Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • یوٹیلٹی اسٹورز کی بندش،شرجیل میمن کا تحفظات کا اظہار

    یوٹیلٹی اسٹورز کی بندش،شرجیل میمن کا تحفظات کا اظہار

    پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے وفاقی حکومت کی جانب سے یوٹیلیٹی اسٹورز کی اچانک بندش پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں یوٹیلیٹی اسٹورز کے آپریشن بندکرنے کے فیصلے پر شرجیل میمن نے کہا کہ یہ ادارہ 55 برسوں سے کم آمدنی والے افراد کو سستی بنیادی اشیا فراہم کر رہا تھا، 1971 میں ذوالفقار علی بھٹو نے غریب طبقے کو سبسڈی دینے کے لیے یوٹیلیٹی اسٹورز قائم کیے تھے، جہاں نجی شعبے کی رسائی نہیں وہاں بھی یوٹیلیٹی اسٹورز خدمات انجام دے رہے تھے۔

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ ملک کے 3 ہزار 800 اسٹورز سے ماہانہ تقریباً 2 کروڑ افراد مستفید ہوتے تھے، 12 ہزار ملازمین کی برطرفی ہزاروں خاندانوں کے روزگار پر حملہ ہے۔

  • یوٹیلٹی اسٹورز کی بندش،پارلیمنٹ کو دھوکے میں رکھا گیا،قائمہ کمیٹی نے رپورٹ طلب کر لی

    یوٹیلٹی اسٹورز کی بندش،پارلیمنٹ کو دھوکے میں رکھا گیا،قائمہ کمیٹی نے رپورٹ طلب کر لی

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار نے یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزارت صنعت و پیداوار سے ملازمین کیلئے پیکج سمیت ادارے کی بندش کی جامع رپورٹ 24 گھنٹوں میں طلب کر لی۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا اجلاس سید حفیظ الدین کی زیر صدارت ہوا، پیپلز پارٹی کےر کن اعجاز جاکھرانی نے تحریک پیش کی کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کے ہزاروں ملازمین 10روز سے دھرنا دیے بیٹھے ہیں لیکن ان کے حوالے سے حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا،ارکان کمیٹی نے کہا کہ وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار نے اسمبلی فلور پر یوٹیلیٹی اسٹورز کو بند نہ کرنے بارے غلط بیانی کی اور پارلیمنٹ کو دھوکے میں رکھاگیا،سیکرٹری صنعت وپیداوارنے بتایا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز سے سالانہ ساڑھے 8 ارب روپے کا نقصان تھا، ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک پیکج دیا جائے گا،کمیٹی نے وفاقی وزیر رانا تنویر کی جانب سے قومی اسمبلی میں یوٹیلیٹی اسٹورز بند نہ کرنے کے وعدے کے بعد اسٹورز کو بند کرنے کے فیصلےپر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ وفاقی وزیر نے اسمبلی فلور پر اسٹورز کو بند نہ کرنے کے حوالے سے غلط بیانی کی اور پارلیمنٹ کو دھوکے میں رکھاگیا،کمیٹی نے وزارت صنعت و پیداوار سے ملازمین کیلئے پیکج سمیت ادارے کی بندس کی جامع رپورٹ 24 گھنٹوں میں طلب کر لی۔

  • امریکا نے پاکستان پر 19 فیصد ٹیرف عائد کر دیا

    امریکا نے پاکستان پر 19 فیصد ٹیرف عائد کر دیا

    واشنگٹن: امریکہ نے اپنی نئی تجارتی پالیسی کے تحت جنوبی ایشیا کے ممالک پر مختلف شرحوں میں ٹیرف عائد کیے ہیں، جس میں پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں خاص رعایت دی گئی ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پاکستانی مصنوعات پر 19 فیصد جوابی ٹیرف عائد کیا ہے، جبکہ بھارت پر 25 فیصد ٹیرف لاگو کیا گیا ہے۔یہ فیصلہ جنوبی ایشیا کے تین بڑے ممالک میں پاکستان کو سب سے زیادہ رعایت دینے کی نشاندہی کرتا ہے، جسے ملکی سطح پر پاکستانی حکومت کی کامیاب سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق، جنوبی افریقا پر 30 فیصد، سوئٹزرلینڈ پر 39 فیصد اور ترکی پر 15 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے قریبی اتحادی اسرائیل کو بھی 15 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑا ہے۔کینیڈا پر پالیسی اختلافات کے باعث ٹیرف کی شرح 25 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ، برازیل اور فاکلینڈ آئی لینڈز کو 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔15 فیصد ٹیرف کی فہرست میں ترکی، اسرائیل، افغانستان، انگولا، بولیویا، کیمرون، کوسٹا ریکا، جاپان، نیوزی لینڈ، جنوبی کوریا اور دیگر کئی ممالک شامل ہیں۔

