Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اقوام متحدہ میں پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم کابھارتی پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب

    اقوام متحدہ میں پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم کابھارتی پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب

    اقوام متحدہ میں پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم نے بھارتی پروپیگنڈے اور بے بنیاد الزامات کا دوٹوک اور مدلل جواب دیتے ہوئے عالمی برادری کی توجہ خطے میں بھارت کے منفی کردار کی جانب مبذول کرائی۔

    اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت مسلسل سرحد پار دہشت گردی اور تشدد کو فروغ دے رہا ہے، اور اس مقصد کے لیے پراکسی گروپس کو استعمال کررہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے کو غیر مستحکم کرنے کی تمام تر کوششوں کے پیچھے بھارتی عزائم کارفرما ہیں۔پاکستانی قونصلر نے بھارت کے اندرونی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہاں اقلیتوں کے ساتھ منظم مظالم روا رکھے جارہے ہیں۔ نہ صرف انہیں مذہبی آزادی سے محروم کیا گیا ہے بلکہ عبادت کے بنیادی حق تک سے روکا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کو دبانا اب بھارتی حکومت کی سرکاری پالیسی میں شامل ہوچکا ہے۔

    انہوں نے گجرات فسادات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دنیا آج بھی ان مظالم کو ظلم و بربریت کی بدترین داستان کے طور پر یاد کرتی ہے۔ صائمہ سلیم نے مزید کہا کہ بھارت میں اسلاموفوبیا کو سیاست میں معمول اور میڈیا میں فخر کی علامت سمجھا جا رہا ہے، جو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے۔صائمہ سلیم کے اس مؤقف کو بین الاقوامی مبصرین بھارت کے حقیقی چہرے کو بے نقاب کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو بھارت کی ان پالیسیوں کا نوٹس لینا چاہیے جو نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں ،

  • سنیما آپریٹرز  سینسر شپ قانون کو ڈیجیٹل اسٹریمنگ سروسز پر نافذ کرنے کی درخواست مسترد

    سنیما آپریٹرز سینسر شپ قانون کو ڈیجیٹل اسٹریمنگ سروسز پر نافذ کرنے کی درخواست مسترد

    لاہور ہائی کورٹ نے سنیما آپریٹرز کی جانب سے سینسر شپ قانون کو ڈیجیٹل اسٹریمنگ سروسز پر نافذ کرنے کی درخواست مسترد کر دیا اور فیصلے میں قرار دیا کہ موشن پکچرز آرڈیننس 1979 کا قانون او ٹی ٹی پلیٹ فارمز جیسے نیٹ فلکس اور ایمازون جیسی ڈیجیٹل اسٹریمنگ سروسز پر نافذ نہیں ہوتا۔

    مقامی انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسٹس راحیل کامران نے 20 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ یہ آرڈیننس ڈیجیٹل دور سے پہلے بنایا گیا تھا تاکہ فلموں کی نمائش کو ریگولیٹ کیا جا سکے، جو سنیما گھروں اور دیگر عوامی مقامات پر سنیماٹوگراف کے ذریعے دکھائی جاتی ہیں، یہ آن لائن اسٹریمنگ سروسز کے لیے وضع نہیں کیا گیا تھا، این سی انٹرٹینمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ دیگر درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ سنیما گھروں کو فلم سرٹیفکیشن لینے کا پابند بنانا، جب کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ریگولیٹ نہ کرنا امتیازی ہے اور اس سے ان کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔انہوں نے دلیل دی کہ آرڈیننس کی دفعہ 6 کے تحت سینسر شپ کے اصول، جو آئین کے آرٹیکل 19 سے ماخوذ ہیں، تمام پلیٹ فارمز پر یکساں لاگو ہونے چاہئیں تاکہ معاشرتی شرافت اور اخلاقیات کو برقرار رکھا جا سکے۔

