Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سیلاب،مرکزی مسلم لیگ کا جلال پور میں ریسکیو آپریشن وسیع،قاری یعقوب شیخ کا دورہ

    سیلاب،مرکزی مسلم لیگ کا جلال پور میں ریسکیو آپریشن وسیع،قاری یعقوب شیخ کا دورہ

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی سیلاب متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،جلال پورپیر والا سمیت دیگر اضلاع میں کشتیوں کے ذریعے متاثرہ شہریوں کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے ، جلال پور میں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے کشتی الٹنے کے بعد شہریوں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا، مرکزی مسلم لیگ کے رہنما قاری یعقوب شیخ امدادی کاموں کی نگرانی کے لئے متاثرہ اضلاع کے دورے پر ہیں، مرکزی مسلم لیگ سندھ کے صدر فیصل ندیم بھی رضاکاروں کے ہمراہ جلال پور پیر والا پہنچ چکے ہیں،

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر سیلاب متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،
    لاہور موہلنوال، کنگن پور قصور، چنیوٹ، لودھراں، مظفر گڑھ، بہاولپور،جلال پور پیر والا میں خیمہ بستیوں میں متاثرین کو پکی پکائی خوراک دی جا رہی ہے، میڈیکل کیمپوں میں‌مریضوں کا علاج معالجہ کیا جا رہا ہے،جلال پور پیر والا میں مرکزی مسلم لیگ نے مزید کشتیاں منگوا کر ریسکیو آپریشن بھی مزید تیز کر دیا ہے، جوائنٹ سیکرٹری مرکزی مسلم لیگ قاری محمد یعقوب شیخ نے جلالپور پیر والہ میں مرکزی مسلم لیگ کے وفد کے ہمراہ سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا۔ وفد میں مرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر چوہدری سرور، جنوبی پنجاب کے صدر عمران لیاقت بھٹی، راشد علی سندھو اور مسلم یوتھ لیگ جنوبی پنجاب کے صدر عبدالحنان سمیت دیگر رہنما بھی شریک تھے۔اس موقع پر قاری محمد یعقوب شیخ کا کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ خدمت خلق نے گزشتہ رات کشتی الٹنے پر بروقت اور برق رفتار ریسکیو آپریشن کرکے لوگوں کی جانیں بچائیں ریسکیو اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اسی جذبے کے تحت مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار سیلاب متاثرین کی خدمت اور ریسکیو سرگرمیوں میں دن رات مصروف عمل ہے۔مرکزی مسلم لیگ سندھ کے صدر فیصل ندیم بھی رضاکاروں کے ہمراہ جلا ل پور پیر والا میں موجود ہیں،مرکزی مسلم لیگ سندھ کی جانب سے جلال پور پیروالا میں سیلاب متاثرین کے لئے خیمہ بستی قائم کر دی گئی ہے، مرکزی مسلم لیگ سندھ کے صدر فیصل ندیم نے بہاولپور میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں لگائی گئی خیمہ بستی کا دورہ کیا انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی ان کے مسائل سنے اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے سیلاب متاثرہ اضلاع لاہور،قصور،سیالکوٹ، اوکاڑہ،گجرات، شیخوپورہ، اوکاڑہ، نارووال، ساہیوال،ملتان،بہاولپور،جھنگ، چنیوٹ، لودھراں ،بہاولنگر،بوریوالہ، وہاڑی،مظفر گڑھ سمیت دیگر اضلاع میں ریسکیو و ریلیف آپریشن جاری ہے، مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقلی کے علاوہ کھانے، خشک راشن سمیت دیگر اشیا کی تقسیم کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں، متاثرہ اضلاع میں میڈیکل کیمپوں میں مریضوں کا علاج معالجہ بھی کیا جا رہا ہے.

  • صحافی طارق ورک کے ساتھ ناروا سلوک،آر پی او راولپنڈی معذرت کرنے پریس کلب پہنچ گئے

    صحافی طارق ورک کے ساتھ ناروا سلوک،آر پی او راولپنڈی معذرت کرنے پریس کلب پہنچ گئے

    آر پی او راولپنڈی بابر سرفراز الپا نے کہا ہے کہ تھانہ نیو ٹاؤن راولپنڈی میں آر آئی یو جے کے صدر طارق ورک کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ پر ہمیں انتہائی افسوس ہے تاہم تھانہ نیو ٹاؤن راولپنڈی کے ایس ایچ او طیب کو معطل جبکہ محرر کیخلاف چارج شیٹ کر دی گئی ہے،

