Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • قدرت کے ساتھ کھلواڑ کریں گے تو فطرت اس کا جواب دے گی،خواجہ آصف

    قدرت کے ساتھ کھلواڑ کریں گے تو فطرت اس کا جواب دے گی،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آبی گزرگاہوں پر کمرشل تعمیرات کی گئیں، دریاؤں کی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائیٹیز بنائی گئیں جس سے حالیہ سیلاب میں تباہی وبربادی ہوئی۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں حالیہ سیلابی صورتحال پر بحث کی تحریک پیش کی گئی، حالیہ سیلابی صورتحال پر بحث کی تحریک وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے پیش کی،وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیلابی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ آفت قدرتی آفت نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے اعمال ہیں کہ ہم اتنی بڑی آفت کا سامنا کر رہے ہیں، ہم نے دریاؤں پر ہوٹل بنالیے ہیں۔دریاؤں کے راستوں کو تنگ کرکے ہاؤسنگ سوسائیٹیاں بنائی جا رہی ہیں، نالوں کے اندر پلاٹ بناکر بیچ دیے گئے، جب آپ قدرت کے ساتھ کھلواڑ کریں گے تو فطرت اس کا جواب دے گی۔سیلاب جب بھی آتا ہے تو کہا جاتا ہے اتنے ارب ڈالر کا نقصان ہوگیا، ہر سال سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ہم دنیا اور یو این سے مدد مانگتے ہیں مگر اپنے اعمال درست نہیں کرتے،دریاؤں کی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائیٹیاں بنائی گئیں، سیالکوٹ میں دریا کے راستوں کو آباد کردیاگیا ہے لیکن ہم نے گزشتہ برسوں میں تجاوزات کے خلاف کتنی کارروائیاں کیں، ملک میں بڑے ڈیم صرف آمروں کے دور میں بنائے گئے کیونکہ ان کے پاس طاقت ہوتی ہے اور وہ اس طاقت کے ذریعے قومی اتفاق رائے پیدا کرا لیتے ہیں، لیکن سیاست دان اختلافات اور سیاسی دکانداری کی وجہ سے قومی معاملات پر یکجہتی قائم نہیں کر پاتے،اب وقت آگیا ہے کہ قومی اتفاق رائے سے نئے ڈیمز تعمیر کیے جائیں تاکہ مستقبل میں تباہ کن سیلابی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔؎

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ اگر کہیں کوئی نہر یا ڈیم بنانے کی بات کی جائے تو سڑکیں نہیں بند کرنی چاہییں، ہمیں فوری طور پر چھوٹے ڈیم بنانے کی ضرورت ہے، کیوں کہ 10 سے 15 سال انتظار کرتے رہے تو سب کچھ ڈوب جائےگا۔

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی نے چیئرمین نیپرا کو طلب کر لیا

    سینیٹ قائمہ کمیٹی نے چیئرمین نیپرا کو طلب کر لیا

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نجکاری اجلاس میں سیکریٹری نجکاری ڈویژن نے کہا کہ جو ادارے آج منافع میں ہیں، ضروری نہیں کہ آئندہ بھی رہیں، حکومت کی سوچ ہے کہ بجلی، بسیں یا جہاز چلانا ہمارا کام نہیں، جو کمپنی منافع میں نہ ہو وہ پرائیویٹ سیکٹر کے لیے دلچسپی کی حامل ہے۔

