Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • عدالتی امور میں بیرونی مداخلت پر متعلقہ جج کو 24 گھنٹےمیں شکایت درج کرانا ہوگی،فیصلہ

    عدالتی امور میں بیرونی مداخلت پر متعلقہ جج کو 24 گھنٹےمیں شکایت درج کرانا ہوگی،فیصلہ

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ عدالتی امور میں بیرونی مداخلت پر متعلقہ جج کو 24 گھنٹےمیں شکایت درج کرانا ہوگی۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز اور اٹارنی جنرل نے شرکت کی، اجلاس میں ایس او پیز کی منظوری بھی دے دی گئی،اجلاس میں انصاف کی فراہمی میں تیزی اور اسے مؤثر بنانے کے عزم کا اعادہ کیاگیا،اجلاس میں فیصلہ کیا گیاکہ عدالتی امور میں بیرونی مداخلت کی صورت میں جج کو 24 گھنٹے میں شکایت درج کرانا ہوگی، شکایت کرنے والے جج کے وقار کو ہر صورت میں ملحوظ رکھا جائے گا اور بیرونی مداخلت کی جج کی شکایت پر فیصلہ 14 روز میں کیا جائے گا،کمرشل مقدمہ بازی کی حوصلہ شکنی کےلیے جسٹس شفیع صدیقی کی سربراہی میں کمیٹی بھی قائم کردی گئی۔

    اجلاس میں مختلف نوعیت کےکیسز کی تکمیل کےلیے ٹائم لائن بھی طےکر لی گئی جس کے تحت کرایہ داری اور عائلی مقدمات 6 ماہ میں نمٹائے جائیں گے، قتل کےکیسز زیادہ سے زیادہ 2 سال میں نمٹانا ہوں گے جبکہ جائیداد اور وراثت کےکیسز 12 ماہ میں نمٹائے جائیں گے،اسی کے ساتھ ساتھ جبری گمشدگی کےکیسز میں زیر حراست شخص کو 24گھنٹے میں عدالت میں پیش کیا جائے گا، اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کی ماڈل کریمنل ٹرائل کورٹس کی کارکردگی کو سراہا گیا،اجلاس میں فیصلہ ہواکہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری پالیسی فورم کے قیام اور ججز کی فلاح و بہبود کے لیے سفارشات تیار کی جائیں گی،اجلاس میں معلومات و شکایات کے ازالے کے لیے ہائی کورٹس اور ڈسٹرکٹ کورٹس میں فورمز قائم کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ اسپیشل کورٹس و ٹریبونلز کے ججز کی واپسی میں تاخیر کا معاملہ حل کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی، نیشنل جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کا اگلا اجلاس 17 اکتوبر 2025 کو ہوگا

  • اسلام آباد میں بچوں کے روزگار کی ممانعت کا بل منظور

    اسلام آباد میں بچوں کے روزگار کی ممانعت کا بل منظور

    سینیٹر فوزیہ ارشد کا اسلام آباد میں بچوں کے روزگار کی ممانعت کا بل منظور کرلیا گیا ہے۔

    بل میں کہا گیا ہے کہ 14 سال سے کم عمر کے لڑکے کو ملازمت پر بھرتی نہیں کیا جائے گا جبکہ اس سے بڑی عمر کے لڑکے کوئی نقصان دہ کام کرنے نہیں دیا جائے گا، 14 سال سے بڑی عمر کے لڑکے سے 3 گھنٹے سے زیادہ کام نہیں لیا جائے گا، لڑکے سے ایسا کام لیا جائے گا جس سے اُس کی تعلیم متاثر نہ ہو،14 سال سے بڑی عمر کے لڑکے سے شام 7 سے صبح 8 بجے تک کی ملازمت نہیں لی جائے گی،14 سال سے کم عمر بچے کو ملازم رکھنے پر 6 ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ ہوگاجبکہ نقصان دہ کام کےلیے بھرتی کرنے پر1 لاکھ روپے جرمانہ اور 3 سال تک سزا ہوگی،بچے کو غلامی، جبری مشقت یا مسلح تنازعات میں استعمال کرنے پر 10 لاکھ روپے جرمانہ اور 3 سال قید ہوگی،بچے کو پورنوگرافی کےلیے استعمال کرنے پر 10 لاکھ روپے جرمانہ اور 3 سال سزا جبکہ منشیات کے استعمال کرنے پر 10 لاکھ روپے جرمانہ اور 3 سال سزا ہوگی۔

