Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وزیراعلی پنجاب  کا مسجد پر اپنی تصویر لگانے کا سخت نوٹس،  وضاحت طلب

    وزیراعلی پنجاب کا مسجد پر اپنی تصویر لگانے کا سخت نوٹس، وضاحت طلب

    وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف نے مسجد پر اپنی تصویر لگانے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر منڈی بہاؤالدین سے وضاحت طلب کرلی ہے۔مسجد پر وزیراعلیٰ پنجاب کی تصویر لگانے پر ڈپٹی کمشنر کی سرزنش کی ہے۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے ضلعی انتظامیہ اور سرکاری اداروں کو اپنی تصویر کے حوالے سے ایس او پیز پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے سیلاب کے دوران ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کا حکم دے دیاہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے ڈپٹی کمشنرزکو سیلاب زدہ علاقوں میں نقصانا ت کاسروے کرانے کاحکم دے دیا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے فلڈ ریلیف کیمپوں میں پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے فلڈریلیف کیمپوں اورہر ٹینٹ سٹی میں ”فیومیگیشن“مچھر مار اورجراثیم خشک سپرے کرنے کی ہدایت ہے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساؤتھ کوجنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں کے متاثرین کیلئے بہترین انتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساؤتھ سے ریسکیو اورریلیف کی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ریلیف کیمپ میں مقیم متاثرہ خاندانوں بالخصوص خواتین اوربچوں کوجوتے،کپڑے اورضروری اشیاء فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ لوگ بے سروسامانی کی حالت میں گھروں سے نکلے ہیں،تنہاء نہیں چھوڑ سکتے۔پانی اترنے کے بعد بیماریاں پھیلنے کا اندیشہ ہے،اس چیلنج کیلئے پیشگی اقدامات کرنے ہوں گے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں کلینک آن ویل، فیلڈ ہسپتال کی تعداد کو بڑھانے اوردوردراز علاقوں تک رسائی یقینی بنانے کا حکم دیا اورہدایت کی کہ سیلاب زدہ علاقوں میں وزٹ کیلئے گائنی،گیسٹرواورسکن سپیشلسٹ کی موبائل ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے سیلاب زدہ علاقوں میں ڈیوٹی سرانجام دینے والے ڈاکٹر ز،پیرا میڈکل سٹاف اوردیگر عملے کیلئے خصوصی الاؤنس کا اعلان کیا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے سیلاب متاثرین کو ان کی ضرورت اورسہولت کے مطابق رہنے کیلئے ٹینٹ اورجگہ فراہم کرنے کی ہدایت ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے سیلاب زدہ علاقوں میں کسانوں کیلئے ایگری کلچر انٹرنز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سیلاب متاثرہ علاقوں میں مویشیوں کیلئے بھرپور چارے اورویکسی نیشن کی فراہمی کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے مویشیوں کو بیماریوں سے بچانے کیلئے ویکسی نیشن اوردیگر اقدامات بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔سیلاب زدہ علاقوں میں لائیوسٹاک انٹرنز کو مویشیوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری تفویض کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ڈپٹی کمشنرز کو متاثرہ علاقوں میں بجلی،سوئی گیس جلد بحال کرنے کیلئے متعلقہ محکموں سے رابطے کرنے کی ہدایت کی ہے۔پانی کے انخلاء کے بعد بجلی،گیس اوردیگر کنکشن کی فوری بحالی کی ضرورت پر زور دیا ہے اورسیلابی صورتحال کے پیش نظر ہر محکمے کو الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے فلڈ ریلیف کیمپوں میں انتظامات میں مزیدبہتری لانے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی فلڈ ریلیف کیمپوں میں صفائی کے بہترین انتظامات کی ہدایت ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے ستھرا پنجاب کی ٹیمیں فلڈریلیف کیمپوں میں تعینات کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے فلڈریلیف کیمپوں میں کوڑا دان اورڈسٹ بن وغیرہ نصب کرنے اورفلڈریلیف کیمپوں میں کوڑا کرکٹ ڈالنے کیلئے کورڈ کنٹرینر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔متعدی امرا ض سے بچاؤ کیلئے ناگزیر انتظامات یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔فلڈر یلیف کیمپوں میں مقیم افراد کو ملیریا وغیرہ سے بچانے کیلئے مچھر مار سپرے کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کمشنرز اورڈپٹی کمشنرز سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلڈریلیف کیمپوں میں مقیم افراد کو ضرورت کی ہر چیز میسر ہونے چاہیے۔فلڈ ریلیف کیمپوں میں مقیم افراد کی صحت پہلی ترجیح ہے۔فلڈ ریلیف کیمپوں کی صفائی اوردیگر امور پر خصوصی توجہ دی جائے۔

