Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کوئٹہ سے اندرون ملک جانے والی ٹرین سروس سکیورٹی وجوہات کی بنا پر معطل

    کوئٹہ سے اندرون ملک جانے والی ٹرین سروس سکیورٹی وجوہات کی بنا پر معطل

    کوئٹہ سے اندرون ملک جانے والی اہم ٹرین سروسز کو سکیورٹی وجوہات کی بناء پر معطل کر دیا گیا ہے۔

    آج کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس اور کراچی جانے والی بولان میل دونوں ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ اسی طرح، پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس اور کراچی سے آنے والی بولان میل بھی معطل کر دی گئی ہیں۔ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ کوئٹہ سے پشاور کے لیے جعفر ایکسپریس کل منگل کو معمول کے مطابق روانہ ہوگی، تاہم فی الحال حفاظتی وجوہات کی بنا پر تمام اندرون ملک ٹرین خدمات کو معطل کیا گیا ہے تاکہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

    یہ فیصلہ اس واقعے کے بعد کیا گیا ہے جب گزشتہ روز مستونگ کے قریب ریلوے ٹریک پر دھماکے کے نتیجے میں جعفر ایکسپریس کی چھ بوگیاں ٹریک سے اتر گئیں۔ خوش قسمتی سے اس دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم اس واقعے نے ریلوے سیکورٹی کو سنجیدہ چیلنجز کا سامنا کر دیا ہے۔ریلوے حکام اور سکیورٹی ادارے اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور متعلقہ علاقے میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔مزید یہ کہ، مسافروں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ٹرین سروس کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے ریلوے کی جاری کردہ معلومات سے باخبر رہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

  • ووٹ چوری کے خلاف احتجاجی مارچ ،راہول گاندھی گرفتار

    ووٹ چوری کے خلاف احتجاجی مارچ ،راہول گاندھی گرفتار

    نئی دہلی: بھارتی کانگریس پارٹی کے سینئر رہنما راہول گاندھی کو بہار میں ووٹر فہرست میں مبینہ ترمیمات کے خلاف احتجاج کے دوران حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب راہول گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنما الیکشن کمیشن کی عمارت کی جانب مارچ کر رہے تھے تاکہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اپنی آواز بلند کر سکیں۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً 300 اپوزیشن رہنما اس احتجاجی مارچ میں شامل تھے جن کی قیادت راہول گاندھی کر رہے تھے۔ یہ مارچ خاص طور پر ‘ووٹ چوری’ کے الزام کے تحت کیا جا رہا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ بہار کی ووٹر فہرستوں میں غیر قانونی ترامیم کی گئی ہیں تاکہ ووٹروں کو ووٹ ڈالنے سے محروم کیا جا سکے۔راہول گاندھی نے گزشتہ دنوں بھارتی الیکشن کمیشن اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر انتخابات میں دھاندلی کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے بی جے پی کے ساتھ مل کر عام انتخابات میں ووٹ چوری کی اور عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔

    راہول گاندھی نے اپنے الزامات کی حمایت میں دستاویزی ثبوت بھی پیش کیے اور بتایا کہ کہیں ڈپلیکیٹ ووٹر آئی ڈیز بنائی گئیں، کہیں جعلی پتے درج کیے گئے اور کچھ حلقوں میں جعلی تصاویر کا بھی استعمال کیا گیا تاکہ انتخابی نتائج میں دھاندلی کی جا سکے۔ ان کے مطابق کم از کم 100 سے زائد نشستوں پر ہیرا پھیری کی گئی ہے۔راہول گاندھی نے کہا کہ اگر یہ جعل سازی نہ ہوتی تو وزیراعظم نریندر مودی آج ملک کے وزیراعظم نہ ہوتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ انتخابات میں بی جے پی، وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے ساتھیوں نے آئین پر حملہ کیا ہے۔کانگریس رہنما کی گرفتاری کے بعد سیاسی ہلچل بڑھ گئی ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر کڑی تنقید شروع کر دی ہے کہ وہ جمہوری عمل کو نقصان پہنچا رہی ہے اور سیاسی مخالفین کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    پولیس کی جانب سے راہول گاندھی کے ساتھ اراکین پارلیمنٹ کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، گرفتار اراکین کو دو بسوں میں بٹھا کر لے جایا گیا ہے۔ راہل گاندھی، اکھلیش یادو، پرینکا گاندھی، جیسے سینئر رہنماؤں کوپولیس نے گرفتار کیا ہے،اس دوران راہل گاندھی نے کہا کہ ہمیں تو بولنے نہیں دیا جا رہا ہے۔

