Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پیپلز پارٹی سے عوامی منصوبے میں ریلیف کی توقع نہ کی جائے،فاروق ستار

    پیپلز پارٹی سے عوامی منصوبے میں ریلیف کی توقع نہ کی جائے،فاروق ستار

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور میئر کراچی کوئی کام سیدھے طریقے سے کردیں تو ہزاروں ڈالر انعام رکھنا چاہیے۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ گرین لائن کا منصوبہ چند ماہ میں مکمل ہونا تھا، 18 ستمبر کو گرین لائن منصوبے پر کام روک دیا گیا، 2017 میں گرین لائن کی این او سی لی گئی تھی، اس کام کو زبردستی روکا گیا تھا کیونکہ اس کا سہرا ایم کیو ایم کو ملتا، جو کراچی کے میئر ہیں ان سے یہ بات ہضم نہیں ہوئی، سندھ حکومت ریڈ لائن کے منصوبے میں ابھی پھنسی ہوئی ہے، کتنے منصوبے ہیں جو پیپلز پارٹی نے مکمل نہیں کیے، میں گنوا سکتا ہوں، پیپلز پارٹی سے عوامی منصوبے میں ریلیف کی توقع نہ کی جائے۔

    فاروق ستار نے کہا کہ 2008 سے اب تک یہ کے فور منصوبے پر بیٹھے رہے مگر کچھ نہیں ہوسکا، کے فور منصوبہ مکمل ہونے جارہا ہے یہ صرف ایم کیو ایم کی وجہ سے ہو رہا ہے، ایک مسئلہ ہے کہ پانی تو آ جائے گا مگر اس کی تقسیم کا کیا ہوگا۔

  • گرین لائن کا کام میئر کراچی نے بند کروا دیا،ترجمان حکومت پاکستان

    گرین لائن کا کام میئر کراچی نے بند کروا دیا،ترجمان حکومت پاکستان

    ترجمان حکومت پاکستان برائے اطلاعات سندھ بیرسٹر راجا خلیق الزمان انصاری کا کہنا ہے گرین لائن کا کام اچھا چل رہا تھا لیکن پتہ چلا میئر کراچی نے سٹی وارڈنز کو بھجوا کر کام بند کروا دیا ہے۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتےہوئے ترجمان حکومت پاکستان برائے اطلاعات سندھ بیرسٹر راجا خلیق الزمان انصاری نے کہا کہ اگر کام کرنے دیا جائے تو جون 2026 تک گرین لائن کا کام مکمل کرلیں گے، یہ بے بنیاد بات ہے کہ گرین لائن کے دوسرے مرحلے کا کام 2035 تک مکمل نہیں ہو گا، کسی پوائنٹ اسکورنگ کی بات نہیں میئر کراچی سے درخواست کرتا ہوں کہ مل کر کراچی کی خدمت کریں، گرین لائن کے دوسرے مرحلے کا پچھلے دنوں جائزہ لیا، کام اچھا چل رہا تھا، پتہ چلا میئر نے گرین لائن پر کام رکوا دیا ہے، طریقہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کو اگر اعتراض ہوتا ہے تو نوٹس بھیجا جاتا ہے، میئر کراچی نے زبردستی سٹی وارڈنز بھیج کر کام بند کروا دیا، وفاقی حکومت کو یومیہ نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، گرین لائن کا دوسرا فیز کامن کوریڈور ہے، مستقبل میں ساری بی آر ٹی بسیں اس پر چلیں گی۔

    راجا خلیق الزمان انصاری کا کہنا تھا وفاق نے ساڑھے 5 ارب روپے کی رقم مختص کی ہوئی ہے، وفاق چاہتا ہے کراچی کو اچھی ٹرانسپورٹ کی سہولیات ملیں، اس حوالے سے پی آئی ڈی سی ایل حکام سے بات کی ہے، گرین لائن وفاقی حکومت کا فنڈڈ منصوبہ ہے جس کا سنگ بنیاد 2016 میں میاں نواز شریف نے رکھا تھا، 10 مارچ 2025کو گرین لائن کو سندھ حکومت کے حوالے کیا، پہلے باون ہزار مسافر سفر کرتے تھے، اب 82 ہزار مسافر سفر کرتے ہیں، چاہتے ہیں کہ اس حوالے سے صوبائی حکومت، میئر آفس اور وفاقی حکومت مل کر کام کریں۔

  • یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف جوا اور سٹے بازی کی تشہیر پر مقدمہ درج

    یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف جوا اور سٹے بازی کی تشہیر پر مقدمہ درج

    نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مشہور یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف جوا اور سٹے بازی والی ایپس کی تشہیر کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق رجب بٹ پر الزام ہے کہ انہوں نے مختلف ویڈیوز اور اشتہارات کے ذریعے عوام کو جوا اور سٹے بازی والی ایپس میں سرمایہ کاری پر اکسایا، جس کے نتیجے میں عوام کی محنت کی کمائی ضائع ہوئی۔ ایجنسی کے مطابق رجب بٹ نہ صرف ان ایپس کی تشہیر میں سرگرم رہے بلکہ ایک معروف بیٹنگ ایپ کے برانڈ ایمبیسیڈر بھی رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق این سی سی آئی اے نے ملزم کو بارہا انکوائری کے لیے طلب کیا مگر وہ پیش نہ ہوئے، جس کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات سے معاشرتی بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اور نوجوان نسل کو جوا کھیلنے کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔

    این سی سی آئی اے نے اس سلسلے میں مزید دو یوٹیوبرز انس علی اور ہریرا کے خلاف بھی جوا پروموٹ کرنے کے الزام میں مقدمات درج کر لیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جوا اور سٹے بازی کی ترویج کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسے افراد کے خلاف بلا تفریق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • کراچی میں ٹریفک کیلیے نیا قانون، شرجیل میمن نے بتا دیا

    کراچی میں ٹریفک کیلیے نیا قانون، شرجیل میمن نے بتا دیا

    سندھ حکومت نے ٹریفک قوانین اور عوامی تحفظ کے لیے سندھ موٹر وہیکل رولز 1969 میں ترامیم کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    ترجمان محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق ترامیم کے تحت بھاری کمرشل گاڑیوں کے مالکان کو نئی شرائط پر عمل کرنا لازم قرار دیا گیا ہے، فٹنس سرٹیفکیٹ،گاڑیوں کی مقررہ عمر کی حد اور جدید حفاظتی نظام کا نفاذ لازمی ہوگا،اس حوالے سے وزیر ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ بھاری کمرشل گاڑیاں اب محکمہ ٹرانسپورٹ کے قائم مراکز سے فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کریں گی، خلاف ورزی کی صورت میں گاڑی مالکان پر بھاری جرمانےعائد کیے جائیں گے اور جرمانے کی تمام رقوم آن لائن سندھ حکومت کے اکاؤنٹ میں جمع ہوں گی۔

    وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ یہ قانون ایک سال کے اندر نافذ العمل ہوگا، تمام گاڑیوں کے لیے روڈ ورتھ ٹیسٹ لازمی ہوگا، خلاف ورزی پر پہلے مرحلے میں معمولی جرمانہ، دوسری بار 2 لاکھ روپےجرمانہ ہوگا جب کہ تیسری بار خلاف ورزی پر 3 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا،نئی ترامیم میں گاڑیوں کی عمر کی حد بھی مقرر کردی گئی ہے، انٹر پروونشل روٹس پر 20 سال سے زائد پرانی گاڑیوں کو پرمٹ نہیں دیا جائے گا، انٹرسٹی روٹس پر 25 سال سے زائد پرانی گاڑیاں چلانے کی اجازت نہیں ہوگی جب کہ شہروں کے اندر چلنے والی گاڑیوں کے لیے عمر کی حد 35 سال مقرر کی گئی ہے، کسی بھاری یاہلکی کمرشل گاڑی کو بغیر ٹریکنگ اورحفاظتی نظام چلنے کی اجازت نہیں ہوگی، ہر گاڑی میں جی پی ایس ٹریکنگ ڈیوائس، سامنے اورپچھلے رخ کیمرے لگانا لازمی ہوگا، ڈرائیورمانیٹرنگ کیمرا اور 360 ڈگری کیمرہ سسٹم لگانا ہوگا جب کہ ہر گاڑی میں انڈر رن پروٹیکشن گارڈز لگانا بھی لازمی کیا گیا ہے، اس سے حادثات کے دوران چھوٹی گاڑیاں یا موٹر سائیکلیں محفوظ رہ سکیں گے،یہ تمام آلات مکمل طور پر فعال حالت میں ہونا ضروری ہیں، اگر کسی گاڑی میں نظام نصب نہ پایا گیا یا جان بوجھ کر خراب کیا گیا تو بھاری جرمانہ ہوگا، اس صورت میں گاڑی کو عارضی طور پر بند کر دیا جائے گا اور 14 دن کے اندر اصلاح نہ ہونے پر رجسٹریشن مستقل منسوخ کردی جائے گی۔