    پاکستان کی طرح انڈونیشیا، ملائیشیا، فلپائن، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا پر بھی 19 فیصد ٹیرف نافذ ہے، جبکہ بنگلہ دیش، سری لنکا، ویتنام اور تائیوان کو 20 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے۔ بھارت کے برابر یعنی 25 فیصد ٹیرف قازقستان، تیونس اور مالدوا کو بھی دیا گیا ہے۔30 فیصد ٹیرف الجزائر، لیبیا، بوسنیا ہرزیگوینا اور جنوبی افریقا پر عائد کیا گیا ہے جبکہ میانمار اور لاوس کو 40 فیصد اور شام کو سب سے زیادہ 41 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کو بھارت کی نسبت کم ٹیرف دینا پاکستان کی متوازن اور مدبرانہ خارجہ پالیسی کا ثبوت ہے۔ یہ کامیابی فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی امریکی صدر سے ملاقات، وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے باہمی رابطوں، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ سے حالیہ ملاقات اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی امریکی وزیر تجارت سے بات چیت کا نتیجہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس رعایت سے بھرپور فائدہ اٹھائے تاکہ ملکی معیشت کو فروغ ملے اور برآمدات میں اضافہ ہو۔

  • دنیا دہشت گردوں کے خلاف ہماری کامیاب کاروائیوں کی معترف ہے،وزیراعظم

    دنیا دہشت گردوں کے خلاف ہماری کامیاب کاروائیوں کی معترف ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انسداد دہشت گردی و ریاستی رٹ کے قیام (Harden the State) کے حوالے سے قائم اسٹیرنگ کمیٹی کا جائزہ اجلاس ہوا.

    اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل چیف آف آرمی سٹاف سید عاصم منیر، نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ، وفاقی وزیر اکنامک افیئرز ڈویژن احد خان چیمہ، وزیراعظم کے مشیر براۓ بین الصوبائی تعاون رانا ثنا اللہ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، انسپیکٹر جنرلز اور متعلقہ سرکاری حکام نے شرکت کی.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ریاست پاکستان، دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور دنیا دہشت گردوں کے خلاف ہماری کامیاب کاروائیوں کی معترف ہے۔ریاست پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کثیر الجہتی حکمت عملی اپنائی ہے،پاکستان کی طرف سے زمینی آپریشن، متعلقہ قانون سازی، بامعنی عوامی رابطے اور انتہا پسند سوچ کی حوصلہ شکنی جیسے اہم عناصر کا بھرپور اور موثر استعمال کیا گیا۔

    کمیٹی نے دھشتگردی کے خلاف وفاقی و صوبائی حکومتوں کے مابین ہم آہنگی کو مؤثر بنانے اور اس ضمن میں کمیٹی کی سفارشات پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بہادر افواج کے سپوتوں کا دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں کردار قابل تعریف و قابل تحسین ہے۔ارض وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے اہلکار و افسران اور قربانی کے جذبے سے سرشار ان کے اہل خانہ پر مجھ سمیت پوری قوم کو فخر ہے. دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری پاکستانی قوم، بہادر افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے، انٹیلیجنس ادارے متحد اور یکسو ہیں. پاکستان کی بہادر افواج نے آپریشن رد الفساد اور ضرب عضب میں دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کیا اور حالیہ تاریخ ساز معرکہ حق میں دنیا نے پاکستان کی فتح کو تسلیم کیا۔صوبائی حکومتوں ، انٹیلیجنس بیورو، وزارت داخلہ،کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ بالخصوص پنجاب انسداد دہشتگردی ڈیپارٹمنٹ نے دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں نہایت موثر اقدامات اٹھائے ہیں۔ پاکستان کو فتنتہ ہندوستان اور فتنتہ الخوارج اور اس طرح کی دوسرے سماج دشمن عناصر کے مکمل خاتمے کے لیے جامع، موثر اور قابل عمل حکمت عملی پر کام کررہی ہے۔ تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ کاروائیوں و تعاون سے اسمگلنگ کے خلاف مؤثر کاروائیاں عمل میں لائی گئیں، جس سے اسمگلنگ کی روک تھام ممکن ہوئی.اسمگلنگ کی روک تھام سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے. دہشت گردی سے پاک اور پرامن مضبوط ریاستی ڈھانچہ ہی بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے حکومت نے تمام نظام کی ڈیجیٹائزیشن اور ٹیکس سسٹم میں بہتری جیسے انقلابی تبدیلیاں لائی ہیں۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ اضافہ اور گلوبل ریٹنگز میں بہتری پاکستان کی معیشت میں استحکام کی نشاندہی کرتا ہے اور اس سے بیرونی سرمایہ کار کا اعتماد بحال ہوگا،غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کی بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق وطن واپسی کے پروگرام پر عملدرآمد مؤثر طور سے جاری ہے.

