Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مدد کے بہانے نابینا خاتون سے کئی ماہ تک جنسی زیادتی

    مدد کے بہانے نابینا خاتون سے کئی ماہ تک جنسی زیادتی

    لاہور میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں نابینا خاتون کے ساتھ مدد کے بہانے کئی ماہ تک جنسی زیادتی کیے جانے کے ساتھ ساتھ اس سے بھیک بھی منگوائی گئی جبکہ ملزم تاحال آزاد ہے۔

    خاتون نے اپنے بیان میں بتایا کہ ملزم اسے بہلا پھسلا کر لاہور لے کر آیا، جہاں نہ صرف جنسی زیادتی کرتا رہا بلکہ زبردستی بھیک منگواتا اور اس کی کمائی بھی ہڑپ کرتا رہا۔ ملزم نے نکاح کا جھانسہ دے کر پہلے شوہر سے طلاق بھی دلوائی، بعدازاں طلائی زیورات اور نقدی چھین لی، مسلسل ظلم و جبر کے بعد نابینا خاتون کسی طرح ملزم کے چنگل سے فرار ہو کر دوبارہ اپنے علاقے بی پلاٹ پہنچ گئی، متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ کارروائی شروع کرنے پر ملزم نے اسے قتل کی دھمکیاں بھی دیں۔ خاتون نے انصاف کے لیے میڈیا سے رابطہ کیا، جس کی نشاندہی پر پولیس فوری حرکت میں آئی اور مقدمہ درج کرلیا،نابینا خاتون نے پولیس کے اعلیٰ حکام اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ اسے انصاف فراہم کیا جائے اور ملزم کو فوری گرفتار کر کے عبرتناک سزا دی جائے۔

  • کسی کو اجازت نہیں دینگے کہ کوئی لوگوں کو تنگ کرے،وزیر داخلہ سندھ

    کسی کو اجازت نہیں دینگے کہ کوئی لوگوں کو تنگ کرے،وزیر داخلہ سندھ

    وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا ہے کہ کراچی بھتہ خوری کا معاملہ سنجیدہ ہے تاہم بزنس کمیونٹی کے مسائل بھی حل کیے جاتے ہیں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ بھتہ خوری کا معاملہ سنجیدہ معاملہ ہے، کچھ تاجروں کو بھتا نہ دینے پر دھمکیاں آئی ہیں، چاہتے ہیں کہ کاروبار پھلے پھولے، کسی کو اجازت نہیں دینگے کہ کوئی لوگوں کو تنگ کرے،کراچی میں بھتہ خوری میں ملوث 4 افراد مقابلے میں مارے گئے اور 3 ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔

    اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ سی آئی اے اور ایس آئی یو نے 2ہفتے میں 20سے زیادہ بھتہ خور گرفتارکیے، پورے سال میں بھتہ خوری کی 118 کیس رپورٹ ہوئے ہیں، بھتےکے رپورٹ ہونے والے 44 کیس ذاتی اختلافات کے تھے، پولیس نے سال بھر میں 43 بھتہ خور پکڑے ہیں، پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث ملزمان کا پیچھا کررہے ہیں، کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں 28 فیصد کمی آئی ہے اور گاڑیاں چھینے کی وارداتوں میں 19 فیصد کمی آئی ہے۔

  • خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ مل کر دہشتگردی کی جڑ کو اُکھاڑ پھینکیں گے،ترجمان پاک فوج

    خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ مل کر دہشتگردی کی جڑ کو اُکھاڑ پھینکیں گے،ترجمان پاک فوج

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ مل کر دہشتگردی کی جڑ کو اُکھاڑ پھینکیں گے،ایک سال میں 14535 آپریشن کیے، کامیاب آپریشنز دہشتگردوں کے ناپاک حملے کا بدلہ ہے،ہم سب کو ملکر دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔

    پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج کا کہنا تھاکہ میں پشاور اسی لیے آیا ہوں کہ خیبرپختونخوا کے بہادر عوام کے ساتھ بیٹھ کر دہشت گردی کے خلاف ہماری کارروائیوں اور چیلنجز کو واضح کروں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، پاکستانی افواج دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں،2024 کے دوران 577 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، کے پی میں 2024 کے دوران 14 ہزار 500 سے زائد آپریشنز کیے گئے،خیبرپختونخوا میں ساڑھے 14 ہزار سے زائد آپریشنز کیے گئے،

