Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بھارت نے اربوں ڈالر کی دفاعی خریداری کے لئے پہلگام ڈرامہ رچایا : تجزیہ کار

    بھارت نے اربوں ڈالر کی دفاعی خریداری کے لئے پہلگام ڈرامہ رچایا : تجزیہ کار

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن اور اس کے بعد آپریشن سندور کے پیچھے کارفرما بھارتی مذموم منصوبہ ایک تیزی سے بے نقاب ہو رہا ہے۔ بھارت پہلے سے ترتیب دیے گئے منصوبے کے تحت اب آپریشنل ضرورت کی آڑ میں اربوں ڈالر کی دفاعی خریداری کر رہا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی دہلی نے دانستہ طور پر پہلگام کا کھیل کھیلا تاکہ ایک طویل عرصے سے تیار اسلحہ خریداری کی سکیموں پر عملدرآمد کیا جاسکے۔ جرمن دفاعی کمپنی تھیسن کرپ میرین سسٹمز (ٹی کے ایم ایس) نے رواں ہفتے بھارتی فرم VEM ٹیکنالوجیز کے ساتھ بھارتی بحریہ کے لیے ہیوی ویٹ ٹارپیڈو کو مشترکہ طور پر تیار کرنے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بھی بھارت کا یہ پہلے سے طے شدہ منصوبہ ہے اور وہ اب متعدد بین الاقوامی سپلائرز روس، فرانس، اسرائیل، برطانیہ اور اب جرمنی کے ساتھ اسلحہ خریداری کے معاہدے کر رہا ہے۔بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے "ڈرون جنگجووں” اور "ڈرون کمانڈوز” کو تربیت دینے کے لیے مدھیہ پردیش کے ٹیکن پور میں ڈرون وارفیئر سکول کا بھی قائم کیا ہے۔ بی ایس ایف کی قیادت نے واضح طور پر اس پروگرام کو آپریشن سندور سے جوڑا ہے اور ڈرونز کو پاکستان کے خلاف لڑائی میں فیصلہ کن کے طور پر پیش کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بھارتی اقدام سرحدی دفاع کے بارے میں کم جبکہ ڈرون جنگ کے حوالے سے زیادہ ہے۔درآمدات کی مطابقت پذیر رفتار – جرمن ٹارپیڈو ، فرانسیسی رافیل ، روسی جنگجو ، اسرائیلی ڈرون ، اور برطانوی پروپلشن سسٹم – ثابت کرتی ہے کہ یہ ایک طویل مدتی خریداری کا روڈ میپ ہے۔

    مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ اسلحہ خریدار ی میں بھارتی کی پھرتی اسکے مذموم ارادوں کا پتہ دیتی ہے ، بھارت آپریشن سندور کی شکست سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور وہ اپنے پڑوسیوں پر فوجی برتری ثابت کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

  • ملزم ہسپتال سے گرفتار، سپریم کورٹ کا پولیس پر اظہار برہمی

    ملزم ہسپتال سے گرفتار، سپریم کورٹ کا پولیس پر اظہار برہمی

    ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن شدہ مریض کو سوات پولیس کی جانب سے اسپتال سے گرفتار کرنے پر سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا پولیس پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،دوران سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا پولیس نے مریض کی گرفتاری سے قبل اسپتال یا ڈاکٹر سے اجازت لی؟ کیا پولیس بستر پر موجود مریض کو ایسے گرفتار کر سکتی ہے؟ ملزم کا ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن ہوا تھا جس کے بعد ملزم چل نہیں سکتا،جسٹس شہزاد ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کے پی پولیس نے رپورٹ میں لکھا کہ ملزم آپریشن کے بعد صحتیاب نہیں تھا، ملزم برا انسان ہوگا لیکن اس کے کچھ حقوق بھی ہیں۔

