Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • زیادتی کا شکار لڑکی انصاف کے لیے 100 فٹ اونچی پانی کی ٹینکی پر چڑھ گئی

    زیادتی کا شکار لڑکی انصاف کے لیے 100 فٹ اونچی پانی کی ٹینکی پر چڑھ گئی

    رحیم یار خان میں مبینہ زیادتی کا شکار 24 سالہ لڑکی پولیس کے عدم تعاون اور بااثر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج نہ ہونے پر احتجاجاً 100 فٹ اونچی پانی کی ٹینکی پر چڑھ گئی۔ لڑکی نے خودکشی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ جب تک اسے انصاف نہیں ملتا، وہ نیچے نہیں اترے گی۔

    متاثرہ لڑکی کو پولیس اور اہل خانہ نے کافی دیر کی کوششوں کے بعد اس شرط پر نیچے اتارا کہ اس کا مقدمہ درج کیا جائے گا اور ملزمان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ بعد ازاں لڑکی کو پولیس اپنے ساتھ تھانے لے گئی۔متاثرہ لڑکی، جس کی شناخت عائشہ کے نام سے ہوئی ہے، رحیم یار خان کے علاقے گلشنِ اقبال کی رہائشی ہے۔ عائشہ نے الزام لگایا کہ ایک بااثر شخص نے اسے دو ماہ تک اسلحے کے زور پر زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس دوران اس کی نازیبا ویڈیوز بھی بنائیں۔عائشہ کے مطابق، ملزم نے اسے نشہ آور گولیاں دے کر قابلِ اعتراض ویڈیوز بنائیں اور بعد میں انہی ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرتا رہا۔ متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ ملزم ان ویڈیوز کو اس کے عزیز و اقارب کو دکھاتا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا رہا۔

    عائشہ نے بتایا کہ اس نے اعلیٰ حکام سے رجوع کیا، جنہوں نے مقدمہ درج کرنے کے احکامات بھی جاری کیے، تاہم مقامی پولیس بااثر ملزمان کے دباؤ میں آکر کارروائی سے گریز کرتی رہی۔ متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ حتیٰ کہ عدالت سے آرڈر لینے کے باوجود پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا، جس کے باعث وہ انتہائی اقدام پر مجبور ہوئی۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی صدر میاں خالد موقع پر پہنچے اور ریسکیو 1122 کے عملے کے ساتھ مل کر لڑکی کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔ بعد ازاں پولیس نے متاثرہ خاتون کو تحویل میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔ڈی ایس پی میاں خالد کا کہنا ہے کہ وہ ڈی پی او رحیم یار خان سے رابطہ کرکے واقعے کی مکمل تحقیقات کرائیں گے اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    علاقے کے مکینوں اور سماجی تنظیموں نے اس واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ لڑکی کو انصاف فراہم کیا جائے اور پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جنہوں نے مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کی۔

  • میں پاک افغان مسائل جلد حل کروں گا ،ٹرمپ

    میں پاک افغان مسائل جلد حل کروں گا ،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک افغان مسئلے کے حل میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں پاک افغان مسائل جلد حل کروں گا۔

    ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں جاری آسیان سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تھائی لینڈ کمبوڈیا جنگ ان 8 جنگوں میں سے ایک ہے جو میں سے 8 ماہ میں رکوائی ہیں، ایک اور جنگ رکوانا ابھی باقی ہے،میں نے سنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پھر سے مسائل شروع ہوگئے ہیں، مجھے لگتا ہےکہ میں اس مسئلے کے حل کے لیے کچھ کرسکتا ہوں، میں دونوں ممالک کو جانتا ہوں اور میں پاک افغان مسائل جلد حل کروں گا اور میں یہ اچھے طریقے سے کروں گا، پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل اچھے لوگ ہیں، مجھے دونوں پر اعتماد ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم پاک افغان مسئلہ جلد حل کر لیں گے۔

  • شادی کی تقریب میں‌موسیقی،گولیاں چل گئیں، 3 کی موت،8 زخمی

    شادی کی تقریب میں‌موسیقی،گولیاں چل گئیں، 3 کی موت،8 زخمی

    بنوں میں شادی کی تقریب میں موسیقی کے دوران 2 گروپوں میں فائرنگ سے 3 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق بنوں کے علاقے نار جعفر میں رات گئے شادی کی تقریب میں موسیقی جاری تھی اور ڈی جے میوزک پر خواجہ سرا رقص کر رہے تھے کہ اس دوران خواجہ سرا کو چھیڑنے پر دونوں گروپوں میں جھگڑا ہوگیا ،اس دوران دونوں گروپ جو اسلحے سے لیس تھے ، ایک دوسرے پر فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں حق اور 8 زخمی ہوگئے،پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کردیا گیا ہے ،جن میں 3 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔

  • اڈیالہ جیل میں تین قیدیوں کی طبیعت خراب، ایک کی موت

    اڈیالہ جیل میں تین قیدیوں کی طبیعت خراب، ایک کی موت

    راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں قید تین قیدیوں کو طبیعت ناساز ہونے پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ایک قیدی اسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ گیا۔

    جیل ذرائع کے مطابق تینوں قیدیوں کو دل کی تکلیف کے باعث راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (RIC) منتقل کیا جا رہا تھا۔ راستے میں ایک قیدی کی حالت تشویشناک ہو گئی اور وہ اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی جان کی بازی ہار گیا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ انتقال کرنے والا قیدی تھانہ کلر سیداں پولیس کی حراست میں منشیات کے مقدمے میں گرفتار تھا، جبکہ اسپتال منتقل کیے گئے باقی دو قیدی قتل کے مقدمات میں زیرِ حراست ہیں۔ دونوں قیدی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔جیل انتظامیہ نے واقعے کی رپورٹ اعلیٰ حکام کو ارسال کر دی ہے، جب کہ جاں بحق قیدی کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دی گئی ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

  • آزاد کشمیر حکومت سازی، صدر مملکت کا وزیراعظم سے رابطہ

    آزاد کشمیر حکومت سازی، صدر مملکت کا وزیراعظم سے رابطہ

    آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے لیے صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری نے شہباز شریف کو آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کے فیصلے پر اعتماد میں لیا، شہباز شریف نے مسلم لیگ آزاد کشمیر امور کمیٹی کو پیپلز پارٹی سے مذاکرات کا ٹاسک سونپ دیا،ذرائع کا بتانا ہے کہ مسلم لیگ ن کی کمیٹی میں احسن اقبال، رانا ثنااللہ اور امیر مقام شامل ہیں اور پیپلز پارٹی کے ساتھ مذاکرات سے قبل کمیٹی نے مسلم لیگ آزاد کشمیر سے مشاورت شروع کر دی ہے۔

    دوسری جانب مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر اور سابق وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ ن لیگ آزادکشمیر میں حکومت سازی کے کسی عمل کا حصہ نہیں بنے گی،راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں فیصلہ ہوگیا تھا کہ ہم اپوزیشن میں بیٹھیں گے، پارلیمانی پارٹی اس فیصلے پر قائم ہے اور اس میں تبدیلی کی قطعی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

  • گھریلو صارفین کے لیے گیس کنیکشنز اہم تقاضا تھا،وزیراعظم

    گھریلو صارفین کے لیے گیس کنیکشنز اہم تقاضا تھا،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں گھریلو صارفین کے لیے گیس کنیکشنز کھولنے کا اعلان کر دیا۔

    اسلام آباد میں آر ایل این جی گیس کنکشنز کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا گھریلو صارفین کے لیے گیس کنیکشنز اہم تقاضا تھا، حکومت نے ملک بھر میں گھریلو صارفین کے لیے گیس کنیکشنز کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، 2022 میں پی ڈی ایم حکومت کے دوران گیس کی فراہمی ایک بڑا چیلنج تھا، عوام کا یہ اہم مطالبہ تھا کہ گیس کنیکشنز کا اجرا کیا جائے لیکن اس وقت گیس دستیاب نہیں تھی اس لیے عوام سے معذرت کرنا پڑی،نئے گیس کنیکشنز کے لیے لاکھوں درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، آج گیس کنیکشنز کی بحالی سے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا 2013 میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹے سے زائد تھا، مسلم لیگ ن کی حکومت نے ملک سے اندھیروں کے خاتمے کیلئے خصوصی اقدامات کیے، ہم نے شبانہ روز محنت کرکے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔

  • یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں پروفیسر کی جعلی بھرتی کا انکشاف

    یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں پروفیسر کی جعلی بھرتی کا انکشاف

    یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں پروفیسر کی جعلی بھرتی کا انکشاف سامنے آیا ہے

