Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اسرائیلی حراست سے رہائی پانے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد پاکستان پہنچ گئے

    اسرائیلی حراست سے رہائی پانے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد پاکستان پہنچ گئے

    اسرائیلی حراست سے رہائی پانے والے جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بالآخر پاکستان واپس پہنچ گئے۔ وہ اردن سے اسلام آباد پہنچے جہاں ان کے استقبال کے لیے عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    اسلام آباد ایئرپورٹ پر ان کے چاہنے والوں نے شاندار استقبال کیا، پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے نعرہ تکبیر اور "فلسطین زندہ باد” کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ مشتاق احمد خان نے بھی فلسطین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے گلے میں فلسطینی روایتی کفیہ پہن رکھا تھا۔اسلام آباد ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشتاق احمد خان کا کہنا تھا "ہمیں نہ قید و بند سے ڈر ہے نہ ظلم سے، فلسطینی عوام کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ میں بہت جلد دوبارہ غزہ کے لیے روانہ ہوں گا۔ فلسطین ان شاء اللہ آزاد ہو کر رہے گا۔”انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی میں پاکستان کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔دورانِ سفر صمد فلوٹیلا پر 3 ڈرون اٹیک ہوئے، ہم نے 30 دن اور 30 راتیں سمندر میں گزاریں۔ 2 سال سے زائد ہو گئے، فلسطین میں مسلمانوں کا قتلِ عام ہو رہا ہے، غزہ میں ہزاروں کی تعداد میں بچے معذور اور یتیم ہو گئے ، مسلمان ممالک کو مل کر فلسطین سے متعلق غور کرنا ہو گا، 2 سال سے فلسطین میں ہونے والی نسل کشی ظلم کی انتہا ہے۔

    یاد رہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد لے کر جانے والے "گلوبل صمود فلوٹیلا” قافلے میں دیگر بین الاقوامی سماجی کارکنوں کے ہمراہ شرکت کی تھی۔ یہ قافلہ غزہ کی محصور آبادی کے لیے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری امداد لے کر روانہ ہوا تھا۔تاہم اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں قافلے کی تمام کشتیوں پر قبضہ کر لیا اور ان میں سوار تقریباً 500 کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا۔ ان افراد میں مشتاق احمد خان بھی شامل تھے۔

    ذرائع کے مطابق گرفتار شدگان کو بدنام زمانہ اسرائیلی جیل میں رکھا گیا جہاں انہیں ذہنی اور جسمانی طور پر ہراساں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق جیل حکام نے قیدیوں پر کتے چھوڑے، روشنی اور شور کے ذریعے نیند سے محروم رکھا اور انہیں بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا۔

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دو روز قبل سینیٹر مشتاق احمد خان کی رہائی کی تصدیق کی تھی اور بتایا تھا کہ وہ خیریت سے ہیں اور ان کا حوصلہ بلند ہے۔ حکومت پاکستان نے ان کی رہائی کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کیں جس پر مشتاق احمد خان نے حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔

  • میجر سبطین حیدر شہید کی نمازِ جنازہ راولپنڈی میں ادا، وزیراعظم اور آرمی چیف کی شرکت

    میجر سبطین حیدر شہید کی نمازِ جنازہ راولپنڈی میں ادا، وزیراعظم اور آرمی چیف کی شرکت

    دہشت گردوں کے خلاف ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے ڈیرہ بن میں ہونے والے خفیہ آپریشن کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے میجر سبطین حیدر (عمر 30 سال، تعلق ضلع کوئٹہ) کی نمازِ جنازہ چکلالہ گیریژن، راولپنڈی میں ادا کی گئی۔

    نمازِ جنازہ میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر (نشان امتیاز، ہلالِ جرات)، وفاقی وزیر اطلاعات، سینئر عسکری و سول افسران، اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ “فتنہ الخوارج یا کسی بھی گمراہ نظریے کے حامل گروہ کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ہمارے شہداء کے خون نے اس عزم کو مزید مضبوط کیا ہے کہ ہم وطنِ عزیز پاکستان کی خودمختاری کے خلاف ہر فتنہ اور انتشار کے ایجنٹ کو ناکام بنائیں گے۔”

