Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • چین خواب سے حقیقت تک،تحریر:سعدیہ مقصود

    چین خواب سے حقیقت تک،تحریر:سعدیہ مقصود

    چین ایک ترقی یافتہ ملک ہے جسے دیکھنے کا خواب شاید بہت سے لوگوں نے دل میں بسایا ہو۔پاکستان سمیت پوری دنیا چین کی ترقی کی معترف ہے۔چائنہ ڈپلومیسی ایسوسی ایشن کی دعوت پر لاہور سے صحافیوں اور شعبہ تعلیم سے وابستہ 12رکنی وفد میں مجھے بھی چین جانے کا موقع ملا۔دورہ چین میں ہم نے بیجنگ، ینچوان، گوئیانگ اور گوانگژوکا وزٹ کیا۔
    چین کے ہر شہر کی ترقی اور مثالی نظم و ضبط نے ہمیں ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا۔ روبوٹک کام سے لے کر فاسٹ ٹرین کے سفر تک ہر لمحہ ایک نیا تجربہ تھا۔

    سب سے زیادہ متاثر کن پہلو وہاں کا ویسٹ مینجمنٹ سسٹم تھا، جہاں کچرے اور راکھ کو ضائع کرنے کے بجائے اینٹوں میں ڈھالا جاتا ہے تاکہ تعمیرات میں استعمال ہو سکے۔ یہ وہ سوچ ہے جو نہ صرف ماحول کے تحفظ بلکہ وسائل کے بہترین استعمال کی علامت ہے۔چین میں فیکٹریوں میں مزدور اور روبوٹ ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں۔ ڈرائیور لیس گاڑیوں کا تجربہ بھی حیران کن تھا۔ بیجنگ سے گوانگژو کے سفر نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ چین اپنی ٹیکنالوجی کو کس طرح عوامی زندگی میں ضم کر چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہاں کا Face Recognition System کمال کی رفتار سے کام کرتا ہے۔ اسی نظام کی بدولت جرائم کی شرح تقریباً صفر ہے۔ نہ کوئی اضافی فورسز بنائی گئیں اور نہ ہی کسی ہنگامہ آرائی کی ضرورت ہے۔ چین کی پولیس تیز ترین، قانون نہایت سخت اور خواتین کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ وہاں کسی مرد کو یہ اجازت نہیں کہ وہ کسی خاتون کو اس کی مرضی کے بغیر شیک ہینڈ بھی کر سکے۔ یہ وہ فرق ہے جو چین کو مغربی معاشروں اور خاص طور پر برصغیر سے منفرد بناتا ہے۔

    چینی عوام اپنے رویوں میں بھی مختلف ہیں۔ خواتین کی عزت کرتے ہیں اور دوست ممالک کے ساتھ نہ صرف حکومت بلکہ عوامی سطح پر بھی عزت و احترام سے پیش آتے ہیں۔ چین میں سیکیورٹی نظام انتہائی فول پروف اور مؤثر ہے مگر مسافروں کی عزت نفس پر کوئی حرف نہیں آتا۔ سیلاب ہو یا کوئی قدرتی آفت، چین کا سیفٹی سسٹم ہمہ وقت ہنگامی بنیادوں پر تیار رہتا ہے۔چین نے اپنی ترقی اور تہذیب کو محفوظ بنانے اور اس قدیم و عظیم ورثے کو دکھانے کے لیے ہر شہر میں شاندار میوزیم قائم کر رکھے ہیں، جن میں غربت کا میوزیم، میٹرو میوزیم اور وار میوزیم شامل ہیں۔ وہاں ہمیں 7th China-Arab States Expo میں شرکت کا موقع بھی ملا، جہاں ہم نے عرب ممالک کو چین کے ساتھ ہاتھ ملاتے دیکھا۔ یہ منظر اس بات کا اعلان تھا کہ چین تیزی سے ایک نئے عالمی مرکز کی حیثیت اختیار کر رہا ہے۔
    یقیناً آنے والے دس برسوں میں چین وہ سپر پاور ہوگا جسے کوئی روک نہیں پائے گا۔ امریکہ سمیت بڑی طاقتوں کی حیثیت مدھم پڑ جائے گی اور دنیا کے ممالک خود چین کے ساتھ ہاتھ ملانے پر مجبور ہوں گے۔ پاکستان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ اس کی دوستی ایک ایسے ملک کے ساتھ ہے جو نہ صرف ترقی کی علامت ہے بلکہ دنیا کے لیے رول ماڈل بھی ہے۔

