Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی حمایت یافتہ اراکین کو آزاد قرار دے دیا

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی حمایت یافتہ اراکین کو آزاد قرار دے دیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ امیدواروں کو آزاد اراکین کے طور پر ظاہر کرتے ہوئے نئی پارٹی پوزیشن فہرست جاری کر دی ہے۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے 25 اگست 2025ء کے حکم کے مطابق کیا گیا ہے، جس میں عدالت نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ اور انتخابی نشان سے متعلق معاملات پر تفصیلی ہدایات دی تھیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ اسمبلی کی نئی فہرستیں شائع کر دی گئی ہیں، جن میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اراکین کے سامنے کسی سیاسی جماعت کا نام درج نہیں کیا گیا۔ تمام ایسے اراکین کو "آزاد امیدوار” کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق، فہرست میں سنی اتحاد کونسل کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے وہ امیدوار بھی شامل ہیں جو درحقیقت پی ٹی آئی کی حمایت سے کامیاب ہوئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے انہیں بھی "آزاد” حیثیت میں ظاہر کیا ہے، کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کی بطور سیاسی جماعت پارلیمانی نمائندگی تکنیکی طور پر متاثر ہوئی تھی۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق، اس فیصلے سے اسمبلیوں میں سیاسی طاقت کا توازن ایک بار پھر تبدیل ہو سکتا ہے۔ آزاد حیثیت رکھنے والے اراکین کو اب اپنی وابستگی کے بارے میں باقاعدہ اعلان کرنا ہوگا کہ وہ کس جماعت میں شامل ہو رہے ہیں، یا آزاد ہی رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

  • وزیراعظم کی قومی خزانے پر بوجھ بننے والے  اداروں کی جلد نجکاری  کی ہدایت

    وزیراعظم کی قومی خزانے پر بوجھ بننے والے اداروں کی جلد نجکاری کی ہدایت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرصدارت مجوزہ سرکاری اداروں کی نجکاری پر جائزہ اجلاس ہوا
    وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ مجوزہ سرکاری اداروں کی نجکاری میں قومی مفاد اور مستقبل میں اداروں کی پیشہ وارانہ استعداد بڑھانے کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔مجوزہ سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل میں عالمی شہرت یافتہ ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں۔سرکاری اداروں کی اندرونی استعداد کار بڑھانے کے لیے جامع حکمت عملی کے تحت ہر ممکن اقدامات فوری طور پر اٹھائے جائیں۔ نجکاری کے عمل میں شامل سرکاری اداروں کے لیے بہترین معاملہ طے کیا جائے. نجکاری کے عمل میں ادارہ جاتی اور انتظامی تاخیر اور سرخ فیتے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ نجکاری کے عمل کی بذات خود نگرانی اور اسکی پیش رفت پر باقاعدگی سے اجلاس کیا جائے گا۔

    اجلاس میں 24 میں سے 15 سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل پر پیشرفت پر وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے قومی خزانے پر بوجھ بننے والے اور غیرفعال سرکاری اداروں کی نجکاری کو جلد از جلد انتظامی اور ادارہ جاتی پیچیدگیوں سے بچاتے ہوئے نجکاری کے عمل کو مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم کو اداروں کی نجکاری پر پیشرفت پر بریف کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اکنامک افیرز ڈویژن احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور دیگر متعلقہ اداروں کے سرکاری افسران نے شرکت کی۔

  • افغان وزیر خارجہ نئی دہلی پہنچ گئے

    افغان وزیر خارجہ نئی دہلی پہنچ گئے

    طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پہلی مرتبہ افغانستان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نئی دہلی کے دورے پر پہنچ گئے ہیں۔ یہ دورہ معزول اشرف غنی حکومت کے خاتمے کے چار سال بعد بھارت اور طالبان انتظامیہ کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے کی سب سے بڑی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