    وکلا کا کہنا تھا کہ آرڈیننس کی دفعات کو تمام عوامی اور نجی نمائش کے ذرائع پر یکساں طور پر نافذ نہیں کیا جا رہا بلکہ انہیں منتخب اور من مانے طریقے سے صرف درخواست گزاروں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، جب کہ دیگر تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بغیر کسی روک ٹوک کے کام کر رہے ہیں، وفاقی حکومت کے ایک لا افسر نے ان درخواستوں کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مخالفت کی، درخواست گزاران متاثرہ فریق نہیں ہیں، اور ان کے کسی قائم شدہ حق کو کسی بھی فریقِ مخالف نے روکا ہے نہ محدود کیا ہے،آئین کی 18ویں ترمیم کے بعد سنیماٹوگراف سینسرشپ کا معاملہ صوبوں کو منتقل ہو چکا، اور اس سلسلے میں صوبوں کو خصوصی اختیار حاصل ہے۔سنیماٹوگراف کی اصطلاح کو آرڈیننس کے تناظر میں سمجھا جائے اور اس میں او ٹی ٹی پلیٹ فارمز شامل نہیں ہیں۔

    پنجاب حکومت کے ایک لا افسر نے کہا کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) صرف الیکٹرانک میڈیا سے متعلق ہے، جب کہ پنجاب فلم سینسر بورڈ کا دائرہ صرف فلموں کی سینسر شپ تک محدود ہے۔انہوں نے بھی زور دیا کہ سنیماٹوگراف کی اصطلاح کو آرڈیننس کے تناظر میں سمجھا جائے، جس کا اطلاق او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر نہیں ہوتا۔

  • ڈاکٹر شمع جونیجو کا نام فہرست میں شامل نہیں تھا، وزارت خارجہ کی وضاحت

    ڈاکٹر شمع جونیجو کا نام فہرست میں شامل نہیں تھا، وزارت خارجہ کی وضاحت

    ڈاکٹر شمع جونیجو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں کیسے پہنچیں اور وزیر دفاع کے پیچھے کیسے بیٹھیں، خواجہ‌آصف کی جانب سے وضاحت کے بعد وزارت خارجہ کا بھی ردعمل آ گیا

    وزارت خارجہ کی جانب سے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں وضاحت کی گئی ہے، جس میں سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے پیچھے ایک خاتون ڈاکٹر شمع جونیجو کی نشست پر بیٹھنے کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے تھے۔ترجمان وزارتِ خارجہ کے مطابق اس خاتون کا نام پاکستان کے سرکاری وفد کی فہرست میں شامل نہیں تھا، جو 80ویں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ "لیٹر آف کریڈینس” میں درج ہوتی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ چونکہ اس خاتون کا نام سرکاری وفد کے تصدیق شدہ کاغذات میں شامل نہیں تھا، اس لیے ان کی وزیر دفاع کے پیچھے نشست پر موجودگی وزارتِ خارجہ یا نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ کی منظوری کے بغیر تھی۔وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے سرکاری وفد کے تمام اراکین کی فہرستیں باضابطہ طور پر اقوامِ متحدہ کو فراہم کی جاتی ہیں، اور صرف وہی افراد سرکاری طور پر اجلاسوں میں شرکت کے مجاز ہوتے ہیں جنہیں اس فہرست میں شامل کیا گیا ہو۔

    https://x.com/ForeignOfficePk/status/1971668247595590143

    اس وقت وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطحی وفد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہے۔ اس وفد میں معروف کالم نگار اور سماجی کارکن ڈاکٹر شمع جونیجو کی شمولیت نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔سوشل میڈیا پر گردش کرتی تصاویر میں ڈاکٹر شمع جونیجو کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف کے عقب میں بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تصاویر وائرل ہونے کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید سامنے آئی ہے، خاص طور پر اس بنیاد پر کہ ڈاکٹر شمع ماضی میں اسرائیل سے متعلق بعض متنازع بیانات دے چکی ہیں، جنہیں فلسطینی عوام کے جذبات کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔

    اس تنقید کے جواب میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک وضاحتی پیغام جاری کیا۔ اپنے پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ”اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں تقریر میں نے اس لیے کی کیونکہ وزیراعظم مصروف تھے۔ میرے پیچھے کون بیٹھے گا، یہ فیصلہ وزارت خارجہ کا ہوتا ہے نہ کہ میرا۔”انہوں نے مزید کہا "فلسطین کے مسئلے سے میرا 60 سالہ جذباتی تعلق اور کمٹمنٹ ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ میں اس مسئلے پر ہمیشہ پاکستان کے اصولی مؤقف کا حامی رہا ہوں۔”

    خواجہ آصف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا پر متعدد صارفین پاکستانی وفد کی شفافیت اور نمائندگی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ جیسے حساس اور عالمی سطح کے فورم پر ایسے افراد کی شمولیت جن کا ماضی متنازع ہو، پاکستان کی خارجہ پالیسی اور فلسطین سے وابستگی پر سوالیہ نشان بنتی ہے۔تاحال وزارت خارجہ کی جانب سے ڈاکٹر شمع جونیجو کی وفد میں شمولیت پر کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔ نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ انہیں کس حیثیت میں اس وفد کا حصہ بنایا گیا ہے

    ڈاکٹر شمع جونیجو ایک معروف صحافی، کالم نگار اور انسانی حقوق کی کارکن ہیں۔ وہ کئی بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ تاہم، ان کے بعض ماضی کے بیانات، جن میں اسرائیل سے متعلق نرم رویہ اختیار کیا گیا تھا، حالیہ تنقید کی بنیاد بنے ہیں۔ ان بیانات کے اسکرین شاٹس اور ویڈیوز اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں

  • ایشیا کپ،پاک بھارت فائنل سے قبل کپتانوں کا ٹرافی شوٹ ہو پائے گا؟

    ایشیا کپ،پاک بھارت فائنل سے قبل کپتانوں کا ٹرافی شوٹ ہو پائے گا؟

    دبئی: پاکستان اور بھارت کے درمیان ایشیا کپ کا فائنل کل بروز اتوار دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جس کا شائقین کرکٹ بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق دونوں ملکوں کی ٹیموں کے درمیان حالیہ تناؤ کے باعث اس مرتبہ فائنل سے پہلے دونوں کپتانوں کا ٹرافی کے ساتھ روایتی فوٹو شوٹ نہیں ہوگا۔ ٹورنامنٹ کے منتظمین نے اس کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج (ہفتے کو) فوٹو شوٹ کا کوئی انعقاد نہیں ہو رہا، البتہ اتوار کو میچ سے قبل اس حوالے سے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کی ٹیم نے ایونٹ کے دوران پاکستان کے خلاف کھیلے گئے دونوں میچز میں کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے گریز کیا، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کل ہونے والے فائنل میں بھی ایسا ہی ماحول دیکھنے کو ملے گا۔ کرکٹ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال کھیل کے روایتی کھیل روح کو متاثر کر رہی ہے۔

    ادھر پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا آج رات پاکستانی وقت کے مطابق 7 بجے پریس کانفرنس کریں گے جس میں وہ ٹیم کی تیاریوں اور حکمتِ عملی سے متعلق صحافیوں کو آگاہ کریں گے۔ اس کے علاوہ قومی ٹیم دبئی میں واقع آئی سی سی اکیڈمی میں رات 7 بجے سے 10 بجے تک فائنل کے لیے خصوصی پریکٹس سیشن میں حصہ لے گی۔

    ایشیا کپ فائنل نہ صرف دونوں ممالک کے شائقین کے لیے اعصاب شکن مقابلہ ثابت ہوگا بلکہ یہ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے اعصاب کا بھی سخت امتحان ہوگا۔ شائقین کرکٹ کی نظریں دبئی اسٹیڈیم پر جمی ہوئی ہیں جہاں کل روایتی حریف ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں گے۔

  • سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،وزیراعظم

    سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،وزیراعظم

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے خطاب کے فوری بعد ملک حالیہ سیلابی صورتحال اور بحالی کے جاری اقدامات پر جائزہ اجلاس کی صدارت کی

    وزیر اعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف اور بحالی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کر دی ،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے.اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت پنجاب متاثرین کی بحالی کیلئے مثالی اقدامات کر رہی ہے. اجلاس کو فصلوں کے نقصانات اور کسانوں کی بحالی کے حوالے سے بھی تجاویز پیش کی گئیں.وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آئندہ ایک ہفتے میں نقصانات کے جائزے پر ایک جامع رپورٹ مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی

  • ڈاکٹر شمع جونیجو کی اقوام متحدہ اجلاس میں شرکت ، خواجہ آصف کا ردعمل

    ڈاکٹر شمع جونیجو کی اقوام متحدہ اجلاس میں شرکت ، خواجہ آصف کا ردعمل

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستانی وفد کے ہمراہ ڈاکٹر شمع جونیجو کی موجودگی پر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے بعد ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس وقت وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطحی وفد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہے۔ اس وفد میں معروف کالم نگار اور سماجی کارکن ڈاکٹر شمع جونیجو کی شمولیت نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔سوشل میڈیا پر گردش کرتی تصاویر میں ڈاکٹر شمع جونیجو کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف کے عقب میں بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تصاویر وائرل ہونے کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید سامنے آئی ہے، خاص طور پر اس بنیاد پر کہ ڈاکٹر شمع ماضی میں اسرائیل سے متعلق بعض متنازع بیانات دے چکی ہیں، جنہیں فلسطینی عوام کے جذبات کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔

    اس تنقید کے جواب میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک وضاحتی پیغام جاری کیا۔ اپنے پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ”اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں تقریر میں نے اس لیے کی کیونکہ وزیراعظم مصروف تھے۔ میرے پیچھے کون بیٹھے گا، یہ فیصلہ وزارت خارجہ کا ہوتا ہے نہ کہ میرا۔”انہوں نے مزید کہا "فلسطین کے مسئلے سے میرا 60 سالہ جذباتی تعلق اور کمٹمنٹ ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ میں اس مسئلے پر ہمیشہ پاکستان کے اصولی مؤقف کا حامی رہا ہوں۔”

    خواجہ آصف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا پر متعدد صارفین پاکستانی وفد کی شفافیت اور نمائندگی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ جیسے حساس اور عالمی سطح کے فورم پر ایسے افراد کی شمولیت جن کا ماضی متنازع ہو، پاکستان کی خارجہ پالیسی اور فلسطین سے وابستگی پر سوالیہ نشان بنتی ہے۔تاحال وزارت خارجہ کی جانب سے ڈاکٹر شمع جونیجو کی وفد میں شمولیت پر کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔ نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ انہیں کس حیثیت میں اس وفد کا حصہ بنایا گیا ہے

    ڈاکٹر شمع جونیجو ایک معروف صحافی، کالم نگار اور انسانی حقوق کی کارکن ہیں۔ وہ کئی بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ تاہم، ان کے بعض ماضی کے بیانات، جن میں اسرائیل سے متعلق نرم رویہ اختیار کیا گیا تھا، حالیہ تنقید کی بنیاد بنے ہیں۔ ان بیانات کے اسکرین شاٹس اور ویڈیوز اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں

  • اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے فلسطین اور کشمیر کا مقدمہ لڑا،عطا تارڑ

    اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے فلسطین اور کشمیر کا مقدمہ لڑا،عطا تارڑ

    وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات مستحکم ہورہے ہیں۔

    نیو جرسی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے فلسطین اور کشمیر کا مقدمہ لڑا، اب پاکستان اور امریکا کے تعلقات مستحکم ہورہے ہیں، کہاں ایک حکمران تھا جس کے دور میں پاکستان ڈیفالٹ کررہا تھا،اب مہنگائی اورانٹرسٹ ریٹ سمیت تمام میکرو اکنامک اشاریے مثبت ہیں،ماضی کے حکمران نے تمام ملکوں کے ساتھ تعلقات اپنی اناکی خاطرخراب کیے، اب پاکستان کی مشرق سے لےکرمغرب تک دنیامیں عزت ہے۔پاکستان کے ساتھ ممالک کے تعلقات اچھے ہو چکے، سفارتی محاذ پر پاکستان آگے بڑھ چکا،

  • جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان کی ٹرائل روکنے کی استدعا

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان کی ٹرائل روکنے کی استدعا

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی لیگل ٹیم نے 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کا ٹرائل روکنے کی استدعا کر دی۔

    9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کی لیگل ٹیم کی جانب سے انسداد دہشت گردی عدالت میں ٹرائل روکنے کی درخواست دائر کی گئی،انسداد دہشت گردی عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ویڈیو لنک ٹرائل پر لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کا فیصلہ آنے تک ٹرائل روکا جائے،بانی پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم نے انسداد دہشت گردی عدالت سے کیس میں مہلت دینے کی درخواست کردی۔

    دوسری جانب سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے وکلا اس سے قبل بھی ویڈیو لنک پیشی کے خلاف 2 درخواستیں دائر کر رکھی ہیں،عدالت نے فریقین سے آج ہی دلائل طلب کرلیے۔

  • سیلاب،تباہی اور خدمت کی سیاست

    سیلاب،تباہی اور خدمت کی سیاست

    قدرتی آفات رب کی طرف سے انسانوں‌پر آزمائش ہوتی ہیں لیکن کبھی یہ حکمرانوں کی غفلت کا نتیجہ بھی ،خیبر پختونخوا میں سیلاب قدرتی لیکن پنجاب کے اضلاع میں سیلاب بھارت کا آبی حملہ تھا،دریا کنارے آبادیاں ڈوب گئیں، لاہور کے نواحی علاقے بھی محفوظ نہ رہے تو وہیں جنوبی پنجاب میں تباہی کا منظرشدید تھا،لاکھوں افراد بے گھر،مکان ڈوب گئے،املاک بہہ گئیں،شہریوں نے جانیں بچائیں مگر اور کچھ نہ بچا سکے، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی ترجمان تابش قیوم اور ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات طہٰ منیب کی قیادت میں الیکٹرانک و ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کا ایک وفد لاہور سے جلال پور پیر والا کے لیے روانہ ہوا ،تو راقم بھی اسکا حصہ تھا،صحافی، جو لفظوں کو ترتیب دے کر کہانیاں سناتے ہیں، وہاں جا کر خود ایک کہانی بن گئے،خیمہ بستیوں میں بوڑھے والدین کی جھریوں میں چھپی کہانیاں، ماؤں کی آنکھوں میں بے بسی، اور مرکزی مسلم لیگ کے پلے گراؤنڈ میں کھیلتے بچے،ایسا منظر کہ کئی صحافی کچھ دیر تک ساکت کھڑے رہے،میڈیا وفد نے مرکزی مسلم لیگ کی خیمہ بستیاں دیکھیں، مددگار اسکولوں کا دورہ کیا، فیلڈ ہسپتالوں کا معائنہ کیا، کشتی پر سفر کر کے ان علاقوں کو دیکھا جو ابھی تک ڈوبے ہوئے، چھتوں پر سولر تو نظر آ رہے مگر چھتیں غائب،