    یہ بات انہوں نے منگل کے روز وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور پی آئی او مبشر حسن کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے دورہ کے موقع پر صدر پی ایف یوجے افضل بٹ ، صدر آر آئی یو جے طارق ورک ، سیکرٹری نیشنل پریس کلب نیّر علی ، سینئر نائب صدر احتشام الحق، پی آر آے کے صدر عثمان خان ، جنرل سیکرٹری نوید اکبر اور صحافتی قیادت سے ملاقات کے دوران بتائی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ میں نے اور آر پی او راولپنڈی بابا سرفراز الپا نے تو یہ پیشکش بھی کی تھی کہ اس ناخوشگوار واقعہ پر معذرت کیلئے ہم طارق ورک کے گھر جانے کیلئے بھی تیار ہیں لیکن ان کی تجویز پر ہم پریس کلب حاضر ہو گئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ طارق ورک صحافتی تنظیم کے صدر اور عامل صحافی کے طور پر اچھی شہرت کے حامل ہیں اسلئے ان سمیت تمام صحافی برادری کی عزت و احترام پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ اس موقع پر آر پی او راولپنڈی نے مزید کہا کہ صدر آر آئی یو جے طارق ورک کے ساتھ تھانہ نیو ٹاؤن میں ناخوشگوار معاملے کو فوری حل کرنا چاہتے تھے لیکن چند وجوہات کی بنا پرایسا نہیں ہو سکا لیکن اب ایس ایچ او نیو ٹاؤن کو معطل کردیا ہے اور محرر کو چارج شیٹ کیا جا چکا ہے جبکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے پولیس افسران اور صحافتی برادری پر مشتمل اعلی سطحی کمیٹی بھی قائم کی جائے گی۔ اس موقع پر آر پی او راولپنڈی بابر سرفراز الپا صدر آر آئی یو جے طارق ورک سے بغلگیر ہوے، انہیں گلے لگاتے ہوے ان کی دلآزاری پر معذرت کی۔

    اس موقع طارق ورک نے کہا کہ ہم گاؤں کے رہنے والے لوگ ہیں جب کوئی چل گھر آئے تو پھر ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم اپنے آنے والے مہمان کا احترام نہ کریں ، ہماری علاقائی اور خاندانی روایت تو یہ ہے کہ کوئی قاتل بھی چل کر گھر آ جائے تو قتل بھی معاف کر دیا جاتا ہے اسلئے آپ سب حضرات کی آمد پر میں بھی دل سے درگزر کرتا ہوں۔ پی آئی او مبشر حسن نے اس موقع پر کہا کہ طارق ورک نے جس بڑے پن کا مظاہرہ کیا ہے اس پر میں اس کا شکر گزار ہوں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ ، پی آئی او مبشر حسن اور صحافتی لیڈر شپ نے ناخوشگوار واقعہ کے حل کیلئے آر پی او بابر سرفراز الپا کی کاوشوں کو سراہتے ہوے ان کا شکریہ ادا کیا۔

  • پاکستان اسلامک کونسل کی قطر پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت

    پاکستان اسلامک کونسل کی قطر پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت

    پاکستان اسلامک کونسل کی قطر پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت ۔ یہ حملہ صرف قطر پر ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام پر ہے ، اسرائیلی جارحیت کے سامنے بند نہ باندھا گیا تو کوئی بھی مسلم ملک محفوظ نہیں رہے گا ۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے پرنسپل ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ قطر پر اسرائیلی حملہ عالمی قوانین، انسانی حقوق اور اخلاقی اقدار کی کھلی خلاف ورزی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرہ ہے۔ اسرائیل نہ صرف مسلمانوں کے خون سے کھیل رہا ہے بلکہ اقوامِ عالم کے امن کو بھی داو پر لگا رہا ہے۔ اسرائیلی حکومت کی درندگی اور بربریت اب کسی ایک ریاست تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ رویہ پورے خطے کو لپیٹ میں لینے کی سازش ہے۔ عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی مظلوموں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ اگر اب بھی دنیا نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو ایک نئی عالمی تباہی کے دروازے کھل سکتے ہیں، جس کا نقصان صرف مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑے گا۔انھوں نے کہا کہ یہ وقت امتِ مسلمہ کے باہمی اتحاد اوربیدار ہونے کا ہے۔ مسلم حکمرانوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ امریکہ اور یہود و نصاریٰ کبھی بھی مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ ان کے وعدے، معاہدے اور دوستی کی باتیں محض فریب اور دھوکہ ہیں۔ اصل راستہ صرف قرآن و سنت کی رہنمائی اور مسلمانوں کی باہمی اتحاد و یکجہتی میں ہے۔اگر مسلمان آج بھی ایک صف میں کھڑے ہو جائیں سیسہ پلائی دیوار بن جائیں باہمی اختلافات ختم کردیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ آج ہمیں غیرتِ ایمانی جگانے اور باہمی اتحاد وا تفاق کی ضرورت ہے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمان اپنے دین سے وابستہ ہوئے،انھیں عزت وکامیابی ملی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح و نصرت عطا کی ہے ۔قطر پر اسرائیلی حملہ مسلمانوں کے باہمی اختلافات کا شاخسانہ ہے ۔ یہود کے عزائم کبھی ڈھکے چھپے نہیں رہے وہ عظیم تر اسرائیل کے قیام کے ناپاک خواب دیکھ رہا ہے اس وقت جو کچھ ہورہا ہے یہ سب اسی کی کڑی ہے اس کے سامنے بند باندھنا تمام مسلمان ممالک کا فرض ہے ۔

  • اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں سے اراکین پارلیمنٹ پریشان

    اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں سے اراکین پارلیمنٹ پریشان

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے استحقاق میں ممبر قومی اسمبلی سبین غوری کا کہنا ہے کہ مجھ پر پولیس اہلکار نے تشدد کیا، گاڑی سے گرنے سے زخمی ہوگئی تھی، مجھے باوردی پولیس والوں نے گالیاں دیں، پولیس والوں نے موقع پر موجود افراد کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔

    محمد افضل کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی استحقاق کے اجلاس میں رکن قومی اسمبلی سبین غوری سے اسلام آباد پولیس کے سب انسپکٹر کی بدتمیزی کا معاملہ زیر غور آیا،ایم این اے سبین غوری نے کہا کہ ایس ایس پی مصطفیٰ تنویر موقع پر آئے مجھے اسپتال لے کر گئے، ان پولیس اہلکاروں کے گھر والوں کا مجھے احساس ہے، جن اہلکاروں نے مجھ سے بد تمیزی کی وہ مجھ سےمعافی مانگیں تو معاف کر دوں گی،ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) اسلام آباد نے کہا کہ بدتمیری کرنے والے سب انسپکٹر کی عہدے سے تنزلی کی گئی، اسلام آباد پولیس ممبر قومی اسمبلی سے معدزت کرتی ہے۔

    ایم این اے شگفتہ جمانی نے کہا کہ معذرت قبول کرنے کا معاملہ کمیٹی کے پاس چھوڑیں، اسلام آباد پولیس والے چیک پوسٹ پر روک کر نام پوچھتے ہیں، اسلام آباد پولیس والے اپنی زبان پر کنٹرول کریں، خواتین پر ہاتھ اٹھاتے ہیں، روڈ پر کھڑی خواتین کو مارنے کی ویڈیو میرے پاس ہیں، اگر کوئی مظاہرہ ہو اور ہم پارلیمنٹ لاجز آناچاہیں تو یہ ہمیں چھوڑتے نہیں، جنھوں نے بدتمیزی کی انھیں مثال بنانا چاہیے۔نعیمہ کشور نے کہا کہ ایم این اے کو ناکے پر روک کر ٹارگٹ کیا جاتا ہے، خاتون کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔

    ڈی آئی جی نے کہا کہ پہلے اسلام آبادمیں 17 ناکے تھےجہاں سے شکایت آتی تھی، اب 6 ناکے رہ گئے ہیں، جن پولیس اہلکاروں کے خلاف شکایت تھی انھیں ناکے سے ہٹایا گیا، اب ناکوں پر نئے بھرتی شدہ اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے، اب ناکوں پر کیمرے ہیں، ناکے پر لڑکوں کو باڈی کیمرے دیے گئے ہیں، خواتین کی سہولت کیلئے آن لائن پولیس اسٹیشن متعارف کروایا ہے، جو کمیٹی حکم کرے گی اس پر عمل کریں گے۔ایم این اے اظہر قیوم نے کہا کہ مجھے ایک دفعہ ناکے پر اتار کر پولیس اہلکار نے 20 منٹ روکا، مجھے اہلکار نے کہا کہ آپ پر ایف آئی آر کاٹ دوں گا، اہلکار نے مجھے کہا کہ گاڑی سے اترو گے یا میڈیا کو بلاؤں، میں نے کہا کہ میں نے کیا کیا ہے، ایف آئی آر کیوں کرو گے، میں نے ایس پی پولیس سے رابطہ کیا جس نے کہا ایس ایچ او آ رہا ہے، ایس ایچ او نے آکر کہا کہ انھیں جانے دو یہ ایم این اے ہیں، پولیس اہلکار نےکہا کہ نہیں، آپ اسےجانے دیں گے، آپ اس پر ایف ائی آر کاٹیں، ایس ایچ او نے جان چھڑانے کیلئے پولیس اہلکار کو کہا کہ میں تھانے لے جا کر ایف آئی آر کاٹتا ہوں، اہلکار نے کہا کہ میں آپ کے پیچھے بائیک پر آؤں گا کیونکہ آپ اسے چھوڑ دیں گے۔اظہر قیوم نے کہا کہ ابھی چند روز قبل میں روات سے آرہا تھا تو وہ پولیس اہلکار وہاں ناکے پر تھا، میری گاڑی دیکھ کر وہ گاڑی کے سامنے آگیا، اہلکار اپنے ساتھی اہلکار کو کہتا ہے کہ یہ ایم این اے ہیں اور میرے دوست ہیں، میرے خیال میں وہ اہلکار نارمل نہیں ہے۔

