Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بیوی کو قتل کرنے والے ملزم کی سزا کیخلاف اپیل خارج

    بیوی کو قتل کرنے والے ملزم کی سزا کیخلاف اپیل خارج

    بیوی کو قتل کرنیوالے کی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دینے کی اپیل خارج کر دی گئی

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ خواتین معاشرے کا پسا ہوا طبقہ ہے قوانین متعارف کروانے سے ان کی زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے ، عدالت نے اپنی بیوی کو بچوں کے سامنے چھریوں کے وار سے قتل کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا کالعدم قرار دینے کی اپیل خارج کردی،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے بارہ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا ۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ درد ناک تھا کہ بچوں نے اپنی ماں کو باپ کے ہاتھوں قتل ہوتے دیکھا، یہ مناظر غیر یقینی تھے کہ ایک شوہر اپنی ہی بیوی کو بچوں کے سامنے بے دردی سے قتل کر رہا تھا، کیس تاخیر سے رپورٹ کرنے کی وجہ یہ صدمہ ہوسکتا ہے جس میں سے فیملی گزر رہی ہوگی، عدالتی فیصلے میں شوہر کے گھر بیوی کے قتل ہونے پر بار ثبوت شوہر پر عائد کرنے کے لیے قانون سازی کرنے کی تجویز دے دی، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ قانون ساز ایسا کوئی قانون متعارف کرائیں، ایسے قوانین سے خواتین، جو کہ معاشرے کا پسا ہوا طبقہ ہے انکی زندگیوں کو بچایا جاسکے،مجرم کے خلاف تھانہ گجرات پولیس نے 2020 میں قتل کا مقدمہ درج کیا، پراسکیوشن اپنا کیس کامیابی کے ساتھ ثابت کرنے میں کامیاب رہی، مجرم نے اپنی اہلیہ کو چھری کے وار کرکے قتل کیا،مجرم نے 342 کے بیانات میں بتایا کہ وقوعہ کے وقت گھر میں موجود نہیں تھا، مجرم نے کہا کہ وقوعہ کے وقت وہ سیمنٹ فیکٹری میں جاب پر تھا لیکن مجرم نے اپنی صفائی میں فیکٹری سے کوئی گواہ یا سٹاف کا بندہ پیش نہیں کیا، مجرم نے فیکٹری کا کوئی دستاویزی ثبوت بھی پیش نہیں کیا،فرانزک رپورٹ کے مطابق مجرم سے برآمد ہونے والی چھری پر اہلیہ کا خون تھا، مختلف رپورٹس سے ثابت ہوتا ہے کہ مجرم جائے وقوعہ پر موجود تھا، یہ حقیقت ہے کہ میاں بیوی کا رشتہ پیار محبت سے مزید مضبوط ہوتا ہے مگر جب اس رشتے میں غلط فہمی یا بدسلوکی ہوتی ہے تو خاندان کے بڑے اس کو دور کرتے ہیں،عدالت نے مجرم کی سزا کالعدم قرار دینے کی اپیل خارج کردی۔

  • حافظ سعد رضوی کا سراغ لگا لیا گیا

    حافظ سعد رضوی کا سراغ لگا لیا گیا

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کا سراغ لگالیا ہے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ، ذرائع کے مطابق دونوں کی گرفتاری کے لیے کارروائی کسی بھی وقت عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سعد رضوی اور انس رضوی کے زخمی ہونے سے متعلق اطلاعات کی تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔ حکام نے اپیل کی ہے کہ اگر وہ زخمی ہیں تو فوری طور پر خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کریں تاکہ انہیں طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

