Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستان کی مؤثر جوابی کاروائی، افغان پوسٹیں خارجیوں کو کور فائر دینے میں ناکام

    پاکستان کی مؤثر جوابی کاروائی، افغان پوسٹیں خارجیوں کو کور فائر دینے میں ناکام

    پاکستانی فورسز کی جانب سے مؤثر اور شدید جوابی کاروائی سے متعدد افغان فوجی ہلاک اور خارجی تشکیلیں تتر بتر ہو گئی ہیں
    سیکورٹی ذرائع کے مطابق افغان پوسٹیں خارجیوں کو کور فائر دینے میں ناکام ہو گئی ہیں، متعدد افغان پوسٹوں اور خارجیوں کی تشکیلوں کو بھی بھاری نقصانات کی اطلاعات ہیں، انٹرم افغان حکومت کی سر پرستی میں چلنے والے افغانستان کے اندر خوارج اور داعش کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے،پاکستان کی جانب سے آرٹلری، ٹینکوں، ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے،اسکے علاوہ داعش اور خارجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لئے فضائی وسائل اور ڈرونز کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے، افغان فورسز کے اُن ہیڈ کوارٹر کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جو داعش اور فتنہ الخوارج کو پنا دیتے رہے ہیں ،

  • پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی، افغان حدود میں کیمپ تباہ

    پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی، افغان حدود میں کیمپ تباہ

    پاک فوج نے افغانستان کی سرحدی حدود میں واقع دران میلہ اور ترکمن زئی کیمپوں پر مؤثر اور بھرپور آرٹلری کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر دیے ہیں۔ یہ کارروائی ان حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئی جن میں افغان جانب سے پاکستانی چیک پوسٹوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی تھی۔

    https://x.com/zarrar_11PK/status/1977093506754867357

    ان دونوں کیمپوں میں افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے والے ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) کے دہشت گرد سرگرم تھے۔ ان کیمپوں سے نہ صرف پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملے کیے جا رہے تھے بلکہ قبائلی علاقوں میں تخریب کاری کی منصوبہ بندی بھی جاری تھی۔ذرائع کے مطابق، پاکستانی فوج کی درست نشانے پر کی گئی گولہ باری سے دہشت گردوں کے کئی ٹھکانے مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ متعدد شدت پسندوں کے مارے جانے یا زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ افغان حکام کی جانب سے اگرچہ تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا،

    پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔
    اگر افغان حکام نے دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کیے تو مزید سخت جوابی کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

    سرحدی علاقوں کے قبائلی رہنماؤں نے پاک فوج کی کارروائی کو قومی خودمختاری کے دفاع کا عملی مظاہرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی عوام اور قبائل اپنے اداروں اور مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

  • وطن کے دفاع کے لیے اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے  ہیں،سرحدی قبائل

    وطن کے دفاع کے لیے اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں،سرحدی قبائل

    سرحدی قبائل نے پ افغانستان کی طرف سے مبینہ طور پر کی جانے والی بلااشتعال فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور پاکستانی مسلح افواج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا۔سرحدی علاقوں میں چھ مختلف فوجی پوسٹوں پر افغان فوجیوں نے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی مدد سے بلا اشتعال فائرنگ کی،افغان عبوری حکومت کا رویہ باور کرتا ہے وہ بھارت اور فتنہ الخوارج کی سہولت کار بن چکی ہے

    قبائلی رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ اپنے علاقے اور سرزمین کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں اور املاک قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ قبائل نے افغانستان کی سرحدی پوزیشن سے ہونے والی بلاجواز فائرنگ کو "قابلِ مذمت” قرار دیا اور اس کے خلاف سخت ردِعمل کا عندیہ دیا۔انہوں نے واضح کیا کہ وہ پاکستانی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور جب ضرورت ہوئی تو "اپنی جان و مال” سے وطن کا دفاع کریں گے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ "ہم مل کر افغانوں کو سبق سکھائیں گے؛ یہ وطن ہمارا ہے اور اس کا دفاع ہمارا فرض ہے” جسے قبائلی رہنماؤں نے عوامی عزم کے طور پر دہرایا۔

