Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مفتیِ اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کی وفات پر حافظ مسعود اظہر کا اظہار افسوس

    مفتیِ اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کی وفات پر حافظ مسعود اظہر کا اظہار افسوس

    پاکستان اسلامک کونسل کے چیئرمین اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے پرنسپل ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے سعودی عرب کے مفتیِ اعظم، عالمِ ربانی شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امت مسلمہ قرآن وسنت کے ایک عظیم داعی ،عالم باعمل ، محسن، رہبر اور مربی سے محروم ہوگئی ہے۔ یہ سانحہ ایسا ہے جس نے دلوں کو لرزا دیا اور آنکھوں کو اشکبار کر دیا ہے۔ مفتیِ اعظم الشیخ عبدالعزیزمرحوم نے اپنی پوری زندگی قرآن و سنت کی ترجمانی، شریعتِ مطہرہ کے اصولوں کی حفاظت اور امت کی رہنمائی میں بسر کی۔ وہ ایک ایسے جید عالمِ دین تھے جنہوں نے اپنے تقویٰ،فتوئوں ، فیصلوں ، اخلاص، سادہ طرزِ حیات اور غیر معمولی علمی بصیرت سے مسلمانوں کے دلوں کو منور کیا۔ ان کے خطبات و فتاویٰ نہ صرف سعودی عرب بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ہمیشہ رہنمائی کا ذریعہ رہے ہیں۔ مرحوم کی شخصیت میں متواضع مزاجی، خشیتِ الٰہی اور خلوص جھلکتا تھا۔ وہ ہمیشہ امت کو اتحاد، یکجہتی اور قرآن و سنت کی پابندی کی طرف بلاتے رہے۔ ان کی وفات سے صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ پورا عالم اسلام یتیم ہوگیا ہے۔ڈاکٹر مسعود اظہر نے کہا کہ موجودہ دور میں جبکہ اسلام دشمن طاقتیں مختلف محاذوں پر سرگرم ہیں اور نوجوان نسل فکری یلغار کا شکار ہے، ایسے میں مفتیِ اعظم جیسی شخصیت کا بچھڑ جانا ایک بہت بڑا سانحہ اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ گوکہ آج مفتی اعظم ہم سے جدا ہوچکے ہیں تاہم ان کا چھوڑا ہوا علمی ورثہ، تعلیمات اور نصیحتیں ہمیں ہمیشہ ان کی یاد دلاتی رہیں گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اسلامک کونسل اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کی جانب سے میں شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کی جلیل القدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور سعودی عوام، مرحوم کے اہلِ خانہ اور پوری امت مسلمہ سے دلی تعزیت کرتا ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے علم و عمل کو صدقہ جاریہ بنائے آمین ثم آمین ! ۔

  • ایلون مسک کے والد پر  بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے سنگین الزامات

    ایلون مسک کے والد پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے سنگین الزامات

    دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے ایلون مسک کے والد ایرول مسک ایک بار پھر شدید تنقید اور الزامات کی زد میں ہیں۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ایرول مسک پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں.رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایرول مسک نے مبینہ طور پر اپنے 5 بچوں اور سوتیلے بچوں کے ساتھ زیادتی کی اور یہ سلسلہ 1993ء سے جاری ہے،تحقیقات میں سامنے آئے پولیس و عدالت کے ریکارڈ، سماجی کارکنوں کی رپورٹس، ذاتی خطوط اور فیملی انٹرویوز سے یہ انکشاف ہوا کہ مبینہ زیادتی کے واقعات جنوبی افریقا اور کیلیفورنیا میں پیش آئے۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ ایرول مسک پر اس نوعیت کے الزامات سامنے آئے ہیں، ان کے خلاف کئی دہائیوں سے مختلف اوقات میں ایسے سنگین الزامات عائد ہوتے رہے ہیں.1993ء میں ان کی 4 سالہ سوتیلی بیٹی نے خاندان کو بتایا کہ انہیں گھر میں نامناسب انداز میں چھوا گیا،2023ء میں ان کے پانچ سالہ بیٹے نے بھی الزام لگایا کہ باپ نے اسے غلط انداز میں چھوا، تاہم ان میں سے کسی بھی کیس میں ایرول مسک کو نہ تو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی سزا سنائی گئی۔

