Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • القادر ٹرسٹ کیس،علی ریاض کی بنی گالاکی اراضی نیلام،فرح گوگی کا گاہک نہ آیا

    القادر ٹرسٹ کیس،علی ریاض کی بنی گالاکی اراضی نیلام،فرح گوگی کا گاہک نہ آیا

    ا لقادر ٹرسٹ کیس کے اشتہاری ملزم علی ریاض کی موہڑہ نور بنی گالا میں موجود 405 کنال اراضی کو نیلام کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس نیلامی میں اراضی کی فی کنال قیمت 34 لاکھ 20 ہزار روپے مقرر کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت کو مجموعی طور پر ایک ارب 38 کروڑ 51 لاکھ روپے کی رقم حاصل ہوگی۔

    نیلامی میں کامیاب بولی ایڈووکیٹ عثمان نے دی، جنہوں نے حتمی بولی لگا کر اس قیمتی زمین کی ملکیت حاصل کی ہے۔ یہ نیلامی حکومت کی طرف سے مختلف کیسز میں ضبط شدہ اثاثوں کی فروخت کے تحت کی گئی ہے تاکہ عوامی خزانے میں مالی وسائل جمع کیے جا سکیں۔دوسری جانب فرحت شہزادی عرف فرح گوگی کی ملکیت 248 کنال زمین کی نیلامی میں کوئی بولی نہیں آئی، جس کی وجہ سے اس زمین کی نیلامی ملتوی ہو سکتی ہے یا اس کے لیے دوبارہ نیلامی کا اعلان کیا جائے گا۔

    یہ نیلامی ملک میں قانونی عملدرآمد اور عدالتی کارروائیوں کی شفافیت کو بڑھانے کے لیے ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہے، جس کا مقصد اشتہاری ملزمان کے قبضے میں موجود اثاثے ضبط کر کے حکومت کے حوالے کرنا ہے۔

  • ژوب،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،مزید 3 دہشتگردوں کی ہلاکت،کل 50 جہنم واصل

    ژوب،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،مزید 3 دہشتگردوں کی ہلاکت،کل 50 جہنم واصل

    سکیورٹی فورسز کا ضلع ژوب کے علاقے سمبازہ میں آپریشن، کارروائی میں 3 مزید بھارتی سپانسرڈ خوارج جہنم واصل ہو گئے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقے سمبازہ میں کلیئرنس آپریشن کے دوران مزید 3 بھارتی اسپانسرڈ خوارج مارے گئے ہیں۔ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور بارودی مواد برآمد ہوا۔ چار روزہ انسداد دہشت گردی آپریشن میں ہلاک ہونے والے خوارج کی تعداد 50 تک پہنچ گئی ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے اس آپریشن کے ذریعے پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت اور ملک میں امن و استحکام کو خراب کرنے کی سازشوں کو ناکام بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ فورسز کا کہنا ہے کہ وہ ملک کی سلامتی اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتی رہیں گی۔

    افواج پاکستان شب و روز ارضِ وطن کو دہشتگردوں سے پاک کرنے میں مصروف عمل ہیں،وزیراعظم
    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان-افغانستان سرحدی علاقے، سمبازا میں خوارج کے خلاف ایک اور کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پزیرائی کی ہے،وزیرِ اعظم نے چند دن قبل اسی علاقے میں 47 خارجیوں کو جہنم رسید کرنے کے بعد کل شب 3 مزید بھارتی سرپرستی میں سرگرم خارجیوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی اور کہا کہ دھشتگردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے.افواج پاکستان شب و روز ارضِ وطن کو دھشتگردوں سے پاک کرنے میں مصروف عمل ہیں جس پر مجھ سمیت پوری قوم انکو خراج تحسین پیش کرتی ہے. ملک سے دھشتگردی کے مکمل خاتمے کے غیر متزلزل عزم میں پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے.

