Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جوابی کاروائی،افغان طالبان کی  اشرف سر پوسٹ مکمل طور پر تباہ

    جوابی کاروائی،افغان طالبان کی اشرف سر پوسٹ مکمل طور پر تباہ

    پاک افغان بارڈر پر طالبان کی جانب سے بِلا اشتعال جارحیت پر پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا

    افغان طالبان کی جانب سے جارحیت پر پاکستانی افواج نے بھاری ہتھیاروں سے موثر اور منہ توڑ جواب دیا،پاک فوج کی جانب سے افغان اشرف سر پوسٹ پر بھاری توپ خانے کی مدد سے گولہ باری کی گئی ،گولہ باری سے افغان طالبان کی اشرف سر پوسٹ مکمل طور پر تباہ ہو گئی،افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا،پاک فوج کے جوان ملکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے مکمل چوکس اور مستعد ہیں،پاکستان کے غیور عوام اپنے فوجی جوانوں کو وطن کی حفاظت پر سلام پیش کرتے ہیں

  • پاک فوج کے 23جوان شہید،29 زخمی،200 سے زائدطالبان،دہشتگرد ہلاک

    پاک فوج کے 23جوان شہید،29 زخمی،200 سے زائدطالبان،دہشتگرد ہلاک

    ترجمان پاک فوج نے کہا ہے کہ راتِ 11/12 اکتوبر 2025 کو افغان طالبان اور بھارتی سرپرستی یافتہ فتنہِ الخوارج نے بلاِ اشتعال حملہ پاکستان پر کیا، جو کہ پاک-افغان سرحد کے طویل حصے میں ہوا۔ اس بزدلانہ کارروائی کا مقصد سرحدی علاقوں کو عدم استحکام سے دوچار کرنا اور دہشت گردی کے لیے سازگار صورتِ حال پیدا کرنا تھا، یعنی فتنہ الخوارج کے مذموم مقاصد کو آگے بڑھانا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دفاعِ خود کے حق کا استعمال کرتے ہوئے، پاکستان کی چوکس مسلح افواج نے سرحد کے طول و عرض میں اس حملے کو فیصلہ کن انداز میں پسپا کیا اور طالبان فورسز اور متعلقہ خوارج کو بھاری جانی نقصان پہنچایا۔ عین مطابق اہداف پر فائرنگ اور حملے، نیز جسمانی چھاپے طالبان کیمپوں اور چوکیوں، دہشت گردی کی تربیتی سہولیات اور افغان علاقے سے چلنے والے معاون نیٹ ورکس کے خلاف کیے گئے، جن میں فتنہِ الخوارج ، فتنہِ ہندستان اور آئی ایس کے پی / داعش سے وابستہ عناصر شامل ہیں۔ ہر ممکن احتیاط برتی گئی تاکہ سائیڈ لائن ہونے والے نقصانات سے بچا جا سکے اور شہری جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ان بلا روک ٹوک کارروائیوں کے نتیجے میں سرحد بھر میں متعدد طالبان کے ٹھکانے تباہ کیے گئے؛ افغان جانب سرحد پر اکیس (21) دشمنی سے قابض مقامات کو مختصراً قبضہ کر کے غیر فعال کیا گیا اور کئی دہشت گرد تربیتی کیمپ، جو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری کے لیے استعمال ہوتے تھے، کام سے معطل کر دیے گئے۔رات بھر کی جھڑپوں کے دوران 23 جوان شہید جبکہ 29 زخمی ہوئے، معتبر انٹیلی جنس اندازوں اور نقصان کے تخمینے کے مطابق طالبان اور منسلک دہشت گردوں کی تعداد دو سو (200) سے زائد ہے جو ہلاک ہوئے، جبکہ زخمیوں کی تعداد کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔ طالبان چوکیوں، کیمپوں، ہیڈ کوارٹرز اور دہشت گردانہ معاون نیٹ ورکس کو پہنچنے والا بنیادی اور عملیاتی نقصان سرحد کے طویل حصے تک وسیع ہے۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج اپنے عوام کی ارضی سالمیت، جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر گھڑی تیار اور مستعد ہیں۔ پاکستان کی ارضی سالمیت کے دفاع اور ان عناصر کو شکست دینے کے عزم میں کوئی لغزش نہیں آئے گی جو ہماری سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔اگرچہ پاکستانی عوام تشدد اور جارحیت کے بجائے تعمیری سفارتکاری اور مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں، ہم افغان زمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال برداشت نہیں کریں گے۔ یہ سنگین اشتعال انگیزی طالبان کے وزیرِ خارجہ کے بھارت کے دورے کے دوران وقوع پذیر ہوئی جو خطے میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست سمجھا جاتا ہے۔ علاقائی امن و سلامتی کے مفاد میں ہم طالبان حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ فوری اور قابلِ تصدیق اقدامات اٹھائے تاکہ اپنی سرزمین سے چلنے والی فتنہ الخوارج، فتنہ ہندستان اور آئی ایس کے پی/داعش سمیت دہشت گرد تنظیموں کو غیر فعال کیا جائے۔ بصورتِ دیگر، پاکستان اپنے عوام کے دفاع کے حق کا استعمال جاری رکھے گا اور دہشت گرد اہداف کے مسلسل بے اثر کرنے کا عمل جاری رکھیگا۔ طالبان حکومت کو چاہیۓ کہ وہ کسی بھی بحران انگیز خیالات سے باز آئے اور افغان عوام کی فلاح، امن، امنگ اور ترقی کو ذمّہ داری کے ساتھ مقدم رکھے۔