  • رشوت کی کمائی میں کبھی برکت نہیں ہوتی،وزیراعلیٰ پنجاب

    رشوت کی کمائی میں کبھی برکت نہیں ہوتی،وزیراعلیٰ پنجاب

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) فورس کا قیام ان کا خواب تھا جو آج حقیقت بن گیا ہے، یہ فورس عوام کے لیے سہولت اور تحفظ کی علامت ہے۔ پنجاب حکومت عوام کی زندگی آسان بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور تجاوزات کے خاتمے پر بالخصوص خواتین نے اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز پیرا فورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کر رہی تھیں۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس فورس میں باصلاحیت خواتین کو شامل کیا گیا ہے تاکہ خواتین شہری بھی خود کو زیادہ محفوظ محسوس کریں.مریم نواز نے کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے نے جس طرح امن قائم کیا اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے بعض اضلاع ایسے ہیں جہاں اب جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں اور جہاں ماضی میں جرائم عام تھے وہاں اب لوگ کہتے ہیں کہ حقیقی معنوں میں امن قائم ہو گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے رشوت کے خلاف دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا "رشوت کی کمائی میں کبھی برکت نہیں ہوتی۔ جتنی تیزی سے رشوت کی آمدنی آتی ہے اتنی ہی تیزی سے ختم بھی ہو جاتی ہے۔”انہوں نے کاروباری طبقے کو نصیحت کی کہ جائز منافع کمانا حق ہے مگر جب منافع حد سے بڑھ جائے اور عوام کا استحصال ہونے لگے تو حکومت کو مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گندم اور آٹے کی قیمتوں کو حکومت کی مقررہ ریٹ لسٹ کے مطابق یقینی بنایا جائے گا۔مریم نواز نے زمینوں پر قبضہ مافیا کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ناجائز قبضے کے خاتمے کے لیے نئی قانون سازی کی جا رہی ہے۔زمینوں پر قبضے کے مقدمات سننے کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔یہ عدالتیں 90 دن کے اندر کیسز کا فیصلہ کریں گی۔بیواؤں اور یتیموں کی زمین پر قبضہ کرنے والوں کو کم از کم 10 سال قید کی سزا دی جائے گی۔وزیراعلیٰ پنجاب نے زور دے کر کہا کہ ان کا خواب ہے کہ پنجاب ماں بیٹیوں کے لیے محفوظ ترین صوبہ بنے اور عوام کو ظلم و ناانصافی سے مکمل تحفظ ملے۔

  • قائداعظم کے نواسے پر ممبئی میں مقدمہ درج

    قائداعظم کے نواسے پر ممبئی میں مقدمہ درج

    ممبئی پولیس نے بانی پاکستان قائداعظم کے نواسے نُسلی واڈیا اور اہل خانہ کے خلاف جعلی دستاویزات کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا

    ممبئی پولیس نے بھارت کے معروف صنعت کار اور واڈیا گروپ کے چیئرمین نُسلی نیول واڈیا، ان کی اہلیہ، بیٹوں سمیت سات افراد کے خلاف جعلی دستاویزات کے استعمال کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ کارروائی فیرانی ہوٹلز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ جاری ایک پرانے تنازع کے دوران مبینہ طور پر عدالت میں جھوٹی دستاویزات جمع کرانے پر عمل میں لائی گئی۔

    پولیس کے مطابق یہ مقدمہ بوریولی کی میٹروپولیٹن مجسٹریٹ عدالت کے 20 ستمبر کے حکم پر درج کیا گیا۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی تھی کہ نُسلی واڈیا، ان کی اہلیہ موریئن واڈیا، بیٹے نیس واڈیا اور جہانگیر واڈیا، کے ایف بھروچا، ایچ جے بامجی اور آر ای وانڈے والا کے خلاف دھوکہ دہی اور جعل سازی کے الزامات پر کارروائی کی جائے۔