    ایرول مسک نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب ےبنیاد ہے۔یاد رہے کہ ایلون مسک پہلے بھی اپنے والد کو ایک خوفناک انسان قرار دے چکے ہیں اور دونوں کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں

  • انجینئر محمد علی مرزا کو سزا دی جائے ،اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش

    انجینئر محمد علی مرزا کو سزا دی جائے ،اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش

    اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنےاجلاس میں انجینئر محمد علی مرزا کو سزا سنانے کی سفارش کر دی

    اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس ہوا، اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ کونسل نے دیت کے قانون میں پیش کردہ ترمیمی بل سے اتفاق نہیں کیا۔ کونسل کی رائے ہے کہ دیت کی شرعی مقداریں یعنی سونا، چاندی اور اونٹ قانون میں شامل رہیں، جبکہ بل میں چاندی کو حذف اور سونے کی غیر شرعی مقدار کو معیار بنایا گیا ہے۔
    شوگر کے لیے خنزیر کے اجزا پر مشتمل انسولین کا معاملہ زیربحث آیا۔ کونسل نے قرار دیا کہ جب حلال اجزا والی انسولین دستیاب ہے تو خنزیر کے اجزا پر مشتمل انسولین سے پرہیز کیا جائے۔ توہینِ مقدسات کے پس منظر میں یہ طے پایا کہ شہادت کے لیے رکھے گئے وہ نسخے قرآن کریم، جن پر غلاظت کے اجزا لگے ہوں، شہادت ریکارڈ ہونے کے فوراً بعد پاک کیے جائیں اور اس مقصد کے لیے مناسب قانون سازی کی جائے۔ کونسل نے رقم نکالنے یا منتقل کرنے پر لگنے والے ودہولڈنگ ٹیکس کو زیادتی قرار دیتے ہوئے غیر شرعی قرار دیا۔ کونسل نے قرار دیا کہ انسانی دودھ کے ذخیرہ کرنے والے ادارے مخصوص شرائط کے تحت قائم ہو سکتے ہیں، لیکن مفاسد سے بچاؤ کے لیے پہلے لازمی قانون سازی کی جائے اور اس میں کونسل کو شامل کیا جائے۔

    اسلامی نظریاتی کونسل نے 11 ستمبر 2025ء کے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مدخولہ عورت کو طلاق کی صورت میں عدت اور نفقہ لازم قرار دینا قرآن و سنت کے خلاف ہے، وزارتِ مذہبی امور کے استفسار پر اتفاق ہوا کہ ایک رنگ ٹون تیار کی جائے جس میں شہریوں کو ہدایت دی جائے کہ ماہِ ربیع الاول میں مقدس کلمات و تحریرات والے بینرز، جھنڈوں اور جھنڈیوں کا ادب کریں اور ان کی بے حرمتی سے بچیں۔

    کونسل نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے مراسلہ بابت مرزا محمد علی انجینئر پر عائد ایف آئی آر توہین رسالت کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا۔

    اجلاس کی صدارت چیئرمین، اسلامی نظریاتی کونسل، علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی نے کی جبکہ معزز اراکین کونسل جناب جسٹس (ر) ظفر اقبال چوہدری، جناب ڈاکٹر عبد الغفور راشد، جناب صاحبزادہ پیر خالد سلطان قادری، جناب محمد جلال الدین، ایڈووکیٹ،، جناب علامہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، جناب ملک اللہ بخش کلیار، جناب جسٹس (ر) الطاف ابراہیم حسین قریشی، جناب مولانا پیر شمس الرحمٰن مشہدی، جناب علامہ محمد یوسف اعوان، جناب علامہ سید افتخار حسین نقوی، جناب پروفیسر ڈاکٹر مفتی انتخاب احمد، جناب علامہ رانا محمد شفیق خان پسروری، جناب صاحبزادہ سید سعید الحسن شاہ، جناب صاحبزادہ حافظ محمد امجد، محترمہ فریده رحیم اور جناب بیرسٹر سید عتیق الرحمٰن شاہ بخاری نے اجلاس میں شرکت کی۔

    اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے ۲۴۳ویں اجلاس مورخہ۲۴ ستمبر،۲۰۲۵ کے ضمنی ایجنڈا آئٹم نمبر ۲ پر بحث کرتے ہوئے، مرزا محمد علی انجینئر کے خلاف درج ایف آئی آر کے حوالے سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) راولپنڈی کے مراسلے پر غور کیا۔ شرعی اصول و ضوابط کی وضاحت اور تفصیلی غور و فکر کے بعد کونسل نے ابتدائی طور پر درج ذیل فیصلہ کیا۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن و سنت میں بھی بعض کفریہ الفاظ نقل ہوئے ہیں، مگر یہ بات ادھوری پیش کی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ان تمام مقامات کو دیکھا جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں ان الفاظ کو بطور ردّ، انکار اور سخت تنبیہ کے ذکر کیا گیا ہے، نہ کہ کسی تائید کے طور پر۔ شرعی اصول یہ ہے کہ کفر کے الفاظ صرف اس وقت نقل کیے جا سکتے ہیں جب ان کا مقصد کوئی جائز دینی ضرورت ہو، مثلاً شہادت، باطل کی تردید، تعلیم یا تنبیہ وغىرہ۔ بلا ضرورت ایسے کلمات دہرانا ناجائز اور بعض صورتوں میں سخت گناہ ہے۔ خصوصاً جب معاملہ حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو تو کسی شرعی مقصد کے بغیر توہین آمیز جملے نقل کرنے کی قطعاً اجازت نہیں۔ مرزا محمد علی انجینئر کے کئی بیانات میں ایسے جملے موجود ہیں جو محض نقلِ کفر پر مشتمل ہیں مگر کسی شرعی مقصد کے بغیر کہے گئے ہیں۔ اس بنا پر ان کا یہ طرزِ عمل سخت تعزیری سزا کا مستحق ہے، اور چونکہ یہ عمل انہوں نے بارہا دہرایا ہے، اس لیے ان کا جرم مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ مرزامحمدعلی انجینئركے ایك كلپ كےٹرانسكرپٹ میں درج ہے’’۔۔۔۔لیكن قرآ ن مجھے اجازت دے رہا ہے كہ میں اس كی عورت كے ساتھ شادی كرسكتا ہوں اگر وہ كسی christanكی بیٹی ہے سورہ مائدہ كی آیت نمبر۵۔كس عورت كےساتھ؟جومیرے نبی كودجال سمجھتی ہے۔۔۔‘‘مرزا انجنىئر كی طرف سےیہ قرآن كریم پر بھی اتہام ہے اور معنوى تحرىف بھى ہے،قرآن كریم كی محولہ بالا آیت میں ایسا كچھ نہیں ہے،حوالہ كے لئے آیت كا ترجمہ یہاں پیش كیاجاتا ہے:
    (آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں، اور ان لوگوں کا ذبیحہ (بھی) جنہیں (اِلہامی) کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے، اور (اسی طرح) پاک دامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں میں سے پاک دامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی (تمہارے لئے حلال ہیں) جب کہ تم انہیں ان کے مَہر ادا کر دو، (مگر شرط) یہ کہ تم (انہیں) قیدِ نکاح میں لانے والے (عفت شعار) بنو نہ کہ (محض ہوس رانی کی خاطر) اِعلانیہ بدکاری کرنے والے اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والے، اور جو شخص (اَحکامِ الٰہی پر) ایمان (لانے) سے انکار کرے تو اس کا سارا عمل برباد ہوگیا اور وہ آخرت میں (بھی) نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔)

