Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستان کی کامیاب حکومتی سفارتکاری ،عسکری ڈپلومیسی کی عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی

    پاکستان کی کامیاب حکومتی سفارتکاری ،عسکری ڈپلومیسی کی عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی

    پاکستان کی کامیاب حکومتی سفارتکاری اور عسکری ڈپلومیسی کی عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی،امریکا، چین، سعودی عرب سے تعلقات میں نئے سنگِ میل، پاکستان سفارتی کامیابیوں کی راہ پر گامزن، امریکی جریدے "فارِن پالیسی” نے اسلام آباد کو خطے کا سفارتی فاتح قرار دے دیا۔

    امریکی جریدے فارن پالیسی کے مطابق پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی نے عالمی منظرنامہ بدل کر سفارتکاری میں نئے افق کھول دیےہیں۔ گزشتہ6 ماہ میں پاکستان کی سفارتکاری نے خطے میں نئی جہتیں متعارف کراتے ہوئے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ پاکستان نے امریکا سے تعلقات کی بحالی، ترکیہ ،ملائیشیا، ایران سے معاہدے اور چین سے تعلقات کے فروغ نے نیا باب رقم کیا۔ سعودی عرب سے اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ نے خطے میں نئی سفارتی لہر پیدا کی جو پاکستان کی کامیابی کا مظہر ہے۔

    فارن پالیسی میگزین کے مطابق اسلام آباد اور واشنگٹن کے نئے تعلقات کی شروعات پیش آنے والے غیر متوقع واقعات سے ہوئی۔ پاکستان نے داعش خراسان کا دہشتگرد گرفتار کیا، جو کابل ایئرپورٹ حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ امریکی سینٹ کام کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا نے پاکستان کے انسدادِ دہشتگردی تعاون کو "غیر معمولی اور مؤثر” قرار دیا۔ امریکا اور پاکستان کے تعلقات کی بحالی نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے رشتوں میں دراڑ پیدا کی۔ فارن پالیسی میگزین کے مطابق بھارت کو ٹرمپ کے پاکستان کی طرف جھکاؤ سے 25 سالہ سفارتی محنت اور اعتماد کےضیاع کا خدشہ ہے۔ ٹرمپ اور مودی کی تلخ فون کال سے امریکا، بھارت تعلقات کشیدہ ہوئے اور پاکستان کیلئے نئی راہیں کھل گئیں۔ ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی ختم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش بھی کی۔

    فارن پالیسی میگزین کے مطابق جون میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ٹرمپ کی 2 گھنٹے طویل ملاقات نے تعلقات میں نئی گرمجوشی پیدا کی۔ وزیراعظم شہباز شریف اور ٹرمپ کی ملاقاتیں اور غزہ امن کانفرنس پاکستان کے عالمی اثرورسوخ کا مظہر بنیں۔ پاکستان نے ٹرمپ سے شاندار تجارتی پیکیج حاصل کر کے سفارتکاری میں نیا سنگِ میل عبور کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی مؤثر سفارتکاری کے باعث امریکی کمپنی نے 500 ملین ڈالرز سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ پاکستان نے غیر نیٹو اتحادی ہوتے ہوئے امریکا، چین، سعودی عرب سے بیک وقت تعلقات مضبوط کیے۔ متوازن خارجہ پالیسی اور موثر سفارتکاری نے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو اہم کھلاڑی کے طور پر متعارف کرایا ہے۔

  • اسموگ نے پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا

    اسموگ نے پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا

    پنجاب کے مختلف شہروں میں اسموگ نے ایک بار پھر پنجے گاڑ لیے ہیں اور فضائی آلودگی کی صورتحال خطرناک حدوں کو چھونے لگی ہے۔ محکمہ ماحولیات اور محکمہ موسمیات کے مطابق صوبے کے مشرقی اضلاع میں فضائی آلودگی میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