    سرکاری وکیل نے کہا کہ آج کل تو آپریشن کے دوسرے دن مریض چلنے پھرنے لگ جاتا ہے،جس پر جسٹس شہزاد ملک نے وکیل سے کہا کہ وکیل صاحب ہر کوئی سلطان راہی نہیں ہوتا، ایسا فلموں میں ہوتا ہے جہاں گولیاں لگنے کے بعد بھی ہیرو اٹھ کر کھڑا ہو جاتا ہے،عدالت نے درخواست ضمانت پر ملزم کی فرانزک رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 2 ہفتوں تک ملتوی کر دی۔

  • بھارت میں امریکی محصولات کے دباؤ کے پیش نظر جی ایس ٹی میں بڑی کمی

    بھارت میں امریکی محصولات کے دباؤ کے پیش نظر جی ایس ٹی میں بڑی کمی

    نئی دہلی: بھارت نے معاشی دباؤ اور امریکی محصولات کے منفی اثرات کے پیش نظر مختلف گھریلو مصنوعات پر ٹیکسز میں نمایاں کمی کر دی ہے۔

    بھارتی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ گھریلو سطح پر استعمال ہونے والی متعدد اشیاء پر گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح کم کر دی گئی ہے، جس کا مقصد داخلی معیشت کو سہارا دینا اور گھریلو طلب میں اضافہ کرنا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق حکومت نے صابن، ضروری گھریلو سامان اور چھوٹی گاڑیوں سمیت کئی اشیاء پر ٹیکس کم کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکا نے بھارت سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر رکھا ہے، جس کے باعث بھارتی برآمدات شدید دباؤ کا شکار ہیں۔رپورٹس کے مطابق نئی ٹیکس اصلاحات کے تحت اب صرف دو جی ایس ٹی سلیب — 5 فیصد اور 18 فیصد — نافذ رہیں گی۔ اس فیصلے کے بعد 12 فیصد اور 28 فیصد ٹیکس سلیب کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ نیا جی ایس ٹی ڈھانچہ 22 ستمبر سے نافذ العمل ہوگا۔

  • وزیراعظم پاکستان کی چینی پریمئیر سے ملاقات

    وزیراعظم پاکستان کی چینی پریمئیر سے ملاقات

    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے آج بئیجنگ میں عوامی جمہوریہ چین کے پریمیئر لی چیانگ سے ملاقات کی۔ وفود کی سطح پر بات چیت کے بعد چینی وزیر اعظم کی طرف سے وزیر اعظم کے اعزاز میں ایک پروقار ظہرانہ دیا گیا۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاک چین تعلقات کی مثبت رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے پاکستان کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے غیر متزلزل حمایت پر چینی قیادت اور قوم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم کے درمیان 2 ستمبر 2025 کو ہونے والی ملاقات میں طے پانے والے اہم اتفاق رائے کی بنیاد پر، وزیر اعظم لی اور وزیر اعظم شہباز شریف دونوں نے پاکستان اور چین کے درمیان آہنی پوش، ہمہ موسمی تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ مشترکہ ایکشن پلان۔(2024-2029) پر دستخط کو اس سلسلے میں ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ حکومت کی انتھک اصلاحاتی کوششوں کے امید افزا نتائج صرف چین کی بھرپور حمایت کی بدولت ہی ممکن ہوا۔ انہوں نے جلد ہی چینی کیپٹل مارکیٹ میں پانڈا بانڈز کی فراہمی کے پاکستان کے ارادے کا بھی اظہار کیا۔

    اقتصادی محاذ پر، وزیر اعظم نے گزشتہ دہائی میں پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں صدر شی کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) کا ایک اہم منصوبے، چین-پاکستان اقتصادی راہداری کی اہم شراکت کو اجاگر کیا، اور قراقرم ہائی وے اور ریلوے میں لائین-1 کو دوبارہ ترتیب دینے اور گوادر پورٹ کی آپریشنلائزیشن کے جلد نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں فریقین نے چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے اپ گریڈڈ/ فیز 2 اور بشمول اس کے 5 نئے کوریڈروز کے لئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔دونوں فریقوں نے چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے اپ گریڈ شدہ کے اگلے مرحلے پر اس کے پانچ نئے کوریڈورز کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔ بزنس ٹو بزنس تعاون اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات پر زور دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے چینی وزیر اعظم کو بئیجنگ میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس کے بارے میں بتایا جس میں 300 سے زائد پاکستانی کمپنیاں اور 500 چینی کمپنیاں شریک ہو رہی ہیں۔ انہوں نے زراعت، کان کنی و معدنیات، ٹیکسٹائل، صنعتی شعبے اور آئی ٹی کو باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی تعاون کے لیے ترجیحی شعبے قرار دیا۔

    وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کے عالمی گورننس انیشی ایٹو، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشیٹو سمیت کثیرالجہتی کو مضبوط بنانے کے لیے صدر شی جن پنگ کے تاریخی اقدامات کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ دونوں ممالک اگلے سال پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائیں گے۔دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں جیسا کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے فیز 2 کی ترقی، سائنس و ٹیکنالوجی ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، میڈیا اور زراعت، میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کی تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے شرکت کی۔

  • جناح ہاؤس حملہ کیس،علیمہ خان کے دوسرے بیٹے کی بھی ضمانت منظور

    جناح ہاؤس حملہ کیس،علیمہ خان کے دوسرے بیٹے کی بھی ضمانت منظور

    لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کے بیٹے شیر شاہ کی بھی ضمانت منظور کر لی۔

    دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیے کہ اس مقدمے میں ابھی تک ملزم کی حد تک چالان نہیں آیا، لامحدود وقت تک ملزم کو قید نہیں رکھا جا سکتا،درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ملزم کے خلاف کوئی ثبوت نہیں، ملزم کسی ہنگامہ آرائی میں ملوث نہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بھانجے شاہ ریز کی درخواست ضمانت منظور کی تھی،تھانہ سرور روڑ پولیس نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں ملزم شاہ ریز خان کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے

  • قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی میں شوگر ملز شیئر ہولڈرز کی تفصیلات پیش

    قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی میں شوگر ملز شیئر ہولڈرز کی تفصیلات پیش

    اسلام آباد: سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کی ذیلی کمیٹی کی سفارش پر شوگر ملز میں شیئر ہولڈرزکا ڈیٹاجمع کروا دیا۔

    نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان میں مختلف سیاسی اور دیگرمعروف شخصیات شوگر ملوں میں شیئرز کے مالک ہیں،جن میں حمزہ شہباز شریف، سلمان حمزہ شریف، سالک حسین، مونس الٰہی ، ذکاء اشرف، شجاعت حسین، چوہدری پرویز الٰہی،میاں عامرمحمود اور خواجہ عبد الغنی مجید سمیت دیگر شامل ہیں،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی تجارت کی ذیلی کمیٹی میں سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے شوگر ملز کمپنیوں اور مالکان کی تفصیلات جمع کروادی،ایس ای سی پی کی دستاویزات کے مطابق العربیہ شوگرملز میں حمزہ شہباز اور نصرت شہباز سمیت دیگر شیئرز ہولڈرز ہیں۔ رمضان شوگرملز میں حمزہ شہباز شریف،سلمان حمزہ شریف،نصرت شہباز شیئرز ہولڈرز ہیں،ایس ای سی پی کی دستاویزات کے مطابق پنجاب شوگر ملز کے شیئرز ہولڈرز میں شجاعت حسین اور سالک حسین سمیت دیگر شامل ہیں۔آر وائی کے ملز میں مونس الٰہی اور مخدوم عمر شہریار سمیت دیگر شیئرز ہولڈرز ہیں، دستاویزات کے مطابق ٹنڈواللہ یار شوگر ملز میں خواجہ عبد الغنی مجید 100 فیصد شیئرز کے مالک ہیں۔ اشرف شوگر ملز میں ذکا ءاشرف سمیت دیگر شیئرزہولڈرز ہیں،ایس ای سی پی کے ڈیٹا کے مطابق رحیم یارخان شوگر انڈسٹری میں میاں عامر محمود سمیت دیگر کے شیئرز شامل ہیں۔ مدینہ شوگر ملز میں محمد رشید اور محمد مجتبٰی سمیت دیگر کے شیئرز ہیں۔

