Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مرکزی مسلم لیگ کی بارشوں سے متاثرہ اضلاع میں تیسرے روز بھی امدادی سرگرمیاں جاری

    مرکزی مسلم لیگ کی بارشوں سے متاثرہ اضلاع میں تیسرے روز بھی امدادی سرگرمیاں جاری

    چکوال میں گھر تعمیر کرنے کا اعلان،راولپنڈی،جہلم سمیت دیگر علاقوں میں میڈیکل کیمپ،کھانا تقسیم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام بارشوں سے متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں تیسرے روز بھی جاری ہیں، چکوال میں مرکزی مسلم لیگ نے بارشوں سے تباہ ہونے والےگھر وں کی تعمیر کا اعلان کر دیا، راولپنڈی ،جہلم سمیت دیگر اضلاع میں متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ لگائے گئے، پکی پکائی خوراک کی تقسیم کا سلسلہ بھی جاری ہے

    بارشوں سے متاثرہ اضلاع میں مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان خدمت خلق کے جذبے سے سرشار امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں،راولپنڈی خیابان سیکٹر 3 میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا،مرکزی ترجمان تابش قیوم، سیکرٹری جنرل مرکزی مسلم لیگ راولپنڈی انجینئر مبین صدیقی و دیگر نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین سے ملاقات کی،میڈیکل کیمپ میں مریضوں کو مفت ادویات بھی فراہم کی گئیں،چکوال کے علاقے کھیوال میں شدید بارش کی وجہ سے چھت گرنے کے باعث محمد افضل کا بیٹا اور پوتا ملبے تلے دب کر وفات پا گئے،مرکزی مسلم لیگ چکوال کے سیکرٹری جنرل عبداللہ نثار کی ہدایت پر صدر پی پی 20 زاہد خالد نے متاثرہ گھر کا دورہ کیا ،لواحقین سے اظہار افسوس کیا اور بارش سے گرنے والے گھر کی تعمیر کا اعلان کیا،مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم کا کہنا ہے کہ متاثرین کی دوبارہ بحالی تک مرکزی مسلم لیگ امدادی سرگرمیاں جاری رکھے گی.

  • شاہ رخ خان اپنی نئی فلم ‘کنگ’ کی شوٹنگ کے دوران زخمی

    شاہ رخ خان اپنی نئی فلم ‘کنگ’ کی شوٹنگ کے دوران زخمی

    بالِی وڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان اپنی نئی فلم ‘کنگ’ کی شوٹنگ کے دوران زخمی ہوگئے ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، شاہ رخ خان ممبئی میں فلم کی شوٹنگ کے دوران ایک حادثے کا شکار ہوئے جس کے نتیجے میں انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت پیش آئی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے کی حالت سنجیدہ ہے اور ان کا علاج بہتر سہولیات کے لیے امریکہ منتقل کیا جائے گا۔ فلم کی پروڈکشن ٹیم اور قریبی افراد نے شاہ رخ خان کی صحت کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم ان کے مداح اور بالی وڈ کی دنیا تشویش میں مبتلا ہے۔

    ادھر، بالی وڈ کے دیگر اداکاروں اور فینز نے سوشل میڈیا پر شاہ رخ خان کی صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ شاہ رخ خان کی جلد صحتیابی کے لیے دعاؤں کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔

  • ہنگو میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے ڈی پی او محمد خالد زخمی، 4 دہشتگرد ہلاک

    ہنگو میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے ڈی پی او محمد خالد زخمی، 4 دہشتگرد ہلاک

    ہنگو کے علاقے شناوڑی زرگری میں دہشتگردوں کے حملے کے دوران ڈی پی او محمد خالد زخمی ہو گئے ہیں۔ ڈی ایس پی امجد حسین نے بتایا کہ دہشتگردوں کے ساتھ پولیس کا تبادلۂ فائرنگ ہوا جس میں ڈی پی او محمد خالد کے علاوہ ایس ایچ او تھانہ دوآبہ نبی خان بھی زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں سے انہیں مزید علاج کے لیے پشاور روانہ کیا جا رہا ہے۔

    ہنگو پولیس کے ترجمان نے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران فورسز نے دہشتگردوں کو نشانہ بنایا اور چار دہشتگرد مارے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعہ کے بعد پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) نے علاقے میں کرفیو نافذ کر کے بڑی سطح پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    علاقے میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف حساس مقامات پر تعینات ہیں تاکہ ممکنہ دہشتگرد سرگرمیوں کو روکنے میں کامیابی حاصل کی جا سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ زخمی ڈی پی او محمد خالد کی حالت تشویشناک ہے اور ان کی فوری صحت یابی کے لیے تمام طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

  • لانگ مارچ کیس،علی امین ذاتی حیثیت میں عدالت طلب

    لانگ مارچ کیس،علی امین ذاتی حیثیت میں عدالت طلب

    عدالت نے لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس میں علی امین اور شفقت محمود کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں علی امین گنڈاپور اور دیگر کے خلاف لانگ مارچ کے دوران توڑ پھوڑ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا شفقت محمود کا چالان بھی عدالت میں جمع کرایا گیا۔

    سماعت کے دوران پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے سردار محمد مصروف خان، زاہد بشیر ڈار اور مرتضیٰ طوری عدالت میں پیش ہوئے جبکہ نامزد دیگر غیر حاضر کارکنوں کے خلاف وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے۔عدالت نے علی امین گنڈاپور اور شفقت محمود کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کے نوٹسز جاری کیے ہیں، جن کی آئندہ سماعت پر حاضری لازم ہوگی۔

    واضح رہے کہ تھانہ باره کہو میں پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنان کے خلاف لانگ مارچ کے دوران پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے دو مقدمات درج ہیں جن میں توڑ پھوڑ اور دیگر الزامات شامل ہیں۔پی ٹی آئی کے اس کیس کی سماعت آئندہ تاریخ پر ہوگی جس میں عدالت مزید کارروائی کا فیصلہ کرے گی۔

  • سانحہ سوات کی انکوائری رپورٹ میں سنگین غفلت اور کوتاہیوں کا انکشاف

    سانحہ سوات کی انکوائری رپورٹ میں سنگین غفلت اور کوتاہیوں کا انکشاف

    حالیہ سانحہ سوات کے بعد تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ نے محکمہ سیاحت اور کلچر و ٹورازم اتھارٹی کی غفلت اور ناقص انتظامات کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ رپورٹ میں محکمہ سیاحت کی طرف سے سیاحتی مقامات پر حفاظتی انتظامات میں مکمل ناکامی اور ذمہ داریوں سے چشم پوشی کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

    انکوائری رپورٹ کے مطابق سانحے کے دن محکمہ سیاحت کا کوئی اہلکار موقع پر موجود نہیں تھا، جس سے فوری اور موثر حفاظتی اقدامات کا فقدان نمایاں ہوا۔ قانونی تقاضوں کے باوجود کلچر و ٹورازم اتھارٹی سیاحتی علاقوں میں ہوٹلوں کی لائسنسنگ میں مکمل ناکام رہی، جس کی وجہ سے غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز سیاحوں کے لیے سنگین خطرہ بن گئے۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ فضا گھٹ جیسے معروف سیاحتی مقام پر ٹورازم پولیس کی غیر موجودگی کی وجہ سے سیاحوں کی حفاظت کا کوئی انتظام نہ تھا۔ اس کے علاوہ سیاحوں کے لیے مختص ہیلپ لائن نمبر 1422 غیر فعال رہا اور عوام کو اس بارے میں کوئی آگاہی بھی فراہم نہیں کی گئی، جو ہنگامی صورتحال میں امداد کی فراہمی میں رکاوٹ بنی۔

    ضلعی سطح پر سیاحتی آگاہی یا سہولت سینٹرز کا فقدان بھی رپورٹ میں واضح کیا گیا، جہاں بغیر کسی نگرانی کے ٹریول ایجنٹس سرگرم عمل تھے، جن کی خدمات اور حفاظتی اقدامات کی کوئی جانچ پڑتال نہیں کی گئی۔ کلچر و ٹورازم اتھارٹی نے ایونٹ مینجمنٹ کو ترجیح دیتے ہوئے سیاحوں کے تحفظ کے بنیادی اقدامات میں ناکامی کا مظاہرہ کیا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سیاح جس ہوٹل میں قیام پذیر تھے وہ بغیر این او سی کے دریا کے کنارے قائم کیا گیا تھا، اور ہوٹل انتظامیہ نے سیاحوں کے لیے کوئی حفاظتی یا وارننگ بورڈ نصب نہیں کیا۔ سیلابی صورتحال کے باوجود سیاحوں کو دریا کی جانب جانے سے روکنے کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا گیا، جو سانحے کا سبب بنا۔