    چین کا پیغام سادہ ہے خواب حقیقت بن سکتے ہیں اگر سوچ وسیع، قانون سخت، قیادت وژنری اور عوام منظم ہوں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی اپنی صبح کو بیجنگ کی صبح کی طرح روشن بنا سکتے ہیں؟ اگر ہم اس رفتار سے نا چل سکے تو شاید اندھیرا ہمارا مقدر بن جائے گا۔

  • فرانس،15 برس سے کم بچوں کے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز

    فرانس،15 برس سے کم بچوں کے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز

    فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی کی تجویز پیش کر دی گئی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق فرانسیسی پارلیمانی کمیشن نے 6 ماہ تک ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بچوں اور نوجوانوں پر پڑنے والے نفسیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے اپنی رپورٹ جاری کی ہے.رپورٹ میں15سال سےکم عمربچوں کےسوشل میڈیا کےاستعمال پر مکمل پابندی اور 15 سے 18 سال تک کے نوجوانوں کے لیے رات 10 بجے سے صبح 8 بجے تک ڈیجیٹل کرفیو نافذ کرنےکی تجویز پیش کی گئی ہے،سوشل میڈیا کے خطرات کے بارے میں عوامی آگاہی مہم چلائی جائے، ڈیجیٹل غفلت کا جرم اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے کے وقت عمر کی تصدیق کا نظام لازمی قرار دیا جائے۔

    فرانس میں 7 خاندانوں کی جانب سے سوشل میڈیا سائٹ ٹک ٹاک کے خلاف 2024 میں مقدمہ دائر ہونے کے بعد پارلیمانی کمیشن قائم کیاگیا تھا،مقدمے میں والدین کا مؤقف تھا کہ ان کے بچوں کو ایسا مواد دکھایا گیا جس نے انہیں خودکشی پر مجبور کیا،اس حوالے سے ٹک ٹاک نے کمیٹی کو اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی مدد سے گزشتہ سال فرانس میں اس کے سروس کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے والے 98 فیصد مواد کو پکڑا ہے۔

  • قومی سلامتی کے بیانیہ پر عمران کے وار کا حقیقت پر مبنی جواب

    قومی سلامتی کے بیانیہ پر عمران کے وار کا حقیقت پر مبنی جواب

    فتنہ الخوارج سے بات چیت کبھی کامیاب نہیں ہوئی؛ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کے ساتھ ہر "امن معاہدہ” الٹا نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ یہ بالکل پاگل پن کی آئن سٹائن والی تعریف یے: ایک ہی کام بار بار کرنا اور مختلف نتیجے کی امید رکھنا۔

    یہ دعویٰ کرنا کہ غیر ملکی طاقتیں ہمیں فوجی آپریشن پر مجبور کر رہی ہیں محض عوامی فریب ہے۔ ٹی ٹی پی ایک اندرونی خطرہ ہے، کوئی بین الاقوامی سازش نہیں، البتہ علاقائی سازش اس صورت ضرور ہے کہ انکا پشت بان بھارت ہے، اسلئے انہیں ختم کرنے میں ہی عوام کا تحفظ ہے.

    دہشت گردی کی جنگ میں 95 فیصد سے زائد جانی نقصان فتنہ الخوارج کے ہاتھوں ہوا۔ یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ کسی بھی بیرونی دشمن سے زیادہ نقصان ان خوارج نے پہنچایا.

