Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • فیض آباد احتجاج، فیصل جاوید کی بریت کی درخواست خارج

    فیض آباد احتجاج، فیصل جاوید کی بریت کی درخواست خارج

    انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نااہلی کے خلاف فیض آباد کے مقام پر احتجاج کے کیس میں فیصل جاوید خان کی بریت کی درخواست خارج کر دی۔

    انسدادِ دہشتگردی گردی عدالت جج طاہر عباس سِپرا نے بانی پی ٹی آئی کی نااہلی کے خلاف فیض آباد کے مقام پر احتجاج سے متعلق کیس کی سماعت کی، پراسیکیوشن کی جانب سے دو گواہان عدالت میں پیش ہوئے،عامر محمود کیانی، راشد حفیظ، جمشید مغل اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے جبکہ علی امین گنڈا پور اور فیصل جاوید پیش نہ ہوئے۔فیصل جاوید خان، حیدر بن مسعود اور راجہ ماجد کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں دائر کی گئیں، ملزمان کی جانب سے وکلاء الیاس صدیقی، سردار مصروف، زاہد بشیر ڈار عدالت میں پیش ہوئے۔

    دوران سماعت فاضل جج نے ریمارکس دیے آج گواہان کا بیان ریکارڈ کر لیتے ہیں، جرح آپ چاہے اگلی پیشی پر کر لیں،علی امین گنڈا پور آج بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے، جس پر ان کے وکیل نے کہا عدالت علی امین گنڈا پور سے متعلق گزشتہ آڈرر ہی دوبارہ جاری کر دے، جج نے کہا آپ پہلے درخواست تو دیں نا پھر دیکھ لیتے ہیں،جج طاہر عباس سپرا نے پی ٹی آئی رہنما عامر کیانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا عامر کیانی صاحب آپ کورٹ سے چلے جائیں، آپ اشتہاری ہیں، اگر آپ نے اونچا بول دیا اور پولیس نے سن لیا تو آپ گرفتار ہوں گے، آپ 3 دفعہ اشتہاری ہو چکے ہیں،عامر کیانی نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا میری غلطی ہے نہیں، جس پر جج نے کہا آپ درخواست لے آئیں پھر دیکھ لیتا ہوں۔

    عدالت نے پی ٹی آئی رہنما فیصل جاوید خان کی بریت کی درخواست خارج کرتے ہوئے کیس کی سماعت 31 جولائی تک ملتوی کر دی۔

    یاد رہے کہ پی ٹی آئی کارکنان اور رہنماؤں کے خلاف عمران خان کی نااہلی کے خلاف احتجاج پر تھانہ آئی 9 میں مقدمات درج ہیں۔

  • بارشوں کے بعد چکوال،جہلم کو آفت زدہ قرار دینے کا مطالبہ درست ہے، گورنر پنجاب

    بارشوں کے بعد چکوال،جہلم کو آفت زدہ قرار دینے کا مطالبہ درست ہے، گورنر پنجاب

    گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا چکوال اور جہلم کو آفت زدہ قرار دینے کا مطالبہ بالکل جائز ہے اور اس سلسلے میں پنجاب حکومت سے بات چیت کی جائے گی تاکہ ان اضلاع کو سرکاری طور پر آفت زدہ قرار دیا جا سکے۔

    گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان حالیہ بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لینے چکوال پہنچ گئے،ضلعی صدر پاکستان پیپلز پارٹی چکوال راجہ رضوان ڈنڈوت سمیت دیگر قیادت نے بلکسر انٹر چینج پر سردار سلیم حیدر کو خوش آمدید کہا،چکوال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے بتایا کہ گزشتہ دنوں چکوال میں ریکارڈ 450 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث علاقے میں زبردست تباہی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارش سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے پنجاب حکومت کے ساتھ ساتھ گورنر آفس بھی بھرپور تعاون کرے گا۔انہوں نے کہا کہ چکوال میں بارشوں سے نقصانات کی مکمل جانچ پڑتال کے لیے سروے جاری ہے تاکہ متاثرین کو بروقت مالی امداد فراہم کی جا سکے اور نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔

    سردار سلیم حیدر نے مزید کہا کہ بارشوں کی شدت اور تباہ کاری کو مدنظر رکھتے ہوئے چکوال اور جہلم کے مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی تاکہ متاثرہ علاقوں کو ترقی کے معمول پر لایا جا سکے۔گورنر پنجاب نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ حکومت کے تعاون سے متاثرین کی مدد کریں اور قدرتی آفات کے دوران صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔

  • راولپنڈی میں گیس لیکج کے دھماکے سے 5 افراد زخمی، گھر کی دیوار بھی گری

    راولپنڈی میں گیس لیکج کے دھماکے سے 5 افراد زخمی، گھر کی دیوار بھی گری

    راولپنڈی کے علاقے جھنڈا چیچی کے عزیز آباد میں ایک گھر میں گیس لیکج کے باعث دھماکہ ہو گیا جس کے نتیجے میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کے دوران گھر کے 5 افراد زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ گیس لیکج کی وجہ سے دھماکہ اتنا شدید تھا کہ گھر کی دیوار بھی گر گئی۔ دھماکے کے بعد بھڑکتی ہوئی آگ نے گھر کو شدید نقصان پہنچایا۔ ریسکیو ٹیموں اور سوئی گیس کے عملے نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر آگ بجھانے اور صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔زخمیوں کو فوری طبی امداد دی جا رہی ہے، جبکہ حکام نے علاقے کو سیل کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ حادثے کی اصل وجوہات کا پتا لگایا جا سکے۔ ریسکیو اہلکاروں اور مقامی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گھریلو گیس کے استعمال میں احتیاط کریں اور لیکج کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔

  • بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل ، مزید دو ملزمان گرفتار،مقدمہ درج

    بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل ، مزید دو ملزمان گرفتار،مقدمہ درج

    بلوچستان کے علاقے سنجیدی ڈیگاری میں غیرت کے نام پر مرد و عورت کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے المناک واقعے کی وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے مزید دو ملزمان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مجموعی طور پر گرفتار ملزمان کی تعداد 13 ہو گئی ہے۔

    پولیس کے مطابق ویڈیو میں فائرنگ کرنے والے شخص اور دیگر افراد کو شناخت کر کے گرفتار کیا گیا ہے۔ اس افسوسناک واقعے میں ملوث قبائلی رہنما شیر باز سمیت 13 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جلد دیگر ملوث افراد کو بھی قانون کے حوالے کر دیا جائے گا۔ادھر سنجیدی ڈیگاری تھانے میں قتل کے واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں انسداد دہشتگردی ایکٹ، قتل اور قتل میں معاونت کی دفعات شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ سختی سے نمٹا جائے گا تاکہ مجرموں کو سزا دی جا سکے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن جاری ہے اور تمام ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ریاست مظلوم کے ساتھ ہے اور انصاف کو ہر صورت ممکن بنایا جائے گا۔حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق عیدالاضحیٰ کے قریب پیش آیا تھا۔ اب تک لاشیں برآمد نہیں ہو سکیں اور دونوں مقتولین کے اہل خانہ نے پولیس میں رپورٹ بھی نہیں کرائی۔ ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت کے لیے نادرا کے ڈیٹا سے مدد لی جا رہی ہے۔

    یہ واقعہ بلوچستان کے ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک بھر میں "غیرت کے نام پر قتل” کے واقعات پر شدید مذمت ہو رہی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ایسے جرائم کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں۔

  • آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی،پی ٹی آئی کی ملک دشمنی،دشمن کی زبان بولنے والےبھارت جائیں

    آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی،پی ٹی آئی کی ملک دشمنی،دشمن کی زبان بولنے والےبھارت جائیں

