Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • توشہ خانہ ٹو، حتمی مرحلہ، 342 کا سوالنامہ عمران خان اور بشری بی بی کو دے دیا گیا

    توشہ خانہ ٹو، حتمی مرحلہ، 342 کا سوالنامہ عمران خان اور بشری بی بی کو دے دیا گیا

    بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس حتمی مراحل میں داخل ہو گیا۔

    توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کی،توشہ خانہ ٹو کیس میں عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 342 بیان کا سوالنامہ فراہم کر دیا۔ دونوں ملزمان کے سوالنامے 29-29 سوالات پر مشتمل ہیں،بانی پی ٹی آئی کے وکیل قوسین فیصل مفتی نے گواہ نیب کے تفتیشی افسر محسن ہارون پر جرح کی، توشہ خانہ ٹو کیس کے تمام گواہان پر وکلاء صفائی کی جرح مکمل کر لی گئی۔ کیس میں کُل 20 گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں،عدالت نے کیس کی سماعت 8 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

    بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی عدالت کے سوالنامے کا جواب 8 اکتوبر کو جمع کرائیں گے،بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں، سلمان اکرم راجہ، بیرسٹر سیف، بیرسٹر علی ظفر، مشال یوسفزئی، وکیل احمد مصر سماعت کے دوران کمرۂ عدالت میں موجود تھے۔

    علیمہ خان نے کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر سلمان صفدر کے مطابق اس ہفتے میں توشہ خانہ ٹو میں یہ سزا سنا دیں گے۔ کیونکہ 16 کو القادر کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہے،س اروں کو پتہ ہے کہ عمران اور بشریٰ کو انہوں نے سزا دینی ہے.کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں جج راجہ انعام منہاس یا تو چھٹی پر چلے جائیں گے یا بیمار ہو جائیں گے کیونکہ کل توشہ خانہ کیس کی سماعت ہے،یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جج منہاس کل سماعت کرے ،

  • فرانسیسی وزیراعظم  صرف 26 روز بعد عہدے سے  مستعفی

    فرانسیسی وزیراعظم صرف 26 روز بعد عہدے سے مستعفی

    فرانس کی سیاسی تاریخ ایک بار پھر غیر یقینی کا شکار ہوگئی ہے، جہاں وزیراعظم سیبسٹین لاکورنو نے اپنے عہدے کا قلمدان سنبھالنے کے صرف 26 روز بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، سیبسٹین لاکورنو نے 10 ستمبر 2025 کو بطور وزیراعظم حلف اٹھایا تھا۔ وہ اس سے قبل فرانس کے وزیرِ دفاع کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور صدر میکرون کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے۔ان کی تقرری اس وقت عمل میں آئی جب سابق وزیراعظم فرانسوا بائرو ستمبر 2025 کے آغاز میں پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے، جس کے نتیجے میں ان کی حکومت گر گئی۔ یہ واقعہ فرانس کی جدید جمہوری تاریخ میں تیسری بار پیش آیا ہے کہ کسی حکومت کو پارلیمنٹ سے عدم اعتماد کے باعث اپنا اقتدار چھوڑنا پڑا ہو۔سیبسٹین لاکورنو کی حکومت نے اگرچہ آغاز میں کچھ امیدیں پیدا کیں، تاہم سیاسی حلقوں میں اختلافات، اپوزیشن کی سخت مزاحمت اور داخلی چیلنجز کے باعث وہ مستحکم حکومت قائم رکھنے میں ناکام رہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق، لاکورنو کا استعفیٰ میکرون حکومت کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی اندرونی سیاسی بحران، معیشتی مسائل اور عوامی احتجاجوں کا سامنا کر رہی ہے۔فرانس میں سیاسی مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ صدر میکرون اس بحران سے نکلنے کے لیے کیا حکمتِ عملی اپناتے ہیں۔

  • ایف آئی اے کی کارروائی، حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 4 افراد گرفتار

    ایف آئی اے کی کارروائی، حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 4 افراد گرفتار