    دوسری جانب پولیس ذرائع کے مطابق مریدکے میں ٹی ایل پی کارکنوں کے پرتشدد احتجاج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کے بعد پولیس نے انتشار پسند مظاہرین کو منتشر کر دیا ہے تاہم جھڑپوں کے دوران ایک پولیس افسر شہید جبکہ درجنوں اہلکار زخمی ہوئے۔ذرائع کے مطابق واقعہ 12 اور 13 اکتوبر کی درمیانی شب پیش آیا جب انتظامیہ نے مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش کی۔ حکام نے احتجاج کو کم متاثرہ مقام پر منتقل کرنے کی تجویز دی، مگر ٹی ایل پی قیادت نے مذاکرات کے دوران ہجوم کو مزید اکسانا شروع کر دیا۔پولیس کے مطابق مشتعل مظاہرین نے پتھراؤ، کیلوں والے ڈنڈوں اور پیٹرول بموں سے حملے کیے۔ انہوں نے پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر اسی سے فائرنگ بھی کی۔ ابتدائی فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق فائرنگ میں استعمال ہونے والی گولیاں وہی تھیں جو چھینے گئے اسلحے سے چلائی گئیں۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ہجوم نے کم از کم 40 سرکاری و نجی گاڑیاں جلا دیں جبکہ کئی دکانوں کو بھی آگ لگا دی۔ جھڑپوں کے دوران 48 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے 17 کو گولیوں کے زخم آئے۔ زخمی اہلکاروں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر کے طبی امداد دی جا رہی ہے۔ابتدائی معلومات کے مطابق تصادم میں 3 ٹی ایل پی کارکن اور ایک راہ گیر جاں بحق ہوئے جبکہ 30 کے قریب شہری زخمی ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق مشتعل مظاہرین نے یونیورسٹی کی بس سمیت متعدد گاڑیاں اغوا کرکے احتجاج میں استعمال کیں اور بعض گاڑیاں عوام کو کچلنے کے لیے بھی دوڑائی گئیں۔پولیس ذرائع کے مطابق شرپسند عناصر نے پولیس پر پتھروں، پیٹرول بموں اور کیلوں والے ڈنڈوں سے منظم حملے کیے اور مختلف مقامات سے اندھا دھند فائرنگ بھی کی۔ پولیس نے متعدد ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ مزید کارروائیاں جاری ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک منظم تشدد کی کارروائی تھی جس میں قیادت نے ہجوم کو اکسانے کا کردار ادا کیا۔ قیادت خود فرار ہو گئی اور شہریوں و ریاست کو خطرے میں ڈال دیا۔ پولیس ترجمان کے مطابق ہتھیار چھیننا، گاڑیاں جلانا اور شہریوں کو نقصان پہنچانا کسی بھی طرح پرامن احتجاج نہیں کہلاتا۔

  • بشریٰ بی بی کے خلاف 29 مقدمات کا ریکارڈ طلب

    بشریٰ بی بی کے خلاف 29 مقدمات کا ریکارڈ طلب

    انسداد دہشت گردی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 29 مقدمات کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

    اے ٹی سی راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے بشریٰ بی بی کیخلاف26 نومبر احتجاج کیسز کے حوالے سے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت وکلا مصروفیت کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہو سکے جبکہ پولیس بھی ریکارڈ نہیں لائی،عدالت نے بشریٰ بی بی کے خلاف 29 مقدمات کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے عبوری ضمانتوں میں 4 نومبر تک توسیع کر دی،دوران سماعت جج امجد علی شاہ نے حکم دیا کہ آئندہ تاریخ پر تمام 29 مقدمات کا ریکارڈ پیش کیا جائے۔ عدالت نے فریقین وکلا کو بھی آئندہ تاریخ پر حتمی دلائل پیش کرنے کی ہدایت کی، جبکہ پولیس کو جیل میں بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے تفتیش بھی مکمل کرنے کا حکم دیا۔

  • علیمہ خان کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

    علیمہ خان کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

    انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔

    تھانہ صادق آباد میں درج 26 نومبر ڈی چوک احتجاج کیس کے سلسلے میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے،تھانہ صادق آباد احتجاج کیس میں آج علیمہ خان پر فرد جرم عائد ہونا تھی، تاہم علیمہ خان عدالت میں پیش نہیں ہوئیں، جس پر عدالت نے حاضری معافی کی درخواست مسترد کردی اور وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے علیمہ خان کو گرفتار کرکے کل بدھ 15 اکتوبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

    دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ طلبی کے باوجود بار بار پیش نہ ہونا عدالتی امور میں رکاوٹ ڈالنا ہوتا ہے۔عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کے آرڈرز فوری تفتیشی آفیسر کو فراہم کرنے کا حکم دیا۔

  • سوشل میڈیا پروپیگنڈا سےنوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھائے گئے،وزیراعلیٰ بلوچستان

    سوشل میڈیا پروپیگنڈا سےنوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھائے گئے،وزیراعلیٰ بلوچستان

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات کی خرابی کے پیچھے بھارتی ایجنسی “را” کا واضح کردار ہے۔

