Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستان سے متعلق بھارتی میڈیا کا ایک اور جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    پاکستان سے متعلق بھارتی میڈیا کا ایک اور جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    پاکستان سے متعلق بھارتی میڈیا کا ایک اور جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب ہو گیا

    پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے بھارتی چینل کے گمراہ کن دعوؤں کی تردیدکردی،ریپبلک ٹی وی نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ؛ پاکستان مغربی ممالک اور اسرائیل کی نگرانی میں 20 ہزار فوجی غزہ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے.گودی میڈیا کے چینل نے مضحکہ خیز دعویٰ کیا کہ؛ پاکستان نے اپنے پاسپورٹ سے "اسرائیل کیلئےنا قابل استعمال” کی شق بھی ختم کر دی

    وزارت خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق؛ پاسپورٹ کی شق بدستور برقرار ہے، اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی،ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ پر اب بھی درج ہے کہ؛”یہ پاسپورٹ اسرائیل کے علاوہ تمام ممالک کے لیے قابلِ استعمال ہے "بھارتی چینل کا پروپیگنڈا بے نقاب کرتے ہوئے وزارتِ اطلاعات و نشریات پاکستان نے واضح کیا کہ؛پاکستان کا اسرائیل سے متعلق مؤقف بالکل واضح اور دو ٹوک ہے،پاکستان نے نہ کبھی اسرائیل کو تسلیم کیا نہ ہی کسی قسم کا فوجی تعاون زیرِ غور ہے،

    پاکستان کا فلسطینی حقِ خود ارادیت کی حمایت میں مؤقف واضح اور اصولی ہے ،ریپبلک ٹی وی کا من گھڑت دعویٰ کسی علاقائی یا بین الاقوامی میڈیا نے رپورٹ نہیں کیا،بے بنیاد اور من گھڑت کہانیاں گھڑ کر پاکستان کیخلاف زہریلا پروپیگنڈا کرنا گودی میڈیا کا وطیرہ ہے

  • پاک فوج سےوالہانہ محبت اورشہداء کوخراجِ عقیدت، جامعہ پشاور کی طالبات کا یادگار دن

    پاک فوج سےوالہانہ محبت اورشہداء کوخراجِ عقیدت، جامعہ پشاور کی طالبات کا یادگار دن

    پاک فوج کے زیرِ انتظام جامعہ پشاور کی طالبات کا پاک فوج کے ساتھ خصوصی دن مختص کیا گیا

    ایونٹ کا مقصد طالبات کو پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور ذمہ داریوں سےآگاہ کرنا تھا،طالبات نے یادگار شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی، فاتحہ خوانی کی اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا،کور کمانڈر پشاور نے خصوصی نشست میں طالبات کےمختلف سوالات کے تفصیلی جوابات دیے،پاک فوج کے جدید ہیلی کاپٹرز، جہازوں کے مواصلاتی آلات،ہتھیاروں کی نمائش اورکاؤنٹر ٹیررزم شو طالبات کی دلچسپی کا مرکز رہے،طالبات نے امید اسپیشل سکول کے بچوں سے ملاقات کے ساتھ ساتھ سی ایم ایچ پشاور میں زخمیوں کی عیادت بھی کی

    طالبات نے اس موقع پراپنےخیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:پاک فوج اور وطن عزیز کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا ء ہمارا فخر ہیں.پاک فوج کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈاکیاجاتا ہے،افواج پاکستان ملکی دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں اسی لئےہماری فوج ہمارا افتخار ہے،

  • شہید ایس ایچ او کے بیٹے کا والد کے نقش قدم پر چلنے کاعزم

    شہید ایس ایچ او کے بیٹے کا والد کے نقش قدم پر چلنے کاعزم

    ضلع کیچ کے علاقہ بھگ ناری کے شہیدایس ایچ او لطیف کھوسہ بہادری و جرات کی مثال ہیں

    بلوچستان میں ضلع کیچ کے علاقہ بھگ ناری لیویز اسٹیشن پر فتنہ الہندوستان کے حملہ میں ایس ایچ او، لطیف کھوسہ شہید ہوئے ،شہید ایس ایچ او لطیف کھوسہ کا جوان فرزند بھی پولیس فورس میں شامل ہو کر والد کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہیں،شہید ایس ایچ او لطیف کھوسہ کے بیٹے نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئےکہا؛”میرے والد ایک بہترین شخصیت کے مالک اور فرض شناس پولیس آفیسر تھے”میں اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کا عزم رکھتا ہوں،مجھے اپنے والد پر فخر ہے اور پورا بلوچستان انہیں سلام پیش کرتا ہے ،