    میجر سبطین حیدر شہید کو ان کے آبائی علاقے کوئٹہ میں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق، شہید نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے ڈیرہ بن میں بھارتی پراکسی تنظیم “فتنہ الخوارج” کے دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کے دوران جامِ شہادت نوش کیا۔ پاک فوج نے عزم دہرایا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ مشن جاری رہے گا۔

  • نصیرآباد میں ریلوے ٹریک پر دھماکا، ملازم جاں بحق، جعفر ایکسپریس بال بال بچ گئی

    نصیرآباد میں ریلوے ٹریک پر دھماکا، ملازم جاں بحق، جعفر ایکسپریس بال بال بچ گئی

    بلوچستان کے ضلع نصیرآباد میں پٹ فیڈر کینال کے قریب ریلوے ٹریک پر دھماکے کے نتیجے میں ریلوے کا ایک ملازم جاں بحق ہوگیا، جبکہ ریلوے لائن کو جزوی نقصان پہنچا۔ خوش قسمتی سے جعفر ایکسپریس ایک بڑے حادثے سے محفوظ رہی۔

    پولیس حکام کے مطابق نامعلوم افراد نے ریلوے ٹریک پر ٹائم بم نصب کیا تھا۔ یہ وہی پٹڑی تھی جس سے کچھ ہی دیر بعد جعفر ایکسپریس گزرنے والی تھی۔ تاہم دھماکا ٹرین کی آمد سے قبل ہی ہوگیا جس کے باعث ایک ممکنہ تباہ کن سانحہ ٹل گیا۔دھماکے کے فوراً بعد پولیس، لیویز اور بم ڈسپوزل اسکواڈ موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں واضح ہوا ہے کہ دھماکا ریموٹ کنٹرول یا ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا۔

    ایس ایس پی نصیرآباد غلام سرور کے مطابق دھماکے سے ریلوے لائن کو جزوی نقصان پہنچا ہے، جب کہ ریلوے کے ایک ملازم کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ واقعے کے بعد مسافر ٹرینوں کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل کردی گئی اور جعفر ایکسپریس سمیت دیگر ٹرینوں کو قریبی ریلوے اسٹیشنوں پر روک لیا گیا۔محکمہ ریلوے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھماکے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی شبہ عسکریت پسند عناصر پر ظاہر کیا جا رہا ہے جو ماضی میں بھی بلوچستان میں ریلوے ٹریکس کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ریلوے ٹریک کی مرمت مکمل ہونے کے بعد ٹرین سروس بحال کر دی جائے گی، جبکہ واقعے کے ذمے داروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

  • لندن ہائیکورٹ کا عادل راجہ کو ساڑھے تین لاکھ پاؤنڈ کا جرمانہ

    لندن ہائیکورٹ کا عادل راجہ کو ساڑھے تین لاکھ پاؤنڈ کا جرمانہ

    لندن ہائی کورٹ نے عادل راجہ کو ساڑھے تین لاکھ پاؤنڈ کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا

    لندن ہائی کورٹ نے عادل راجہ کے تمام الزامات کو جھوٹا، بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے فیصلہ بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے حق میں سنا دیا۔ جج نے عادل راجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ £350,000 (تقریباً 14 کروڑ پاکستانی روپے) بطور ہرجانہ ادا کرے۔ بریگیڈیر ر راشد نصیر نے ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا ۔ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ عادل راجہ نے دانستہ طور پر جھوٹے الزامات لگا کر ایک معصوم شخص کی ساکھ کو نقصان پہنچایا .“پبلک انٹرسٹ میں جھوٹ بولنا نہیں، بلکہ سچ بولنا ضروری ہے”۔ جج نے عادل راجہ کو مستقبل میں بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے خلاف وہی پرانے الزامات دہرانے سے بھی سختی سے روک دیا ہے،

    یہ مقدمہ جون 2022 میں اس وقت دائر کیا گیا جب عادل راجہ نے سوشل میڈیا اور مختلف ویڈیوز میں بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے، ان الزامات میں آئی ایس آئی اور مرحوم صحافی ارشد شریف کے قتل سے جوڑنے کی کوشش بھی شامل تھی۔عدالت میں ان تمام الزامات کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد جج نے واضح طور پر کہا کہ عادل راجہ کوئی بھی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکے اور ان کی تمام باتیں جھوٹ اور قیاس آرائیوں پر مبنی تھیں۔