    جلال پور پیر والاجہاں کبھی ہریالی کی چادر تنی رہتی تھی، زندگی اپنی پوری توانائی سے رواں دواں تھی، آج وہاں تاحد نگاہ پانی،بستیوں کی بستیاں زیر آب آ گئیں،بھارتی آبی دہشت گردی کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے جلال پور پیر والا کی بستیوں کو آہوں، سسکیوں بدل دیا ،وہ پانی جو کھیتوں کو سیراب کرتا تھا، آج گھروں، اسکولوں،سڑکوں اور گلیوں کو بہا لے گیا ہے۔جلال پور پیر والا کے گلی کوچے اب مٹی اور پانی کی آمیزش میں گم ہو چکے ، کچے مکانوں کی دیواریں زمین بوس ہو چکیں، صحنوں کے چراغ بجھ چکے، اور دریچوں سے اب خوشبو نہیں، نمی کی بو آتی ہے،کسی بزرگ کے کمرے میں رکھی وہ پرانی لکڑی کی پیٹی جو کبھی جہیز کی نشانی تھی، اب پانی میں تیرتی دکھائی دیتی ہے،کئی گھروں کی چھتیں غائب ہیں، ایک ایک منزل اب بھی ڈوبی ہوئی، تاحد نگاہ پانی….یہ کراچی کا سمندر نہیں بلکہ جلال پور پیر والا کا منظر ہے جہاں کئی روز گزرنے کے باوجود پانی موجود اور متاثرین گھروں کو جانے کو بے تاب ہیں،جلال پور و گردونواح میں سیلاب نے نسلوں کی محنت، جوانی کی کمائی، بچوں کے کھلونے، کتابیں، عورتوں کی چادریں، اور بوڑھوں کے عصا تک بہا دی،وہ علاقے جو سالہا سال سے سایہ دار درختوں سے مزین تھے، آج کسی سمندر کا منظر پیش کر رہے ہیں،جانور، جنہیں اہلِ دیہات خاندان کا فرد سمجھتے تھے، پانی میں ڈوب چکے،گھروں کا سامان پانی میں تنکے کی طرح بہہ گیا،مکین دیکھتے رہے لیکن بے بسی کا منظر،اپنی جان اور تن پر پہنے کپڑوں کے علاوہ کچھ بچا نہ سکے

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson
    جلال پور پیر والا کے عوام نہ صرف پانی میں ڈوبے بلکہ حکومتی بے حسی کی گہرائی میں بھی غوطہ زن ہوئے،ایک ایک ووٹ کی بھیک مانگنے والے سیلابی پانی میں ڈوبتے عوام کو بچانے نہ آئے، کوئی وزیر، کوئی مشیر، کوئی افسر نہ آیا جہاں اب بھی تاحد نگاہ پانی ہے،حکومت کی طرف سے نہ امداد،نہ خوراک،نہ صاف پانی، نہ ادویات اور نہ ہی گھروں کی بحالی کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل سامنے آیا۔تاہم، اس مشکل وقت میں ماضی کی طرح اس بار بھی اگر کوئی مدد کو آیا تو وہ رفاہی تنطٰمیں، پاکستان مرکزی مسلم لیگ جیسی سیاسی جماعتیں جن کا منشور خدمت کی سیاست ہے، اپنی مدد آپ کے تحت میدان میں آئیں اور حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت نظر آئیں،مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے جلال پور میں چار خیمہ بستیاں،ہزاروں افراد مقیم،تین وقت کا کھانا،مفت علاج معالجہ،خیمہ بستیوں میں سولر پینل،پنکھے،چارپائیاں غرضیکہ ہر سہولت متاثرین کو میسر ہے جو وہ چاہتے تھے،