    بارڈر پر موجود غیور قبائل نے افغانیوں کو دو ٹوک پیغام میں کہا کہ ہم افغانستان کی طرف سے بارڈر پر بلا اشتعال فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں،ہم اپنی افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور انشاللہ اپنی افواج کے ساتھ مل کر اپنے وطن کا دفاع کریں گے، پاکستان نے ایک طویل عرصے تک افغان مہاجرین کی میزبان کی کیا اس کا آج یہ صلہ دیا جا رہا ہے، ہم مل کر افغانیوں کو سبق سکھائیں گے یہ وطن ہمارا ہے اور اس کا دفاع ہمارا فرض ہے، پاکستان کی افواج ہمارے ماتھے کا جھومر اور اس کے شہداء ہمارا فخر ہیں،افغان مہمان بن کر آئینگے تو سر پر بٹھائیں گے، دشمن اور حملہ آور بن کر آئیں گے تو جواب گولی سے دیا جائیگا،

    واضح رہے کہ پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے،دونوں جانب سے سکیورٹی واقعات اور فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں،سرحدی قبائل کا یہ اعلان ایک واضح سیاسی و سماجی پیغام ہے وہ پاکستانی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور ضرورت پڑنے پر بہادری سے وطن کا دفاع کرنے کا عہد کررہے ہیں

    واضح رہے کہ پاکستان اس وقت افغانستان میں پاک افغان بارڈر کے قریب، موجود خوارج اور داعش کے دہشت گرد کیمپوں اور ہائیڈ اوٹس کو بھی انتہائی مہارت سے نشانہ بنا رہا ہے،افغان فورسز کئی علاقوں سے پسپائی اختیار کر چکی ہیں،پاکستان کی طرف سے مؤثر اور شدید جوابی کارروائی جاری ہے

  • گوگی بٹ کی پرانی رہائشگاہ کے قریب فائرنگ

    گوگی بٹ کی پرانی رہائشگاہ کے قریب فائرنگ

    لاہور کے علاقے گوالمنڈی میں گوگی بٹ کی پرانی رہائشگاہ کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ فائرنگ سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔فائرنگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ملزمان فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے

    دوسری جانب لاہور پولیس نے آج ہی گوگی بٹ کے گھر پر چھاپہ مارا تھا۔ سی سی ڈی پولیس نے کارروائی کے دوران گوگی بٹ کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ اپنے ساتھیوں سمیت پہلے ہی فرار ہو چکا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ گوگی بٹ گزشتہ چند دنوں سے انڈر گراؤنڈ تھا اور پولیس کی گرفت سے بچنے کے لیے مختلف مقامات پر روپوشی اختیار کیے ہوئے ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گوگی بٹ کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا، جبکہ اسے طیفی بٹ کے پولیس مقابلے کے واقعے میں بھی نامزد کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ امیر بالاج قتل کیس کا مرکزی ملزم طیفی بٹ پولیس حراست میں اس وقت ہلاک ہوا تھا جب اس کے ساتھیوں نے اسے چھڑانے کے لیے پولیس پر فائرنگ کی۔ پولیس حکام کے مطابق طیفی بٹ کو گوگی بٹ اور اس کے ساتھیوں نے چھڑانے کی کوشش کی، جس دوران فائرنگ کے تبادلے میں طیفی بٹ ہلاک ہو گیا۔

  • مغربی بنگال، ایم بی بی ایس طالبہ سے اجتماعی زیادتی

    مغربی بنگال، ایم بی بی ایس طالبہ سے اجتماعی زیادتی

    بھارت میں مغربی بنگال کے شہر درگاپور میں جمعہ کی شب ایک نجی میڈیکل کالج کے قریب اوڈیشہ سے تعلق رکھنے والی دوسری سال کی ایم بی بی ایس طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا لرزہ خیز واقعہ پیش آیاہے۔

    پولیس کے مطابق 23 سالہ متاثرہ طالبہ آئی کیو سٹی میڈیکل کالج، شیوپور، درگاپور میں زیرِ تعلیم تھی۔ جمعہ کی رات تقریباً ساڑھے آٹھ بجے وہ اپنے ایک مرد دوست کے ہمراہ کالج کے گیٹ کے قریب گئی تھی جہاں چند افراد نے انہیں روکا، لڑکی کو جنگل نما علاقے میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا اور موقع سے فرار ہو گئے۔حکام کے مطابق متاثرہ طالبہ اوڈیشہ کے علاقے جالیشور سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے والد نے پولیس کو دی گئی شکایت میں الزام عائد کیا کہ ان کی بیٹی کا دوست نہ صرف موقع سے فرار ہوا بلکہ ممکنہ طور پر اس واردات میں ملوث بھی ہو سکتا ہے۔والد کے بیان کے مطابق، “اس نے (دوست نے) میری بیٹی کو جھوٹے بہانوں سے ایک سنسان جگہ پر لے گیا جہاں کچھ افراد نے اس پر حملہ کر دیا۔ حملہ آوروں نے میری بیٹی کا موبائل فون اور پانچ ہزار روپے بھی چھین لیے۔”