    فیصلے کے دوران جج نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ راشد نصیر نے صرف 50,000 پاؤنڈ ہرجانے کا مطالبہ کیوں کیا، جبکہ ان پر لگنے والے الزامات اتنے سنگین تھے کہ وہ اس سے کہیں زیادہ ہرجانے کے حق دار تھے۔ عدالت نے بعد ازاں ازخود فیصلہ کرتے ہوئے 350,000 پاؤنڈ کی خطیر رقم بطور ہرجانہ مقرر کی۔ عادل راجہ کو ہرجانےاورعدالتی اخراجات کی مد میں 13 کروڑ روپے دینا ہوں گے۔عادل راجا نے بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کو بدنام کیا اور ان پر جھوٹے الزامات لگائے، عادل راجا کو بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کو 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ ادا کرنا ہوں گے۔مقدمے میں شہزاد اکبر کا دیا گیا بیان بھی عدالت میں پیش کیا گیا، تاہم جج نے اس بیان کو ناقابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ عادل راجہ کی جانب سے انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) پر لگائے گئے الزامات بھی بے بنیاد تھے، کیونکہ ان کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔ اس فیصلے کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے مؤقف کی توثیق کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

  • برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر  کی شرجیل میمن سے ملاقات

    برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کی شرجیل میمن سے ملاقات

    کراچی میں تعینات برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم نے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن سے کراچی میں ملاقات کی۔

    برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم سے گفتگو کے دوران سندھ کے سینئر وزیر و صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے صوبے کی توانائی پالیسی، جاری منصوبوں اور بین الاقوامی شراکت داریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ توانائی کے مختلف منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہی ہے، جن میں تھر کول پاور پلانٹس، سولر اور ونڈ ہائبرڈ توانائی منصوبے، اور گھروں کی سولرائزیشن پروگرام شامل ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ عالمی بینک کے تعاون سے سولر اور ونڈ ہائبرڈ پاور پلانٹس کے نئے منصوبے جلد شروع کیے جائیں گے حکومت پاکستان اور برطانیہ کے اشتراک سے توانائی کے منصوبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہاں ہے، تاکہ توانائی اور قابل تجدید توانائی کے مزید منصوبے شروع کئے جا سکیں۔

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور سندھ حکومت مقامی وسائل کے مؤثر استعمال اور صاف توانائی کے فروغ کے ذریعے صوبے کو توانائی کے لحاظ سے خود کفیل بنانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کو سیلاب زدگان کے لئے دنیا کے سب سے بڑے ہائوسنگ منصوبے سے متعلق بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ سندھ میں دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ منصوبہ جاری ہے، جس کے تحت 21 لاکھ مکانات سیلاب متاثرین کے لیے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

    برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم نے حکومت سندھ کے کاوشوں اور ترقیاتی منصوبوں کی تعریف کی اور کہا کہ صوبے میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے جو کام ہو رہا ہے، وہ قابل ستائش ہے ۔ملاقات میں برطانوی ہائی کمیشن کی سینئر پولیٹیکل ایڈوائزر ہُدیٰ اکرام بھی موجود تھیں۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے معزز مہمانوں کو سندھی لنگی کے تحائف بھی پیش کئے۔