    حکام اسلام آباد پولیس نے کہا کہ اگر اس پولیس اہلکار کا نام موجود ہے یا آپ کو اس کا علم ہے تو ہمیں تفصیلات دیں، میں نے ایس ایچ او کو کہا ہے کہ اس اہلکار کی نشاندہی کریں تاکہ اسے ہٹائیں۔طارق فضل چوہدری نے کہا کہ یہ ذہنی مریض لوگ ہیں، اس طرح کے لوگوں کے بارے میں ہدایت ہوتی ہے کہ انھیں پبلک ڈیلنگ پر نہ لگایا جائے، اس طرح کے اہلکاروں کو وردی سینے اور بوٹ پالش کرنے پر لگا دیا جائے۔ایم اے سبین غوری نے کہا کہ اہلکار کافی بار آکر مجھ سے معافی مانگ چکا ہے، وہ 10ماہ سے معطل ہے، سزا بھی کاٹ چکا ہے، محمد افضل بولے سب انسپکٹر کے خلاف ایکشن لیا ہے، اب سبین غوری معاف کرنا چاہتی ہیں تو کمیٹی اسے تسلیم کر لے۔

  • پاکستانی سفری دستاویزات بنوانے کی کوشش ناکام ، 5 افغان شہری گرفتار

    پاکستانی سفری دستاویزات بنوانے کی کوشش ناکام ، 5 افغان شہری گرفتار

    پاکستانی سفری دستاویزات بنوانے کی کوشش ناکام – 5 افغان شہری گرفتار کر لئے گئے

    ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل پشاور کی کاروائی،پاکستانی سفری دستاویزات بنوانے میں ملوث 5 افغان شہری گرفتار کر لئے گئے،گرفتار ملزمان میں نور احمد، حسیب اللہ، یار محمد، عبدالرحیم اور محمد حبیب شامل ہیں،ملزمان کا تعلق مزار شریف افغانستان سے ہے،ملزمان کو پشاور سے گرفتار کیا گیا،گرفتار ملزمان غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم تھے۔ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان غیر قانونی طور پر پاکستان داخل ہوئے تھے،گرفتار ملزمان پاکستان میں قانونی رہائش کے حوالے سے دستاویزات فراہم کرنے میں ناکام رہے۔گرفتار ملزمان ایجنٹ سے رابطے میں تھے،گرفتار ملزمان پاکستانی دستاویزات بنوانے کے غرض سے پاکستان آئے تھے،ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا

  • جلال پور میں 11 سرکاری کشتیاں, جن میں سے 9 کے انجن خراب ہونے کا انکشاف

    جلال پور میں 11 سرکاری کشتیاں, جن میں سے 9 کے انجن خراب ہونے کا انکشاف

    چیئرمین خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ شفیق الرحمان وڑائچ نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ جلال پور پیر والا میں سیلاب سے خوفناک تباہی ہوئی، حکومت ریسکیو کے نام پر قوم کو دھوکہ دے رہی،سرکاری 11 کشتیاں ہیں جن میں سے 9کے انجن خراب ہیں، چنے کے پیکٹ دے کر حکومت متاثرین کو کہہ رہی کہ دس دن کی خوراک ہے، خدا کے لئے حکومت متاثرین کے ساتھ مذاق بند کرے