    یہ کیس ایک 30 سال پرانے ترقیاتی معاہدے سے جڑا ہے جو واڈیا خاندان اور فیرانی ہوٹلز کے درمیان ممبئی کے علاقے ملاڈ کی ایک زمین پر ہوا تھا۔ معاہدے کے مطابق زمین کی تعمیر و ترقی بلڈر کے راجہ گروپ کے ساتھ ہونی تھی اور اس کی مجموعی فروخت کا 12 فیصد حصہ واڈیا خاندان کو ملنا تھا،تاہم 2008 میں فریقین کے درمیان تنازعات شروع ہوئے اور معاملہ مختلف عدالتوں، بشمول بمبئی ہائی کورٹ اور بھارتی سپریم کورٹ تک جا پہنچا۔

    فیرانی ہوٹلز کے سی ای او مہندر چندے نے پولیس کو شکایت دی تھی کہ 2010 میں واڈیا گروپ کے نمائندوں نے اس تجارتی تنازع کے دوران بمبئی ہائی کورٹ میں جعلی کاغذات جمع کرائے۔مہندر چندے کے مطابق انہوں نے پہلے 15 مارچ 2025 کو بگنگر نگر پولیس اور پھر 24 مارچ کو ممبئی پولیس کمشنر کو شکایت دی، تاہم کوئی کارروائی نہ ہونے پر وہ بوریولی کی عدالت سے رجوع پر مجبور ہوئے، جس کے بعد ایف آئی آر درج ہوئی۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور درجنوں صفحات پر مشتمل ریکارڈ کی تصدیق کے بعد ہی مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔یہ مقدمہ بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے جن میں دھوکہ دہی،جعل سازی،جعلی دستاویزات کا استعمال اور مجرمانہ سازش جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔

    نیس واڈیا واڈیا گروپ کے وارث اور متعدد کمپنیوں کے ڈائریکٹر ہیں، جبکہ وہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی ٹیم پنجاب کنگز کے شریک مالک بھی ہیں۔ ان کا نام ماضی میں بالی وُڈ اداکارہ پریتی زنٹا کے ساتھ تعلقات اور بعد ازاں تنازعات کے باعث خبروں میں بھی رہا ہے۔ذرائع کے مطابق اگر الزامات ثابت ہوئے تو یہ کیس بھارت کے ایک بڑے صنعت کار خاندان کے لیے نہ صرف قانونی مشکلات بلکہ ساکھ کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے۔

  • ٹرمپ کی زیر صدارت مسلم ممالک سربراہان اجلاس،وزیراعظم شہباز کی شرکت

    ٹرمپ کی زیر صدارت مسلم ممالک سربراہان اجلاس،وزیراعظم شہباز کی شرکت

    نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہائی لیول ویک کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرِ صدارت منتخب مسلم ممالک کے سربراہان کے ساتھ ایک اہم ملاقات ہوئی جس کا مرکزی محور غزہ میں جاری جنگ کا خاتمہ اور اسرائیلی مغویوں کی رہائی تھا۔ اس موقع پر اسلامی ممالک کے سربراہان نے امریکا سے کہا کہ وہ غزہ میں جنگ ختم کروانے اور عوام کو مشکلات سے نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

    اس اجلاس میں پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار بھی شریک تھے۔ جب کہ ترکیہ، قطر، سعودی عرب، انڈونیشیا، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ٹرمپ کی اسلامی ممالک کے سربراہان سے ہوئی اس ملاقات کا مقصد غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کے مـجوزہ منصوے کے بارے میں منتخب اسلامی ممالک کو آگاہ کرنا تھا۔ملاقات کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں اور اُمید ظاہر کی کہ یہ باہمی ملاقات کامیاب ثابت ہو گی،مشرِقِ وسطیٰ میں جنگ کے بغیر زندگی کتنی خوبصورت ہو گی، انہوں نے اسلامی ممالک کے سربراہان سے گفتگو کو اعزاز قرار دیتے ہوئے شرکا کی کوششوں کو سراہا۔