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ،کابینہ کا ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو دینے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ،کابینہ کا ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو دینے کا فیصلہ

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے اہم اعلان کر دیا ہے۔

    انہوں نے اپنے اور کابینہ ارکان کی تنخواہوں کا حصہ سیلاب متاثرین کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ وہ خود ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو دیں گے، جبکہ کابینہ کے دیگر ارکان اپنی 15 دن کی تنخواہ عطیہ کریں گے۔مزید برآں، صوبائی اسمبلی کے ارکان کی 7 دن کی تنخواہ، اسکیل 17 اور اس سے اوپر کے ملازمین کی دو دن کی تنخواہ اور اسکیل 1 سے 16 تک کے ملازمین کی ایک دن کی تنخواہ بھی سیلاب زدگان کی مدد کے لیے مختص کی جائے گی۔ یہ اقدام متاثرین کی فوری مدد اور ریلیف کے لیے کیا جا رہا ہے۔

    وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے عطیات کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے پی ڈی ایم اے (پبلک ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) میں خصوصی اکاؤنٹ کھولنے کا اعلان کیا ہے، جس میں فنڈ کی ایک ایک پائی کا مکمل حساب رکھا جائے گا۔ عوام کو اس فنڈ کی تفصیلات سے مکمل آگاہ رکھا جائے گا تاکہ شفافیت برقرار رہے۔اسی سلسلے میں، وزیر اعلیٰ نے کمشنر مردان ڈویژن اور دیگر حکام سے رابطہ کیا ہے تاکہ ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کو تیز کیا جا سکے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر صوابی کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے ریسکیو سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کی خصوصی ہدایت بھی دی ہے۔

    خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کی وجہ سے زبردست تباہی ہوئی ہے۔ خاص طور پر پشاور، مردان، صوابی اور ایبٹ آباد میں شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ نے کئی گھروں کو نقصان پہنچایا ہے۔ صوابی میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث 15 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے کئی راستے بند ہو چکے ہیں۔ کرنل شیر ندی میں دو افراد کی تلاش جاری ہے۔

    مردان میں بارشوں کی وجہ سے متعدد علاقے زیر آب آ گئے ہیں، اور سیلابی ریلے نے گاڑیاں بھی بہا لے جانے کے علاوہ گھروں میں پانی داخل کر دیا ہے۔ حکام نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہیں۔

  • خیبر پختونخوا سیلاب،پاک فوج کا ہنگامی ریسکیو اور امدادی کام جاری

    خیبر پختونخوا سیلاب،پاک فوج کا ہنگامی ریسکیو اور امدادی کام جاری

    پاک فوج کی جانب سے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں بشمول بونیر، شانگلہ اور سوات میں شدید بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ملبے سے زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کے جوانوں نے ریسکیو آپریشنز تیزی سے انجام دے کر متاثرین کی جان بچانے کے لیے انتھک محنت جاری رکھی ہوئی ہے۔

    خیبر پختونخوا آرمی فلڈ ریلیف آپریشن کے تحت فوج کے دستے ٹوٹے ہوئے پلوں اور بند راستوں کو کھولنے میں مصروف ہیں تاکہ امدادی سامان اور ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں تک جلد از جلد پہنچ سکیں۔موسم کی خراب صورتحال کے باوجود پاک فوج کے ہیلی کاپٹر ریسکیو مشن میں مصروف ہیں اور زخمیوں کو ہسپتالوں تک منتقل کرنے کے علاوہ ضروری اشیاء کی فراہمی بھی یقینی بنا رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کے ڈاکٹرز کی ٹیمیں میڈیکل کیمپ لگا کر مفت ادویات فراہم کر رہی ہیں، تاکہ متاثرین کو فوری طبی امداد دی جا سکے۔