    طالبہ کو فوری طور پر درگاپور کے ایک اسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت تشویشناک ہے۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور متاثرہ کے دوست سمیت متعدد افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ متاثرہ طالبہ کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا گیا ہے۔

    مغربی بنگال کی وزیر برائے خواتین و اطفال کی ترقی ڈاکٹر ششی پانجا نے کہا کہ طالبہ کا علاج جاری ہے اور اسے نفسیاتی مشاورت بھی فراہم کی جائے گی۔دوسری جانب ریاستی محکمۂ صحت نے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ نیشنل کمیشن فار ویمن کی ٹیم بھی درگاپور روانہ ہو چکی ہے تاکہ متاثرہ اور اس کے والدین سے ملاقات کر سکے۔این سی ڈبلیو کی رکن ارچنا نے کہا، ریاست میں خواتین کے خلاف جرائم بڑھ رہے ہیں۔ پولیس ایسے واقعات پر بروقت اقدامات نہیں کرتی، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ میں وزیرِ اعلیٰ سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ ذاتی طور پر مداخلت کریں اور خواتین کے تحفظ کے لیے جامع اقدامات کریں،

    گزشتہ ایک سال میں مغربی بنگال میں خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔جولائی میں کولکتہ کے ساوتھ کلکتہ لا کالج کی حدود میں ایک قانون کی طالبہ سے اجتماعی زیادتی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں ایک سابق طالب علم، دو طلبہ اور ایک سیکیورٹی گارڈ کو گرفتار کیا گیا تھا۔اگست 2024 میں کولکتہ کے آر جی کر میڈیکل کالج میں 31 سالہ پوسٹ گریجویٹ خاتون ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعے نے ریاست بھر میں احتجاج کی لہر دوڑا دی تھی۔ ملزم پولیس رضا کار سنجے رائے کو بعد ازاں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔تازہ ترین واقعہ ایک بار پھر مغربی بنگال حکومت، خصوصاً وزیرِ اعلیٰ ممتا بینرجی کی انتظامیہ کے لیے خواتین کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔

  • علی امین گنڈا پور کا ہاتھ سے لکھا استعفیٰ گورنر ہاؤس موصول،گورنر کی بھی تصدیق

    علی امین گنڈا پور کا ہاتھ سے لکھا استعفیٰ گورنر ہاؤس موصول،گورنر کی بھی تصدیق

    گورنر ہاؤس خیبر پختونخوا کے ترجمان کے مطابق آج دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا اپنے عہدے سے دست‌نویس استعفیٰ باقاعدہ طور پر گورنر ہاؤس کو موصول ہوا اور اس کی وصولی کی تصدیق بھی کر دی گئی ہے۔

    گورنر خیبر پختون خواہ نے کہا کہ آئینِ پاکستان اور متعلقہ قوانین کے مطابق استعفے کی جانچ پڑتال اور قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد، وزیراعلیٰ کا استعفیٰ آئینی طریقہ کار کے تحت عمل میں لایا جائے گا۔گورنر کے پی نے مزید کہا کہ گورنر ہاؤس تمام آئینی و قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملے کو شفاف اور منظم انداز میں آگے بڑھائے گا۔فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ پر 11 اکتوبر کی تاریخ درج ہے۔

  • جدہ کو بھی اتنا ہی جانتی ہوں جتنا لاہور کو جانتی ہوں،مریم نواز

    جدہ کو بھی اتنا ہی جانتی ہوں جتنا لاہور کو جانتی ہوں،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے مکہ اور مدینہ ہمیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں، مقدس مقامات کی پاسپانی کی میزبانی پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔

    پاک سعودی جوائنٹ بزنس کونسل کے وفد کے اعزاز میں تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا میں نے اپنی جلاوطنی کے دنوں میں جدہ میں کئی سال گزارے، میں کہہ سکتی ہوں کہ جدہ کو بھی اتنا ہی جانتی ہوں جتنا لاہور کو جانتی ہوں،پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات پوری مسلم دنیا کیلئے مثالی ہیں، سعودی عرب پوری مسلم امہ کیلئے ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو عوام نے بے پناہ سراہا،پنجاب حکومت جدید خطوط پر کام کررہی ہے، خادم الحرمین شریفین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو نئی جہت لے جائیں گے، سرمایہ کاروں کو بہترین سہولتیں فراہم کر رہے ہیں، پاکستان پر اعتماد کرنے پر سعودی قیادت کی شکر گزار ہوں،مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ہمیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی پاسبانی کی ذمےداری پاکستان کیلیے اعزاز ہے، پاکستان ہر وقت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ پنجاب پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، پنجاب کی ترقی اور خوشحالی میں سعودی سرمایہ کاروں کا اہم کردار ہوگا، سعودی سرمایہ کاروں کو ون ونڈو کے تحت سہولیات فراہم کریں گے، پنجاب میں زراعت، لائیو اسٹاک، صنعت کاری اور انفرا اسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔

    سعودی شہزادہ منصور بن محمد کا اس موقع پر کہنا تھا پنجاب میں سرمایہ کاری کیلئے پُرعزم ہیں، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے، سعودی سرمایہ کاروں کو بہت پہلے پاکستان آنا چاہیے تھا،پنجاب کی زمینیں زرخیز ہیں، پنجاب کے ساتھ شراکت داری بہت اہمیت کی حامل ہے، پنجاب ہماری سرمایہ کاری کیلیے بہت اہم ہے، پنجاب میں موجود سرمایہ کاری کے مواقعوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔،آئی ٹی، صحت، ہاؤسنگ کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ شراکت داری کے خواہش مند ہیں، پنجاب میں 10 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ زیر غور ہے، پاکستان کے ساتھ ٹورازم کے شعبے میں بھی تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔

  • مصنوعی ذہانت  کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنایا جائے  ،وزیراعظم

    مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنایا جائے ،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت مصنوعی ذہانت کے فروغ کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کو فروغ دینے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے ،مصنوعی ذہانت کو ملکی معیشت کی ترقی کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں ،ڈیجیٹل معیشت کے نفاذ کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے مزید مؤثر بنایا جائے گا ،مصنوعی ذہانت کے حوالے سے قومی پالیسی کا نفاذ مؤثر طور پر کیا جائے گا،مصنوعی کے ذہانت کے استعمال کے حوالے سے ڈیٹا پروٹیکشن اور ڈیٹا سورینیٹی اور مصنوعی ذہانت کو مد نظر رکھا جائے ،مصنوعی ذہانت کا ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنایا جائے

    وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت کے فروغ اور نفاذ کے حوالے سے اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی،اجلاس کو مصنوعی ذہانت کے حوالے سے حکومتی سطح پر اقدامات سے آگاہ کیا گیا ،بریفنگ میں بتایا گیا کہ اے آئی کے نفاذ کے حوالے سے ماہرین پر مبنی اے آئی ایڈوائزری پینل تشکیل دیا جا رہا ہے،اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ،وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی ، وزیراعظم کے معاون خصوصی بلال بن ثاقب متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران اور ماہرین نے شرکت کی۔

  • جے شنکر کی امریکی سفیرسے ملاقات ، چہرے کے تاثرات میں ناخوشگواری کا عندیہ

    جے شنکر کی امریکی سفیرسے ملاقات ، چہرے کے تاثرات میں ناخوشگواری کا عندیہ

    بھارت کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اور امریکہ کے نامزد سفیر سرجیو گور کے درمیان ہفتے کے روز نئی دہلی میں ہونے والی ملاقات ایک بظاہر رسمی کارروائی ضرور تھی، مگر تصویری شواہد اور باخبر ذرائع کے مطابق جے شنکر کے چہرے کے تاثرات نے بات چیت کے دوران ناخوشگواری اور سرد مہری کا عندیہ دیا۔

    یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب دونوں ممالک کے تعلقات میں تجارتی محاذ پر خاصی کشیدگی پائی جا رہی ہے، خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد۔حکومتی سطح پر جاری کردہ بیانات میں ملاقات کو مثبت اور تعمیری قرار دیا گیا، تاہم سوشل میڈیا پر جاری کی گئی تصاویر میں ڈاکٹر جے شنکر کے تاثرات خاصے سنجیدہ، سخت اور غیر جذباتی دکھائی دیے۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ کی عدم موجودگی اور آنکھوں میں جھلکتی سنجیدگی نے ماہرین کو اس بات پر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا یہ ملاقات واقعی خوشگوار ماحول میں ہوئی؟