  • ایک اور ملک دشمنی،علی امین گنڈا پور کا بیان بھارت فیٹف میں بطور ثبوت لے گیا

    ایک اور ملک دشمنی،علی امین گنڈا پور کا بیان بھارت فیٹف میں بطور ثبوت لے گیا

    خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا ایک حالیہ متنازع بیان بھارت کے لیے پاکستان دشمن پروپیگنڈا کا ہتھیار بن گیا۔ بھارتی حکومت نے یہ بیان عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) میں جمع کروا کر پاکستان کو دوبارہ گرے لسٹ میں ڈالنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

    فیٹف حکام کے مطابق، بھارت نے علی امین گنڈا پور کے اس بیان کو بطور "ثبوت” پیش کیا ہے جس میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ "ہم طالبان کو گرفتار کرتے ہیں لیکن ادارے انہیں رہا کر دیتے ہیں”۔ بھارتی مؤقف ہے کہ یہ بیان پاکستان میں ریاستی سطح پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا ثبوت ہے۔بھارتی حکومت نے اس بیان کو پاکستان کے خلاف چارج شیٹ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ خود پاکستانی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار کا اعتراف ہے، جو بھارت کے ان الزامات کی تائید کرتا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کو سہولت فراہم کرتا ہے۔

    فیٹف کے قریبی ذرائع کے مطابق، بھارت کی جانب سے پاکستان کو دوبارہ گرے لسٹ میں ڈالنے کی باضابطہ درخواست بھی جمع کروائی گئی ہے۔ اگرچہ فیٹف کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے، مگر بھارتی حکومت اور میڈیا اس معاملے کو خوب اچھال رہے ہیں تاکہ پاکستان پر عالمی دباؤ ڈالا جا سکے۔

    واضح رہے کہ اکتوبر 2022 میں فیٹف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا تھا۔ پاکستان 2018 سے اس فہرست میں شامل تھا اور اس دوران پاکستان نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف مؤثر اقدامات کیے تھے جنہیں فیٹف نے تسلیم کیا تھا۔تاہم، بھارت نے پاکستان کے اس سفارتی و مالیاتی کامیابی کو ایک آنکھ نہ دیکھا اور مسلسل پاکستان کے خلاف عالمی فورمز پر پروپیگنڈا جاری رکھا ہوا ہے۔ علی امین گنڈا پور کا حالیہ بیان اس پروپیگنڈے کو تقویت دینے کا سبب بن گیا ہے۔

  • چینی بحران،حکومت کی کاروائی،18 شوگر ملزمالکان کے نام ای سی ایل میں

    چینی بحران،حکومت کی کاروائی،18 شوگر ملزمالکان کے نام ای سی ایل میں

    ملک میں جاری چینی کے بحران پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت نے فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے شوگر ملز کے خلاف سخت ایکشن لے لیا ہے۔ وزارت خوراک کے اعلیٰ حکام کے مطابق، وفاقی حکومت نے ملک بھر میں موجود چینی کے تمام ذخائر کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے، جس کے تحت 19 لاکھ میٹرک ٹن چینی اب شوگر ملز کے بجائے حکومتی تحویل میں آ چکی ہے۔