    ملاقات سے قبل امیرِ قطر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اس اجلاس کا مقصد غزہ میں جنگ کا خاتمہ اور اسرائیلی مغویوں کی رہائی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ غزہ میں جنگ ختم کروانے کے لیے امریکا اُن کے ساتھ ہے،جس کے جواب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم اسرائیلی مغویوں کی رہائی چاہتے ہیں اور دنیا میں کوئی بھی یہ نہیں کروا سکتا سوائے اس گروپ کے (منتخب اسلامی ممالک) اس لیے یہ ملاقات اُن کے لیے بھی ایک عزاز ہے۔ ’آج کے دن میری 32 ملاقاتیں ہیں مگر یہ سب سے اہم ملاقات ہے‘، کیونکہ اس کا مقصد غزہ کی جنگ کا حل تلاش کرنا اور یرغمالیوں کی واپسی کا عمل تیز کرنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ کے فورم پر بھی غزہ کے مسئلے کے حل کے لیے بین الاقوامی دباؤ کی ضرورت کا ذکر کیا اور کہا کہ طاقتور ممالک کو فریقین پر اثر انداز ہونے کی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔

    اسی مناسبت سے فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے بھی ایک علیحدہ موقع پر کہا کہ اگر صدر ٹرمپ واقعی نوبیل امن انعام کے لیے اہل ثابت ہونا چاہتے ہیں تو اُنہیں غزہ جنگ ختم کروانے کے لیے عملی دباؤ ڈالنا ہوگا۔ میکرون کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ امن کے قابلِ قدر کارنامے عملی اقدامات مانگتے ہیں جن میں فریقین پر اثر اندازی اور ہتھیاروں کی رسد کو محدود کرنا شامل ہے۔

    اس اجلاس کے بعد شریک اسلامی ممالک نے امریکا سے اپیل کی کہ وہ غزہ میں فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی میں اپنا موثر کردار ادا کرے تاکہ متاثرہ عوام کو فوری راحت پہنچے اور یرغمالیوں کی بازیابی کا عمل تیز کیا جا سکے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کے اختتام پر وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی،امریکی صدر اور وزیر اعظم شہباز شریف کے مابین خوشگوار ماحول میں غیر رسمی گفتگو ہوئی، دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا، اس ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی امریکی صدر سے 25 ستمبر کو ون آن ون ملاقات کا بھی امکان ہے۔

  • مسئلہ کشمیرحل ہوئے بغیرخطے میں امن ممکن نہیں، او آئی سی اجلاس

    مسئلہ کشمیرحل ہوئے بغیرخطے میں امن ممکن نہیں، او آئی سی اجلاس

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کےموقع پر او آئی سی کانٹیکٹ گروپ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

    ترجمان دفترخارجہ شفقت علی خان کے مطابق اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کا اجلاس ہوا جس کی صدارت او آئی سی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے سیاسی امور یوسف ایم نے کی جب کہ اجلاس میں رابطہ گروپ کے رکن ممالک پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، نائیجر اور آذربائیجان شریک ہوئے۔دفتر خارجہ کے ترجمان کا بتانا ہے کہ کشمیری عوام کے حقیقی نمائندوں کا ایک وفد بھی اجلاس میں شامل تھا، اجلاس میں مقبوضہ علاقے میں بگڑتی انسانی حقوق کی صورتحال پرغورکیاگیا،اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی خارجہ امور طارق فاطمی نے بھارت کی غیرقانونی قبضہ مضبوط کرنے ، ظالمانہ قوانین، جبر اور آبادیاتی تبدیلیوں کی کوششوں کی مذمت کی اور کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام جموں و کشمیر کے تنازعے کےحل سے مشروط ہے،طارق فاطمی نے او آئی سی سے بھارتی جبر کےخاتمے، سیاسی قیدیوں کی رہائی کیلئے دباؤ ڈالنے پر بھی زور دیا۔

