Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستانی تاجر کو لندن میں ایئر ہوسٹس کو زیادتی کی دھمکیوں پر 15 ماہ قید کی سزا

    پاکستانی تاجر کو لندن میں ایئر ہوسٹس کو زیادتی کی دھمکیوں پر 15 ماہ قید کی سزا

    لندن: ایک پاکستانی تاجر سلمان افتخار کو فلائٹ کے دوران ایک ایئر ہوسٹس کو زیادتی کی دھمکیاں دینے اور نسلی گالیاں دینے کے جرم میں 15 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ واقعہ فروری 2023 میں لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے لاہور جانے والی پرواز میں پیش آیا تھا۔

    نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، 37 سالہ سلمان افتخار فرسٹ کلاس میں سفر کر رہے تھے جب انہوں نے ایئرلائن کے عملے کے ساتھ بدتمیزی شروع کر دی۔ آٹھ گھنٹے کی پرواز کے دوران وہ جہاز کی بار میں شراب پی رہے تھے اور جب عملے نے انہیں نشے میں دھت ہونے پر اپنی سیٹ پر واپس جانے کو کہا تو وہ مشتعل ہو گئے۔افتخار نے عملے پر نسل پرستی کا الزام لگایا اور ایک ایئر ہوسٹس اینجی والش پر گالی گلوچ کی۔ انہوں نے چیختے ہوئے کہا کہ "تم نے مجھے سب کے سامنے ایک نازیبا لفظ کہا ہے”۔ ایک مسافر نے ان کے اس ہنگامہ آرائی کو ریکارڈ بھی کر لیا، جس میں وہ ایئر ہوسٹس کو دھمکیاں دیتے اور ہدایات ماننے سے انکار کرتے نظر آئے۔

    افتخار نے ایئر ہوسٹس کو دھمکیاں دیں کہ وہ اس کے ہوٹل کے کمرے سے گھسیٹ کر اس کا گینگ ریپ کرائیں گے اور اسے آگ لگا دیں گے۔ انہوں نے عملے کے مرد رکن ٹومی مرچنٹ کو بھی دھمکایا اور کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ عملے کے ارکان لاہور کے کس ہوٹل میں قیام کریں گے۔پرواز کے دوران انہوں نے فلائٹ اٹینڈنٹ کو ایک نازیبا نسلی گالی بھی دی اور اس کے بعد انہیں زیادتی کی دھمکیاں دیں۔ ان کی بیوی نے انہیں روکنے کی کوشش کی لیکن افتخار نے انہیں بھی دور دھکیل دیا۔

    اس واقعے سے متاثرہ ایئر ہوسٹس نے عدالت میں اپنا بیان پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ 37 سال تک ورجن اٹلانٹک کے ساتھ کام کرنے کے بعد اس واقعے نے انہیں توڑ کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 9/11 جیسے واقعات اور جنگ زدہ علاقوں میں پرواز کرنے کے باوجود کبھی اتنا خوف محسوس نہیں کیا اور اس واقعے کے بعد وہ 14 ماہ تک کام سے دور رہیں۔واقعے کے بعد سلمان افتخار کو پاکستان میں گرفتار نہیں کیا گیا تھا، لیکن ایک سال بعد 16 مارچ 2024 کو انہیں انگلینڈ میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے ایئر ہوسٹس کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے اور نسلی ہراساں کرنے کا اعتراف کیا۔ ان کے وکیل نے ان کے اس رویے کو ایک طبی حالت سے منسوب کرنے کی کوشش کی لیکن عدالت نے انہیں 15 ماہ قید کی سزا سنا دی۔

    ان کی لنکڈ ان پروفائل کے مطابق، سلمان افتخار ایک ریکروٹمنٹ فرم "اسٹافنگ میچ” کے بانی اور ڈائریکٹر ہیں۔

  • انکوائری کی بنیاد پر نوکری سے نہیں نکالا جا سکتا،عدالت

    انکوائری کی بنیاد پر نوکری سے نہیں نکالا جا سکتا،عدالت

    لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ محض انکوائری کی بنیاد پر کسی کو نوکری سے برخاست نہیں کیا جاسکتا۔

