Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • آئی ایم ایف کے مطالبات،حکومت کا تحفظ کا اظہار

    آئی ایم ایف کے مطالبات،حکومت کا تحفظ کا اظہار

    حکومت نے پاکستان کے لیے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی گورننس اور کرپشن کی تشخیصی رپورٹ سے متعلق مختلف مطالبات پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق گزشتہ ہفتے وزارتِ خزانہ میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کا مقصد آئی ایم ایف کی ’’گورننس اور کرپشن کی تشخیصی رپورٹ‘‘ کے مسودے پر حکومتِ پاکستان کا باضابطہ جواب تیار کرنا تھا۔رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے بیوروکریٹس کے اثاثے ظاہر کرنے کے لیے ایک نئی اتھارٹی کے قیام کا مطالبہ مزاحمت کا سامنا کرے گا اور پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس حوالے سے ایف بی آر اور دیگر متعلقہ ادارے پہلے ہی موجود ہیں۔پاکستانی فریق اس رپورٹ کو تحریری طور پر چیلنج کرنے پر غور کر رہا ہے اور موقف اختیار کیا جائےگا کہ حکومت اپنے دائرہ کار کو محدود کرنے کے لیے ’’رائٹ سائزنگ‘‘ پر عملدرآمد کر رہی ہے تو ایسے میں کسی نئے ادارے کے قیام کی ضرورت نہیں ہے۔

    واضح رہے آئی ایم ایف کی تشخیصی رپورٹ میں پبلک فنانس مینجمنٹ، ٹیکس انتظامیہ، آڈیٹر جنرل کے کردار، خریداری کے عمل اور منی لانڈرنگ کے خلاف قوانین کے نفاذ میں پائی جانے والی کمزوریوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔

    آئی ایم ایف نے اس حوالے سے ایک اتھارٹی کے قیام کی تجویز دی تھی اور اس سلسلے میں کچھ دیگر ممالک کی مثالیں بھی پیش کی تھیں۔آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ ضمنی گرانٹس کو پارلیمنٹ کی پیشگی منظوری کے بغیر محدود کرنے کے لیے سخت قواعد و ضوابط نافذ کیے جائیں، ارکانِ پارلیمنٹ کی اسکیموں کو باقاعدہ بجٹ کے عمل میں مکمل طور پر شامل کیا جائے اور بجٹ اسٹریٹجی پیپر کو پہلے سے شائع کیا جائے تاکہ مالی نظم و ضبط اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔حکومت نے ابھی تک آئی ایم ایف کی رپورٹ بعنوان ’’گورننس اور کرپشن کی تشخیصی رپورٹ (جی سی ڈی) رپورٹ کی اشاعت کی باضابطہ منظوری نہیں دی اس لیے امکان ہے کہ پاکستان اس رپورٹ کی اشاعت سے قبل اس میں ترمیم کا مطالبہ کرے گا اور پھر اسےجاری کرے گا۔

  • اوگرا چیئرمین، ممبران اور ایڈوائزرز کی تنخواہوں کی تفصیلات منظرِ عام پر

    اوگرا چیئرمین، ممبران اور ایڈوائزرز کی تنخواہوں کی تفصیلات منظرِ عام پر

    آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے چیئرمین، ممبر فنانس، ممبر آئل اور مختلف ایڈوائزرز کی ماہانہ تنخواہوں کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

    یہ انکشاف قومی اسمبلی میں گزشتہ روز اُس وقت ہوا جب رکنِ قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ کے سوال کے جواب میں کابینہ ڈویژن کے وزیر انچارج نے تحریری جواب جمع کروایا۔تحریری جواب کے مطابق اوگرا نے اپنی انتظامی میٹنگ نمبر 23-2022 کے دوران آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2002 کی سیکشن 14 کے تحت مختلف ایڈوائزرز کی تقرری کی منظوری دی۔جواب میں بتایا گیا کہ چیئرمین اوگرا کی ماہانہ تنخواہ 15 لاکھ روپے مقرر ہے۔ چیئرمین کو ایس پی ایس (SPS) اسکیل میں رکھا گیا ہے، اور ان کی تنخواہ سے چار لاکھ ستانوے ہزار (497,000) روپے سے زائد ٹیکس کی کٹوتی کی جاتی ہے۔

    اسی طرح اوگرا کے ممبر فنانس اور ممبر آئل کی ماہانہ تنخواہ 10 لاکھ چار ہزار 960 روپے ہے۔ ان کی تنخواہوں پر دو لاکھ ستتر ہزار 1500 روپے ٹیکس کی مد میں کاٹے جاتے ہیں۔اوگرا میں مختلف شعبوں کے لیے ایڈوائزرز بھی تعینات کیے گئے ہیں جنہیں بھاری معاوضے دیے جا رہے ہیں ڈاکٹر الیاس فضل کو بطور لاجسٹک ایڈوائزر کنٹریکٹ پر رکھا گیا ہے، جنہیں ماہانہ 8 لاکھ روپے معاوضہ دیا جا رہا ہے۔ ان کے پاس ڈاؤن اسٹریم سیکٹر میں 42 سال کا تجربہ ہے۔اعجاز سڈل کو ریفائنری ایڈوائزر مقرر کیا گیا ہے اور ان کی بھی ماہانہ تنخواہ 8 لاکھ روپے ہے۔بریگیڈیئر (ر) شہباز کو سیکیورٹی ایڈوائزر کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔ ان کا فوجی کیریئر 35 سال پر محیط ہے، اور انہیں بھی 8 لاکھ روپے ماہانہ دیے جا رہے ہیں۔

    ممبر قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ نے ایوان میں سوال اٹھایا کہ ایسے اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات افراد کو دی جانے والی بھاری تنخواہیں عوامی وسائل پر بوجھ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اوگرا جیسے ریگولیٹری اداروں کے مالی معاملات کو مزید شفاف اور جوابدہ بنایا جائے۔

    یہ انکشاف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اوگرا جیسے ادارے میں اعلیٰ عہدوں پر موجود افراد کو خطیر مالی مراعات حاصل ہیں، جس پر عوامی نمائندے اور شہری سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان معلومات کے منظر عام پر آنے کے بعد اس بات کا امکان ہے کہ تنخواہوں اور مراعات کے تعین کے نظام پر پارلیمنٹ میں مزید بحث ہو۔

  • دہشتگردی کے خلاف جنگ، چین کی پاکستان کی حمایت

    دہشتگردی کے خلاف جنگ، چین کی پاکستان کی حمایت

    چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہےکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں چین پاکستان کی حمایت حمایت کرتا ہے۔

    شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان مملکت کی کونسل کے 25 ویں اجلاس میں شرکت کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف پیر کو بلٹ ٹرین کے ذریعے تیانجن سے چینی دارالحکومت بیجنگ پہنچے،نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی ان کے ہمراہ تھے،چینی دارالحکومت بیجنگ میں قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف فاشزم کے خلاف عالمی جنگ کی 80ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کریں گے۔

    چینی سرکاری میڈیا کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں شہباز شریف نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت پر چینی صدر کا شکریہ ادا کیا،اس موقع پر چینی صدر کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں چین پاکستان کی حمایت حمایت کرتا ہے، امید ہے پاکستان چینی عملے، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت یقینی بنانےکے لیےمؤثر اقدامات کرےگا۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے جنوبی ایشیا میں جامع مذاکرات کی نگرانی کے لیے چین کو دعوت دے دی۔ایس سی او اجلاس سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں جامع مذاکرات چین اپنی سربراہی میں کرائے تاکہ ہم ان مذاکرات کے ثمرات جلد حاصل کرسکیں

  • آصف علی کا بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    آصف علی کا بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے جارحانہ بلے باز آصف علی نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، جس کے ساتھ ہی ایک اہم باب اختتام کو پہنچا۔ آصف علی نے اپنی مختصر مگر یادگار انٹرنیشنل کرکٹ میں کئی مواقع پر قومی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    اپنے بیان میں آصف علی کا کہنا تھا "میں اپنے تمام مداحوں، ساتھی کھلاڑیوں اور کوچز کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہر اچھے اور برے وقت میں میری بھرپور حوصلہ افزائی کی۔”انہوں نے خاص طور پر اپنی فیملی اور قریبی دوستوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میری زندگی کے سب سے مشکل لمحے، خصوصاً 2019 کے ورلڈکپ کے دوران جب میں نے اپنی بیٹی کو کھو دیا، ایسے وقتوں میں میرے اہلخانہ اور دوستوں نے جس طرح میرا ساتھ دیا، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ ان کی طاقت اور دعاؤں نے ہی مجھے میدان میں واپس لایا اور مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیا،آصف علی نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ وہ بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ رہے ہیں، تاہم ان شاء اللہ میں اپنی کرکٹ کا شوق جاری رکھتے ہوئے ڈومیسٹک اور مختلف لیگز میں کھیلتا رہوں گا۔

  • افغانستان زلزلہ،  اسحاق ڈار کاافغان وزیر خارجہ سےرابطہ،تعاون کی پیشکش

    افغانستان زلزلہ، اسحاق ڈار کاافغان وزیر خارجہ سےرابطہ،تعاون کی پیشکش

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی کے درمیان ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے حالیہ زلزلے کی تباہ کاریوں پر تبادلہ خیال کیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے افغانستان کے صوبہ کنڑ میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی افسوس کا اظہار کیا اور افغان عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر ممکن طریقے سے اپنے افغان بھائیوں کی مدد کے لیے تیار ہے۔
    اسحاق ڈار نے افغان عوام کے لیے نیک تمناؤں اور ہمدردی کا پیغام بھی دیا اور خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے دعا کی جو اس قدرتی آفت سے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔

    قبل ازیں خیبرپختونخوا اسمبلی میں بھی افغانستان میں زلزلے سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ شدید زخمیوں کو بغیر ویزا پاکستان منتقل کرکے فوری طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔صوبائی و وفاقی حکومتیں باہمی تعاون کے ساتھ امدادی ٹیمیں، ادویات اور طبی ساز و سامان متاثرہ علاقوں میں روانہ کریں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ رات افغانستان کے مشرقی صوبہ کنڑ میں 6.0 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں اب تک 800 سے زائد افراد جاں بحق اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ متعدد دیہات صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ریسکیو آپریشن جاری ہے مگر دشوار گزار علاقوں اور محدود وسائل کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

  • اہم عہدوں پر کرپشن کی کہانی،وزیراعظم آفس کا عہدہ اور اختیارات کا ناجائز استعمال

    اہم عہدوں پر کرپشن کی کہانی،وزیراعظم آفس کا عہدہ اور اختیارات کا ناجائز استعمال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے وزیراعظم آفس میں ہونے والی اہم کرپشن کو اپنے یوٹیوب چینل پر بے نقاب کیا ہے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جب گھر کا نگہبان ہی چور بن جائے، جب وزیراعظم آفس میں ہی کرپشن کے شبہات سر اٹھانے لگیں تو باقی کیا توقع رکھی جا سکتی ہے، وزیراعظم ہاؤس وہ مقام ہے جہاں ملک کا نظم و نسق چلایا جاتا ہے، جہاں تمام فیصلے ہوتے ہیں، شفافیت ،ایمانداری کی مثال قائم ہوتی ہے لیکن اگر وہاں افسر ذاتی فائدے کے لئے کرپشن کرے تو یہ سارے نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے، یہ وہ جگہ ہے جہاں قانون بنتے ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ وہیں قانون توڑے جارہے ہیں، یہ ایک الارم ہے جو ہمیں بتا رہا ہےاگر آج اس ناسور کو نہ روکا تو کل یہ پورے ملک کو لپیٹ میں لے سکتی ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اہم عہدوں پر کرپشن کی کہانی، وزیراعظم آفس کا عہدہ اور اختیارات کا ناجائز استعمال،اہم عہدوں پر فائز افراد کس طرح طاقت کو ذاتی فائدے کے لئے استعمال کرتے ہیں،کہانی کا مرکزی کردار شکیل احمد منگنیجو ہے،ان کے اقدامات نے سرکاری عہدوں کی حرمت کو پامال کیا ہے، عام طور پر جب کوئی افسر کا تبادلہ ہوتا ہے تو وہ سابقہ ذمہ داریوں سے فارغ ہوتا ہے لیکن یہاں صاحب نے نیا اصول بنا لیا، وہ وزارت تجارت سے وزیراعظم کے آفس میں منتقل ہوئے لیکن پاکستان ری کے انشورنس کمپنی لمیٹڈ بورڈ آف ڈائریکٹر میں وزارت تجارت کے نمائندے کے طور پر اپنا عہدہ انہوں نے نہیں چھوڑا، یہ کھلی خلاف ورزی ہے،پاکستانی قانون کی،یہ سوچ کی عکاسی ہے کہ میرے لئے کوئی قانون نہیں ہے میں خود ہی قانون ہے، یہ عہدے کی غیر قانونی برقراری کا معاملہ نہیں بلکہ ایسا قدم ہے جس کا مالی فائدہ حاصل کیا گیا، انہوں نے اپنے تبادلے کے بعد 20 سے زائد میٹنگز میں بھی شرکت کی اور ہر میٹنگ کے لئے ڈیڑھ لاکھ کی خطیر رقم وصول کی، غیر قانونی طور پر لاکھوں روپے وصول کئے لیکن کسی نے نہیں روکا کیونکہ وہ طاقتور عہدے پر تھے، اس پر کوئی کاروائی نہ ہوئی، کیونکہ اس کی رسائی وزیراعظم آفس تک ہے، وزیراعظم کے احکامات کو سب سے اعلیٰ ترین سمجھاجاتا ہے لیکن منگنیجو نے وزیراعظم آفس کی ہدایات کو نظر انداز کر دیا ،ہدایات میں کہا گیا کہ وزارتوں کے نمائندے کسی میٹنگ میں شرکت سے قبل وزیر سے مشاورت کریں لیکن انہوں نے بغیر کسی مشاورت کے 15 سے زائد میٹنگز میں شرکت کر لی،منگنیجو کی موجودگی نے اس سارے عمل پر سوال اٹھائے ہیں، وزیر تجارت کو قانونی نوٹس بھی بھیجا گیا ہے، 26 اگست 2025 کو وزارت تجارت یا وزیر تجارت جام کمال نے خط لکھا جس میں منگنیجو کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا گیا اور بورڈ کو ہدایت کی گئی کہ منگینجو کی تجویز کردہ کسی بھی ہدایت پر عمل نہ کریں.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھاکہ کیا ہمارے ملک میں قانون ہے، یا ہے تو کیا سب کے لئے برابر ہے، یا عہدے والے سب کرتے رہیں،بدعنوانی کی یہ کسی واضح مثال ہے اس کو بے نقاب کرنا ضروری ہے، دیکھتے ہیں اس رپورٹ کے بعد وزیراعظم اور وزیر تجارت کیا ایکشن لیتے ہیں

  • آذربائیجان کے صدر اور وزیراعظم پاکستان کی ملاقات،شہباز شریف بیجنگ پہنچ گئے

    آذربائیجان کے صدر اور وزیراعظم پاکستان کی ملاقات،شہباز شریف بیجنگ پہنچ گئے

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے جمہوریہ آذربائیجان کے صدر عزت مآب الہام علییوف سے چین کے شہر تیانجن میں منعقد ہونے والی SCO کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ (CHS) کے موقع پر ملاقات کی۔

    وزیراعظم نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تاریخی امن معاہدے پر دستخط کرنے پر صدر علییوف کو مبارکباد پیش کی، جو جنوبی قفقاز میں دیرپا امن اور استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

    دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، مواصلات، دفاع، تعلیم اور عوام سے عوام کے تبادلوں میں دوطرفہ تعاون کے مکمل دائرہ کار کا جائزہ لیا اور پاکستان آذربائیجان تعلقات میں بڑھتی ہوئی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی خوشحالی اور انضمام کو فروغ دینے کے لیے علاقائی رابطوں کے منصوبوں اور کثیر جہتی فریم ورک بشمول SCO کے تحت تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجوں کے بارے میں بھی نقطہء نظر کا اشتراک کیا اور متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر قریبی ہم آہنگی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

    آذربائیجان کے صدر نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں جاری سیلابی صورتحال کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے نقصان اور مالی نقصانات پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں آذربائیجان کی حکومت اور عوام پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیراعظم نے صدر علییوف کو جلد پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔

    دوسری جانب وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ تیانجن کے اسٹینڈنگ ممبر اور تیانجن -بنہائی نیوء ایریا کے پارٹی سیکرٹری لیون ماؤ جن کی وفد کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے، اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کی دوستی دنیا بھر میں ایک نمایاں اور منفرد مقام رکھتی ہے ،چین اور پاکستان ہر مشکل میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں،پاکستان کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں چین نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے ،چین-پاکستان اقتصادی راہداری نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کیا ہے،چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے فیز 2 میں اسمارٹ سٹیز، زرعی صنعت کے حوالے سے تعاون اور نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجی انڈسٹری پر خاص توجہ مرکوز کی جائے گی ،چینی صدر عزت مآب شہر جن پنگ کی زیر قیادت تیانجن کی ترقی دیکھ کر انتہائی خوشی ہوئی ہے ،تیانجن-بنہائی نیو ایریا اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعاون اور تجارت بڑھانے کے خواہاں ہیں،پاکستان کے کراچی پورٹ، بن قاسم پورٹ اور گوادر پورٹ اور چین کے تیانجن پورٹ درمیان تعاون اور تجارت کو وسعت دینا چاہتے ہیں ،پورٹ ہینڈلنگ اور پورٹ آپریشنز کے معاملات کے حوالے سے تیانجن-بنہائی نیو ایریا کی مہارت سے فایدہ اٹھانا چاہتے ہیں ،پاکستان میں خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کے حوالے سے چینی کمپنیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں،فارماسیوٹیکل ، بائیو میڈیسن اور جانوروں کی ویکسین کے حوالے سے تیانجن-بنہائی نیو ایریا کی صنعت سے تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں ،حکومت پاکستان نے پچھلے ڈیڑھ سال میں معاشی اصلاحات میں نمایاں سنگ میل عبور کئے ہیں ،فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ڈیجیٹائزیشن ، نئی قومی اقتصادی پالیسی اور آئی ٹی سے متعلق اقدامات کے فروغ سمیت کئی دیگر اصلاحات کی خود نگرانی کر رہا ہوں،وزیراعظم نے تیانجن سے صنعتی و اقتصادی شعبے سے وابستہ نمایاں افراد کے وفد کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی،وزیراعظم کو تیانجن -بنہائی نیوء ایریا کے پارٹی سیکرٹری لیون ماؤ جن کی جانب سے تیانجن-بنہائی نیوء ایریا کے حوالے سے بریفنگ دی گئی،بتایا گیا کہ تیانجن-بنہائی نیوء ایریا میں انٹیلی جینٹ ٹیکنالوجی ، گرین پیٹرو کیمیکل، آٹو موٹو انڈسٹری ، بائیو میڈیسن ، نیوء انرجی ، ایرو اسپیس ، کولڈ چین اسٹوریج ، ڈیپ-سی مائننگ ، جین تھراپی سمیت کئی دیگر شعبوں کی صنعتیں موجود ہیں ،پاکستان اور تیانجن کے درمیان کھاد ، فارماسیوٹیکل ، ٹائرز ، معدنیات اور فشریز کی تجارت ہوتی ہے ،تیانجن-بنہائی نیوء ایریا پاکستان کے ساتھ تجارت خصوصاً ای-کامرس کو وسعت دینے کا خواہاں ہے ،تیانجن-بنہائی نیوء ایریا کے کاروباروں اور صنعتوں کو پاکستان تک پھیلانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی،ملاقات میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی ، پاکستان میں تعینات چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ، چین میں تعینات پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے ۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کونسل کے 25 ویں اجلاس میں شرکت کے بعد تیانجن سے بذریعہ بلٹ ٹرین بئیجنگ پہنچ گئے بئیجنگ کے جنوبی ریلوے اسٹیشن پر نیشنل پیپلز کانگریس کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی رکن محترمہ وینگ ہانگ نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیر اعظم کے ساتھ ہیں۔بئیجنگ میں اپنے قیام کے دوران وزیراعظم عالمی فاشزم کے خلاف جنگ کی 80ویں سالگرہ کی تقریب میں شریک ہوں گے۔ وزیر اعظم کی چینی صدر عزت مآب شی جنپنگ ، چینی وزیر اعظم عزت مآب کی کیانگ اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم چین-پاکستان بزنس تو بزنس کانفرنس میں بھی شریک ہوں گے اور خطاب بھی کریں گے۔

  • امریکی ٹیرف،بھارت نے دیر کر دی، ٹرمپ

    امریکی ٹیرف،بھارت نے دیر کر دی، ٹرمپ

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت سے تجارتی معاملات پر کہا ہے کہ اب بھارت نے اپنے محصولات کو صفر کرنے کی پیشکش کی ہے لیکن اب بہت دیر ہوچکی، یہ پیش کش کئی سال پہلے کر دینی چاہیے تھی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارا بھارت کے ساتھ بہت کم کاروبار ہے لیکن بھارت امریکا کے ساتھ بہت بڑے حجم میں کاروبار کرتا ہے، بھارت امریکا کو بڑی مقدار میں سامان فروخت کرتا ہے اور امریکا بھارتی مصنوعات کا سب سے بڑا گاہک ہے، امریکا بھارت کو بہت کم چیزیں فروخت کرتا ہے، کئی دہائیوں سے اب تک تجارتی تعلق یک طرفہ رہا ہے، بھارت نے اب تک امریکا پر دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ محصولات لگا رکھے ہیں اور بھارت کے زائد محصولات کی وجہ سے امریکی کمپنیاں بھارت میں اپنی مصنوعات بیچ نہیں پاتیں، یہ مکمل طور پر یک طرفہ تباہی رہی ہے،بھارت اپنا زیادہ تر تیل اور فوجی ساز و سامان روس سے خریدتا ہے، بھارت تیل اور فوجی سازو سامان امریکا سے بہت کم خریدتا ہے، اب بھارت نے اپنے محصولات کو صفر کرنے کی پیشکش کی ہے لیکن اب بہت دیر ہوچکی، بھارت کو یہ پیش کش کئی سال پہلے کر دینی چاہیے تھی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ سے امریکا اور بھارت کے تعلقات میں سرد مہری ہے، بھارت کی جانب سے امریکا کے ساتھ تجارتی ڈیل فائنل نہ کرنے کا بعد امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت پرٹیرف 50 فیصد کردیا جب کہ ٹرمپ وقتاً فوقتاً پاک بھارت جنگ میں اپنے کردار کا ذکر کرتے رہتے ہیں جس سے بھارت انکاری ہے۔

  • اسلام آباد میں‌شدید بارش،سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں

    اسلام آباد میں‌شدید بارش،سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں

    اسلام آباد میں جاری موسلادھار بارش کے نتیجے میں مختلف علاقے زیر آب آگئے۔

    بارش کے باعث اسلام آباد کا سیکٹر جی 11 زیرآب آگیا، سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ ندی نالوں میں طغیانی آگئی،اسلام آباد کے سیکٹر جی 8 مرکز میں بھی گاڑیاں پانی میں ڈوب گئیں، بنی گالہ اور سری نگر ہائی وے بھی زیرآب آگئے، موسلادھاربارش کے باعث میٹرو بس کا روٹ بھی زیرآب آگیا،ملکہ کوہسار مری میں بھی موسلادھار بارش جاری ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے مری میں آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    دورسی جانب ترجمان واسا کا کہنا ہے کہ راولپنڈی، اسلام آباد میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، اسلام آبادکے علاقے سید پور 40 ملی میٹر، گولڑہ میں 66 ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی،ترجمان واسا کا کہنا ہے کہ راولپنڈی میں شمس آباد کے مقام پر25 ملی میٹر، پیر ودھائی میں 35 ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی، راولپنڈی میں نیوکٹاریاں میں 60 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،ایم ڈی واسا سلیم اشرف کے مطابق نالہ لئی میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے لگی، نالہ لئی کے اطراف ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

  • پاکستان کے مستقبل کےلیےکالا باغ ڈیم ضروری ہے،علی امین گنڈا پور

    پاکستان کے مستقبل کےلیےکالا باغ ڈیم ضروری ہے،علی امین گنڈا پور

    صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ سب کو مطمئن کرکے آپ کو کالا باغ ڈیم جیسا پروجیکٹ اپنے بچوں، نسلوں اور پاکستان کے لیے کرنا چاہیے۔

    اپنے بیان میں علی امین گنڈاپور کا کہنا تھاکہ صوبائیت کے چکر میں پورے پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، پورے پاکستان کے فائدے کو پیچھے نہیں دھکیل سکتا، جب پاکستان کا فائدہ ہے تو پاکستان کے فائدے کو پیچھے نہیں دھکیلا جا سکتا، کسی کی اپنی ذاتی یا صوبائیت کی وجہ سے، سب کو مطمئن کرکے کالا باغ ڈیم جیسے منصوبے کو اپنے بچوں اور پاکستان کے مستقبل کےلیے بننا چاہیے۔ تمام کو اپنے حقوق کے مطابق تحفظات کو دور کرکے کالا باغ ڈیم جیسا پروجیکٹ کرنا چاہیے۔