Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سندھ حکومت سیلابی صورتحال پر دن رات نظر رکھے ہوئے ہے،شرجیل میمن

    سندھ حکومت سیلابی صورتحال پر دن رات نظر رکھے ہوئے ہے،شرجیل میمن

    سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ دریاؤں میں پانی کی صورتحال ابھی تک غیر معمولی ہے لیکن سندھ حکومت سیلابی صورتحال پر دن رات نظر رکھے ہوئے ہے۔

    شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ، ضلعی انتظامیہ اور ریلیف کے تمام محکمے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں، پنجند بیراج کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج دونوں 452930 کیوسک ہیں جبکہ کچے کے علاقوں سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 7724 افراد محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو چکے ہیں،مجموعی طور پر ایک لاکھ41 ہزار لوگ کچے کے علاقوں سے محفوظ جگہوں کو منتقل ہو چکے ہیں اور اب تک 3 لاکھ 88 ہزار سے زائد افراد کو ممکنہ سیلاب کے پیش نظر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے،ہ تربیلا ڈیم 100 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 90 فیصد بھر چکا ہے، خانپور، راول اور سملی ڈیمز میں بھی پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے۔

  • ایشیا کپ کی ٹرافی کی تقريب رونمائی

    ایشیا کپ کی ٹرافی کی تقريب رونمائی

    ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ آج سے متحدہ عرب امارات میں شروع ہورہا ہے۔

    متحدہ عرب امارات میں آج سے شروع ہونے والے ٹی20 ایشیا کپ کی ٹرافی کی رونمائی کر دی گئی ہے۔
    ٹرافی کی رونمائی منگل کے روز دبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں کی گئی جس میں تمام ٹیموں کے کپتان شریک ہوئے، ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی ) کے صدر اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے ٹرافی کی رونمائی کی، اس موقع پر میڈیا سینٹر پر بھی خوب گہما گہمی نظر آئی جبکہ پاکستان اور بھارتی کپتانوں کی نظروں کا ملاپ اور مصافحہ مرکز نگاہ رہا ،اس موقع پر تمام ٹیموں کے کپتانوں نے پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوالوں کے جواب بھی دیئے، ایشیا کپ پریس کانفرنس میں کپتانوں کی باڈی لینگویج اور مسکراہٹیں میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئیں ۔

    ایونٹ کی انعامی رقم سے متعلق ابھی باضابطہ طور پر کوئی اعلان نہیں ہوا ہے تاہم بھارتی میڈیا کے مطابق فاتح ٹیم کو تقریباً 3 لاکھ امریکی ڈالر ملیں گے،رنرز اپ کو تقریباً ڈیڑھ لاکھ امریکی ڈالر دیے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کھیلے جانے والے ایشیاکپ 2025 میں آٹھ ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے.گروپ اے میں پاکستان، بھارت، عمان اور یو اے ای شامل ہیں جبکہ گروپ بی میں سری لنکا، بنگلادیش، افغانستان اور ہانگ کانگ کی ٹیمیں شامل ہیں۔

  • بھارت کی پاکستانی نوجوان کی گرفتاری کو دہشت گردی سے جوڑنے کی مذموم کوشش

    بھارت کی پاکستانی نوجوان کی گرفتاری کو دہشت گردی سے جوڑنے کی مذموم کوشش

    غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرِقبضہ جموں کشمیر میں بھارتی قابض حکام نے ایک بار پھر جموں میں کنٹرول لائن پار کرجانے والے پاکستانی نوجوان کی گرفتاری کو دہشت گردی کے بیانیے سے جوڑنے کی مذموم کوشش کی ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس نے 7 ستمبر کو جموں کی تحصیل سچیت گڑھ کے علاقے آر ایس پورہ سے پاکستانی پنجاب کے رہائشی سراج خان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ تلاشی کے دوران اس کے پاس سے صرف 30 روپے کی پاکستانی کرنسی برآمد ہوئی ہے ۔بھارتی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ تفتیش کے دوران سراج نے اعتراف کیا ہے کہ وہ بالی ووٹ کی اداکارہ سے ملاقات کی غرض سے مقبوضہ علاقے داخل ہوا ہے جسے وہ بہت پسند کرتا ہے ۔ اس واضح اعتراف کے باوجود بھارتی پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیاں اس کیس کو سکیورٹی کی خلاف ورزی کے طور پر پیش کرکے ایک بھیانک رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بھارت کے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کا تسلسل اور بین الاقوامی فورمز پر دہشت گردی کا جھوٹا بیانیہ پھیلانے کی ایک دانستہ کوشش ہے ۔