    دہشتگردی بڑھنے کی وجہ اس پہ سیاست اور انکے لیے کے پی کے میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا ہے ۔ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخواہ میں گمراہ کن بیانیے بنانے کی کوشش کی گئی، جس کا خمیازہ خیبرپختونخواہ کے عوام بھگت رہے ہیں۔نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں ہوا، ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں کو خیبرپختونخوا میں جگہ دی گئی،نیشنل ایکشن پلان کی خلاف ورزی، دہشت گردی پر سیاست، بھارت کا افغانستان کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے بیس کے طور پر استعمال کرنا، افغانستان کا دہشت گردوں کو اسلحہ اور پناہ گاہیں دینا اور اور دہشت گردوں کو مقامی اور سیاسی پشت پناہی ملنا دہشت گردی کے پانچ بنیادی عوامل ہیں،گورننس کو برباد کرنے کی کوشش کی گئی ،2021 میں نیشنل ایکشن پلان سے چیزوں کو نکالا گیا۔نیشنل ایکشن پر مکمل عمل نہیں ہوا جس سے دہشتگردی بڑھی۔14 نکات میں شامل تھا کہ آپ دہشتگردوں اور خوارج کو ماریں گے، گزشتہ سالوں میں جو خوارج مارے گئے ان میں 161 افغانی 30 قریب خودکش بمبار بھی افغان نیشنیلیٹی والے تھے۔رواں سال مارے جانے والے خارجیوں کی تعداد پچھلے دس سالوں سے زیادہ ہے۔ دہشتگردی بڑھنے کی وجہ اس پہ سیاست اور انکے لیے کے پی کے میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا ہے ۔ دہشتگردوں کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے ، خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ 2024 میں 769 دہشتگرد جہنم واصل کئے 2025 میں اب تک 10,115 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز ہوئے ہیں رواں سال 516 اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا،ہزاروں معصوم شہریوں قانون نافذ کرنے والے اداروں انٹیلیجنس ایجنسیز، افواج پاکستان، پولیس، اور ایف سی کے جوانوں نے اپنے خون پاکستان کی دھرتی کو سینچا ہے،خیبر پختونخوا میں مدارس کو رجسٹر تک نہیں کر سکے.

    اگر ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہوتا تو اتنی جنگیں اور غزوات نہ ہوتے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
    افغانستان کو بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے؛ ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کی بات کی جاتی ہے، کیا ہر مسئلے کا حل مذاکرات ہے؟ ہر مسئلے کا حل مذاکرات ہوتے تو جنگ بدر نہ ہوتا، اگر ہر مسئلے کا حل مذاکرات ہوتا تو بدر کی جنگ کو یاد رکھیں، کہ سرور کُونین، دو جہان جن کےلئے بنائے گئے، وہ ذات جس سے بڑھ کر کوئی انسان نہیں، کیوں نہیں اُس دن اُنہوں نے بات چیت کر لی، اُدھر تو باپ کے آگے بیٹا کھڑا تھا، بھائی کے آگے بھائی کھڑا تھا، کیا ہر چیز کا حل بات چیت میں ہے؟ اگر ہر چیز کا حل بات چیت ہوتا تو دنیا میں جنگیں نہیں ہوتی، جب 9 اور 10 مئی کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تب یہ کیوں نہیں کہا گیا کہ بھارت سے بات چیت کریں،جب بھارت کے میزائل آئے تو عوام نے کیوں نہیں کہا کہ بات چیت کر لیں، افغانستان میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں، بھارت ان دہشتگردوں کو سہولت فراہم کر رہا ہے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔آج یہ بیانیہ کہاں سے آ گیا کہ افغانوں کو واپس نہیں بھیجنا تو کیا آپ 2014 میں غلط تھے، 2021 میں غلط تھے، آج ریاست کہہ رہی ہے کہ افغان بھائیوں کو واپس بھیجیں تو سیاست کی جاتی ہے، بیانئے بنائے جاتے ہیں، گمراہ کُن باتیں کی جاتی ہیں،ایک بیانیہ بنایا جائے کہ سب مل کر، یک زبان ہو کر دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہوں۔ یہ ہم نے نہیں کہا، یہ وہ بات ہے جس پر آپ کی سیاسی جماعتیں 2014 سے متفق ہیں، سوال یہ ہے کیا آج ہم واقعی ایک بیانیے پر کھڑے ہیں،