    سینیٹر افنان اللّٰہ خان کی زیر صدارت سینیٹ کی نجکاری کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں جنریشن کمپنیوں (جنکوز) کی نجکاری کا ایجنڈا زیر بحث آیا، سیکریٹری پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ جنکوز کے 2 پلانٹس پرائیویٹائزیشن لسٹ پر ہیں، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نجکاری نے اگلے اجلاس میں چیئرمین نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا، چیئرمین نجکاری کمیٹی کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیپرا کو اگلے اجلاس میں طلب کر لیتے ہیں،جوائنٹ سیکریٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ اس وقت ڈسکوز اور جنکوز کی پرائیویٹائزیشن ہورہی ہے، نندی پور کے 8 ایشوز حل کرلیے،9 رہتے ہیں، گڈو کے 9 میں سے 4 ایشوز حل کرلیے ہیں،سینیٹر ذیشان خانزادہ نے سوال کیا کہ نجکاری کرکے یہ نیشنل گرڈ میں رہے گا یا الگ سے کوئی پیکج ہے؟ جس کے جواب میں سیکریٹری نجکاری ڈویژن نے کہا کہ ڈسکوز پر فنانشنل ایڈوائزر ہائر ہوا ہے،سینیٹر ذیشان خانزادہ نے پوچھا کہ تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا فیصلہ کیسے ہوا؟ سیکریٹری نجکاری ڈویژن نے جواب دیا کہ نجکاری کا اعلیٰ سطح پر فیصلہ ہوا، کابینہ نے فیصلہ کیا، جب یہ پلانٹس پرائیویٹ سیکٹر میں جائیں گے توحکومت کو ریونیو ملے گا، پرائیویٹ سیکٹر ایفیشینسی لاتا ہے، ریکوری کی پوزیشن بہتر ہوگی۔

    اجلاس میں شرکاء کو پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن حکام نے بریفنگ دی، چیف فنانشل آفیسر پی ایم ڈی سی کا کہنا تھا کہ ہمارا اس سال کا ریونیو 5.4 بلین روپے ہے، جس پر چیئرمین نجکاری کمیٹی نے کہا کہ ایف سی سے بات کر کے مائننگ کرنے والوں کے لیے ریٹس بہتر کروالیں،ایڈیشنل سیکریٹری دفاع نے کہا کہ اگر آپ کوئی علاقہ پوائنٹ کر دیں جہاں ایف سی کے ریٹ زیادہ ہیں، جواب میں چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ ایجنڈا داخلہ کمیٹی میں بہتر ڈسکس ہوسکتا ہے،چیف فنانشل آفیسر پی ایم ڈی سی کا کہنا ہے کہ 15لاکھ ٹن ہماری نمک کی پیداوار ہے، نجکاری کے حق میں نہیں ہیں، ابھی منرلز پر کام کر رہے ہیں،سینیٹر عمر فاروق نے کہا کہ یہ صوبائی سبجیکٹ ہے تو وفاق کو پیسے کس مد میں مل رہے ہیں، جواب میں چیف فنانشل آفیسر پی ایم ڈی سی نے کہا کہ رائلٹی صوبوں کو جاتی ہے، ٹیکسز وفاق کو جاتے ہیں،کمیٹی کے اراکین نے کہا کہ تجویز ہے کہ پھر پی ایم ڈی سی کو نجکاری لسٹ سے نکال دیا جائے۔

  • مرکزی مسلم لیگ کا سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو،30 ہزار افراد کو ریسکیو کیا گیا

    مرکزی مسلم لیگ کا سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو،30 ہزار افراد کو ریسکیو کیا گیا

    ،پنجاب کے 25 سیلاب متاثرہ اضلاع میں مرکزی مسلم لیگ کا ریسکیو و ریلیف آپریشن جاری ہے، 30ہزار سے زائد شہریوں کو کشتی سروس کے ذریعے ریسکیو کیا گیا،ساڑھے 7 لاکھ سے زائد افراد میں پکی پکائی خوراک تقسیم کی گئی،مرکزی مسلم لیگ کےمیڈیکل کیمپوں میں6 لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج معالجہ کیا گیا

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھ کی ہدایت پر سیلاب متاثرہ تمام اضلاع میں مرکزی مسلم لیگ کی کشتی سروس جاری ہے،10 ہزار سے زائد رضاکارامدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، لاہورکے علاقے موہلنوال میں مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے ٹینٹ سٹی قائم کی گئی ہے،ٹینٹ سٹی میں ہزاروں سیلاب متاثرین مقیم ہیں،چیئرمین خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ شفیق الرحمان وڑائچ امدادی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں،مرکزی رہنما محمد سرور چوہدری، انجینئر حارث ڈار، حمید الحسن، تابش قیوم و دیگر بھی نگرانی کر رہے ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ نے ٹینٹ سٹی کا دورہ کیا،قاری محمد یعقوب شیخ نے سیلاب متاثرین سے ملاقات کی اور ریسکیو و ریلیف آپریشن کا جائزہ لیا،مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم اور لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی نے موہلنوال ٹینٹ سٹی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ سیلاب سے جہاں بھی تباہی ہوئی،مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار وہاں پہنچے،لاہور میں خیمہ بستی میں متاثرین کو تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں،300 خیمے لگ چکے ہیں، اس سے زیادہ اور لگا رہے ہیں،خیموں میں پکی پکائی خوراک تقسیم کی جا رہی ہے، میڈیکل کیمپ بھی لگایا گیا ہے،متاثرین میں کپڑے بھی تقسیم کر رہے ہیں،بچوں کو دودھ اور دیگر اشیا بھی دے رہے ہیں،