    ترجمان دفترخارجہ کے مطابق اجلاس میں اوآئی سی وزرائےخارجہ کی جانب سے کشمیری عوام کےحقِ خودارادیت کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان اورآزادکشمیرمیں بھارتی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا،دوران اجلاس اوآئی سی نے حالیہ جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اورثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پہلگام حملےکے بعد کے واقعات سے واضح ہےکہ مسئلہ کشمیرحل ہوئے بغیرخطے میں امن ممکن نہیں، بھارتی رہنماؤں کے غیرذمہ دارانہ بیانات علاقائی امن کیلئے خطرہ ہیں، او آئی سی کی جانب سے مقبوضہ کشمیرمیں کریک ڈاؤن، 2800 گرفتاریوں،گھروں کی مسماری ، کشمیری رہنما شبیرشاہ کی بیماری کے باوجودرہائی نہ دینے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ۔

    دوران اجلاس اوآئی سی نے ہزاروں سیاسی کارکنوں اورانسانی حقوق کے محافظوں کی گرفتاریوں سمیت سری نگر جامع مسجد اورعیدگاہ میں مذہبی اجتماعات پرپابندی کی بھی مذمت کی،اوآئی سی نے 5 اگست 2019 کےبھارتی اقدامات اورآبادیاتی تبدیلیوں کو مستردکرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی انتخابات حقِ خودارادیت کا متبادل نہیں ہوسکتے،اس کے علاوہ اوآئی سی نے سیکرٹری جنرل کے خصوصی ایلچی کے دورہ پاکستان اور آزاد کشمیر کا خیرمقدم کیا۔

  • پی آئی اے کو برطانیہ کیلئے مسافر بردار اور کارگو پروازیں چلانے کی اجازت

    پی آئی اے کو برطانیہ کیلئے مسافر بردار اور کارگو پروازیں چلانے کی اجازت

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے اعلان کیا ہے کہ اکتوبر سے برطانیہ کے لیے براہِ راست پروازیں بحال کی جائیں گی۔ یہ فیصلہ تقریباً پانچ سال بعد اس وقت ممکن ہوا جب برطانوی حکام نے پاکستانی فضائی کمپنیوں پر عائد پابندی ختم کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر حفاظتی اور سیکیورٹی سرٹیفکیشن کی منظوری دے دی۔

    یاد رہے کہ مئی 2020 میں کراچی میں پی آئی اے کا ایئربس اے 320 طیارہ حادثے کا شکار ہوا تھا، جس میں 97 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس سانحے کے بعد کی جانے والی حکومتی تحقیقات میں پائلٹ لائسنسز میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا، جس کے نتیجے میں برطانیہ اور یورپی یونین دونوں نے پی آئی اے پر فضائی پابندی عائد کردی تھی۔

    پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خان کے مطابق "پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کو باضابطہ طور پر تھرڈ کنٹری آپریٹر (TCO) کی منظوری مل گئی ہے، جس کے تحت وہ اب برطانیہ کے لیے پروازیں چلا سکے گی۔”ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی طور پر مانچسٹر کے لیے سروس شروع ہوگی، جس کے بعد برمنگھم اور لندن کے لیے پروازیں بھی بحال کی جائیں گی۔برطانیہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پی آئی اے کو "ACC3” سیکیورٹی سرٹیفکیشن حاصل ہو گیا ہے، جو کہ یورپی یونین سے باہر کی ایئرلائنز کے لیے لازم ہے تاکہ وہ برطانیہ کارگو پروازیں چلا سکیں۔ یہ منظوری اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے ہوائی اڈوں سے حاصل کی گئی ہے اور اگست 2030 تک کے لیے مؤثر رہے گی۔

    برطانیہ میں پاکستانی نژاد افراد کی تعداد 16 لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ ہزاروں برطانوی شہری پاکستان میں مقیم ہیں۔ اس پس منظر میں پی آئی اے کی پروازوں کی بحالی کو سفری سہولت، تجارتی تعلقات میں بہتری اور آمدنی میں اضافے کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

    پاکستانی حکومت اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے تحت سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنے کے لیے نجکاری کے عمل کو تیز کر رہی ہے۔ پی آئی اے کو گزشتہ ایک دہائی میں ڈھائی ارب ڈالر سے زائد خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے جولائی میں کہا تھا کہ برطانیہ اور یورپ کے روٹس کی بحالی سے پی آئی اے کی مارکیٹ ویلیو بڑھے گی اور نجکاری کے عمل کو بہتر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے گا۔