    وہ 17 ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ دشمن پاکستان کو کیک کی طرح ٹکڑوں میں بانٹنا چاہتے ہیں۔ بلوچستان میں غیر متوازن ترقی کا غلط تاثر جان بوجھ کر پیدا کیا گیا۔ پہلا فراری کیمپ 21 جون 2002 کو قائم کیا گیا، جس سے دہشت گردی کو فروغ ملا،سوشل میڈیا کے پروپیگنڈا کے ذریعے نوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھائے گئے، تاہم حکومت نوجوانوں کے گلے شکوے سننے کے لیے جامعات اور ہر فورم پر جا رہی ہے۔ علیحدگی پسند بھارت سے خوش ہیں مگر پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، ناراض بلوچ کی اصطلاح دہشت گردی کو جواز فراہم کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی، جبکہ ملک دشمن عناصر کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا اور تقسیم کرنا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔ سیاست سے زیادہ اہم ریاست پاکستان ہے۔ بلوچستان حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی ذمے داری سمجھ کر اپنایا ہے اور اس بارے میں اس کا مؤقف دوٹوک اور واضح ہے ، بلوچ عوام کو بند گلی میں دھکیلا جا رہا ہے، جبکہ لاحاصل جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ گورننس کی بہتری اور اصلاحات کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں، اور صحت و تعلیم کے شعبوں میں نمایاں بہتری سامنے آ رہی ہے،سیکیورٹی فورسز ایسے علاقوں میں کارروائیاں کر رہی ہیں جہاں دشمن اور دوست کی پہچان مشکل ہے۔واضح دشمن کے خلاف کارروائی آسان، لیکن اندرونی صفوں میں موجود دشمن سے نمٹنا زیادہ مشکل ہے، واضح دشمن کے خلاف حالیہ کارروائی پوری قوم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔

  • حافظ سعد رضوی احتجاج کے دوران کیسے نکلے؟ ویڈیو سامنے آ گئی

    حافظ سعد رضوی احتجاج کے دوران کیسے نکلے؟ ویڈیو سامنے آ گئی

    مرید کے میں تحریک لبیک پاکستان کے مارچ پر پولیس کاروائی کے بعد تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی کہاں ہیں اس پر چہ میگوئیاں جاری تھیں کہ انہیں گرفتار کیا گیا یا وہ روپوش ہیں تا ہم اب ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں حافظ سعد رضوی کو خود جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حافظ سعد رضوی گاڑیوں کے پاس سے گزر رہے ہیں اور انہوں نے منہ لپیٹا ہوا ہے اپنا چہرہ چھپایا ہوا ہے جبکہ انکے پیچھے کارکنان کی بڑی تعداد موجود ہے


    مریدکے دھرنا منتشر کردیا گیا، پولیس نے متعدد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے،حافظ سعد رضوی اور چند دیگر رہنما موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہے،ملزمان کی تلاش کے لیے پولیس کا سرچ آپریشن جاری ہے، یہ کارروائی منظم تشدد کا حصہ تھی جس میں قیادت نے ہجوم کو اکسانے کا کردار ادا کیا اور پھر فرار ہو کر شہریوں اور ریاست کو خطرے میں ڈال دیا

    قبل ازیں مرید کے میں تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں اور کارکنان پر مقدمہ درج کرلیا گیا،پولیس کے مطابق تھانہ مرید کے سٹی میں پولیس کے سب انسپکٹر محمد افضل کی مدعیت میں ٹی ایل پی قائدین اورکارکنان پر مقدمہ درج کیا گیا ہے مقدمے میں قتل، اقدام قتل، اغوا، ڈکیتی اور کار سرکار میں مداخلت سمیت 32 دفعات شامل ہیں،مقدمے میں امیرٹی ایل پی سعدرضوی اور انس رضوی کو بھی نامزد کیا گیا ہے، مقدمے میں ٹی ایل پی کے دیگر رہنما علامہ فاروق الحسن، مولاناسجاد، مفتی وزیرعلی کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق مرید کے میں گروہ کو منتشر کرنے کی کارروائی شروع ہوئی تو مذہبی جماعت کے کارکنوں نے پتھراؤ اور پیٹرول بموں کا استعمال کیا اور اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک ایس ایچ او شہید اور 48 اہلکار زخمی ہو گئے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنے دفاع میں محدود کارروائی کرنا پڑی، مذہبی جماعت کے 3 کارکن اور ایک راہگیر جاں بحق ہوا جب کہ 8 افراد زخمی ہوگئے، ہنگامہ آرائی کے دوران 40 سرکاری اور پرائیویٹ گاڑیوں کو آگ لگائی گئی، متعدد افراد گرفتار کرلیے گئے جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

