Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • 27 ویں ترمیم،اپوزیشن اتحاد کا پارلیمنٹ نہ چلنے دینے کا اعلان

    27 ویں ترمیم،اپوزیشن اتحاد کا پارلیمنٹ نہ چلنے دینے کا اعلان

    اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 27 ویں ترمیم کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کردیا۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین تحریک تحفظ آئین محموداچکزئی نے تحریک چلانے اور پارلیمنٹ نہ چلنے دینے کا اعلان کیا اور کہا آج سے تحریک شروع ہے،محمود اچکزئی نے کہا کہ رات ساڑھے 8 بجے سے نعرے شروع کردیں گے اور آج کا نعرہ ہوگا "ایسے دستور کو ہم نہیں مانتے”۔مشترکہ پریس کانفرنس میں مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا ستائیسویں ترمیم شخصیات کے فائدے اور نقصانات کو سامنے رکھ کر کی گئی ہے ، آئین کا شخصیات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، اشرافیہ اپنے مفادات کےلیے آئین میں ترمیم کررہی ہے ۔سینیٹر راجہ ناصر عباس نے کہا پارلیمنٹ اور عدلیہ کو تباہ کردیا گیا ہے، یہ ملک کو تباہی کی طرف لے کر جا رہے ہیں، اس ترمیم کا راستہ روکنے کیلئے ہر حد تک جائیں گے۔

  • عمران خان کی بہنوں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے وارنٹ گرفتاری جاری

    عمران خان کی بہنوں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے وارنٹ گرفتاری جاری

    اسلام آباد کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہنوں، علیمہ خان اور عظمیٰ خان، کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

    تفصیلات کے مطابق، اسلام آباد کی انسدادِ دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے 4 اکتوبر کے احتجاج کیس کی سماعت کی، جس میں پی ٹی آئی کے کئی رہنماؤں اور کارکنان پر پرتشدد مظاہروں، پولیس سے جھڑپوں اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات ہیں۔عدالتی کارروائی کے دوران بتایا گیا کہ علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے خلاف مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج ہے۔ تاہم دونوں ملزمان متعدد بار عدالت کی طلبی کے باوجود پیش نہیں ہوئیں۔ مسلسل غیرحاضری پر عدالت نے دونوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔جج طاہر عباس سپرا نے حکم دیا کہ علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو گرفتار کرکے آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت نے مزید کارروائی 22 نومبر 2025 تک ملتوی کرتے ہوئے پولیس کو وارنٹ پر عمل درآمد کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

    ذرائع کے مطابق، 4 اکتوبر کے احتجاج کیس میں دیگر کئی پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف بھی مقدمات زیرِ سماعت ہیں، جبکہ عدالت نے واضح کیا ہے کہ بار بار کی غیر حاضری ناقابلِ برداشت ہے اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • مودی کی ایماء پر پاکستان مخالف پراپیگنڈا میں پیش پیش افغان میڈیا کے جھوٹ کا بھی پردہ چاک

    مودی کی ایماء پر پاکستان مخالف پراپیگنڈا میں پیش پیش افغان میڈیا کے جھوٹ کا بھی پردہ چاک

    مودی کی ایماء پر پاکستان مخالف پراپیگنڈا میں پیش پیش افغان میڈیا کے جھوٹ کا بھی پردہ چاک ہو گیا

    وزارتِ اطلاعات و نشریات پاکستان نے افغان میڈیا کی پاکستان مخالف جعلی اور گمراہ کن خبروں کا پول کھول دیا،فریب پر مبنی افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے پاک فوج پر مساجد کی ہے حرمتی کا بے بنیاد الزام لگایا ،افغان سوشل میڈیا ہینڈل نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ پاک فوج نے مسجد اور قرآنِ مجید کی بے حرمتی کی،افغان اکاؤنٹ کی جانب سے ویڈیو میں فوجی اہلکاروں پر مسجد میں کتوں کے استعمال کا بے بنیاد الزام لگایا گیا

    وزارتِ اطلاعات و نشریات پاکستان نےبے بنیاد جھوٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے واضح کیا کہ؛کسی پاکستانی یا عالمی میڈیا نے مسجد یا قرآن کی مبینہ بے حرمتی کی کوئی تصدیق نہیں کی،افغان اکاؤنٹس باقاعدگی سے پاکستان مخالف مواد شائع کرکے مذہبی جذبات کو ابھارنے کی کوشش کرتے ہیں، سوشل میڈیا ویریفیکیشن ٹول کے مطابق؛ وائرل ویڈیو کسی حقیقی فوٹیج کی بنیاد پر نہیں بلکہ اے آئی سے تیار کی گئی ہے، جھوٹی مہم کا آغاز ایک سیاسی بیان سے ہوا جسے افغان اکاؤنٹس نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا،عوامی ردعمل کے بعد، 14 گھنٹے بعد افغان اکاؤنٹ نے اعتراف کیا کہ ویڈیو اے آئی سے تیار کی گئی تھی،افغان اکاؤنٹس جعلی معلومات کی بنیاد پر مذہبی جذبات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں،بھارت اور افغانستان جعلی مواد کے ذریعے پاک فوج اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی سازش میں مصروف ہیں،پاکستان اور پاک فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا مہم بھارتی اور افغان میڈیا کا وطیرہ بن چکی ہے

