Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بارشوں سے متاثرہ اضلاع،مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیاں،ترجمان کا دورہ

    بارشوں سے متاثرہ اضلاع،مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیاں،ترجمان کا دورہ

    متاثرین کو خوراک کی فراہمی،میڈیکل کیمپ لگائے گئے،امدادی کاروائیاں تیز کریں،تابش قیوم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے حالیہ بارشوں سے متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مرکزی صدر خالد مسعود سندھو کی خصوصی ہدایات پر راولپنڈی، چکوال، جہلم سمیت دیگر متاثرہ علاقوں میں پارٹی کارکنان کی جانب سے کھانے پینے کی اشیاء، میڈیکل سہولیات اور محفوظ نقل مکانی کا بندوبست کیا گیا ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی ترجمان تابش قیوم نے جمعہ کے روز جہلم اور راولپنڈی کے مختلف متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ریلیف آپریشن میں حصہ لینے والے کارکنان کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ ان کے ہمراہ مرکزی مسلم لیگ جہلم کے سیکرٹری جنرل چوہدری ہارون رفیق، اور دیگر مقامی رہنما بھی موجود تھے۔مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے راولپنڈی کے تین مختلف مقامات پر میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے جہاں ماہر ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے خواتین اور بچوں کا مفت معائنہ کیا اور ادویات بھی فراہم کیں۔ متاثرہ علاقوں میں پکی پکائی خوراک کی تقسیم بھی جاری ہے، جبکہ وہ علاقے جہاں سڑکیں زیر آب آچکی ہیں، وہاں رضاکار کشتیوں کے ذریعے نہ صرف متاثرہ خاندانوں تک خوراک اور پینے کا پانی پہنچا رہے ہیں بلکہ متاثرین اور ان کے سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل بھی کیا جا رہا ہے۔

    اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم کا کہنا تھاکہ مرکزی مسلم لیگ ہر ممکن طریقے سے اپنے بارش سے متاثرہ بھائیوں کی مدد جاری رکھے گی۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم آزمائش کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں، خدمت انسانیت مرکزی مسلم لیگ کا منشور ہے، ہمارا ہر کارکن خدمت کے جذبے سے معمور ہے،متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں تیزی لائی جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

  • پاکستان کامجید بریگیڈ کو عالمی دہشتگرد تنظیموں کے نیٹ روک میں شامل کرنے کا مطالبہ

    پاکستان کامجید بریگیڈ کو عالمی دہشتگرد تنظیموں کے نیٹ روک میں شامل کرنے کا مطالبہ

    ترجمان دفتر خارجہ نےکہا ہے کہ پاکستان ہر قسم اور ہر شکل میں دہشت گردی کی شدید مذمت کرتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف صفر رواداری اور بین الاقوامی تعاون ہماری پالیسی کی بنیاد ہیں۔ پاکستان ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف محاذِ اول پر رہا ہے اور اپنی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے ذریعے عالمی امن کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، جس میں ماسٹر مائنڈ دہشت گرد شریف اللہ کی گرفتار بھی شامل ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پہلگام واقعہ کی تحقیقات، جو کہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ جموں کشمیر میں پیش آیا، ابھی تک غیر حتمی ہیں۔القاعدہ یا لشکر طیبہ سے کسی قسم کا کوئی تعلق، جو کہ پاکستان میں ممنوعہ اور ختم شدہ تنظیم ہے، پاکستان نے متعلقہ تنظیموں کو مؤثر اور مکمل طور پر ختم کر دیا ہے، ان کے قائدین کو گرفتار اور مقدمات چلائے ہیں، پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی بے مثال قربانیوں اور مؤثر اقدامات کے ساتھ میدان میں کھڑا ہے۔ ہم بین الاقوامی برادری سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس عالمی وباء سے نمٹنے کے لیے غیر جانبدار اور موثر پالیسیاں اپنائیں اور دہشت گرد تنظیموں جیسے بی ایل اے کی ذیلی تنظیم مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے.