    فتنہ الہندوستان کی نام نہاد “آزادی تحریک” بلوچ عوام کی جنگ نہیں بلکہ دشمن قوتوں کے اشاروں پر ناچنے والا دہشتگرد ٹولہ ہے

  • ایف سی بلوچستان  نوجوانوں کو باصلاحیت اور خود مختار بنانے کے مشن پر کوشاں

    ایف سی بلوچستان نوجوانوں کو باصلاحیت اور خود مختار بنانے کے مشن پر کوشاں

    ایف سی بلوچستان (نارتھ) صوبہ کے نوجوانوں کو باصلاحیت اور خود مختار بنانے کے مشن پر کوشاں ہے

    ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے زیر اہتمام ضلع نوشکی میں ای کامرس تربیتی کورس کامیابی سے مکمل کر لیا گیا،تربیتی کورس میں 100 سے زائد طالبات نے شرکت کی،تربیتی کورسز میں ای کامرس، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویب ڈیزائننگ اور بزنس مینجمنٹ کی تربیت فراہم کی گئی،کورس میں طالبات کو عالمی ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پرخصوصی توجہ دی گئی ،تربیتی کورس کا مقصد خواتین کو خود مختار بنانا تھا تاکہ وہ معاشرہ میں باعزت روزگار حاصل کرسکیں،تربیتی کورس کی اختتامی تقریب میں کامیاب طالبات میں آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے لیپ ٹاپس بھی تقسیم کئے

    کورس میں شریک طالبات کا کہنا تھا کہ ؛ڈیجیٹل کورس کی سہولت فراہم کرنے پر ہم ایف سی بلوچستان اور پاک آرمی کے شکر گزار ہیں ،یہ تربیت ہمارے لیے نیا آغاز ہے، اب ہم عالمی ڈیجیٹل دنیا میں آگے بڑھ سکتے ہیں، ای کامرس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ سمیت مختلف اسکلز سے ہم گھر پر رہ کر بھی کام کر سکیں گی

    ڈیجیٹل کورس کے اساتذہ کا کہنا تھا کہ ایف سی بلوچستان نے جدید لیب اور لیپ ٹاپس فراہم کیے جن سے طالبات نے عملی طور پر سیکھا اور کمانابھی شروع کیا،علاقے کے عمائدین نے ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے احسن اقدام کو نوجوانوں کی ترقی اور خودکفالت کی جانب مثبت قدم قرار دیا

  • پاک افغان جنگ بندی،  مشترکہ اعلامیہ خوش آئند ، افغانستان  سے وعدہ پورا کرنے کی توقع

    پاک افغان جنگ بندی، مشترکہ اعلامیہ خوش آئند ، افغانستان سے وعدہ پورا کرنے کی توقع

    پاکستان نے استنبول (ترکی) میں اور دوحہ (قطر) کی ثالثی سے طے پانے والے عارضی سمجھوتے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سرحدی امن کا مقصد اہم ہے مگر یہ کہ یہ جنگ بندی نہ تو لازمی طور پر غیر محدود ہے اور نہ ہی بلاشرط۔

    اس عارضی سمجھوتے کا واحد حقیقی امتحان یہ ہوگا کہ کیا افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے گا اور کیا وہ “فتنہ الخوارج” (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد عناصر بشمول “فتنہ الہندوستان” (بی ایل اے) کے خلاف واضح، قابلِ تصدیق اور مؤثر اقدامات اٹھائے گا۔