    اپوزیشن کے 30 رہنماؤں کو بلایا تھا، زیادہ آ گئے، اس لئے اراکین پارلیمنٹ کو بھی حراست میں لیا، دہلی پولیس
    دہلی پولیس کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے 30 رہنماؤں کو آنے کی اجازت تھی، لیکن دروازے پر بڑی تعداد میں رہنما پہنچ گئے۔ اس کی وجہ سے نظام بگڑنے کا اندیشہ تھا۔ اسی وجہ سے اراکین پارلیمنٹ کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن پارٹی چاہے تو اب بھی 30 اراکین پارلیمنٹ کو آرام سے الیکشن کمیشن کے دفتر لے جایا جا سکتا ہے۔

  • غزہ پراسرائیلی مظالم،متعدد ممالک میں احتجاج، غزہ میں جنگ فوری طور پر روکنے کا مطالبہ

    غزہ پراسرائیلی مظالم،متعدد ممالک میں احتجاج، غزہ میں جنگ فوری طور پر روکنے کا مطالبہ

    ترکی کے شہر استنبول سمیت دنیا بھر میں ہزاروں افراد نے اسرائیل کی غزہ میں جاری عسکری کارروائیوں کے خلاف زبردست احتجاج کیا ہے اور جنگ فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    استنبول میں ہزاروں مظاہرین نے پرامن احتجاجی ریلی نکالی، جس میں انہوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطینیوں کے حق میں نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کی شدید مذمت کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں جاری خونریزی کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔اسی دوران، دنیا کے دیگر حصوں میں بھی فلسطینی عوام کے حق میں مظاہرے کیے گئے۔ چلی کے دارالحکومت سینتیاگو میں احتجاج کرنے والوں نے خالی برتن بجا کر غزہ میں اسرائیل کی جانب سے لگائے جانے والے محاصرے اور جبری قحط کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔ اس موقع پر مظاہرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کی مدد کرے اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔

    ارجنٹائن میں بھی فلسطینیوں کے حق میں بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے جہاں دارالحکومت بیونس آیرس میں سینکڑوں افراد نے غزہ میں جاری نسل کشی کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں کی حفاظت ہر ملک کی ذمہ داری ہے۔ادھر اسرائیل کے اندر بھی غزہ کی جنگ کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ شہر تل ابیب میں یرغمالیوں کے اہل خانہ نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کرے تاکہ یرغمالیوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔ انہوں نے حکومت کے خلاف احتجاجی ہڑتال کی کال دی ہے جو 17 اگست کو ملک گیر سطح پر منائی جائے گی۔

  • ایکواڈورکے نائٹ کلب میں فائرنگ، 8 افراد کی موت

    ایکواڈورکے نائٹ کلب میں فائرنگ، 8 افراد کی موت

    جنوبی امریکہ کے ملک ایکواڈور کے ساحلی صوبے گوایاس کے دیہی علاقے سانتا لوسیا میں قائم ایک نائٹ کلب میں ایک خونریز فائرنگ کے واقعے میں کم از کم 8 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ واقعہ اس علاقے کے سب سے خطرناک واقعات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ فائرنگ کرنے والے مشتبہ افراد بھاری ہتھیاروں سے لیس تھے اور وہ موٹر سائیکلوں اور دو گاڑیوں میں سوار تھے۔ انہوں نے نائٹ کلب میں داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں 7 افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ایک زخمی شخص اسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