  • ریاستی دہشتگردی میں ملوث بھارت کا افغان طالبان کے ساتھ گٹھ جوڑ بے نقاب

    ریاستی دہشتگردی میں ملوث بھارت کا افغان طالبان کے ساتھ گٹھ جوڑ بے نقاب

    ریاستی دہشتگردی میں ملوث بھارت کا افغان طالبان کے ساتھ گٹھ جوڑ بے نقاب ہو گیا

    بھارت پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے منافقت کی کسی حد تک جا سکتا ہے،بھارت اقوام متحدہ میں متعدد بار افغانستان کی سرزمین کو دہشتگردی کیلئے استعمال ہونے کے الزامات عائد کرتا رہا،بھارت نے ریاستی دہشت گردی کی سرپرستی کے لیے انہی افغان طالبان حکومت سے اپنے مفادات کے لیے ہاتھ ملا لیا،افغان طالبان حکومت کے وزیر خارجہ کا دورہ بھارت اور پھر پاکستان پر حملہ اس بات کا قوی ثبوت ہے ،پاکستان متعدد بار شواہد کے ساتھ یہ بات ثابت کرچکا ہے کہ بھارت فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کا سہولت کار ہے،مفاد پرست مودی کے افغان طالبان سے ہاتھ ملانے پر پورا بھارت اور اپوزیشن جماعت اس کیخلاف سراپا احتجاج ہیں

    بھارتی اپوزیشن نے مودی کی دوغلی پالیسی اور اخلاقی پستی پر سخت سوالات اٹھا دیئے،مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس حوالے سے کہا کہ طالبان کو دہشت گرد کہنے والے آج ان سے بات چیت کر رہے ہیں،میرا سوال ہے کہ مودی اپنے ہی شہریوں کے ساتھ دشمنی کیوں کر رہے ہو؟ آپ کے لوگ کل تک داڑھی والوں کی داڑھیاں نوچتے تھے، ٹوپیاں سر سے ہٹاتے تھے،آج بڑی پگڑی والے آئے ہیں اور آپ ان کے سامنے ہاتھ جوڑ کے کھڑے ہیں،

    بھارت ایک طرف مسلمانوں پر ظلم کر رہا ہے تو دوسری طرف افغان طالبان حکومت سے مذاکرات کر رہا ہے،یہ گٹھ جوڑ مودی حکومت کی منافقانہ پالیسی کو بھی بے نقاب کرتا ہے ،افغان طالبان حکومت سے گٹھ جوڑ کے ذریعے بھارت پاکستان میں اپنی پراکسز کی سہولت کاری کرنا چاہتا ہے

  • افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف پوری قوم متحد، پاک فوج سے یکجہتی کا اظہار

    افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف پوری قوم متحد، پاک فوج سے یکجہتی کا اظہار

    افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف پوری قوم متحد، پاک فوج سے یکجہتی کا اظہارکیا ہے

    ملک بھر سے عوام نے افغان طالبان کے جارحانہ حملوں کی پُر زور مذمت کی ہے،پوری قوم نے متحد ہو کر پاک فوج کے شانہ بشانہ ملکی دفاع کے عزم کا اعادہ کیا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان شہریوں کو بھائی مانا ہے اور انہیں ایک بہتر ماحول فراہم کیا ہے، دشمن کی ایما پر افغانستان کے پاک فوج پر حملوں کی اجازت ہرگز قبول نہیں،بھارت کی عبرتناک شکست کے بعد افغانستان کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے،40 سال پناہ دینے کے باوجود اگر افغانستان نے جنگ کی تو بھارت سے بھی سخت جواب دیا جائے گا، افغانستان میں موجود دہشت گردوں کو گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کیا جائے، افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کی مخالفت کے لیے استعمال نہ ہونے دے، افغانستان میں موجود دہشت گرد پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے، ایک غیر مسلم ملک کے ساتھ مل کر اپنے ہی ہم مذہبوں کا خون بہانا افسوسناک عمل ہے،افغانستان بھارت کے اشاروں پر پاکستان پر حملے کرنا ترک کرے، اگر بھارت کی ایسی حرکتیں جاری رہیں تو پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ دشمن کا مقابلہ کرے گی،پوری قوم افغانستان کے جارحانہ حملے کی پرزور مذمت کرتی ہے، ہمارے بہادر جوانوں نے بھارت کی طرح افغانستان کی جارحیت کا بھی منہ توڑ جواب دیا،
    اگر افغانستان نے حملہ کرنے کی غلطی دوبارہ کی، تو اس سے بھی سخت جواب دیا جائے گا، شہری