    یہ دورہ اُس وقت ہو رہا ہے جب پاکستان دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے اور مسلسل بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو بے نقاب کر رہا ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے حالیہ مہینوں میں متعدد کارروائیوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را” سے منسلک گروہوں کے خلاف شواہد حاصل کیے ہیں۔

    افغان وزیرِ خارجہ کو رواں ماہ کے آغاز میں نئی دہلی کا دورہ کرنا تھا، تاہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی جانب سے عائد سفری پابندیوں کی وجہ سے یہ دورہ ملتوی ہوگیا تھا۔ بعد ازاں یو این ایس سی کی 1988 کمیٹی نے 30 ستمبر کو انہیں 9 سے 16 اکتوبر تک بھارت جانے کی عارضی اجازت دے دی،طالبان کے اکثر رہنماؤں پر اب بھی بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں، اور بیرونِ ملک سفر کے لیے انہیں اقوام متحدہ سے خصوصی اجازت لینا پڑتی ہے۔

    کابل میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد بھارت نے ابتدا میں محتاط رویہ اختیار کیا، تاہم گزشتہ دو برسوں میں نئی دہلی نے خاموش سفارتی رابطوں کے ذریعے طالبان انتظامیہ سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔
    بھارت کا دعویٰ ہے کہ وہ افغانستان میں "انسانی امداد” اور "عوامی روابط” کو فروغ دے رہا ہے، مگر تجزیہ کاروں کے مطابق اس کے پسِ پردہ پاکستان کے اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    اسی سلسلے میں بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے 15 مئی 2025 کو امیر خان متقی سے فون پر بات کی تھی، جو طالبان کے دورِ حکومت میں بھارت اور افغانستان کے درمیان اب تک کا سب سے اعلیٰ سطحی رابطہ تھا۔

    پاکستان کے سفارتی و دفاعی حلقے اس دورے کو افغانستان اور بھارت کے ممکنہ گٹھ جوڑ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔بھارت کا جنگی جنون کھل کر سامنے آ رہا ہے،بھارت ایک جانب پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں تخریبی نیٹ ورکس کو فنڈنگ فراہم کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب طالبان حکومت کو اپنے قریب لا کر ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) کے لیے نرم گوشہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانے افغان سرزمین پر موجود ہیں اور کابل انتظامیہ نے اب تک ان کے خلاف کوئی عملی کارروائی نہیں کی۔

    ایک جانب پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھارتی نیٹ ورکس اور افغان سرزمین سے ہونے والی دراندازی کا سامنا کر رہا ہے، تو دوسری جانب بھارت اور طالبان کے بڑھتے رابطے اسلام آباد کے لیے نئے سفارتی اور سیکیورٹی خدشات کو جنم دے رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے ہفتے اس حوالے سے انتہائی اہم ہوں گے، کیونکہ اگر بھارت اور افغانستان کے درمیان باضابطہ روابط مضبوط ہوتے ہیں تو اس کے براہِ راست اثرات پاکستان کے داخلی امن و استحکام پر پڑ سکتے ہیں۔

  • آئی ایم ایف،مذاکرات کے اختتام پر اسٹاف لیول معاہدہ نہ ہو سکا

    آئی ایم ایف،مذاکرات کے اختتام پر اسٹاف لیول معاہدہ نہ ہو سکا

    پاکستان اور آئی ایم ایف ،مذاکرات کے اختتام پر فریقین کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ نہ ہو سکا

    آئی ایم ایف کا پاکستان کے ساتھ جاری مذاکرات بارے اعلامیہ جاری کر دیا گیا،آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد کو مضبوط قرار دیدیا،آئی ایم ایف نے کہا کہ اسٹاف لیول معاہدہ طے کرنے کے لیے مزید پالیسی مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا،آئی ایم ایف مشن نے پاکستانی معیشت میں استحکام کی کوششوں کو سراہا،آئی ایم ایف نے مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور سیلاب متاثرین کی مدد پر زور دیا،مہنگائی کو مقررہ ہدف کے دائرے میں رکھنے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھنے کی سفارش کی،توانائی شعبے کی بحالی کے لیے ریگولر ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور اصلاحات پر اتفاق کیا گیا،سرکاری اداروں کے حجم میں کمی اور شفافیت میں بہتری پر گفتگو ہوئی،