    پہلگام ڈرامے کے بعد بھارت نے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا کر پاکستان پر فوجی حملہ کر دیا۔ اس حملے کا مقصد پاکستان کی عسکری اور سیاسی حیثیت کو کمزور کرنا تھا، لیکن پاکستان کی مسلح افواج نے نہایت ہمت، مہارت اور عزم کے ساتھ بھارتی جارحیت کا جواب دیا۔ پاکستانی فضائیہ نے بھارتی لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنایا اور کئی رافیل طیارے مار گرائے، جس سے بھارت کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔

    آپریشن بنیان مرصوص ایک بہترین منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا جس نے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ اس آپریشن کی کامیابی نے نہ صرف پاکستان کی دفاعی طاقت کو مضبوط کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی عزت و توقیر کو بڑھایا۔بنیان مرصوص آپریشن کے دوران ملک بھر میں جذبہ حب الوطنی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ گلیوں کوچوں میں سبز ہلالی پرچموں کا جھنڈا لہرا رہا تھا، نوجوانوں نے پاکستان زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے بلند کیے۔ اسکولوں، کالجوں، دفاتر اور گھروں میں ہر طرف پاکستانی افواج کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا تھا۔ سوشل میڈیا پر بھی افواج پاکستان کی بہادری اور کارکردگی کی داد دی جا رہی تھی۔

    پاکستان کی اس فتح کو عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار اعتراف کیا کہ بھارت کی درخواست پر انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان فوری سیز فائر کروایا تاکہ حالات قابو میں آ سکیں۔ ٹرمپ کے بیانات نے بھارت کی عالمی سطح پر تنقید کو بڑھاوا دیا اور پاکستان کی فوجی حکمت عملی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کروایا۔

    دوسری جانب پاکستان کے اندر ایسے عناصر بھی سامنے آئے جو بھارت کی زبان بولتے اور بھارتی پالیسیوں کی حمایت کرتے نظر آئے۔ یہ لوگ پاکستان کے اندر رہتے ہوئے بھی دشمن کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کی سازشیں اور مکروہ چہرے قوم کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔خاص طور پر تحریک انصاف کے چند رہنماؤں اور حامیوں کی سوشل میڈیا سرگرمیاں بھارت کے حق میں دیکھنے میں آئیں، جو کہ پاکستان کی دفاعی فتح کی روح کے خلاف ہیں۔ ان میں صنم جاوید خان، علیمہ خان، سلمان احمد، فلک جاوید خان، عادل راجہ، وقار ملک، عمران افضل راجہ، بابا کوڈا، شیر بانو، طیبہ راجہ، انور لودھی، امجد حمید اور دیگر شامل ہیں۔ ان رہنماؤں اور کارکنوں نے نہ صرف بھارت کی زبان بولی بلکہ اپنے مؤقف سے قوم کی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔یہ صورتحال پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے عناصر کی موجودگی جو پاکستان کی سلامتی اور عزت کو نقصان پہنچانے کے خواہش مند ہوں، ملکی مفادات کے خلاف ہیں۔ قوم کا مطالبہ ہے کہ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ پاکستان کی سالمیت کو محفوظ بنایا جا سکے۔

  • کیپٹن عبدالرحیم شہید،  ستارہ بسالت ،تمغہ بسالت اینڈ بار، کو قوم کا سلام

    کیپٹن عبدالرحیم شہید، ستارہ بسالت ،تمغہ بسالت اینڈ بار، کو قوم کا سلام

    پاک فوج کے بہادر سپوت کیپٹن عبدالرحیم شہید، ستارہ بسالت ،تمغہ بسالت اینڈ بار، کو قوم کا سلام

    پاکستانی قوم کیپٹن عبدالرحیم شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے،راولپنڈی کینٹ میں موجود ایک چوک کا نام کیپٹن عبدالرحیم شہید کی یاد میں رکھا گیا ہے ،کیپٹن عبدالرحیم شہید 2 دسمبر 1959ء کو خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں پیدا ہوئے، 10 جون 1983 ء کو کیپٹن عبدالرحیم شہید نے پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کیا،کیپٹن عبدالرحیم شہید کی میراث غیر معمولی بہادری کے کارناموں سے بھری ہے،دو دہائیوں سے زائد عرصہ تک کیپٹن عبدالرحیم شہید نےپاکستان آرمی ایوی ایشن میں خدمات سرانجام دیں،کیپٹن عبدالرحیم شہید کا پرواز کا وسیع تجربہ تھا ،کیپٹن عبدالرحیم شہید کافکسڈ ونگ پر 800 گھنٹے جبکہ روٹری ونگ پر 4000 گھنٹے کی پرواز کا تجربہ تھا،1985ء میں آرمی ایوی ایشن میں شمولیت کے بعد کیپٹن عبدالرحیم نے لاما ہیلی کاپٹر کی پروازیں سکردو میں شروع کیں، آپ کا شمار ہیلی کاپٹرز کو اڑانے والے صفِ اول کے پائلٹس میں رہا

    1999 میں، کیپٹن عبدالرحیم شہید کو اسکردو سے تقریباً 14,000 فٹ کی بلندی پر ایئر فورس کے ایک ریڈار کو منتقل کرنے کا اہم مشن سونپا گیا،8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کے دوران آرمی ایوی ایشن کے *آپریشن لائف لائن* میں کیپٹن عبدالرحیم شہید صف اول کے پائلٹ تھے،کیپٹن عبدالرحیم نے 8 سے 15 اکتوبر 2005 کے دوران 22,500 کلوگرام امدادی سامان متاثرہ علاقوں تک پہنچایا،انہوں نے اسی عرصے میں 229 میتوں کی منتقلی کی،زلزلے کے پہلے سات دنوں میں انہوں نے 32 گھنٹے کی پرواز مکمل کی،یہ روزانہ اوسطاً 4 سے 5 گھنٹے کی مسلسل فلائنگ اور ریسکیو مشن کے برابر تھا،15 اکتوبر 2005 کو امدادی مشن کے دوران کیپٹن عبدالرحیم شہید کا ہیلی کاپٹر خراب موسم کے باعث قریبی پہاڑی سے ٹکرا گیا ،اس افسوسناک حادثے میں تمام سات افراد، جن میں کیپٹن عبدالرحیم اور دیگر عملے کے ارکان شامل تھے، شہید ہو گئے،1992 میں، کیپٹن عبدالرحیم شہید نے برفانی تودے کی زد میں آنے والے 21,000 فٹ کی بلندی پر واقع ایک پوسٹ سے تین افراد کو بحفاظت ریسکیو کیا ،اس کامیاب ریسکیو آپریشن پر کیپٹن عبدالرحیم شہید کو ستارہ بسالت کے اعزاز سے نوازا گیا

    کیپٹن عبدالرحیم شہید کا منفرد اعزاز یہ بھی ہے کہ انہیں تمغہ بسالت کے اعزاز سے ایک بار نہیں بلکہ دو مرتبہ نوازا گیا،تمغہ بسالت کا پہلا اعزاز انہیں شہادت سے قبل، 2005 کے دوران سیاچن میں 2,000 گھنٹے کی محفوظ پرواز مکمل کرنے پر دیا گیا،اسی بے مثال کردار کے اعتراف میں، صدرِ پاکستان نے کیپٹن عبدالرحیم شہید کو 2006 میں بعد از شہادت تمغۂ بسالت سے نوازا،دھمیال بیس راولپنڈی میں یادگارِ شہداء کیپٹن عبدالرحیم شہید کے نام سے منسوب ہے جسے ان کے بیٹے نے ڈیزائن کیا ہے،کیپٹن عبدالرحیم شہید صرف ایک سپاہی نہیں بلکہ غیر متزلزل حوصلے کی علامت تھے،

  • بھارتی سی آر پی ایف  اہلکار کے ہاتھوں ساتھی خاتون افسرکا قتل

    بھارتی سی آر پی ایف اہلکار کے ہاتھوں ساتھی خاتون افسرکا قتل

    مودی کابھارت خواتین کے لیے جہنم، اسپتال، تھانہ، پبلک بس یا کارپوریٹ دفتر کوئی جگہ محفوظ نہیں