    پاک فوج ایک دن کے راشن کی اشیاء بھی ضرورت مند افراد تک پہنچا رہی ہے، جن میں خوراک، پانی، اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، متاثرہ خاندانوں کو بستر، ٹینٹ اور دیگر امدادی سامان بھی فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ وہ عارضی طور پر محفوظ رہ سکیں۔ فوجی جوان ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں اور صورتحال کو قابو پانے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں تاکہ متاثرین کو فوری ریلیف دیا جا سکے۔یہ امدادی کارروائیاں پاک فوج کی عوام کے لیے خدمت اور قربانی کے جذبے کی عکاس ہیں، جو مشکل وقت میں ہر طرح کی مدد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

  • راولا کوٹ اور دریائے نیلم میں حادثات، 6 افراد جاں بحق

    راولا کوٹ اور دریائے نیلم میں حادثات، 6 افراد جاں بحق

    راولا کوٹ اور دریائے نیلم کے علاقوں میں گاڑیوں کے دو افسوسناک حادثات پیش آئے جن میں مجموعی طور پر 6 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    پولیس کے مطابق راولا کوٹ کے قریب پونچھ یونیورسٹی کے تراڑ کیمپس کے پاس ایک کار نالے میں بہہ گئی۔ اس حادثے میں پونچھ یونیورسٹی کی ایک خاتون لیکچرار جان بحق ہوگئیں۔ متاثرہ خاتون کا نام گل لالہ بتایا گیا ہے جو راولا کوٹ کے نواحی علاقے کھڑک سے تعلق رکھتی تھیں۔پولیس نے بتایا کہ لیکچرار کی گاڑی تراڑ کیمپس کے قریب نالے سے گزر رہی تھی کہ اچانک گاڑی بند ہوگئی۔ اس دوران نالے میں پانی کی سطح اچانک بڑھ گئی اور گاڑی بہہ گئی۔ حادثے کے بعد نالے میں بہہ جانے والی گاڑی میں موجود ڈاکٹر گل لالہ کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔

    دوسری جانب گریس ویلی کے علاقے میں ایک اور گاڑی دریائے نیلم میں گر گئی جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق ہو گئے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں کہ گاڑی کیوں اور کیسے نیلم میں گری۔دونوں حادثات نے علاقے میں غم و الم کی لہر دوڑا دی ہے۔ مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں لاشوں کی بازیابی اور مزید تفتیش میں مصروف ہیں۔

  • کاروباری حالات بہتر اور پاکستان کا قرض منظر نامہ مضبوط ہوا ،فچ

    کاروباری حالات بہتر اور پاکستان کا قرض منظر نامہ مضبوط ہوا ،فچ

    عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ کا کہنا ہے پاکستان کے بینک کاروباری حجم بڑھانے کے بہتر مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

    ریٹنگ ایجنسی کے مطابق معاشی دباؤ کم، کاروباری حالات بہتر اور پاکستان کا قرض منظر نامہ مضبوط ہوا ہے، پاکستان کی معاشی بحالی مشکل دور اور بلند افراط زر کے بعد آئی ہے، حقیقی شرح نمو 2027 تک 3.5 فیصد ہو جائے گی،فچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نجی شعبے کی قرضوں کی طلب بڑھے گی، بینکوں کی بڑی سرمایہ کاری حکومتی سکیورٹیز میں ہے، بینکوں نے ریاستی اداروں کو بڑے قرض فراہم کر رکھے ہیں، مشکل حالات میں بینکوں کی کارکردگی بہتر رہی ہے،ریٹنگ ایجنسی کا کہنا ہے کہ بینکوں کے غیر فعال قرضوں کا تناسب 7.6 فیصد سے کم ہوکر 7.1 فیصد ہوا ہے، پاکستان کے بینک کاروباری حجم بڑھانے کے بہتر مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

  • خیبرپختونخوا،متاثرین کیلئے 456 ریلیف کیمپس،400 ریسکیو آپریشن ،وزیراعظم کو بریفنگ

    خیبرپختونخوا،متاثرین کیلئے 456 ریلیف کیمپس،400 ریسکیو آپریشن ،وزیراعظم کو بریفنگ

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں حالیہ تباہ کن بارشوں و سیلاب کے متاثرین کی مدد و بحالی پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.