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان کے ساتھ موجودہ 37 ماہ کے قرض پروگرام اور 28 ماہ کے کلائمیٹ رزیلینس پروگرام پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا،آئی ایم ایف نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ریفارمز کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا، جبکہ مشن سربراہ ایوا پیٹرووا نے کہا کہ پاکستان نے کئی شعبوں میں نمایاں پیشرفت کی ہے،آئی ایم ایف مشن نے حالیہ سیلاب سے متاثرہ افراد سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر،زمینی حقائق کی حالات معمول پر آنے کے بھارتی دعوؤں کی نفی

    مقبوضہ کشمیر،زمینی حقائق کی حالات معمول پر آنے کے بھارتی دعوؤں کی نفی

    غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرِقبضہ جموں کشمیر کے زمینی حقائق بھارت کے ان دعوؤں کی نفی کرتے ہیں کہ علاقے میں خاص طور پر دفعہ 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد حالات معمول پر آ گئے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تازہ ترین واقعات جن میں کوکرناگ ، اسلام آباد اور ملحقہ ضلع کشتواڑ کے گڈول جنگلاتی علاقے میں ایک آپریشن کے دوران دو کمانڈوز کا لاپتہ ہونا اور راجوری کے بیرنتھب علاقے میں جھڑپیں شامل ہیں ، اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ علاقہ مسلسل محاصرے میں ہے اور استحکام سے کوسوں دور ہے۔ذرائع نے بتایا کہ بھارتی فوج کے 5 پیرا یونٹ کے دو فوجی جنوبی کشمیر میں کوکرناگ کے گھنے جنگلات میں ایک آپریشن کے دوران نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے حملے کے بعد لاپتہ ہوگئے۔ ان کا سراغ لگانے کے لیے فضائی نگرانی سمیت بھاری تعداد میں بھارتی فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ لاپتہ فوجیوں کو مجاہدین نے حملے کے بعد اغواء کر لیا۔راجوری کے علاقے کنڈی میں بھارتی فوج ، پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور پولیس کے سپیشل آپریشنز گروپ کو ایک مشترکہ آپریشن کے دوران مسلح مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹس میں ایس او جی کے کم از کم پانچ اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے اور بھارتی فورسز نے علاقے کو فوری طور پر محاصرے میں لیا اور تلاشی کی کارروائی شروع کی ۔آخری اطلاعات آنے تک بھارتی فوج کا آپریشن جاری تھا جبکہ مقبوضہ علاقے کے دیگر علاقوں میں بھی اسی طرح کی کارروائیاں جاری ہیں جن میں مقامی کشمیریوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد اختلاف رائے کو دبانا اور بھارتی قبضے کو مستحکم کرنا ہے۔ علاقے میں امن کے بھارتی پروپیگنڈے کے باوجود بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں ، چھاپے ، جھڑپیں ، گمشدگیاں اور گرفتاریاں بلاروک ٹوک جاری ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جب تک کشمیریوں کے تاریخی حقوق کو تسلیم کرکے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں ہو جاتا اور کشمیر کا بنیادی تنازعہ حل نہیں کیا جاتا ، اس وقت تک علاقے میں حالات معمول پر آنے کا دعویٰ ایک کھوکھلا نعرہ ہی رہے گا۔ کشمیری اپنی مزاحمت ترک نہیں کریں گے اور میڈیا کے پروپیگنڈے سے بھارتی فورسز کی چوکیاں ، چھاپے اور گرفتاریاں ختم نہیں ہو سکتیں۔