    محولہ بالا آیت کے حوالے سے اس کے بیان کی خط كشىدہ عبارت اس کے ذاتی الفاظ ہیں جو اس آیت میں کہیں موجود نہیں ہىں، اس لیے مرزا انجینئر کا یہ بیان قرآن کی توہین اور معنوى تحریف کے زمرے میں بھی آتا ہے اور توہین رسالت كو بھى مستلزم ہے ۔ لہٰذا اس پر عائد دفعات میں توہینِ قرآن کی دفعہ بھی شامل کی جائے۔ كونسل نے ملاحظہ كیا كہ نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) كےآفیسرکی طرف سے دفترِ کونسل کو بھیجا گیا مراسلہ جانب داری کا تاثر دیتا ہے، کیونکہ مدعى كى کی طرف سے اپنے موقف كے حق مىں جمع کىا گىا تحریری مواد اور فتاویٰ اس کے ساتھ نہیں لگائے گئے۔ جبكہ صرف مرزا انجنىئر کےحق مىں دیئے گئے فتاوىٰ مہىا کیے گئے ہىں۔ کسی بھی طرح کسی تفتیشی ادارے كو کسی ملزم یا مدعی کا یکطرفہ موقف رائے حاصل كرنے کے لئے پاش نہیں کرنا چاہئے، مرزا انجنىئر كا ىہ بىان فساد فى الارض كو پھىلانے كا باعث ہے۔ اسی لئےپاکستان کی مسیحی برادری کو ایک مراسلہ بھیجا جائے گا کہ وہ تحریری طور پر واضح کریں کہ مرزا محمد علی انجینئر نے شانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو الفاظ کہے ہیں، کیا ان كى مقدس كتابوں مىں اور اجتماعى طور پر ان كى ىہ رائے ہے كہ نہىں ؟ ان کے جواب کے بعد ہی تفصیلی فیصلہ مرتب کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران عیسائی برادری کے فادر جے ایم چنن کا وائس میسج سنایا گیا، جس میں انہوں نے اس بات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ ایسا کوئی لفظ ہمارے ہاں موجود نہیں اور اسى طرح پاكستان میں اہم ترین مسیحی قائدین بھی اس بات كو اپنے اوپر تہمت قرار دیتے ہیں

  • گیم کھیلتے ہوئے والدہ،بھائی،دوبہنوں کو قتل کرنیوالے کو 100 برس کی سزا

    گیم کھیلتے ہوئے والدہ،بھائی،دوبہنوں کو قتل کرنیوالے کو 100 برس کی سزا

    سیشن کورٹ لاہور نے آن لائن گیم کھیلتے ہوئے والدہ، بھائی اور 2 بہنوں کے قاتل کو 100 سال قید کی سزا سنا دی۔

    ایڈیشنل سیشن جج ریاض احمد نے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو 40 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی ہے،جج ریاض احمد نے کہا کہ مجرم علی زین نے والدہ، بہن اور بھائیوں کو قتل کیا، عمر کی وجہ سے مجرم کو 4 بار عمر قید کی سزا دی جا رہی ہے،دوران سماعت پراسیکیوشن نے کہا کہ ملزم نے رات 2 بجے گیم سے متاثر ہو کر گھر والوں پر فائرنگ کر دی تھی،واضح رہے کہ تھانہ کاہنہ پولیس نے 2022 میں قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔

  • صاحبزادہ حامد رضا  تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے سیکریٹری انفارمیشن کے عہدے سے مستعفی

    صاحبزادہ حامد رضا تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے سیکریٹری انفارمیشن کے عہدے سے مستعفی

    سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے سیکریٹری انفارمیشن کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

    ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ سنی اتحاد کونسل کے ہنگامی اجلاس کے بعد سامنے آیا۔ اجلاس میں تنظیمی معاملات اور تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان میں پارٹی کے کردار پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر صاحبزادہ حامد رضا نے پارٹی قیادت کی ہدایات پر سیکریٹری انفارمیشن کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ قدم پارٹی ڈسپلن اور قیادت کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق استعفے سے متعلق تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے ترجمان اخونزادہ حسین کو بھی باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔

  • نئی دہلی: طیارے کے لینڈنگ گیئر میں سوار افغان کمسن کو واپس بھیج دیا گیا

    نئی دہلی: طیارے کے لینڈنگ گیئر میں سوار افغان کمسن کو واپس بھیج دیا گیا

    بھارت میں ایک حیران کن واقعہ اس وقت سامنے آیا جب افغان دارالحکومت کابل سے ایک 13 سالہ لڑکا مسافر طیارے کے لینڈنگ گیئر میں سوار ہو کر نئی دہلی پہنچ گیا۔ بھارتی حکام نے اس کمسن کو حراست میں لینے کے بعد افغانستان واپس بھیج دیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ روز پیش آیا جب کابل ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے والے ایک کمرشل طیارے میں 13 سالہ افغان لڑکا جہاز کے پچھلے پہیوں کے لیے مخصوص خانے (لینڈنگ گیئر کمپارٹمنٹ) میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ طیارہ 94 منٹ کی پرواز کے بعد نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا تو گراؤنڈ اسٹاف نے بچے کو دیکھ لیا۔عینی شاہدین کے مطابق لڑکے کے جسم پر ایک سادہ سا کرتا پاجامہ تھا اور وہ خوفزدہ اور نیم بے ہوش حالت میں نظر آیا۔ طیارے کے عملے اور ایئرپورٹ حکام نے فوری طور پر اس کو طبی امداد فراہم کی اور بعدازاں حکام نے اس سے ابتدائی تفتیش کی۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بچے نے بتایا کہ وہ افغانستان میں عدم تحفظ اور غربت کے باعث ملک چھوڑنے پر مجبور ہوا۔ تاہم بھارتی امیگریشن حکام نے قانونی پیچیدگیوں کے باعث اسے بھارت میں داخلے کی اجازت دینے کے بجائے واپس کابل بھیج دیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ طیارے کے لینڈنگ گیئر میں سفر کرنا انتہائی خطرناک عمل ہے کیونکہ اس جگہ پر نہ تو مناسب آکسیجن دستیاب ہوتی ہے اور نہ ہی درجہ حرارت قابو میں رہتا ہے، جس کے باعث ایسے واقعات اکثر موت پر منتج ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود کمسن لڑکے کا زندہ بچ جانا غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

  • سیلاب متاثرہ  کی مدد،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام استعمال نہ کرنا غفلت کے مترادف ہوگا، آصفہ بھٹو

    سیلاب متاثرہ کی مدد،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام استعمال نہ کرنا غفلت کے مترادف ہوگا، آصفہ بھٹو

    خاتون اول،رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پیغام میں کہا ہے کہ پنجاب میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے 40 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہو چکے ہیں،

    آصفہ بھٹو زرداری کا کہناتھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کی فراہمی کا سب سے تیز اور مؤثر ذریعہ ہے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ریاست کے پاس ایک ایسا ادارہ ہے جس کے پاس متاثرہ افراد کا ڈیٹا اور اُن تک رسائی کی صلاحیت ہے، سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کیلئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو استعمال نہ کرنا غفلت کے مترادف ہوگا،

    یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا تھا کہ سیلاب متاثرین کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مدد فراہم نہیں کی جاسکتی، جو بی آئی ایس پی سے رجسٹرڈ ہی نہیں اُنہیں امداد کیسے دی جائے،لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ سندھ میں بیرونی امداد کے باوجود لوگ مکمل طور پر بحال نہیں ہوئے، سندھ یا کراچی کا کیا حال ہے، کیا اُن سے عقل لینے کی ضرورت ہے جنہوں نے سندھ کو آثار قدیمہ بنادیا،عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب آیا، حکومتِ پنجاب اپنے وسائل سے سیلاب متاثرین کی مدد کر رہی ہے، ہمیں بیرونی امداد کا انتظار نہیں۔