  • خیبرپختونخوا میں 8 ہزار سے زیادہ فتنہ الخوارج دہشتگردوں کا انکشاف

    خیبرپختونخوا میں 8 ہزار سے زیادہ فتنہ الخوارج دہشتگردوں کا انکشاف

    سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں 8 ہزار سے زیادہ فتنہ الخوارج دہشتگرد موجود ہیں جو عام آبادی میں پناہ لے کر فورسز پر حملے کرتے ہیں۔

    سرکاری حکام کے مطابق فتنہ الخوارج غیرمعروف راستوں کے ذریعے افغانستان سے پاکستان آئے ہیں، 8 ہزار سے زائد دہشتگرد پشاور، ٹانک، ڈی آئی خان، بنوں، لکی مروت، سوات، شانگلہ اورضم اضلاع میں ہیں جب کہ باجوڑ اور خیبر میں 800 سےزیادہ دہشتگرد موجود ہیں،دہشتگرد سی پیک روڈ، ڈی آئی خان تا بنوں اور ٹانک میں ناکے بھی لگاتے ہیں، عام آبادی میں پناہ لیے دہشتگرد سکیورٹی فورسز پر حملےکرتے ہیں جس کے باعث سکیورٹی فورسز کو جوابی کارروائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جوابی کارروائی میں مسائل کےباعث فورسز نےجانی نقصان بھی اٹھایا ہے،وزیراعلیٰ کے پی کی زیرصدارت جرگوں میں قبائلی عمائدین افغانستان سے دہشتگردوں کی دراندازی پر نالاں تھے، قبائلی عمائدین نے وزیراعلیٰ سے دراندازی کا معاملہ افغان حکومت کے ساتھ اٹھانےکا مطالبہ کیا،شمالی وزیرستان اورباجوڑ میں چند ہفتوں میں سکیورٹی فورسز نے دراندازی کرنے والے 80 دہشتگردوں کو ہلاک کیا۔

    اس حوالے سے آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کے پی میں فتنہ الخوارج کی موجودگی اور دہشتگرد کارروائیوں سے آگاہ ہیں، ڈی آئی خان، لکی مروت، باجوڑ، وزیرستان، خیبر، بنوں اور دیر میں متعدد خوارج کو ہلاک کیا گیا ہے جب کہ گزشتہ ماہ 190 آپریشنز میں 39 خوارج کو مارا اور 110 کو گرفتار کیا گیا،فتنہ الخوارج کی جانب سےسڑکوں پر ناکے لگانےکا سختی سے نوٹس لیا ہے، سی پیک پر موٹروے پولیس کے ساتھ مل کر دن رات گشت شروع کردیا ہے۔

    دوسری جانب مشیراطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ دہشتگرد افغانستان سے آرہے ہیں جن کے خلاف لڑ رہے ہیں، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فتنہ الخوارج کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔

  • فائدہ لیتے ہوئے آپ کو ڈر نہیں لگتا لیکن اپنا کام کرتے ڈر لگتا ،عدالت

    فائدہ لیتے ہوئے آپ کو ڈر نہیں لگتا لیکن اپنا کام کرتے ڈر لگتا ،عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سی ڈی اے حکام سے شاہ اللّٰہ دتہ اور سی 13 کے متاثرین کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ نیب نے پہلے ہی بیڑا غرق کردیا ہے، نیب کا کوئی پرسان حال نہیں۔

    دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے سی ڈی اے کو ایک ماہ میں مکمل رپورٹ جمع کروانے کا حکم دے دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے سی ڈی اے کے مجسٹریٹ سردار آصف سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نیب کے کہنے پر اگر کارروائیاں کریں گے تو پھر قانون کہاں ہے؟ نیب نے پہلے ہی بیڑا غرق کردیا ہے، نیب کا کوئی پرسان حال نہیں، نیب کے کہنے پر مت چلیں، کسی سے مت ڈریں، لوگوں کی مدد کریں،جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ کوئی جج ہو، پولیس افسر یا سی ڈی اے ملازم، جسے ڈر لگے وہ اپنا تبادلہ کروا لے، فائدہ لیتے ہوئے آپ کو ڈر نہیں لگتا لیکن اپنا کام کرتے ڈر لگتا ہے، غلطیوں کی سزا نہیں ہوتی، بے ایمانی کی سزا ہوتی ہے، سول رائٹس کے ساتھ نیب اور ایف آئی اے کا دائرہ اختیار بھی دیکھنا ہوگا۔