    دستاویزات کے مطابق فاطمہ شوگر ملز میں عباس مختار، فیصل مختار اور فوادمختار سمیت دیگر کے شیئرز ہیں۔ اتحادشوگر ملزمیں مخدوم ہاشم جوان بخت،مخدوم عمر شہریار سمیت دیگر کے شیئرزہیں۔ایس ای سی پی کے ڈیٹا کے مطابق بلوچ شوگر ملز میں دوست علی مزاری اور طارق علی مزاری شیئرز ہولڈرز ہیں۔اس کے علاوہ چوہدری شوگر ملز میں عبد العزیز عباس شریف،عبد اللہ یوسف شریف، شریف ٹرسٹ جبکہ چیمہ شوگر ملز میں چوہدری انور علی، سردار محمد عارف نکئی اور محمد شفیع سمیت دیگر شیئرز ہولڈرز ہیں۔

    واضح رہے کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات کے تعین کے لیے قائم قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی تجارت کی ذیلی کمیٹی نے ایس ای سی پی سے 81 کمپنیوں کے شئیر ہولڈرز کی مکمل تفصیلات طلب کیں تھیں جو ایس ای سی پی نے 2 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں جمع کروائیں۔

  • جنرل ہسپتال سے اغوا ہونے والے نومولود کو تیسرے روز بازیاب کرالیا گیا

    جنرل ہسپتال سے اغوا ہونے والے نومولود کو تیسرے روز بازیاب کرالیا گیا

    لاہور کے جنرل ہسپتال سے اغوا کیے جانے والے نومولود بچے کو تین دن کی شدید تلاش کے بعد بازیاب کروا لیا گیا ہے۔ واقعہ یکم ستمبر کو جنرل اسپتال کے نرسری وارڈ سے پیش آیا تھا، جہاں سے نومولود بچے کو چوری کر لیا گیا تھا۔

    ابتدائی تحقیقات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پولیس کو دو خواتین پر شک ہوا جنہیں فوراً حراست میں لے لیا گیا۔ بعد ازاں محکمہ صحت نے اس واقعے پر نرسری وارڈ کے تمام عملے کو معطل کر دیا تاکہ شفاف تحقیقات ممکن ہو سکیں۔پولیس نے متاثرہ بچے کی بازیابی کے لیے فوراً کارروائی شروع کی اور تین روز کی مسلسل کوششوں کے بعد بچے کو لاہور کے کماہاں گاؤں سے بازیاب کرایا گیا۔ بازیاب ہونے والا بچہ ایک صندوق میں چھپا ہوا تھا جہاں ملزمہ نے اسے رکھا ہوا تھا۔

    ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن، ڈاکٹر ایاز حسین نے ایم ایس اسپتال کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمہ کا سراغ کماہاں گاؤں میں لگا اور گھر گھر تلاشی لینے کے بعد بچہ بازیاب ہوا۔ ملزمہ بے اولاد تھی اور اس نے طلاق کے خوف کے باعث بچے کو اغوا کیا تھا۔متاثرہ والدین کی خوشی دیدنی تھی، کیونکہ انہیں دس سال بعد نرینہ اولاد حاصل ہوئی تھی۔ بچے کے والد، افضال احمد نے بتایا کہ بچے کے اغوا ہونے کے بعد تین دن تک نیند نہیں آئی، پولیس نے بہت اچھا کام کیا ہے اور خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔

    طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بازیاب ہونے والا بچہ صحت مند ہے، تاہم اسے مزید دو دن اسپتال میں رکھا جائے گا تاکہ اس کی مکمل دیکھ بھال کی جا سکے۔

  • شبلی فراز اور  کنول شوزب کی توہین عدالت کی درخواستیں عدم پیروی پر خارج

    شبلی فراز اور کنول شوزب کی توہین عدالت کی درخواستیں عدم پیروی پر خارج

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنماؤں سینیٹر شبلی فراز اور کنول شوزب کی توہین عدالت کی درخواستیں عدم پیروی پر خارج کر دیں۔