    لاہور کا ایئرکوالٹی انڈیکس (AQI) ہفتے کی صبح 363 تک پہنچ گیا جو کہ انسانی صحت کے لیے نہایت مضر قرار دیا جاتا ہے، جبکہ فیصل آباد میں ایئرکوالٹی انڈیکس 500 کی انتہائی خطرناک سطح تک جاپہنچا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ سطح عالمی معیار کے مطابق “Hazardous” زمرے میں آتی ہے، جس کے اثرات بچوں، بزرگوں اور سانس کے مریضوں پر فوری طور پر پڑ سکتے ہیں۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ صوبے میں خشک موسم، بارشوں کی عدم دستیابی اور فضائی آلودگی کے بڑھتے اخراجات نے صورتحال کو مزید گھمبیر کردیا ہے۔ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، شیخوپورہ اور قصور سمیت مشرقی پنجاب کے بیشتر اضلاع اسموگ کی زد میں ہیں۔اسموگ کے باعث شہریوں کو آنکھوں میں جلن، گلے میں خراش، سانس لینے میں دشواری اور تھکن جیسی علامات کا سامنا ہے۔ اسپتالوں میں سانس اور دمے کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے۔

    ماہرینِ صحت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں، ماسک کا استعمال کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال سے پرہیز کریں۔

    دوسری جانب، حکومتِ پنجاب نے اسموگ سے نمٹنے کے لیے انسدادِ آلودگی مہم تیز کرنے، بھٹوں اور فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف کارروائیوں میں شدت لانے اور صنعتی اخراجات پر کڑی نظر رکھنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔محکمہ ماحولیات کے مطابق اگر آئندہ چند دنوں میں بارش نہ ہوئی تو فضائی آلودگی کی شدت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جس سے روزمرہ زندگی اور ٹریفک نظام بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

  • خاتون کی برہنہ ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والاملزم گرفتار

    خاتون کی برہنہ ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والاملزم گرفتار

    نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی نے خاتون کو قابل اعتراض ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے بلیک میل کرنے میں ملوث ملزم کو گرفتار کرکے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جی ایٹ 2 اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے دانیال خان پر الزام ہے کہ اس نے بدنیتی پر مبنی مقاصد کے تحت متاثرہ خاتون کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز غیر قانونی طور اپنے پاس محفوظ رکھیں اور بعدازاں اس کے واٹس ایپ نمبر پر دھمکی آمیز وائس میسج کے ساتھ بھجوا کر ہراساں کرتے ہوئے بلیک میل کیا، متاثرہ خاتون سمیت اس کے اہل خانہ کی عزت اور وقار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی انکوائری میں الزام ثابت ہونے پر ملزم کے خلاف پیکا ایکٹ اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا اور پھر ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔

    ملزم کے قبضے سے موبائل فون ضبط کر کے ٹیکنکل تجزیہ کرایا گیا تو اس میں سے قابل اعتراض مواد برآمد ہوا۔حکام کا کہنا تھا کہ انسپکٹر محمد توصیف کی سربراہی میں تفتیش جاری ہے، جس کے دوران مزید انکشافات کی توقع ہے۔

  • سابق ایم پی اے کی بریت کیخلاف نیب اپیل مسترد

    سابق ایم پی اے کی بریت کیخلاف نیب اپیل مسترد

    سندھ ہائی کورٹ نے سابق ایم پی اے اور وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر اللّٰہ ڈنو خان بھیو کی بریت کے خلاف نیب کی اپیل مسترد کردی۔

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ نیب احتساب عدالت کے فیصلے میں کوئی قانونی نقص ثابت نہیں کر سکا۔ نیب پراسیکیوٹر صرف فیصلے کے ایک پیراگراف میں نمبر کی غلطی دکھا سکا۔ متن میں شواہد یا قانونی تشریح میں کوئی خامی نہیں پائی گئی۔،عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کی گائیڈ لائنز کے مطابق احتساب عدالت کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی وجہ نہیں،نیب نے عدالت کو بتایا کہ اللّٰہ ڈنو خان بھیو پر 48 ملین روپے کنٹریکٹرز سے وصولی کا الزام تھا، جس پر ناکافی شواہد کی بنیاد پر انہیں بری کیا گیا تھا،نیب نے بریت کے خلاف اپیل کی جو عدالت نے مسترد کر دی