    چیئرمین خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ شفیق الرحمان وڑائچ کا کہنا تھا کہ صحافی برادری سیلاب متاثرین کی آواز بنی ، انکے شکر گزار ہیں، سیلاب نے وطن عزیز کو بری طرح متاثر کیا ہے، اس میں بہت سی چیزیں نظر انداز ہوئیں انکو آج اجاگر کریں گے، تا کہ جو لوگ مشکل میں پھنسے ہیں ان کی مدد کر سکیں اور کسی بڑے انسانی المیے سے بچ سکیں، غذر سے لے کر خیبر پختونخوا، شانگلہ ،باجوڑ، مینگورہ سمیت دیگر علاقے سیلابی صورتحال سے متاثر ہوئے، بابو سر میں کلاؤڈ برسٹ ہوا وہاں امدادی سرگرمیاں ہماری جاری تھیں کہ اطلاع ملیں کہ چناب میں پانی آ گیا، چناب نے مختلف علاقے سیالکوٹ، نارووال کو ڈبونا شروع کیا پھرپانی وزیر آباد، پنڈی بھٹیاں، سے ہوتا ہوا آگے چلا گیا، علاقے ڈوبتے چلے گئے، لاہور راوی میں سیلابی ریلا آیا، وہ علاقے ڈوبے جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے، آج بھی اگر موہلنوال یا ملحقہ بستیوں‌میں جائیں تو دس دس فٹ پانی موجود ہے، کشتیوں کے ذریعے آج بھی وہاں ریسکیو جاری ہے، بدقسمتی یہ ہے کہ پانی مزید آ رہا ،راوی اور چناب کے پانی سے آگے علاقے ڈوب چکے ہیں، بڑے گاؤں زیر آب آ چکے ہیں، دویائے ستلج کو دیکھیں، گنڈا پورا سے پانی داخل ہوا تو پاکپتن بہاولنگر میلسی ہر علاقے کو ڈبو دیا، جلال پور پیر والا میں تینوں دریاؤں کا پانی اکٹھا ہوا اور وہاں خوفناک تباہی ہوئی ہے، 25 کلو میٹر تک جلال پور پیر والا میں ہم نے کشتی پر سفر کیا،ہزاروں گاؤں، لاکھوں لوگ ہیں جو پانی میں گھرے ہوئے ہیں، حکومت کو بار بار آگاہ کر رہے تھے کہ وسائل کو بروئے کار لائیں یہ پانی اب آگے بڑھ رہا ہے خان پور کا 80 فیصد علاقہ ڈوب چکا ہے، اب پانی سندھ میں داخل ہونا ہے، مرکزی مسلم لیگ لیگ کی ہر ضلع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، پیر امیڈیکل سٹاف متعلقہ علاقوں میں موجود ہے، خیبر پختونخوا میں ہم کوئی جان نہیں بچا سکے،وہ لمحوں کی تباہی تھی، بستیوں کے نام ونشان مٹ گئے، جن لوگوں کو وہاں ریسکیو کیا ان کو ادویات دیں، گھر صاف کئے، کھانا دیا، پنجاب میں اب انسانی جانوں کے ضیاع کا بہت بڑا خدشہ ہے،خیبر پختونخوا ،گلگت میں بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے،متاثرین کے گھر بنائیں گے ،روزگار کے لئے مدد کریں گے، یہ سانحہ حکومتوں کے بس کا نہیں،لیکن جو کام کر سکتے تھے اس میں غفلت کیوں ہے، جلال پور میں 11 کشتیاں ہیں جن میں سے 9 کے انجن خراب ہیں، ڈیڑھ لاکھ بندہ وہاں پھنسا ہوا اور آپ فوٹو شوٹ کروا رہے ہیں، ایک چنے کا پیکٹ دے کر کہتے ہیں کہ دس دن کی خوراک ہے، خدارا آگے بڑھیئے جانیں بچائیے، اخلاص نیت کے ساتھ کام کیجیے، ڈوبنے والے لاکھوں، بچانے والے کروڑوں ہم ایک قوم بن کر متحد کو سب کر سکتے ہیں

    مرکزی کسان لیگ کے صدر ذوالفقار اولکھ کا کہنا تھا کہ جو حالات ہیں حکومت اگر پانچ دس فیصد بھی کام کرتی تو یہ حالات نہ بنتے،کسان تو سیلاب میں مر چکا، اللہ یہ دن کسی کو نہ دکھائے، فصلیں سب بہہ گئی ہیں،ٹربائینیں بہہ گئی ہیں،ٹریکٹر بہہ گئے،18، 18 فٹ زمین کی سطح پر پانی آیا ہے، 25 اگست سے 5 ستمبر تک حکومت نے پوچھا ہی نہیں، صرف فوٹو سیشن جہاں تک گاڑیاں‌جاتی تھیں وہاں تک کیا گیا،کسانوں کی پچھلی فصل تیار تھی تباہ ہو گئی،یہ بارشوں کا پانی ہے لیکن پاکستانی بارشوں کا نہیں، منصوبہ بندی کے تحت یہ سب کچھ ہوا، بھارت نے آبی جارحیت کی،بھارت نے اپنی جنگ ہارنے کا بدلہ پاکستان سے لیا ہے، شہری آبادیاں محفوظ ہیں لیکن کھیتوں میں میڈیا بھی نہیں، ہماری چیخیں سننے والا کوئی نہیں، مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان نے ہمیں سنبھالا ہے،ڈی سی نارووال ثابت کریں کوئی سرکاری کشتی نہیں گئی، کوئی امداد نہیں دی گئی،اب ہم سے بجلی کے بل مانگے جا رہے ہیں، ہم کس چیز کے بل دیں، سب کچھ ڈوب گیا،بجلی ہم چلا نہیں سکے، مطالبہ کرتے ہیں کہ زمیندار کو ریسکیو کریں،بجلی کے بل معاف کیے جائیں،زرعی قرض فوری طور پر معطل ،معاف کئے جائیں، ہمارا سب کچھ بہہ گیا، ہم کیسے قرضے دیں، کسان ٹیکس دیتا ہے، سب کچھ کرتا ہے آج ہمارا کچھ نہیں بچا تو ہماری کوئی نہیں سن رہا،آبیانہ،کسان پر جگا ٹیکس یہ اب ختم کیا جائے،گندم کسان کے پاس تھی تو سستی تھی اب مہنگی ہو گئی اب قانون اور ضابطے ان کے کہاں گئے،جنگ صرف کسانوں کی نہیں تھی، وقار پورے وطن کا تھا،کسانوں پر بوجھ نہ ڈالا جائے،شہری آبادیاں محفوظ لیکن کسان کا کھیت غیر محفوظ ہے، حکومت کو فوری طور پر قومی سلامتی کا اجلاس بلانا چاہئے،بھارت نے ڈیموں سے پانی چھوڑا ہمیں برباد کیا، حکومت کو واضح لائحہ عمل دینا چاہئے،ہمارے مطالبے نہ مانے گئے تو ہم بھر پور احتجاج کریں گے، کسان سڑکوں پر نکلیں گے،حکومت کو کہنا چاہتا ہوں کہ کسان کو کھاد، بیچ دیں، 25 اضلاع پنجاب کے ڈوبے ہیں کسان کو ریلیف ملنا چاہئے، آبیانہ،بجلی، زرعی ٹیکس معاف ہونے چاہئے.اگر حکومت نے نوٹس نہ لیا تو معیشت بھی ڈوبتی رہے گی،مطالبے پورے نہ ہوئے تو پھر دما دم مست قلندر ہو گا، ہمارا گھر کیسے چلے گا