    جسٹس اویس خالد نے تسنیم کوثر کی درخواست پر 10 صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔ 16 سال بعد خاتون سرکاری ملازم کی نوکری سے برخاست کرنے کے خلاف اپیل منظور کرلی گئی،عدالت نے قرار دیا کہ محض انکوائری کی بنیاد پر کسی کو نوکری سے برخاست نہیں کیا جاسکتا۔ فئیرٹرائل کا حق دیئے بغیر کسی کو نوکری سے نہیں نکالا جاسکتا۔ عدالت نے خاتون کو نوکری سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن کالعدم قراردے دیا،عدالت نے متعلقہ اتھارٹی کو درخواست گزار پر لگائے گئے الزامات کی دوبارہ انکوائری کی ہدایت کردی۔ درخواست گزار کے واجبات کی ادائیگی انکوائری کے فیصلہ سے مشروط کردی گئی،فیصلے کے مطابق درخواست گزار کو 2009 میں کنڈکٹ کی بنیاد پر لیب اسسٹنٹ کی نوکری سے برخاست کیا گیا۔ عدالت نے 2014 میں درخواست گزار کو نوکری پر بحال کردیا مگر عدالتی حکم کے باوجود درخواست گزارکو بحال نہ کیا گیا اورمعطل کردیا، 2015 میں درخواست گزارکو دوبارہ نوکری سے برخاست کردیاگیا۔ درخواست گزار پر الزام تھا کہ بھرتی کے وقت اس نے جعلی سرٹیفکیٹ جمع کرائے۔

  • جنوبی وزیرستان ، ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ، 2 افراد جاں بحق ، 14 زخمی

    جنوبی وزیرستان ، ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ، 2 افراد جاں بحق ، 14 زخمی

    جنوبی وزیرستان کے لوئر وانا کے علاقے رستم بازار میں ایک خطرناک ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور 14 دیگر زخمی ہو گئے جن میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

    ڈی ایس پی عمران اللہ نے بتایا کہ یہ دھماکہ پولیس موبائل وین کے قریب ہوا، جس سے شدید تباہی ہوئی۔ دھماکے کے فوراً بعد ڈی ایچ کیو اسپتال وانا میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تاکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔واقعہ کے بعد زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ریسکیو اور پولیس کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو قابو میں لینے کے ساتھ ساتھ شواہد جمع کرنا شروع کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے کارروائی تیز کر دی گئی ہے۔

  • اخراجات میں کمی کے دعوے ہوامیں،وفاقی حکومت  کا خرچہ تقریباً 14 فیصد بڑھ گیا

    اخراجات میں کمی کے دعوے ہوامیں،وفاقی حکومت کا خرچہ تقریباً 14 فیصد بڑھ گیا

    اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کے اقدامات کے دعوؤں کے باوجود وفاقی حکومت کے امور چلانے کے مجموعی اخراجات میں تقریباً 14 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومتی اخراجات نہ صرف مقررہ ہدف سے تجاوز کر گئے بلکہ نظرثانی شدہ تخمینے سے بھی کہیں زیادہ ہو گئے ہیں۔

    نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور مختلف اداروں کے روزمرہ آپریشنل اخراجات، تنخواہوں اور انتظامی و دیگر متفرق خرچوں پر مشتمل وفاقی حکومت کے انتظامی اخراجات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں گزشتہ مالی سال کے دوران وفاقی حکومت کے کل اخراجات میں 108 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2023-24 میں وفاقی حکومت کے امور چلانے کا کل خرچہ 784 ارب روپے تھا، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 892 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اس طرح ایک سال کے دوران اخراجات میں تقریباً 14 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جو حکومتی دعوؤں کے برعکس ایک بڑا مالی بوجھ ثابت ہو رہا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی وجوہات میں انتظامی خرچوں میں بے ترتیبی، تنخواہوں میں اضافے اور غیر ضروری سرکاری اخراجات شامل ہیں۔ وہیں کچھ حلقے اس اضافہ کو ملکی اقتصادی حالات، مہنگائی اور ضروری خدمات کی فراہمی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں۔

  • روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری،مالیاتی مشیر کے چھوڑنے سے نقصان کا خدشہ

    روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری،مالیاتی مشیر کے چھوڑنے سے نقصان کا خدشہ