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson
    جلال پور پیر والا میں سیلاب تو چلا جائے گا، پانی خشک ہو جائے گا، مگر ان آنکھوں کے آنسو؟ ان بچوں کی سسکیاں؟ ان ماں باپ کی ٹوٹی امیدیں؟وقت شاید زخموں کو بھر دے، مگر وہ نشان، جو اس سیلاب نے روح پر چھوڑے ہیں، شاید کبھی نہ مٹیں،پاکستان کی سیاسی جماعت پاکستان مرکزی مسلم لیگ جو سیلاب متاثرین کے لئے وسیع پیمانے پر ریسکیو و ریلیف آپریشن میں مصروف ہے نے متاثرین کی گھروں کو واپسی تک خدمت کا عزم کر رکھا ہے،مرکزی مسلم لیگ کی یہ کاوش کہ میڈیا خود آنکھوں سے دیکھے، کانوں سے سنے، اور دل سے محسوس کرے،ایک غیر روایتی، مگر انتہائی مؤثر عمل تھا،وفد میں شامل صحافیوں نے اپنے تاثرات میں اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے ایسی بے بسی، ایسا درد، اور ایسی خاموش چیخیں پہلے کبھی نہیں سنیں ،ضرورت اس امر کی ہے ایوان اقتدار ہوش میں آئے،بھارتی آبی جارحیت کے خلاف منظم،متحدہ لائحہ عمل بنایا جائے اور آئندہ بھارتی واٹر بم کے نتیجے میں ہونے والی کسی ایسی تباہی کو روکنے کے لئے سدباب کیا جائے،مرکزی مسلم لیگ تو کام کرتی رہے گی لیکن کاش…..پارلیمنٹ میں بیٹھی سیاسی جماعتیں بھی عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کریں.

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson

    Delegation of Electronic and Digital Media Visits Jalalpur Pirwala Accompanied by PMML Spokesperson

  • شازیہ مری نے مریم نواز کے بیانات کو تنگ نظر ، تفرقہ پیدا کرنے والا قرار دے دیا

    شازیہ مری نے مریم نواز کے بیانات کو تنگ نظر ، تفرقہ پیدا کرنے والا قرار دے دیا

    پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے مریم نواز کے بیانات کو تنگ نظر اور تفرقہ پیدا کرنے والا قرار دیا

    شازیہ مری کا کہنا تھا کہ پاکستان کھوکھلے بیانیے کا متحمل نہیں ہو سکتا،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو خدمت پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ تفرقہ انگیز باتوں پر،چیئرمین بلاول بھٹو ہمیشہ سیلاب متاثرین کی مدد پر فوکس کرتے ہیں،جو لوگ سیلاب متاثرین کے لئے ریلیف مانگ رہے ہیں، وہ سیاست نہیں کر رہے، لوگ اب بھی پانی میں پھنسے ہیں اور مدد کے منتظر ہیں،پیپلز پارٹی عوام کی خدمت پر یقین رکھتی ہے، کھوکھلے بیانات پر نہیں، جو لوگ جوس کے ڈبوں پر اپنی تصویریں لگا رہے ہیں، ٹک ٹاک بنا رہے ہیں اور اسے ریلیف ورک کہتے ہیں، اصل میں وہی سیاست کر رہے ہیں، مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت کو دکھاوے کے بجائے خدمت پر توجہ دینی چاہیے، بے گھر سیلاب متاثرین کے لئے ریلیف مانگنا کب سے جرم بن گیا؟چیئرمین بلاول بھٹو نے وفاقی حکومت سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مدد مانگی، چیئرمین پیپلز پارٹی نے پنجاب حکومت کی تعریف کی لیکن وفاقی حکومت سے کہا کہ قدرتی آفت میں اپنا کردار ادا کرے، بلاول بھٹو زرداری نے بجلی کے بلوں میں ریلیف اور زرعی ایمرجنسی کے نفاذ کا مطالبہ کیا،ہم شکر گزار ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں مطالبات تسلیم کئے،
    وزیراعظم شہباز شریف کو فوری طور پر بی آئی ایس پی کے ذریعے کیش امداد کا اعلان کرنا چاہیے، جیسا کہ انہوں نے 2022 میں کیا تھا،سیلاب متاثرین کو 2022 میں اور اس سال وزیراعظم کے رمضان پیکج کے لئے بی آئی ایس پی کے ذریعے فوری ریلیف ملا،وفاقی حکومت فوری ریلیف کے لئے کامیاب سماجی تحفظ کے اس نظام کو کیوں استعمال نہیں کر رہی؟