    اجلاس کو این ڈی ایم اے اور وزیرِ اعظم کی جانب سے مدد کیلئے مقرر کردہ وفاقی وزراء کی جاری امدادی سرگرمیوں پر بریفنگ دی گئی.اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں، پاک فوج و دیگر اداروں کی جانب سے اب تک متاثرین کیلئے 456 ریلیف کیمپس کے قیام کے ساتھ ساتھ 400 ریسکیو آپریشن کئے جاچکے. بشمول آج، متاثرین کیلئے امدادی اشیاء پر مشتمل ٹرک پہنچائے جارہے ہیں. وزیرِ اعظم نے ہدایت کی سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹرکوں کے قافلوں کو ترجیحی بنیادوں پر پہلے بھیجا جائے. اب تک کے محتاط اندازے کے مطابق 126 ملین روپے سے زائد کے سرکاری و نجی املاک کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے. این ڈی ایم اے کی جانب سے راشن، خیموں، ادویات، میڈیکل ٹیموں و دیگر اشیاء کی فراہمی پر رپورٹ پیش کی گئی

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ستمبر کے دوسرے ہفتے تک مون سون جاری رہے گا. 6 بڑے اسپیل گزر چکے جبکہ مزید 2 متوقع ہیں جن کے اثرات ستمبر کے آخری ہفتے تک رہیں گے. اجلاس میں وفاقی وزیر امور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان انجینئیر امیر مقام نے سوات، وزیرِ بجلی سردار اویس خان لغاری نے خیبرپختونخوا، معاون خصوصی مبارک زیب نے باجوڑ، چئیرمین این ایچ اے نے مالاکنڈ جبکہ سیکریٹری موصلات نے گلگت سے صورتحال پر جائزہ پیش کیا. وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف، وزیرِ آبی وسائل میاں محمد معین وٹو، ڈاکٹر مصدق ملک اور دیگر حکام نے وزیرِ اعظم کی ہدایت کے مطابق امدادی سرگرمیوں پر پیش رفت سے آگاہ کیا.

    اجلاس میں وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، انجینئیر امیر مقام، سردار اویس خان لغاری، سردار محمد یوسف، میاں محمد معین وٹو، معاون خصوصی مبارک زیب، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک، وزیرِ اعظم کے چیف کوارڈینیٹر مشرف زیدی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

    وزیرِ اعظم نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بارشوں و سیلاب سے متاثرین کی مدد میں وفاقی اداروں کو مزید متحرک ہونے کی ہدایت کر دی،کہا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں کوئی وفاقی، کوئی صوبائی حکومت نہیں، ہمیں متاثرہ لوگوں کی مدد و بحالی یقینی بنانی ہے. مصیبت زدہ پاکستانی بہن بھائیوں کی مدد ہماری قومی ذمہ داری ہے. یہ سیاست کا نہیں، خدمت کا اور لوگوں کے دکھوں پر مرحم رکھنے کا وقت ہے.وفاقی حکومت جاں بحق ہونے والے افراد کے ساتھ ساتھ متاثرین کو وزیرِ اعظم پیکیج کے تحت بھی امدادی رقوم فراہم کریں گے. متاثرہ علاقوں میں امدادی اشیاء کی تقسیم و بحالی کے آپریشن کی نگرانی وزیرِ امور کشمیر و گلگت بلتستان کریں گے.متاثرہ علاقوں میں بجلی، پانی، سڑکوں و دیگر سہولیات کی بحالی کی نگرانی متعلقہ وفاقی وزراء خود کریں گے.تمام متعلقہ وزراء خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان خود جائیں،این ایچ اے شاہراہوں کی بحالی میں صوبائی یا قومی شاہراہوں میں تخصیص نہ کرے، امداد کیلئے راستے کھولنا پہلی ترجیح رکھا جائے.وزارت مواصلات، این ایچ اے اور ایف ڈبلیو او متاثرہ علاقوں میں شاہراہوں و پُلّوں کی مرمت یقینی بنائے، وزیرِ موصلات ان علاقوں میں خود جاکر بحالی آپریشن کی نگرانی کریں. وزیرِ اعظم نے وزیر بجلی کو متاثرہ علاقوں میں خود جا کر معائنہ کرنے اور بجلی کا نظام ترجیحی بنیادوں پر بحال کروانے کی ہدایت کر دی،این ڈی ایم اے فوری طور پر نقصانات کا حتمی جائزہ پیش کرے.این ڈی ایم اے امدادی اشیاء کی خیبر پختونخوا کے متاثرین میں امدادی اشیاء کی تقسیم کا جامع لائحہ عمل پیش کرے.جب تک متاثرہ علاقوں میں آخری شخص تک مدد اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی نہیں ہوجاتی، متعلقہ وفاقی وزراء وہیں رہیں گے. وزرات صحت ادویات و ڈاکٹرز کی ٹیموں کو خیبر پختونخوا بھیجے اور طبی کیمپس قائم کئے جائیں.بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بھی متاثرین کی مدد کیلئے متحرک کیا جائے