  • گنڈا پور کا استعفیٰ، اپوزیشن متحرک، نیا وزیراعلیٰ لانے کی تیاریاں تیز

    گنڈا پور کا استعفیٰ، اپوزیشن متحرک، نیا وزیراعلیٰ لانے کی تیاریاں تیز

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے استعفے کے بعد صوبے میں سیاسی منظرنامہ تیزی سے بدلنے لگا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے سرگرم مشاورت شروع کر دی ہے اور اراکین اسمبلی کو پشاور میں قیام کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور کے مستعفی ہونے کے فوراً بعد اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے رابطے تیز کر دیے ہیں اور مشترکہ حکمتِ عملی کے لیے اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کے بعد اراکین اسمبلی کو اعتماد میں لیا جائے گا، جبکہ نئے وزیراعلیٰ کے لیے متفقہ امیدوار کے نام پر مشاورت جاری ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی پشاور میں موجود ہیں اور اپوزیشن قیادت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ ان کی قیادت میں اپوزیشن جماعتیں وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے مشترکہ امیدوار لانے پر متفق ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    دوسری جانب وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و نشریات اختیار ولی خان نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں تصدیق کی کہ خیبرپختونخوا کی صورتحال پر متحدہ اپوزیشن میں تفصیلی مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں وزیراعلیٰ کے لیے مشترکہ امیدوار میدان میں اتارنے پر متفق ہیں تاکہ صوبے میں سیاسی استحکام پیدا کیا جا سکے۔ادھر پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کے جنرل سیکرٹری ملک حبیب نور اورکزئی نے بھی گفتگو میں تصدیق کی کہ ان کی جماعت اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسمبلی میں اکثریت حاصل ہو گئی تو جے یو آئی (ف) کے امیدوار کو وزیراعلیٰ کے طور پر سامنے لایا جا سکتا ہے۔ پارٹی آزاد اراکین سے بھی رابطے میں ہے تاکہ اپوزیشن کے متفقہ امیدوار کو کامیابی دلانے کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل کی جا سکے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق علی امین گنڈاپور کے استعفے کے بعد خیبرپختونخوا میں ایک نئی سیاسی صف بندی کا آغاز ہو گیا ہے، جہاں اپوزیشن جماعتیں برسراقتدار آنے کے لیے متحد ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ آئندہ چند دنوں میں صوبائی سیاست میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔

  • قطر ایئرویز کی پرواز میں مسافر کی موت، بیٹے کا ایئرلائن کے خلاف مقدمہ

    قطر ایئرویز کی پرواز میں مسافر کی موت، بیٹے کا ایئرلائن کے خلاف مقدمہ

    قطر ایئرویز کی ایک پرواز میں 85 سالہ ویجیٹرین (سبزی خور) مسافر ڈاکٹر اشوکا جے ویرہ دورانِ پرواز دم گھٹنے سے ہلاک ہوگئے، جب انہیں پہلے سے آرڈر کیے گئے سبزی والے کھانے کے بجائے گوشت پر مشتمل کھانا پیش کیا گیا۔

    یہ افسوسناک واقعہ 30 جون 2023 کو لاس اینجلس سے کولمبو جانے والی قطر ایئرویز کی طویل پرواز میں پیش آیا۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر اشوکا جے ویرہ، جو امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے معروف ریٹائرڈ کارڈیالوجسٹ تھے، نے 15 گھنٹے سے زائد دورانیے کی پرواز کے لیے ویجیٹرین کھانا پہلے سے بک کرایا تھا۔پرواز کے دوران عملے نے انہیں بتایا کہ ویجیٹرین کھانے دستیاب نہیں، اور اس کے بجائے گوشت والا عام کھانا دے دیا۔تاہم، کھانا کھاتے وقت ان کا دم گھٹنے لگا اور وہ بے ہوش ہوگئے۔ فلائٹ عملے نے فوری طبی امداد کی کوشش کی، ماہرین سے رابطہ کیا، لیکن حالت مزید بگڑ گئی۔ پرواز کو ہنگامی طور پر ایڈنبرا (اسکاٹ لینڈ) اتارا گیا، جہاں ڈاکٹر جے ویرہ کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ وہ چند دن بعد، 3 اگست 2023 کو انتقال کر گئے۔ڈاکٹروں کے مطابق ان کی موت Aspiration Pneumonia یعنی خوراک یا مائع کے سانس کی نالی میں چلے جانے سے پیدا ہونے والے پھیپھڑوں کے انفیکشن کے باعث ہوئی۔