  • ڈی آئی خان، فتنہ ٌالخوارج کے 7 دہشتگرد جہنم واصل، میجر سبطین حیدر شہید

    ڈی آئی خان، فتنہ ٌالخوارج کے 7 دہشتگرد جہنم واصل، میجر سبطین حیدر شہید

    سیکورٹی فورسز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر ڈیرہ اسماعیل خان کے عمومی علاقے درابن میں کارروائی کی، جہاں بھارتی پراکسی تنظیم ’’فتنہ الخوارج‘‘ کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع تھی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دوران فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں فورسز کی مؤثر جوابی کارروائی کے نتیجے میں سات بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج ہلاک ہوگئے۔فائرنگ کے اس شدید تبادلے میں پاک فوج کے بہادر افسر میجر سبطین حیدر (عمر 30 سال، تعلق: ضلع کوئٹہ) جامِ شہادت نوش کر گئے۔ میجر سبطین حیدر اپنی ٹیم کی قیادت فرنٹ لائن پر کر رہے تھے اور دشمن کے مقابل بہادری سے لڑتے ہوئے مادرِ وطن پر قربان ہوگئے۔ آپریشن کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا، جو ہلاک شدہ دہشت گردوں کے قبضے سے ملا۔ یہ خوارج متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے، جن میں سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے اور معصوم شہریوں کا قتل شامل تھا۔

    سیکورٹی فورسز نے علاقے میں مزید کلیئرنس اور سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ چھپے ہوئے بھارتی سرپرست دہشت گرد کو ختم کیا جا سکے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، اور ہمارے بہادر سپوتوں کی قربانیاں اس عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں،شہید میجر سبطین حیدر کی قربانی قوم کے لیے فخر کا باعث ہے، اور پوری قوم اپنے بہادر بیٹے کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نےڈیرہ اسماعیل کے علاقے دارابان میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن اور سات خارجیوں کو جہنم رسید کرنے پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پزیرائی کی ہے،وزیرِ اعظم نےآپریشن کے دوران دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے میجر سبطین حیدر شہید کو خراج عقیدت پیش کیا ہے،وزیرِ اعظم نے شہید کی بلندی درجات اور ان کے اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا کی اور کہا کہ افواج پاکستان کے بہادر افسران و جوان دن رات ارض وطن کی حفاظت میں مصروف عمل ہیں.مجھ سمیت پوری قوم کو اپنی بہادر افواج کے افسران و جوانوں پر فخر ہے،دھشتگردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گےپوری قوم افواج پاکستان کے وطن عزیز کی حفاظت کے غیر متزلزل عزم میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے.

  • تحریک لبیک کا اسلام آباد مارچ،لاہور میں آپریشن،فیض آباد کینٹینر لگ گئے

    تحریک لبیک کا اسلام آباد مارچ،لاہور میں آپریشن،فیض آباد کینٹینر لگ گئے

    تحریک لبیک کی جانب سے اسلام آباد کی طرف ممکنہ مارچ کے باعث شہر بھر میں سکیورٹی سخت کردی گئی۔

    تحریک لبیک پاکستان نے فیض آباد سے امریکی سفارت خانے تک مارچ اب لاہور سے اسلام آباد مارچ میں بدل دیا،تحریک لبیک نے کل 10 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے جس کے باعث انتظامیہ نے فیض آباد پر کنٹینرز پہنچا دیے ہیں جب کہ شہر بھر میں سکیورٹی سخت کردی گئی ہے،مری روڈ فیض آباد کے ہوٹلز خالی کرنے کے احکامات بھی جاری کردیے گئے ہیں، اسلام آباد اور راولپنڈی کے راستے تاحال کھلے رکھے گئے ہیں تاہم صورتحال کو دیکھتے ہوئے راستے بند کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