  • قومی اسمبلی ،نام لئے بغیر حنیف عباسی خواجہ آصف پر برس پڑے

    قومی اسمبلی ،نام لئے بغیر حنیف عباسی خواجہ آصف پر برس پڑے

    وزیر ریلوے حنیف عباسی نے قومی اسمبلی میں نام لیے بغیر وزیر دفاع خواجہ آصف پر تنقید کی ہے

    قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ ہمیں شوق ہوتا ہےکبھی بیوروکریسی کو گالی دیتے ہیں کبھی سیاستدان کو، کبھی اپنے نظام کو ہائبرڈ کہہ دیتے ہیں، اگریہی کہنا ہے تو حکومت سے اٹھ کر اپوزیشن میں چلے جائیں، یہ کیسےممکن ہے کہ پنڈی میں تجاوزات ہیں اور میں کہوں اس میں قصور وار نہیں،آپ کہہ رہے ہیں نظام گندا ہے، آپ 40 سال اس نظام کا حصہ رہے ہیں، پاکستان کی معیشت ہو یا دفاع ہو ، یہ مضبوط ہاتھوں میں ہے، ہم اس ایوان کا تقدس خود پامال کرتے ہیں، اپنے وائرل ہونےکے لیے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو ڈس کریڈٹ کرتے ہیں، اپنے آدھا کلوگوشت کی خاطر پوری بھینس ذبح کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہم سیلاب کی صورت میں تاریخ کی بڑی آفت کا سامنا کر رہے ہیں، یہ قدرتی آفت نہیں انسان کے اپنے ہاتھ سے بنائی آفت ہے، ہم نے آبی گزرگاہوں میں گھر اور ہوٹل بنالیے، سیالکوٹ میں سیلاب گاؤں اور گھر بہا کر لےگیا، نالے کی زمین لوگوں کو بیچی گئی وہاں گھر بنائےگئے، سڑکوں کا میک اپ کرکے تصویریں سوشل میڈیا پر ڈالی گئیں، عوام نے ان کی سڑکوں میں کی گئی جعل سازی بے نقاب کی، یہ دو نمبری کرنے والے بہت امیر ہیں، ایوان بالا میں پہنچے ہوئے ہیں، وہ کس طرح ایوان میں پہنچے سب کو پتہ ہے

  • کوئٹہ دھماکا،دفعہ 144 کے باوجود جلسہ کیوں،دہشت گردوں کی سہولت کاری؟

    کوئٹہ دھماکا،دفعہ 144 کے باوجود جلسہ کیوں،دہشت گردوں کی سہولت کاری؟

    کوئٹہ میں اختر مینگل کے جلسے کے اختتام پر مبینہ طور پر خودکش حملہ میں5 جاں بحق اور 29 زخمی ہو گئے ہیں،

    سیکیورٹی اداروں کی سختی اور حساس حالات کے باوجود بلوچ نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کوئٹہ میں جلسہ کیا۔ یہ جلسہ ان کے والد عطا اللہ مینگل کی چوتھی برسی کے موقع پر شاہوانی اسٹیڈیم، کیچی بیگ، سریاب روڈ پر منعقد کیا گیا تھا۔کوئٹہ میں دہشت گردی کا خطرہ تھا، دفعہ 144 نافذ تھی اس کے باوجود جلسہ کیا گیا، جس میں اختر مینگل اور محمود خان اچکزئی جیسی شخصیات بھی شامل تھیں۔ جلسہ شام 4 بجے شروع ہوا اور تقریباً 9:30 بجے اختتام پذیر ہوا۔ تاہم، جب لوگ جلسہ گاہ سے باہر نکل رہے تھے، تبھی 9:45 بجے ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 5 افراد جاں بحق اور 29 زخمی ہوئے ہیں، جن میں کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