    انکوائری کمیٹی نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر ہوٹل انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سخت سفارش کی ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ سیاحتی مقامات پر ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کے لیے سخت لائسنسنگ نظام نافذ کیا جائے اور ٹورازم پولیس کی ہمہ وقت تعیناتی یقینی بنائی جائے۔سہولت سینٹرز کے قیام اور میڈیا کے ذریعے سیاحوں کی حفاظتی آگاہی کے لیے خصوصی مہمات چلانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، مون سون سیزن کے دوران ہوٹل انتظامیہ کو سیزنل کمپلائنس سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کا پابند بنانے اور غیر رجسٹرڈ ٹریول ایجنٹس کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں محکمہ سیاحت کے ذمہ دار افسران کے خلاف 30 دن کے اندر محکمانہ کارروائی مکمل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس ضمن میں محکمہ سیاحت نے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ ان سفارشات پر فوری عمل درآمد کیا جا سکے۔محکمہ سیاحت کی جانب سے ڈی جی سیاحت کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کی لائسنسنگ نظام سے متعلق 30 دن میں تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے، تمام سیاحتی مقامات پر ٹورازم پولیس تعینات کی جائے، اور صوبے کے اندر اور باہر ٹریول ایجنٹس کو ریگولیٹ کر کے انہیں سیاحوں کی حفاظت کے لیے سخت پروٹوکول پر عمل کرنے کا پابند بنایا جائے۔

  • بھارت میں جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات ، عورتوں اور بچوں کی عزت غیر محفوظ

    بھارت میں جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات ، عورتوں اور بچوں کی عزت غیر محفوظ

    مودی راج میں بھارت میں بڑھتاجنسی استحصال،بھارت میں جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات ، عورتوں اور بچوں کی عزت غیر محفوظ ہو گئی،

    بی جے پی کی انتہا پسند ہندوتوا سوچ نے بھارت کو جنسی زیادتی کا گڑھ بنا دیا ہے ،مودی سرکار بچوں سے جنسی زیادتی جیسے حساس معاملات پر فوری کارروائی کرنے میں ناکام ہے،ہندوستان ٹائمز کے مطابق تامل ناڈو میں 10 سالہ بچی کا جنسی استحصال، پولیس نے 5 دن بعد مقدمہ درج کیا ،ترولور ضلع میں 10 سالہ بچی کے ساتھ اسکول سے گھر واپسی کے دوران جنسی زیادتی کی گئی،امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر حزبِ اختلاف کی جانب سے وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن پر کڑی تنقید کی گئی ہے،یونیسف رپورٹ 2005–2013 کے مطابق: بھارت میں 43 فیصد لڑکیاں 19 سال کی عمر سے پہلےہی جنسی استحصال کا شکار ہوجاتی ہیں*نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق
    2019 میں بچوں کے خلاف جرائم میں 4.5 فیصد اضافہ ہوا، جس میں 148,185 کیسز رپورٹ ہوئے،مہاراشٹرا، اتر پردیش، مادھیہ پردیش، کرناٹکا اور گجرات میں2017 سے 2019 کے دوران سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے، بھارت میں 2016 سے 2022 کے درمیان بچوں سے زیادتی کے مقدمات میں 96 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، بین الاقوامی تنظیم فئیر پلینیٹ کے مطابق بھارت میں صرف 2022 میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے 38,911 مقدمات درج ہوئے،

    بھارت میں جنسی جرائم سے تحفظ کے قانون کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے،مودی کی ناقص پالیسیوں کے باعث بھارت میں جنسی استحصال کے واقعات میں مسلسل اضافہ ایک المیہ بن چکا ہے، سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا کر ریاستی ناکامی پر پردہ ڈالنے میں مصروف ہیں،عورتوں اور بچوں کے ساتھ عصمت دری کے واقعات ہندوتوا سرکار اور شدت پسند معاشرے کی علامت ہے،

  • بھارتی فضائیہ کی ناکامی، مودی سرکار کی پردہ پوشی بے نقاب

    بھارتی فضائیہ کی ناکامی، مودی سرکار کی پردہ پوشی بے نقاب

    معرکہ حق کے دوران پاکستان کے ہاتھوں جدید طیارے گنوا کر بھارت کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامناکرنا پڑا

    برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں بھارتی فضائیہ کی عبرتناک ناکامی کی قعلی کھل گئی ،رپورٹ نے مودی حکومت کی پردہ پوشی اور بھارتی فضائیہ کی جنگی حماقتوں کو بے نقاب کر دیا،پاکستان نے معرکہ حق میں بھارتی فضائیہ کے جدید طیارے گرا کر دشمن کی طاقت کا غرور خاک میں ملا دیا،دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق؛”بھارت کے کم از کم پانچ طیارے تباہ ہوئے جن میں مہنگے رافیل بھی شامل تھے”،بھارتی چیف آف ڈیفنس جنرل انیل چوہان نے اعتراف کیا کہ جنگی غلطیوں سے طیارے کھوئے، بھارتی دفاعی اتاشی کیپٹن شیو کمار نے تسلیم کیا کہ سیاسی قیادت نے پاکستانی فوجی تنصیبات پر حملے کی اجازت نہ دی، بھارتی رافیل طیارے سپیکٹرا وار سسٹم کے باوجود پاکستانی میزائلوں کو روک نہ سکے، بھارتی طیاروں پر نہ میٹیور میزائل نصب تھے نہ جدید سافٹ ویئر اور الیکٹرانک جمنگ سسٹم، بھارت میں رافیل طیارے کی ناکامی پر فوجی حلقوں میں داسوٹ کمپنی پر تنقید، سافٹ ویئر شیئر نہ کرنے کا الزام ہے،چین نے پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ رئیل ٹائم ٹارگٹنگ ڈیٹا بھی فراہم کیا،

    مودی سرکار کی ناکامی پر بھارت میں آئندہ 114 طیارے خریدنے کی ڈیل پر سوالات اٹھنے لگے،بھارتی اپوزیشن کا الزام ہے کہ مودی سرکار ناکامی چھپانے کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے سے قاصر ہے ،بھارتی ریاست پنجاب کے علاقے اکالیا کلان (بھٹنڈا) میں بھارتی طیارے کا ملبہ گرا، مگر متاثرہ خاندان آج بھی معاوضے کے منتظرہے،

  • بھارتی اداروں کا شرمناک کردار، نسل پرستی اور ریاستی جبر بے نقاب

    بھارتی اداروں کا شرمناک کردار، نسل پرستی اور ریاستی جبر بے نقاب

    مودی سرکار کے دورِ اقتدار میں پولیس عوام کو ریاستی جبر سے کچلنے کے لیے نسل پرستانہ مثالوں کا سہارا لینے لگی

    حال ہی میں بھارتی پنجاب پولیس نے سیاہ فام جارج فلوئڈ کی ہلاکت کا منظر عوام کو دھمکانے کے لیے استعمال کیا،جارج فلوئڈ کی بیٹی گیانا فلوئڈ نے بھارتی پولیس کی ٹوئٹ کو شرمناک اور توہین آمیز قرار دیا،گیانا فلوئڈ نے کہا کہ یہ پوسٹ میرے والد اور لاکھوں امریکیوں کی جدوجہد کی توہین ہے،پنجاب پولیس کی ٹوئٹ میں پاکستان کا پرچم تھامنے والوں کو یکساں انجام بھگتنے کی سخت وارننگ دی گئی،جارج فلوئڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کو بھارتی پولیس نے فخر سے مسلمانوں کو ڈرانے کے لیے استعمال کیا،بھارتی پنجاب پولیس کی حالیہ ‘ایکس’ پوسٹ، انسانی حقوق کی کھلی تضحیک اور ریاستی دہشتگردی کا واضع ثبوت ہے،سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کے بعد پنجاب پولیس نے متنازعہ ٹوئٹ کو ہٹا دیا

  • بھارت کی پائیدار ترقی میں محدود پیش رفت، ماحولیاتی چیلنجز بڑھنے لگے

    بھارت کی پائیدار ترقی میں محدود پیش رفت، ماحولیاتی چیلنجز بڑھنے لگے

    بھارت کی پائیدار ترقی کے اہداف کی جانب پیش رفت میں نمایاں سستی دیکھنے میں آ رہی ہے، جبکہ ماحولیاتی بحران اور آلودگی کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ عالمی سطح پر شائع ہونے والی 2025 کی ایک رپورٹ میں بھارت کو 167 ممالک کی فہرست میں 99 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے، جو موجودہ حکومت کی ترقیاتی پالیسیوں کی ناکامی کا عالمی ثبوت تصور کیا جا رہا ہے۔