    مرنے والے کے بیٹے سوریہ جے ویرہ نے قطر ایئرویز کے خلاف غلط موت اور غفلت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایئرلائن نے پہلے سے آرڈر کیے گئے ویجیٹرین کھانے کی فراہمی میں کوتاہی کی، اور بعد میں پیش آنے والی طبی ہنگامی صورتحال پر مناسب ردعمل نہیں دیا۔مدعی نے ایئرلائن سے 128,821 ڈالر کے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے، جو قانونی طور پر مقررہ کم از کم معاوضہ ہے۔مقدمے میں مزید کہا گیا ہے کہ قطر اور امریکہ دونوں مونٹریال کنونشن (Montreal Convention) کے دستخط کنندہ ممالک ہیں، جس کے تحت بین الاقوامی پروازوں میں کسی حادثے یا مسافر کی موت کی صورت میں ایئرلائنز پر سخت ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس کنونشن کے مطابق ایئرلائن کو ہلاک شدہ یا زخمی مسافروں کے لواحقین کو تقریباً 175,000 ڈالر تک کا معاوضہ ادا کرنا ہوتا ہے۔

    یہ واقعہ بین الاقوامی سطح پر ایئرلائنز کی پالیسیوں، مسافروں کے غذائی تقاضوں اور خاص طور پر بزرگ یا حساس مسافروں کے لیے حفاظتی اقدامات پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔یہ پہلا موقع نہیں جب قطر ایئرویز یا دیگر ایئرلائنز میں مسافروں کو مخصوص غذائی ہدایات کے باوجود خطرناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہو۔گزشتہ سال برطانوی ریئلٹی اسٹار جیک فاؤلر کو قطر ایئرویز کی دبئی جانے والی پرواز میں نٹس والے کھانے سے شدید الرجی کا سامنا ہوا تھا، حالانکہ انہوں نے پہلے ہی اپنی الرجی سے آگاہ کر رکھا تھا۔ اسی نوعیت کا واقعہ ان کے ساتھ ایک سال قبل بھی پیش آیا تھا۔اسی طرح سنگاپور ایئرلائنز کی ایک پرواز کو رواں سال گرمیوں میں پیرس موڑنا پڑا، جب ایک 41 سالہ خاتون مسافر جھینگے سے الرجک ردعمل کے باعث شدید بیمار ہوگئیں۔

  • متحدہ عرب امارات میں ہیروئن اسمگل کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب

    متحدہ عرب امارات میں ہیروئن اسمگل کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب

    متحدہ عرب امارات میں ہیروئن اسمگل کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا

    اے این ایف کی انٹیلیجنس اطلاعات پر مبنی کامیاب کارروائی کی گئی، نیٹ ورک کا سرغنہ ندیم خان گرفتارکر لیا گیا، منشیات اسمگلنگ میں ملوث 11 افراد گرفتار، 4 خواتین اور ایک فارماسسٹ شامل ہیں، نیٹ ورک غریب نوجوان جوڑوں کو جھوٹے خواب دکھا کر استعمال کرتا تھا،اے این ایف حکام کے مطابق منشیات کیپسولز کی شکل میں پیٹ میں چھپائی جاتی تھی

    اے این ایف کی جدید مانیٹرنگ سے نیٹ ورک بے نقاب ہوا، دو ہوائی اڈوں سے 4 نوجوان جوڑے ہیروئن سمیت گرفتار کر لئے گئے، جدید ٹیکنالوجی سے مزید تین سہولت کار گرفتارکئے گئے، تفتیش میں مفرور ملزمان کی نشاندہی مکمل کی گئی، اے این ایف حکام کا کہنا ہے کہ اکستان سے کسی خلیجی ملک کو منشیات اسمگل نہیں ہونے دیں گے