    کوئٹہ: ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی ہدایت پر کوئٹہ اور گوادر میں حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل کوئٹہ اور کمپوزٹ سرکل گوادر نے کارروائی کے دوران 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گرفتار افراد میں حاجی شریف، عبدالرحمن، ریاض اور نذیر احمد شامل ہیں، جنہیں کوئٹہ اور گوادر کے مختلف علاقوں سے حراست میں لیا گیا۔ترجمان نے بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے 1072 امریکی ڈالر، 5770 افغانی، 2485 ترک لیرا، 9 لاکھ انڈونیشین روپیہ، 5.3 ملین ایرانی ریال اور 27 لاکھ پاکستانی روپے برآمد ہوئے۔ اس کے علاوہ ملزمان سے موبائل فونز اور 23 سے زائد چیک بکس بھی قبضے میں لے لی گئیں۔ایف آئی اے کے مطابق ملزمان بغیر لائسنس کرنسی ایکسچینج کا کاروبار کر رہے تھے اور ان کے بینک اکاؤنٹس سے کروڑوں روپے کی حوالہ ہنڈی ٹرانزیکشنز کا انکشاف ہوا ہے۔ ملزمان برآمد شدہ کرنسی کے حوالے سے حکام کو مطمئن نہ کر سکے۔گرفتار ملزمان کے خلاف تفتیش شروع کر دی

  • مغربی میڈیا کا دہشتگردی کے حوالے سے دوہرا معیار کھل کر سامنے آ گیا

    مغربی میڈیا کا دہشتگردی کے حوالے سے دوہرا معیار کھل کر سامنے آ گیا

    اسلاموفوبیا سےنمٹنے کیلئے عالمی سطح پربروقت اقدامات وقت کی اہم ضروت ہے

    مغربی میڈیا کا دہشتگردی کے حوالے سے دوہرا معیار کھل کر سامنے آ گیا ،مسلمانوں کے خلاف دہشتگردی اور نفرت انگیزی کے واقعات کو غیرملکی میڈیا مخصوص زاویہ سے پیش کرتا ہے،اسلاموفوبیا اب کئی مغربی معاشروں میں ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے، بی بی سی کے مطابق؛برطانیہ کے جنوبی ساحلی قصبے پیس ہیون میں مسجد کو آگ لگا دی گئی، آگ نے مسجد کے دروازے اور باہر کھڑی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ،دو نقاب پوش افرادنے مسجد کا دروازہ توڑنے کی کوشش کی ،

    بی بی سی نیوز نے برطانیہ میں مسجد پر دہشتگردانہ حملے کو محض ایک نفرت انگیز جرم قراردیا،سی این این نے بھی مسجد پر دہشتگرد حملے کوپرتشدد حملہ قرار دیا، عالمی جریدے دی گارڈین نے بھی مسلمانوں کے خلاف دہشتگردی کے واقعے کو ایک آگ لگنے کاواقعہ قراردیا،دہشتگردی کے واقعہ پر برطانوی اعلیٰ حکومتی عہدیداران کے واضح مذمتی بیانات بھی منظرعام پر نہیں آئے ، مغربی میڈیا میں دہشتگردی کے اس افسوسناک واقعہ کی واضح کوریج سامنے نہیں آئی،مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کرنا مقامی حکومتوں کی ذمہ داری ہے، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے دیگر اداروں کو مغرب میں مسلمانوں کے خلاف تعصب پرموثرحکمت عملی اپنانا ہو گی

  • سندھ اور پنجاب کا کوئی مقابلہ نہیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان جنگ شدید