  • ٹی ٹوئنٹی کی رینکنگ جاری،بابر اور صائم ایوب کی تنزی

    ٹی ٹوئنٹی کی رینکنگ جاری،بابر اور صائم ایوب کی تنزی

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹی ٹوئنٹی پلیئرز کی رینکنگ جاری کر دی۔

    آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ رینکنگ کے مطابق ٹی ٹوئنٹی بیٹرز کی رینکنگ میں بھارت کے ابھیشک شرما کی پہلی پوزیشن برقرار ہے جبکہ بھارت کے تلک ورما ایک درجہ بہتری کے بعد تیسری پوزیشن پر قابض ہیں،پاکستان کے صاحبزادہ فرحان 31 درجے کی لمبی چھلانگ کے بعد 24 ویں نمبر پر آگئے جبکہ بابر اعظم 9 درجے تنزلی کے بعد 35 ویں اور صائم ایوب 8 درجہ تنزلی کے بعد 55ویں نمبر پر چلے گئے،سری لنکا کے چریتھ اسالانکا 6 درجہ بہتری کے بعد 49 ویں نمبر پر آگئے ہیں۔

    ٹی ٹوئنٹی بولرز کی رینکنگ میں بھارت کے ورن چکرورتی کی پہلی پوزیشن برقرار ہے جبکہ پاکستان کے ابرار احمد 12 درجے بہتری کے بعد چوتھے نمبر پر قابض ہوگئے ہیں،بنگلادیش کے مستفیض الرحمٰن 6 درجہ بہتری کے بعد 9ویں نمبر پر پہنچ گئے جبکہ افغانستان کے راشد خان 1 درجہ بہتری کے بعد ٹاپ ٹین میں شامل ہوگئے،سفیان مقیم 3 درجہ تنزلی کے بعد 14ویں نمبر پر چلے گئے جبکہ شاہین آفریدی 2 درجہ بہتری کے بعد 25ویں اور حارث رؤف 9 درجہ بہتری کے بعد 28 ویں نمبر پر آگئے ہیں۔

    ٹی ٹوئنٹی آل راؤنڈرز کی رینکنگ میں بھارت کے ہاردک پانڈیا کی پہلی پوزیشن برقرار ہے اور پاکستان کے صائم ایوب کی پانچویں پوزیشن برقرار ہ،سری لنکا کے وانندو ہسارنگا ایک درجہ ترقی کے بعد ساتویں، افغانستان کے راشد خان 5 درجے بہتری کے بعد 12ویں اور فہیم اشرف 12 درجے بہتری کے بعد 39 ویں نمبر پر آگئے ہیں۔

  • گوگل نے پاکستان میں  اے آئی پلس پلان متعارف کرا دیا

    گوگل نے پاکستان میں اے آئی پلس پلان متعارف کرا دیا

    گوگل نے آج پاکستان میں گوگل اے آئی پلس (Google AI Plus) پلان متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ گوگل کا نیا پلان صارفین کو گوگل اے آئی کے ذریعے مزید کام کرنے کے لیے بااختیار بنانے کی غرض سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ نیا پلان لوگوں کو اپنی پیداواری اور تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مدد کرنے کے لیے طاقتور AI ٹولز تک اضافی رسائی فراہم کرتا ہے اور یہ سب نہایت باکفایت قیمت پر دستیاب ہیں۔

    گوگل اے آئی پلس پلان کے تحت پاکستان میں صارفین درج ذیل فوائد حاصل کر سکتے ہیں:
    ● جیمنائی ایپ میں امیج جنریشن اور ایڈیٹنگ یعنی Nano Banana کے لیے زیادہ گنجائش
    ● جیمنائی 2.5 پرو تک مزید رسائی، جو پیچیدہ سوالات کے لیے گوگل کا سب سے طاقتور اے آئی ماڈل ہے
    ● ویڈیو جنریشن ماڈل Veo 3 Fast تک رسائی، جو جیمنائی، Whisk، اور Flow میں دستیاب ہے۔
    ● جی میل، ڈاکس، شیٹس اور دیگر گوگل سروسز میں جیمنائی کا انضمام ۔
    ● فوٹوز، ڈرائیو، اور جی میل میں 200 جی بی اسٹوریج کی سہولت۔