  • 27 ویں آئینی ترمیم، مسودہ باغی ٹی وی کو موصول

    27 ویں آئینی ترمیم، مسودہ باغی ٹی وی کو موصول

    ممکنہ 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ باغی ٹی وی کو موصول ہو گیا ہے جس کے مطابق آرمی چیف کے لیے چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ دینے کی تجویز ہے جبکہ سپریم کورٹ سے آئینی اختیارات واپس لیکر وفاقی آئینی عدالت کے سپرد کیے جائیں گے۔

    باغی ٹی وی کو موصول مسودے کے مطابق 27 آئینی ترمیم میں آئین کے آرٹیکل 42 اور 59 میں ترمیم کی جا رہی ہے،اس کے علاوہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کی کلاز 5 میں لفظ سپریم کو فیڈرل کانسٹیٹیوشنل میں تبدیل کیا جا رہا ہے،27 ویں ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز ہے، وفاقی آئینی عدالت، آئین کی تشریح اور آئینی تنازعات کے فیصلے کرے گی،سپریم کورٹ سے آئینی اختیارات واپس لے کر وفاقی آئینی عدالت کو دیے جائیں گے، آئین کا آرٹیکل 184 ختم کر دیا جائے گا، ازخود نوٹس کا اختیار ختم ہوگا۔ آئینی مقدمات اب سپریم کورٹ نہیں، وفاقی آئینی عدالت سنے گی، سپریم کورٹ صرف اپیلوں اور عمومی مقدمات کی عدالت رہے گی، وفاقی آئینی عدالت میں چیف جسٹس اور چاروں صوبوں سے برابر نمائندگی ہو گی، وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی مدت 3 سال مقرر ہو گی، چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کی حیثیت محدود ہو جائے گی۔

    مسودہ میں سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے درمیان اختیارات کی تقسیم کی تجویز کی گئی ہے، آئینی عدالت کے فیصلے ملک کی تمام عدالتوں پر لازم ہوں گے،27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں فوجی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی تجویز کی گئی ہے، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے آرمی چیف کو “چیف آف ڈیفنس فورسز” کا عہدہ دینے کی تجویز ہے،آئینی ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل اور دیگر اعلیٰ فوجی عہدوں کو تاحیات درجہ حاصل ہوگا۔

    27 ویں ترمیم کے ذریعے ججوں کی تقرری کا طریقہ کار بھی بدلا جائے گا، جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دونوں شامل ہوں گے، تقرری میں وزیرِاعظم اور صدر کو کلیدی کردار حاصل ہوگا، پارلیمنٹ کو آئینی عدالت کے ججوں کی تعداد طے کرنے کا اختیار ملے گا،آئین کے آرٹیکل 42، 63 اے، 175 تا 191 میں ترمیم کی تجویز ہے جس کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیارات میں نمایاں کمی ہو گی، ماہرین نے ترمیم کو عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات میں بڑا تغیر قرار دیا، اپوزیشن جماعتوں نے مجوزہ 27 ویں ترمیم پر شدید تحفظات ظاہر کیے، سیاسی حلقوں میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام پر بحث تیز ہو گی،

    Final Constitutional Amendment dt 08.11.2025

  • وزیرقانون نے 27 ویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کر دیا

    وزیرقانون نے 27 ویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کر دیا

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کر دیا۔

    چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا آج معمول کی کارروائی معطل کرکے بل پیش کرلیتے ہیں جس پر چیئرمین سینیٹ نے معمول کی کارروائی معطل کر دی، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ بل پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کو پیش کر دیتے ہیں، کمیٹی اپنا کام کرے گی، ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے، مشترکہ کمیٹی میں قومی اسمبلی اورسینیٹ کے ارکان بیٹھتے ہیں، بل کمیٹی کو جائے گا، کمیٹی میں دیگر ارکان کو بھی مدعو کریں گے جو کمیٹی کے رکن نہیں ہیں، بل پر ووٹ ابھی نہیں ہوگا، اپوزیشن سے بحث کا آغاز کریں گے.چیئرمین سینیٹ نے اپوزیشن سے کہا کہ کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوں ، بل قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے سپرد کر دیتا ہوں۔

