Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • معرکہ حق میں شکست کے بعد  بھارتی فوجی قیادت میں اختلافات

    معرکہ حق میں شکست کے بعد بھارتی فوجی قیادت میں اختلافات

    معرکہ حق میں شکست کے بعد بھارتی فوجی قیادت میں اختلافات اور تقسیم کھل کر سامنے آ گئی

    پاکستان سے شکست کے بعد بھارت کی جنگی حکمتِ عملی پر شدید اندرونی اختلافات کا شکار ہے،تھیٹرائزیشن کے نام پر تینوں بھارتی افواج کے درمیان طاقت کی کشمکش تیز ہو گئی ،بھارتی جریدے دی اکنامک ٹائمز کے مطابق ؛”ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ نے تھیٹرائزیشن منصوبے کو جلد بازی میں نافذ کرنے کیخلاف خبردار کیا” بھارتی ایئر چیف کا کہنا تھا کہ؛”اس وقت ہر چیز میں خلل ڈالتے ہوئے ایک نیا ڈھانچہ بنانا اچھا خیال نہیں ہے”بھارت کو تھیٹر ائزیشن کیلئےکسی دوسرے ملک سے متاثر نہیں ہونا چاہئے،ہر ایک چیز کی اپنی ضرورت ہوتی ہے ، ضرورت کے بغیر گئے تو ہم غلط ہو جائیں گے ، ذاتی طور پر سمجھتاہوں کہ دہلی میں مشترکہ منصوبہ بندی اور رابطہ کاری مرکز کا ہونا ضروری ہے ،تھیٹر ائزیشن کے نفاذ کیلئے ہمیں کسی دباؤ میں نہیں آنا چاہیے، محسوس کرتا ہوں کہ اعلیٰ سطح پر مشترکہ منصوبہ بندی اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے ،

    مودی سرکار کےمتنازعہ تھیٹرائزیشن منصوبے نے بھارتی فوج میں نئےتضادات پیدا کر دئیے ہیں ،بی جے پی کی سیاسی مداخلت نے بھارتی افواج کو پیشہ ورانہ بنیادوں سے محروم کر دیا ہے

  • غازیانِ وطن کو سلام ،سپاہی مقبول حسین کی7ویں برسی

    غازیانِ وطن کو سلام ،سپاہی مقبول حسین کی7ویں برسی

    غازیانِ وطن کو سلام -سپاہی مقبول حسین کی7ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

    تاریخ گواہ ہے کہ وطن سے محبت اور عقیدت میں ہمارے جوانوں کا کوئی ثانی نہیں ،وطن پر جب بھی کڑا وقت آیا ہمارے جوانوں نے لبیک کہا،ایسی ہی بے مثال جرات اور بہادری کی لازوال داستان سپاہی مقبول حسین کی ہے،آج سپاہی مقبول حسین کی7واں یوم وفات منایا جا رہا ہے،سپاہی مقبول حسین نے وطن کی محبت میں وہ کر دکھایا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا،سپاہی مقبول حسین کا تعلق آزاد کشمیر کے علاقے تراڑ کھل سے تھا،وہ 4 آزاد کشمیر رجمنٹ میں شامل تھے

    1965 کی جنگ میں سپاہی مقبول حسین نے بخوبی اپنی ذمہ داری نبھائی اور دشمن کو منہ توڑ جواب دیا،بعد ازاں 1965 کی جنگ کے دوران سپاہی مقبول حسین شدید زخمی ہوئے،20 اگست 1965 کو زخمی حالت میں سپاہی مقبول حسین کو بھارتی فوج نے گرفتار کر لیا ،دورانِ قید بھارتی فوج نے اپنا بغض نکالتے ہوئے سپاہی مقبول حسین پر بدترین ذہنی اور جسمانی تشدد کیا