    امریکہ نے بھارت پر 50 فیصد تک کے بھاری ٹیرف عائد کیے ہیں، جس میں 25 فیصد اضافی محصول بھارت کی روس سے تیل کی خریداری کے ردعمل میں لگایا گیا ہے۔ بھارت کی وزارت خارجہ نے اس اقدام کو غیر ضروری، سیاسی محرک پر مبنی، اور عالمی تجارتی اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔

    ڈاکٹر ایس جے شنکر نے ملاقات کے بعد اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہاآج نئی دہلی میں امریکہ کے نامزد سفیر سرجیو گور سے ملاقات ہوئی۔ بھارت،امریکہ تعلقات اور ان کی عالمی اہمیت پر بات چیت کی۔ ان کے لیے نیک خواہشات۔تاہم، ان کے بیان میں کسی مثبت پیشرفت یا ٹھوس نتیجے کا ذکر نہیں کیا گیا، جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بات چیت زیادہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی۔

  • ڈی آئی خان،فتنہ الخوارج کے حملے میں 6 پولیس اہلکار اور  امام مسجد شہید ،نماز جنازہ ادا

    ڈی آئی خان،فتنہ الخوارج کے حملے میں 6 پولیس اہلکار اور امام مسجد شہید ،نماز جنازہ ادا

    ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس ٹریننگ اسکول پر بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے حملے میں 6 پولیس اہلکار اور امام مسجد شہید ہو گیا جبکہ آپریشن کے دوران 5 دہشتگردوں کو بھی جہنم واصل کیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان پولیس ٹریننگ اسکول میں 10 اور 11 اکتوبر کی درمیانی شب حملہ کیا گیا، دہشتگردوں نے اسکول کی بیرونی سکیورٹی کو توڑنے کی کوشش کی،ڈیوٹی پر مامور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے بروقت کارروائی سے دہشتگردوں کے ناپاک عزائم ناکام بنا دیے، دہشتگردوں نے بارود سے بھری گاڑی اسکول کے مرکزی دروازے سے ٹکرائی۔پولیس اہلکاروں نے تین بھارتی حمایت یافتہ خوارج کو ہلاک کر دیا، دو دیگر دہشتگردوں کو عمارت میں گھیر کر سکیورٹی فورسز نے ٹارگیٹڈ کارروائی کے دوران انجام تک پہنچایا، شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران 6 بہادر پولیس اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا، شہید پولیس اہلکاروں میں تربیت پانے والے جوان بھی شامل تھے، دہشتگردوں کے حملے میں 12 پولیس اہلکار اور ایک بے گناہ شہری زخمی بھی ہوا،حملے کے دوران دہشتگردوں نے اسکول کمپلیکس کی مسجد پر بھی حملہ کیا، دہشت گردوں نے عبادت گاہ کی بے حرمتی کی اور امام مسجد کو شہید کر دیا علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے، بزدلانہ اور سفاکانہ کارروائی میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کے تربیتی مرکز پر فتنتہ الخوارج کے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے،وزیراعظم نےخوارجی دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہونے والے سات پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے،وزیراعظم نے شہداء کی بلندیء درجات کی دعاء اور ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا ہے،وزیراعظم نے حملے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعاء اور انہیں ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی

    وزیراعظم شہباز شریف کاکہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی پولیس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیشہ فرنٹ لائین پر رہی ہے ،پوری قوم شہداء کو سلام پیش کرتی ہے،دہشت گردوں کی ایسی بزدلانہ کاروائیاں دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں،ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں

    دوسری جانب پولیس ٹریننگ اسکول پر حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی نمازِ جنازہ پولیس لائنز ڈی آئی خان میں ادا کی گئی، جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، جی او سی، کمشنر، ڈی آئی جی سمیت سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ایک کروڑ روپے شہید اہلکاروں اور پچاس لاکھ روپے زخمی اہلکاروں کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کیا، جب کہ آپریشن میں بہادری دکھانے والے جوانوں اور افسران کے لیے دس دس لاکھ روپے انعام دینے کا بھی اعلان کیا۔اس موقع پر وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں، فورس نے ہمیشہ جرات و بہادری کی مثال قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے عزم کو سلام پیش کرتا ہوں۔علی امین گنڈاپور کا مزید کہنا تھا کہ امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے، دہشتگردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس فورس کی استعداد کار بڑھانے اور جدید وسائل فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی، جبکہ شہداء کے خاندانوں کے لیے خصوصی پیکجز متعارف کرائے گئے۔