  • گھریلو ملازم کروڑوں کا مالک، چوری کی رقم سے جائیدادیں اور گاڑیاں خرید لیں

    گھریلو ملازم کروڑوں کا مالک، چوری کی رقم سے جائیدادیں اور گاڑیاں خرید لیں

    شہرِ قائد کے پوش علاقے ڈیفنس سے چوری کے الزام میں گرفتار گھریلو ملازم واجد کے ہوشربا انکشافات سامنے آگئے ہیں۔ پولیس کے مطابق محض 45 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کام کرنے والا یہ ملازم کروڑوں روپے کے اثاثوں کا مالک نکلا۔

    تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے چار بینک اکاؤنٹس سے مجموعی طور پر ایک کروڑ 86 لاکھ روپے کی مشکوک ٹرانزیکشنز کے شواہد ملے ہیں۔ مزید انکشاف ہوا کہ واجد نے چوری کی رقم سے کراچی میں فلیٹ، ہری پور اور اسلام آباد میں پلاٹس خرید رکھے ہیں۔ اس کے علاوہ ملزم کی ملکیت میں ایک مسافر وین بھی ہے جو ہری پور روٹ پر چلتی ہے۔ پولیس نے اس کے قبضے سے ایک کروڑ روپے مالیت کا سونا بھی برآمد کیا ہے۔تحقیقات کے مطابق واجد کو ڈیفنس کے رہائشی بزرگ جوڑے نے آٹھ برس قبل ملازمت پر رکھا تھا۔ بزرگ جوڑے کا بیٹا اور بیٹی بیرونِ ملک مقیم ہیں جو والدین کے اخراجات کے لیے ہر ماہ بھاری رقم پاکستان بھیجتے تھے۔ واجد نے طویل عرصے تک اعتماد حاصل کر کے گھر کے تمام معاملات، حتیٰ کہ بینک اکاؤنٹس اور لاکرز تک رسائی حاصل کر لی۔

    پولیس کے مطابق چار سال قبل بزرگ مرد کے انتقال کے بعد واجد گھر میں موجود معمر خاتون کی دیکھ بھال کرتا رہا، اور اسی دوران اس نے گھر سے رقوم اور قیمتی سامان چوری کرنا شروع کر دیا۔گزشتہ روز پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم واجد کو گرفتار کیا۔ دورانِ تفتیش اس نے اعتراف کیا کہ وہ کئی برسوں سے گھر سے رقم اور زیورات چوری کرتا رہا اور انہی پیسوں سے جائیدادیں اور گاڑیاں خریدیں۔پولیس نے ملزم کے تمام اثاثوں کا ریکارڈ حاصل کر کے تحقیقات مزید تیز کر دی ہیں، جبکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملزم کے دیگر ساتھی بھی جلد گرفتار ہوں گے۔

    ذرائع کے مطابق پولیس واجد کے بینک اکاؤنٹس اور جائیدادوں کو ضبط کرنے کے لیے قانونی کارروائی شروع کر چکی ہے۔

  • عمران 2026 کے دوران بھی جیل میں ہوں گے،انصار عباسی کا دعویٰ

    عمران 2026 کے دوران بھی جیل میں ہوں گے،انصار عباسی کا دعویٰ

    اگر کوئی معجزہ نہ ہوا، یا کوئی ڈیل نہ ہوئی، یا عدالتوں سے غیر متوقع ریلیف نہ ملا تو عمران خان کے جلد رہا ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، اور وہ 2026 کے دوران بلکہ ممکنہ طور پر اس کے بعد بھی جیل میں رہ سکتے ہیں۔

    روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی انصار عباسی کی خبر کے مطابق پی ٹی آئی کے اندر سخت گیر عناصر اب بھی تصادم کی پالیسی پر قائم ہیں لیکن پارٹی کے تحمل مزاج رہنما عمران خان کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اُن کی رائے ہے کہ جب تک یہ محاذ آرائی ختم نہیں ہوتی، عمران خان کی رہائی ممکن نہیں،پارٹی کے کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی مشکلات جلد ختم ہوتی نظر نہیں آتیں کیونکہ ان کے اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کیخلاف زیر سماعت مقدمات اور سزاؤں کی نوعیت پیچیدہ ہے۔