    یہ جو خیبرپختونخوا میں دہشتگردی ہے، اُس کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے،ترجمان پاک فوج
    کسی فرد واحد کو پاکستان کا سودا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، ڈی جی آئی ایس پی آر
    خوارج اور ان کے سہولت کار اب نہیں بچ جائیں گے،دہشتگردی پر کوئی سمجھوتہ نہیں،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج نے اعلان کیا کہ ہم دہشتگردی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے، چاہے وہ بھارت سے ہو یا افغانستان سے۔پنجاب اور سندھ میں دہشتگردوں کے کیمپس کیوں نہیں ہیں ؟ دہشتگرد وہاں بھی آپریٹ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہاں انکے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ۔وہاں گورننس قائم ہے ۔ سیاسی دہشتگردی موجود نہیں ہے ،کے پی کے صوبے میں گورننس کے بجائے سیاست کی جاتی ہے۔جبکہ باقی صوبوں میں ایسا نہیں ہوتا۔
    اسی وجہ سے آرمی چیف کہہ چکے ہیں کہ انہیں گورننس کے گیپس کو فوج کے جوان اپنے خون سے پر کر رہے ہیں۔منشیات اسمگلنگ ، بھتہ خوری ، اغواء برائے تاوان اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں سے پاک کرنا ہے ، جب کام کرتے ہیں تو مخٹلف جگہوں سے آوازیں آتی ہیں،یہ جو خیبرپختونخوا میں دہشتگردی ہے، اُس کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے، پاکستان کی سکیورٹی کسی دوسرے ملک کو نہیں دی جا سکتی،اس کی سکیورٹی صرف پاکستان کے ادارے کریں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ کے پی حکومت افغانستان سے سیکیورٹی کی بھیک مانگنے بغیر خیبرپختونخوا کے عوام کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے، دہشتگرد یا انکے سہولت کار کسی بھی عہدے پر ہو انکے خلاف زمین تنگ کر دی جائے گی،کسی فرد واحد کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنی ذات اور اپنے مفاد کےلئے پاکستان اور خیبرپختونخوا کے غیور اور باعزت عوام کی جان، مال اور عزت کا سودا کرے، خوارج کی پشت پناہی کرنے والے خوارج کو ریاست کے حوالے کریں یا اس ناسور کے خاتمے کیلئے افواج پاکستان کا ساتھ دیں۔ بصورت دیگر ریاست کی جانب سے بھرپور ایکشن کیلئے تیار رہیں،ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اب ” سٹیٹس کو” نہیں چلے گا ۔ خارجیوں کے سہولت کاروں کے پاس دو چوائسز ہیں یا تو ان دہشتگردوں کو ہمارے حوالے کردیں یا خود ختم کردیں ورنہ یہ سہولتکار ہمارا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں ،چاہے وہ کوئی بھی ہو، کسی بھی عہدے پر ہو، اُس کےلئے زمین تنگ کر دی جائے گی کیونکہ پاکستانی قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر ایک بنیانُ مرصوص کی طرح دہشتگردوں اور اُن کے سہولت کاروں کےخلاف کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی،ہم سیاسی شعبدہ بازی سے خوفزدہ نہیں ہوں گے ہم اپنے شہداء کی قربانیوں پر کسی کو سیاست کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔

    کون ہے وہ شخص جو کہتا ہے مجھے ایسی صوبائی حکومت چاہیے جو آپریشن بند کرے؟ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہناتھا کہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ دہشتگرد جیسے عناصر کو جب آپ اِنہیں پالتے ہیں تو یہ سانپ کی طرح ہوتے ہیں، سانپ کو جو پالے گا، وہ سانپ پر کبھی بھروسہ نہیں کر سکتا، یہ افغانستان کےلئے اپنے لئے بھی خطرہ ہے،کون ہے جو کہہ رہا ہے آپریشن بند کردیں بات چیت کر لیں۔ کون ہے وہ شخص جو کہتا ہے مجھے ایسی صوبائی حکومت چاہیے جو آپریشن بند کرے؟، اُس وقت وہ ریاست کے ذمے دار تھے، آج ریاست کا حصہ نہیں، پھر بھی یہی کہہ رہے ہیں،کس سے بات چیت کرو، نور ولی محسود سے بات چیت کرو جو کہتا ہے مشرک سے بھی الحاق جائز ہے۔ جو بھارت سے ملا ہوا ہے کیا اس سے بات چیت کرسکتے ہیں۔