    درخواست گزار محمد ناصر اور غلام حسین نے ڈاکٹر محسن کی تعیناتی بطور پروفیسر شعبہ ٹیکسٹائل اور تقرری بطور کیمپس کوآرڈینیٹر کو غیر قانونی ہونے کی بنا پر پہلے موجودہ وائس چانسلر شاہد منیر کو درخواست گزاری کہ ڈاکٹر محسن کی مذکورہ تعیناتی و تقرری کو کالعدم قرار دیا جائے لیکن وائس چانسلر نے موجودہ رجسٹرار (آصف) کی غلط قانونی تشریح پر اس معاملہ میں کوئی کاروائی نہ کی جس پر درخواست گزاروں نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کو اپیل کر دی جس پر گورنر پنجاب نے انصاف کا ابتدائی تقاضہ پورا کرتے ہوئے تمام فریقین کو مورخہ 2025-10-14 کو ہیئرنگ کیلئے اپنے دفتر میں طلب کر لیا جس میں رجسٹرار نے یہ اقرار کیا کہ ڈاکٹر محسن کی تعیناتی و تقرری میں قانونی پراسس مکمل نہیں کیا گیا

    علاوہ ازیں دورانِ ہیئرنگ درخواست گزاروں نے گورنر پنجاب کو باآور کرایا کہ جامعہ مذکورہ میں جملہ غیر قانونی و جعلی بھرتیوں کا ذمہ دار براہِ راست موجودہ رجسٹرار (آصف) ہے کیونکہ رجسٹرار سلیکشن بورڈ کا سیکرٹری ہے اور اس کی ذمہ داری ہے کہ بورڈ کے سامنے تمام درست ریکارڈ پیش کرے اور قانون کی درست وضاحت کرے تاکہ بورڈ میرٹ پر تعیناتی کر سکے لیکن رجسٹرار نے طمع نفس کیلئے سلیکشن بورڈ اور وائس چانسلر سے غلط ریکارڈ پیش کر کے بھرتیاں کروا رہا ہے اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ رجسٹرار (آصف) نے خود یونیورسٹی میں اپنی نوکوری جعلی ایکسپرینس سرٹیفیکیٹ کے ذریعے حاصل کی ہے جو کہ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی انکوائری میں ثابت ہو چکا ہے یعنی ایک جعلی بھرتی یافتہ آگے خود جعلی بھرتیاں کیے جا رہا ہے جس کے تسلسل میں رجسٹرار نے سلیکشن بورڈ نمبر 380 کا ایجنڈا جاری کیے بغیر ڈاکٹر محسن کو اپنی ماہرانہ بد عنوانی کیلئے بطورِ پروفیسر بھرتی کروا دیا اس کے علاوہ ڈاکٹر محسن کا انٹرویو لینے والے جو ماہرین رجسٹرار نے سلیکشن بورڈ منٹس میں ظاہر کیے ہیں وہ بھی ڈاکٹر کے خاص تعلق دار ہیں جو ڈاکٹر محسن کے ساتھ مل کر کئی ریسرچ پیپرز بھی بین الاقوامی سطح پر لکھ چکے ہیں اس حوالہ سے تو رجسٹرار نے حرام کھانے کیلئے شفافیت، غیر جانبداری اور میرٹ کا جنازہ نکال دیا ہے اس کے بعد بات یہاں تک نہیں رکی رجسٹرار نے ڈاکٹر محسن پر اپنی مزید مہربانی کرتے ہوئے اسے غیر قانونی طور پر سلیکشن بورڈ کی منظوری کے بغیر ڈاکٹر محسن کو فیصل آباد کیمپس یو ای ٹی کا کوآرڈینیٹر بھی لگوا دیا۔

    درخواست گزاروں نے گورنر پنجاب کو بتایا کہ یہ تمام لاقانونیت رجسٹرار نے طمع نفس کیلئے کی ہے جس پر گورنر پنجاب نے وہیں پر موجود رجسٹرار (آصف) سے بھی استفسار کیا لیکن وہ اپنی صفائی پیش نہ کر سکا جس پر گورنر پنجاب نے کہا کہ یہ ایک انتہائی سنجیدہ اور حساس معاملہ ہے لہٰذا فیصلہ بالکل میرٹ پر ہو گا اور گورنر صاحب نے درخواست گزاروں کو مزید یقین دہانی کرائی کہ اس کیس میں کسی کی مداخلت بھی قبول نہیں کی جائے گی اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی اور غیر قانونی، آؤٹ آف میرٹ اور جعلی بھرتیوں کو بھی منسوخ کیا جائے گا۔