    عمران خان اور ان کی اہلیہ کی القادر ٹرسٹ کیس میں سزا کیخلاف اپیلیں تاحال اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر نہیں ہوئیں۔ اس سے پہلے ان کی سزا کی معطلی کی درخواست کی سماعت ضروری ہے، لیکن اس حوالے سے بھی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔،ہائی کورٹ کی جاری کردہ ’’فکسیشن پالیسی‘‘ کے مطابق، اپیلوں کی سماعت کیس دائر ہونے کی ترتیب میں کی جاتی ہے۔ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی (این جے پی ایم سی) کی ہدایت پر تشکیل دی گئی اس پالیسی میں پرانے اور سنگین مقدمات، خصوصاً سزائے موت اور عمر قید کے کیسز کو ترجیح دی جاتی ہے،القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، اور ان کی اپیل 31 جنوری 2024 کو دائر کی گئی تھی، لیکن تاحال اس پر کوئی سماعت نہیں ہوئی۔

    موجودہ عدالتی بیک لاگ اور ترجیحی پالیسی کو دیکھتے ہوئے، ذرائع کے مطابق، اس اپیل پر رواں سال سماعت کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ کئی پرانے مقدمات پہلے زیر سماعت ہیں۔ پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے ’’سخت گیر عناصر‘‘ جنہوں نے مذاکرات کی مخالفت کی، انہوں نے عمران خان کیلئے معاملات مزید مشکل بنا دیے ہیں۔ جب تک القادر ٹرسٹ کیس میں سزا برقرار ہے، عمران خان جیل سے باہر نہیں آ سکتے۔ ان کے قانونی مسائل میں اضافہ کرتے ہوئے، توشہ خانہ دوم کیس اب اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ اگر اس میں بھی سزا ہو گئی تو اپیلیں سماعت کیلئے مقرر ہونے سے قبل عمران خان اور ان کی اہلیہ کو مزید قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    مزید برآں، 9 مئی سے متعلق کئی مقدمات تاحال زیر سماعت ہیں۔ پی ٹی آئی کے ماہرینِ قانون کو علم ہے کہ استغاثہ کے پاس اتنے قانونی حربے موجود ہیں کہ ان کیسوں کو طول دیا جا سکتا ہے، جس سے عمران خان کی رہائی میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے؛ پھر چاہے وہ کچھ کیسز میں ضمانت یا بریت ہی کیوں نہ حاصل کر لیں۔ حتیٰ کہ بہترین صورتحال میں بھی، اگر عمران خان تمام بڑے مقدمات میں ہائی کورٹ سے بری ہوئے بھی تو اس میں طویل عرصہ لگے گا۔

    ذرائع کے مطابق، جب تک کوئی غیر معمولی عدالتی یا سیاسی پیش رفت نہیں ہوتی، عدالتی کارروائیوں کے موجودہ وقت کا اندازہ بتاتا ہے کہ عمران خان کی قید 2026ء تک، بلکہ اس سے بھی آگے تک جا سکتی ہے۔

  • پاکستان اور ترکیہ کے درمیان فیری سروس کے آغاز پر غور

    پاکستان اور ترکیہ کے درمیان فیری سروس کے آغاز پر غور

    پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بحری رابطوں کو فروغ دینے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان فیری سروس کے آغاز پر غور کیا جارہا ہے، جو نہ صرف عوامی سطح پر روابط کو بڑھائے گی بلکہ تجارتی سرگرمیوں میں بھی نیا باب کھولے گی۔

    ذرائع کے مطابق وزیرِ بحری امور جنید انوار چوہدری سے ترک وزیرِ ٹرانسپورٹ نے اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے جہاز سازی (Shipbuilding)، آپریشنز اور شپ بریکنگ (Ship Breaking) کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔وزیرِ بحری امور جنید انوار چوہدری نے ترک سرمایہ کاروں کو گوادر میں سرمایہ کاری کی دعوت دی، اس موقع پر ترک وزیر نے بتایا کہ جلد ہی ترک سرمایہ کاروں کا ایک اعلیٰ سطحی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ مختلف منصوبوں پر عملی پیش رفت کی جاسکے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق مجوزہ فیری سروس سے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان سیاحت، تجارت اور ثقافتی تعلقات کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔ یہ منصوبہ مستقبل میں خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک نئی تجارتی راہداری ثابت ہوسکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ فیری سروس شروع ہوجاتی ہے تو یہ نہ صرف دو برادر ممالک کے تعلقات میں ایک سنگ میل ثابت ہوگی بلکہ پاکستان کے بحری شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے بھی کھول دے گی۔