    دنیا کی مشہور ریئل اسٹیٹ کمپنی جونس لینگ لاسیلےکے پاکستان کے روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری کے مالیاتی مشیر کے طور پر کام چھوڑنے کے فیصلے کے باعث قومی خزانے کو تقریباً 5 کروڑ ڈالر کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے جبکہ اس ٹرانزیکشن کی تکمیل میں بھی ممکنہ تاخیر متوقع ہے۔

    نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق دوسری جانب نیشنل بینک آف پاکستان نے وزارت خزانہ کو باقاعدہ خط ارسال کر کے یہ استفسار کیا ہے کہ روزویلٹ ہوٹل کو دیے گئے 14 کروڑ 20 لاکھ ڈالر قرضے کا مستقبل کیا ہو گا، خصوصاً اب جب کہ JLL نے مفادات کے ٹکراؤ (conflict of interest) کو بنیاد بنا کر اس منصوبے سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا، تاہم خدشہ ہے کہ اس قرض کی ادائیگی کا بوجھ بدستور قومی خزانے پر پڑتا رہے گا۔ یہ قرض نیشنل بینک نے 2020 میں روزویلٹ ہوٹل کو دیا تھا۔

    دوسری جانب نجکاری کمیشن بورڈ میں نئے ممبران کا تقرر کر دیا گیا، وزیر اعظم نے جناب آصف علی قریشی اور جناب عامر شہزاد کو نجکاری کمیشن بورڈ کا ممبر مقرر کیا ہے، جو حکومت کے نجکاری کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری، مالیات اور کارپوریٹ قیادت میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں۔ جناب آصف علی قریشی سی ایف اے انسٹی ٹیوٹ، امریکہ سے چارٹرڈ فنانشل اینالسٹ (CFA) ہیں، جنہوں نے نیو کیسل یونیورسٹی، یو کے سے بین الاقوامی مالیاتی تجزیہ میں ایم اے اور قائداعظم یونیورسٹی سے ایم بی اے (فنانس) کیا ہے۔ وہ اس وقت یو بی ایل فنڈ منیجرز لمیٹڈ کے سی ای او ہیں اور میوچل فنڈز ایسوسی ایشن آف پاکستان (MUFAP) اور CFA سوسائٹی پاکستان کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ پاکستان کے بینکنگ اور مالیاتی شعبے میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور توانائی کے شعبے کی گہری سمجھ رکھتے ہیں جو حکومت کے نجکاری پروگرام کا ایک اہم ستون ہے۔ جناب عامر شہزاد کے پاس کارنیل یونیورسٹی، امریکہ سے ایگزیکٹو لیڈرشپ پروگرام کا سرٹیفکیٹ ہے، اور ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی، امریکہ سے بی ایس ان فنانس (کم لاڈ) ہے۔ وہ فی الحال یونٹی فوڈز لمیٹڈ کے چیئرمین ہیں، اس سے قبل وہ کمپنی میں ڈائریکٹر اور گروپ سینئر ایگزیکٹو کے طور پر اور عسکری بینک لمیٹڈ میں ای وی پی اور انویسٹمنٹ بینکنگ کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کا تجربہ FMCG، بینکنگ، زرعی کاروبار، اور نجی ایکویٹی کے شعبوں میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ تقرریاں نجکاری کمیشن کی ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ کریں گی، اسے فکری بصیرت سے مالا مال کریں گی، اور اس کی سٹریٹجک اور تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط کریں گی – اس طرح زیادہ موثر فیصلہ سازی، نجکاری کے لین دین کی بہتر کارکردگی، اور حکومت کے سٹریٹجک مقاصد کے ساتھ بہتر ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے گا۔

  • شوہر کے سامنے بیوی سے زیادتی،چوتھا ملزم بھی انجام کو پہنچ گیا

    شوہر کے سامنے بیوی سے زیادتی،چوتھا ملزم بھی انجام کو پہنچ گیا

    شوہر کے سامنے بیوی کےگینگ ریپ کی مکمل پلاننگ کرنے والا ملزم پولیس فائرنگ سے مارا گیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق لاہور کے علاقے چوہنگ میں کچھ دن قبل خاوندکے سامنے بیوی کےگینگ ریپ کا واقعہ پیش آیا تھا جس دوران ملزمان نے خاتون پر بدترین جنسی تشدد بھی کیا تھا حتیٰ کہ واقعے کی ویڈیو بھی بنائی تھی،اس دوران ملزمان نے خاتون کے شوہر کو بھی برہنہ کیا تھا، مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے کاروائی کی تھی، پولیس کا بتانا ہے کہ افسوسناک واقعے میں 4 ملزمان اویس، زاہد، ارشاد اور عمران کو نامزد کیا گیا تھا، مقدمے میں نامزد 3 ملزمان اویس، زاہد اور ارشاد پہلے ہی مقابلے میں مارے جاچکے ہیں،سی سی ڈی کے مطابق قصور میں فائرنگ کے تبادلے میں اب چوتھا مرکزی ملزم عمران بھی مارا گیا ، ہلاک ملزم عمران نے گینگ ریپ کی مکمل پلاننگ کی تھی۔

