Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جموں : دہائیوں پرانے کیس میں دو کشمیریوں کو عمرقید کی سزا

    جموں : دہائیوں پرانے کیس میں دو کشمیریوں کو عمرقید کی سزا

    بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں جموں کی ایک عدالت نے دہائیوں پرانے ایک جھوٹے مقدمے میں دو کشمیریوں کو عمرقید کی سزا سنائی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پرنسپل سیشن جج رام بن دیپک سیٹھی نے محمد ممتاز اور فاروق احمد کو 20 سال سے زائد عرصہ قبل درج کئے گئے اغوا اور قتل کے جھوٹے مقدمے میں عمرقید کی سزا سنائی۔ جج نے اپنے فیصلے میں تسلیم کیا کہ کیس کے بارے میں معلوم ہونے پر دونوں افراد رضاکارانہ طور پر خود عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اُنہوں نے خود کو عدالت کے رحم و کرم پر بھی چھوڑ دیا تھا۔اس اعتراف کے باوجود ، عدالت نے دونوں کو مجریہ ہند کی دفعہ 302 کے تحت عمرقید اور دفعہ 364 کے تحت دس سال قید کی سزا سنائی۔قانونی ماہرین نے عدالتی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی قانونی اور عسکری اداروں کی جانب سے کشمیری نوجوانوں کو قانون کی آڑ میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے طویل عرصے سے زیرالتوا مقدمات سیاسی اختلاف پر کشمیریوں کو سزا دینے اور آزادی پسند جذبات کو کچلنے کیلئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ بھارتی عدلیہ اورمودی کی ہندوتو حکومت کے درمیان گہرے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتا ہے، جس کا مقصد مقبوضہ علاقے میں آزادی پسند کشمیریوں کی آواز کو خاموش کرنا ہے۔

  • مودی کا چوتھی بڑی معیشت کا فریب بے نقاب، عوام بھوک اور قرض سے خودکشیوں پر مجبور

    مودی کا چوتھی بڑی معیشت کا فریب بے نقاب، عوام بھوک اور قرض سے خودکشیوں پر مجبور

    مودی کا چوتھی بڑی معیشت کا فریب بے نقاب، عوام بھوک اور قرض سے خودکشیوں پر مجبورہو چکی ہے

    مودی سرکار کا ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ صرف اڈانی و امبانی کا وکاس ثابت ہوا،عام بھارتی عوام غربت، مہنگائی اور پسماندگی کا شکار ہے،مودی راج کے معاشی ترقی کے جھوٹے دعووں کو بھوک، قرض اور خودکشیوں کی حقیقت نے بےنقاب کر دیا،مودی راج میں قرض، بھوک اور معاشی ناہمواری نے عام بھارتی شہریوں کو اجتماعی خودکشی جیسے فیصلوں پر مجبور کر دیا

    مودی راج کے گجرات میں بھوک و قرض سے تنگ ایک خاندان نے اجتماعی خودکشی کرلی،این ڈی ٹی وی کے مطابق؛”20 جولائی کو گجرات کے ضلع احمد آباد میں میاں بیوی اور تین بچوں کی لاشیں گھر سے برآمد ہوئیں”والدین نے مبینہ طور پر دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کو زہر دے کر خودکشی کر لی، ویپل وگھیلا واحد کفیل تھا، جو آٹو رکشہ چلا کر گھر چلا رہا تھا اور بھاری قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا، تین سال میں 1866 خودکشیاں ہوئیں جن میں 19 فیصد مالی دباؤ اور غربت تھی،