  • ہم جنس پرستوں کا آپس میں جنسی تعلق،بیٹی کے ساتھ زیادتی پر دوست کی شرمگاہ کاٹ ڈالی

    ہم جنس پرستوں کا آپس میں جنسی تعلق،بیٹی کے ساتھ زیادتی پر دوست کی شرمگاہ کاٹ ڈالی

    اتر پردیش کے ضلع دیوریا میں جمعرات کی شب ایک لرزہ خیز واقعہ پیش آیا، جہاں ایک باپ نے اپنی کمسن بیٹی سے زیادتی کے الزام میں اپنے ساتھی کی شرمگاہ کاٹ ڈالی اور چند گھنٹے بعد خود اپنی جان لے لی۔ پولیس کے مطابق واقعے نے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق، 32 سالہ شخص مقامی آرکسٹرا گروپ میں گلوکار تھا اور اپنی اہلیہ سے علیحدگی کے بعد 35 سالہ رام بابو یادو نامی شخص کے ساتھ ایک کرائے کے کمرے میں رہائش پذیر تھا۔ دونوں کے درمیان گہری دوستی تھی جو وقت کے ساتھ مزید قریبی تعلق میں بدل گئی۔دونوں ہم جنس پرست تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرتے تھے،چند روز قبل جب مذکورہ شخص کی چھ سالہ بیٹی اپنے والد سے ملنے آئی، تو الزام ہے کہ یادو نے بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق جب باپ کو اس ہولناک فعل کا علم ہوا تو اس نے طیش میں آ کر یادو پر حملہ کر دیا اور چاقو کے وار سے اس کے جسم کے نازک اعضا کاٹ دیے۔
    شدید زخمی یادو کو پہلے دیوریا میڈیکل کالج اور بعدازاں گورکھپور اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ پولیس نے یادو کے خلاف بچوں کے تحفظ کے قانون کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    دورانِ تفتیش یادو نے پولیس کے سامنے اپنے اور متاثرہ بچی کے والد کے درمیان ذاتی تعلقات کا اعتراف کیا، جس کے بعد مقامی لوگوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔ ذرائع کے مطابق، اسی سماجی دباؤ اور بدنامی کے باعث جمعہ کی صبح مذکورہ شخص نے پھانسی لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ایڈیشنل ایس پی سنیل کمار سنگھ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلیے گئے ہیں، لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور مزید تفتیش جاری ہے۔ ابتدائی شواہد کے مطابق موت خودکشی سے ہوئی ہے۔

    پولیس کے مطابق بچی کا میڈیکل معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ فارنزک رپورٹ کا انتظار ہے۔ متاثرہ بچی کو اس کے نانا نانی کے گھر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اسے طبی نگہداشت اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

  • پی سی بی کا ملتان سلطانز سے متعلق متبادل پلان تیار

    پی سی بی کا ملتان سلطانز سے متعلق متبادل پلان تیار

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل ٹیم ملتان سلطانز سے متعلق متبادل پلان تیار کرلیا۔ ملتان سے معاملات طے نہ ہوئے تو فرنچائز کو فروخت کردیا جائے گا۔ پی سی بی نے بعض سرمایہ داروں سے بھی رابطہ کیا ہے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے رولز کی خلاف ورزی پر ملتان سلطانز کو نوٹس بھیجا تھا تاہم فرنچائز کے مالک علی ترین نے نوٹس کی کاپی پھاڑ دی تھی، جس کی ویڈیو بھی شیئر کی گئی۔ذرائع کے مطابق پی سی بی نے ملتان سلطانز سے متعلق متبادل پلان تیار کرلیا، پاکستان کرکٹ بورڈ اور سلطانز کے معاملات طے نہ ہوئے تو فرنچائز فروخت کی جائے گی، سلطانز کی رکنیت ختم ہوئی تو نیا مالک جلد فائنل کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی کا بعض سرمایہ کاروں سے رابطہ ہوا ہے، بعض سرمایہ داروں نے ملتان سلطانز خریدنے میں دلچسپی کا اظہار بھی کردیا۔

  • پنجاب ،اسلحہ کلچر کا خاتمہ، سالانہ اسلحہ لائسنس فیس میں 100 فیصد اضافہ کا فیصلہ

    پنجاب ،اسلحہ کلچر کا خاتمہ، سالانہ اسلحہ لائسنس فیس میں 100 فیصد اضافہ کا فیصلہ

    پنجاب کی سرزمین سے اسلحہ اورسمگلنگ کلچر کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ڈرون پولیسنگ اور نیا مربوط سکیورٹی اینڈ آرمز ریگولیشن سسٹم تیار کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت امن امان سے متعلق مسلسل چوتھا غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا جس میں پنجاب کو اسلحہ سے پاک کرنے کے لئے اہم ترین فیصلے کیے گئے۔

    اجلاس میں ڈرون پولیسنگ،مربوط سکیورٹی اور آرمز ریگولیشن کے نئے قوانین متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر حکومت پنجاب کا صوبے بھر میں موجود 10 لاکھ لائسنس یافتہ اسلحہ کی ازسر نو جانچ پڑتال اور سخت سکروٹنی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پنجاب سَرینڈر آف الیگل آرمز ایکٹ 2025 ء متعارف کرایا جائے گا۔ سَرینڈر آف الیگل آرمز ایکٹ 2025 تین مراحل میں نافذ کیا جائے گا۔ سَرینڈر آف الیگل آرمز ایکٹ 2025 ء ایکٹ اسلحہ کی واپسی، تلفی اور اسلحہ قوانین کے نفاذ پر توجہ دے گی۔ پنجاب میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کو15 دن کے اندراسلحہ واپس کرنے کی ہدایت کی گئی اور پنجاب میں لائسنس یافتہ اسلحہ کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی۔ پنجاب میں لائسنس یافتہ اسلحہ کے مالک اور جاری کرنے والے کی تصدیق کی جائے گی۔ پنجاب میں جاری ہونے والے اسلحے کی مکمل چھان بین کی جائے گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب میں وفاقی اسلحہ لائسنس رکھنے والوں کی بھی جانچ پڑتال کی جائے گی اوراس سلسلے میں پنجاب حکومت کا وفاقی حکومت سے رابطہ کیا جائے گا۔ پنجاب میں صرف پولیس اہلکار اور رجسٹرڈ سیکیورٹی گارڈز کو اسلحہ رکھنے کی اجازت ہوگی۔ پنجاب میں نجی سیکیورٹی کمپنیوں کو رجسٹر کیا جائے گا اور ان کے لیے باقاعدہ ضوابط بنائے جائیں گے۔ اجلاس میں مزید فیصلہ کیا گیا کہ نجی سیکیورٹی گارڈز کو پنجاب پولیس ہیلپ لائن 15 سے منسلک کیا جائے گا۔ انسٹنٹ پولیسنگ کے لئے پنجاب پولیس میں سٹینڈرڈ سیکشن بنایا جائے گا۔ لاہور میں کرائم سین پر جلد از جلد رسائی کے لئے ڈرون پولیسنگ کا پائلٹ پراجیکٹ لانچ کیا جائے گا۔ ڈرون پولیسنگ کسی بھی جرم یا ہنگامی صورتحال پر فوری، منظم اور ڈیجیٹل ردِعمل یقینی بنائے گا۔ جیسے ہی جرم کی اطلاع موصول ہوگی پولیس ڈرون کرائم سین پر فوری پہنچ جائے گا تاکہ مجرم کو فوری ٹریک کیا جا سکے۔ ڈرون پولیسنگ کے اس نظام کو بعد ازاں پورے صوبے میں وسعت دی جائے گی۔ پنجاب کے 14 اہم داخلی و خارجی مقامات پر جدید اسلحہ اسکینرز نصب کیے جائیں گے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اسلحہ کی اسمگلنگ کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گااور اس جرم کی سزا 14 سال قید مقررکی جائے گی۔ سالانہ اسلحہ لائسنس فیس میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے گا تاکہ اسلحہ کلچر کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