Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بھارتی کرکٹر محمد شامی کی سابقہ اہلیہ پر قتل کی کوشش کا مقدمہ درج

    بھارتی کرکٹر محمد شامی کی سابقہ اہلیہ پر قتل کی کوشش کا مقدمہ درج

    مغربی بنگال کے بیربھوم ضلع کے سوری علاقے سے ایک تشویشناک خبر سامنے آئی ہے جہاں بھارتی کرکٹر محمد شامی کی سابقہ اہلیہ حسین جہاں پر اپنے پڑوسی کے قتل کی کوشش کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ مقدمہ زمین کے تنازعے کے باعث درج کیا گیا ہے جس میں قتل کی کوشش، مجرمانہ سازش اور حملے جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔ واقعہ مغربی بنگال کے سوری علاقے کے وارڈ نمبر 5 کا ہے جہاں حسین جہاں نے مبینہ طور پر ایک متنازعہ پلاٹ پر تعمیراتی کام شروع کیا تھا۔اطلاعات کے مطابق زمین کے تنازع پر کچھ دن قبل حسین جہاں اور ان کے پڑوسیوں کے درمیان تلخ کلامی اور جھگڑا ہوا تھا۔ حسین جہاں نے الزام لگایا ہے کہ گڈو بی بی نامی خاتون ان کی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ زمین سابق بھارتی کرکٹر محمد شامی کی سابقہ اہلیہ حسین جہاں کی بیٹی عرشی جہاں کے نام پر ہے۔

    مزید بتایا گیا ہے کہ جب حسین جہاں اور ان کی بیٹی نے تعمیراتی کام روکنے کی کوشش کی تو پڑوسی خاتون پر حملہ بھی کیا گیا۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

  • 10 لاکھ بھارتی فوج کی درندگی، سفاکیت کشمیریوں کے عزم کو توڑنے میں ناکام رہی ،وزیرعظم

    10 لاکھ بھارتی فوج کی درندگی، سفاکیت کشمیریوں کے عزم کو توڑنے میں ناکام رہی ،وزیرعظم

    کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج "یوم الحاق پاکستان” اس عزم کی تجدید کے ساتھ منا رہے ہیں کہ وہ جموں کشمیر کی بھارتی قبضے سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    کشمیریوں کے حقیقی نمائندوں نے 19 جولائی 1947ء کو سرینگر کے علاقے آبی گزر میں سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے تاریخی اجلاس میں متفقہ طور پر پاکستان کے ساتھ جموں کشمیر کے الحاق کی قرارداد منظور کی تھی۔یہ قرارداد جموں کشمیر اور پاکستان کے درمیان گہرے مذہبی ، جغرافیائی ، ثقافتی اور تہذیبی رشتوں کی عکاس ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ بھارت کی چیرہ دستیوں کے باوجود کشمیری عوام کا الحاق پاکستان کا خواب زندہ و جاوید ہے ، وہ اپنے 19 جولائی 1947ء کے عہد پر قائم و دائم ہے۔انہوں نے کہا کہ عظیم آزادی پسند قائد سید علی گیلانی شہید کا نعرہ ”ہم پاکستانی ہیں ، پاکستان ہمارا ہے“ کشمیریوں کی پہچان بن چکا ہے ، بھارت کا بے انتہا جبر و ستم انکے دلوں سے پاکستان کی محبت نکال نہیں سکا اور وہ اس کے تسلط سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کی جدوجہد عزم و ہمت سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ یوم الحاق کشمیر ہر سال 19 جولائی 1947 میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے سری نگر کے اجلاس کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس دن کشمیر کے غیور عوام نے ریاست جموں و کشمیر کی پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد منظور کی تھی۔کشمیریوں کی لازوال قربانیوں کی جو داستان 1947ء میں شروع ہوئی تھی وہ آج بھی نہ صرف جار ی و ساری ہے بلکہ10 لاکھ بھارتی فوج کی درندگی اور سفاکیت کشمیریوں کے عزم کو توڑنے میں ناکام رہی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ کشمیریوں کے جذبہ آزادی میں اضافہ ہو اہے ۔ آج کشمیریوں کی تیسری نسل بھی اپنے حق خوداردیت کے حصول کے لیے اپنے آباؤ اجداد کی طرح پرعزم ہے.دہائیوں پہ محیط غیور کشمیریوں کی غیر قانونی تسلط کے خلاف جدوجہد ان کی جذبہ حب الوطنی اور آزادی کے لیے سچی طلب کی غمازی کرتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پر امن حل ہی کشمیریوں کے حقوق اور خطے میں امن کا ضامن ہے۔ حکومت اور پاکستان کے عوام کشمیریوں کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے.