  • مرکزی مسلم لیگ کا سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن مزید وسیع کرنے کا فیصلہ

    مرکزی مسلم لیگ کا سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن مزید وسیع کرنے کا فیصلہ

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے،دکھ کی اس گھڑی میں ہم متاثرین کے ساتھ ہیں،متحد قوم ،فاتح پاکستان مہم جاری رہے گی، یوم آزادی پر پاکستانی قوم کا جوش و خروش اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ ملکی سالمیت و دفاع کیلئے افواج پاکستان و قوم یکجا ہیں، مرکزی مسلم لیگ کی تنظیم و تربیت سازی کا عمل مکمل کیا جائے

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اجلاس میں مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک، انجینئر حارث ڈار،مرکزی ترجمان تابش قیوم و دیگر نے شرکت کی، اجلاس میں ہفتہ آزادی مہم کے دوران ملک بھر میں ہونے والے یوم آزادی کے پروگراموں ،تقریبات کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں خیبر پختونخوا میں سیلاب سے جاں بحق افراد کے لئے دعائے مغفرت کی گئی، جانی و مالی نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا،اجلاس میں بونیر،سوات،شانگلہ ،باجوڑ و دیگر متاثرہ علاقوں میں جاری ریلیف آپریشن بارے بھی بریفنگ دی گئی، اجلاس میں مرکزی مسلم لیگ کی تنظیم سازی کا عمل مکمل کرنے پر بھی زور دیا گیا،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں سیلاب سے جو نقصان ہوا اس پر ہر کارکن غمزدہ ہے،یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ متاثرین کی امداد کا ہے، مرکزی مسلم لیگ کا ہر کارکن خدمت کے جذبے کے ساتھ متاثرین کی مدد کرے، متاثرین میں پکی پکائی خوراک کی تقسیم کا سلسلہ بڑھایا جائے،دوردراز علاقوں میں بھی مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار پہنچیں ،کوشش کی جائے کہ متاثرہ علاقوں میں کوئی بھوکا نہ سوئے،لاہور،اسلام آبادو دیگر شہروں سے ہنگامی بنیادوں پر مرکزی مسلم لیگ کی میڈیکل ٹیمیں بھی خیبر پختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں روانہ کی جائیں،خدمت کی سیاست مرکزی مسلم لیگ کا منشور،ہمیں ووٹ نہ ملیں تب بھی خدمت کا عمل جاری و ساری رہے گا،

    خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ متحد قوم،فاتح پاکستان ہفتہ آزادی کے دوران ملک گیر پروگراموں میں پاکستانی قوم میں ایک نیا ولولہ دیکھنے کو ملا،دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ضروری ہے کہ متحد قوم کی تحریک جاری رہے، مرکزی مسلم لیگ اتحاد ویکجہتی کی اس تحریک کو جاری رکھے گی،مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان کو بھر پور اور کامیاب پروگراموں کے انعقاد پرمبارکباد پیش کرتا ہوں،مرکزی مسلم لیگ کی تنظیم و تربیت سازی کا عمل بھی جاری رکھا جائے، ہم نفرت اور گالم گلوچ کی سیاست کی بجائے اخوت و رواداری اور اتحاد ویکجہتی کی سیاست کریں گے،اس کے لئے ضروری ہے کہ ملک بھر میں تنظیم سازی و تربیت سازی کا عمل بھی تیز کیا جائے.