    سندھ اور پنجاب کا کوئی مقابلہ نہیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان جنگ شدید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سندھ اور پنجاب کا موازنہ نہیں، پنجاب کی گورننس بہتر ہے،اسلام آباد میں پولیس پریس کلب میں گھسی،طلال چوہدری تو معافی مانگ رہے لیکن محسن نقوی کیوں نہیں سامنے آئے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ صحافیوں کا احتجاج حق ہے اور جائز،بالکل صحیح ہے، جو اسلام آباد کے اندر ہوا وہ قابل مذمت ہے، اسکا کوئی جواز نہیں بنتا، اگر تین چار صحافیوں کو جلوس میں یا ادھر ادھر کہیں مار پڑی ہوتی تو میں سمجھتا کہ غلط شناخت پر مار پڑ گئی،لیکن یہ نیشنل پریس کلب ہے، اس کے اندر گئے ہیں، چادر و چار دیواری کو پامال کیا،عہدیداروں، صحافیوں کو مارا، سامان توڑا، وہاں پر گئے جن کشمیریوں کی وجہ سے ان میں سے کسی کو نہیں مارا،کسی کو نہیں پکڑا، یہ ٹارگٹڈ حملہ تھا صحافیوں پر، کبھی طلال چوہدری آ جاتے ہیں کہ معافی مانگتا ہوں لیکن محسن نقوی نہیں آئے جو صحافی بھی ہیں، پانچ چھ چینلوں کے مالک ہیں،عطا تارڑ بھی نہیں آئے،اس سے لگتا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ کسی طرح معاملہ دب جائے اور جو اصل لوگ ہیں ان کا نام سامنے نہ آئے، میری افضل بٹ سے بات ہوئی تھی، میں سمجھتا ہوں پریس باڈی اور میڈیا کے لوگ،بڑے سلجھے ہوئے طریقے سے پورے کیس کو ہینڈل کر رہے ہیں ورنہ نام لگانا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں،ایک سیکنڈ میں کہہ سکتے تھے کہ یہ اس نے کیا،لیکن نہیں کیا گیا، احتجاج کرناآئینی،جمہوری حق ہے

    اینکر بشریٰ خان کے ایک اور سوال کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں حکومت میں ہیں اور کوئی بھی حکومت چھوڑنے کو تیار نہیں،یہ لڑائی نوراکشتی یا ہماری نظریں کسی چیز سے ہٹا رہے ہیں، دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مریم نواز کے ایڈوائزر نے انکو اچھا ایڈوائز نہیں کیا کہ پانی پر بات کریں‌لیکن جنرل بات کریں، تیسرا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ سمجھتی ہوں کہ انہوں نے یہ کیا یہ کیا، اس صورت میں تو معافی مانگنے کی ضرورت ہے، ایک کی سٹیٹمنٹ کے مقابلے میں چار کا جواب آیا، پیپلز پارٹی کے لوگوں کو الفاظ کی حرمت کاپتہ ہے،وہ چن کر بات کرتے ہیں، مریم نوازکو شاید اس طرح سیاسی زبان استعمال کرنا نئی چیز ہے،کئی چیزوں پر مریم کی بات بھی صحیح نہیں، اور کئی پر اعتراضات بھی صحیح نہیں، سندھ اور پنجاب کی گورننس کا مقابلہ نہیں کر سکتے، پنجاب بہت بہتر ہے، سندھ میں جائیں تو کانوں کو ہاتھ لگائیں گے،میں ابھی کراچی گیا تھا تو دیکھا کہ ہر سڑک کیوں کھدی ہوئی ہے، وہاں وفاقی حکومت کام کر رہی، ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے فنڈ دیا باقی اداروں نے بھی دیا ،وہ کہاں لگ رہا ہے اسکا کوئی جواب نہیں آیا، پنجاب سے گورننس کا کیا مقابلہ کر رہے ہیں، ہمیں جو چیزیں نظر آ رہی ہیں انکی بات کر لیتے ہیں.