    افغانستان کھلے عام ٹی ٹی پی کے کیمپ آباد کئے بیٹھا ہے اور کمانڈرز کو پال رہا ہے۔ یہ اب کوئی راز نہیں۔

    2021 کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے؛ اور 2017 کے بعد سے کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہوا۔ تو کوئی منصوبہ نہیں ہونا چاہئے یا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں اور لاشیں گنتے رہیں ؟

    اور یہ “اینٹی طالبان لابی” آخر کیا بلا ہے؟ کیا عمران یہ کہنا چاہتا ہے کہ آپ اب طالبان کے حامی ہیں؟ یہ کتنا فاسق نظریہ ہے۔

    افغانستان برادر مسلم ملک سے زیادہ اب ایک مخالف ریاست ہے جس نے کبھی پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا اور آج بھی ہمارے آدھے علاقے پر دعویٰ کرتا ہے۔

    افغان مہاجرین قومی سلامتی کے لئے خطرہ بنتے جارہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے کھلم کھلا "گریٹر افغانستان” کی حمایت کرتے ہیں اور "پاکستان زندہ باد” کہنے سے بھی انکار کرتے ہیں۔ ہمیں سب کو نہیں نکالنا لیکن یہ تسلیم تو کرنا ہوگا کہ ایک بڑا حصہ فوری طور پر واپس جانا چاہیے۔

    عمران نے اپنے حالیہ ٹویٹ میں جو کچھ لکھا وہ گمراہ کن یا بالکل جھوٹ ہے۔ افسوسناک ہے کہ قومی سلامتی کو سیاسی کھیل بنا دیا گیا ہے. فتنہ الخوارج کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنا آخر کس طرح حل ہے؟ یہ کوئی "آزاد خارجہ پالیسی” نہیں بلکہ قومی خودکشی ہے.

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ معطل

    اسلام آباد ہائیکورٹ،ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ معطل

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاء القیوم کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق سیشن کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کی جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے سیشن عدالت کے فیصلے پر حکمِ امتناع جاری کیا۔ عدالت عالیہ کے حکم کے بعد ڈاکٹر ضیاء القیوم اپنے منصب پر کام جاری رکھ سکیں گے۔

    واضح رہے کہ سیشن کورٹ نے حال ہی میں ڈاکٹر ضیاء القیوم کو ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ سنایا تھا۔ تاہم، اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو معطل کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ یکم اکتوبر کو آئندہ سماعت تک ڈاکٹر ضیاء القیوم اپنے عہدے پر بحال رہیں گے۔قانونی ماہرین کے مطابق ہائی کورٹ کے اس عبوری حکم سے معاملے کا حتمی فیصلہ آئندہ سماعت میں ہوگا، جس کے بعد یہ طے کیا جائے گا کہ ڈاکٹر ضیاء القیوم بدستور ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر کام کر سکیں گے یا نہیں۔

  • پاکستان میں پہلا عالمی مقابلہ حسنِ قرأت کرانے کا فیصلہ

    پاکستان میں پہلا عالمی مقابلہ حسنِ قرأت کرانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: پاکستان میں پہلی مرتبہ عالمی سطح پر حسنِ قرأت کا مقابلہ منعقد کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے نہ صرف ملک کی مذہبی و ثقافتی اہمیت اجاگر ہوگی بلکہ دنیا بھر کے نوجوان قراء کرام کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع بھی ملے گا۔

    ذرائع کے مطابق یہ مقابلہ وزارتِ مذہبی امور کے زیرِ انتظام 24 نومبر سے 29 نومبر تک اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔ وزارت نے اس حوالے سے تیاریاں شروع کر دی ہیں اور ابتدائی مراحل میں مختلف ممالک سے رابطے بھی مکمل کر لیے گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عالمی مقابلے میں 57 برادر ممالک کے نوجوان قراء شرکت کریں گے، جو نہ صرف اپنی بہترین قرأت کے فن کا مظاہرہ کریں گے بلکہ اسلامی دنیا میں قرآنی تعلیمات کو عام کرنے میں اپنا کردار بھی ادا کریں گے۔اہم ذرائع نے مزید بتایا کہ تقریب تقسیمِ انعامات ایک شاندار انداز میں منعقد کی جائے گی، جس میں عالمی شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل او آئی سی اور امام کعبہ کی خصوصی آمد بھی متوقع ہے جو اس تقریب کی اہمیت کو مزید بڑھا دے گی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس نوعیت کے عالمی مقابلے سے نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا بلکہ عالمی سطح پر ملک کا مثبت تشخص بھی اجاگر ہوگا۔