    وزارت فوڈ کے ذرائع کے مطابق 18 شوگر ملز کے مالکان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈال دیے گئے ہیں۔ ای سی ایل میں شامل کیے گئے افراد کے نام آئندہ چند دنوں میں باقاعدہ طور پر منظرعام پر لائے جائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم چینی کی مصنوعی قلت اور قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے خدشات کے پیش نظر اُٹھایا گیا ہے۔حکام کے مطابق، تمام شوگر ملز میں چینی کے اسٹاک پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں اور "ٹریک اینڈ ٹریس” سسٹم بھی فعال کر دیا گیا ہے تاکہ ذخیرہ اندوزی اور غیرقانونی فروخت کی روک تھام کی جا سکے۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے چینی کے بحران سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں چینی کا کوئی بحران نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی کی درآمد و برآمد معمول کا حصہ ہے، اور اس پر پیدا ہونے والا تاثر بلاوجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے برآمد کے وقت یہ فیصلہ کیا تھا کہ چینی کی قیمت 140 روپے فی کلو سے تجاوز نہیں کرے گی۔وفاقی وزیر نے مزید وضاحت دی کہ چینی کی برآمد اکتوبر 2024 میں شروع ہوئی، جس کے 20 دن بعد کرشنگ سیزن بھی شروع ہو چکا تھا، لہٰذا موجودہ بحران کو برآمدات سے جوڑنا درست نہیں۔

    حکومت کی جانب سے مقرر کردہ چینی کی ایکس مل قیمت 165 روپے فی کلو اور ریٹیل قیمت 173 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں عوام کو یہ قیمتیں دستیاب نہیں ہیں۔ کراچی کے ریٹیل بازاروں میں چینی 180 سے 190 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔شہر میں چینی کی گراں فروشی کے خلاف ضلعی انتظامیہ کی کارروائیوں کے دوران 7 دکانیں سیل، 2 افراد گرفتار اور 10 لاکھ 77 ہزار روپے جرمانے کیے گئے۔کوئٹہ اور پشاور میں بھی صورتحال مختلف نہیں، جہاں چینی 180 روپے فی کلو سے کم پر دستیاب نہیں۔ لاہور میں ڈیلرز اور شوگر مل مالکان کے درمیان قیمتوں پر اختلاف کے باعث اکثر دکانوں پر چینی ناپید ہے۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ شوگر ملز انہیں سرکاری نرخ 165 روپے پر چینی فراہم نہیں کر رہیں۔

    ملک بھر میں چینی کی بڑھتی قیمتوں اور دستیابی میں کمی نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ شہری حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت نہ صرف ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کو مزید تیز کرے بلکہ چینی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

    چینی بحران کے ذمہ دار حکمران، شہباز شریف ناکامی کااعتراف کر یں،استعفیٰ دیں،حافظ خالد نیک
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک نے کہا ہے کہ پاکستان میں چینی بحران کے ذمہ دار حکمران،شوگر ملیں حکمرانوں کی اور لوٹ مار بھی یہی کر رہے ہیں،چینی بحران کے ذمہ داران کا احتساب ہونا چاہئے، وزیراعظم کے بیانات مسترد کرتے ہیں، شہباز شریف اپنی ناکامی کا اعتراف کریں اور فوری استعفیٰ دیں ،حافظ خالد نیک نے چینی بحران پر ردعمل میں کہا کہ جب شوگر ملز خود حکمرانوں کی ملکیت ہیں تو بحران کے اصل ذمہ دار بھی وہی ہیں، یہ مفاد پرستی اور کرپشن کی انتہا ہے، ملک کی بڑی شوگر ملز موجودہ حکمران خاندانوں کے قبضے میں ہیں، جب چینی کا نفع انہی کی جیب میں جا رہا ہو تو عوام کو ریلیف دینے میں کیا دلچسپی ہوگی، عوام اب باشعور ہو چکے ہیں، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بحران کا اصل ذمہ دار کون ہے،بازاروں میں چینی مل نہیں رہی اگر مل رہی تو انتہائی مہنگی ،حکومتی رٹ نہیں ہے،عوام مہنگی چینی خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ حکمران طبقہ اربوں روپے کما رہے ہیں،چینی کا بحران منصوبہ بندی کے تحت پیدا کیا گیا ہے تاکہ حکومتی اشرافیہ کو فائدہ پہنچایا جا سکے ،حافظ خالد نیک کا مزید کہنا تھا کہ چینی بحران پر اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے،شوگر مل مالکان کے خلاف تحقیقات کی جائیں، چینی بحران کے ذمہ داران کا تعین کر کے کاروائی کی جائے.