    شعبہ خدمت خلق پاکستان مرکزی مسلم لیگ ملتان کی جانب سے بستی لنگڑیال، بستی موضع ہمروٹ اور بستی محمد پور گھوٹہ کی خیمہ بستی میں سیلاب متاثرین میں پکا پکایا کھانا تقسیم کیا جارہا ہے،مرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر محمد سرور چوہدری،صدر وسطی پنجاب حمیدالحسن نے اوکاڑہ کا دورہ کیا،مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے امدادی سرگرمیوں کاجائزہ لیا،کیمپ میں‌کھانا تقسیم کیا جا رہا ہے،میڈیکل کیمپ قائم کیا گیا ہے،قصورمیں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے 300 افراد کو ریسکیو کیا،20 ہزار افراد میں کھانا تقسیم کیا گیا،قصور میں مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام 350 سیلاب متاثرہ خاندانوں میں راشن تقسیم کیا گیا، دریا ئےستلج تلوار پوسٹ گاؤں چندہ سنکھ میں مرکزی مسلم لیگ کی جانب سےمتاثرین میں پکا پکایا کھانا تقسیم کیا جا رہا ہے، پاکستان مرکزی مسلم لیگ چیچہ وطنی،چنیوٹ کی جانب سے سیلاب متاثرین میں کھانا تقسیم کیا گیا،بہاولپور میں تیرہ پتی جھوک شیرا ( ڈیرہ بکھا ) ضلع بہاولپور کے سیلاب زدگان میں کھانا تقسیم کیا گیا، نواب زادی سائرہ عباسی نےبہاولپور میں‌مرکزی مسلم لیگ کے امدادی کیمپ کا دورہ کیا، مظفرگڑھ میں‌رات کے وقت بھی مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار ریسکیو و ریلیف آپریشن میں متحرک رہے، ساہیوال کی بستی اورنگ آباد میں واٹر بوٹ کے ذریعے متاثرہ عوام کو کھانا فراہم کیاگیا،مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے گاؤں پٹھانوالہ سرگودھا میں سیلاب متاثرین میں کھانے کی تقسیم کی گئی،مرکزی مسلم لیگ سندھ کی طرف سے روہڑی میں فری بوٹ سروس کا آغاز کر دیا گیا،مسلم یوتھ لیگ بہاول نگر کے زیر اہتمام سیلاب زدگان کے جانوروں کے لیے چارے کی تقسیم کی گئی،بہاولنگر میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،ملتان ، بستی لنگڑیال قاسم بیلہ کے سیلاب متاثرین کی خیمہ بستی میں پکا پکایا کھانا تقسیم کیا گیا،جامع آباد کے دور دراز علاقوں کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار پہنچ گئے،پاکپتن دریائے ستلج منچن آباد پل پر چوک امیر اہلو کا میں سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں.بہاولنگر میں ایک کشتی کے ذریعے مرکزی مسلم لیگ کے رضاکا ر سیلاب متاثرین کو ریسکیو کر رہے ہیں،3 ہزار سے زائد افراد میں کھانا تقسیم کیا گیا،دو میڈیکل کیمپوں میں دو سو سے زائد مریضوں کا علاج معالجہ کیا گیا،بہاولنگر میں جانوروں کے چارہ بھی بڑی تعداد میں تقسیم کیا گیا،سکھر میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر مرکزی مسلم لیگ سندھ نے بڑے پیمانے پر ریلیف آپریشن کا آغاز کردیا۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے خیموں کی بڑی کھیپ سکھر پہنچا دی گئی ہے، جبکہ فوری امداد کی فراہمی کے لیے فلڈ ایمرجنسی ریلیف سینٹر بھی قائم کردیا گیا ہے۔عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور مشکلات کم کرنے کے لیے دریائے سندھ کے کناروں پر 10 مقامات پر فری کشتی سروس شروع کردی گئی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق ریلیف آپریشن کو مزید وسعت دی جارہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ متاثرین کو فوری مدد فراہم کی جاسکے.