    اس حوالے سے سی پی او خالد ہمدانی کی زیرصدارت امن و امان کی صورتحال پرسینئر پولیس افسران کا اجلاس ہوا،سی پی او نےکہاکہ کسی سڑک کو بلاک کرنے یا ٹریفک میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے، معمولات زندگی کو متاثر کرنے والی کسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی،احتجاج کی آڑ میں پرتشدد سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا جب کہ املاک یاقانون نافذ کرنے والے اداروں پرحملہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    لاہور میں پولیس کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کی قیادت کے خلاف ملتان روڈ پر آپریشن جاری ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق کارروائی سبزہ زار اور ناگرہ ٹاؤن کے علاقوں میں کی جا رہی ہے جہاں مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، جبکہ ٹی ایل پی کارکنان نے بھی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ ملتان روڈ سمیت یتیم خانہ چوک، اسکیم موڑ اور گرد و نواح کے علاقوں میں ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہے۔ متعدد مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو منتشر کرنے اور امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے کارروائی جاری ہے، تاہم شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ملتان روڈ اور متصل علاقوں سے گریز کریں۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی تحریک لبیک کی ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں کے پیش نظر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ نے فیض آباد انٹرچینج اور ریڈ زون کے داخلی راستوں پر کنٹینرز لگا دیے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔انتظامیہ کے مطابق فی الحال ٹریفک معمول کے مطابق چل رہی ہے، تاہم کسی بھی وقت سخت پابندیاں یا راستوں کی بندش کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور فیض آباد یا ریڈ زون کے اطراف جانے سے پرہیز کریں۔

    سکیورٹی حکام نے عملے اور شہریوں کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں ،لاہور: ملتان روڈ، یتیم خانہ چوک، اسکیم موڑ اور احتجاجی علاقوں سے دور رہیں۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر ممکنہ بندشوں کے لیے تیار رہیں۔راولپنڈی/اسلام آباد، فیض آباد اور ریڈ زون کے اطراف سے گریز کریں، کسی بھی اچانک ٹریفک پابندی کے لیے متبادل راستے اختیار کریں۔غیر ضروری نقل و حرکت محدود رکھیں، سفر کے لیے اضافی وقت رکھیں، اور کسی بھی واقعے کی اطلاع فوراً سکیورٹی ٹیم یا مقامی حکام کو دیں۔پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے صورتحال پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے اور کہا ہے کہ امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے۔

  • سونے کی بالیوں کے لالچ میں 7 سالہ بچی کو قتل کرنے والا پولیس مقابلے میں ہلاک

    سونے کی بالیوں کے لالچ میں 7 سالہ بچی کو قتل کرنے والا پولیس مقابلے میں ہلاک

    سندھ کے شہر نوابشاہ میں معصوم بچی کے لرزہ خیز قتل کا مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ چار روز قبل سکرنڈ کے علاقے اصغر کالونی میں پیش آیا تھا، جہاں 7 سالہ معصوم بچی کو سفاکی سے قتل کر دیا گیا تھا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے سونے کی بالیوں کے لالچ میں اپنی ہی رشتہ دار بچی پر بہیمانہ تشدد کیا، بچی کے دونوں کان، ایک بازو اور گلا کاٹ دیا، جس کے باعث وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئی۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا، جب کہ بچی کی لاش اصغر کالونی کے ایک ویران مقام سے برآمد ہوئی تھی۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ مقتولہ کے اہلِ خانہ کے بیان اور شواہد کی بنیاد پر پولیس نے ملزم کی تلاش شروع کی، جو چار دن کی مسلسل کوششوں کے بعد گزشتہ رات ایک خفیہ اطلاع پر پولیس کو نظر آیا۔ ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے پولیس پر فائرنگ کی، جس کے جواب میں پولیس نے جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں ملزم موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔

    پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے ملزم کے قبضے سے بچی کی سونے کی بالیاں اور ایک پستول برآمد ہوا ہے۔ مزید کہا گیا کہ ابتدائی تحقیقات میں ملزم کے خلاف بچی کے قتل کے ناقابلِ تردید شواہد ملے تھے، جب کہ ڈی این اے اور دیگر فرانزک رپورٹس کی تصدیق بھی جاری تھی۔پولیس افسران کے مطابق ملزم کی لاش ضابطے کی کارروائی کے بعد اسپتال منتقل کر دی گئی ہے