    ویپل وگھیلا کی کہانی مودی کے فریب زدہ گجرات ماڈل کی خوفناک حقیقت کو بے نقاب کر رہی ہے،گجرات ماڈل کے نام پر مودی سرکار نے صرف غربت، قرض اور بے بسی پھیلائی ہے،گجرات میں مودی سرکار کی ساتویں بار حکمرانی کے باوجود لوگ غربت اور قرض کے بوجھ تلے خودکشی پر مجبور ہیں،جہاں سے مودی نے سیاست کا آغاز کیا، وہی گجرات آج بھی بھوک، قرض اور محرومی کی زندہ مثال ہے،مودی کا نعرہ "آں گجرات میں بنایو چھے” دراصل بھوک، قرض اور خودکشیوں سے بنے گجرات کی بھیانک حقیقت ہے ،بھارت میں معاشی استحصال نے عوام کو ذہنی دباؤ اور موت کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے،مودی سرکار کے معاشی ماڈل کی ناکامی کاثبوت بھارت بھر میں بڑھتے ہوئے خودکشی کے واقعات ہیں،بھارتی عوام کے لیے نہ روزگار ہے، نہ قرض معافی کی کوئی گنجائش، صرف سرمایہ داروں کو اربوں کی چھوٹ دی جا رہی ہے

  • پاک فوج کا ریسکیو آپریشن ،دیوسائی روڈ کھول دیا گیا،آمدورفت جاری

    پاک فوج کا ریسکیو آپریشن ،دیوسائی روڈ کھول دیا گیا،آمدورفت جاری

    گزشتہ دنوں شدید بارش اور کلاؤڈ برسٹ کے باعث سکردو-دیوسائی روڈ مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آ گئی، جس کے باعث چالیس سے پچاس گاڑیوں میں سوار سیاح اور مقامی افراد درمیانِ راہ میں پھنس گئے۔

    پاک فوج نے فوری ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا۔ رات بھر کی انتھک کوششوں کے بعد پاک فوج کی انجینئرنگ ٹیموں نے بھاری مشینری کے ذریعے سکردو سے سدپارہ ماؤنٹینیئرنگ اسکول اور دیوسائی سے سدپارہ گاؤں تک سڑک مکمل کلیئر کر دی۔تمام بند راستے کھول دیے گئے ہیں اور تمام پھنسے ہوئے افراد اور گاڑیاں محفوظ طریقے سے نکال لی گئی ہیں۔ آمدورفت بحال ہو چکی ہے اور ٹریفک روانی سے جاری ہے۔فوجی دستے اب بھی علاقے میں موجود ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔مقامی افراد اور سیاحوں نے پاک فوج کی بروقت کارروائی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔

  • رجب بٹ کے گھر پر فائرنگ کے دو ملزمان گرفتار

    رجب بٹ کے گھر پر فائرنگ کے دو ملزمان گرفتار

    لاہور کے علاقے چوہنگ میں معروف یوٹیوبر رجب بٹ کے گھر پر فائرنگ کرنے والے دو ملزمان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے والے ملزمان کی شناخت کاشف چوہان اور فرخ کے نام سے ہوئی ہے۔

    چوہنگ پولیس کے ایک اعلیٰ حکام نے بتایا کہ رجب بٹ کے گھر فائرنگ کا واقعہ شانی ٹائیگر نامی شخص کی سازش کے تحت پیش آیا، جس نے اپنے اشارے پر دونوں ملزمان کو یہ کارروائی کروائی۔ پولیس کے مطابق رجب بٹ اور سوشل میڈیا پر شہزاد بھٹی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی، جس کے بعد شہزاد بھٹی نے شانی ٹائیگر کو فائرنگ کے لیے شوٹرز بھیجنے کی ہدایت دی۔پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کا مزید تفتیشی عمل جاری ہے اور انہیں سی سی ڈی (سینٹرل ماڈل پولیس تھانے کے تحت قائم ایک خصوصی تفتیشی یونٹ) کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ واقعے کی مکمل چھان بین کی جا سکے۔

    واضح رہے کہ رجب بٹ کے گھر پر پہلے بھی متعدد بار نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کے واقعات پیش آ چکے ہیں،پولیس نے شہریوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کرے گی اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔

  • چلاس: بابو سر ٹاپ پر سیلابی ریلے میں متعدد سیاح لاپتا، ریسکیو آپریشن جاری

    چلاس: بابو سر ٹاپ پر سیلابی ریلے میں متعدد سیاح لاپتا، ریسکیو آپریشن جاری

    گلگت بلتستان کے خوبصورت ضلع دیامر میں واقع سیاحتی مقام بابو سر ٹاپ پر شدید سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی ہے۔ دریاؤں میں اچانک آنے والے فلیش فلڈ (سیلابی ریلے) کی وجہ سے متعدد سیاح بہہ کر لاپتا ہو گئے ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں اور مقامی لوگ مل کر متاثرہ سیاحوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر دیامر عطاء الرحمان کے مطابق بابو سر سے نیچے تھک کے مقام پر اچانک کلاوڈ برسٹ (آسمانی طوفان) ہوا، جس کے باعث شدید لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور بابو سر روڈ مکمل طور پر بند ہوگئی۔ تقریباً 7 سے 8 کلومیٹر سڑک تباہ ہو چکی ہے، جس سے علاقے کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ڈی سی نے بتایا کہ سیلاب میں اب تک 3 افراد کی لاشیں ملی ہیں، جبکہ ایک معمر شخص شدید زخمی حالت میں ریسکیو کر کے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اس قافلہ میں 10 سے 15 گاڑیاں، جن میں کوسٹرز بھی شامل ہیں، سیلابی ریلے میں بہہ گئیں۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد دی جا رہی ہے اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔قدرتی آفت کی وجہ سے بجلی اور فائبر آپٹک لائنز بھی متاثر ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے متاثرہ علاقے میں رابطہ منقطع ہے۔ حکام نے مشینری کے ذریعے سڑکیں کھولنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں اور ناران سے بھی بابو سر روڈ کو کھولنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    مقامی لوگوں نے بھی ریسکیو آپریشن میں بھرپور حصہ لیا ہے۔ زخمیوں کو ایمبولینس کے ذریعے ریسکیو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ امدادی سامان اور کھانے پینے کی اشیاء متاثرین تک پہنچائی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ قدرتی آفات کے ردعمل میں جو کچھ بھی ممکن ہے کیا جا رہا ہے۔

    ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے بتایا کہ صبح سے سرچ آپریشن جاری ہے اور لاپتا افراد کی تلاش میں تیزی لائی گئی ہے۔ سیلاب کی شدت کی وجہ سے گرلز اسکول، 2 ہوٹل، پولیس چوکی، پولیس شیلٹر اور 50 سے زائد مکانات مکمل تباہ ہو چکے ہیں۔ تقریباً 8 کلومیٹر سڑک شدید متاثر ہے اور 15 مقامات پر روڈ بلاک ہے۔ بابو سر پر 4 رابطہ پل بھی تباہ ہو چکے ہیں۔فیض اللہ فراق نے مزید کہا کہ سیکڑوں پھنسے ہوئے سیاحوں کو چلاس شہر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے، اور اب تک 200 سے زائد سیاحوں کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر پہنچایا جا چکا ہے۔ مواصلاتی نظام متاثر ہونے کی وجہ سے کئی سیاح اپنے گھروں سے رابطہ نہیں کر پا رہے، تاہم چلاس کے ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کو مفت کھول دیا گیا ہے تاکہ متاثرین کو مناسب سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    پاک فوج نے بھی فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔ شاہراہ بابو سر اور قراقرم ہائی وے پر پھنسے ہوئے سیاحوں اور مسافروں کو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ پاک فوج اور گلگت بلتستان اسکاوٹس ٹیمیں متاثرہ افراد کو اشیائے خوردونوش فراہم کر رہی ہیں اور زخمیوں کو طبی امداد دے رہی ہیں۔اس کے علاوہ، مشینری اور افرادی قوت سڑکوں کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ جلد از جلد شاہراہ بابو سر کو دوبارہ کھولا جا سکے۔ گم شدہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بھی روانہ کر دی گئی ہیں۔

  • آٹھ ماہ میں ایئر انڈیا کو حفاظتی خلاف ورزیوں پر 9 شوکاز نوٹسز جاری ہونےکا انکشاف