    نربھیا دہلی کی بس میں درندگی کا شکار بنی، کولکتہ کی ڈاکٹر اسپتال میں ماری گئی، مودی سرکار "بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ” کا جھوٹا راگ الاپتی رہی جبکہ بھارتی خواتین قتل ہو رہی ہیں ،بھارتی فورسز میں ذہنی تناؤ، نفسیاتی بگاڑ اور اخلاقی گراوٹ بڑھ چکی،این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق: "گجرات کے ضلع کَچھ میں خاتون پولیس افسر اپنے سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) ساتھی کے ہاتھوں مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا،سی آر پی ایف کا کانسٹیبل ،دلِیپ ڈانگچیا، ، قتل کا اعتراف کر کے خود تھانے پہنچا ،25 سالہ ارونا بین نتوبائی کَچھ پولیس اسٹیشن میں اسسٹنٹ سب انسپکٹرکے طور پر خدمات انجام دے رہی تھی،ارونا بین اور ساتھی دلِیپ میں معمولی بات پر شروع ہونے والی تکرار سنگین شکل اختیار کر گئی ،

    انجر ڈویژن کے ڈی ایس پی مکیش چوہدری کے مطابق "جھگڑا اس قدر بڑھ گیا کہ غصے میں آ کر دلیپ نے ارونا بین کا گلا گھونٹ دیا” ملزم، سنٹرل ریزرو پولیس فورس سی آر پی ایف میں منی پور میں تعینات ہے، دونوں 2021 سے انسٹاگرام کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں تھے اور تب سے ایک ساتھ رہ رہے تھے،

    منی پور اور کشمیر میں برسوں کے ظلم و جبر نے سی آر پی ایف کے اہلکاروں کو ذہنی طور پر معذور اور جذباتی طور پر بے حس کر دیا ہے،سی آر پی ایف کے اہلکار صرف کشمیر میں نہیں، اب بھارت کی اپنی بیٹیوں کے لیے بھی خطرہ بن چکے ہیں

  • بھارتی نجومی نیویارک میں رنگے ہاتھوں گرفتار

    بھارتی نجومی نیویارک میں رنگے ہاتھوں گرفتار

    بھارت کا فراڈ کلچر اب محض اندرونی بحران نہیں بلکہ ایک عالمی وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے

    یوگا اور بالی ووڈ کے پیچھے چھپا مودی کا بھارت، حقیقت میں جعلسازوں کا بین الاقوامی نیٹ ورک بن چکا ہے،”وِشوا گرو” کا نعرہ لگانے والا بھارت، اب مودی کی قیادت میں دنیا کا سب سے بڑا فریب گرو بن چکا ہےمجعلی عملیات اور جادو ٹونے کے ذریعے مالی فراڈ بھارتی نجومیوں کی پہچان بن چکی ہے،امریکی خبر رساں ایجنسی سی بی ایس نیوز کے مطابق:بھارتی شہری ہیمانتھ کمار منیپا نے روحانی عملیات کےنام پر 68 سالہ امریکی خاتون سے 60,000 ڈالرز لوٹ لیے،بھارتی نجومی نے "بری نظر” کے خاتمے، برکتوں اور روحانی تحفظ کاجھانسہ دے کر خاتون سے پیسے بٹورے،دھوکہ دہی کا آغاز $20,000 سے ہوا، بعد میں مزید $42,000 مانگے گئے،

    نیویارک پولیس کے مطابق:”منیپا نے 3 جولائی کو فال نکالنے کی خدمات کے عوض خاتون سے $20,000 وصول کیے”جمعرات کے روز مزید "روحانی خدمات” کے لیے ساؤتھ براڈوے پر واقع "انجنہ جی” کے پاس دوبارہ گئی, منیپا نے خاتون سے مزید $42,000 ادا کرنے کا مطالبہ کیا، اور اُسے براڈوے پر واقع ایک بینک لے جایا گیا تاکہ وہ رقم نکال سکے، پولیس نے کارروائی اس وقت کی جب خاتون بینک سے رقم نکالنے گئی اور شبہات پیدا ہوئے، نیویارک پولیس نے جعلی نجومی ہیمنت کو ہِکس وِائل میں بینک کے باہر گرفتار کیا، نیویارک ریاستی قانون کے مطابق، روحانی طاقتوں کے جھوٹے دعوے اور ان پر پیسے لینا غیر قانونی ہے،