  • شادی کے 8 دن بعد دولہا دلہن کو چھوڑ کر نئی کی تلاش میں نکل پڑا

    شادی کے 8 دن بعد دولہا دلہن کو چھوڑ کر نئی کی تلاش میں نکل پڑا

    اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں ایک شخص پر الزام ہے کہ وہ شادیوں کا عادی بن چکا ہے۔ یہ شخص نہ صرف اپنی پہلی بیوی کو طلاق دیے بغیر دوسری شادی کر بیٹھا بلکہ اب تیسری شادی کی تیاری میں مصروف ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، منیش کمل نامی شخص نے اپنی دوسری بیوی انکیتا سریواستو سے رواں سال 7 مارچ کو شادی کی تھی۔ شادی دھوم دھام سے لکھنؤ کے آئی آئی ایم روڈ پر واقع ونائک میرج لان میں انجام پائی۔ انکیتا کے والدین نے بیٹی کی خوشی کے لیے 15 لاکھ روپے نقد اور دیگر سامان ملا کر 35 لاکھ روپے خرچ کیے۔انکیتا نے پولیس کو بتایا کہ شادی کے صرف آٹھ دن بعد ہی منیش اسے اطلاع دیے بغیر گھر سے بھاگ گیا۔ جب وہ غمزدہ حالت میں دہرادون پہنچی تو اسے پتہ چلا کہ منیش نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دیے بغیر اس سے شادی کی تھی۔ مزید تحقیقات میں انکیتا کو یہ بھی معلوم ہوا کہ منیش کے مختلف خواتین سے ناجائز تعلقات ہیں۔

    انکیتا کا کہنا تھا “شادی کے بعد سے ہی وہ مجھ سے جہیز کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا۔ اس کے اہلِ خانہ نے مجھ سے مزید 10 لاکھ روپے مانگے۔ جب میں نے انکار کیا تو مجھے مارا پیٹا گیا اور مسلسل ذہنی اذیت دی گئی۔ میں چاہتی ہوں کہ پولیس منیش کو سخت سزا دے تاکہ وہ کسی اور عورت کی زندگی برباد نہ کر سکے۔”

    انکیتا نے بتایا کہ شادی کے دوسرے ہی دن سے اس کی ساس میرا سریواستو، سسر اور بھابھی نے اسے جہیز کے مطالبے پر پریشان کرنا شروع کر دیا۔ حالات اس قدر بگڑ گئے کہ منیش نے اسے محض آٹھ دن بعد چھوڑ دیا اور غائب ہو گیا۔واقعہ کے بعد انکیتا نے سائرہ پور پولیس اسٹیشن، لکھنؤ میں اپنے شوہر منیش کمل، ساس میرا سریواستو، سسر اور بھابھی کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا۔پولیس کے مطابق، شکایت موصول ہونے پر فوری طور پر دفعہ 498-اے (جہیز کے لیے ہراسانی)، 420 (دھوکہ دہی) اور بگامی (دوہری شادی) کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    انسپکٹر منوج کوری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا“متاثرہ خاتون کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ملزمان کی تلاش جاری ہے اور متاثرہ کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے گا۔”

    ذرائع کے مطابق، منیش کمل کا تعلق غازی پور ضلع کے منڈی اکبر آباد رائے گنج سے ہے، جب کہ دوسری بیوی انکیتا سریواستو کا تعلق دہرادون کے ٹرنر روڈ سے ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ منیش پہلے بھی متعدد خواتین سے رشتہ ازدواج میں بندھ چکا ہے اور مالی فائدہ اٹھانے کے بعد فرار ہو جاتا ہے۔

  • بھارت میں  مدرسہ داخلے کیلئے کمسن لڑکی سے کنوارہ پن  کا سرٹیفکیٹ طلب،مقدمہ درج

    بھارت میں مدرسہ داخلے کیلئے کمسن لڑکی سے کنوارہ پن کا سرٹیفکیٹ طلب،مقدمہ درج

    اترپردیش کے ضلع مرادآباد میں ایک نہایت افسوسناک اور شرمناک واقعہ منظرِ عام پر آیا ہے، جہاں ایک مدرسے کی انتظامیہ نے آٹھویں جماعت میں داخلے کے لیے ایک کمسن لڑکی سے کنوارہ پن کا سرٹیفکیٹ طلب کیا۔ یہ واقعہ پاکبارہ تھانہ حدود میں قائم جامعہ احسان البنات نامی مدرسے میں پیش آیا۔