  • لواری ٹنل لنک روڈز کی مرمت اگلے سال کے آخر تک ہو جائے گی،علیم خان

    لواری ٹنل لنک روڈز کی مرمت اگلے سال کے آخر تک ہو جائے گی،علیم خان

    سینیٹ کے ہ اجلاس میں وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے بتایا کہ لواری ٹنل کی لنک رسائی سڑکوں کی کل لمبائی 33.2 کلومیٹر ہے اور ان سڑکوں کی مرمت و بحالی کا کام اکتوبر 2025 تک مکمل کر لیا جائے گا۔

    یہ اجلاس ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان کی زیر صدارت ہوا۔ وفاقی وزیر مواصلات نے سوالات کے جواب میں مزید بتایا کہ لواری ٹنل کی لنک سڑکوں کی مرمت سے خطے کی رابطہ کاری بہتر ہوگی جس کا مثبت اثر سیاحت اور دیگر کاروباری سرگرمیوں پر پڑے گا۔ بہتر سڑکوں کی تعمیر سے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور اس سے معاشی سرگرمیوں کو بھی تقویت ملے گی۔

    اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے حوالگی ملزمان ترمیمی بل، پاکستان شہریت ترمیمی بل اور فوجداری قوانین ترمیمی بل ایوان میں پیش کیے، جنہیں منظوری دے دی گئی۔ علاوہ ازیں، وزیر مملکت برائے تعلیم وجہیہ قمر نے فیڈرل بورڈ برائے ثانوی تعلیم ترمیمی بل پیش کیا جو منظور کر لیا گیا۔وزیر مملکت برائے مواصلات نے اجلاس کو ای او بی آئی کی 49 عمارتوں اور پیشہ وران کو کارڈز جاری کرنے کی معلومات بھی فراہم کیں۔سینیٹ کی کارروائی پیر کی شام پانچ بجے تک ملتوی کر دی گئی

  • عرفان سلیم سینیٹ امیدوار ہوں‌گے،خیبر پختونخوا کے پی ٹی آئی کارکنان کا اعلان

    عرفان سلیم سینیٹ امیدوار ہوں‌گے،خیبر پختونخوا کے پی ٹی آئی کارکنان کا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پشاور سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں نے نیوز کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ پارٹی کے سینئر رہنما اور سینیٹ کے امیدوار عرفان سلیم اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس نہیں لیں گے اور وہ آئندہ ہونے والے سینیٹ انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گے۔ عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کا یہ جائز مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو 21 جولائی کو خیبرپختونخوا اسمبلی کا گھیراؤ کیا جائے گا اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر احتجاج کیا جائے گا۔

    نیوز کانفرنس میں پی ٹی آئی پشاور کے عہدیداروں نے زور دیا کہ عرفان سلیم پارٹی کے ایک مخلص اور وفادار کارکن ہیں جنہوں نے ہمیشہ پارٹی کی خدمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عرفان سلیم کو بطور سینیٹ امیدوار نامزد کرنا کارکنوں کے ساتھ انصاف ہے اور ان کی جگہ کسی اور کو نامزد کرنا پارٹی کارکنوں کے جذبات کی توہین ہوگی۔ی ٹی آئی رہنماؤں نے اس موقع پر پارٹی قیادت پر شدید تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ پارٹی میں واقعی محنت کرنے والے مخلص کارکنوں کو نظر انداز کر کے باہر سے آئے ہوئے اور مالی وسائل کے حامل افراد (جنہیں عموماً ‘اے ٹی ایمز’ کہا جاتا ہے) کو ٹکٹ دی جا رہی ہے، جو کہ پارٹی کی سالمیت کے خلاف ہے اور اس کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

    رہنماؤں نے واضح کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر کوئی توجہ نہ دی گئی تو وہ 21 جولائی کو ہونے والے سینیٹ انتخابات کے موقع پر خیبرپختونخوا اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر احتجاج کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سینیٹ الیکشن محض انتخابات نہیں بلکہ تحریک کی شروعات ہے اور اس کے بعد پارٹی میں بغاوت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • پاکستان میں ایچ آئی وی سے اموات میں 400 فیصد اضافہ

    پاکستان میں ایچ آئی وی سے اموات میں 400 فیصد اضافہ

    پاکستان میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ایچ آئی وی سے ہونیوالی اموات میں حیران کن حد تک اضافہ ہوا ہے، جو 400 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ تشویشناک صورتحال گلوبل فنڈ کی ایک تازہ آڈٹ رپورٹ میں سامنے آئی ہے جس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں ایچ آئی وی کے نئے کیسز کی تعداد میں 64 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ہیلتھ پروگرام میں سنگین غفلت اور انتظامی بدانتظامی اس ناگفتہ بہ حالت کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اس بدانتظامی کی وجہ سے ایچ آئی وی کے خلاف حکومتی کوششیں ناکافی اور غیر موثر ثابت ہو رہی ہیں۔دی نیوز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، ایچ آئی وی، ٹی بی اور ملیریا جیسے موذی امراض کے خاتمے کے لیے پاکستان کو 2003ء سے اب تک 1.1 ارب ڈالر سے زائد امداد ملی ہے۔ اس میں صرف حالیہ گرانٹ سائیکل میں تقریباً نصف ارب ڈالر شامل ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے یہ امداد مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہے۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ناکارہ حکمرانی، کمزور خریداری کے نظام، اور مالی بے ضابطگیوں نے اس امداد کی تاثیر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے باعث نہ صرف ایچ آئی وی کے کیسز بڑھ رہے ہیں بلکہ اس مرض سے بچاؤ اور علاج کے لیے ضروری سہولیات کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