    کے پی میں موجود 8 ہزار 11 مدارس میں سے صرف 4 ہزار 355 مدارس رجسٹرڈ ہیں۔ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ اگست 2025 تک انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں 34 مقدمات زیرالتواء ہیں، جو صرف ایک ماہ کے دوران مؤثر پیش رفت نہ ہونے کی علامت ہیں، مجموعی طور پر ایسے مقدمات جنہیں تین سال سے کم عرصہ گزرا ہے، ان کی تعداد 2 ہزار 878 ہے، جبکہ تین سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود 1 ہزار 706 کیسز بدستور زیرالتواء ہیں، کیا وہی عدالتی نظام، جسے مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، آج اپنی ذمہ داری پوری کر رہا ہے؟ منشیات سے متعلق 10 ہزار 87 مقدمات میں سے صرف 679 کیسز میں سزائیں سنائی گئیں، جبکہ غیر قانونی اسلحہ اور اسمگلنگ سے متعلق 39 ہزار سے زائد کیسز میں صرف 6 ہزار 945 کیسز میں فیصلے ہوئے،خیبر پختونخوا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کی کل تعداد صرف 3 ہزار 200 ہے، جو صوبے کے سیکیورٹی چیلنجز کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ اس کے علاوہ صوبے میں موجود 8 ہزار 11 مدارس میں سے صرف 4 ہزار 355 مدارس رجسٹرڈ ہیں۔دہشت گرد صوبے میں آ کر مدارس میں گمراہ کرتے ہیں، لوگوں کو ورغلاتے ہیں، گلی محلوں میں غیر قانونی رہتے ہیں ، بم بناتے ہیں، یہ سب رپورٹ کرنا، پکڑنا صوبائی حکومت کی زمہ داری ہے،صوبائی حکومت گڈ گورنس سمیت اکنامک ایکٹیویٹی نا کرتے نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں کر رہی۔

    پاکستان کے عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے کے لیےجو ضروری اقدامات کیے جانے چاہئیں وہ کیے جائیں گے،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان نے گزشتہ رات افغانستان میں چار ایئر سڑائکس کیں؟ کیا اس کے نتیجے میں دہشتگرد نور ولی محسود ہلاک ہوا۔؟جس کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھاکہ پاکستان کے عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے کے لیےجو ضروری اقدامات کیے جانے چاہئیں وہ کیے جائیں گے اور کیے جاتے رہیں گے۔افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے اور ہمارا ان سے صرف ایک مطالبہ ہے کہ افغانستان کو دہشتگردوں کی آماجگاہ نہ بننے دیں، ہمارے وزرا بھی وہاں گئے اور انہیں بتایا کہ یہ دہشتگردوں کے سہولتکار ہیں۔ افغانستان میں موجود بھارتی پراکسیز کی جانب سے دہشتگردانہ کارروائیاں کی گئیں، افغانستان پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے بیس کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، اس کے ثبوت اور شواہد موجود ہیں۔پاکستان زندہ باد رہے گا، خیبر پختونخوا زندہ باد رہے گا، پاکستان کی سلامتی کے فیصلے صرف پاکستان میں ہونگے