    فائرنگ کے دوران ہلاک ہونے والوں کی عمریں 20 سے 40 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ تین افراد شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر کے طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔مقامی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں لیکن ابھی تک فائرنگ کی اصل وجہ سامنے نہیں آ سکی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ممکنہ طور پر یہ واقعہ کسی گروہی دشمنی یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کا نتیجہ ہو سکتا ہے، تاہم تفتیش کار تمام پہلوؤں کو زیر غور رکھے ہوئے ہیں۔

  • سب سے زیادہ گدھے پنجاب میں ،انکشاف

    سب سے زیادہ گدھے پنجاب میں ،انکشاف

    اسلام آباد: حکومت کی جانب سے جاری کردہ زراعت شماری رپورٹ 2024 کے مطابق پاکستان میں گدھوں کی مجموعی تعداد 49 لاکھ ہو چکی ہے، جس میں پنجاب صوبہ سب سے آگے ہے جہاں گدھوں کی تعداد دیگر تمام صوبوں سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پنجاب میں گدھوں کی تعداد 24لاکھ3ہزار، سندھ میں گدھوں کی تعداد 10 لاکھ 81 ہزار، خیبرپختونخواہ میں 7 لاکھ82 ہزار اور بلوچستان میں گدھوں کی تعداد 6 لاکھ30 ہزار ہوچکی ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گدھوں کی تعداد 4 ہزار ریکارڈ کی گئی،بلوچستان کےمقابلے پنجاب میں گدھوں کی تعداد 17 لاکھ73ہزار زیادہ بنتی ہے، پنجاب میں خیبر پختونخواہ کےمقابلے گدھوں کی تعداد 16 لاکھ 21 ہزار اور سندھ کے مقابلے پنجاب میں گدھوں کی تعداد 13لاکھ 22 ہزار زیادہ بنتی ہے۔

    یہ اعداد و شمار نہ صرف پاکستان کے گدھوں کی مجموعی آبادی کی جھلک پیش کرتے ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ پنجاب میں گدھے کی افزائش اور پالنے کا رجحان دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔یہ رپورٹ زراعت کے شعبے کی ترقی اور ملک میں مویشیوں کی تعداد کی درست معلومات فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو گی، جس سے مستقبل میں بہتر منصوبہ بندی کی جاسکے گی۔

  • ہیوسٹن، پاکستانی خاتون پر مبینہ مذہبی منافرت کے تحت تشدد

    ہیوسٹن، پاکستانی خاتون پر مبینہ مذہبی منافرت کے تحت تشدد

    امریکا کی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک پاکستانی خاتون کو بلا وجہ اور مبینہ مذہبی منافرت کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ واقعہ ہیوسٹن کے جنوب مغربی علاقے، ساؤتھ ولکریسٹ ڈرائیو پر واقع شوگر پارک پلازہ کے سامنے پیش آیا۔

    خاتون جمعہ کی شام تقریباً 5 بجے سامان اٹھا کر جا رہی تھیں کہ اچانک پیچھے سے ایک سنگدل شخص نے انہیں دھکا دے دیا جس کے باعث وہ منہ کے بل گر گئیں۔ اس حملے کے نتیجے میں خاتون کی ناک کی ہڈی فریکچر ہو گئی جبکہ ان کے چہرے کے مختلف حصوں پر شدید چوٹیں آئیں۔واقعے کا تمام منظر سی سی ٹی وی کیمرے میں محفوظ ہو گیا، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور شخص بغیر کسی خوف کے سڑک کے دوسری طرف چلا گیا۔ پولیس ابھی تک اس ملزم کی شناخت کرنے اور واقعے کی وجہ جاننے میں ناکام ہے۔

    خاتون کے بیٹے محمد ظہیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی والدہ زخمی حالت میں انہیں ویڈیو کال کے ذریعے واقعہ سے آگاہ کیا، جس پر وہ شدید دہشت زدہ ہو گئے۔ ظہیر نے کہا، "کوئی بھی اپنی ماں کے ساتھ ایسے ظلم کو برداشت نہیں کر سکتا، ملزم کو فوری گرفتار کر کے سخت سزا دی جانی چاہیے۔”محمد ظہیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی والدہ اس ظالمانہ واقعے کو کبھی فراموش نہیں کر سکیں گی اور انہیں یقین ہے کہ یہ حملہ مذہبی منافرت کی بنیاد پر کیا گیا کیونکہ ان کی والدہ اسکارف پہنے ہوئے تھیں اور ممکنہ طور پر حملہ آور نے انہیں مسلمان خاتون سمجھ کر نشانہ بنایا۔

    متاثرہ امریکن پاکستانی خاندان نے پولیس میں رپورٹ درج کرا دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو گرفتار کر لیا جائے تو اسے سنگین جرم کے تحت مقدمہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • یوسف رضا گیلانی کے بیٹے سے بارسلونا میں  ایک کروڑ 85 لاکھ کی گھڑی چوری

    یوسف رضا گیلانی کے بیٹے سے بارسلونا میں ایک کروڑ 85 لاکھ کی گھڑی چوری

    بارسلونا: سابق وزیراعظم اور چیئرمین سینیٹ پاکستان یوسف رضا گیلانی کے بیٹے اور ممبر قومی اسمبلی سید عبدالقادر گیلانی بارسلونا میں سیرو تفریح کے دوران ایک انتہائی قیمتی گھڑی سے محروم ہو گئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق سید عبدالقادر گیلانی جو اس وقت اسپین کے شہر بارسلونا میں سیاحت کے لیے موجود ہیں، ان سے چوروں نے ایک مہنگی گھڑی چھین لی۔ اطلاعات کے مطابق یہ گھڑی یورپی ملک میں چوری ہوئی، جس کی مالیت تقریباً 56 ہزار یورو بتائی گئی ہے۔ پاکستانی کرنسی میں اس گھڑی کی قیمت ایک کروڑ 85 لاکھ روپے کے قریب ہے۔

    یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا جب عبدالقادر گیلانی سیاحتی مقام پر آرام اور تفریح کر رہے تھے۔ پولیس اور متعلقہ حکام واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں اور چوروں کو جلد از جلد گرفتار کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • اسرائیلی حملے میں الجزیرہ کے معروف صحافی انس الشریف شہید

    اسرائیلی حملے میں الجزیرہ کے معروف صحافی انس الشریف شہید

    غزہ میں اسرائیلی فوج کے تازہ حملے میں قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے معروف صحافی انس الشریف اپنے ساتھیوں کے ساتھ شہید ہو گئے ہیں۔

    عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی میں صحافیوں کے خیمے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں الجزیرہ کے دو صحافیوں اور تین کیمرا آپریٹرز کی شہادت کا واقعہ پیش آیا ہے۔شہدا میں الجزیرہ کے نامور صحافی انس الشریف، محمد قریقہ، اور کیمرا آپریٹرز محمد ظاہر، محمد نوفل، اور مومین علیوا شامل ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق 28 سالہ انس الشریف اور ان کے ساتھی اس وقت شہید ہوئے جب وہ اسپتال کے مرکزی دروازے کے باہر صحافیوں کے لیے مخصوص ایک خیمے میں موجود تھے، جسے اسرائیلی فوج نے بمباری سے تباہ کر دیا۔

    غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 237 صحافی شہید ہو چکے ہیں، جو جنگ زدہ علاقوں میں صحافت کے لیے ایک انتہائی خطرناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔

    دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے انس الشریف کو نشانہ بنانے کی تصدیق کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ حماس کے ایک عسکری سیل کے سربراہ تھے اور اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کے خلاف راکٹ حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔ تاہم، انس الشریف نے شمالی غزہ سے بڑے پیمانے پر رپورٹنگ کی تھی اور ماضی میں بھی انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی رہیں۔

  • گلگت بلتستان: لگت کے دنیور نالہ میں لینڈ سلائیڈنگ، 8 رضاکار جاں بحق

    گلگت بلتستان: لگت کے دنیور نالہ میں لینڈ سلائیڈنگ، 8 رضاکار جاں بحق

    گلگت بلتستان کے علاقے لگت کے دنیور نالہ میں شدید لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 8 مقامی رضاکار ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئے ہیں۔