    ایچ آئی وی کی بڑھتی ہوئی شرح اور اموات کا پاکستان کی صحت عامہ پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ خاص طور پر متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافے سے صحت کی سہولیات پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اور اس بیماری کے خلاف شعور اور روک تھام کے اقدامات کمزور پڑ گئے ہیں۔صحت کے ماہرین اور سماجی کارکن حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ایچ آئی وی اور دیگر موذی امراض کے خلاف جنگ میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے، انتظامی اصلاحات کرے اور مالی بے ضابطگیوں کو روک کر امدادی فنڈز کو مؤثر انداز میں استعمال کرے۔

  • جہلم میں سیلابی ریلے میں پولیس اہلکار حیدر علی شہید، امدادی سرگرمیاں جاری

    جہلم میں سیلابی ریلے میں پولیس اہلکار حیدر علی شہید، امدادی سرگرمیاں جاری

    جہلم: بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شدید سیلاب میں ریسکیو آپریشن کے دوران ایک پولیس اہلکار شہید ہو گیا۔ پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق کانسٹیبل حیدر علی ریسکیو کے دوران سیلابی پانی میں بہہ گئے تھے اور ان کی لاش رسول نگر کے مقام سے برآمد ہو گئی ہے۔

    پنجاب پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ حیدر علی شہریوں کی مدد اور ریسکیو کے لیے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر کام کر رہے تھے۔ سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے اہلکار کی قربانی کو انتہائی افسوس اور دکھ کے ساتھ یاد کیا جا رہا ہے۔انسپکٹر جنرل پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے اس واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہید کانسٹیبل حیدر علی کی عظیم قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے شہید کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا اور یقین دلایا کہ پنجاب پولیس ہر مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔

    آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پولیس کے جوان اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر امدادی کاموں میں مصروف ہیں اور متاثرین کو عارضی رہائش، کھانا اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ ان کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔

    بارشوں اور سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر پنجاب حکومت اور متعلقہ ادارے متاثرہ علاقوں میں فوری امداد اور بحالی کے کاموں کو تیز کر رہے ہیں تاکہ متاثرین کو جلد از جلد سہولیات مہیا کی جا سکیں۔

  • پاک افغان سرحد سے خوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام،5 خود کش حملہ آور گرفتار

    پاک افغان سرحد سے خوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام،5 خود کش حملہ آور گرفتار

    پاک افغان سرحد سے خوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام، (5) مبینہ خودکش حملہ آور گرفتارکر لیے گئے

    17 جولائی کی شام 5 بجے خوارج نے پاک افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش کی،سکیورٹی فورسز نے اطلاع ملتے ہی پانچ مختلف مقامات پر ناکہ بندی کی، شام 6 بج کر 25 منٹ پر خوارج سرحد سے پاکستانی حدود میں داخل ہوئے،دراندازی کے بعد خوارج نے عزیز خیل اور منڈی خیل کی سمت پیش قدمی کی، سیکیورٹی فورسز کی موجودگی کے باعث انہوں نے بیسی خیل کی مسجد میں پناہ لے لی، سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر مسجد کا محاصرہ کرلیا، سکیورٹی فورسز کی بہترین حکمت عملی کے باعث خوارج نے ہتھیار ڈال دیئے،

    گرفتار کئے گئے تمام خوارج افغان شہری ہیں جن میں سے تین کے پاس افغان شناختی کارڈ بھی موجود ہیں، گرفتار افراد کی عمریں 15 سے 18 سال کے درمیان ہیں، تمام خوارج کو مزید تفتیش کے لیے نا معلوم مقام پرمنتقل کر دیا گیاسیکیورٹی حکام نے سرحدی علاقوں میں الرٹ جاری کرتے ہوئے سرچ آپریشن جاری رکھا ہوا ہے،

    یہ پہلا موقع نہیں کہ خوارج پاک افغان سرحد سے دراندازی کر رہے تھے،شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے 25 سے 27 اپریل 2025 کے دوران کامیاب آپریشن میں 71 خوارج ہلاک کئے،4جولائی 2025ء کو بھارتی حمایت یافتہ خوارج کی پاک افغان سرحد کوشش کے دوران 30 خوارج جہنم واصل ہوئے تھے،23 مارچ 2025ء کو بھی افغان سرحد کے ذریعے دراندازی کی کوشش میں 16 خوارج جہنم واصل کئے گئے تھے،پاک افغان سرحد سے دراندازی سے لیکر پاکستان میں دہشتگردی پھیلانے تک فتنتہ الخوراج کو بھارت کی مکمل حمایت حاصل ہے