    بلوچستان میں بھارت کی مداخلت اور پراکسی جنگ کی وجہ سے صورتحال انتہائی نازک ہے۔ بھارت معرکہ حق میں شکست کے بعد بلوچستان میں انتشار پھیلانے کے لیے اپنی تمام توانائیاں استعمال کر رہا ہے۔ اس دوران اختر مینگل کی جانب سے ریاست کی ہدایات کو نظرانداز کرتے ہوئے جلسہ کرنا اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو سیاسی پلیٹ فارم فراہم کرنا، سیکیورٹی حلقوں کے لیے ایک تشویش کا باعث ہے۔را بلوچستان میں عدم استحکام کے لئے ہر وقت تیار ہے، اس کو موقع چاہئے تھا اور یہ فراہم کر دیا گیا، دہشت گردی کی اس کارروائی کا مقصد بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنا اور سیاسی کشیدگی بڑھانا ہے۔ اسی نوعیت کا حملہ اس سال 30 مارچ کو لَک پاس میں بھی ہوا تھا،

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اختر مینگل اس طرح کے جلسوں اور سیاسی حربوں سے اپنی سیاسی حیثیت کو بحال رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ بلوچستان کے عوام کی اکثریت انہیں مسترد کر چکی ہے۔ یہ حملہ اور جلسہ دونوں ایک خطرناک سیاسی حکمت عملی کے تحت کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد بلوچ عوام میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرنا ہے۔بلوچ عوام کی طرف سے اس طرح کے حملوں اور سیاسی کھیلوں کی شدید مذمت کی جا رہی ہے، اور کہا جا رہا ہے کہ اختر مینگل کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے معصوم عوام کی جانوں کے ضیاع پر شرمندہ ہونا چاہیے۔

    صحافی حسن ایوب کہتے ہیں کہ شاہوانی اسٹیڈیم، کوئٹہ میں بی این پی کے جلسے کے اختتام پر خودکش حملہ، 4 شہید، 8 زخمی۔اختر مینگل اور محمود اچکزئی جلسہ ختم ہوتے ہی نکل گئے اور صرف 15 منٹ بعد دھماکہ ہوا۔یہ محض اتفاق ہے یا منصوبہ بندی؟ 30 مارچ لَک پاس حملے کے بعد یہ دوسرا واقعہ ہے جس میں اختر مینگل "محفوظ” نکلے جبکہ عام بلوچ خون میں نہا گئے۔کیا عوامی ردِعمل سے مایوس اختر مینگل اب بے گناہ بلوچوں کے خون سے سیاست چمکانا چاہتے ہیں؟کیا یہ سب کچھ صرف اپنے سیاسی وجود کو زندہ رکھنے کی کوشش ہے؟بلوچستان مزید قربانیاں نہیں دے سکتا،عوامی تحقیقات اور جواب دہی ناگزیر ہے!

  • بنا اجازت سیلاب متاثرین میں کھانے پینے کی اشیا تقسیم کرنے پر پابندی عائد

    بنا اجازت سیلاب متاثرین میں کھانے پینے کی اشیا تقسیم کرنے پر پابندی عائد

    گجرات کے بعد جھنگ میں بھی سیلاب متاثرین میں کھانے پینے کی اشیا تقسیم کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی

    اشیا تقسیم کرنے سے پہلے انتظامیہ سے تحریری اجازت لینا ہو گی، 30 دن کیلئے دفعہ 144 نافذکر دیا گیا،دفتر ڈپٹی کمشنر جھنگ کی جانب سے جاری کردہ ایک حکم نامے کے تحت ضلع جھنگ کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں کسی بھی غیر سرکاری، غیر مجاز افراد، تنظیموں یا این جی اوز کی جانب سے بغیر اجازت کھانے، پینے کی اشیاء اور امدادی خوراک کی تقسیم پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر جھنگ، علی اکبر بھنڈر کے دستخط سے جاری ہونے والے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بعض نامعلوم افراد و تنظیمیں بغیر جانچ پڑتال کے کھانے پینے کی اشیاء سیلاب متاثرین میں تقسیم کر رہی ہیں، جو کہ عوامی صحت کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر انسانی زندگیوں کو لاحق خطرات کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔

    حکم نامے میں دفعہ 144 تعزیرات پاکستان (پنجاب ترمیمی ایکٹ 2024) کے تحت احکامات جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اب کوئی بھی پکا یا کچا کھانا، فوڈ ہیمپر، پانی، دودھ یا دیگر خوردنی اشیاء سیلاب متاثرہ علاقوں میں اس وقت تک تقسیم نہیں کی جا سکیں گی جب تک کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی یا ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی جھنگ سے تحریری منظوری نہ حاصل کر لی جائے۔یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور 30 دن تک مؤثر رہے گا۔ عوام الناس کو اس حکم کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کے لیے اسے سرکاری گزٹ، روزنامہ اخبارات، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں بطور خبر نشر و شائع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • یورپی یونین کا سیلاب متاثرین کیلئے 35 کروڑ روپے کی امداد کا اعلان

    یورپی یونین کا سیلاب متاثرین کیلئے 35 کروڑ روپے کی امداد کا اعلان

    یورپی یونین نے سیلاب متاثرین کیلئے فوری طور پر 35کروڑ روپے کی ہنگامی امداد کا اعلان کردیا۔

    یورپی یونین کے مطابق سیلاب متاثرین کی فوری ضروریات کیلئے 35 کروڑ روپے کی امداد دے رہے ہیں، پاکستان میں تباہ کن فلیش فلڈز سے متعدد افراد جاں بحق اور لاپتہ ہیں، مون سون بارشوں کے باعث آنے والے فلیش فلڈز سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی،یورپی یونین نے جاں بحق افراد کے لواحقین اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ امداد قابلِ اعتماد انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے ذریعے فراہم کی جائے گی، امداد میں جان بچانے والی ہیلتھ سروسز شامل ہوں گی، سب سے زیادہ متاثرہ اور کمزور افراد کیلئے کیش معاونت فراہم کی جائے گی اور یورپی یونین مشکل وقت میں پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔

    دوسری جانب نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو یورپی یونین کی نائب صدر نے ٹیلی فون کیا اور حالیہ سیلاب سے جانی نقصان پراظہارتعزیت کیا،ترجمان دفترخارجہ کے مطبق یورپی یونین نائب صدر نے متاثرین اوران کے خاندانوں سے اظہاریکجہتی کیا اور پاکستان کو ریلیف اوربحالی کی کوششوں میں تعاون کی یقین دہانی کرائی،نائب وزیراعظم نے اظہارِ یکجہتی اور تعاون پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان ماحولیاتی بحران سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔

  • لیسکو  کی بجلی چوروں سے 4 کروڑ 80 لاکھ 52 ہزار روپے سے زائد کی ریکوری

    لیسکو کی بجلی چوروں سے 4 کروڑ 80 لاکھ 52 ہزار روپے سے زائد کی ریکوری

    وزیرِاعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی قیادت، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی خصوصی ہدایات اور چیف ایگزیکٹو لیسکو انجینئر محمد رمضان بٹ کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بجلی چوروں کے خلاف سخت کارروائیاں جاری ہیں۔

    لیسکو نے پولیس اور رینجرز کے تعاون سے موصول ہونے والی بجلی چوری کی شکایات پر فوری اور سخت ایکشن لے رہا ہے۔ اگست 2025 کے دوران لیسکو کو مجموعی طور پر5 ہزار 7 سو 62 بجلی چوری کی شکایات موصول ہوئیں جن میں گھریلو 5465 ،کمرشل 184، زرعی 105، صنعتی 8۔لیسکو کی جانب سے5 ہزار 6 سو 96 ایف آئی آرز کے اندراج کی درخواستیں کی گئیں جن میں سے 3ہزار 2 سو 57 ایف آئی آرز درج ہوئیں۔ کارروائی کے دوران 50 بجلی چور گرفتار کیے گئے۔ مزید براں 98 لاکھ 9 ہزار سے زائد یونٹس پر مشتمل بجلی چوری پکڑی گئی جس پر24 کروڑ 91 لاکھ 55 ہزارسے زائد کے ڈٹیکشن بلز جاری کیے گئے جبکہ بجلی چوروں سے 4 کروڑ 80 لاکھ 52 ہزار روپے سے زائد کی ریکوری عمل میں لائی گئی۔چیف ایگزیکٹو لیسکو انجینئر محمد رمضان بٹ نے کہا کہ ”بجلی چور دراصل قوم کے چور ہیں۔”انہوں نے واضح کیا کہ لیسکو میں کسی بھی سطح پر بجلی چوری برداشت نہیں کی جائے گی اور زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت ترین ایکشن جاری رہے گا