  • کے الیکٹرک کی آپریشنل ذمہ داریوں میں ناکامی ثابت،بھاری جرمانہ عائد

    کے الیکٹرک کی آپریشنل ذمہ داریوں میں ناکامی ثابت،بھاری جرمانہ عائد

    کے الیکٹرک کی آپریشنل زمہ داریوں میں ناکامی ثابت،بھاری جرمانہ عائد کر دیا گیا

    نیپرا نے کے الیکٹرک پر 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا،نیپرا کے مطابق کے الیکٹرک کی وضاحتیں پاور بریک ڈاؤن کا جواز فراہم نہیں کرتیں،جنوری 2023 کے بریک ڈاؤن کی ذمہ داری صرف نیشنل گرڈ پر ڈالنا درست نہیں،کے الیکٹرک اپنے سسٹم کی کمزوریوں اور خامیوں کا ذمہ دار قرار ہے،کے الیکٹرک کی جوابات غیر اطمینان بخش اور ناقابل قبول قرار دئئے گئے،اتھارٹی نے کے الیکٹرک کو 15 روز کے اندر عائد جرمانہ جمع کرانے کا حکم دے دیا، نیپرا کے مطابق حوالہ تکنیکی طور پر درست مگر ناکافی ہےلائسنس ہولڈر کی جانب سے بلیک اسٹارٹ صلاحیت کی وضاحت غیر مؤثر ہے،بلیک اسٹارٹ مشق کے باوجود حقیقی بحران میں ناکامی ہوئیبار بار ٹرپنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حفاظتی اقدامات مؤثر نہیں تھے،بلیک اسٹارٹ پلانٹ کی تکنیکی خامیاں بدستور برقرار رہیں،نیپرا نے کے الیکٹرک جواب کا جائزہ لینے کے بعد سماعت کا موقع فراہم کیا،سماعت 14 نومبر 2024 کو ہونا تھی،کے ای کی درخواست پر مؤخر کی گئی تھی،اتھارٹی نے دوبارہ سماعت 20 مارچ 2025 کو نیپرا ہیڈ آفس میں کی.

  • چھبیسویں آئینی ترمیم کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی

    چھبیسویں آئینی ترمیم کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی

    سپریم کورٹ میں 26 ویں ترمیم کیس کے دوران جسٹس محمد علی نے کہا کہ آئینی بینچ کیسے فل کورٹ بناسکتا ہے کیونکہ اب صورتحال مختلف ہے۔

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کےخلاف درخواستوں پر سماعت 8 رکنی آئینی بینچ نے کی۔،دوران سماعت جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ کیا فل کورٹ تشکیل دینے میں کوئی رکاوٹ ہے؟ جسٹس محمد علی نے کہا کیا موجودہ 8 رکنی بینچ فُل کورٹ تشکیل دینے کا دائرہ اختیار رکھتاہے؟ وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ کوئی فرق نہیں پڑتا موجودہ بینچ ریگولر ہے یا آئینی،کیس کون سنےگا؟ موجودہ بینچ فیصلہ کرسکتا ہے۔جسٹس محمد علی نے کہاکہ اگر ہم جوڈیشل آرڈرجاری کریں تو آپ ایڈمنسٹریٹو آرڈر کہیں گے؟کیا ایسے آرٹیکل 191 اے کی خلاف ورزی نہیں ہوگی؟،وکیل منیر اے ملک نےکہا کہ کوئی خلاف ورزی نہیں ہوگی، آئینی بینچ کے پاس جوڈیشل اختیارات ہیں۔جسٹس امین الدین نے کہا کہ ہم تو آئین و قانون کے مطابق مقدمات سن رہے ہیں، ہمیں ترمیم سے کیا فائدہ ہوا ہم نے الٹا گالیاں بھی بہت کھائی ہیں،

    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں آئینی بینچ جوڈیشل اختیارات کا استعمال کرکے فل کورٹ تشکیل دے؟ عدالت نے کئی بار ترمیم کےبجائے آئین پر انحصار کیا ہے۔جسٹس محمد علی نے کہا آرٹیکل191اے موجود ہے، بتائیں آئینی بینچ کیسےفُل کورٹ تشکیل دے سکتا ہے؟کیونکہ اب صورتحال مختلف ہے۔وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ فُل کورٹ کےلیے موجودہ بینچ کی جانب سے ڈائریکشن دیےجانےکی استدعا ہے، سپریم کورٹ کے اندر آئینی بینچ قائم ہے، سپریم کورٹ کےتمام ججز پر مبنی بینچ درخواستوں پر سماعت کرے۔

    ایڈوکیٹ منیر اے ملک نے اپنے دلائل مکمل کر لئیے ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر ہم سپریم کورٹ کے تمام ججوں پر مشتمل آئینی بنچ بنانے کا کہہ دیں تو کیا آپکو منظور ہو گا،ایڈوکیٹ منیر اے ملک نے کہا کہ اگر چھبیسویں آئینی ترمیم سے پہلے والے ججوں پر مشتمل فل کورٹ بناتے ہیں تو مجھے قبول ہو گا،

    چھبیسویں آئینی ترمیم کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی ،سپریم کورٹ بار کے سابق چھ صدور کے وکیل عابد زبیری دلائل دیں گے