  • قدرتی آفات ہماری اجتماعی کوتاہیوں اور غفلتوں کا نتیجہ ہیں۔سبیل اکرام

    قدرتی آفات ہماری اجتماعی کوتاہیوں اور غفلتوں کا نتیجہ ہیں۔سبیل اکرام

    معروف سیاسی و سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے کہا ہے کہ اجتماعی توبہ و استغفار ہی قدرتی آفات سے نجات کا ذریعہ ہے، حالیہ سلاب، موسلا دھار بارشوں اور دیگر قدرتی آفات ہماری اجتماعی کوتاہیوں اور غفلتوں کا نتیجہ ہیں۔ انسان جب اپنے رب سے غافل ہوجاتا ہے تو زمین و آسمان کی قوتیں تنبیہ کے طور پر متحرک ہوتی ہیں تاکہ انسان رجوع الی اللہ کرے۔ اس موقع پر سب سے زیادہ ضرورت اجتماعی توبہ و استغفار اور اللہ کی بارگاہ میں عاجزی و انکساری کے ساتھ جھکنے کی ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ہر بڑے حادثے اور آفت کے بعد قوم نے عارضی طور پر بیداری کا مظاہرہ کیا، لیکن جیسے ہی حالات معمول پر آئے ہم دوبارہ غفلت اور بے فکری کا شکار ہوگئے۔ یہی روش ہمیں بار بار آزمائشوں میں مبتلا کررہی ہے۔ قدرتی آفات ہمیں اپنی اجتماعی روش پر غور کرنے اور اصلاح احوال کا پیغام دیتی ہیں۔ اگر ہم نے اجتماعی طور پر توبہ استغفار نہ کیا تو آئندہ نسلوں کو مزید بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ محض حکومتی امداد، ریلیف کیمپ اور وقتی منصوبے مسئلے کا مستقل حل نہیں ہیں۔ جب تک ہم بحیثیت قوم اپنے گناہوں سے رجوع کرکے عدل، دیانت اور امانت کو زندگی کا شعار نہیں بناتے تب تک یہ آزمائشیں ختم نہیں ہوں گی۔ اللہ کی مدد تب ہی شامل حال ہوتی ہے جب بندے اپنے اعمال درست کریں اور اجتماعی طور پر نیکیاں اپنائیں۔انہوں نے تمام مکاتب فکر کے علما، سماجی رہنماؤں اور سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہوکر قوم کو اجتماعی دعا، توبہ اور اصلاح احوال کی طرف بلائیں۔ ہمیں مساجد، مدارس اور تعلیمی اداروں میں خصوصی اجتماعات کا اہتمام کرنا چاہیے جہاں بارشوں اور سلاب سے متاثرہ افراد کے لیے دعائیں بھی ہوں اور ان کی عملی امداد بھی۔ یہ وقت محض تنقید یا سیاست کرنے کا نہیں بلکہ اپنے گریبان میں جھانکنے کا ہے۔ اگر ہم نے سچے دل سے اللہ کی طرف رجوع کیا تو نہ صرف موجودہ آفات سے نجات ملے گی بلکہ ملک میں رحمت، برکت اور خوشحالی کے دروازے بھی کھلیں گے۔