    سی ای او پی آئی اے کی جانب سے وزیراعظم پاکستان، نائب وزیراعظم، وزیر دفاع، وزارت دفاع اور سول ایوایشن کی سرپرستی اور دیگر منسلک اداروں کے تعاون پر خصوصی شکریہ کیا گیا،ترجمان قومی ائیر لائن نے بتایا ہے کہ سی ای او پی ائی اے نے پی ائی اے کی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کیا کہ جنھوں نے 5 سال ثابت قدمی سے متعدد آڈٹس کا سامنہ کیا اور اس میں کامیابی حاصل کی۔

  • سیلاب زدگان کو عزت کے ساتھ میز کرسی پر کھانا دے رہے ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب

    سیلاب زدگان کو عزت کے ساتھ میز کرسی پر کھانا دے رہے ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سیلاب سے متاثر ہونے والوں کو اپنے لیے اللہ کی طرف سے مہمان قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سیلاب میں متاثر ہونے والے کسانوں کو 20 ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے امداد دیگی۔

    ساہیوال میں الیکٹرک بسوں کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا ساہیوال کے لیے 30 الیکٹرک بسیں لے کر آئی ہوں جس میں لوگ باعزت طریقے سے سفر کریں گے، ساہیوال کے لوگ جو سفر کئی سو روپے میں کیا کرتے تھے اب صرف 20 روپے میں کیا کریں گے،بس سروس خواتین، اسپیشل افراد، بزرگوں اور طلبہ کے لیے فری ہے جبکہ بس میں اسپیشل افراد کے لیے خصوصی ریمپ بھی بنایا گیا ہے، بس میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں، مانیٹر کریں گے کہ کہیں خواتین کو ہراساں نہ کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا ساہیوال والے نواز شریف سے اور نواز شریف ساہیوال والوں سے پیار کرتے ہیں، ایکسپریس وے بنائی تو نوازشریف نے بنائی، ایٹمی دھماکے کیے تو نوازشریف نے کیے، ملک سے نواز شریف کی خدمات نکال دو تو کھنڈرات کے سوا کچھ نہیں بچے گا،معرکہ حق میں ہم نے تاریخی فتح حاصل کی، معرکہ حق میں کامیابی سے دنیا میں پاکستان کا وقار بلند ہوا، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ اہم سنگ میل ہے، مکہ اور مدینہ ہمارے لیے پاک دھرتی ہیں، پاکستان اب خادمین الحرمین الشریفین میں شامل ہو گیا ہے،پنجاب میں پاکستان کی تاریخ کا بدترین سیلاب آیا، 25 لاکھ افراد کو سیلاب آنے سے پہلے محفوظ مقام پر منتقل کیا، سیلاب میں پھنسے لاکھوں لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا، 2 ملین سے زیادہ جانوروں کو بھی محفوظ مقام پر پہنچایا۔

    انہوں نے کہا کہ جتنے لوگوں کو ریسکیو کیا انہیں اپنا مہمان سمجھتے ہیں، میرے لیے وہ سیلاب زدگان نہیں اللہ تعالی کے مہمان ہیں، سیلاب زدگان کو عزت کے ساتھ میز کرسی پر کھانا دے رہے ہیں، جس کا گھر مکمل تباہ ہوا اسے 10 لاکھ روپے ملیں گے، جس کا مٹی کا گھر گرا اسے 5 لاکھ روپے ملیں گے، جس کی گائے بھینس بہہ گئی ہے اسے 5 لاکھ روپے ملیں گے اور جس کی بھیڑ بکڑی بہہ گئی ہے اسے 50 ہزار روپے ملیں گے، سیلاب سے پہنچنے والے نقصان پر کسانوں کو 20 ہزار روپے فی ایکڑ امداد دیں گے،ا پنجاب کے ہر ضلع میں بے گھر لوگوں کیلئے گھر بنائے جارہے ہیں، وزیراعلیٰ کا کام ہے کہ دکھ کی گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑے ہوں، کوئی ایسا شخص نہیں تھا جو حکومت میں ہو اور چین سے سو رہا ہو، 15 لاکھ گھرانوں کو راشن کارڈ فراہم کیا جا رہا ہے، اپنا گھر اسکیم کے تحت 80 ہزار گھر بن رہے ہیں۔