    اے آئی پلس کے حوالے سے گوگل پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر،فرحان قریشی نے کہا: ”پاکستان کا ڈیجیٹل منظر نامہ تیزی سے ترقی کررہا ہے ، اور ہمیں پاکستانیوں کی تخلیقی صلاحیتوں نے متاثر کیا ہے جو انہوں نے اے آئی ٹولز کو اپنانے میں دکھائی ہیں۔ گوگل اے آئی پلس کی صورت میں ہم ان ٹولز کو ملک بھر میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے قابل رسائی بنا رہے ہیں۔ یہ پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کو فروغ دینے کے ہمارے عزم کا بنیادی حصہ ہے تاکہ ہر شخص اپنی پیداواری صلاحیت ، تخلیقی صلاحیت اور سیکھنے کے عمل کو اے آئی کے ذریعے بہتر بنا سکے۔ “اس کے علاوہ ، صارفین، اپنے خاندان کے پانچ دیگر افراد کے ساتھ بھی،ورک اسپیس میں جیمنائی سے لے کر 200 جی بی اسٹوریج تک، تمام فوائد شیئر کرسکتے ہیں۔اس طرح ہر فرد ایک ہی پلان کے تحت بہتر گوگل کا تجربہ حاصل کرسکتا ہے۔

    گوگل اے آئی پلس آج سے پاکستان میں، 1,400 روپے ماہانہ پر دستیاب ہے۔ محدود مدت کے لیے، پہلی مرتبہ سبسکرائب کرانے والے صارفین کو ابتدائی چھ ماہ کے لیے 50فیصد رعایت دی جائے گی۔ گوگل اے آئی پلس کے بارے میں مزید معلومات دستیاب ہے۔

  • ساہیوال، غیر رجسٹرڈ این جی او سے 18 کمسن بچے بازیاب، بچوں پر تشدد کے انکشافات

    ساہیوال، غیر رجسٹرڈ این جی او سے 18 کمسن بچے بازیاب، بچوں پر تشدد کے انکشافات

    ساہیوال: پنجاب کے شہر ساہیوال میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں ایک غیر رجسٹرڈ این جی او کی غیر قانونی تحویل سے 18 کمسن بچوں کو بازیاب کروا لیا گیا۔ بازیاب بچوں کی عمریں 5 سے 10 سال کے درمیان ہیں جبکہ ان پر تشدد اور بدسلوکی کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

    چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کارروائی کے دوران بچوں کی مجموعی حالت تسلی بخش نہیں پائی گئی۔ ان کے جسمانی و ذہنی فلاح و بہبود کو بری طرح نظرانداز کیا گیا اور مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔سارہ احمد کے مطابق بازیاب بچوں میں سے 17 کا تعلق بلوچستان سے ہے جبکہ ایک بچہ پنجاب کا رہائشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر نہایت تشویشناک ہے کہ معصوم بچوں کو ایک غیر رجسٹرڈ تنظیم کے ذریعے غیر قانونی طور پر رکھا گیا اور ان کے بنیادی حقوق سلب کیے گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان بچوں کے والدین اور لواحقین کو تلاش کرنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جا رہی ہیں تاکہ بچوں کو جلد از جلد اپنے خاندانوں کے سپرد کیا جا سکے۔ دوسری جانب غیر رجسٹرڈ این جی او کے خلاف مقدمہ درج کر کے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے ساتھ ہونے والے مظالم کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق بازیاب کیے گئے بچوں کو فوری طور پر چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حفاظتی مراکز منتقل کردیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد، خوراک اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