    دوسری جانب لیسکو ہیڈکوارٹر میں چیف ایگزیکٹو لیسکو انجینئر محمد رمضان بٹ کی زیرِ صدارت فنکشنل ہیڈز کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کمپنی کے تمام اہم امور، کارکردگی اور مستقبل کے اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔چیف ایگزیکٹو لیسکو نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ لیسکو کے افسران اور ٹیمیں ہائی الرٹ ہیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے جبکہ سیلابی پانی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے باقی متاثرہ علاقوں میں جلد بجلی بحالی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ لیسکو میں بجلی چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہوئے کاروائیاں جاری رہیں گی۔ لائن اسٹاف اور عوام کی جان کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے ہر ملازم سیفٹی اصولوں پر مکمل عمل کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی کی کارکردگی بہتر بنانے اور صارفین کو معیاری سروس فراہم کرنے کے لئے تمام شعبہ جات کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی تاکہ صارفین کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے ساتھ ان کی شکایات کا بروقت ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔ اجلاس میں اعجاز بھٹی(ڈائریکٹر آپریشنز)،عباس علی (ڈائریکٹر کسٹمر سروسز)،محمد جعفر مرتضیٰ(ڈی جی میراڈ)،رائے محمد اصغر(ڈی جی ایمپلیمنٹیشن)،احمد سعید(چیف فنانس آفیسر)، ضمیر حسین کلاچی(ڈائریکٹر ایچ آر)فیصل زکریا(چیف انجینئر پلاننگ)،عمران محمود(چیف انجینئر پی ایم یو)،عثمان جرال (چیف آئی ٹی آفیسر)،معصومہ عادل(ڈی جی ایڈمن) اوراعلیٰ افسران نے شرکت کی

  • سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی امداد، محفوظ مقامات پر منتقلی کی جائے،وزیراعظم

    سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی امداد، محفوظ مقامات پر منتقلی کی جائے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت بیجنگ سے سیلابی صورتحال اور جاری ریسکیو و امدادی سرگرمیوں پر جائزہ اجلاس ہوا

    وزیراعظم نے ملک میں جاری مون سون کے بڑے اسپیل کے دوران این ڈی ایم اے و دیگر ریسکیو و ریلیف اداروں کی تیاری اور امدادی کاروائیوں کی نگرانی کیلئے اپنی مصروفیات کچھ دیر کیلئے ترک کرکے جائزہ اجلاس کی صدارت کی،اجلاس میں چئیرمین این ڈی ایم اے، پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کے چیف سیکریٹریز اور امدادی کاروائیوں کے لیے متعلقہ اداروں نے وزیراعظم کو ملک میں حالیہ سیلابی صورتحال اور امدادی کاروائیوں کی پیشرفت کے حوالے سے آگاہ کیا،وزیراعظم نے این ایچ اے اور وزارت توانائی کو سیلاب سے متاثرہ نظام مواصلات اور بجلی کی ترسیل کے نظام کی ترجیحی بنیادوں پر بحالی کے لیے اقدامات لینے کی ہدایت کی اور کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی امداد، ان کی محفوظ مقامات پر منتقلی اور متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے وفاقی حکومت، صوبائی حکومتیں اور تمام متعلقہ ادارے مکمل تعاون سے کام جاری رکھیں،وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو پنجاب اور سندھ میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر بحالی کی اور امدادی کاروائیوں پر خصوصی طور پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کی،وزیرِ اعظم نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز سے مکمل رابطے میں رہنے اور صوبائی حکومتوں کو ہر قسم کی معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی،وزیراعظم نے سیلاب کی وجہ سے لاپتہ شہریوں کی جلد تلاش مکمل کرنے کی ہدایت کی