    مرکزی مسلم لیگ لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ اس وقت جو ملک کی کیفیت ہے اس کی بنیادی وجوہات کو تلاش کرنا چاہئے، معرکہ حق میں بھارت کی ناکامی کا بدلہ انہوں نے پاکستانی قوم سے لینے کا فیصلہ کیا اور پاکستان کے سب سے بڑے ڈوبے کو ڈبونے کا منصوبہ بنایا، سندھ طاس معاہدہ معطل کیا اور ڈیٹا بھی پاکستان کے ساتھ شیئر نہیں کیا، پاکستان اور بھارت میں بارشوں کا ڈیٹا دونوں حکومتوں کے پاس تھا لیکن بھارت نے ڈیٹا نہیں دیا اور پانی چھوڑ دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 25 اضلاع ڈوب گئے ،پاکستان کو قومی سلامتی کا اجلاس بلانا چاہے، بھارت نے بڑا آبی حملہ کیا،تین ہفتے ہونے والے ہیں، مسلسل راوی،ستلج ،چناب میں پانی آ رہا ہے،ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کمزوری نہ دکھائے اور مودی پر بھارتی آبی حملے کا مقدمہ درج کیا جائے،ہم کہتے ہیں کہ یہ پاکستان کی عوام کا مطالبہ ہے، پاکستان کے دشمنوں کوتگڑا جواب دینا چاہئے، جن لوگوں نے ماضی میں غلطیاں کیں،جماعت علی شاہ نے غداری کی،بھارت کو ڈیم بنانے کا موقع دیاایسے لوگوں کا احتساب ہونا چاہیے ،نقصانات کو مکمل جائزہ لیا جائے،مرکزی مسلم لیگ نقصانات پر وائیٹ پیپر جاری کرے گی، جس جس کا بھی نقصان ہوا سب کا ازالہ کیا جائے، موہلنوال کا علاقہ اور گردونواح کی بستیاں یہ مزدور،محنت کش تھے، انکے نقصانات کا ازالہ حکومت کی ذمہ داری ہے،پاکستان میں اناج، گندم کا جو بحران پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس پر فوری قابو پایا جائے، جھوٹ کی بجائے حقائق قوم کے سامنے رکھنے چاہئے، اس وقت ہندوستان حملہ‌آور ہے اور پوری پاکستانی قوم کو تیار رہنا چاہے، مرکزی مسلم لیگ تحریک شروع کرنے جا رہی ہے، ہم عوام کو ساتھ لے کر دشمنوں کو ایک مضبوط اور واضح پیغام دیں گے،ہم عوام میں شعور پیدا کریں گے کہ دشمن کیا کر رہا ہے، حکومتی جو غفلت کر رہی ہے ہم مجبور کریں گے کہ پاکستانی قوم کی آواز سنے ،نقصانات کاازالہ کیا جائے،اور آئندہ کے لئے سدباب کیا جائے، دریاؤں کی گزرگاہوں کو کھلا کیا جائے، ہم پورا منصوبہ حکومت کے سامنے رکھیں گے،موسمیاتی تبدیلی سے پورا خطہ متاثر ہے،ہمیں جب پانی کی ضرورت ہے تو بھارت نے دریاؤں کو بند کر دیا، بھارت پانی اکٹھا کرتا رہا، جب بارشیں ہوئیں تو مون سون کے دنوں میں بھارت نے پانی چھوڑا، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارت نے پانی چھوڑ کر آبی جارحیت کی ہے، پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر کے لئے غلط فہمیوں کو ختم کرنا چاہئے، جو سندھ یا دریائے کابل پر بن سکتے ہیں ان ڈیموں کو بنانا چاہئے،تا کہ بارشوں کے پانی کو کنٹرول کیا جا سکے،جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو گا بھارت آبی جارحیت کرتا رہے گا،اس وقت لوگوں کی زندگیاں بچانا اہم ہے، قومی سطح پر کام کرنے والے رفاہی اداروں کو کام کرنے کی مکمل اجازت ہونی چاہئے،

  • ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد مستعفی ،دو سال کیلیے گھر بھی مانگ لیا

    ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد مستعفی ،دو سال کیلیے گھر بھی مانگ لیا

    قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) سلیم شہزاد نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنا چار صفحات پر مشتمل استعفیٰ چیئرمین نیب کو ارسال کیا جس کی کاپی جیو نیوز نے حاصل کرلی۔

    استعفیٰ میں سلیم شہزاد نے لکھا کہ وہ "بھاری دل کے ساتھ” عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت کے مسائل اور ذاتی وجوہات کے باعث وہ مزید نیب میں خدمات انجام نہیں دے سکتے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان پر کرپشن کے کسی الزام میں کچھ بھی ثابت نہیں ہوا۔سلیم شہزاد نے اپنے استعفیٰ میں لکھا "میں فوج میں خدمات کے دوران انجری کے باعث میجر کے عہدے سے ریٹائر ہوا اور 1999ء میں نیب کے بانی ممبران میں شامل ہوا۔ میری پیشہ ورانہ زندگی 18ویں گریڈ سے شروع ہوئی اور ڈی جی (21ویں گریڈ) کے عہدے تک پہنچی۔” ڈی جی نیب لاہور نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں بطور ڈی جی تعیناتی کے دوران انہوں نے ریکارڈ کامیابیاں حاصل کیں، جب کہ اپریل 2017 میں نیب لاہور کی سربراہی سنبھالی۔”لاہور میں 5 سالہ مدت کے دوران عوامی مفاد کے کیسز پر بھرپور کام کیا۔””947 ارب روپے کی ریکوریز ممکن ہوئیں، جبکہ مجھ سے قبل 17 سال میں صرف 44 ارب روپے کی برآمدگیاں ہوسکی تھیں۔”

    سلیم شہزاد نے مزید کہا کہ انہوں نے میگا کرپشن کیسز پر کارروائی کی اور بخوبی جانتے تھے کہ بااثر شخصیات کے خلاف اقدامات پر شدید ردعمل آئے گا، مگر اس کے باوجود اپنی ذمہ داری پوری کرتے رہے۔استعفیٰ میں انہوں نے چیئرمین نیب سے درخواست کی کہ انہیں گھر میں 2 سال تک رکھنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے چیئرمین نذیر بٹ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہمیشہ زمینی حقائق سے آگاہ رکھا۔ ساتھ ہی نیب عملے اور اپنے بچوں کا بھی شکریہ ادا کیا جو مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے رہے۔

  • وزیرِ اعظم کاسیلابی صورتحال کے پیش نظر  زرعی ایمرجنسی کے نفاذ کی اصولی منظوری کا اعلان

    وزیرِ اعظم کاسیلابی صورتحال کے پیش نظر زرعی ایمرجنسی کے نفاذ کی اصولی منظوری کا اعلان

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
    وزیرِ اعظم نے ملک بھر میں رواں برس مون سون اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر کلائیمیٹ ایمرجنسی اور زرعی ایمرجنسی کے نفاذ کی اصولی منظوری کا اعلان کر دیا،وزیرِ اعظم چاروں صوبوں کے وزراء اعلی اور متعلقہ حکام پر مشتمل اجلاس کی جلد صدارت کریں گے جس میں موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے مزید نقصانات میں کمی کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل پر مشاورت ہوگی

    وفاقی کابینہ کو ملک میں سیلاب کی موجودہ صورتحال اور نقصانات پر بریفنگ دی گئی اور سیر حاصل مشاورت کے بعد ایمرجنسی کی اصولی منظوری کا فیصلہ کیا گیا. کابینہ ارکان نے ملک میں لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی اور فصلوں کے نقصانات پر روشنی ڈالی اور انفراسٹرکچر کی بحالی و زراعت میں ہونے والے نقصانات کے ازالے اور کسانوں کی معاونت کے حوالے سے بھی تجاویز دیں.

    وفاقی کابینہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شہداء اور افواجِ پاکستان کے مخالف تضحیک آمیز مواد و بیان نشر کرنے کی بھرپور الفاظ میں مزمت کی، پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت میں دن رات مصروف عمل افواج پاکستان کے افسران و جوانوں کو اور ملک میں امن کے قیام کیلئے عظیم قربانیاں دینے والے شہداء اور ان کے اہل خانہ کو خراج تحسین پیش کیا. وفاقی کابینہ نے ایسے شر پسند عناصر کے سد باب کیلئے سخت ایکشن لینے کی ہدایت کی. اس موقع پر وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایسے عناصر کی ہر فورم پر حوصلہ شکنی اور انکی تضحیک آمیز مہم کا جواب ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے. انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم اپنے شہداء اور ان کے اہل خانہ کی عظیم قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی. مجھ سمیت پوری قوم کو اپنے شہداء اور ان کے اہل خانہ پر فخر ہے. وفاقی کابینہ نے بنوں آپریشن میں عظیم قربانی دینے والے میجر عدنان اسلم شہید کیلئے بلندی درجات کی دعا کی.