    پی ٹی آئی کے دونوں رہنماؤں نے اپنے نام سفری پابندی کی فہرست سے نہ نکالنے پر یہ درخواستیں دائر کی تھیں،تاہم دو بار کیس کال ہونے کے باوجود دونوں رہنماؤں کی جانب سے کوئی وکیل پیش نہ ہوا جس پر جسٹس طارق محمود جہانگیری نے درخواستیں خارج کر دیں۔

    واضح رہے کہ دونوں رہنماؤں نے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے پر توہین عدالت کی درخواستیں دائر کر رکھی تھیں، عدالت نے نام سفری پابندی کی فہرست سے نکالنے کا حکم دیا تھا تا ہم نام نہیں نکالا گیا تھا جس پر دونوں نے توہین عدالت کے درخواست دائر کی تھی آج عدم پیروی کی جانب سے درخواستیں خارج کی گئیں

  • ایف بی آر کی اسمگل شدہ گاڑیوں کی ریگولرائزیشن میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی

    ایف بی آر کی اسمگل شدہ گاڑیوں کی ریگولرائزیشن میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو ٹرانسفارمیشن کے ایجنڈے کے تحت شفافیت، احتساب اور ادارہ جاتی دیانتداری کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھے ہوئے ہے۔اصلاحات کے اس عمل کا ایک اہم ستون داخلی جانچ پڑتال کے نظام کو قائم کرنا اور بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانا ہے۔ اس میں ایف بی آر کے عملے کی دیانتداری کی بنیاد پر پروفائلنگ کرنا اور جہاں ضرورت ہو وہاں انضباطی اور فوجداری کارروائی شامل ہے۔

    یاد رہے کہ نیلام شدہ گاڑیوں کے غلط استعمال کو روکنے اور کنٹرول میکانزم کو مضبوط بنانے کے لیے ایف بی آر نے اگست 2021 میں اپنے وی بوک (WeBOC) سسٹم میں "آکشن ماڈیول” متعارف کرایا تھا۔ اس نظام کا مقصد ضبط شدہ اسمگل گاڑیوں کی نیلامی کے بعد کسٹمز کی طرف سے جاری کردہ دستاویزات پر متعدد گاڑیوں کی رجسٹریشن کے مسئلے کو حل کرنا تھا۔ اس ماڈیول کے ذریعے موٹر رجسٹریشن اتھارٹیز کو رجسٹریشن سے قبل نیلام شدہ گاڑیوں کی تفصیلات آن لائن تصدیق کرنے کی سہولت دی گئی، جس سے کاغذی ویری فیکیشنز پر انحصار کم ہو گیا۔ اس اقدام کا مقصد ادارہ جاتی کنٹرول کو مضبوط بنانا اور حقیقی خریداروں کو سہولت فراہم کرنا تھا۔تاہم ان ریفامز کے باوجود جولائی 2025 میں اس آکشن ماڈیول کے غلط استعمال کی رپورٹس سامنے آئیں۔ اس پر ایف بی آر نے فوری طور پر انکوائری شروع کی۔ ماڈیول کے آغاز سے اب تک 1,909 گاڑیوں کی تفصیلات سسٹم میں اپ لوڈ کی گئی تھیں۔ تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد معلوم ہوا کہ ان میں سے 103 گاڑیاں جعلی یوزر آئی ڈیز کے ذریعے غلط طریقے سے اپ لوڈ کی گئیں۔ ان میں سے 43 اسمگل شدہ گاڑیاں موٹر رجسٹریشن اتھارٹیز کے ذریعے پہلے ہی رجسٹر ہو چکی تھیں، جس سے انہیں بظاہر قانونی حیثیت مل گئی۔ڈیجیٹل آڈٹ اور انٹرنل انوسٹیگیشن کی بنیاد پر ایف بی آر نے ان یوزر آئی ڈیز کی نشاندہی کی جن کے ذریعے یہ جعلسازی کی گئی۔ نتیجتاً 9 جولائی 2025 کو ایف بی آر نے ایک ڈپٹی کلکٹر اور ایک اسسٹنٹ کلکٹر کو معطل کر دیا، جن کےکوائف اس جرم میں استعمال کیے گئے تھے۔