    گزشتہ شب کا واقعہ پاکستان کے طویل عرصے سے قائم مؤقف کی تصدیق کرتا ہے کہ طالبان حکومت فعال طور پر دہشت گردوں کی معاونت کر رہی ہے۔ اگر طالبان حکومت، بھارت کے ساتھی بن کر، خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے قلیل المدتی مقاصد کے حصول کے لیے دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی جاری رکھتی ہے تو پاکستان کے عوام اور ریاست اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک افغانستان سے اٹھنے والے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ یقینی نہ بنایا گیا.

  • پاکستان کی سرحد پر اشتعال انگیزی کے بعد افغانستان کے لیے واضح ترین پیغام

    پاکستان کی سرحد پر اشتعال انگیزی کے بعد افغانستان کے لیے واضح ترین پیغام

    افغانستان کی جانب سے پاکستان کی سرحد پر اشتعال انگیزی کے بعد افغانستان کے لیے واضح ترین پیغام دیا گیا ہے

    پاکستان کی مسلح افواج نے افغانستان کو منہ توڑجواب دیا جس کے بعد پیغام میں کہا گیا ہےکہ آپ چاہے بیرونی دنیا کو اپنی نام نہاد بہادریاں دکھا کر متاثر کر لیں، مگر ہم آپ کی حقیقت اندر سے باہر تک جانتے ہیں۔ اگر امریکہ کا ساتھ نہ ہوتا تو تم سوویت یونین کو ہرگز شکست نہ دے پاتے۔ کیا تم نے تورا بورا کو بھُلّا دیا جہاں سے تم دم دبا کر بھاگے تھے؟ہم تمام افغان مہاجرین کو نکال باہر کریں گے اور افغان حکومت انہیں بے شک اب بھارت بھیج سکتی ہے (جس کے ساتھ طالبان کے بظاہر شاندار تعلقات ہیں)خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں طالبان کی طرف سے کسی بھی جگہ کسی بھی دہشت گردانہ حملے کی صورت میں، ہم افغانستان میں موجود ان طالبان پوسٹوں ، اڈوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے جو خوارج پراکسی کی مدد کرتی ہیں