  • سعودی حکومت کا عمرہ پالیسی میں بڑا فیصلہ، ہر ویزے پر عمرہ کی اجازت

    سعودی حکومت کا عمرہ پالیسی میں بڑا فیصلہ، ہر ویزے پر عمرہ کی اجازت

    سعودی عرب کی حکومت نے عمرہ کے خواہش مند افراد کے لیے پالیسی میں ایک اور اہم اور سہل قدم اٹھاتے ہوئے اسے مزید آسان بنا دیا ہے۔

    سعودی وزارتِ حج و عمرہ نے اعلان کیا ہے کہ اب دنیا بھر سے آنے والے زائرین کسی بھی قسم کے ویزے پر عمرہ ادا کرسکیں گے۔ اس میں وزٹ ویزہ، فیملی ویزہ، سیاحتی ویزہ اور ٹرانزٹ ویزہ رکھنے والے تمام افراد شامل ہیں۔وزارت کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہے، جس کا بنیادی مقصد دنیا بھر سے آنے والے زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنا اور عمرہ کے تجربے کو آسان و خوشگوار بنانا ہے۔

    مزید بتایا گیا ہے کہ "نسک” (Nusuk) نامی عمرہ پورٹل کو جدید خطوط پر اپ ڈیٹ کردیا گیا ہے تاکہ زائرین باآسانی عمرہ کی بکنگ، رہائش اور دیگر انتظامات آن لائن انجام دے سکیں۔ وزارت نے واضح کیا کہ نسک ایپ کے ذریعے زائرین اپنے سفر، اجازت ناموں اور دیگر سہولیات کی تفصیلات چند منٹوں میں حاصل کرسکیں گے۔

    سعودی وزارتِ حج و عمرہ کے مطابق یہ سہولت نہ صرف عرب ممالک بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے کھولی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو حرمین شریفین کی زیارت اور عمرہ کی سعادت حاصل ہوسکے۔حکومتی ذرائع کے مطابق اس پالیسی کے تحت ہر وہ شخص جو سعودی عرب میں کسی بھی قانونی ویزے پر داخل ہوگا، وہ مکہ مکرمہ جا کر عمرہ ادا کرنے کا حق رکھے گا، بشرطیکہ وہ مقررہ شرائط اور ہدایات پر عمل کرے۔یہ اعلان سعودی عرب کے زیارت و عمرہ کے انتظامی نظام میں ایک انقلابی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے لاکھوں مسلمانوں کو سہولت اور روحانی سکون میسر آئے گا۔

  • پاکستانی وزارتِ خارجہ کی سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی رہائی کیلئے کوششیں جاری

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کی سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی رہائی کیلئے کوششیں جاری

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی اسرائیل قید سے رہائی کے لیے مسلسل اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں اردن کے دارالحکومت عمان میں قائم پاکستانی سفارتخانہ مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

    ترجمان وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے اردنی حکومت کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جا رہا ہے تاکہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی بحفاظت واپسی جلد از جلد ممکن بنائی جا سکے۔ ترجمان نے بتایا کہ اردن کی حکومت کی جانب سے غیر معمولی تعاون حاصل ہوا ہے اور اُمید ہے کہ آئندہ چند روز میں یہ عمل کامیابی سے مکمل کر لیا جائے گا۔وزارتِ خارجہ نے اردن کی "برادر حکومت” کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں جس طرح اردنی حکام نے پاکستانی سفارتخانے کے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے، وہ قابلِ تحسین اور قابلِ تقلید مثال ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کی حفاظت اور بہبود کو اولین ترجیح دیتا ہے اور اس حوالے سے وزارتِ خارجہ دن رات سرگرمِ عمل ہے۔ وزارت نے عوام کو یقین دلایا کہ مشتاق احمد خان کی رہائی تمام مراحل کو نہایت احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ مکمل کیا جائے گا۔

  • وفاقی وزیر داخلہ سے برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ شفق محمد کی ملاقات

    وفاقی وزیر داخلہ سے برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ شفق محمد کی ملاقات

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ شفق محمد نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ اس اہم ملاقات میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دیرینہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے گفتگو کے دوران کہا کہ پاکستان برطانیہ کے ساتھ اپنے گہرے اور تاریخی تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کمیونٹی نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان رابطے کا اہم پل ہے بلکہ کثیر جہتی ترقی میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہے،محسن نقوی نے اس موقع پر واضح کیا کہ دنیا میں کہیں بھی اگر کوئی پاکستانی کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس کا عمل قابلِ مذمت ہے، اور ایسے افراد کو واپس لینا پاکستان کی ذمہ داری ہے، تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ افراد جو اپنی پاکستانی شہریت ترک کر چکے ہیں، ان پر یہ ذمہ داری لاگو نہیں ہوتی۔

