سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے دریائوں کے کناروں پر تجاوزات میں اضافے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجاوزات کی وجہ سے سیلاب بہت زیادہ نقصان کا باعث بنتا ہے، تجاوزات کے ذمہ داروں کا تعین اور ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے، دریائوں کے کنارے غیر قانونی طور پر آباد افراد کو دوسرے مقامات پر منتقل کرنے کے لئے جامع حکمت عملی اپنائی جائے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر شمیم آفریدی کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں وزارت آبی وسائل ، فیڈرل فلڈ کمیشن ، ارسا اور دیگر متعلقہ صوبائی افسران نے شرکت کی۔
قائمہ کمیٹی کےاراکین نے کہا کہ جب بھی بارشیں ہوتی ہیں تجاوزات کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے ، پانی کے قدرتی راستوں پر تجاوزات ختم ہونی چاہیے ۔یہ تجاوزات راتوں رات نہیں قائم نہیں ہوئیں ان کے ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہئے ۔
جوائنٹ سیکرٹری آبی وسائل سید مہر علی شاہ نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کی طرف چھوڑے جانے والے پانی کے اعدادو شمار دیئے جارہے ہیں اور آج صبح دریائے ستلج میں پاکستان کی طرف پانی کا بہائو ایک لاکھ کیوسک تھا ۔ تربیلا ڈیم اپنی مکمل گنجائش کے مطابق بھر چکا ہے۔ سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد تعاون پر مبنی حکمت عملی کے ذریعے ہونا چاہئے باضابطہ ذرائع کے ذریعہ آپس میں رابطہ ہوتا رہتا ہے ۔
سیکرٹری آبی وسائل نے کہا کہ دریائے ستلج دریائے سندھ کی طرح بڑادریا ہے اس کے رستے میں تین بیراج ہیں، یہ دریا بہت عرصے سے خشک پڑا ہے۔ چیئرمین فیڈرل فلڈ کمیشن احمد کمال نے کمیٹی کو بتایا کہ 2011-12-14-15 ء کے سیلاب میں 4کروڑ سے زائد افراد بے گھر ہوئے تھے۔ پنجاب کے ریور ایکٹ کے تحت لوگوں کی آباد کاری کا طریقہ کار موجود ہے۔
دوسری جانب بھارتی آبی جارحیت سے پاکستان کے زرعی اور کچے کے علاقے ڈوبنے لگے .راجن پور کچے کی 15 سے زائد بستیاں اور کئی ایکڑ فصلیں زیر آب آگئیں، بھارت کی جانب سے چھوڑا گیا پانی کل کوٹ مٹھن سے گزرے گا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دریا کنارے ریلیف کیمپ قائم کردیا گیا۔
دریائے سندھ کوٹ مٹھن کے مقام پر بھارت کی طرف سے چھوڑا گیا پانی مسلسل اپنی سطح کو بلند کیے ہوئے ہے.جس سے مزید تباہی کا خدشہ ہے فلڈ کنٹرول روم کی اطلاعات کے مطابق دریائے سندھ کے سیلابی پانی سے کچے کی 15 سے زائد بستیاں ڈوب چکی ہیں جہاں سے لوگ محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کررہے ہیں.
بھارت کی جانب سے چھوڑا گیا پانی کل کوٹ مٹھن اور روجھان کے مقام سے گزرے گا جس کی وجہ سے اونچے درجے کا سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے مختلف مقامات ریلیف کیمپ بھی قائم کر دیے گئےہیں