  • افغان طالبان کا عصمت اللہ کرار کیمپ دوسری اسٹرائیک میں مکمل  طور پر تباہ

    افغان طالبان کا عصمت اللہ کرار کیمپ دوسری اسٹرائیک میں مکمل طور پر تباہ

    پاکستان فوج کی طرف سے طالبان فورسز کے خلاف منہ توڑ جواب بھرپور طریقے سے جاری ہے
    پاک فوج کی ایک اور بڑی اور اہم کامیابی،پاکستان فوج کی جوابی کاروائی میں سپین بولدک سیکٹر ، افغانستان میں واقع افغان طالبان کے عصمت اللہ کرار کیمپ کو دوسری اسٹرائیک میں مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، سیکورٹی ذرائع کے مطابق یہ کیمپ افغان طالبان کے سب سے بڑے کیمپس میں سے ایک تھا جہاں سے پاکستان مخالف کارروائیاں عمل میں لائی جاتی تھی،ویڈیو میں افغان طالبان کے عصمت اللہ کرار کیمپ کی دوسری انگیجمنٹ اور اسٹرائیک کے بعد مکمل تباہی دیکھی جا سکتی ہے، افغان طالبان کے عصمت اللہ کرار کیمپ میں تباہی سے افغان طالبان اور کیمپ میں چھپے خارجیوں کے بھاری نقصانات کی اطلاعات ہیں.

  • افغان فوجیوں اور بھارتی پالتو کتوں کا غرور خاک میں ملا دیا ،پاکستانی فوجی جوان کا پیٍغام

    افغان فوجیوں اور بھارتی پالتو کتوں کا غرور خاک میں ملا دیا ،پاکستانی فوجی جوان کا پیٍغام

    پاک افغان بارڈر پر طالبان کی جانب سے بِلا اشتعال جارحیت پر پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا

    افغان جارحیت کو ناکام بنانے کے بعد پاک فوج کے جوان کا لہو گرما دینے والا پیغام سامنے آ گیا، فوجی جوان کا کہناتھا کہ الحمد للہ ہم نے افغان فوجیوں اور بھارتی پالتو کتوں کا غرور خاک میں ملا دیا ہے، ہم نے قبضہ کی گئی چوکیوں پر پاکستانی پرچم لہرا دیئے ہیں،وطن کی مٹی کی حفاظت کیلئے پاک فوج کے جوان مستعد اور چوکس ہیں

    پاک فوج کے جوانوں نے ثابت کیا ہے کہ ہم جاگ رہے ہیں اور ملک کی حفاظت کر رہے ہیں،پاک فوج کے جوانوں کو پاکستان کی غیور عوام کا سلام،

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز کی جانب سے افغانستان کی بلا اشتعال فائرنگ پر رات گئے سے بھرپور اور مؤثر جوابی حملہ جاری ہے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغان بارڈر پر 19 پوسٹوں پر قبضہ کر لیا ہے ۔ ان پوسٹوں سے پاکستان پر حملے کیے جا رہے تھے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ قبضہ شدہ افغان پوسٹوں پر آگ اور تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔بیشترافغان طالبان پوسٹیں خالی چھوڑ کربھاگ چکےہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان فورسز کے خلاف پاک فوج کی یہ بڑی اور اہم کامیابی ہے۔

    افغانستان کی جانب سے جارحیت کے دوران پاک فوج کے جوانوں نےانتہائی بہادری کا مظاہرہ کیا،افغانستان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے بعد پاک فوج کے جوانوں نے منہ توڑ جواب دیاشدید فائرنگ کے بعد افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشتگرد لاشیں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبورہو گئے،افغان جارحیت کی جوابی کارروائی کے دوران پاک فوج کے جوان اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے رہے،پاک فوج کے جوان ایک دوسرے کا حوصلہ بھی بڑھاتے ہوئے نظر آئے

  • وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات،افغانستان کو بھر پوجواب دینے پر افواج کو خراج تحسین

    وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات،افغانستان کو بھر پوجواب دینے پر افواج کو خراج تحسین

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جاتی عمرہ میں سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف سے ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی موجود تھیں،وزیراعظم نے نواز شریف کو اپنے دورہء ملائیشیاء کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا ،وزیراعظم نے نواز شریف کو ملائیشیاء کے وزیر اعظم انور ابراہیم کا نیک خواہشات کا پیغام دیا ،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ملائیشیاء کے درمیان دو طرفہ تعلقات خصوصاً اقتصادی تعاون نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں

    وزیر اعظم نے اپنے آنے والے دورہء مصر کے حوالے سے بریفنگ دی،ملاقات میں افغانستان کی جانب سے اشتعال انگیزی پر بھی بات چیت کی گئی،افغانستان کے اشتعال کے جواب میں پاکستان افواج کی جانب سے مؤثر اور بھرپور پر پاکستان کی افواج کو خراج تحسین پیش کیا گیا، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک کے دفاع کے لئے پوری قوم پاک افواج کے ساتھ کھڑی ہے