  • نیب کی کاروائی، 40 ارب روپے مالیاتی اسکینڈل میں ملوث سابق ڈمپر ڈرائیور کو گرفتار

    نیب کی کاروائی، 40 ارب روپے مالیاتی اسکینڈل میں ملوث سابق ڈمپر ڈرائیور کو گرفتار

    نیب نے 40 ارب روپے کے بڑے مالیاتی اسکینڈل میں ملوث ایک سابق ڈمپر ڈرائیور کو گرفتار کر لیا ہے، جس پر جعلی کمپنی کے ذریعے سرکاری خزانے سے براہ راست 3 ارب روپے سے زائد کی رقم وصول کرنے اور مختلف بینکوں میں اپنے اکاؤنٹس کے ذریعے 16 ارب روپے سے زائد کی ٹرانزیکشنز کرنے کے الزامات ہیں۔

    نجی ٹی وی کے مطابق نیب حکام کے مطابق ملزم کی گرفتاری تاریخی اسکینڈل کی تحقیقات میں ایک بڑی پیشرفت ہے، تفتیش سے مزید ملزمان کے نام سامنے آئیں گے،گرفتار ملزم جو ایم/ایس ممتاز خان کنسٹرکشن کمپنی کے نام سے جعلی کمپنی کا مالک اور ڈائریکٹر تھا اسے نیب خیبر پختونخوا نے ایبٹ آباد سے گرفتار کیا، بعد ازاں اسے پشاور کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے نیب کو 8 روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا تاکہ مزید تفتیش اور شواہد کی برآمدگی ممکن ہو سکے۔

    نیب کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم ماضی میں ایک عام ڈمپر ڈرائیور تھا، تاہم اس نے دیگر شریک ملزمان کے ساتھ مل کر جعلی کمپنی قائم کی جس کے ذریعے سرکاری خزانے سے خطیر رقم خرد برد کی گئی،یہ رقم مبینہ طور پر ٹھیکیداروں کے سکیورٹی ڈپازٹ ہیڈ آف اکاؤنٹ (G-10113) سے نکالی گئی، جو دراصل سرکاری منصوبوں کی تکمیل کے لیے ضمانتی رقم کے طور پر رکھی جاتی ہے،تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ جعلی کمپنی اور اس کے بینک اکاؤنٹس خرد برد شدہ رقوم کی منتقلی کے مرکزی ذرائع کے طور پر استعمال ہوئے۔

  • بلوچستان کے عوام کے لیے تجارت، عوامی روابط اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز

    بلوچستان کے عوام کے لیے تجارت، عوامی روابط اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز

    بلوچستان کے عوام کے لیے تجارت، عوامی روابط اور خوشحالی کے نئے دور کا آغازہو گیا

    پاک ایران سرحد پر بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں کٹاگر کراسنگ پوائنٹ کا افتتاح کر دیا گیا،آئی جی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے کٹاگر کراسنگ پوائنٹ کا باضابطہ افتتاح کیا، افتتاحی تقریب میں رکن صوبائی اسمبلی میر زابد علی ریکی سمیت مقامی عمائدین، تاجر برادری نے بھر پور شرکت کی،کٹاگر کراسنگ پوائنٹ کو کھولنے کا فیصلہ دالبندین میں 2 جولائی 2025 کو گرینڈ جرگے میں کیا گیا تھا

    وزیرِاعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور کور کمانڈر بلوچستان نے مقامی لوگوں کے لیے راہداری کھولنے کا فیصلہ کیا تھا ،کٹاگر راہداری بلوچستان کے سرحدی علاقے ماشکیل میں پاکستان اور ایران کے درمیان رابطے میں اہم کردار ادا کرے گی، ایف سی بلوچستان نے ضلعی انتظامیہ اور ایرانی حکام کے ساتھ قریبی رابطے، تعاون اور انتھک محنت سے تمام انتظامی امور مکمل کیے،مسلح افواج اور عوام کے بھر پور تعاون سے بلوچستان امن و امان اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہے