاز خان اور ارشد انصاری ہمیں اس جدوجہد کے حوالے سے جو ذمہ داری دیں گے ہم اس پر عمل کریں گے۔ پی یوجے ( دستور ) کے جنرل سیکرٹری رحمان بھٹہ نے کہا کہ کسی ایک صحافی اور صحافتی ادارے پر حملہ پوری صحافی کمیونٹی پر حملہ ہے اور اس معاملہ میں پی یوجے ( دستور ) اپنی صحافی برداری کے ساتھ کھڑی ہے۔ پی یوجے کے جنرل سکریٹری قمرالزمان بھٹی نے کہا کہ دنیا بھر میں عدالتیں اور پریس کلب ہی دو ایسے ادارے ہیں جہاں لوگ اپنے مسائل کے حل کے لئے جاتے ہیں اگر کوئی شہری یا شہری تنظیمیں یا مظاہرین کسی مسئلہ پر پریس کلب جاتے ہیں تو پولیس کا یہ کام نہیں کہ انہیں گرفتار کرنے کے نام پر پریس کلب پر حملہ کیا جائے اور انہیں کوریج دینے والے صحافیوں کو مار جائے، انہوں نے اس افسوناک واقعہ کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ احتجاجی مظاہرے کے موقع پر جماعت اسلامی لاہور کے جنرل سیکرٹری قیصر شریف ، مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات تابش قیوم ،،پاکستان کسان اتحاد ( خالد کھوکھر ) کے ترجمان سعید جعفر ڈوگر ، سینئر صحافی رئیس انصاری ، پی ایف یوجے کے ممبر ایف ای سی شفیق اعوان ، اعجاز مقبول ، پی یوجے کے نائب صدر ندیم زعیم ، لاہور پریس کلب کے سینئر نائب صدر افضال طالب ، جوائنٹ سیکرٹری عمران شیخ، خزانچی سالک نواز ،، ممبران گورننگ باڈی سید بدر سعید، سرمد فرخ خواجہ، رانا شہزاد احمد، شاہدہ بٹ،سول سوسائٹی کے رہنما شیخ سلطان ، سینئر صحافی رفیق خان ، امجد عثمانی ، انیس گل ، ، شعیب سلیم ، منصور بخاری ، صلاح الدین بٹ ، عامر سلامت ، سید شاکر علی ، جاوید ہاشمی، سعید لودھی ، حارث مرغوب ، عامر نوید چودھری ، خالد قیوم ، ظہیر شہزاد ،ذالفقار علی مہتو، عطیہ زیدی ، فراز فاروقی ، عمر شریف ، عمر حفیظ ، محمد علی ،محسن بلال ، جمال احمد، عدنان شیخ ، ظہیر شیخ ، جمیل شیخ ،محسن اکرم ،غضنفر اعوان ، مجتبیٰ باجوہ ، ڈاکٹر شجاعت حامد، عندلیب اسد سمیت صحافیوں کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔ اس موقع پر صحافیوں نے آزادی صحافت کے حق اور پولیس گردی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

  • روہت شرما سے ون ڈے ٹیم کی کپتانی واپس ،شبمن گل نئے کپتان مقرر

    روہت شرما سے ون ڈے ٹیم کی کپتانی واپس ،شبمن گل نئے کپتان مقرر

    نئی دہلی: بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے قومی ون ڈے ٹیم کی قیادت میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے تجربہ کار بلے باز روہت شرما کو کپتانی سے ہٹا دیا ہے۔ ان کی جگہ نوجوان اوپنر شبمن گل کو بھارت کی ون ڈے ٹیم کا نیا کپتان مقرر کردیا گیا ہے۔

    بورڈ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق شبمن گل اب ون ڈے ٹیم کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت بھی سنبھالیں گے۔ شبمن گل کی بطور کپتان تقرری کو بھارتی کرکٹ میں نسلِ نو کی قیادت کی شروعات قرار دیا جارہا ہے۔

    واضح رہے کہ روہت شرما بھارتی ٹیم کے مختلف فارمیٹس میں قیادت کرتے آرہے تھے اور ان کی کپتانی میں بھارت نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کیں، تاہم حالیہ عرصے میں کارکردگی میں تسلسل نہ رہنے اور نئے ٹیلنٹ کو قیادت کے مواقع فراہم کرنے کے فیصلے کے تحت بی سی سی آئی نے یہ تبدیلی کی ہے۔بی سی سی آئی نے اس موقع پر آسٹریلیا کے خلاف آنے والی ون ڈے سیریز کے لیے 15 رکنی اسکواڈ کا بھی اعلان کیا ہے۔ اسکواڈ میں اگرچہ روہت شرما اور ویرات کوہلی کو شامل رکھا گیا ہے، مگر دونوں سینئر کھلاڑیوں کو بطور کھلاڑی میدان میں اتارا جائے گا، نہ کہ قیادت کے کردار میں۔