    آٹھ ماہ میں ایئر انڈیا کو حفاظتی خلاف ورزیوں پر 9 شوکاز نوٹسز جاری ہونےکا انکشاف

    راجیہ سبھا میں سیول ایوی ایشن وزارت نے ممبران پارلیمنٹ کے متعدد سوالات کے جواب میں بتایا کہ پچھلے چھ مہینوں کے دوران ایئر انڈیا کو حفاظتی خلاف ورزیوں کے سلسلے میں پانچ مختلف نوعیت کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے کل 9 شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے ہیں ان میں سے ایک خلاف ورزی کے حوالے سے کارروائی مکمل کی جا چکی ہے۔

    وزیر مملکت برائے سول ایوی ایشن مرلی دھر موہول نے بتایا کہ ایئر انڈیا کی مختلف حفاظتی مسائل کی نشاندہی کی گئی اور ان پر شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے۔انہوں نے سی پی ایم کے رکن جان بریٹاس کے سوال کے جواب میں کہا، "ایک خلاف ورزی پر کارروائی مکمل ہو چکی ہے”، مگر مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    یہ تازہ ترین اطلاعات اس حادثے کے چند ہفتے بعد سامنے آئی ہیں جب ایئر انڈیا کے بوئنگ ڈریم لائنر طیارے کا احمد آباد میں حادثہ پیش آیا تھا جس میں 260 افراد جاں بحق اور 81 زخمی ہوئے تھے۔ احمد آباد سے لندن جا رہا یہ طیارہ حادثے کے بعد میڈیکل کالج کے ہوسٹل میں جا گرا تھا۔ اس پر سوار 241 افراد میں سے صرف ایک شخص ہی بچ پایا تھا، باقی ہلاک ہونے والے افراد زمین پر بھی موجود تھے۔حادثے کے فوراً بعد سول ایوی ایشن کی نگرانی کرنے والی ایجنسی ڈی جی سی اے نے ایئر انڈیا کے بوئنگ 787-8 اور 787-9 طیاروں کا معائنہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

    وزیر سیول ایوی ایشن کے ذریعے دیے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ ایئر انڈیا کے کل 33 طیاروں میں سے 31 آپریشنل ہیں جن کا معائنہ کیا گیا، جن میں 8 طیاروں میں معمولی خرابیاں دریافت ہوئیں جنہیں درست کرنے کے بعد دوبارہ آپریشن کے لیے جاری کر دیا گیا۔ باقی 2 طیارے معمول کے شیڈول کے تحت مرمت کے مراحل میں ہیں۔دیگر سوالات کے جواب میں مرلی دھر موہول نے کہا کہ احمد آباد کے حادثے کی وجہ جاننے کے لیے ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں، بشمول اس امکان کے کہ کہیں یہ کوئی سازش یا بد نیتی کا نتیجہ تو نہیں۔

    وزارت نے بتایا کہ ڈی جی سی اے نے اپریل 2025 تک مجموعی طور پر 254 حفاظتی خلاف ورزیوں کے حوالے سے کارروائیاں کی ہیں۔ گزشتہ سال یہ تعداد 673 اور 2023 میں 542 رہی ہے۔ ان کارروائیوں میں وارننگز، معطلی، لائسنس کی منسوخی اور مالی جرمانے شامل ہوتے ہیں۔

  • سینیٹ کا 96 رکنی ایوان مکمل ہو گیا، پیپلز پارٹی سب سے آگے

    سینیٹ کا 96 رکنی ایوان مکمل ہو گیا، پیپلز پارٹی سب سے آگے

    اسلام آباد: پاکستان کے پارلیمانی نظام کا اہم ستون سینیٹ کا 96 رکنی ایوان مکمل ہو گیا ہے۔ حالیہ انتخابات کے بعد قومی سطح پر سیاسی جماعتوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم کا توازن واضح ہو گیا ہے۔

    نئی تشکیل شدہ سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے 26 نشستوں کے ساتھ سب سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) 24 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن (ن لیگ) 20 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔

    جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن کی پارٹی (جے یو آئی-ف) 7 نشستیں، آزاد امیدواروں نے 6 نشستیں، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کو 4 نشستیں، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) 3 نشستیں، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) 3 نشستیں، نیشنل پارٹی کو 1 نشست، قائد لیگ (ق لیگ) 1 نشست اور مجلس وحدت المسلمین کو بھی 1 نشست حاصل ہوئی ہے۔

    سینیٹ کی اس نئی تشکیل کے بعد قومی اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کی قوت اور پالیسی سازی میں ان کے اثرات مزید نمایاں ہوں گے۔ اس ایوان کی مکمل ہونے سے ملکی سیاسی منظرنامہ اور بھی دلچسپ اور متحرک ہو جائے گا، جہاں پارلیمانی ڈائیلاگ اور قانون سازی کا عمل جاری رہے گا۔سینیٹ پاکستان کا ایوان بالا ہے جو صوبوں کی نمائندگی کرتا ہے اور اس کا بنیادی مقصد وفاقی نظام کو مضبوط بنانا اور صوبوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔

  • سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا جائے،حفیظ البرکات شاہ

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا جائے،حفیظ البرکات شاہ

    بارش اور سیلاب میں جان بحق ہونے والوں کے اہل خانہ کے دکھ درد اور غم میں ہم برابر کے شریک ہیں ۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا جائے متاثرین کی مالی مدد کی جائے اور ان کی بحالی کےلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں ۔زمینی وآسمانی آفات سے بچنے کےلئے قرآن مجید سے تعلق مضبوط کیا جائے ۔

    ان خیالات کا اظہار قرآن پبلشرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سرپرست اعلیٰ حفیظ البرکات شاہ ، چئیرمین سید احسن محمود شاہ صدر قدرت اللہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کیا ۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان ایک عرصہ سے زمینی وآسمانی آفات کا شکار ہے ۔ان آفات سے بچنے کےلئے ضروری ہے کہ ظاہری اسباب بھی اختیار کئے جائیں اور روحانی اسباب بھی بروئے کار لائے جائیں ۔ ظاہری اسباب یہ ہیں کہ بارشوں کا پانی ذخیرہ کرنے کےلئے نئے ڈیم تعمیر کیے جائیں ۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے کہ جہاں ہر سال بارشوں کا لاکھوں کیوسک پانی تباہی پھیلاتے ہوئے زرعی زمینوں اور آبادیوں کو تباہ کرتے ہوئے ضائع ہوجاتا ہے لیکن اس پانی کو ذخیرہ کرنے کےلئے ڈیم نہیں بنائے جا رہے ۔ پانی اللہ کی نعمت ہے ہم اس نعمت کی قدر نہیں کرتے بے دردی اور بے رحمی سے پانی ضائع کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں مون سون صرف موسم کی تبدیلی نہیں بلکہ مکمل بحران بن چکا ہے جو ہر سال اپنے ساتھ بڑے پیمانے پر تباہی لاتا ہے ۔ زمینی وآسمانی آفات سے بچنے کا روحانی طریقہ یہ ہے کہ قرآن مجید سے تعلق مضبوط کیا جائے ، شہید مقدس اوراق کی حفاظت کی جائے اور قرآن مجید کو عملاََ اپنی زندگیوں میں نافذ کیا جائے اسلئے کہ اللہ نے یہ ملک ہمیں قرآن کی برکت سے عطا کیا ہے ۔ ناشران قرآن نے کہا کہ ہم بارشوں اور سیلاب سے جان بحق ہونے والوں کے ورثاءکے غم میں شریک ہیں ۔اللہ جان بحق ہونے والوں کی مغفرت فرمائے اور ان کے ورثا ءکو صبر کی توفیق عطا فرمائے

  • ڈھاکہ ، تربیتی طیارے کے حادثے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق، 171 زخمی

    ڈھاکہ کے علاقے اتورا میں واقع مائل اسٹون اسکول اینڈ کالج پر بنگلہ دیش ایئر فورس کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور 171 زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں سے کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے اور وہ مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