    بیان کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
    پاکستان نے استنبول میں ثالثی کے ذریعے حاصل ہونے والے عبوری فہم و تفاهم کو سراہا۔
    پاکستان امن و استحکام کے لیے پرعزم ہے مگر اس جنگ بندی کو غیرمشروط یا دائمی نہیں سمجھتا۔
    جنگ بندی کے تسلسل کا واحد معیار یہ ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے اور مطلوبہ کارروائیاں انجام دے۔
    پاکستان شواہدِ عمل کا منتظر ہے ، مثلاً دہشت گردوں کے ٹھکانے مٹانا، لاجسٹک چینلز کو تباہ کرنا، قیادت کی گرفتاریاں یا مقدمات، اور متفقہ نگرانی و توثیق کے میکانزم کے ذریعے شفاف رپورٹنگ۔
    اگر افغانستان متفقہ اقدامات کا قابلِ تصدیق ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہا یا افواج افغان سرزمین سے حملے جاری رکھیں، تو پاکستان جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھے گا اور اپنی خارجہ و داخلی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام اختیارات محفوظ رکھے گا۔
    ثالثین کے زیرِ نگرانی قائم کردہ مانیٹرنگ اینڈ ویریفیکیشن میکانزم ہی وہ غیرجانبدار ذریعہ ہو گا جو افغان طرف کی پابندی کا تعین کرے گا۔
    پاکستان نے واضح کیا کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ اس مرحلے میں داخل ہوا ہے مگر حقیقت پسندی کے ساتھ.ماضی کے بار بار ہونے والے سرحدی واقعات نے عملی نفاذ کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے، نہ کہ محض رسمی وعدوں کو۔
    افغانستان کو سمجھنا چاہیے کہ یہ انتظام ایک مشروط وقفۂ جنگ ہے .جس کا دارومدار افغان فریق کی زد پر ذمہ داری دکھانے پر ہے۔ ذمے داری پوری نہ ہونے کی صورت میں پاکستان کو دیگر اقدامات اختیار کرنے پڑیں گے۔
    حکومتِ پاکستان اور مسلح افواج اس بات میں متحد ہیں کہ امن ہماری ترجیح ہے مگر ملک کی ارضی سالمیت کا تحفظ ناقابلِ مذاکرات ہے۔

    ادھر دفاعی حلقوں نے بھی زور دیا کہ مانیٹرنگ میکانزم کی شفافیت اور میثاقِ عمل کی بروقت تکمیل امن کے تسلسل کے لیے لازمی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگرچہ ثالثانہ ثالثی ایک مثبت قدم ہے، مگر فریقین کی جانب سے عملی اقدامات اور باہمی اعتماد کی تعمیر ہی طویل المدتی امن کی کنجی ثابت ہوں گے۔

    پاکستان کے باضابطہ مؤقف کے مطابق یہ عارضی فریم ورک ایک موقع فراہم کرتا ہے مگر اس موقع کا دارومدار افغان حکام کی جانب سے قابلِ تصدیق پیش رفت اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ٹھوس کاروائی پر ہے۔

  • کوئٹہ میں موبائل انٹرنیٹ سروس بند

    کوئٹہ میں موبائل انٹرنیٹ سروس بند

    حکومت بلوچستان نے کوئٹہ میں موبائل انٹرنیٹ ڈیٹا سروس معطل کر دی ہے

    محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ موبائل فون ڈیٹا سروس امن و امان کی صورتحال کے باعث 24 گھنٹے کے لیے بند کی گئی ہے،محکمہ داخلہ بلوچستان کا بتانا ہے کہ موبائل فون ڈیٹا سروس آج رات 12 بجے تک بند رکھی جائے گی، ڈیٹا سروس بند ہونے سے طلبا، کاروباری حضرات، آن لائن خدمات سرانجام دینے والے صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس کئی روز کے لیے معطل رکھی گئی تھی،بعد ازاں صوبائی حکومت نے بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے 16 روز بعد صوبے میں انٹرنیٹ سروس بحال کر دی تھی۔

  • خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کارروائیاں جاری

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کارروائیاں جاری

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکورٹی فورسز نے حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ مختلف اضلاع میں ہونے والے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران کئی اہم شدت پسند کمانڈرز مارے گئے، جب کہ قبائلی عمائدین نے امن و امان کے قیام اور عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے ریاستی اداروں سے مکمل تعاون کا عزم دہرایا۔

    خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے مطلوب ترین دہشت گردوں کی فہرست جاری کر دی ہے، جس میں مجموعی طور پر 4.14 ارب روپے کے انعامات مقرر کیے گئے ہیں۔سی ٹی ڈی کے مطابق صوبے میں اس وقت 1,351 خطرناک دہشت گرد سرگرم ہیں، جو رواں سال کے دوران 500 سے زائد حملوں میں ملوث رہے۔ فہرست میں کرم کے کاظم خان (تین کروڑ روپے)، کمانڈر امجداللہ (دو کروڑ روپے) اور باجوڑ کے مولوی فقیر محمد (ڈیڑھ کروڑ روپے) سمیت کئی نام شامل ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق ان میں سے متعدد دہشت گرد افغانستان سے بھارتی حمایت یافتہ نیٹ ورکس کے ذریعے کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔

    باجوڑ کے علاقے دامادولا میں سیکورٹی فورسز نے ایک اہم کارروائی کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مرکزی کمانڈر قاری امجد سواتی عرف مفتی مزاحم کو ہلاک کر دیا۔ذرائع کے مطابق قاری امجد کے سر کی قیمت پچاس لاکھ روپے مقرر تھی۔ کارروائی خفیہ اطلاع پر عمل کرتے ہوئے کی گئی، جس میں اس کے متعدد ساتھی بھی مارے گئے۔ چند روز قبل منظر عام پر آنے والی ایک ویڈیو میں اس کی باجوڑ میں موجودگی کی تصدیق ہوئی تھی۔

    سیکورٹی ذرائع کے مطابق اسلامک اسٹیٹ خراسان (ISKP) سے تعلق رکھنے والا سینئر کمانڈر عرب خان عرف ضیاء الدین ایک آپریشن میں ہلاک ہو گیا۔وہ ٹی ٹی پی کے کمانڈر مالنگ بچہ کے ساتھ مل کر سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور ہدفی قتل کی کئی وارداتوں میں ملوث تھا۔اطلاعات کے مطابق ضیاء الدین کو افغان طالبان کے انٹیلی جنس ونگ کی معاونت سے ایک کارروائی کے لیے بھیجا گیا تھا، جو ٹی ٹی پی اور داعش کے بڑھتے گٹھ جوڑ کو ظاہر کرتا ہے۔

    ضلع مہمند کے علاقے عنبر میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں فتنہ الخوارج، جماعت الاحرار سے وابستہ دہشت گرد اسداللہ عرف یار مارا گیا۔ذرائع کے مطابق وہ سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملوں، بھتہ خوری اور تخریب کاری میں ملوث تھا۔اسی دوران ڈی آئی جی سجاد خان اور ڈی پی او سلیم عباس کلچی نے قبائلی عمائدین سے ملاقات کی، جنہوں نے علاقے میں امن و استحکام کے لیے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

    سنٹرل کرم میں ایک خفیہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے زیر استعمال آن لائن رابطہ نیٹ ورک اور کمپیوٹر سینٹر کو تباہ کر دیا گیا۔آپریشن کا مقصد علاقے میں دہشت گردوں کے رابطے کے ذرائع کو منقطع کرنا تھا۔

    ضلع بنوں کے علاقے ککی میں پولیس اہلکار کانسٹیبل پیر عباس پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، تاہم وہ محفوظ رہے۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد زخمی ہوا جبکہ دیگر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے اپی گاؤں، ڈامی پل روڈ پر پولیس موبائل پر دہشت گردوں نے فائرنگ کی۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    پشاور کے علاقے چمکنی میں ڈکیتی کی واردات کے دوران بی آر ٹی کے سیکیورٹی گارڈ محمد عاصم کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق عاصم کی شادی 16 نومبر کو طے تھی اور شادی کے دعوت نامے تقسیم ہو چکے تھے۔ پولیس نے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

    بلوچستان کے علاقوں چلتن (کوئٹہ) اور بلیدہ (کچ) میں ہونے والے آپریشنز میں سیکیورٹی فورسز نے 18 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد بھارتی حمایت یافتہ نیٹ ورک فتنۂ ہندستان سے وابستہ تھے اور صوبے میں تخریب کاری کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔کارروائیوں میں بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد ہوا۔ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے تِلی میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے لیویز اہلکار محمد حسین شہید اور ایک اہلکار جمیل شیخ زخمی ہوگئے۔زخمی کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔قلات میں ایک نامعلوم عسکریت پسند تنظیم نے دو حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، تاہم سیکیورٹی ذرائع نے ابھی اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔بیان کے مطابق عسکریت پسندوں نے مکائی میں راشن پہنچانے والی گاڑیوں اور گیراپ کے علاقے میں ایک فوجی چوکی کو نشانہ بنایا۔سیکیورٹی ادارے حملوں کی نوعیت اور نقصان کی تصدیق کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔

    ان تازہ کارروائیوں اور اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف فیصلہ کن مرحلہ شروع کر دیا ہے، جس میں مقامی عوام، قبائلی عمائدین اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔

  • جنسی سیکنڈل،برطانوی بادشاہ نے بھائی سے پرنس کا لقب واپس لے لیا

    جنسی سیکنڈل،برطانوی بادشاہ نے بھائی سے پرنس کا لقب واپس لے لیا

    برطانیہ کے بادشاہ چارلس نے اپنے بھائی شہزادہ اینڈریو سے ‘پرنس’ کا لقب واپس لیتے ہوئے انہیں شاہی رہائش گاہ خالی کرنے کا حکم دیدیا۔