  • پاکستان کی موثر انسدادِ منشیات کاروائیوں پر اقوام متحدہ کااعتراف

    پاکستان کی موثر انسدادِ منشیات کاروائیوں پر اقوام متحدہ کااعتراف

    پاکستان کی انسدادِ منشیات میں کامیاب کارروائیوں کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے

    پاکستان میں اقوامِ متحدہ ادارہ برائے منشیات و جرائم کے نمائندہ ٹرولز ویسٹر نے انسدادِ منشیات میں پاکستان کو فرنٹ لائن ملک قرار دے دیا ،ٹرولز ویسٹر کا کہنا تھاکہ اینٹی نارکوٹکس فورس کی بڑی کامیابیاں ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان منشیات کے خلاف فرنٹ لائن ملک ہے، افغانستان میں پوست اور ہیروئن کی جگہ مصنوعی منشیات کی لیبارٹریاں قائم ہو رہی ہیں،اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرائم (UNODC) نے انسدادِ منشیات سے متعلق اہم روڈ میپ بھی جاری کیاہے ،پاکستان کو منشیات کے خلاف جنگ میں اکیلا نہیں چھوڑا جا سکتا”، "منشیات کی اسمگلنگ روکنے کیلئے عالمی برادری کا پاکستان کے ساتھ اشتراک ناگزیر ہے”، پاکستان نے ایک سال میں 365 میٹرک ٹن منشیات اور کیمیکل ضبط کیے””منظم جرائم کی بدلتی حکمتِ عملی کے تحت پاکستان کا کردار اس لڑائی میں کلیدی ہے”

  • ہندوتوا نظریہ پرکاربندبھارت ،فرقہ وارایت اور مسلمانوں کے منظم استحصال کی ریاست

    ہندوتوا نظریہ پرکاربندبھارت ،فرقہ وارایت اور مسلمانوں کے منظم استحصال کی ریاست

    ہندوتوا نظریہ پرکاربندبھارت ،فرقہ وارایت اور مسلمانوں کے منظم استحصال کی ریاست بن گیا

    فاشسٹ بھارتی فوج بھی ہندوتوا کے انتہا پسند غنڈوں کیساتھ ملکر مذہبی اشتعال انگیزی پھیلانے میں مصروف ہے،ریاستی سرپرستی میں انتہا پسند ہندو، مسلم مخالف مذہبی فسادات بڑھانے کیلئےنفرت انگیز بیان بازی میں سرگرم ہیں،ہندوانتہاپسند رہنما یتی نرسنگھانندگری نے اشتعال انگیز بیان میں کہا کہ اس دنیا میں اسلام نہیں رہے گا ، صرف سناتنب(ہندومذہب) رہے گا،ہم اسلام کوختم کرینگے ، یہ ہماری ماں اور بھگوان کی قسم ہے ، اسلام کو اس دنیا سے مٹا دیا جائے گا اور کوئی شخص اسلام کا نام لیوا نہیں ہو گا ،

    بھارتی فوج بھی جابرانہ ریاستی طاقت، مذہبی تعصب مسلمانوں کے استحصال کیلئے شدت کیساتھ استعمال کرنے میں مصروف ہے، بھارتی آرمی چیف نے بھی ہندو پنڈت جگدگرو رام بھدراچاریہ کے آشرم کا دورہ کیا ،بھارتی آرمی چیف نےوردی میں ہندومندر کا دورہ کر کےانتہا پسند ہندوتوا نظریہ کےفروغ کاپیغام دیا ، وزیرِ اعلیٰ اتر پردیش یوگی آدتیہ ناتھ نے حال ہی میں نفرت انگیز بیان میں کہا کہ اگرواقعی امن اور ہم آہنگی قائم کرنی ہےتو سب کو سناتن دھرم(ہندومذہب) کو اپناناہوگا

    بھارتی فوج بھی نام نہاد "سیکولر انڈیا” کو پس پشت ڈال کر ہندوتوا نظام کو پھیلانے میں مصروفِ عمل ہے،سفاک مودی کی سرپرستی میں پورے بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتیوں کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانا معمول بن گیاہے

  • عمرے کی آڑ میں اٹلی جانے کی کوشش،5 گرفتار

    عمرے کی آڑ میں اٹلی جانے کی کوشش،5 گرفتار

    عمرہ کی آڑمیں اٹلی جانےکی کوشش کرنے والے 5 افراد کو گرفتار کرلیا گیا

    ایف آئی اے ترجمان کے مطابق امیگریشن نے کارروائی کرتے ہوئے عمرہ کی آڑمیں اٹلی جانےکی کوشش کرنے والے 5 افراد کو گرفتار کرلیا،ترجمان نے بتایا کہ راحید اللہ، عبدالحمید، عبدالشکور، اسماعیل اور احمد اللہ کو پرواز سے آف لوڈ کیا گیا، ان مسافروں کا تعلق، بنوں، پشاور، خیبر اور مہمند کے علاقوں سے ہے، پانچوں مسافروں نے سعودیہ سےایجنٹ کے ذریعے اٹلی کاغیرقانونی سفرکرنا تھا، مسافرفلائٹ پی اے170 سےعمرہ ویزے پر کراچی سے جدہ جارہے تھے جنہیں کلیئرنس کے دوران مشکوک پایا گیا۔