  • پاک فوج  گلگت بلتستان کے سیلاب متاثرہ اضلاع میں امداری کارروائیوں میں مصروف

    پاک فوج گلگت بلتستان کے سیلاب متاثرہ اضلاع میں امداری کارروائیوں میں مصروف

    پاک فوج گلگت بلتستان کے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ اضلاع میں امداری کارروائیوں میں مصروف ہے

    آرمی انجینئر کور اور ایف ڈبلیو او کا لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند سڑکوں کو کھولنے کا کام جاری ہے،حالیہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے دوران گلگت بلتستان کا زمینی راستہ دیگر علاقوں سے منقطع ہو گیا تھا،آرمی چیف کی خصوصی ہدایات پر گلگت بلتستان میں پاک فوج کی انجینئر کور شاہراہوں کی بحالی کا کام کر رہی ہے،شارع قراقرم جو لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہو گئی تھی کو ڈائیوریشن بنا کر ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ہے،اسلام آباد سے گلگت براستہ بابو سر ٹاپ شاہراہ کو بھی کھول دیا گیا ہے،جگلوٹ سکردو روڈ کو استک پل کے علاوہ ٹریفک کے لئے بحال کردیا گیا ہے، دیوسائی روڈ کو بھی عام ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ہے،ہنز روڈ جو آگے استوار اور چین تک جاتی ہے وہ بھی عام ٹریفک کیلئے بحال کردی گئی ہے،پاک فوج امدادی سرگرمیوں اورزمینی رابطے کی مکمل بحالی کیلئے دن رات کوشاں ہے،مقامی آبادی کی جانب سے پاک فوج بالخصوص انجینئر کور کی بے مثال خدمات کو سراہا جا رہا ہے

  • عمران خان کی کرپشن کی داستان،ملک ریاض سے چیک وصولیاں،جاوید بدر کا انکشاف

    عمران خان کی کرپشن کی داستان،ملک ریاض سے چیک وصولیاں،جاوید بدر کا انکشاف

    عمران خان کے سابق میڈیا کوآرڈینیٹر جاوید بدر نے ایک بار پھر اہم انکشافات کئے ہیں

    باغی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے جاوید بدر کا کہنا تھا کہ عمران خان کے پی کے میں اپنی نگرانی میں کرپشن کرواتے تھے ،کے پی کے کی تباہی کا ذمہ دار صرف عمران خان ہے،میں 2013 میں کے پی کے حکومت کے لیے کام کرتا تھا ،سونامی ٹری منصوبے والی جماعت نے آدھا صوبہ ننگا کردیا ہے،بانی نے کے پی کے میں صرف کرپشن میں ترقی کی ہے،2022 کے سیلاب میں ملنی والی انٹرنیشنل امداد کی بندر بانٹ کی گئی،میں نے ثبوتوں کے ساتھ وزیر کھیل محمود خان کی کرپشن پکڑی،بانی نے مُجھ سے وہ ثبوت لے کر چُپ رہنے کا بولا ،بانی کو ایک وزیر کی کرپشن کا میسج بھیجا بانی نے وہی میسج اُسی وزیر کو بھیج دیا ،اربوں روپے کا ڈیوٹی فری سامان پشاور کے راستے پاکستان منگوایا جاتا تھا،شوکت خانم کراچی اور لاہور کا سامان بھی پشاور ہی آتا تھا ،پرویز خٹک سے زبردستی کرپشن کروائی جاتی تھی،پرویز خٹک کے انکار پر محمود خان کو وزیراعلی بنایا گیا مکانوں اور ٹمبر کے ٹھیکوں سے عمران خان ارب پتی بنے.

    جاوید بدر کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اطلاعات شاہ فرمان اپنے رشتے داروں دوستوں کو بوگس سرکاری تنخوائیں دے رہا تھا،ثبوتوں کے ساتھ سمری پکڑنے پر مُجھے بانی نے واپس لاہور بھیج دیا ،بانی نے خود جہانگیر ترین سے چینی باہر بھجوا کر واپس منگوائی،اس ساری کاروائی کا گواہ اور انجام دینے والا بُزدار ہے ،گوگی اور پیرنی بانی کی مرضی سے پنجاب میں کرپشن کرتی تھی،بانی خود ملک ریاض سے چیک وصول کرتا تھا،ملک ریاض اور بانی کے درمیان ڈیل جنرل فیض نے کروائی تھی