    حال ہی میں پاک فوج کے مؤثر جواب کے بعد بھارت کی عالمی سطح پر رسوائی ہوئی، شہری

    ملکی سرحدوں کے دفاع کیلئے عوام پاک فوج کو بھرپور تعاون فراہم کریں گے، شہری

  • لاہور ٹیسٹ،پہلی اننگز،378 کا ہدف،جنوبی افریقہ کی ٹیم 269 پر آؤٹ

    لاہور ٹیسٹ،پہلی اننگز،378 کا ہدف،جنوبی افریقہ کی ٹیم 269 پر آؤٹ

    لاہور ٹیسٹ، جنوبی افریقی ٹیم پہلی اننگز میں 269 پر ڈھیر ہوگئی جس کے بعد پاکستان کو دوسری اننگز میں 109 رنز کی برتری حاصل ہوگئی ہے

    آج کھیل کے تیسرے دن جنوبی افریقی ٹیم پاکستان کے خلاف پہلی اننگز کے اسکور 378 رنز کو اتارنے کےلیے جب میدان میں اتری تو اس کے 6 کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے جب کہ 216 رنز بن چکے تھے،دن کا آغاز ٹونی ڈی ذورزی نے 81 اور سینورن متھوسوامی نے 6 رنز سے کیا، آج دن کا آغاز ہوتے ہی سینورن متھوسوامی 11 رنز بناکر ساجد خان کا شکار ہوئے، ان کے بعد ٹونی ڈی ذورزی 104 رنز بنا کر نعمان علی کی گیند پر اونچا شاٹ کھیلتے ہوئے شاہین آفریدی کے ہاتھوں میں کیچ تھما بیٹھے،ان کے بعد سنو ران متھو سوامی 11 رنز بنا کر ساجد خان کی گیند پر بلے کے باہری کنارے پر گیند لگنے کے سبب سلپ پر کھڑے سلمان علی آغا کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے، گیسو ربادا بغیر کوئی رن بنائے ساجد خان کا شکار ہوئے۔

    پاکستان کی جانب سے نعمان علی نے 6 وکٹیں اپنے نام کیں جب کہ ساجد خان نے3اور سلمان علی آغا نے ایک وکٹ حاصل کی۔

    یاد رہے کہ لاہور ٹیسٹ میں پاکستان کی پوری ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 378 رنز بناکر آؤٹ ہوئی جس میں امام الحق اور سلمان علی آغا نے 93، 93 رنز اسکور کیے جب کہ وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے 75 رنز اور کپتان شان مسعود نے 76 رنز کی اننگز کھیلی۔

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا انتخاب،جے یو آئی پشاور ہائیکورٹ پہنچ گئی

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا انتخاب،جے یو آئی پشاور ہائیکورٹ پہنچ گئی

    جے یو آئی کی جانب سے نو منتخب وزیر اعلیٰ کے انتخاب کا عمل پشاورہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

    درخواست جے یو آئی کے رکن خیبرپختونخوا اسمبلی لطف الرحمان کی جانب سے دائر کی گئی،درخواست میں کہا گیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کااستعفیٰ منظور نہیں ہوا ،سہیل آفریدی کاانتخابی عمل غیرآئینی ہے،عدالت سہیل آفریدی کے بطور وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے عمل کو کالعدم قرار دے،

    قبل ازیں پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لطف الرحمان نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا انتخاب غیر قانونی طور پر ہوا ہے، پچھلے وزیراعلیٰ کا استعفیٰ منظور نہیں ہوا، پتا نہیں ان کو کیوں جلدی ہے،گورنر نے علی امین گنڈاپور کو تصدیق کے لیے بلایا ہے، نئے وزیراعلیٰ کے آنے تک پرانا وزیراعلیٰ تو کام کرسکتا ہے،اسپیکر کے کہنے پر ہم نے کاغذات جمع کیے لیکن اجلاس کا بائیکاٹ کیا، گورنر کا خط جب آیا تب ہمیں معلوم ہوا کہ استعفیٰ منظور نہیں ہوا، ہم چاہتے ہیں کہ پچھلے وزیراعلیٰ کا استعفیٰ منظور ہو پھر نیا وزیراعلیٰ منتخب ہو۔