  • سابق بھارتی نائب صدر استعفیٰ کے بعد لاپتہ،سیاسی حلقوں میں‌تشویش

    سابق بھارتی نائب صدر استعفیٰ کے بعد لاپتہ،سیاسی حلقوں میں‌تشویش

    نئی دہلی: سابق نائب صدر اور راجیہ سبھا کے سابق چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ کے 21 جولائی کو استعفیٰ دینے کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہ آنے اور کسی قسم کی اطلاع نہ ملنے پر سیاسی حلقوں میں گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔ ان کی غیر موجودگی نے نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ عام عوام میں بھی تجسس اور تشویش کو جنم دیا ہے۔

    کانگریس، شیوسینا (یو بی ٹی) اور راجیہ سبھا رکن کپل سبل سمیت اپوزیشن کے متعدد رہنماؤں نے حکومت سے دھنکھڑ کی صحت اور ان کی موجودگی کے بارے میں فوری وضاحت طلب کی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے جلد وضاحت نہ دی تو یہ مسئلہ پارلیمانی سطح پر بھی شدید تناؤ پیدا کر سکتا ہے۔کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ 21 جولائی کی شام سے دھنکھڑ کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ نہ وہ کسی تقریب میں نظر آئے، نہ کوئی بیان جاری ہوا اور نہ ہی ان کی کوئی تصویر سامنے آئی۔ جے رام رمیش نے تلگو میڈیا کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سابق نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو نے حال ہی میں وزیراعظم نریندر مودی سے 45 منٹ کی ملاقات کی ہے، جس کے پس پردہ امور کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے حکومت سے براہِ راست سوال کیا، ’’آخر ہو کیا رہا ہے؟‘‘

    اسی حوالے سے ممبئی میں ایک تقریب کے دوران شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے بھی دھنکھڑ کی غیر حاضری پر سخت سوالات اٹھائے۔ انہوں نے طنزیہ لہجے میں کہا، ’’جگدیپ دھنکھڑ کہاں ہیں؟ وہ مکمل طور پر غائب ہو چکے ہیں۔ ان کا استعفیٰ صحت کی بنیاد پر قبول کیا گیا ہے، مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کس اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ کیا بی جے پی نے ان کا آپریشن کیا ہے یا کہیں چھپا دیا ہے؟‘‘ ادھو ٹھاکرے کا کہنا تھا کہ بی جے پی نے انہیں ’’غائب‘‘ کر دیا ہے۔اسی معاملے میں 9 اگست کو سینئر وکیل اور راجیہ سبھا رکن کپل سبل نے بھی حکومت سے وضاحت کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’ہم نے فلم ’لاپتہ لیڈیز‘ کے بارے میں سنا ہے، لیکن ’لاپتہ نائب صدر‘ کا واقعہ پہلی بار دیکھ رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے اپیل کی کہ وہ پارلیمنٹ یا عوام کے سامنے دھنکھڑ کی صحت اور موجودگی کے بارے میں واضح بیان دیں تاکہ افواہوں کا خاتمہ ہو سکے۔ کپل سبل نے مزید کہا، ’’کیا ہمیں دھنکھڑ کو تلاش کرنے کے لیے ہیبیس کارپس کی درخواست دائر کرنی پڑے گی؟‘‘

    واضح رہے کہ سابق نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو نے قومی راجدھانی کے حالیہ دورے کے دوران وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی تھی، جس نے سیاسی حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ 21 جولائی کو استعفیٰ دینے کے بعد سے جگدیپ دھنکھڑ نہ کسی عوامی تقریب میں نظر آئے اور نہ ہی ان کا کوئی باضابطہ بیان یا تصویر منظر عام پر آئی۔یہ صورتحال اب سیاسی بحران کی صورت اختیار کر رہی ہے، جس کی وجہ سے اپوزیشن حکومت پر دھنکھڑ کی صحت اور ان کی موجودگی سے متعلق معلومات چھپانے کا الزام لگا رہی ہے۔ سیاسی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت فوری طور پر اس معاملے میں وضاحت دے تاکہ ملکی سیاسی ماحول میں پائی جانے والی کشیدگی کم ہو سکے۔

  • ٹرمپ نے چین کے ساتھ ٹیرف معاہدے میں تین ماہ کی توسیع کر دی

    ٹرمپ نے چین کے ساتھ ٹیرف معاہدے میں تین ماہ کی توسیع کر دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے ساتھ جاری تجارتی تنازعہ کے دوران نافذ کردہ ٹیرف معاہدے کی مدت میں تین ماہ کی توسیع کر دی ہے۔

    غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق، یہ معاہدہ آج ختم ہونے والا تھا لیکن صدر ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کر کے اس کی مدت کو مزید تین ماہ بڑھا دیا ہے۔ گزشتہ جنوری میں صدر ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر 145 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، جس کے جواب میں چین نے امریکی درآمدات پر 125 فیصد ٹیرف لگا دیا تھا۔ اس کے بعد مئی میں دونوں ممالک نے تجارتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے معاہدہ کیا، جس کے تحت امریکہ نے اپنے ٹیرف میں 30 فیصد کمی کی اور چین نے بھی 10 فیصد ٹیرف کم کیے۔نئے صدارتی حکم کے مطابق، موجودہ ٹیرف کی شرح اگلے تین ماہ تک جاری رہے گی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں استحکام لانا اور مذاکرات کے لیے مزید وقت حاصل کرنا بتایا جا رہا ہے۔

  • کرک،ہسپتال کے ہاسٹل سے نرس کی لاش برآمد

    کرک،ہسپتال کے ہاسٹل سے نرس کی لاش برآمد

    کرک کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال کے ہاسٹل سے نرس کی لاش برآمد ہونے کے واقعے نے علاقے میں ہلچل مچا دی ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق نرس نے اپنی ڈیوٹی مکمل کرنے کے بعد ہاسٹل کا رخ کیا تھا، جہاں سے اس کی لاش ملی ہے۔

    ایم ایس اسپتال کا کہنا ہے کہ نرس کی اچانک موت نے تمام عملے کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے اور اس واقعے کی فوری تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسپتال انتظامیہ واقعے کی مکمل چھان بین کر رہی ہے تاکہ موت کی وجوہات کو واضح کیا جا سکے۔پولیس ذرائع کے مطابق لاش کو فوری طور پر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جبکہ ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے جو واقعے کی گہرائی میں جا کر حقائق معلوم کرے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی نرس کی موت کی اصل وجہ سامنے آ سکے گی۔

    علاقہ مکینوں اور اسپتال عملے کے درمیان اس واقعے پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور نرس کی اچانک موت نے سوالات کو جنم دے دیا ہے کہ آیا یہ واقعہ قدرتی تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور سبب موجود ہے۔مزید معلومات اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے نتائج کے بعد ہی نرس کی موت کی حقیقت واضح ہو سکے گی، اور حکام کا کہنا ہے کہ وہ عوام کو ہر ممکن معلومات فراہم کریں گے۔

  • ضلع باجوڑ میں فتنہ الخوارج دہشتگردوں کے خلاف بڑی کارروائی کا فیصلہ

    ضلع باجوڑ میں فتنہ الخوارج دہشتگردوں کے خلاف بڑی کارروائی کا فیصلہ

    خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں شدت پسند گروہ فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ باجوڑ میں دہشتگردوں کے خلاف قبائلی عمائدین کے جرگے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں، جس کے بعد علاقے میں آپریشن کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق باجوڑ اور خیبر کے مختلف علاقوں میں موجود دہشتگردوں کے خلاف عسکری کارروائی کے لیے حکومتی سطح پر پلاننگ کی جا رہی ہے۔ قبائلی عمائدین کے جرگے نے فتنہ الخوارج سے تین اہم مطالبات کیے تھے جن میں سب سے اہم علاقہ چھوڑنے کا مطالبہ تھا، تاہم دہشتگردوں نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔باوجڑ کی تحصیل ماموند کے دو علاقوں میں تقریباً 300 دہشتگرد موجود ہیں جن میں سے 80 فیصد سے زائد افغان باشندے ہیں۔ یہ گروہ علاقے میں دہشت و وحشت پھیلانے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو شدید مشکلات میں مبتلا کر رہا ہے۔ باجوڑ کی تحصیل ماموند کی کل آبادی 3 لاکھ سے زائد ہے جن میں سے تقریباً 40 ہزار افراد اپنی جان بچانے کے لیے علاقے سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔

    کمشنر مالاکنڈ عابد وزیر نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نقل مکانی کرنے والے متاثرین کے لیے حفاظتی اقدامات اور رہائش کے جامع انتظامات کر لیے گئے ہیں۔ باجوڑ کے تحصیل خار میں 107 سرکاری عمارتوں کو عارضی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ خار کے اسپورٹس کمپلیکس میں خیمہ بستی بھی قائم کی جائے گی تاکہ متاثرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ متاثرین کو خوراک، صحت کی سہولیات، اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ اس مشکل وقت میں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کریں۔