  • بارشوں کا پانی محفوظ کرنے کےلئے نئے ڈیم بنائے جائیں ۔سبیل اکرام

    بارشوں کا پانی محفوظ کرنے کےلئے نئے ڈیم بنائے جائیں ۔سبیل اکرام

    لاہور( ) بارش اور پانی اللہ کی نعمت اور رحمت ہیں لیکن جب ان کی قدر نہ کی جائے تو یہ زحمت بھی بن جاتے ہیں ۔ پاکستان میں ہر سال بارش کا لاکھوں کیوسک پانی ضائع ہوتا ہے اور تباہی پھیلاتے ہوئے سمندر میں جا گرتا ہے ۔لیکن بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کےلئے ڈیم تعمیر نہیں کیے جارہے جو حکمرانوں کی بدترین انتظامی نااہلی ہے ۔

    ان خیالات کا اظہار معروف سیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے کیا ۔ انھوں نے کہا بارشوں سے جان بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ کے غم میں ہم برابر کے شریک ہیں ۔ اس وقت بھی شدید بارشوں کی وجہ سے ملک بھر میں سیلاب آیا ہوا ہے درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ نشیبی علاقے زیر آب دکانوں اور گھروں میں پانی داخل ہورہا ہے اور لوگوں کا اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے ۔شدید بارشیں ایک قدرتی عمل ہے مگر جب یہ ہر سال انسانی جانوں کی ہلاکت ، املاک اور بنیادی شہری ڈھانچے کی تباہی کا سبب بنے لگے تو یہ محض قدرتی آفت نہیں رہتی بلکہ بدترین انتظامی غفلت اور نااہلی ہے ۔ اس وقت پاکستان کے کئی بڑے شہروں میں نشیبی علاقے زیر آب چکے ہیں گھروں اور دکانوں میں پانی داخل ہورہا ہے سڑکیں دریا کا منظر پیش کررہی ہیں ، بجلی کا نظام معطل ہورہا ہے لیکن افسوس پاکستان میں یہ سب کچھ نیا نہیں بلکہ ہر سال مون سون کی بارشیں یہ منظر پیش کرتی ہیں حکمران وقتی طور پر بیانات دیتے ہیں اس کے بعد خاموش ہوجاتے ہیں جو کہ ان کی مجرمانہ غفلت ہے ۔ انھوں نے کہا پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے ۔ اس وقت ہمارے ملک میں مون سون صرف موسم کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک مکمل بحران بن چکا ہے جو ہر سال بڑے پیمانے پر تباہی پھیلاتا ہے ۔ بارش اور پانی اللہ کی نعمت اور رحمت ہے لیکن ہمارے ملک میں ہر سال یہ رحمت زحمت بنتی ہے ۔ لاکھوں کیوسک پانی ضائع ہوجاتا ہے ۔ بہت بڑے پیمانے پر سیلاب آتے ہیں جو لوگوں کی جمع پونجی بہا کر لے جاتے ہیں ۔ لہذا ہمارا مطالبہ ہے سیلاب سے بچنے اور بارشوں کا پانی محفوظ کرنے کےلئے نئے ڈیم بنائے جائیں ۔

  • جج کی تحقیر عدلیہ پر عوام کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے،سپریم کورٹ

    جج کی تحقیر عدلیہ پر عوام کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کے متعلق سخت ریمارکس خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جونیئر ججز پر سخت ریمارکس سے پہلے تحقیق اور احتیاط لازم ہے، غلطی انسانی فطرت ہے، جج بھی غلطی کر سکتے ہیں، بدنیتی ثابت کرنا لازم ہے۔

    انسداد دہشت گردی عدالت کراچی کے جج ذاکر حسین نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلہ اور ریمارکس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، جسٹس محمد مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا گیا، انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمنسٹریٹو جج ذاکر حسین کے دو عدالتی احکامات سندھ ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیے تھے، ہائیکورٹ نے ملزم کو پولیس کی بجائے جوڈیشل کسٹڈی میں دینے اور جے آئی ٹی کے قیام پر اعتراض کیا، ہائی کورٹ نے والد کی جج کے چیمبر میں موجودگی کو بنیاد بنا کر بدنیتی بھی قرار دی،ہائیکورٹ نے انسداد دہشتگردی عدالت کراچی کے ایڈمنسٹریٹر جج سے انتظامی اختیارات واپس لینے کی سفارش کی تھی جس پر انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمنسٹریٹو جج ذاکر حسین نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلہ اور ریمارکس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا،