  • سکھ کمیونٹی نے کرتاپور پر بھارت کے پانی چھوڑنے کو آبی جارحیت قرار دیدیا

    سکھ کمیونٹی نے کرتاپور پر بھارت کے پانی چھوڑنے کو آبی جارحیت قرار دیدیا

    سکھ کمیونٹی نے کرتاپور پر بھارت کے پانی چھوڑنے کو آبی جارحیت قرار دیدیا

    سکھوں کی تنظیم شرومنی اکالی دل امرتسر کے رہنما کلویندر سنگھ چیمہ نے بھارت کی آبی جارحیت پر کڑی تنقید کی ہے،اپنے ویڈیو پیغام میں کلویندر سنگھ چیمہ نے سندور آپریشن کو مکمل ناکام قرار دیا اور کہا کہ آپریشن سندور میں بھارت نے ثابت کیا کہ وہ سکھوں کا دشمن ہے، بھارتی فوج نے لاہور میں سکھوں کے مقدس مقام پر حملہ کیا، پاکستان آرمی کا شکریہ جس نے اس حملے کو مکمل ناکام بنایا، اس کے بعد بھارتی پنجاب میں سکھوں کے گردواروں پر حملے کئے اور الزام پاکستان پر لگایا،ضروری نہیں حملے بموں اور گولیوں سے ہی کئے جائیں اب بھارت آبی جارحیت کر رہا ہے، آج گوروناننک کرتاپور میں بھارت نے آبی جارحیت کرکے بے حرمتی کی، بھارتی آبی جارحیت کے باعث گوردوارے کے کمرے میں پانچ پانچ فٹ پانی جمع ہو گیا، 1984ء میں بھارتی آرمی نے دربار صاحب میں ٹینکوں اور توپوں سے حملہ کیا تھا، 1971ء میں بھی کرتاپور میں ہی بھارتی فوج نے بم گرائے،

    کلویندر سنگھ چیمہ کا کہنا تھا کہ ننکانہ صاحب ڈرون سے بھارت نے حملہ کیا، اب پانی کے ساتھ سکھوں کے گوردوارے پر حملہ کیا گیا، بھارت کو معلوم تھا کہ اس طرف سکھوں کا گوردوارہ ہے جان بوجھ کر پانی چھوڑا گیا، ہم بھارتی نہیں ہیں، نہ ہی یہ ہمارا دیس ہے،یہ ہم پر حملہ آور ہیں، اب ضروری ہو چکا ہے کہ ہم خالصتان کی آزادی کیلئے کوششیں کریں،

  • وزیراعظم سیلاب متاثرہ علاقوں میں نکل پڑے

    وزیراعظم سیلاب متاثرہ علاقوں میں نکل پڑے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے پر روانہ ہو گئے

    روانگی سے قبل اور فضائی جائزہ کے دوران چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدنے ملک میں مجموعی سیلابی صورتحال پر وزیراعظم کو تفصیلی بریفنگ دی

    وزیراعظم کو پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی اور زیر آب علاقوں میں ریسکیو ریلیف آپریشن پر تفصیلی بریف کیا گیا۔وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف بھی لاہور سے وزیراعظم کے ہمراہ نارووال روانہ ہوئی ہیں،دوران سفر سیلابی صورتحال پر گفتگو کی گئی چیئرمین این ڈی ایم اے نے بریفنگ دی، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سیلاب زدہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیتے ہوئے سیلابی صورتحال سے بچاؤ اور ریلیف آپریشن میں تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کی۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلی کو نارووال میں تفصیلی بریفنگ دی جائے گی.