    ذرائع کے مطابق دہشتگردوں کی جانب سے علاقے کو چھوڑنے سے انکار کے بعد حکومتی مشینری آپریشن کے لیے مکمل تیار ہے۔ مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس حوالے سے باقاعدہ منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ دہشتگردوں کو جڑ سے ختم کیا جا سکے اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال بحال ہو سکے۔یہ کارروائی نہ صرف باجوڑ بلکہ پورے خیبر پختونخوا کے لیے اہم قرار دی جا رہی ہے کیونکہ دہشتگردی کے واقعات میں حالیہ دنوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

  • جائیداد کا تنازع،ملزم نے والد اور دو بہنوں کی جان لے لی

    جائیداد کا تنازع،ملزم نے والد اور دو بہنوں کی جان لے لی

    وفاقی دارالحکومت میں جائیداد کے تنازع پر نا خلف بیٹے نے باپ اور 2 بہنوں کو ذبح کر دیا۔

    پولیس کے مطابق اسلام آباد میں پیر کی صبح 30سالہ محمدعلی نے اپنےو الد انسپکٹر (ر) محمود حسین اور ہمشیرہ شبنم ز ہرہ کو اپنے گھر میں چھری سے ذبح کیا جس کے بعد اس نے سہ پہر کو پنڈی میں کانسٹیبل 35 سالہ انجم ز ہرہ کو بھی موت کے گھاٹ اتارا، ملزم ہمشیرہ کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد اس کے شوہر کاانتظار کرتارہا،ملزم نے 3 ماہ کے بھانجے سالار حمزہ کو قتل کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا، نوزائیدہ کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا،واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس جائے وقوعہ پرپہنچی اور ملزم کو حراست میں لے لیا۔

  • پاکستان ذمہ دار ایٹمی ملک،بھارتی بیان مسترد

    پاکستان ذمہ دار ایٹمی ملک،بھارتی بیان مسترد

    پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارتی وزارت خارجہ کا بیان مسترد کردیا۔

    پاکستان کے دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارتی وزارت خارجہ کے غیر سنجیدہ اور حقائق مسخ کرنے والا بیان مسترد کرتا ہے، بھارتی وزارت خارجہ کا بیان حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی عادت کا ایک اور ثبوت ہے، پاکستان طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کے سخت خلاف ہے، بھارت ہر موقع پر جنگی جنون اور الزام تراشی کا سہارا لیتا ہے، پاکستان ذمہ دار ایٹمی ملک ہے، کمانڈ اینڈ کنٹرول کا مکمل سویلین نظام موجود ہے، پاکستان نے ہمیشہ تحمل اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ہے،پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کاوشیں دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہیں، بھارتی وزارت خارجہ کے بے بنیاد الزامات غیر ذمہ دارانہ اور ثبوت سے عاری ہیں، بھارت کا تیسرے ممالک کو بلاوجہ شامل کرنے کا اقدام سفارتی کمزوری کی علامت ہے۔

    ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان ذمہ دار ملک کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا، بھارت کی کسی بھی جارحیت کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا، کشیدگی کی ذمہ داری مکمل طور پر بھارتی قیادت پر عائد ہوگی۔

  • شرجیل میمن کا ڈمپر جلانے والوں کے خلاف کارروائی کا اعلان

    شرجیل میمن کا ڈمپر جلانے والوں کے خلاف کارروائی کا اعلان

    سندھ اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے راشد منہاس روڈ پر پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر پُرزور موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ڈمپر جلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ "جن لوگوں نے 7 ڈمپرز جلائے ہیں، ان کے خلاف مقدمات درج ہوں گے، اور یہ کارروائی کسی کی دھمکی، دھونس یا دباؤ کی بنیاد پر نہیں روکی جائے گی۔”