    متاثرہ طالبہ کے والدین، جن کا تعلق چندی گڑھ سے بتایا گیا ہے، نے الزام عائد کیا ہے کہ مدرسہ انتظامیہ کی جانب سے ان کی بیٹی کے کردار پر سوال اٹھایا گیا اور داخلہ دینے سے پہلے "طبی معائنہ” کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔ والد کے مطابق داخلہ سیل انچارج شاہجہاں، پرنسپل اور دیگر عملے نے واضح طور پر کہا کہ جب تک لڑکی کا میڈیکل سرٹیفکیٹ جمع نہیں کرایا جاتا، اسے داخلہ نہیں دیا جائے گا۔والد نے الزام لگایا،میری بیٹی میرے ساتھ اکیلی تھی۔ مدرسے نے مجھ سے کہا کہ اس کا میڈیکل ٹیسٹ کرواؤ اور کنوارہ پن کا سرٹیفکیٹ لاؤ، ورنہ ایڈمیشن نہیں ملے گا۔ میں نے انکار کیا تو انہوں نے میری بیٹی کو مدرسے سے نکال دیا اور میرے ساتھ بدتمیزی بھی کی۔

    متاثرہ کے والد نے مدرسہ انتظامیہ کے رویے کے خلاف ایک ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر جاری کی، جو تیزی سے وائرل ہو گئی۔پولیس کے مطابق انہیں 14 اکتوبر کو ڈاک کے ذریعے ایک تحریری شکایت موصول ہوئی تھی۔ شکایت موصول ہونے کے بعد ابتدائی تحقیقات کے نتیجے میں پولیس نے مدرسے کی ایڈمیشن سیل انچارج شاہجہاں، پرنسپل، اور دیگر عملے کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور تفتیش مکمل ہونے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    رپورٹس کے مطابق، جب لڑکی کے والد نے کنوارہ پن سرٹیفکیٹ جمع کرانے سے صاف انکار کیا، تو مدرسہ کے عملے نے ان کے ساتھ نازیبا رویہ اختیار کیا اور انہیں مدرسے سے زبردستی باہر نکال دیا۔ اس واقعے کے بعد متاثرہ خاندان نے انصاف کے لیے پولیس سے رجوع کیا۔ واقعے نے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ شہریوں اور سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کو کسی طالبہ کی عزت و وقار کو مجروح کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ شہریوں نے حکومتِ اترپردیش سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کے ذمے داروں کو سخت ترین سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی ادارہ اس طرح کی غیر اخلاقی حرکت کرنے کی جرات نہ کرے۔

  • تصویروں کی صفائی کرنا ،جیل کے باہر سڑکوں پر بیٹھنا یہ وزیر اعلی کا کام نہیں،عطا تارڑ

    تصویروں کی صفائی کرنا ،جیل کے باہر سڑکوں پر بیٹھنا یہ وزیر اعلی کا کام نہیں،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کی وزیرآباد آمد ہوئی ہے

    عطا تارڑ نے چوہدری شجاعت حسین کے بہنوئی اور چوہدری پرویز الہی کے ہم زلف جاوید اقبال چٹھہ کی وفات پر تعزیت کی ،اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کے لیے حکومت بہترین اقدامات کر رہی ہے ،سیلاب زدہ علاقہ جات میں نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے ،بانی پی ٹی آئی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کا کیس ہے اسکا جواب یہ نہیں کہ ہم ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں ،ملک ریاض کو اتنی بڑی رعایت کیوں دی قوم کا پیسہ تھا ،وزیر اعلی کا کام ہوتا ہے عوامی فلاحی منصوبے لائے جیسے ستھرا پنجاب،وزیر اعلی کا یہ کام نہیں کہ چپل کے ناپ دے ،تصویروں کی صفائی کرنا ،جیل کے باہر سڑکوں پر بیٹھنا یہ وزیر اعلی کا کام نہیں،عوام کی خدمت کرنا ان کا کام ہے ایسے کاموں سے وہ عہدہ براء نہیں ہو سکتے ،پنجاب حکومت کی جانب سے ٹی ایل پی کے خلاف کافی مواد وفاقی کابینہ کو ملا ،ٹی ایل پی کے خلاف دہشت پھیلانے کے کافی شواہد پنجاب حکومت نے دیئے ہیں ،مریدکے میں شہید ایس ایچ او کو 21 گولیاں ماری گئیں،
    پی ٹی آئی دور حکومت میں بھی ٹی ایل پی نے مشروط معاہدہ کیا تھا جس کی انہوں نے خلاف ورزی کی ہے