  • صدر مملکت  کا سیلاب اور بارشوں سے ہونے والے نقصانات پر افسوس کا اظہار

    صدر مملکت کا سیلاب اور بارشوں سے ہونے والے نقصانات پر افسوس کا اظہار

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے پنجاب، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں جاری سیلاب اور شدید بارشوں کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    اپنے بیان میں انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ اس قدرتی آفت سے جو تکالیف اور مشکلات پیش آئیں وہ قابلِ فہم ہیں۔صدر زرداری نے کسانوں کی فصلوں اور مویشیوں کو پہنچنے والے بڑے پیمانے پر نقصان پر خاص طور پر افسوس کا اظہار کیا اور اس امر کو قومی غم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسان پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اور ان کے نقصان کا اثر پورے ملک پر پڑتا ہے، لہٰذا حکومت سندھ سمیت تمام متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کریں۔انہوں نے سندھ حکومت کو خاص ہدایت کی کہ وہ ممکنہ بڑے سیلابی ریلے کے حوالے سے فوری اور مؤثر تیاری کرے تاکہ آگے کسی بڑے بحران سے بچا جا سکے۔ صدر مملکت نے پاکستانی قوم کی یکجہتی، حوصلے اور عزم کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم ہمیشہ مشکلات کا بہادری اور استقامت کے ساتھ مقابلہ کرتی ہے۔

    آصف زرداری نے کہا کہ 2010 اور 2022 کے سیلابوں کی طرح اس بار بھی ہم قوم مل کر اس آزمائش کو سرخرو ہو کر عبور کریں گے۔ انہوں نے افواج پاکستان کی بھی تعریف کی جو ہمیشہ کی طرح اس مشکل گھڑی میں عوام کی خدمت اور مدد میں پیش پیش ہیں، اور انہوں نے مشکل حالات میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جو مثالی خدمات انجام دی ہیں وہ قابلِ تحسین ہیں۔صدر مملکت نے تمام متعلقہ اداروں، عوام، اور رضاکاروں پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر متاثرین کی مدد کریں اور ملک کو اس قدرتی آفت سے بحالی کی طرف لے جانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • پی سی بی کا نوجوان کھلاڑیوں کی تعلیم کا خرچ اٹھانے کا فیصلہ

    پی سی بی کا نوجوان کھلاڑیوں کی تعلیم کا خرچ اٹھانے کا فیصلہ

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے نوجوان کرکٹرز کی فلاح و بہبود کے لیے ایک نئی اور خوش آئند پالیسی کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت وہ نہ صرف انڈر 15 سے لے کر انڈر 19 تک کے بچوں کو کرکٹ کی تربیت فراہم کرے گا بلکہ ان کی تعلیمی ذمہ داریاں بھی اٹھائے گا۔

    ذرائع کے مطابق، پی سی بی اب انڈر 15، انڈر 17 اور انڈر 19 کی سطح پر منتخب ہونے والے نوجوان کھلاڑیوں کو سال بھر مختلف اکیڈمیز میں تربیت فراہم کرے گا اور ساتھ ہی ان کی تعلیم کے تمام اخراجات بھی برداشت کرے گا۔ یہ فیصلہ پاکستان میں نوجوان کرکٹرز کو بہتر مستقبل فراہم کرنے اور کھیل کے ساتھ تعلیم کو یکجا کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان اور کراچی میں قائم کی جانے والی مختلف اکیڈمیز میں نوجوان کھلاڑی نہ صرف کرکٹ کی مہارتیں سیکھیں گے بلکہ ان کے تعلیمی حوالے سے بھی مکمل انتظامات کیے جائیں گے۔ سیالکوٹ اکیڈمی خاص طور پر انڈر 15 کیٹیگری کے بچوں کے لیے مختص ہوگی جبکہ فیصل آباد اکیڈمی میں انڈر 17 اور ملتان میں انڈر 19 کے کھلاڑیوں کی تربیت کی جائے گی۔

    ہر اکیڈمی میں کرکٹ کے ساتھ تعلیمی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی، اور بورڈ کی جانب سے تمام تعلیمی اخراجات بشمول اسکول و کالج میں داخلہ، کتابیں، یونیفارم اور دیگر ضروریات کو پورا کیا جائے گا۔ان اکیڈمیز کے لیے نوجوان کھلاڑیوں کا انتخاب ریجنل کرکٹ کی کارکردگی کی بنیاد پر کیا جائے گا تاکہ بہترین ٹیلنٹ کو موقع دیا جا سکے اور ملک کی کرکٹ کے مستقبل کو سنوارا جا سکے۔کراچی اکیڈمی کو خاص طور پر پاکستان ویمن کرکٹرز، شاہینز اور اے ٹیموں کی سرگرمیوں کے لیے مختص کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف مرد بلکہ خواتین کرکٹرز کو بھی اپنی صلاحیتیں نکھارنے کا موقع ملے گا۔

    یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کرکٹ بورڈ نوجوان کھلاڑیوں کو صرف کھیل کے میدان تک محدود نہ رکھ کر ان کی تعلیمی اور معاشرتی ترقی پر بھی توجہ دے رہا ہے۔ پی سی بی کا یہ اقدام ملک میں کرکٹ کی ترقی اور نوجوانوں کی مجموعی فلاح و بہبود کے لیے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • دریائے راوی کا پانی چوہنگ، سندر، مانگا منڈی کے قریب آبادیوں میں داخل

    دریائے راوی کا پانی چوہنگ، سندر، مانگا منڈی کے قریب آبادیوں میں داخل

    دریائے راوی میں شاہدرہ پر پانی میں اضافے کے بعد اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 45 ہزار 160کیوسک ہو گیا ہے۔

    کمشنر لاہور کا کہناہے کہ شاہدرہ سے 1 لاکھ60 ہزار کیوسک ریلے کا امکان ہے ، ابھی تک راوی میں سیلابی صورتحال قابو میں ہے۔ دریائے راوی کی گنجائش 2 لاکھ 50ہزارکیوسک ہے۔ضلعی انتظامیہ سمیت تمام محکموں کی تیاری مکمل ہے اور ہائی الرٹ پرہیں،دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر سیلاب کا زور کم ہونے لگا ہے، پانی کا بہاؤ ایک لاکھ52 ہزار کیوسک پر آگیا۔

    رائیونڈ، لاہور، دریائے راوی کا پانی چوہنگ، سندر، مانگا منڈی کے قریب آبادیوں میں داخل ہو گیا، لوگوں نے نقل مکانی کے ساتھ ساتھ اذانیں دینا شروع کردیں،خواتین، بچے سب نے گھروں سے نقل مکانی شروع کر دی ہے، امدادی ٹیمیں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں

    دریائے چناب میں ہیڈ خانکی اور ہیڈ قادر آباد پر پانی کے بہاؤ میں کچھ کمی آنا شروع ہوئی مگر صورتحال اب بھی غیر معمولی ہے۔ ہیڈ خانکی پر پانی کا بہاؤ ساڑھے 10 لاکھ کیوسک سے کم ہو کر 9 لاکھ 5 ہزار کیوسک پر آ گیا ہے۔ہیڈ قادر آباد پر بھی غیر معمولی سیلابی صورتحال ہے۔ وہاں پانی کا بہاؤ 10 لاکھ 45 ہزار 601کیوسک ہو گیا۔

    دوسری جانب دریائے ستلج پر گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 61 ہزار کیوسک سے زائد ہے اور یہاں بھی غیر معمولی سیلاب ہے۔اسی طرح ہیڈ مرالہ پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، یہاں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 40 ہزار لاکھ کیوسک ہے جبکہ دریائے راوی میں بلوکی اور ستلج میں سلیمانکی پر درمیانے درجے کے سیلاب ہیں۔