    پولیس اور مقامی حکام کے مطابق یہ رضاکار سیلاب سے متاثرہ واٹر چینل کی بحالی کے کام میں مصروف تھے کہ اچانک مٹی کا تودہ گر گیا، جس کے نتیجے میں یہ حادثہ پیش آیا۔اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں کے علاوہ کئی افراد ابھی بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جن کی بازیابی کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ اس حادثے میں زخمی ہونے والے 3 افراد کو قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ حادثے کے بعد تمام قریبی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

    صوبائی حکومت کے ترجمان نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلیاں اور گلیشیئر کے پگھلنے کا سلسلہ تیز ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شیشپر نالے میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کی وجہ سے سیلاب آیا ہے جس نے نہ صرف آبادیوں کی زمینوں کو نقصان پہنچایا بلکہ قریبی زرعی اراضی اور درخت بھی بہا لیے ہیں۔

    مزید برآں، سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے قراقرم ہائی وے شدید متاثر ہوئی ہے اور شاہراہ ہنزہ ایک بار پھر بند ہو گئی ہے۔ صوبائی حکومت نے ہنزہ کے لیے ٹریفک کو نگر کے روڈ سے گزارنے کی ہدایت کی ہے تاکہ مسافروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ موسمیاتی حالات اور حفاظتی ہدایات کا خیال رکھیں اور حکام کی جانب سے جاری کردہ انتباہات پر عمل کریں تاکہ مستقبل میں ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔

  • ہفتہ آزادی،مرکزی مسلم لیگ کے ملک گیر پروگرام دوسرے روز بھی جاری

    ہفتہ آزادی،مرکزی مسلم لیگ کے ملک گیر پروگرام دوسرے روز بھی جاری

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام متحد قوم ،فاتح پاکستان،سلوگن کے تحت ہفتہ آزادی کےد وسرے روز بھی ملک گیر پروگراموں کا سلسلہ جاری رہا، لاہور میں گندیاں بمپیاں سے آزادی کارواں نکالا گیا،اسلام آباد میں ترلائی سے فراش ٹاؤن تک آزادی کارواں میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والےا فراد شریک ہوئے،رحیم یار میں بھی آزادی کارواں کا انعقاد کیا گیا،مظفر گڑھ،مالاکنڈ،کراچی سمیت دیگر شہروں میں مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام شجرکاری کا سلسلہ بھی جاری ہے، کل اتوار کو بھی متعدد شہروں میں ہفتہ آزادی کے پروگرام ہوں گے

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام ہفتہ آزادی کے دوسرے روز لاہور میں گندیاں بمپیاں سے آزادی کارواں کا آغاز ہوا، آزادی کارواں بڑا ساندہ،چوبرجی ،سمن آباد، یتیم خانہ چوک ،سکیم موڑ سے ہوتاہوا دبئی چوک پر اختتام پذیر ہوا، آزادی کارواں کی قیادت مرکزی مسلم لیگ لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی و دیگر نے کی، کارواں میں شرکا نے سبز ہلالی پرچم اٹھا رکھے تھے،متعدد مقامات پر کارواں کے شرکا کا پھولوں‌کی پتیاں نچھاور کر کے استقبال کیا گیا، اسلام آباد میں ترلائی سے آزادی کارواں کا آغاز ہوا اور ترامڑی، چٹھہ بختاور، علی پور، بارہ کہو، کرپا، سترہ میل سے ہوتا ہوا فراش ٹاؤن پر اختتام پذیر ہوا، اسلام آباد میں آزادی کارواں کی قیادت محمد قذافی، یاسر اعوان ، محمد علی ودیگر نے کی.رحیم یار خان میں بھی آزادی کارواں میں بڑی تعداد میں شہری شریک ہوئے.

    مرکزی مسلم لیگ کی ہفتہ آزادی کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک ،انجینئر حارث ڈار و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی مسلم لیگ کی ہفتہ آزادی کی تقریبات 14 اگست تک جاری رہیں گی، ہفتہ آزادی کے دوران شرکا ء کے جذبات ،سبزہلالی پرچموں کی بہار سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم متحد اور فاتح ہے، دشمن کو کبھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرآت نہیں ہو گی.