    اجلاس میں دوران بریفنگ بتایا گیا کہ دریائے راوی، چناب اور ستلج میں طغیانی کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، دریاؤں میں طغیانی کے پیش نظر ڈیمز اور بیراجوں کی ریگولیشن جاری ہے،اجلاس میں وزیراعظم کو پنجاب اور سندھ میں دریاؤں میں طغیانی کی وجہ سے بڑھتی ہوئی سیلابی صورتحال کے حوالے سے آگاہ کیا گیا ،دریائے چناب، راوی اور ستلج میں ترمّو، بلوکی، سدھنائی، جی ایس والا اور سلیمانکی کے مقامات پر طغیانی اور متوقع سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے این ڈی ایم اے کا صوبائی انتظامیہ اور صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ سے مکمل تعاون جاری ہے، دریائے راوی، چناب اور ستلج سے سیلابی ریلوں کی آمد کے بعد پنجند کے مقام پر شدید طغیانی متوقع ہے،پنجند سے یہ ریلہ 6 ستمبر کی دوپہر تک گڈو بیراج پہنچنے کا امکان ہے جہاں متوقع سیلابی صورتحال کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے، سندھ میں گڈو کے مقام پر متوقع سیلابی ریلے کے پیش نظر این ڈی ایم اے سندھ حکومت کے ساتھ مناسب انتظامات کے لیے مکمل تعاون کر رہا ہے،سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو 1122، پاک فوج، رینجرز، غیر سرکاری تنظیمیں اور صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیاں آپسی تعاون سے امدادی کاروائیوں میں سرگرم عمل ہیں،سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کے قافلے تسلسل سے بھیجے جارہے ہیں،سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی ترسیل اور بجلی کے متاثرہ نظام کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے،

    اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ بیجنگ جبکہ چئیرمین این ڈی ایم اے اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران پاکستان سے وڈیو لنک کے ذریعے شریک تھے.

  • سعودی اور عراقی کمپنیوں نے بھارتی ریفائنری کو تیل کی فروخت روک دی

    سعودی اور عراقی کمپنیوں نے بھارتی ریفائنری کو تیل کی فروخت روک دی

    سعودی اور عراقی کمپنیوں نے بھارتی ریفائنری کو تیل کی فروخت روک دی

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، سعودی آرامکو اور عراق کی سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنی سومو نے یورپی یونین کی جولائی میں عائد کردہ پابندیوں کے بعد روس کی حمایت یافتہ بھارتی ریفائنری کمپنی نایارا انرجی کو خام تیل کی فراہمی معطل کر دی ہے۔لندن اسٹاک ایکسچینج گروپ (ایل ایس ای جی) کے شپنگ ڈیٹا کے مطابق، خلیجی برآمد کنندگان کی جانب سے سپلائی بند ہونے کے بعد نایارا انرجی، جس کا بڑا شیئر ہولڈر روسی آئل کمپنی روزنیفٹ ہے، اگست میں خام تیل کی درآمد کے لیے مکمل طور پر روس پر منحصر ہو گئی ہے۔کپلر اور ایل ایس ای جی کے شپمنٹ ڈیٹا کے مطابق، نایارا عام طور پر ہر ماہ تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی خام تیل اور 10 لاکھ بیرل سعودی خام تیل حاصل کرتی ہے، تاہم اگست میں اسے دونوں سپلائرز کی طرف سے کوئی تیل موصول نہیں ہوا۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق، سومو اور نایارا نے اس معاملے پر کوئی بیان نہیں دیا، جبکہ سعودی آرامکو نے بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ روسی تیل کی خریداری کی وجہ سے امریکا نے بھارت پر 50 فیصد تجارتی ٹیرف بھی عائد کیا ہوا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز بھارت سے تجارتی معاملات پر کہا کہ بھارت نے اپنے محصولات صفر کرنے کی پیشکش کی ہے، لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے، یہ پیشکش کئی سال پہلے کر دینی چاہیے تھی۔