  • موسم کی خرابی، اسلام آباد اور لاہور ائیرپورٹس پر فلائٹ آپریشن متاثر

    موسم کی خرابی، اسلام آباد اور لاہور ائیرپورٹس پر فلائٹ آپریشن متاثر

    ملک بھر میں موسم کی خراب صورتحال کے باعث اسلام آباد اور لاہور کے بین الاقوامی ائیرپورٹس پر فلائٹ آپریشن شدید متاثر ہوا ہے۔

    اسلام آباد ائیرپورٹ پر کم از کم 21 پروازیں اپنی آمد اور روانگی میں تاخیر کا شکار ہیں، جبکہ کراچی سے آنے والی ایک پرواز کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر فیصل آباد میں ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی۔فلائٹ شیڈول کے مطابق، اسلام آباد ائیرپورٹ پر ریاض، ابوظبی، مسقط، باکو اور دوحہ سے آنے والی پروازوں کی لینڈنگ میں دشواری پیش آ رہی ہے، جس کی وجہ سے غیر ملکی پروازوں کی روانگی میں ایک سے دو گھنٹے تک تاخیر ہو رہی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ کراچی سے لاہور جانے والی پرواز تقریباً چار گھنٹے تیس منٹ کی تاخیر کے بعد دن ساڑھے بارہ بجے روانہ ہوگی، جب کہ کراچی سے اسلام آباد کے لیے ایک نجی ائیرلائن کی پرواز میں بھی دو گھنٹے کی تاخیر ہو گئی ہے۔اسی طرح، کوالالمپور سے لاہور آنے والی غیر ملکی ائیرلائن کی دو پروازیں موسم کی خرابی کی وجہ سے منسوخ کر دی گئی ہیں۔ لاہور ائیرپورٹ پر بھی سات پروازوں کی آمد و روانگی میں ایک سے ساڑھے نو گھنٹے تک تاخیر کا سامنا ہے۔

    موسم کی خرابی کے باعث ائر لائنز نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی پروازوں کی تازہ ترین صورتحال معلوم کرنے کے لیے ایئر لائنز کے آفیشل چینلز سے رابطہ کریں اور ائیرپورٹس پر بروقت پہنچیں۔

  • بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کی ایک ارب 12 کروڑ کی منی لانڈرنگ،عطا تارڑ کا انکشاف

    بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کی ایک ارب 12 کروڑ کی منی لانڈرنگ،عطا تارڑ کا انکشاف

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کے حوالے سے بیان میں کہا ہے کہ ایف آئی اے نے کامیاب کاروائی میں بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کی ایک ارب 12 کروڑ کی منی لانڈرنگ، ہنڈی حوالہ نیٹ ورک اور سفاری ہسپتال کو فرنٹ آفس بنانے کے ناقابل تردید ثبوت حاصل کر لیے ہیں۔ بحریہ ٹاؤن کے رہائشیوں کے حقوق محفوظ اور قانون شکنوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کی جانب سے اربوں روپے غیر قانونی طریقے سے باہر بھیجے جا رہے تھے۔ یہ سارے پیسہ ایک اسپتال میں رکھا گیا تھا ایف آئی اے نے جب چھاپہ مارا تو اس ریکارڈ کو آگ لگائی جا رہی تھی،اگر کچھ چھپانے کو نہ ہوتا تو ریکارڈ جلانے کی ضرورت کیوں پیش آتی؟ زیادہ تر دستاویزات ایف آئی اے نے برآمد کر لی ہیں، جو ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کے منی لانڈرنگ نیٹ ورک کا ثبوت ہیں۔ اربوں روپے غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک منتقل کیے گئے۔ ایف آئی اے تحقیقات کو آگے بڑھا رہی ہے، مفرور افراد کی معلومات بھی حاصل ہو چکی ہیں۔ جلد مزید حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں گے۔