    بکنگھم پیلس کے اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ پرنس اینڈریو کو اب اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کے نام سے جانا جائے گا اور انہیں ‘پرنس’ کے لقب سے نہیں پکارا جائے گا، اب وہ شاہی رہائش گاہ رائل لاج سے منتقل ہو کر نجی رہائش اختیار کریں گے۔بکنگھم پیلس کے بیان میں کہاگیا کہ یہ اقدامات ضروری سمجھے گئے ہیں، رپورٹس کے مطابق بادشاہ چارلس نے یہ فیصلہ شاہی خاندان کی ساکھ کو محفوظ رکھنےکے لیے کیا ہے۔

    یاد رہے کہ شہزادہ اینڈریو پر جنسی جرائم میں ملوث جیفری ایپسٹین سے تعلقات پر طویل عرصے سے تنقید جاری تھی اور کئی ہفتوں سے شہزادہ اینڈریو کو ان کی جیفری ایپسٹین سے دوستی اور جنسی اسکینڈل کے باعث شاہی خاندان سے الگ کرنے کا مطالبہ بڑھ رہا تھا،پرنس اینڈریو جنسی الزامات کے بعد رواں ماہ کے آغاز میں ڈیوک آف یارک سمیت دیگر شاہی القابات سے دستبردار ہوگئے تھے۔ پرنس اینڈریو نے بیان میں کہا تھا کہ وہ اب بھی پرنس کے طور پر جانے جائیں گے لیکن وہ آئندہ اپنے شاہی خطابات استعمال نہیں کریں گے،تاہم بادشاہ چارلس نے آج ان سے ‘پرنس’ کا لقب بھی واپس لے لیا۔

  • امریکی سینیٹ، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر عائد ٹیرف مسترد

    امریکی سینیٹ، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر عائد ٹیرف مسترد

    امریکی سینیٹ نے علامتی اقدام اٹھاتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر عائد ٹیرف کو مستردکردیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدرٹرمپ کی جانب سے استعمال کردہ ایمرجنسی پاورز کو ختم کرنے کے لیے سینیٹ کی جانب سے علامتی اقدام کرتے ہوئے قرارداد پاس کی گئی تاہم اس قرارداد پر عمل لازم نہیں،تمام ڈیموکریٹس نے صدر ٹرمپ کے خلاف ووٹ دیا اور مخالفت میں ووٹ دینے والوں میں صدر ٹرمپ کی اپنی ری پبلکن پارٹی کے 4 اراکین بھی شامل تھے، اس طرح 47 کے مقابلے میں 51 ووٹ ڈالے گئے،اس سے پہلے سینیٹ نے صدر ٹرمپ کے اُن اختیارات کے خلاف ووٹ کیا تھا جن کے تحت صدر ٹرمپ نے برازیل پر 50 اور کینیڈا پر 35 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا۔

  • کمسن بچی پر سگی والدہ کا تشدد، پولیس کی کاروائی

    کمسن بچی پر سگی والدہ کا تشدد، پولیس کی کاروائی

    سوشل میڈیا پر ایک کمسن بچی طفلکہ فاطفہ گل پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عوامی سطح پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور واقعے کو نہایت افسوسناک اور دل خراش قرار دیا گیا۔

    ترجمان پولیس کے مطابق افسران بالا کی ہدایت پر پشاور پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ویڈیو میں ملوث خاتون کا سراغ لگا لیا۔ایس ایچ او تھانہ شاہ پور عمران خان نے تفتیشی طریقہ کار اور علاقائی معلومات کی بنیاد پر خاتون مسماۃ (ص) زوجہ عدنان کا سراغ لگا لیا جو کہ شاہ پور کے علاقے وڈپگہ میں والد کے گھر میں رہائش پذیر ہے۔ ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ویڈیو میں بچی پر تشدد کرنے والی خاتون دراصل بچی کی سگی والدہ ہے۔ملوث خاتون نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ ویڈیو اس نے اپنے شوہر عدنان کے گھر واقع ہشتنگری کچی محلہ میں گھریلو ناچاقی کے دوران بنائی تھی۔ خاتون نے مزید بتایا کہ وہ میکے علاقہ شاہ پور آئی ہوئی ہے اور ویڈیو سوشل میڈیا پر اس کی دیورانی نے اپ لوڈ کی۔خاتون نے اپنے کیے پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے پولیس اور عوام سے معافی مانگی اور یقین دہانی کرائی کہ مستقبل میں ایسا کوئی اقدام نہیں دہرایا جائے گا۔