    بھارتی جریدے اسکرول ان کی رپورٹ کے مطابق، بھارت کے پائیدار ترقی کے متعدد اہداف میں سست روی پائی جا رہی ہے اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں بہتری کے بجائے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارت کے صرف ایک تہائی اہداف درست سمت میں ہیں، جبکہ باقی اہداف منفی رجحانات کا شکار ہیں۔رپورٹ کے مطابق بھارت وہ چند ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں۔ چین اور امریکہ کے بعد بھارت تیسرا سب سے بڑا کاربن خارج کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ خاص طور پر، ملک میں ایندھن اور سیمنٹ کے استعمال کی وجہ سے فی کس کاربن اخراج بھی کافی زیادہ ہے۔ماحولیاتی چیلنجز کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت کی 70 فیصد سے زائد بجلی اب بھی کوئلے سے پیدا ہوتی ہے، جو ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا ایک بڑا سبب ہے۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بھارت نے زیرو ہنگر، صنعت و انفراسٹرکچر کی بہتری، ذمہ دار کھپت، اور زمین پر زندگی جیسے کلیدی پائیدار ترقی کے اہداف پر پیش رفت روک دی ہے۔ اگر پالیسیوں میں فوری تبدیلی نہ آئی تو بھارت 2030 تک ان اہداف کے حصول سے محروم رہ جائے گا۔

    اسکرول ان کے مطابق بھارت میں فضائی آلودگی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ بھی اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ بھارت کے تمام 1.4 ارب لوگ مضر صحت فضائی آلودگی کا سامنا کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں، بھارت میں میٹھے پانی کے ذخائر کا غیر ذمہ دارانہ استعمال بڑھ رہا ہے، جس سے پانی کا بحران بھی سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے مودی سرکار کی کارکردگی کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ قدرتی وسائل، خاص طور پر پانی کو سیاسی اور اقتصادی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ پائیدار ترقی کے دعوے صرف زبانی بیانات تک محدود ہیں۔ ماحولیاتی تباہی اور ناقص پالیسیاں مودی حکومت کے ترقیاتی ماڈل کو عالمی سطح پر بے نقاب کر چکی ہیں۔

    اگر بھارت نے اپنی ماحولیاتی پالیسیاں فوری طور پر بہتر نہ کیں اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے، تو یہ نہ صرف ملک بلکہ خطے کے لیے بھی ماحولیاتی بحران کی صورت میں ایک بڑا خطرہ بن جائے گا۔ عالمی رپورٹیں اور مقامی تحقیق ایک آواز میں خبردار کر رہی ہیں کہ تبدیلی اب وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔

  • ہنجروال میں ہنی ٹریپ کا مکروہ جال بے نقاب، دو خواتین سمیت چار ملزمان گرفتار

    ہنجروال میں ہنی ٹریپ کا مکروہ جال بے نقاب، دو خواتین سمیت چار ملزمان گرفتار

    ہنجروال پولیس نے ایس پی اقبال ٹاؤن ڈاکٹر محمد عمر کی خصوصی ہدایت پر ہنی ٹریپ کے مکروہ دھندے میں ملوث چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ اس گروہ نے شہریوں کو دھوکہ دے کر حبسِ بے جا میں رکھا، نازیبا ویڈیوز بنائیں، تشدد کیا اور پھر بلیک میلنگ کے ذریعے بڑی رقم بٹوری۔

    تفتیشی ذرائع کے مطابق مرکزی ملزمہ روبینہ نے شہری وقار کو فون پر ورغلا کر اپنے مکان پر بلایا جہاں پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت اسے قید کیا گیا۔ اس دوران اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور نازیبا ویڈیوز بنائی گئیں۔ اس کے بعد ملزمان نے ان ویڈیوز کی بنیاد پر وقار کو دھمکیاں دیں اور رقم کی ادائیگی پر مجبور کیا۔حیران کن بات یہ ہے کہ گرفتار شدہ ملزمان میں سے ایک سول ڈیفنس کا اہلکار بھی شامل ہے، جو خود کو پولیس کا اہلکار ظاہر کر کے متاثرین کو خوفزدہ اور بلیک میل کرتا رہا۔

    پولیس نے متاثرہ شہری کے شکایت پر مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایس پی اقبال ٹاؤن ڈاکٹر محمد عمر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے ملزمان کے خلاف آگے آئیں تاکہ قانون کے کٹہرے میں لائے جا سکیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ شہریوں کو بلیک میل کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کا یہ گروہ ماضی میں بھی متعدد شہریوں کو ہنی ٹریپ کے ذریعے نقصان پہنچا چکا ہے۔ پولیس نے مزید متاثرین سے رابطہ کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ کیس کو مکمل منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔مزید انکشافات جلد متوقع ہیں، اور متاثرین کی بھرپور حمایت کی جا رہی ہے تاکہ اس طرح کے مکروہ جرائم کا خاتمہ کیا جا سکے۔