    وفاقی کابینہ نے وفاقی وزیرِ سمندری امور جنید انور چوہدری کی مرحومہ والدہ، وزیرِ مملکت غذائی تحفظ ملک رشید احمد خان کے مرحوم بڑے بھائی حاجی حنیف خان اور سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے مرحوم والد آصف سنجرانی کیلئے بھی دعائے مغفرت کی.

    وزیراعظم نے گزشتہ روز دوحہ میں اسرائیلی فورسز کی طرف سے غیر قانونی اور گھناؤنی بمباری کی شدید مذمت کی جس کے نتیجے میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا اور املاک کو نقصان پہنچا۔ وزیرِ اعظم نے گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے عزت مآب امیرِ قطر، قطری شاہی خاندان اور قطر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

    وزیرِ اعظم کی ہدایت پر عوامی ریلیف کیلئے ایک بڑا اقدام. وفاقی کابینہ نے وزارت پیٹرلیم کی سفارش پر گیس کنکشنز کے منتظر صارفین کو RLNG کنکشنز کی فراہمی کی منظوری دے دی. منظوری کے بعد سوئی سدرن اور سوئی نادرن گیس کمپنیاں کنکشنز کی فراہمی کا عمل شروع کریں گی. کابینہ کو بتایا گیا کہ ان کنکشنز کے ذریعے ملنے والی RLNG پر صارفین کی LPG سے 30 فیصد کم لاگت آئے گی. وفاقی کابینہ نے وزارت ریلوے کی سفارش پر ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کے مابین مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی پر سہ فریقی حکومتی فریم ورک معاہدے کی بعد از وقوع توثیق کی گئی۔ اس معاہدے پر دستخط گزشتہ ماہ ہوئے تھے اور یہ علاقائی تجارت و رابطہ کاری کے لیے ایک اہم منصوبہ ہے۔ کابینہ کی توثیق اس اسٹریٹیجک منصوبے کی تکمیل کیلئے حکومتی عزم کا اعادہ ہے۔

    وفاقی کابینہ نے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)، بین الحکومتی تجارتی لین دین (سی سی او آئی جی سی ٹی) اور قانون سازی کیسز (سی سی ایل سی) سے متعلق کابینہ کمیٹیوں کے فیصلوں کی بھی توثیق کی۔

  • وزیراعظم  شہباز شریف سے بحرین کے وزیر داخلہ کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے بحرین کے وزیر داخلہ کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بحرین کے وزیر داخلہ جنرل راشد بن عبداللہ آل خلیفہ نے آج وزیراعظم ہاؤس ، اسلام آباد میں ملاقات کی۔ وزیراعظم نے بحرین کے وزیر داخلہ کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔ وزیر اعظم نے بحرین کے شاہ عزت مآب حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    انہوں نے کہا کہ بحرین پاکستان کی درمیان گہرے برادرانہ تعلقات ہیں جو گزرتے وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بحرین کے ساتھ تجارت سمیت دیگر مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحرین میں ایک لاکھ 20 ہزار کے قریب پاکستانی موجود ہیں جو دونوں ممالک کی ترقی میں ایک کردار ادا کر رہے ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بحرین کے سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کے لئے تیز تر ویزہ پراسیسنگ کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہماری خواہش ہے کہ بحرین پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرے جیسا کہ ہم بیرونی سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہیں؛ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل اس حوالے سے نمایاں کردار ادا کر رہی ہے ۔

    وزیر اعظم نے بحرین کے پولیس اہلکاروں کی نیشنل پولیس اکیڈیمی، اسلام آباد میں تربیت کے حوالے سے بھی پیشکش کی۔بحرین کے وزیر داخلہ نے پاکستان میں پرتپاک استقبال اور میزبانی پر پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ملاقات میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔

  • وزیراعظم  کا سندھ بالخصوص کراچی میں سیلابی صورتحال کا نوٹس

    وزیراعظم کا سندھ بالخصوص کراچی میں سیلابی صورتحال کا نوٹس

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نےسندھ بالخصوص کراچی میں سیلابی صورتحال کا نوٹس لیا ہے

    وزیراعظم نے این ڈی ایم اے کو کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں سیلاب کے پیش نظر امدادی کاروائیوں کے لیے صوبائی حکومت اور سندھ ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سے مکمل تعاون کرنے کی ہدایت کی،وزیراعظم نے کراچی میں متحرک امدادی کاروائیوں پر ریسکیو 1122، پاک فوج اور رینجرز کی پزیرائی کی،وزیراعظم نے گڈاب ندی میں شہریوں کے ڈوبنے پر اظہار افسوس کیا،وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو سیلاب میں لا پتہ افراد کو جلد از جلد تلاش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ عوام کو سیلابی صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے اگاہی مہم کو مزید متحرک کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری سیلاب سے بچ سکیں،

    وزیراعظم نے سیلاب سے متاثرہ نظام مواصلات کی جلد از جلد بحالی کے لیے اقدامات لینے کی ہدایت کی اور کہا کہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وفاق اور سندھ حکومت مکمل طور پر متحرک ہیں،کراچی میں سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی امداد اور بحالی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات لیے جائیں،