  • پاک فوج کا سیلاب متاثرین کے لیے کوٹ مومن میں ریلیف آپریشن

    پاک فوج کا سیلاب متاثرین کے لیے کوٹ مومن میں ریلیف آپریشن

    پاک فوج نے سیلاب متاثرین کے لیے کوٹ مومن میں ریلیف آپریشن کیا ہے

    پنجاب کے دیگر علاقوں کی طرح سیلابی صورتحال سے کوٹ مومن بھی شدید متاثر ہے،پاک فوج نےکوٹ مومن میں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے ریلیف آپریشن شروع کیا ہے،پاک فوج کے جوانوں نے گورنمنٹ ہائی سکول لکسیاں میں ریلیف کیمپ قائم کردیا،پاک فوج کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ بھی عوام کے لئے ریلیف آپریشن میں شریک ہے،پاک فوج اور ضلعی انتظامیہ پر مشتمل تین ریسکیو ٹیمیں مڈ رانجھا طالب والا اور ہلال پور میں تعینات ہیں،ریسکیو ٹیموں میں ماہر تیراکوں کو بھی شامل کیا گیا ہے،ہر ریسکیو ٹیم کے پاس دو کشتیاں 30 لائف جیکٹس و دیگر سامان موجود ہے،سیلاب متاثرین کیلئے خیمے بھی نصب کردیئے گئے جہاں انہیں ہر طرح کی سہولیات دی جا رہی ہیں،متاثرین سیلاب نے پاک فوج کے اس جذبہ خدمت کو سراہا ہے،پاک فوج مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے

  • پشاور کے خواجہ سرا پولیس سے پریشان

    پشاور کے خواجہ سرا پولیس سے پریشان

    پشاور: صدر ٹرانسجینڈر خیبرپختونخوا، آرزو خان نے پشاور میں خواجہ سراؤں کو درپیش سنگین مسائل اور جرائم پیشہ گروپوں کی جانب سے بھتہ خوری کے حوالے سے تشویشناک الزامات عائد کیے ہیں۔

    خواجہ سرا آرزو خان کا کہنا تھا کہ پشاور میں کم از کم 15 ایسے جرائم پیشہ گروپ سرگرم عمل ہیں جو خواجہ سراؤں سے بھتہ وصول کرتے ہیں، جبکہ پولیس بھی بھتہ نہ دینے پر انہیں مزید مشکلات میں ڈالتی ہے،خواجہ سراؤں کے خلاف ہونے والے جرائم میں ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے ان کی حفاظت اور حقوق کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ خاص طور پر خواجہ سرا تتلی قتل کیس میں نامزد ملزم ابھی تک گرفتار نہیں ہوا جبکہ گلبہار علاقے کے ایس ایچ او نے ملزمان کو ایف آئی آر میں نامزد کرنے سے انکار کیا۔صدر ٹرانسجینڈر آرزو نے مزید بتایا کہ حال ہی میں فقیر آباد تھانے میں ان کی رپورٹ تک نہیں لی گئی، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ان کے تحفظات اور بھی بڑھ گئے ہیں۔

    انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ خواجہ سراؤں کو نہ صرف تحفظ فراہم کیا جائے بلکہ انہیں معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے باعزت روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی زندگی بہتر انداز میں گزار سکیں۔آرزو خان کے مطابق، "خواجہ سراؤں کو مسلسل دباؤ اور استحصال کا سامنا ہے، ہمیں فوری طور پر قانونی اور سماجی سطح پر تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ ہم بھی معاشرے کا فعال اور باوقار حصہ بن سکیں۔”

  • پی آئی اے میں جعلی ڈگریوں پر پائلٹس اور انجینئرزسمیت دیگر ملازمین کے کام کرنے کاانکشاف

    پی آئی اے میں جعلی ڈگریوں پر پائلٹس اور انجینئرزسمیت دیگر ملازمین کے کام کرنے کاانکشاف

    جعلی ڈگری والے 7 پائلٹس اور36انجینئرنگ عملہ کام کررہاہے ، آڈٹ رپورٹ
    جعلی ڈگریوں پر ملازمین کی بھرتی سے پی آئی اے کو 9کروڑ72لاکھ روپے کانقصان ہوا
    آڈٹ رپورٹ میں جعلی ڈگریوں والے ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش کی گئی
    پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن میں جعلی ڈگریوں پر پائلٹس اور انجینئرزسمیت دیگر ملازمین کے کام کرنے کاانکشاف ہواہے ،جعلی ڈگریوں پر ملازمین کی بھرتی سے پی آئی اے کو 9کروڑ72لاکھ روپے کانقصان ہواہے ،پی آئی اے نے سپریم کورٹ کے حکم کے باجود جعلی ڈگریوں والے ملازمین کے خلاف ایکشن نہیں لیا،جعلی ڈگری کے 7 پائلٹس عدالت سے اسٹے آرڈر لے کر کام کر رہے ہیں،جعلی ڈگری والے 52 انجینئرنگ عملہ/افسران میں سے36اب بھی سروس میں ہیں،آڈٹ نے جعلی ڈگریوں والے ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش کردی ۔

    آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ2024-25 کے مطابق پی آئی اے کوجعلی ڈگریوں پر افسران / عہدیداروں کی تقرری سے 9کروڑ72لاکھ روپے نقصان ہواہے ۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، حکومت پاکستان نے 8 مارچ 2011 کو ہدایت دی کہ تمام وفاقی حکومت کے ملازمین کی ڈگریوں اور اسناد کی تصدیق ان کے متعلقہ وزارتوں اور اداروں سے کی جائے اور غیر ملکی ڈگریوں کی تصدیق ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے ذریعے کی جائے، جیسا کہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے (2009 SCR 1492)میں جعلی ڈگری کے مقدمات کی سنگینی پر زور دیا گیا تھا۔پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (PIACL) کے پرسنل پالیسی مینول کے پیرا 75 (aj) اور پیرا 76 (h) کے مطابق، غلط معلومات فراہم کرنا سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔ اس میں کسی کے نام، عمر، والد کے نام، تعلیمی یا پیشہ ورانہ کوائف، پچھلی خدمات یا تجربے کی غلط تفصیلات دینا شامل ہے۔ یہ misconduct ہے، چاہے یہ کارپوریشن میں شمولیت کے وقت ہو یا دورانِ ملازمت، اور اس کی سزا برطرفی ہے۔پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمٹیڈ(PIACL)، اسلام آباد اسٹیشن کے 2021-2023 کے سالانہ آڈٹ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ انتظامیہ نے مختلف ادوار میں مختلف عہدوں پر 27ملازمین کو جعلی ڈگریوں پر تقرری کی۔پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمٹیڈ(PIACL) کی 2008-2017 کی خصوصی آڈٹ کے دوران بھی یہ بات سامنے آئی کہ 458 ملازمین کی ڈگریاں / اسناد جعلی تھیں، جن میں سے 208 ملازمین کو برطرف / ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔458 جعلی ڈگر ی والے ملازمین 16 پائلٹس بھی شامل تھے جس میں سے7 پائلٹس اب بھی عدالت کے اسٹے آرڈر کی وجہ سے کام کر رہے ہیں، 52 انجینئرنگ عملہ/افسران شامل تھے جن میں سے 36 اب بھی کام کررہے ہیں ۔67افسران (AM سے DGM تک)اور 33 ایئرہوسٹسز بھی جعلی ڈگری والوں میں شامل تھیں۔ آڈٹ کاکہنا ہے کہ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اہم اور حساس عہدوں پر جعلی ڈگری رکھنے والے افراد کو تعینات کیا گیا اور ان کی اسناد کو بروقت انتظامیہ کی جانب سے تصدیق نہیں کروایا گیا۔

    مزید برآں سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے مطابق جعلی ڈگریوں والے 42 افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔آڈٹ کا کہناہے کہ جعلی ڈگریوں پر تقرریوں کی جاری رکھنے سے انتظامیہ کی غفلت ظاہر ہوئی۔ اس کے نتیجے میں 97.200 ملین روپے کی غیر قانونی تنخواہ کی ادائیگی ہوئی۔ انتظامیہ نے ان ملازمین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جنہوں نے جعلی ڈگریاں / اسناد فراہم کیں۔آڈٹ نے سفارش ہے کہ انتظامیہ جعلی ڈگریوں والے ملازمین کے خلاف کارروائی کرے۔ترجمان پی آئی اے کاکہناہے کہ جعلی ڈگریوں والے پائلٹ جہاز نہیں چلارہے اور نہ ہی نوکری پر ہیں ۔