  • امریکی ریاست انڈیانا میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ، خاتون پائلٹ ہلاک

    امریکی ریاست انڈیانا میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ، خاتون پائلٹ ہلاک

    امریکی ریاست انڈیانا کے شہر گرین ووڈ میں ایک چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے نتیجے میں 44 سالہ ویتنامی خاتون پائلٹ این تھو نیوین موقع پر ہی ہلاک ہو گئیں۔ این تھو نیوین ایک مشن پر تھیں جس کا مقصد دنیا کا چکر لگانے والی پہلی ویتنامی خاتون پائلٹ بننا تھا۔

    رپورٹس کے مطابق یہ حادثہ انڈیانا کے ساؤتھ گرین ووڈ ایئرپورٹ سے روانگی کے فوراً بعد پیش آیا، جب طیارہ فضا میں گھومتا ہوا گر کر ایک قریبی پیٹرول پمپ کے پیچھے جا گرا۔ اس پرواز میں این تھو نیوین اکیلی تھیں، اور بدقسمتی سے وہ حادثے میں شدید زخمی ہو کر جانبر نہ ہو سکیں۔این تھو نیوین کا یہ مشن محض ایک عام پرواز نہیں بلکہ ایک خواب تھا، جس کا مقصد ایشیائی خواتین کو ہوا بازی، انجینئرنگ، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) کے شعبوں میں داخلے کی ترغیب دینا تھا۔ اس مشن کے ذریعے وہ چاہتی تھیں کہ نئی نسل کی ایشیائی خواتین ان روایتی اور اہم شعبوں میں نمایاں کردار ادا کریں۔

    حادثے سے چند لمحے قبل این تھو نیوین نے فیس بک پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی تھی، جس میں انہوں نے کہا تھا "یہ صرف ایک پرواز نہیں، بلکہ ایک مشن ہے جو اگلی نسل کی ایشیائی خواتین پائلٹس اور انجینئرز کے لیے ہے۔ آئیے ہم سب مل کر آگے بڑھتے رہیں۔”ویتنامی پائلٹ کا یہ غیر معمولی سفر 27 جولائی کو امریکی شہر اوشکوش، وسکونسن سے شروع ہوا تھا۔ انڈیانا کے بعد ان کی اگلی منزل پنسلوانیا تھی، مگر بدقسمتی سے وہ وہاں پہنچنے سے پہلے ہی حادثے کا شکار ہو گئیں۔

    این تھو نیوین نے اپنی تعلیمی قابلیت میں اعلیٰ معیار قائم کیا تھا۔ انہوں نے پرڈیو یونیورسٹی سے ریاضی میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی، ایروناٹکس اور ایسٹراناٹکس میں ماسٹرز کیا، اور جارجیا ٹیک سے ایرواسپیس انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی۔ وہ ڈریگن فلائٹ ٹریننگ اکیڈمی کی چیف انسٹرکٹر بھی تھیں، جہاں انہوں نے کئی نئے پائلٹس کو تربیت دی۔مزید برآں، این تھو نیوین نے 2018 میں "ایشیائی خواتین برائے ایرواسپیس و ایوی ایشن” کے نام سے ایک غیر منافع بخش تنظیم بھی قائم کی تھی، جس کا بنیادی مقصد ایشیائی خواتین کو ہوا بازی کے شعبے میں با اختیار بنانا اور ان کے لیے مواقع فراہم کرنا تھا۔

  • تحریکِ انصاف نے اسلام آباد میں جلسے کی اجازت طلب کر لی

    تحریکِ انصاف نے اسلام آباد میں جلسے کی اجازت طلب کر لی

    اسلام آباد: تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں 5 اگست کو جلسہ کرنے کی اجازت کے لیے درخواست دے دی ہے۔ پارٹی کی جانب سے یہ درخواست ریجنل صدر عامر مغل اور ریجنل جنرل سیکریٹری ملک عامر کی طرف سے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو جمع کروائی گئی ہے۔

    تحریکِ انصاف کی طرف سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پارٹی اپنے سیاسی پروگرام اور بیانیے کو عوام تک پہنچانے کے لیے اس جلسے کا انعقاد کرنا چاہتی ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ جلسے کے دوران تمام سیکیورٹی انتظامات اور ضابطہ اخلاق کی مکمل پاسداری کی جائے گی تاکہ عوامی اجتماعات پر عموماً ہونے والے مسائل سے بچا جا سکے۔پارٹی نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں عوام کو اپنے مسائل سے آگاہ کرنے اور حکومت کی کارکردگی پر تبصرہ کرنے کے لیے عوامی جلسے کا انعقاد ضروری ہے۔ تحریکِ انصاف نے انتظامیہ سے گزارش کی ہے کہ انہیں مقررہ تاریخ پر ایف نائن پارک میں جلسہ کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنے حامیوں کے ساتھ رابطہ قائم کر سکیں۔