    واضح رہے کہ گزشتہ روز راشد منہاس روڈ پر ایک تیز رفتار ڈمپر کی ٹکر سے موٹر سائیکل پر سوار بہن اور بھائی موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے، جبکہ ان کے والد شدید زخمی ہوئے۔ اس اندوہناک حادثے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی اور مشتعل شہریوں نے غصے میں آکر 7 ڈمپروں کو آگ لگا دی۔

    واقعے کے حوالے سے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں بھی شدید بحث ہوئی۔ اپوزیشن جماعت ایم کیو ایم کے رکن طحہٰ احمد خان نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "ڈمپر ڈرائیورز سے مذاکرات کرکے ان کو معاوضہ دیا جا رہا ہے، مگر جن معصوم افراد کی جانیں گئیں، ان کے اہل خانہ کے لیے کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔”

    طحہٰ احمد کے خطاب کے بعد سندھ کے وزیر داخلہ ضیا لنجار نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ جاں بحق ہونے والے بہن بھائی کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے گا۔ انہوں نے حادثات کی روک تھام کے لیے اقدامات کا اعلان بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ٹینکر اور ڈمپر مالکان کو واضح ہدایات دے دی گئی ہیں کہ بغیر کیمرے کے کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی۔ ڈرائیورز کی تربیت کے لیے لائسنس اتھارٹی کے ذریعے خصوصی کورسز کرائے جائیں گے۔”

    ادھر واقعے میں ملوث ڈمپر ڈرائیور کو آج جوڈیشل مجسٹریٹ (وسطی) کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے پاس ہیوی ٹریفک کا لائسنس موجود نہیں تھا، بلکہ اس کے پاس صرف ایک LTV (لائٹ ٹرانسپورٹ وہیکل) لائسنس تھا، جو 2016 میں ایکسپائر ہو چکا ہے۔ تفتیشی افسر نے عدالت سے مزید تفتیش کے لیے وقت مانگا۔عدالت نے ملزم کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔

    حادثے اور بعد ازاں مشتعل ردعمل نے کراچی میں سڑکوں پر جاری خطرناک ٹریفک نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ بھاری ٹریفک کے نظام کو ازسرنو منظم کیا جائے اور غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

  • بھارت باز نہ آیا، پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کرنے کا انکشاف

    بھارت باز نہ آیا، پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کرنے کا انکشاف

    نئی دہلی: بھارت کی جانب سے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے سفارتکاروں کے خلاف ہراسانی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی حکام نے چار پاکستانی سفارتکاروں کو اپنے کرایہ کی رہائش گاہیں خالی کرنے کے نوٹس جاری کر دیے ہیں، جو کہ نجی مکان مالکان کی جانب سے دئیے گئے ہیں۔

    پاکستانی سفارتکار اپنی نجی رہائش گاہوں پر کرائے کے مکانوں میں مقیم ہیں اور ان کے مکان مالکان نے کانٹریکٹ کی مدت ختم ہونے سے قبل ہی انہیں نوٹس دے دیے ہیں۔ اس سے سفارتکاروں کی نقل و حرکت اور قیام پر براہ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔مزید اطلاعات کے مطابق، پاکستانی سفارتکاروں کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے اور ان کے گھروں میں فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات جیسے گیس اور انٹرنیٹ سروسز بھی وقتاً فوقتاً معطل کی جا رہی ہیں۔ اس اقدام کو سفارتی امور میں رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔

    ذرائع نے بتایا ہے کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے کل 17 عملے کے ارکان کے بھارتی ویزوں کی توسیع بھی بھارتی وزارت خارجہ میں تاخیر کا شکار ہے۔ پاکستانی حکام نے تین سے پانچ ماہ قبل ویزوں کی تجدید کے لیے درخواستیں دی تھیں، لیکن بھارت کی طرف سے اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔اس کے علاوہ، پاکستانی ہائی کمیشن کو پانی کی فراہمی بھی بند کر دی گئی ہے اور ڈیڑھ ماہ سے بھارتی اخبارات کی ترسیل بھی معطل ہے، جس سے ہائی کمیشن کی روزمرہ سرگرمیوں میں خلل پڑ رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن نے ان تمام معاملات کی اطلاع اپنے وزارتِ خارجہ کو دے دی ہے تاکہ بھارت کی طرف سے بڑھتی ہوئی ہراسانی کے خلاف حکمت عملی تیار کی جا سکے۔