  • سیلاب متاثرین کی مدد کیلیے آصفہ بھٹو کا وفاقی حکومت سے اقدامات کا مطالبہ

    سیلاب متاثرین کی مدد کیلیے آصفہ بھٹو کا وفاقی حکومت سے اقدامات کا مطالبہ

    خاتونِ اوّل آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سیلاب سے متاثرہ عوام کی بحالی کے لیے وفاقی حکومت اور عالمی اداروں سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

    اپنے بیان میں آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ بلاول بھٹو نے وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ زیرِ آب علاقوں کے لیے بجلی کے بل فوری طور پر معاف کیے جائیں تاکہ متاثرہ خاندانوں پر معاشی بوجھ کم کیا جا سکے۔ بلاول بھٹو نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ ملک میں زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے تاکہ کھڑی فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ ہو اور کسانوں کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے سیلاب زدہ خاندانوں کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ہنگامی ریلیف پیکج دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ متاثرہ خاندان فوری مالی معاونت حاصل کر سکیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو نے عالمی اداروں سے بھی فوری رابطوں پر زور دیا ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر امدادی فنڈز اور وسائل فراہم کیے جا سکیں۔ آصفہ بھٹو کے مطابق پیپلز پارٹی اس ضمن میں قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں قراردادیں پیش کرے گی تاکہ متاثرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا سکے۔

  • پاکستان کے مقابلے میں بھارت پر انحصار کی امریکی پالیسی ناکام قرار،امریکی میگزین

    پاکستان کے مقابلے میں بھارت پر انحصار کی امریکی پالیسی ناکام قرار،امریکی میگزین

    امریکی میگزین’فارن افیئرز‘ نے پاکستان کے مقابلے میں بھارت پر انحصار کی امریکی پالیسی کو ناکام قرار دے دیا۔

    امریکی میگزین کے مطابق بھارت کبھی بھی امریکا کا قابل بھروسہ شراکت دار نہیں رہا، بھارت امریکا کی توقعات پر پورا نہ اترا لہٰذا پاکستان زیادہ قابلِ اعتماد شراکت دار ہے، اب امریکا کو پاکستان پر اعتماد کرکے دیکھنا ہوگا،امریکی میگزین کا کہنا ہےکہ ٹرمپ نے پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف اقدامات اوربھارت سےکشیدگی میں کمی کی کوششوں کو سراہا، امریکا اور پاکستان کے تجارتی و توانائی معاہدے دونوں کے لیے فائدہ مند ہیں، ریکوڈک سمیت پاکستانی وسائل میں امریکی سرمایہ کاری خطے کو مستحکم بناسکتی ہے،امریکی میگزین کے مطابق بھارت پر یکطرفہ توجہ خطے میں دراڑیں اور جنگ کا خطرہ بڑھائے گی، پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی میں امریکا اور چین کے ساتھ متوازن تعلقات پر زور ہے، بھارت پر مرکوز امریکی پالیسی پاکستان کو دور اور خطے میں واشنگٹن کو کمزور کرے گی۔

  • سلمان خان کو قتل کی دھمکیاں،  سیکیورٹی سخت، لائیو آڈینس پر پابندی

    سلمان خان کو قتل کی دھمکیاں، سیکیورٹی سخت، لائیو آڈینس پر پابندی

    ممبئی: بالی ووڈ کے دبنگ اسٹار سلمان خان کو قتل کی دھمکیاں موصول ہونے کے بعد ان کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، جبکہ بھارتی رئیلٹی شو بگ باس 19 میں لائیو آڈینس کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق شو کے پروڈیوسر رشی نیگی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ سلمان خان کو گزشتہ ڈھائی برس سے متعدد مرتبہ جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث پروڈکشن ٹیم نے شو کے سیٹ پر سیکیورٹی بڑھانے کے ساتھ ساتھ کئی نئے اقدامات بھی کیے ہیں۔رشی نیگی نے بتایا کہ اب شو میں جب بھی سلمان خان موجود ہوتے ہیں تو کسی بھی ناظر کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اس کے علاوہ شو تک رسائی کو مزید سخت بنا دیا گیا ہے، چاہے کوئی مستقل بنیادوں پر جڑا ہو، عارضی طور پر یا پھر کسی وینڈر کے ذریعے، سب کے بیک گراؤنڈ کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پروڈکشن ٹیم نے نہ صرف حفاظتی اقدامات میں اضافہ کیا ہے بلکہ لاجسٹک آپریشنز کو بھی وسعت دی ہے۔ تقریباً 600 افراد پر مشتمل عملہ تین شفٹوں میں چوبیس گھنٹے کام کرتا ہے۔ اس عملے میں خواتین کی نمائندگی بھی نمایاں ہے، جبکہ کانٹینٹ سیکیورٹی اور گراؤنڈ لاجسٹکس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔

  • بحرین کے وزیر داخلہ کاوفد کے ہمراہ اینٹی نارکوٹکس فورس ہیڈکوارٹر  کا دورہ

    بحرین کے وزیر داخلہ کاوفد کے ہمراہ اینٹی نارکوٹکس فورس ہیڈکوارٹر کا دورہ

    بحرین کے وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل راشد بن عبداللہ الخلیفہ نے 10رکنی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف)راولپنڈی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری وزارتِ داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول کیپٹن (ریٹائرڈ) خرم آغا اور انسپکٹر جنرل آف پولیس، اسلام آباد سید علی ناصر رضوی بھی اُن کے ہمراہ تھے۔ ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکوٹکس فورس میجر جنرل عبد المعید، ہلال امتیاز (ملٹری) نے سینئر سٹاف افسران کے ہمراہ معزز مہمان کا استقبال کیا۔

    ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کی جانب سے بحرینی وزیر داخلہ کو انسدادِ منشیات کے ضمن میں اے این ایف کی آپریشنل کامیابیوں، تربیتی امور اور منشیات کی طلب میں کمی کے جاری پرگراموں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈی جی اے این ایف نے معزز مہمان کو آگاہ کیا کہ اے این ایف محدود وسائل اور کم افرادی قوت کے باوجودنہ صرف ملکی سطح بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی منشیات اسمگلنگ کے خلاف موثر انداز میں کردار ادا کر رہی ہے۔ بحرینی وزیر داخلہ نے اے این ایف کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہا اور انسداد منشیات کے حوالے سے دو طرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا اعادہ کیا۔اُنہوں نے حال ہی میں اے این ایف کی جانب سے خلیج تعاون ممالک (GCC)کے مابین منشیات کی اسمگلنگ کے انسداد کے حوالے اٹھائے جانے والے اقدامات کی تعریف کی اور مستقبل میں اس مشترکہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے کیلئے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

    لیفٹیننٹ جنرل راشد بن عبداللہ الخلیفہ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دینے پر زور دیا اور کہا کہ بحرین منشیات کی روک تھام اور انسدادِ منشیات کے ضمن میں تربیتی شعبوں میں تعاون کو مزید آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔

  • سیلاب متاثرین کو بجلی بلوں میں ریلیف، وزیراعظم فیصلہ نہ کرسکے

    سیلاب متاثرین کو بجلی بلوں میں ریلیف، وزیراعظم فیصلہ نہ کرسکے

    وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت خزانہ کو سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کے بلوں میں ریلیف کے لیے عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف) سے رابطے کی ہدایت کردی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہےکہ وزیراعظم نے وزارت خزانہ کے حکام کو سیلاب زدہ علاقوں میں رہنے والے افراد کے بجلی بلوں میں ایک ماہ کے استثنیٰ پر آئی ایم ایف سے رابطےکی ہدایت کی ہے،ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ وزارتِ خزانہ اب آئی ایم ایف کے ساتھ اس ممکنہ ریلیف پر بات چیت کرے، بات چیت کا مقصد سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کوفوری ریلیف دیا جا سکے،ذرائع نے بتایا ہےکہ شہر ہوں یا دیہات، یہ ریلیف پورے پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں دیا جائےگا۔

    اس سے قبل چیئرمین پی پی بلاول بھٹو نے بھی حکومت سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں کسانوں کے بجلی بل معاف کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم وزیراعظم نے سیلاب کے سبب ملک میں زرعی اور موسمیاتی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔مرکزی کسان لیگ کے چیئرمین ذوالفقار اولکھ نے بھی بجلی بلوں کی معافی کا مطالبہ کیاہے،اور کہا ہے کہ کسانوں کوبجلی بلوں میں‌ریلیف دیا جائے،