  • پی ٹی آئی کا ایوان بائیکاٹ یا نظام کا بائیکاٹ؟ فیصلہ عمران خان کی ہدایت پر ہوگا،گوہر

    پی ٹی آئی کا ایوان بائیکاٹ یا نظام کا بائیکاٹ؟ فیصلہ عمران خان کی ہدایت پر ہوگا،گوہر

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پارٹی کا ایوان بائیکاٹ کرنا ہے یا پورے نظام کو بائیکاٹ کرنا ہے، اس کا حتمی فیصلہ سابق وزیراعظم اور پارٹی کے سربراہ عمران خان کی ہدایت کے بعد کیا جائے گا۔

    انہوں نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین دنوں میں تین اہم سزائیں دی گئی ہیں، جن کی مجموعی مدت 45 سال بنتی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ فیصلے جمہوریت کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو ملک میں جمہوری نظام تباہ ہو جائے گا۔بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیراعظم پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کی اہلیہ کو بھی سزا دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود پارٹی نے ریاست کے ساتھ مل کر چلنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔انہوں نے فیصل آباد اے ٹی سی کے حالیہ فیصلے پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرز کو سزا سنائی گئی ہے۔ قومی اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر زرتاج گل کو بھی سزا دی گئی ہے۔

    بیرسٹر گوہر نے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ عدالتوں میں مقدمات کے ٹرائلز رات 2 بجے تک جاری رہتے ہیں، جبکہ ایک ہی کیس میں مختلف جگہوں پر ایک سے زائد ایف آئی آرز درج ہونے کی وجہ سے معاملات پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ سسٹم چلتا رہے اور جمہوریت مضبوط ہو، لیکن اس کے لیے عدلیہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ سے امید کی جاتی ہے کہ وہ انصاف فراہم کرے گی، لیکن بدقسمتی سے عوام میں مایوسی پھیل چکی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے زور دیا کہ ابھی وقت ہے کہ اس نظام کو بچایا جائے اور اسے بہتر بنایا جائے۔

  • نومئی کا فیصلہ، عمر ایوب،زرتاج گل سمیت 100 ملزمان کو سزا،زین قریشی بری

    نومئی کا فیصلہ، عمر ایوب،زرتاج گل سمیت 100 ملزمان کو سزا،زین قریشی بری

    فیصل آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی مقدمات کے دو مقدمات میں فیصلہ سناتے ہوئے عمر ایوب اور شبلی فراز سمیت 108 ملزمان کو سزائیں سنا دیں۔

    ‏فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے نو مئی کے کیس کا فیصلہ سنا دیا ،سابق چیف جسٹس امیر حسین بھٹی کے داماد افضل ساہی کو تین سال قید کی سزا ،،فواد چوہدری ،زین قریشی سمیت دیگر کو بری کردیا گیا،‏اپوزیشن لیڈر عمر ایوب ،زرتاج گل کو دس دس سال کی سزائیں سنائی گئیں، 185 میں سے 108 ملزمان کو دس دس سال سزا سنا دی گئی ،فواد چوہدری سمیت 77 افراد کو بری کردیا گیا، صاحبزادہ حامد رضا کو بھی دس سال قید کی سزا سنا دی گئی

    انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 9 مئی کے دو مقدمات کا فیصلہ سنایا، اس موقع پر عدالت کے اندر اور باہر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے حساس ادارے پر حملہ کیس میں 185 میں سے 108ملزمان کو سزا سنائی جبکہ دیگر کو بری کر دیا گیا ہے،غلام محمد آباد میں درج 9 مئی کے مقدمے میں 66 ملزمان میں سے 8 ملزمان کو بری کر دیا جبکہ 58 ملزمان کو 10، 10 سال کی سزا سنائی۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ فیصل آباد میں آج ہمارے 6 ایم این ایز ، تین ایم پی ایز اور ایک سینیٹر کو سزا سنائی گئی ہے ۔