  • بلوچستان کے غیور قبائل  کی پاک فوج سے اظہار یکجہتی

    بلوچستان کے غیور قبائل کی پاک فوج سے اظہار یکجہتی

    افغانستان کی جانب سے پاکستانی سرحدوں پر جارحیت پر خیبرپختونخوا کے بعد بلوچستان کے غیور قبائل نے بھی پاک فوج سے اظہار یکجہتی کیا ہے

    برابچہ اور دلبندین کے غیور قبائل نے بارڈر پر جانے کیلئے اصرار کیا، غیور قبائل بلوچ کا کہنا تھا کہ ہم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا اور اظہار یکجہتی کرنا چاہتے ہیں،افغانستان نے اگر دوبارہ جارحیت کی تو صرف پاک فوج ہی نہیں بلوچ عوام سیسہ پلائی دیوار بن جائے گی، ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان کے لئے جان قربان کرنا باعث سعادت سمجھتے ہیں، افغانوں کو ہم نے بطور مہاجر مہمان نواز بنا کر رکھا، آج اگر افغانستان ہی ہم پر حملہ آور ہے تو ہمیں جواب دینا آتا ہے،مسلح افواج کے شانہ بشانہ رہ کر منہ توڑ جواب دیں گے،.

  • جس مؤثر انداز سے جواب دیا گیا یہی جواب بنتا تھا،رانا ثناء اللہ

    جس مؤثر انداز سے جواب دیا گیا یہی جواب بنتا تھا،رانا ثناء اللہ

    وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں بہادر مسلح افواج نے افغانستان میں دشمن کو عبرتناک سبق سکھایا ہے۔

    فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ جارحیت کا آغاز دشمن کی جانب سے ہوا، چھپے ہوئے دشمن کو آج ہم نے منہ توڑ جواب دیا ہے اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں بہادر مسلح افواج نے دشمن کو عبرتناک سبق سکھایا ہے.پاک فوج نے دشمن کی متعدد چیک پوسٹوں کو نیست و نابود کر دیا، دنیا ہماری عسکری اور سفارتی قوت کو تسلیم کرتی ہے، جس مؤثر انداز سے جواب دیا گیا یہی جواب بنتا تھا، جس طرح روز ہمارے جوانوں کے جنازے اٹھائے جا رہے تھے تو جوابی کارروائی کے حوالے سے سوال اٹھ رہے تھے اس لیے کل کی کارروائی وقت کی ضرورت تھی۔

    رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کو ایک بار پھر دعوت دیتے ہیں کہ استحکام پاکستان کے لیے ہمارے ساتھ بیٹھیں، بالخصوص پی ٹی آئی سے گزارش ہے کہ ہمیں بے شک گالیاں دیتی رہے لیکن پاکستان کے استحکام کے لیے ساتھ بیٹھے، آئیں آپ بھی اس کامیابی کا حصہ بنیں، مذہبی جماعت کے احتجاج پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کیا، مذہبی جماعت کے قائدین سے پاکستان اور مسلح افواج کا ساتھ دینے اور مارچ ختم کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔

  • گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا  میں دہشت گردی کے واقعات

    گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات

    گلگت بلتستان کے علاقے شٹیال میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس وین پر فائرنگ کی۔ خوش قسمتی سے گاڑی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور تمام اہلکار محفوظ رہے۔ چند روز قبل اسی خطے میں دہشت گردوں نے گلگت اسکاؤٹس پر حملہ کیا تھا، جس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی تھی۔ سیکیورٹی فورسز نے دونوں واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے میں گشت بڑھا دیا گیا ہے۔

    افغانستان کے صوبہ خوست میں فائرنگ کے ایک واقعے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا کمانڈر حسین اللہ عرف سیف اللہ مارا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گرد تنظیم کے سوشل میڈیا پروپیگنڈا وِنگ کا سرگرم رکن تھا۔ یہ واقعہ افغانستان میں موجود شدت پسند گروپوں کے اندر بڑھتی ہوئی داخلی کشیدگی اور باہمی ٹارگٹ کلنگ کی عکاسی کرتا ہے۔

    خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے مختلف علاقوں سے پانچ افراد کو اغوا کر لیا جن میں تین ایف سی اہلکار بھی شامل ہیں۔ ٹانک کے علاقے کوٹ اعظم کے قریب تین ایف سی اہلکاروں کو اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ چھٹی پر اپنے گھروں جا رہے تھے۔ بنوں کے کینٹ تھانے کی حدود میں دہشت گردوں نے ٹرکوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک ڈرائیور زخمی جبکہ دو دیگر افراد کو اغوا کر لیا گیا۔ مغویوں کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ بنوں کے علاقے آزاد منڈی میں دہشت گردوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور مزید نفری کو طلب کر لیا گیا ہے۔ دونوں جانب سے فائرنگ کے باعث حالات کشیدہ ہیں۔

    انڈس ہائی وے پر ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں نے کسٹمز کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں دو افسر موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ پولیس کے مطابق شہداء میں محمد نظر اور مقدر علی شامل ہیں۔ بیلی ٹنگ تھانے کی پولیس نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے کاظم گروپ کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کامیاب کارروائی کی۔ آپریشن کے دوران چار اہم دہشت گرد مارے گئے جن میں ابو دردہ، قاری صدیق اور عبیدہ عرف باز نظیر شامل ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی علاقے میں موجود ٹی ٹی پی نیٹ ورک کے خاتمے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے رٹہ کلاچی میں پولیس ٹریننگ اسکول پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری کے حوالے سے ابہام پایا جا رہا ہے۔ ابتدائی طور پر ٹی ٹی پی نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، تاہم بعد میں تنظیم نے تردید کر دی۔ اب ایک نیا نام، "تحریک اسلامی فورس ” سامنے آیا ہے، جس نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے "ریاستی اداروں کے خلاف بدلہ” قرار دیا۔ حملے میں تین پولیس اہلکار شہید ہوئے۔آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید کے مطابق بروقت پولیس کارروائی نے بڑے سانحے کو ٹال دیا۔ حکام نے جنوبی اضلاع میں سیکیورٹی سخت کر دی ہے اور حملے کے سہولت کاروں اور مالی معاونین کی تلاش جاری ہے۔

    ٹانک کے علاقے بٹیاری کے قریب دہشت گردوں نے تین ایف سی اہلکاروں کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ ذرائع کے مطابق مغوی اہلکار چھٹی پر اپنے گھروں جا رہے تھے جب دہشت گردوں نے انہیں نشانہ بنایا۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    گزشتہ چند دنوں کے دوران گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور سرحدی علاقوں میں دہشت گردی اور مسلح حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے کارروائیاں تیز کر دی ہیں جبکہ حکومت نے متعلقہ اضلاع میں ہائی الرٹ نافذ کر رکھا ہے۔

  • ہر اشتعال انگیزی کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا ،وزیراعظم

    ہر اشتعال انگیزی کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا ،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نےافغانستان کی جانب سے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں اشتعال انگیزی کی شدید مذمت کی ہے

    وزیراعظم نےافغانستان کی اشتعال انگیزی کے جواب میں پاکستان کی جانب سے بھرپور اور مؤثر کاروائی پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا ہے، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاک افواج کی پیشہ ورانہ مہارت پر فخر ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بے باک قیادت میں پاک فوج نے افغانستان کی اشتعال انگیزی کا نہ صرف بھرپور جواب دیا بلکہ ان کی متعدد پوسٹس کو تباہ کر کے، ان کو پسپائی پر مجبور کیا،پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا اور ہر اشتعال انگیزی کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا ،ہمارا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور ہم ملک کے چپے چپے کا دفاع کرنا خوب جانتے ہیں،پاک فوج نے ہمیشہ ہر قسم کی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے ،پوری قوم پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستان نے کئی دفعہ افغانستان کو وہاں موجود فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان جیسے دہشت گرد عناصر کے بارے میں معلومات دی ہیں، جو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں ،دہشت گرد تنظیموں کو افغانستان میں موجود عناصر کی حمایت حاصل ہے ،پاکستان توقع رکھتا ہے کہ افغان نگران حکومت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد عناصر کے استعمال میں نہ آئے .