    دنیا کو یوگا اور شانتی سکھانے والا بھارت، اندر سے دھوکہ، فریب اور لوٹ مار کا گڑھ ہے،مودی کا بھارت اب سافٹ پاور نہیں، فراڈ پاور کے طور پر ابھر رہا ہے

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی کابینہ کو توہینِ عدالت کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی کابینہ کو توہینِ عدالت کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی کابینہ کو توہینِ عدالت کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں رپورٹ پیش نہ کرنے پر نوٹس جاری کیا،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ چھٹیاں ختم ہونے کے بعد پہلے ورکنگ ڈے پر کیس کی آئندہ سماعت ہو گی،

    عافیہ صدیقی کا کیس مقرر کرنے اور کاز لسٹ جاری نہ کرنے پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق نےچیف جسٹس آفس پر اظہار برہمی کیا کہا آج کیس مقرر کیا لیکن کاز لسٹ ہی جاری نہیں کی گئیم کیا چیف جسٹس کے پاس کاز لسٹ پر دستظ کیلئے تیس سیکنڈز ہی نہیں؟ جج چھٹی کے دن عدالت میں انصاف مہیا کرنے کے لیے بیٹھنا چاہتاہے،ایک بار پھر ایڈمنسٹریٹیو پاور کو جوڈیشل پاور کے لیے استعمال کیاگیا، میں انصاف کو شکست کا سامنا نہیں کرنے دوں گا،ہائیکورٹ کی عزت کو برقرار رکھنے کے لیے میں اپنی جوڈیشل پاورز کا استعمال کروں گا۔

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کا روسٹر چیف جسٹس آفس ہینڈل کرتا ہے،
    حکومت نے سپریم کورٹ میں میرے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہوئی ہے،جج اگر چاہے تو چھٹیوں میں بھی کام نہیں کر سکتا، میری چھٹیاں آج سے شروع ہونی تھیں، میں نے فوزیہ صدیقی کیس دیگر کیسز کے ساتھ آج مقرر کیا تھا،ہائیکورٹ کی عزت کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی جوڈیشل پاورز کا بھرپور استعمال کروں گا،

    واضح رہے کہ عدالت نے 10 دن پہلے ہی واضح طور پر 21 جولائی کی تاریخ دی جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے انتظامی اختیارات والوں نے بنچ دستیاب نہیں لکھ کر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت کی کازلسٹ ہی جاری نہیں کی

  • شاندانہ گلزار کے حق میں مظاہرہ، جرائم پیشہ افراد کی شرکت کا انکشاف

    شاندانہ گلزار کے حق میں مظاہرہ، جرائم پیشہ افراد کی شرکت کا انکشاف

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار کے حق میں پشاور کے کوہاٹ روڈ پر منعقدہ مظاہرے میں جرائم پیشہ افراد کی شرکت سامنے آ گئی ہے، جو کہ اس احتجاج کی نوعیت اور مقاصد پر سوالات اٹھا رہی ہے۔

    نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق، پولیس ریکارڈ اور ایس ایچ او کے بیانات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شاندانہ گلزار کے حق میں ہونے والے احتجاج میں وہ افراد بھی شریک تھے جن کا تعلق مختلف جرائم سے رہا ہے۔ پولیس نے ان افراد کے احتجاج میں شامل ہونے کو ان کی قانونی مشکلات سے بچنے کے لیے ایک حربہ قرار دیا ہے۔ایس ایچ او کے مطابق، احتجاج کا سہارا لینے والے کئی افراد پر مختلف مقدمات درج ہیں اور وہ اپنے خلاف قانونی کارروائیوں سے بچنے کے لیے اس مظاہرے میں شرکت کر رہے تھے۔ اس انکشاف نے سیاسی حلقوں میں خاصی ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ اس سے احتجاج کی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب، پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاندانہ گلزار نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب بے بنیاد اور جھوٹے دعوے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس طرح کے جھوٹے الزامات کے ذریعے دباؤ میں لا کر راضی نامے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔ شاندانہ گلزار نے کہا کہ ان کا احتجاج قانونی اور جائز حقوق کے لیے تھا اور اس میں شامل تمام افراد قانون کی پابندی کرنے والے شہری تھے۔

    2013ء سے آپ کی حکومت ہے، کیا آج تک کوئی بڑا پراجیکٹ کیا؟جسٹس اعجاز انور کا شاہانہ گلزار سے استفسار
    علاوہ ازیں پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار کی درخواست پر ایس ایچ او بڈھ بیر کو 23 جولائی کو طلب کرلیا،پشاور کی عدالت عالیہ میں پی ٹی آئی رکن اسمبلی شاندانہ گلزار کی ایس ایچ او بڈھ بیر کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی،درخواست پر جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی نے سماعت کی،سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار عوامی نمائندہ ہیں اور عدالت سے کچھ عرض کرنا چاہتی ہیں۔

    درخواست گزار ایم این اے شاندانہ گلزار نے کہا کہ میرے حلقے میں لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں، 3 ماہ میں ان کا کچھ پتہ نہیں چلا،جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ ہمارے سامنے تو گمشدگی کا ابھی تک کوئی کیس نہیں آیا، آپ کے حلقے میں کیا یہ ایک ایشو رہ گیا ہے،جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ کےحلقے میں شاید پاکستان میں سب سے زیادہ دہشتگردی ہے.جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ 2013ء سے آپ کی حکومت ہے، کیا آج تک کوئی بڑا پراجیکٹ کیا؟ وہاں دشمنیاں ہیں، لوگ قتل ہوئے، کیا سیاسی لوگوں نے آج تک اس کے حل کے لیے کوئی جرگہ کیا؟ ہمارے پاس جو رپورٹس ہیں ان کے مطابق آئس، اسلحہ اور ہوائی فائرنگ پر پابندی ہے، میں بھی اس حلقے سے ہوں، کیا وہاں پر کوئی یونیورسٹی، کالج، گرلز کالج یا پلے گراؤنڈ بنایا؟ آپ صرف اس طرح سے ایس ایچ او کا تبادلہ کروانے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہے، اگر اس حوالے سے کوئی ایف آئی آر آئی تو ہم اس کو سن لیں گے، صرف الزامات پر ہم کسی کے خلاف کارروائی کا حکم نہیں دے سکتے۔ 50 سال سے اس علاقہ میں رہتا ہوں، مجھے وہاں کے حقائق معلوم ہیں، یہ بی بی شاید اس علاقہ میں رہتی بھی نا ہوں۔

    جس کے جواب میں درخواست گزار شاندانہ گلزار نے کہا کہ میں وہاں رہتی ہوں، وہاں پر میرا گھر ہے۔حلقے میں کام کے حوالے سے شاندانہ گلزار نے کہا کہ میں نے بڈھ بیر گرلز کالج اور زچہ و بچہ اسپتال وہاں پر منظور کروایا ہے۔جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ کو کوئی لیگل بات کرنی ہیں تو کریں، دیگر لوگ بیٹھے ہیں، ہم نے ان کو بھی سننا ہے۔درخواست گزار نے بتایا کہ وہاں پر ایس ایچ او کے خلاف لوگوں نے احتجاج کیا۔ جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ اس پر تو حکومت نے انکوائری کا کہا ہے، ان کی رپورٹ آجائے گی نا۔عدالت نے سی سی پی کو طلبی نوٹس جاری کرتے ہوئے 23 جولائی کو ہونے والی آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم جاری کر دیا۔