    حادثہ جمعہ کو دوپہر تقریباً 1:18 بجے پیش آیا، جب بنگلہ دیش ایئر فورس کا تربیتی طیارہ اچانک اسکول کی عمارت سے ٹکرا گیا۔ فائر سروس اور سول ڈیفنس کے ڈیوٹی آفیسر لیما خانم نے بتایا کہ حادثے کی اطلاع فوری طور پر موصول ہوئی اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ کرنل سمیع الدولہ چوہدری کے مطابق زخمی پائلٹ، فلائٹ لیفٹیننٹ توقیر اسلام ساگر، کو طبی امداد کے دوران ڈھاکہ کے کومبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) میں مردہ قرار دے دیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مجموعی طور پر 171 افراد زخمی ہوئے ہیں، جنہیں مختلف ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ حادثے میں زیادہ تر متاثرین بچوں کے ہونے کی اطلاع ہے جن میں کئی کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔پروفیسر ڈاکٹر محمد سیدور رحمان، جو کہ وزارت صحت کے چیف ایڈوائزر کے خاص معاون ہیں، نے بتایا کہ ابتدائی طور پر تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں سے ایک نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف برن اینڈ پلاسٹک سرجری میں اور دو کرمتولا جنرل ہسپتال میں جاں بحق ہوئے ہیں۔

    انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "یہ ایک بڑا سانحہ ہے۔ ہم اپنی تمام دستیاب وسائل کے ساتھ بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ ماہر ڈاکٹرز دن رات کام کر رہے ہیں اور ڈھاکہ میڈیکل کالج بھی ایمرجنسی میں ہے۔”انہوں نے مزید کہا، "اب تک تقریباً 60 افراد نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف برن اینڈ پلاسٹک سرجری میں داخل ہیں اور ہم 10 سے 15 مزید افراد کو داخل کرنے کی گنجائش رکھتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر ڈھاکہ میڈیکل کالج مزید مریضوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔”

    وزارت صحت نے واقعے کا فوری نوٹس لیا ہے اور حکومت کی جانب سے زخمیوں کے علاج اور بچاؤ کے لیے تمام ممکنہ انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ایک ماہرین کی ٹیم فوری طور پر زخمیوں کی مدد کے لیے روانہ کی گئی ہے تاکہ علاج کے عمل میں تیزی لائی جا سکے۔حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ حادثہ زدگان کے لیے خون کے عطیات دیں اور ریسکیو ٹیموں کو کام کرنے میں تعاون فراہم کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ جانیں بچائی جا سکیں۔

  • غیرت کے نام پر قتل کا واقعہ،ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر آگئی

    غیرت کے نام پر قتل کا واقعہ،ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر آگئی

    بلوچستان کے نواحی علاقے سنجدی ڈیگاری میں غیرت کے نام پر فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے مرد اور عورت کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس نے واقعے کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا ہے۔

    پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض کے مطابق، دونوں مقتولین کا پوسٹ مارٹم ڈیگاری کول مائن کے قبرستان میں کیا گیا۔ ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق خاتون کو 7 گولیاں اور مرد کو 9 گولیاں ماری گئیں، جو ان کی موت کا سبب بنیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ دونوں کو 4 جون 2025 کو قتل کیا گیا۔یہ اندوہناک واقعہ چند روز قبل سامنے آیا تھا جب غیرت کے نام پر قتل کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں سنجدی ڈیگاری کے مقام پر ایک مرد اور عورت کو فائرنگ کر کے قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد صوبے بھر میں عوامی غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔

    واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست مظلوم کے ساتھ ہے اور تمام ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف آپریشن جاری ہے اور انہیں جلد گرفتار کر کے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔پولیس حکام کے مطابق واقعے میں ملوث ملزمان کی شناخت کرلی گئی ہے اور گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اعلیٰ پولیس افسران کی نگرانی میں جاری اس کارروائی میں حساس ادارے بھی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی رہنماؤں نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کے خلاف سخت قانون سازی کی جائے اور ایسے عناصر کو نشانِ عبرت بنایا جائے۔