  • گھانا میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، وزیر دفاع اور وزیر ماحولیات سمیت 9 افراد ہلاک

    گھانا میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، وزیر دفاع اور وزیر ماحولیات سمیت 9 افراد ہلاک

    افریقی ملک گھانا کے جنوبی علاقے میں ایک افسوسناک واقعے میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں وزیر دفاع، وزیر ماحولیات سمیت 9 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ اس واقعے کو صدر نے "قومی سانحہ” قرار دے دیا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق حادثہ اُس وقت پیش آیا جب ہیلی کاپٹر ایک سرکاری مشن پر روانہ تھا۔ گھانا کی حکومت کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ حادثے میں جان بحق ہونے والوں میں وزیر دفاع، وزیر ماحولیات، فضائیہ کے تین اہلکار اور دیگر سرکاری افسران شامل ہیں۔گھانا کی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثے سے قبل ہیلی کاپٹر سے رابطہ اچانک منقطع ہوگیا تھا، جس کے بعد ریسکیو ٹیموں کو فوری طور پر روانہ کیا گیا۔ فوج کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

    گھانا کے صدر نے اس المناک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔ انہوں نے کہا:”یہ ہمارے ملک کے لیے ایک اندوہناک دن ہے۔ ہم اپنے بہادر افسران اور وزرا کو کھو چکے ہیں جو قوم کی خدمت میں مصروف تھے۔”

    ملک بھر میں اس حادثے پر غم کی فضا چھا گئی ہے اور حکومتی سطح پر تین روزہ سوگ کا اعلان بھی متوقع ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق موسم کی خرابی یا تکنیکی خرابی حادثے کی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں، تاہم حتمی رائے تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گی۔یہ واقعہ گھانا کی سیاسی و عسکری قیادت کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے اور عوام میں بھی شدید دکھ اور صدمہ پایا جاتا ہے۔

  • جس نے بھی  پاکستان کو لوٹا خواہ وہ کوئی بھی ہو اس کا محاسبہ ہونا چاہئے،خالد مسعود سندھو

    جس نے بھی پاکستان کو لوٹا خواہ وہ کوئی بھی ہو اس کا محاسبہ ہونا چاہئے،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ خواجہ آصف کا بیوروکریسی کے حوالہ سے بیان حیران کن ہے،بیورو کریسی جو کر رہی ہے اسکی ذمہ دار حکومت ہے،خواجہ آصف اپوزیشن میں نہیں حکومت میں ہیں، نام سامنے لائیں اور تحقیقات ہونی چاہئے،جس نے بھی قائد کے پاکستان کو لوٹا خواہ وہ کوئی بھی ہو اس کا محاسبہ ہونا چاہئے

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھاکہ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نےبیوروکریسی بارے انکشاف قوم کے سامنے رکھا،حکمران انکشاف نہیں کرتے کاروائی کرتے ہیں،بیورو کریسی حکومت کے ماتحت ہوتی ہے اور حکمرانوں کے اشاروں کے بغیر کچھ نہیں کر سکتی،بیوروکریسی کی کرپشن اور بیرون ملک جائیدادوں کے ذمہ دارحکمران ہیں، سیاستدان ہوں یا بیوروکریسی،ملک کو جس نے بھی لوٹا وہ معافی کا مستحق نہیں، اس ضمن میں خواجہ آصف کے بیان پر تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے،کرپشن سے پاک پاکستان بنے گا تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا، کرپشن ایک ناسور ہے، اگر واقعی ملک کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی بیرونِ ملک جائیدادیں خرید رہی ہے، شہریتیں حاصل کر رہی ہے اور اربوں روپے ہضم کر کے ریٹائر ہو رہی ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ حکومت میں ہوتے ہوئے صرف بیانات کیوں دے رہے ہیں،خواجہ آصف نہ صرف اب وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں بلکہ کئی بار اقتدار میں رہ چکے ہیں،پاکستان مرکزی مسلم لیگ مطالبہ کرتی ہے کہ خواجہ آصف کے دعووں کی روشنی میں فی الفور ایک کمیشن بنایا جائے،اس سنگین معاملے کی مکمل چھان بین ہو.