  • ایس سی او علامیہ،  پاکستان کے دہشتگردی کے حوالے سے موقف کی تائید

    ایس سی او علامیہ، پاکستان کے دہشتگردی کے حوالے سے موقف کی تائید

    دہشتگردی پر پاکستان کا موقف ہمیشہ سے واضح اور دو ٹوک رہا ہے جسے پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے،ایس سی او کے جاری اعلامیہ میں بھی دہشت گردی کی تمام اقسام کو قابل مذمت قرار دینا پاکستان کے موقف کی تائید ہے،اعلامیہ میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوہرے معیار کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا،شنگھائی تعاون تنظیم کے جاری اعلامیے میں جعفر ایکسپریس اور خضدار میں بچوں کی سکول بس پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی کہا گیا کہ دہشت گردوں کی سرحد پار نقل و حرکت سمیت دہشت گردی کے تمام پہلوؤں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جائے،شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ;’’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، عالمی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی، اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مشترکہ اور مؤثر کارروائی کی جائے‘‘افغانستان میں پائیدار امن کیلئے تمام نسلی سیاسی گروہوں کے نمائندو کی شمولیت سے وسیع شرکت کے ساتھ حکومت قائم کی جائے،ہر قوم کو آزادی سے اپنے سیاسی، سماجی اور اقتصادی راستے کا انتخاب کرنے کا حق حاصل ہے،دہشتگرد گروہوں کو سیاسی یا کرائے کے مقاصد کے لیے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے،

    پاکستان ہمیشہ سے دہشتگردی میں سرحد پار سہولت کاری کے شواہد دنیا کے سامنے پیش کرتا آیا ہے،جعفر ایکسپریس اور خضدار میں سکول بچوں کی بس پر حملے سمیت دیگر دہشتگردی واقعات میں بھارتی کردار کو شواہد کے ساتھ ثابت کیا گیاقومی سلامتی کمیٹی کے 24 اپریل کے اعلامیے میں بھی پاکستان نے پہلگام واقعہ پر بھارت کو آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی جس کا جواب آج تک بھارتی حکومت نے نہیں دیا،سرحد پار دہشتگردی کی روک تھام کے حوالے سے پاکستان نے متعدد بار دنیا کے سامنے شواہد رکھے آج ایس سی او اعلامیہ نے بھی اس کو اجاگر کردیا،شنگھائی تعاون تنظیم کا جاری اعلامیہ پاکستان کا دہشتگردی سمیت مختلف تنازعات کے حوالے سے موقف کی تائید کرتا ہے،پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں آج پاکستان خطے میں نیٹ ریجنل سٹیبلائزر کے طور پر ابھر رہا ہے

    شنگھائی تعاون تنظیم کے 25ویں سربراہان مملکت کونسل اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا جس میں جعفر ایکسپریس اور خضدار حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ دنیا کثیرالقطبی، منصفانہ اور نمائندہ عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ فورم میں اقوام متحدہ میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا،رکن ممالک نے اقوام متحدہ اور ایس سی او چارٹر کی پاسداری دہرائی۔ ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عدم مداخلت بنیادی اصول قرار دیا گیا ہے،ایس سی او مشترکہ اعلامیے میں پہلگام، جعفر ایکسپریس اور خضدار حملوں کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ ایس سی او نے فلسطین میں فوری، پائیدار جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے ایران پر جون 2025ء کے حملوں کی مذمت کی ہے اور کہا کہ حملے ایران کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں،مشترکہ اعلامیے میں شنگھائی اسپرٹ کے تحت باہمی اعتماد اور مشترکہ ترقی کے عزم کی توثیق دیتے ہوئے یوریشیا میں برابری اور ناقابل تقسیم سیکیورٹی کا ڈھانچہ تشکیل دینے پر زور دیا گیا،ایس سی او نے کثیرالجہتی تعاون کی سمت واضح کرتے ہوئے ترقیاتی حکمتِ عملی 2035ء تک منظور کر لی،مشترکہ اعلامیے میں دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کیا گیا اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے یونیورسل سینٹر اور اینٹی ڈرگ سینٹر کے معاہدوں پر دستخط ہوئے،ایس سی او کے اعلامیے کے مطابق منشیات، سائبر کرائم اور سرحدی سیکیورٹی پر مشترکہ تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کی حمایت اور پُرامن ایٹمی توانائی تک مساوی رسائی پر زور دیا گیا۔

  • پاک فوج کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر تباہ،5 جوان شہید

    پاک فوج کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر تباہ،5 جوان شہید

    آج صبح تقریباً 10 بجے ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جب پاک فوج کا ایک ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر ہُدور گاؤں کے قریب حادثے کا شکار ہو گیا۔ یہ گاؤں تھکداس چھاؤنی سے تقریباً 12 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ہیلی کاپٹر ایک معمول کی تربیتی پرواز پر تھا کہ اچانک اس میں تکنیکی خرابی پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں وہ کریش لینڈنگ کے دوران تباہ ہو گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس افسوسناک حادثے کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر پر سوار تمام عملے کے ارکان جامِ شہادت نوش کر گئے۔ میجر عاطف ، پائلٹ ان کمانڈ، میجر فیصل، معاون پائلٹ، نائب صوبیدار مقبول،فلائٹ انجینئر، حوالدار جہانگیر – کریو چیف، نائیک عامر – کریو چیف شہید ہوگئے، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق تربیتی پروازیں آرمی ایوی ایشن کی معمول کی سرگرمیوں کا حصہ ہوتی ہیں جن کا مقصد آپریشنل تیاری کو برقرار رکھنا ہوتا ہے تاکہ نہ صرف عسکری محاذ پر بلکہ قدرتی آفات اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد فراہم کرنے کے لیے بھی ہمہ وقت تیار رہا جا سکے۔

    آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان آرمی ہر پہلو میں اپنی تیاری کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔شہداء کی قربانیوں کو قوم سلام پیش کرتی ہے اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ان کی خدمات اور قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

  • سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے پاک فوج کا ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری

    سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے پاک فوج کا ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری

    سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے پاک فوج کا ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے

    اٹاری، ہیڈ سلیمانکی، رینالہ خورد، جندراکہ، اوکاڑہ اور ساہیوال میں پاک فوج اور سول انتظامیہ کا ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے،سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سینکڑوں افراد اور مال مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا،سیلابی پانی کے باعث متعدد علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع، پاک فوج نے کشتیوں کے ذریعے متاثرین کو ریسکیو کیا،پاک فوج اور سول انتظامیہ نے متاثرین سیلاب کے لیے امدادی کیمپس قائم کر دیے، کپڑے، ادویات اور راشن کی فراہمی جاری ہے،پاک فوج نے سیلاب متاثرین کے لیے فری میڈیکل کیمپس بھی قائم کر دیے،بزرگ، خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، متاثرین نے پاک فوج کے کردار کو سراہا،

    سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے پاک فوج کا اوکاڑہ، ساہیوال اور دیگر علاقوں میں ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے، ساہیوال کے37 متاثرہ دیہاتوں میں پاک فوج اور سول انتظامیہ کی جانب سے 24ریلیف کیمپس قائم کردیئے گئے،دریائے راوی اور ستلج پرپاک فوج کی ٹیمیں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں، پاک فوج اور سول انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں سے9ہزار 797افراد اور2ہزار 191 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے،فوری طبی امداد کیلئے اٹاری اور سلیمانکی ہیڈ پرمیڈیکل کیمپس قائم کردیئے گئے ہیں ، ضلع اوکاڑہ میں 487 شہریوں اور 218 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ، ضلع اوکاڑہ میں سیلاب متاثرہ مکینوں کی گندم سمیت ضروری سامان بھی محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا، ساہیوال میں 3ہزار162 افراد اور4593 مویشیوں کوبھی محفوظ مقام پر منتقل کیاجاچکاہے،سیلاب متاثرین نے پاک فوج اور مقامی انتظامیہ کی بروقت امدادی کارروائیوں کوسراہا ،سیلاب جیسی قدرتی آفت میں پاک فوج عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے

  • سپریم کورٹ، غیرقانونی بھرتیوں سے متعلق کیس کا ریکارڈ طلب

    سپریم کورٹ، غیرقانونی بھرتیوں سے متعلق کیس کا ریکارڈ طلب

    سپریم کورٹ نے ایگریکلچر ریسرچ کونسل میں غیرقانونی بھرتیوں سے متعلق کیس کا ریکارڈ طلب کرلیا،

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہاکہ بھرتیوں کا سارا ریکارڈ جمع کرائیں،عدالت نےکہا پتہ چلے کس نے انٹرویو کیا، کس کا رشتے دار بھرتی ہوا. دوران سماعت وکیل سابق چیئرمین نے کہاکہ میرے موکل پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ سابق چیئرمین پر کرپشن کا الزام ہے،سابق چیئرمین نے اپنی بھانجی کو بھرتی کیا، 168سیٹوں پر 332افراد کو بھرتی کیاگیا، انٹرویو کمیٹی کے رکن نے اپنی بیٹی کو بھرتی کیا، عدالت نے ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت 2ہفتے کیلئےملتوی کردی۔

  • شادی کی پیشکش مسترد کرنے پرخاتون وی لاگر کو اغوا کرنے کی کوشش

    شادی کی پیشکش مسترد کرنے پرخاتون وی لاگر کو اغوا کرنے کی کوشش

    اسلام آباد میں وی لاگر سمیعہ حجاب کو نوجوان نے شادی کی پیشکش مسترد کرنے پر گھر سے مبینہ طور پر اغوا ء کرنے کی کوشش کی جس کی ویڈیو سمیعہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کر دی گئی ہے جبکہ پولیس نے بھی ایکشن لیتے ہوئے ملزم کی تلاش شروع کر دی ۔

    سمیعہ نے ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایک حسن زاہد نامی لڑکا ہے جس کا تعلق لاہور سے ہے ، وہ مجھے گزشتہ دو سے تین ماہ سے جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہاہے، وہ مجھے کہتا ہے کہ مجھ سے شادی کرو، میں نے دو سے تین مرتبہ اس کی شادی کی پیشکش کو مسترد کیاہے ، اس کے بعد وہ آج شام کو میرے گھر کے باہر آیا، مجھے نہیں پتا تھا، وہ بیل بجاتا رہاہے اور میں گھر سے باہر گئی ، میں اپنی بیمار والدہ کے ساتھ گھر پر اکیلی تھی اور بھائی باہر گیا ہوا تھا، میں جیسے ہی باہر نکلی وہ میرا موبائل چھین کر گاڑی میں بیٹھ گیا، میں نے اس سے اپنا موبائل واپس لیا اور پھر وہ زبردستی مجھے گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کر تا رہا، اس سے پہلے میری ایک دوست ثنا شادی کی پیشکش مسترد کرنے پر ماری جا چکی ہے، میں ثنا نہیں بننا چاہتی اور ان لڑکیوں میں شامل نہیں ہوناچاہتی، جو اپنے لیئے آواز نہ اٹھا سکیں، اسلام آباد پولیس کواطلاع کی تو وہ فوری آئے اور انہوں نے میری رپورٹ بھی لکھی ، میری آئی جی سے درخواست ہے کہ میرا ساتھ دیں، اگر مجھے کچھ ہوا تو اس کی وجہ یہ بندہ ہے ، پولیس نے مجھ سے تفصیل لی ہے اور وہ ایکشن لے رہے ہیں، آئی جی اسلام آباد اس پر سخت ایکشن لیں، مجھ جیسی اور بھی بہت سی لڑکیاں ہیں جو ان ساری چیزوں سے گزرر رہی ہیں اور وہ بول نہیں پا رہیں۔

  • جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس، تحقیقاتی افسر ایک بار پھرتبدیل

    جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس، تحقیقاتی افسر ایک بار پھرتبدیل

    جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس کی تفتیش کرنیوالا دوسرا افسر بھی تبدیل ہوگیا، کیس کی تفتیش انسپکٹر طارق گوندل کو سونپ دی گئی،

    تفتیشی افسر انسپکٹر ناظم شاہ مدت ملازمت مکمل ہونے پر ریٹائر ہوگئے، پہلے تفتیشی افسر مرزا جاوید ڈی ایس پی پروموٹ ہونے پر تفتیش سے الگ ہوگئے تھے، راولپنڈی میں جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس کے مقدمے کی تفتیش میں بڑی پیشرفت ہوگئی، کیس کا دوسرا تفتیشی افسر بھی تبدیل ہوگیا،رپورٹ کے مطابق جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس کی تفتیش انسپکٹر طارق گوندل کو سونپ دی گئی، پچھلے تفتیشی افسر انسپکٹر ناظم شاہ مدت ملازمت مکمل ہونے پر ریٹائر ہوگئے، اس سے قبل پہلے تفتیشی افسر مرزا جاوید ڈی ایس پی پروموٹ ہونے پر تفتیش سے الگ ہوگئے تھے۔

    انسپکٹر طارق گوندل پہلے بھی 9 مئی کے 2 مقدمات کے تفتیشی افسر ہیں، وہ 9 مئی کو وارث خان میٹرو اسٹیشن پر حملے اور لیاقت باغ چوک میں توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے کی تفتیش کررہے ہیں۔