  • سیلاب،بیماریوں کا خطرہ،قومی ادارہ صحت کی ایڈوائزری جاری

    سیلاب،بیماریوں کا خطرہ،قومی ادارہ صحت کی ایڈوائزری جاری

    2025 کے غیر معمولی سیلاب کے بعد قومی ادارہ صحت نے بیماریوں کے پھیلاؤ کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے صحت عامہ سے متعلق اہم ایڈوائزری جاری کی ہیں۔ پانی کے ذخائر میں بڑے پیمانے پر آلودگی اور بیماری پھیلانے والے کیڑوں کے پھیلاؤ سے عوامی تحفظ کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

    سیلاب نے خوراک اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے تیزی سے پھیلاؤ کے لیے ایک غیر محفوظ ماحول پیدا کیا ہے۔ سیلاب کے آلودہ پانی کی وجہ سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور دیگر اسہال کی بیماریوں میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ قومی ادارہ صحت نے ایڈوائزری کر ذریعے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ حفاظتی پروٹوکول پر عمل کریں۔
    اس کے علاوہ، سیلاب سے کھڑے پانی کی وجہ سےمچھروں کی افزائش میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ، اور مچھر سے پھیلنے والی بیماریوں کے امکانات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر ڈینگی بخار اور چکن گونیا، جو ایڈیس مچھروں سے پھیلتے ہیں، اور ملیریا، جو اینوفیلز مچھروں سے پھیلتا ہے، تشویش کا باعث ہیں۔یہ مشاورتی گائیڈ لائنز کمیونٹیز اور افراد کو اپنی حفاظت اور سنگین بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کرنے کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

    قومی ادارہ صحت نے مندرجہ ذیل ایڈوائزریز جاری کی ہیں
    – ویکٹر (مچھر، مکھی، چیچڑ) سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے ایڈوائزری
    – خوراک اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے ایڈوائزری
    – ویکسین سے روکی جانے والی بیماریوں کے لیے ایڈوائزری-
    – آشوب چشم کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے ایڈوائزری-
    قومی ادارہ صحت صورتحال پر نظر رکھے گا اور سیلاب سے بحالی کی کوششوں میں پیش رفت کے ساتھ اپ ڈیٹس فراہم کرتا رہے گا۔

  • گلگت بلتستان کے ضلع استور میں آلودہ پانی پینے سے سینکڑوں افراد بیمار

    گلگت بلتستان کے ضلع استور میں آلودہ پانی پینے سے سینکڑوں افراد بیمار

    گلگت بلتستان کے ضلع استور میں آلودہ پانی کی فراہمی کے باعث صحت عامہ کو شدید خطرہ پیدا ہوگیا ہے، جہاں سیکڑوں افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر اسپتالوں میں داخل ہو گئے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر استور نے اس سنگین صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تقریباً 400 متاثرین کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ڈی سی استور کے مطابق متاثرہ افراد کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال عیدگاہ اور گوریکورت کے اسپتالوں میں طبی علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے جو اس آلودہ پانی کے استعمال سے مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں فوری طبی کیمپ بھی لگائے گئے تاکہ بیماریوں کی روک تھام اور متاثرین کی فوری طبی سہولت یقینی بنائی جا سکے۔

    ضلعی انتظامیہ نے اس وبائی صورتحال کے پیش نظر ضلع بھر کے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج کے علاوہ کل بھی تعلیمی ادارے بند رہیں گے تاکہ بچے اس آلودہ پانی سے بچ سکیں اور وباء کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ڈی سی استور نے بتایا کہ راما واٹر سپلائی لائن میں لیکیج کی وجہ سے پانی میں گندگی شامل ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے پانی مضر صحت ہو چکا ہے۔ راما واٹر سپلائی اسکیم سے ضلع استور کے چھ شہری علاقوں کو پانی فراہم کیا جاتا ہے، جس میں ضلع ہیڈکوارٹر بھی شامل ہے۔ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر پانی کی سپلائی لائن کی مرمت اور صفائی کا کام شروع کر دیا ہے تاکہ اس آلودہ پانی کی فراہمی کو جلد از جلد روک کر عوام کو محفوظ پانی فراہم کیا جا سکے۔