  • عثمان شنواری کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    عثمان شنواری کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیفٹ آرم فاسٹ بولر عثمان شنواری نے انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مطابق 32 سالہ عثمان شنواری نے باضابطہ طور پر ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔

    عثمان شنواری نے اپنے کیریئر کے دوران ایک ٹیسٹ، 17 ون ڈے اور 16 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں قومی ٹیم کی نمائندگی کی۔ وہ اپنی تیز رفتار اور جارحانہ باؤلنگ کے باعث جانے جاتے تھے اور کئی مواقع پر پاکستان کو فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔اعداد و شمار کے مطابق عثمان شنواری نے ون ڈے فارمیٹ میں مجموعی طور پر 34 وکٹیں حاصل کیں جبکہ ٹی ٹوئنٹی میچز میں 13 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ انہیں 2018 کے ایشیا کپ اسکواڈ میں بھی شامل کیا گیا تھا جہاں انہوں نے اپنی باؤلنگ کے ذریعے ٹیم کو سہارا دیا۔

    ذرائع کے مطابق شنواری اب ڈومیسٹک اور لیگز کرکٹ میں اپنی فٹنس کے مطابق حصہ لیتے رہیں گے۔

  • وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کا سیلاب متاثرین کیلئے بڑا اعلان

    وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کا سیلاب متاثرین کیلئے بڑا اعلان

    اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے سیلاب متاثرین کیلئے اہم ریلیف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کے بجلی کے بلوں پر فوری طور پر ٹیکس معاف کیے جائیں گے۔

    وفاقی وزیر کے مطابق بجلی کے بلوں میں ٹیکس کی معافی وفاقی حکومت فراہم کرے گی جبکہ لینڈ ریونیو کی معافی صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کے اضافی بلوں کا بھی نوٹس لیا جائے گا، کیونکہ متاثرہ علاقوں میں وہ بل بھی تقسیم ہوئے ہیں جو پہلے ہی پرنٹ ہوچکے تھے۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت متاثرین کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس سلسلے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی سیلاب متاثرہ علاقوں کا سروے مکمل ہوگا، کسان پیکج کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

    وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ رواں ماہ کے وسط تک سروے مکمل کرلیا جائے گا جبکہ ابتدائی ڈیٹا کے مطابق سیلاب میں ہر فصل کو ایک سے تین فیصد تک نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ نقصان گوجرانوالہ ڈویژن میں ہوا جہاں فصلوں کا 18 فیصد تک ضائع ہوگیا ہے، جبکہ دھان کی فصل کو سب سے زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑا۔رانا تنویر کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی اور کسانوں کو سہارا دینے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر کام کر رہی ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں زندگی کو جلد از جلد معمول پر لایا جا سکے۔

  • بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں مزید پانی کا اخراج

    بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں مزید پانی کا اخراج

    بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑنے کے بعد دریا کے بہاؤ میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے، جس سے کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔ وزارتِ آبی وسائل نے اس سلسلے میں فلڈ الرٹ جاری کردیا ہے۔

    ق جیو نیوز نے رپورٹ کیا کہ بھارت نے پاکستان میں موجود بھارتی ہائی کمیشن کے ذریعے وزارت آبی وسائل کو پانی چھوڑے جانے سے متعلق باضابطہ آگاہ کیا۔ اس اطلاع کے بعد وزارت نے ہنگامی بنیادوں پر متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے،پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے باعث دریائے ستلج میں ہریکے ڈاؤن اسٹریم اور فیروزپور ڈاؤن اسٹریم کے مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم اے نے ہدایت جاری کی ہے کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مقامی انتظامیہ فوری اقدامات کرے اور نچلے علاقوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔

    فلڈ کنٹرول روم کے مطابق دریائے ستلج میں ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ اب تک ضلع پاکپتن کے متاثرہ علاقوں سے 24 ہزار 974 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے،سیلابی پانی نے ضلع پاکپتن کے 23 دیہات کو مکمل طور پر ڈبو دیا ہے جبکہ 53 دیہات جزوی طور پر زیرِ آب ہیں۔ مجموعی طور پر 64 ہزار 663 افراد متاثر ہوئے ہیں اور 66 ہزار 913 ایکڑ زرعی رقبہ پانی میں ڈوب کر تباہ ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ اب تک 4 ہزار 106 مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہوا تو مزید نشیبی علاقے بھی شدید متاثر ہوسکتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور امدادی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔

  • مودی سرکار کی خارجہ پالیسی میں دوغلا پن، امریکہ سے تعلقات میں دراڑ کا سبب

    مودی سرکار کی خارجہ پالیسی میں دوغلا پن، امریکہ سے تعلقات میں دراڑ کا سبب

    مودی حکومت کی خارجہ پالیسی میں خودغرضی، توازن کے فقدان اور غیر مستقل مزاجی نمایاں ہے، مودی حکومت کی خارجہ پالیسی میں دوغلا پن امریکہ سے تعلقات میں دراڑ کا سبب ہے۔

    چائنہ ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق قلیل مدت کے لیے امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں بہتری ممکن ہے، تاہم طویل مدت میں باہمی اعتماد متزلزل ہو چکا ہے اور دونوں ممالک کا دو طرفہ تعاون سطحی حد تک محدود رہنے کا امکان ہے،روس کے ساتھ دیرینہ تزویراتی وابستگی ہے جو امریکہ بھارت تعلقات کی مضبوطی میں رکاوٹ ہے جبکہ چین کے حوالے سے بھارت کا غیر واضح مؤقف امریکہ کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو بھارت پر مکمل اعتماد کرنے سے روک رہے ہیں،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی خارجہ پالیسی میں دوغلاپن بھی نمایاں ہے، جہاں بھارت امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات کا دعویٰ کرتا ہے مگر دوسری جانب روس سے اسلحہ کی خریداری اور تیل کی درآمدات جاری رکھے ہوئے ہے، جو امریکہ کی پابندیوں اور خارجہ پالیسی کے منافی ہیں۔ یہی تضاد واشنگٹن میں پالیسی سازوں کیلئے بھارت کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار تسلیم کرنے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔

    چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے باوجود بھارت نے چین کے خلاف کھل کر مؤقف اختیار کرنے سے گریز کیا اور کواڈ اتحاد میں بھی محتاط رویہ اپنایا، جس سے امریکہ میں مایوسی پائی جاتی ہے،رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مودی حکومت نے اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی نہ کی تو بھارت کے لیے امریکہ سے قریبی تعلقات برقرار رکھنا طویل مدت میں مشکل ہو جائے گا۔

  • بانی پی ٹی آئی کو جیل میں ان کا حق مل رہا ہے، رانا ثناء اللہ

    بانی پی ٹی آئی کو جیل میں ان کا حق مل رہا ہے، رانا ثناء اللہ

    مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن اراکین نے رابطہ کر کے مجھے ووٹ دینے کا کہا، پی ٹی آئی کا بائیکاٹ اپنے ممبران پر عدم اعتماد ہے۔

    پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا رویہ غیر جمہوری اور غیر سیاسی ہے، بانی پی ٹی آئی اور ان کی اندھی تقلید کرنے والے صرف فتنہ و فساد اور انتشار چاہتے ہیں،حکومت یا کسی ادارے کو نہیں پوری قوم کو ان کا راستہ روکنا چاہیے۔ پی ٹی آئی کے پاس راہ فرار کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، پی ٹی آئی کے 10 سے 12 لوگ مجھ کو ووٹ ڈالتے، میں نے ان سے رابطہ نہیں کیا، انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا، میں نے انہیں منع کیا کہ مجھے نہیں اپنے امیدوار کو ووٹ ڈالیں، اس جماعت نے ایک پالیسی کے طور پر لعن طعن کے کلچر کو اپنایا، اس جماعت نے پالیسی اپنائی کے مخالف کو دیکھ کر گالیاں دیں، بانی پی ٹی آئی کو شرف حاصل ہے کہ تاریخ میں شاید وہ پہلے لیڈر ہیں جنہوں نے بطور پالیسی اوئے توئے کے کلچر کو اپنایا۔

    رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اپنے دور میں اپوزیشن سے ملنے اور ہاتھ ملانے کو تیار نہیں تھے، وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کو بات چیت کی آفر کی، یکجہتی کا پیغام دیا، بانی پی ٹی آئی اور ان کے ساتھ چند لوگ ملک میں سیاست نہیں کرنا چاہتے، پی ٹی آئی نے بطور پالیسی اپنے لوگوں کو مجبور کیا کہ مخالف کو دیکھیں تو چور کہیں، یہ سیاسی رویہ اپنائیں تو ہم سیاست کے لیے حاضر ہیں، وزیراعظم خود چل کر گئے ہیں اپوزیشن کے پاس کہ آئیں ہم بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ،علیمہ خان کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں ان کا جو حق ہے وہ ان کو مل رہا ہے، ہمارا گلہ پی ٹی آئی سے ہے کہ انہوں نے بدتمیزی کے کلچر کو بطور پالیسی اپنایا