    سپریم کورٹ نے جونیئر جج کے خلاف ہائیکورٹ ججز کے سخت ریمارکس خارج کر دیے، پٹیشنر جج کا انتظامی عہدہ بحال نہیں کیا گیا کیونکہ نیا جج مقرر ہو چکا تھا،فیصلہ کے مطابق سندھ حکومت نے 26 فروری 2025 کو جج کے اختیارات واپس لے لیے تھے، پٹیشنر کو وضاحت کا موقع دیے بغیر سخت الزامات لگائے گئے، ہائی کورٹ کو جونئیر ججز کے خلاف اظہارِ رائے سے پہلے منصفانہ سماعت کا حق دینا چاہئے،عدالت عظمیٰ نے ہدایت کی کہ سخت عدالتی ریمارکس ججز کے کیریئر پر دائمی اثر چھوڑتے ہیں، عدلیہ میں باہمی احترام اور ڈسپلن کو مقدم رکھا جائے، عدالتی ریمارکس اگر اخبارات یا فیصلوں میں آئیں تو ہمیشہ کے لیے ریکارڈ کا حصہ بن جاتے ہیں،
    جسٹس محمد علی مظہر نے فیصلہ میں کہا ہے کہ ایسے الزامات خفیہ رپورٹ کے ذریعے چیف جسٹس ہائیکورٹ کو بھیجے جائیں، عدالتیں جونیئر ججز کی رہنمائی کریں، تنقید نہیں، پٹیشنر کو دفاع کا موقع نہ دینا آرٹیکل 10-A کی خلاف ورزی ہے،سخت ریمارکس زبانی الزامات کی بنیاد پر دیے گئے، جو ناقابل قبول ہے، جج کی تحقیر عدلیہ پر عوام کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے، غلطی انسانی فطرت ہے، جج بھی غلطی کر سکتے ہیں، بدنیتی ثابت کرنا لازم ہے۔

  • پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ہی درخت کی دو شاخیں ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ہی درخت کی دو شاخیں ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے پاکستان میں تعینات بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر اقبال حسین خان نے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات، باہمی تجارت، زراعت، صنعت اور سماجی ترقی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ہی درخت کی دو شاخیں ہیں، ہماری جڑیں مشترکہ تاریخ، ثقافت اور قدروں میں پیوست ہیں۔ پنجاب بنگلہ دیش کی گارمنٹس، مائیکرو فنانس اور خواتین کی ورک فورس میں کامیابیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، خواتین کی قیادت میں صنعتی کلسٹرز، ڈیجیٹل اپ اسکلنگ پروگرامز اور ”ویمن فرسٹ“ ایجنڈے کے تحت شراکت داری کا خیر مقدم کیا جائے گا۔زراعت اور فوڈ سکیورٹی کے شعبے میں بھی وسیع مواقع موجود ہیں، اور دونوں خطوں کے درمیان معلومات اور تجربات کا تبادلہ مفید ثابت ہو گا، جنوری 2025ء میں پنجاب نے ایک ایم او یو کے تحت بنگلہ دیش کو 50 ہزار ٹن اعلیٰ معیار کا چاول برآمد کیا ہے۔ فارما اور میڈیکل ڈیوائسز کے میدان میں بھی دونوں خطوں کے درمیان تعاون کی گنجائش موجود ہے، جس میں مشترکہ برانڈنگ، عالمی معیار کی لیبارٹریز اور سستی برآمدات شامل ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے ویزا کلیئرنس میں آسانی، انسپیکشن کے مراحل میں نرمی اور ڈھاکہ ایئرپورٹ پر سکیورٹی ڈیسک کے خاتمے کو باہمی اعتماد کی علامت قرار دیا۔انہوں نے لاہور اور ڈھاکہ میں پاکستان بنگلہ دیش جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیشی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں ون ونڈو بزنس سینٹرز کے ذریعے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی،ویژن 2030ء ”ویمن فرسٹ“ سمٹ میں شرکت کو انہوں نے پاکستان کے لیے باعث فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صرف ایک سفارتی ملاقات نہیں بلکہ ایک ایسی شراکت داری کی بنیاد ہے جو باہمی احترام، مشترکہ اقدار اور دیرپا ترقی پر مبنی ہے۔

    بنگلہ دیشی ہائی کمشنر اقبال حسین خان نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے ترقیاتی اقدامات اور عوامی فلاحی وژن کو سراہا اور تعاون کے فروغ پر امید ظاہر کی۔