    ترجمان کے مطابق ابتدائی تفتیش میں بتایا گیا ہے کہ مسافر پشاور کے مختلف ایجنٹوں سے رابطے میں تھے، مسافروں نے سعودی عرب سے مصر، لیبیا اور پھر غیرقانونی سمندری راستے سے اٹلی جانا تھا، اٹلی جانےکے لیے مسافروں نے ایجنٹوں سےفی کس 45 لاکھ روپے میں معاملات طےکیے تھے، مسافروں نے ایجنٹوں کو 15 لاکھ روپے فی کس لیبیا پہنچنے پر ادا کرنے تھے، تمام مسافروں کو مزید قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفیکنگ سرکل کراچی منتقل کردیاگیا ہے۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،انجینئر محمد علی مرزا کیس میں فریق بننے کی درخواست منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ،انجینئر محمد علی مرزا کیس میں فریق بننے کی درخواست منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے انجینئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا مرتکب قرار دینے کی اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے خلاف زیر سماعت کیس میں فریق بنانے کی درخواست منظور کرلی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے انجینئر محمد علی مرزا کی متفرق درخواست پر سماعت کی جس میں انہیں گستاخی کا مرتکب قرار دینے کی اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے خلاف ڈاکٹر اسلم خاکی کی درخواست میں فریق بنانے کی استدعا کی گئی تھی،درخواست گزار کی جانب سے حافظ محمد طاہر ایوبی ایڈووکیٹ عدالت پیش ہوئے اور بتایا کہ درخواست پررجسٹرار آفس کا اعتراض تھا جو دورکردیاگیاہے، ہم صرف مرکزی کیس میں فریق بننا چاہتے ہیں۔جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا آپ نے سادہ درخواست دے دی ہے ، اس کے ساتھ کچھ بھی نہیں لگایا۔وکیل نے کہا مرکزی کیس کے ساتھ دستاویزات منسلک ہیں ، یہ متفرق درخواست ہے۔ عدالت نے انجییئر مرزا محمد علی کی مرکزی کیس میں فریق بننے کی متفرق درخواست منظور کر لی۔ مرکزی کیس کی سماعت 12 نومبر کو ہو گی

  • 27 ویں آئینی ترمیم سینیٹ میں پیش کرنے جا رہے ہیں،وزیر قانون

    27 ویں آئینی ترمیم سینیٹ میں پیش کرنے جا رہے ہیں،وزیر قانون

    وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم سینیٹ میں پیش کرنے جا رہے ہیں، ترامیم دو تہائی اکثریت سے منظور ہونگی تو آئین کا حصہ بنیں گی۔

    وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کابینہ میں 27 ویں آئینی ترمیم پر بریف کیا گیا، اجلاس میں آئینی عدالت کے قیام پر اتفاق رائے ہوا ہے، 27 ویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، بل کی منظوری کے لیے حکومت، حلیف جماعتوں کے ساتھ شریک ہوگی
    ،کابینہ کی منظوری کے بعد 27 ویں ترمیم کو جوائنٹ کمیٹی میں پیش کرنے کا کہا گیا ہے، چاہتے ہیں کہ کمیٹی میں بل کی شقوں پر سیر حاصل گفتگو ہو سکے، اتحادی جماعتوں سے مشاورت اور رائے سے لے کر قانون سازی ہو رہی ہے، چارٹر آف ڈیموکریسی میں آئینی عدالت کے قیام پر اتفاق رائے ہوا ہے، ججز تبادلوں کا معاملہ جوڈیشل کمیشن کے سپرد کیا جائے گا جبکہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے لیے بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، ججز ٹرانسفر پر بحث ہوتی رہی، یہ اعتراض اٹھایا جاتا رہا کہ وزیراعظم یا صدر کا کردار ہے، ججز ٹرانسفر کا معاملہ جوڈیشل کمیشن کے سپرد کیا جا رہا ہے۔

    وزیر قانون کا کہنا تھا آرٹیکل 243 کے اندر دفاعی معاملہ بہت اہم رہا ہے، آئین میں فیلڈ مارشل عہدہ اس انداز سے نہیں تھا، یہ اعزاز رینک کے ساتھ سیریمونیل بھی ہے، جہاں تک کمانڈ کا تعلق اس پر بھی ترامیم پارلیمان میں رکھی جائیں گی، آئینی ترامیم دو تہائی اکثریت سے منظور ہوں گی تو آئین کا حصہ بنیں گی۔