    لارڈ شفق محمد نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے پاکستانی حکومت کی کوششوں اور اوورسیز کمیونٹی کے ساتھ روابط کو مزید بہتر بنانے کی کاوشوں کو بھی سراہا۔

  • مقبوضہ  کشمیر میں ایک اور فیس بک صارف کے خلاف مقدمہ درج

    مقبوضہ کشمیر میں ایک اور فیس بک صارف کے خلاف مقدمہ درج

    غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرِقبضہ جموں کشمیر میں اظہارِ رائے کی آزادی کو دبانے کے ایک اور واقعے میں بھارتی حکام نے ضلع بڈگام میں ایک فیس بک پیج "کشمیر اسپیکس” کے ایڈمنسٹریٹر کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے اس پر سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق خان صاحب پولیس اسٹیشن میں کالے قانون بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کے تحت ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے جب مذکورہ پیج پر ایک رپورٹ شائع کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ آری زال کے بازار میں گوشت فروخت کرنے کے لئے ایک گھوڑے کو ذبح کیا گیا ۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ رپورٹ سے مقامی لوگوں میں غیر ضروری خوف اور افراتفری پھیل گئی۔حکام نے بتایا کہ یہ کیس 26 اگست کو پیش آنے والے ایک واقعے کے سلسلے میں درج کیاگیا ہے جس میں رکھائی گائوں میں ایک گھوڑا مارا گیا تھا۔تاہم انسانی حقوق کے کارکن اس کارروائی کو مقبوضہ علاقے میں آن لائن اظہارِ رائے پر ایک وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ سمجھتے ہیں جہاں صحافیوں ، انسانی حقوق کے کارکنوں اور عام سوشل میڈیا صارفین کو سرکاری پالیسیوں پر سوالات اُٹھانے پر اکثر مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    سول سوسائٹی ارکان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کشمیریوں کی آوازوں کو دبانے کے لیے قوانین کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے آن لائن پوسٹوں پر ظالمانہ کارروائیاں کر رہی ہے ، خاص طور پر ان لوگوں کے خلاف جو زمینی حقائق کو شیئر کرنے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم استعمال کر رہے ہیں۔یہ اقدام مقبوضہ جموں کشمیر میں شہری آزادیوں پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی عکاسی کرتا ہے جہاں حکام بھارتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والی آن لائن سرگرمیوں کی باقاعدگی سے نگرانی کر رہے ہیں اور لوگوں کو سزا دے رہے ہیں۔

  • عمر ایوب  ، شیخ وقاص اکرم اور زرتاج گل کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری

    عمر ایوب ، شیخ وقاص اکرم اور زرتاج گل کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری

    اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کے خلاف سنگجانی جلسہ کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق اے ٹی سی کے جج طاہر عباس سپرا نے سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے سینئر رہنما عمر ایوب خان، شیخ وقاص اکرم اور زرتاج گل کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ تینوں رہنما متعدد بار طلب کیے جانے کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔سماعت کے دوران عمر ایوب کی جانب سے دائر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی عدالت نے مسترد کر دی۔ جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "تینوں ملزمان ایک بار بھی عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے، لہٰذا اب انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔”

    عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ عمر ایوب، شیخ وقاص اکرم اور زرتاج گل کو 20 اکتوبر تک گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔

    ذرائع کے مطابق یہ کیس سنگجانی میں پی ٹی آئی کے زیرِ اہتمام منعقدہ جلسے سے متعلق ہے، جس میں مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اجازت کے بغیر عوامی اجتماع کیا گیا تھا۔ عدالت نے متعدد مواقع پر رہنماؤں کو طلبی کے نوٹس بھی جاری کیے تھے، تاہم ان کی عدم پیشی پر یہ فیصلہ سنایا گیا۔