    مزید تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ یہ سلسلہ ایک بڑے مجرمانہ نیٹ ورک کا حصہ ہے جس میں موٹر رجسٹریشن اتھاریٹز کے افسران اور کار ڈیلرز بھی شامل تھے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایف بی آر نے فیصلہ کیا کہ اس کیس کو صرف اندرونی انضباطی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے ۔ اس سلسلے میں 9 جولائی 2025 کو ایف بی آر نے باضابطہ طور پر ایف آئی اے ، کسٹمز ، اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سینئر افسران پر مشتمل ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (JIT) بنانے کی درخواست کی۔ تحقیقاتی کمیٹی کو اس سکینڈل کی جامع تحقیقات کا ٹاسک دیا گیا، جس میں کسٹمز کے ڈیجیٹل سسٹم میں کی گئی ہیرا پھیری کی جانچ پڑتال بھی شامل تھی۔10 جولائی 2025 کو ایف بی آر کی طرف سے ایف آئی اے کو کی گئی باضابطہ شکایت کے بعد جے آئی ٹی نے اپنی تحقیقات شروع کیں۔ اس کے نتیجے میں 28 اگست 2025 کو ایف آئی اے نے ان افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کی جن کی نشاندہی پہلے ہی کی جا چکی تھی اورجو اسمگل شدہ گاڑیوں کو ناجائز طور پر قانونی حیثیت دلوانے میں ملوث پائے گئے تھے ۔ ان افراد کو آج کے روز ایف آئی اے نے باقاعدہ گرفتار کر لیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کسٹمز انفورسمنٹ اب تک اس بڑے سکینڈل سے متعلق 7 ایف آئی آر زدرج کرا چکی ہے اور 13 افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

    اس کارروائی سے واضح اور دوٹوک پیغام جاتا ہے کہ ادارے کے اندر موجود مجرمانہ عناصر کی نشاندہی کرکے انہیں بے نقاب کیا جائے گا اور قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ایف بی آر اپنے افسران کو جواب دہ ٹھہرانے اور پبلک سروس کے وقار اور دیانتداری کو ہر سطح پر اور ہر قیمت پر برقرار ر کھنے کے لئے مکمل طور پر پرعزم ہے.

  • بھارتی آبی جارحیت،سندھ میں سیلاب کا خطرہ،پاک فوج ریسکیو کیلیے پہنچ گئی

    بھارتی آبی جارحیت،سندھ میں سیلاب کا خطرہ،پاک فوج ریسکیو کیلیے پہنچ گئی

    پاکستان میں حالیہ بارشوں اور بھارت کی آبی جارحیت کی وجہ سے اندرون سندھ میں ممکنہ سیلاب کا خطرہ ہے

    پاک آرمی اور دیگر قانون نافذ کرنے و الے اداروں کے سندھ میں ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیشِ نظر حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیںَ ،پاک فوج کے دستے ضروری سامان کے ساتھ پیش خطر علاقوں میں تعینات کر دیئے گئے،پاک فوج کے افسر و جوان ہمیشہ کی طرح اپنی عوام کی خاطر ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں بھرپور حصہ لیں گے ،پاکستان رینجرز سندھ جانب سے محکمہ آبپاشی کے تعمیر و مرمت پر معمور عملے کو سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے اور حفاظتی بند پر رینجرز کی موبائل گشت اور پکٹس کو مزید بڑھا دیا گیا ہے، کچے کے علاقے سے نکلنے والے لوگوں کو بھی مدد فراہم کی جا رہی ہے،پاکستان رینجرز سندھ کی جانب سے سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر فری میڈیکل کیمپ کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں علاقہ مکینوں کو مفت طبی سہولیات میسر کی جا رہی ہیں،پاک فوج اور پاکستان رینجرز سندھ کی ان کاوشوں کو علاقہ مکینوں نے خواب سراہا