    فوج میں کسی کےخلاف قانونی کارروائی ہوتی ہے تو اُسے تمام قانونی حقوق حاصل ہوتے ہیں،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ فوج میں کسی کےخلاف قانونی کارروائی ہوتی ہے تو اُسے تمام قانونی حقوق حاصل ہوتے ہیں، اپنے لئے سول وکیل بھی کیا جا سکتا ہے، یہ بیانیہ ہوتا ہے کہ آرڈر دیا اور سزا دے دی، ایسے نہیں ہوتا، ریاست پاکستان اور اسکے عوام کو کسی ایسے شخص کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیا جاسکتا، بالخصوص اُس کو جس پر پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے دوبارہ سر اُٹھانے کی بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے،سابق ڈائریکٹر جنرل( ڈی جی) انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کا ٹرائل ہو رہا ہے، ان کا کورٹ مارشل ہورہا ہےفوج میں خود احتسابی کا عمل الزامات پر نہیں ہوتا بلکہ حقائق پر ہوتا ہے، فوج کا ریاست کے ساتھ سرکاری تعلق ہوتا ہے، ذاتی یا سیاسی نہیں، اس تعلق کو کوئی ذاتی بناتا ہے تو یہ غلط ہے، فیصلے ریاست کرتی ہے ہم نے ان معاملات میں اپنا ان پٹ اور رائےدیتے ہیں، ہم کسی کی سیاست کو لے کر نہیں چلتے، فوج کے اندر خود احتسابی کا ایک نظام ہے جس کو چارج کیا جاتا ہےاس کو خود کے دفاع کیلئے پورا موقع دیاجاتا ہے، ہمیں کسی تاخیر کی کوئی پریشانی نہیں ہےفیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ تعلق کو ذاتی اور سیاسی بنادیں توجوابدہی ہوگی، ہمیں آپ اپنی سیاست میں نہ لائیں، آپ کی سیاست آپ کو پیاری ہماری لیےتمام سیاسی جماعتیں قابل احترام ہیں۔

  • امیربالاج قتل کیس،مرکزی ملزم طیفی بٹ دبئی سے لاہور منتقل

    امیربالاج قتل کیس،مرکزی ملزم طیفی بٹ دبئی سے لاہور منتقل

    پولیس امیر بالاج ٹیپو قتل کیس کے مرکزی ملزم طیفی بٹ کو دبئی سے لاہور لے آئی

    نجی ٹی وی کے مطابق ملزم خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ کو دبئی کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے طیفی بٹ سے پاکستان جانے سے متعلق سوال کیا، اس پر ملزم نے پاکستان جانے اور مقدمات کا سامنا کرنے کا کہا،ملزم کی رضا مندی پر دبئی کی عدالت نے طیفی بٹ کو پنجاب پولیس کے حوالے کردیا،پولیس کا کہنا ہےکہ طیفی بٹ امیر بالاج ٹیپو کے قتل کا مرکزی ملزم ہے جسے لاہور منتقل کردیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ فروری 2024 میں ٹیپو ٹرکاں والا کے بیٹے امیر بالاج کو شادی کی ایک تقریب میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا،تھانہ چوہنگ پولیس نے امیر بالاج کے قتل کا مقدمہ درج کیا تھا جس میں خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ اور عقیل عرف گوگی بٹ کو نامزد کیا گیا تھا، مقدمے کا مرکزی ملزم احسن شاہ پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا تاہم طیفی بٹ ملک سے فرار ہو گیا تھا۔

  • خیرپور اسپیشل اکنامک زون "ایشیا پیسیفک کے نمایاں صنعتی زونز” میں شامل

    خیرپور اسپیشل اکنامک زون "ایشیا پیسیفک کے نمایاں صنعتی زونز” میں شامل

    خیرپور اسپیشل اکنامک زون "ایشیا پیسیفک کے نمایاں صنعتی زونز” میں شامل کر لیاگیا

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی عالمی سطح پر کامیابی، پاکستان کے لئے اعزاز ہے، ایف ٹی گلوبل فری زونز آف دی ایئر 2025 ایوارڈز میں شامل ہونا پاکستان کے لیے اعزاز ہے، یہ عالمی ایوارڈ سندھ کے صنعتی سفر میں ایک سنگِ میل ہے، خیرپور اسپیشل اکنامک زون بین الاقوامی کامیابی حاصل کی ہے، ایف ڈی آئی میگزین نے خیرپور اسپیشل اکنامک زون کو ایشیا کے بہترین صنعتی زونز میں شمار کیا ہے، خیرپور اسپیشل اکنامک زون ، چین، ویتنام، انڈونیشیا اور ملائیشیا کے صنعتی زونز کے شانہ بشانہ قرار پایا ہے، یہ اعتراف سندھ حکومت کے پائیدار صنعتی ترقی اور جامع معاشی ترقی کے وژن کی توثیق کرتا ہے ، خیرپور اسپیشل اکنامک زون کی کامیابی سندھ کی پائیدار صنعتی پالیسی کا ثبوت ہے، سندھ اکنامک زونز مینجمنٹ کمپنی کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے،

    وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ خیرپور اسپیشل اکنامک زون روزگار، برآمدات اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات کی علامت ہے،سندھ پاکستان کی صنعتی تبدیلی میں ایک نمایاں قوت کے طور پر ابھر رہا ہے،ہم علاقائی تجارت کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ معیاری روزگار کے مواقع پیدا ہوں،ویلیو ایڈیڈ مینوفیکچرنگ کے ذریعے برآمدی بنیاد کو مضبوط بنایا جا رہا ہے،

  • ٹرمپ دیکھتے رہ گئے،نوبیل امن انعام خاتون رہنما لے اڑیں

    ٹرمپ دیکھتے رہ گئے،نوبیل امن انعام خاتون رہنما لے اڑیں

    ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں نوبیل کمیٹی نے سال 2025ء کے نوبیل امن انعام کا اعلان کر دیا ہے، جو اس مرتبہ وینزویلا کی معروف جمہوریت نواز رہنما ماریہ کورینا مچاڈو (María Corina Machado) کو دیا گیا ہے۔

    نوبیل کمیٹی کے سربراہ جورجین واٹن فریڈنس نے اوسلو میں اعلان کیا کہ مچاڈو کو یہ اعزاز وینزویلا میں جمہوریت، انسانی حقوق اور عوامی آزادیوں کے فروغ کے لیے ان کی طویل اور جرات مندانہ جدوجہد کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔مچاڈو وینزویلا میں اپوزیشن کی اہم رہنما مانی جاتی ہیں، جنھوں نے برسوں سے ملک میں آمرانہ حکومت کے خلاف سیاسی جدوجہد جاری رکھی۔ انھوں نے عوامی سطح پر انتخابی شفافیت، آئین کی بالادستی، اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے مہم چلائی۔ان کی کوششوں کے نتیجے میں انھیں متعدد بار دھمکیاں، سیاسی پابندیاں، اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا، تاہم وہ اپنے مؤقف پر قائم رہیں۔

    نوبیل امن انعام ہر سال ایسے فرد یا ادارے کو دیا جاتا ہے جو بین الاقوامی امن کے فروغ، تنازعات کے خاتمے، انسانی ہم آہنگی، اور عالمی تعاون میں نمایاں کردار ادا کرے۔یہ انعام الفریڈ نوبیل کی یاد میں دیا جاتا ہے، جو ایک سویڈش سائنس دان اور صنعت کار تھے اور ڈائنامائٹ کے موجد کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

    عالمی رہنماؤں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ماریہ کورینا مچاڈو کو نوبیل امن انعام ملنے پر انھیں مبارکباد دی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی نوبیل انعام کے خواہشمند تھے،پاکستان سمیت کئی ممالک نے انہیں نوبیل انعام کے لئے نامز دکیا تھا تاہم ٹرمپ کا خواب ادھورا رہ گیا

  • راستے بند،اراکین نہ پہنچ سکے،سینیٹ اجلاس ملتوی

    راستے بند،اراکین نہ پہنچ سکے،سینیٹ اجلاس ملتوی

    سینیٹ کا اجلاس جڑواں شہروں کے راستے بند ہونے اور ارکان کی غیر حاضری کے سبب غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

    پریذائیڈنگ افسر منظور احمد کاکڑ کی زیرِ صدارت سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وقفہ سوالات و جوابات کو معطل کر دیا گیا، پریذائیڈنگ افسر نے کہا کہ وقت کی کمی ہے اور تمام ارکان سیلاب کے موضوع پر بات کرنا چاہتے ہیں،اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان غیر حاضر رہے جبکہ گزشتہ روز بھی وہ سینیٹ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے، اس دوران سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کورم کی نشاندہی کی جس پر پریذائیڈنگ افسر منظور احمد کاکڑ نے گنتی کروانے کی ہدایت کی، پریذائیڈنگ افسر نے اعلان کیا کہ ایوان میں کورم مکمل نہیں ہے اور 5 منٹ کے لیے گھنٹیاں بجانے کا حکم دیا۔

    وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ایک جماعت کی اسلام آباد میں سرگرمی کے باعث راستے بند ہیں جس کی وجہ سے زیادہ تر ارکان اجلاس میں نہیں پہنچ سکے،اس دوران پیپلز پارٹی کے سینیٹر سیلیم مانڈی والا اجلاس میں پہنچ گئے تاہم اس کے باوجود سینیٹ اجلاس میں کورم پورا نہیں ہو سکا اور آخرکار سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

  • انڈونیشیا  کا اسرائیلی جمناسٹس کو ویزہ دینے سے انکار

    انڈونیشیا کا اسرائیلی جمناسٹس کو ویزہ دینے سے انکار

    انڈونیشیا نے غزہ میں جاری قتل عام پر اسرائیلی جمناسٹس کو ویزہ دینے سے انکار کردیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق غزہ میں ہونے والے اسرائیلی حملوں پر بطور احتجاج انڈونیشیا نے اسرائیلی جمناسٹس (ایتھلیٹس) کو جمناسٹک چیمپئن شپ کے لیے ویزے دینے سے انکار کردیا،انڈونیشیا جمناسٹک فیڈریشن کی چیف ایٹا جولیاتی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اسرائیلی جمناسٹس کی ایونٹ میں شرکت نہ کرنے کی تصدیق ہوگئی ہے،اس حوالے سے اسرائیل جمناسٹکس فیڈریشن کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی ٹیم نے 19 سے 25 اکتوبر تک انڈونیشیا میں ہونے والی ورلڈ آرٹسٹک جمناسٹک چیمپئن شپ میں شرکت کرنا تھی،

  • موٹروے،راستوں کا بندش کا معاملہ قومی اسمبلی پہنچ گیا

    موٹروے،راستوں کا بندش کا معاملہ قومی اسمبلی پہنچ گیا

    قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا

    عامر ڈوگر نے کہا کہ موٹر وے بند ہے، اراکین مشکل سے پارلیمنٹ پہنچے ہیں، راستے بند ہیں ،اسپیکراس معاملےپرکچھ کریں ،جس پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ فریقین میں معاہدہ ہوچکا ہے،وہ آپس میں خوش ہیں،راستوں کے بندش کے معاملے کو دیکھ لیتے ہیں ،مُجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ فلسطین کے لوگ معاہدے سے خوش ہیں لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں ہم خوش نہیں

    قومی اسمبلی کے تمام ارکان کو آئی پیڈ کی فراہمی شروع کر دی گئی،ارکان کو قومی اسمبلی سے متعلق تمام مواد اب آئی پیڈ پر دستیاب ہو گا،قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر سردار ایاز صادق نے ایوان کی کارروائی کو ڈیجیٹائز کرنے اور ای-پارلیمنٹ کے نظام کے آغاز سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات سے اراکین کو آگاہ
    کیا۔

  • افغان وزیر خارجہ کی بھارتی ہم منصب سے ملاقات

    افغان وزیر خارجہ کی بھارتی ہم منصب سے ملاقات

    بھارت کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اور اسلامی امارتِ افغانستان کے وزیرِ خارجہ مولوی امیر خان متقی کے درمیان نئی دہلی میں ملاقات ہوئی۔
    دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز اس وقت ہوا جب بھارت نے افغانستان میں اپنی سفارتی نمائندگی کو سفارت خانے کے درجے تک بڑھانے کا باضابطہ اعلان کیا۔مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بھارتی وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا کہ "بھارت، افغانستان کی خودمختاری، ارضی سالمیت اور آزادی کا مکمل احترام کرتا ہے بھارت، افغانستان کے عوام کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے اور خصوصاً صحت کے شعبے میں تعاون کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھے گا۔

    مولوی امیر خان متقی نے اس موقع پر بھارت کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ کابل میں بھارتی سفارت خانے کی بحالی دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گی۔

    ڈاکٹر جے شنکر نے پریس کانفرنس کے دوران افغانستان کی کرکٹ ٹیم کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ
    افغانستان کی کرکٹ میں ابھرنے والے غیر معمولی ٹیلنٹ واقعی قابلِ تعریف ہیں، اور بھارت اس کھیل کی ترقی میں مزید تعاون بڑھانے پر مسرور ہے۔

    ذرائع کے مطابق، ملاقات میں باہمی تجارت، علاقائی سلامتی، انسانی امداد اور تعلیمی تعاون پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