  • کے ٹو ، برفانی تودے کی زد میں آ کر پاکستانی کوہ پیما جاں بحق

    کے ٹو ، برفانی تودے کی زد میں آ کر پاکستانی کوہ پیما جاں بحق

    دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو پر جاری مہم جوئی کے دوران ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے۔ برفانی تودے کی زد میں آ کر پاکستانی کوہ پیما محمد افتخار حسین جان کی بازی ہار گئے۔

    شگر کے ڈپٹی کمشنر عارف حسین نے اس حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کے ٹو پر مہم کے دوران کل چار کوہ پیماؤں کو شدید خطرہ لاحق ہوا۔ ان میں سے تین غیر ملکی کوہ پیما برفانی تودے سے بچ نکلے اور انہیں بحفاظت نیچے اتار لیا گیا ہے۔ تینوں زخمی کوہ پیماؤں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔بدقسمتی سے مہم کے دوران ایک پاکستانی کوہ پیما محمد افتخار حسین برفانی تودے کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گئے۔ محمد افتخار حسین سدپارہ گاؤں سے تعلق رکھتے تھے اور مقامی کمیونٹی میں انہیں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

    ڈپٹی کمشنر عارف حسین کے مطابق جاں بحق کوہ پیما کی میت آج اسکردو منتقل کی جائے گی اور ان کی تدفین ان کے آبائی گاؤں سدپارہ میں کی جائے گی۔ امدادی ٹیمیں اور مقامی انتظامیہ متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہیں۔

    کے ٹو کی مہم جوئی میں یہ واقعہ ایک یاد دہانی ہے کہ قدرتی آفات اور موسمی حالات کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر بلند ترین پہاڑوں پر۔ پاکستانی کوہ پیماؤں کے جذبے کو سراہتے ہوئے دعا ہے کہ آئندہ مہمات میں ایسی حادثاتی صورتحال سے بچا جا سکے۔

  • پاک بھارت جنگ،5 طیارے تباہ ہوئے تھے،ٹرمپ کی تصدیق

    پاک بھارت جنگ،5 طیارے تباہ ہوئے تھے،ٹرمپ کی تصدیق

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارت کے 5 لڑاکا طیارے مار گرائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں ری پبلکن اراکین کانگریس سے خطاب کے دوران سامنے آیا، جہاں صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ پاک بھارت جنگ کے دوران کل 5 طیارے تباہ ہوئے تھے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ صورتحال بہت خراب ہو رہی تھی اور اس جنگ کو روکنا ضروری تھا، جس کے لیے انہوں نے دونوں ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ قریبی رابطہ کیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے دونوں ملکوں کو خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی نہ کی گئی تو امریکا ان سے تجارتی تعلقات ختم کر سکتا ہے، جس کے بعد 10 مئی کو دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی۔

    اپریل میں مقبوضہ کشمیر کے پہلگام علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 26 افراد مارے گئے تھے۔ بھارت نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا، جسے پاکستان نے سختی سے مسترد کیا اور اس واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی۔امریکا نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی لیکن پاکستان پر الزام عائد کرنے کے بھارتی دعوے کی حمایت نہیں کی۔ اس کے برعکس، بھارت نے اپنی طاقت اور جارحیت کے نشے میں 7 مئی کو پاکستان پر جنگ مسلط کردی، جس کا پاکستان نے بھرپور جواب دیا۔

    7 مئی کے بعد پاک بھارت فضائی جنگ میں دونوں طرف سے لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کا استعمال ہوا۔ پاکستان نے بھارت کے معروف لڑاکا طیارے رافیل سمیت 5 طیارے مار گرائے تھے،بھارت طیارے مار گرائے جانے کی تصدیق کرنے سے ہمیشہ گریز کرتا رہا ہے، مگر صدر ٹرمپ کی حالیہ تصدیق نے اس دعوے کو تقویت دی ہے کہ واقعی بھارت کے 5 طیارے تباہ ہوئے تھے۔

  • کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں 8 اہم ملزمان گرفتار

    کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں 8 اہم ملزمان گرفتار

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے 40 ارب روپے کے کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں بڑی پیش رفت کرتے ہوئے 8 اہم ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار افراد میں 2 سرکاری افسران، 2 بینکرز اور 4 ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ اسکینڈل صوبے کا سب سے بڑا مالیاتی کرپشن کیس قرار دیا جا رہا ہے جس کی تحقیقات کو مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور مزید گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    گرفتار ملزمان میں شفیق الرحمان قریشی (ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر)،محمد ریاض (سابق کیشیئر بینک اور ڈمی کنٹریکٹر)،فضل حسین (آڈیٹر، اے جی آفس پشاور)،طاہر تنویر (سابق مینیجر بینک)،دوراج خان (ٹھیکیدار)،عامر سعید (ٹھیکیدار)،صوبیدار (ٹھیکیدار)،محمد ایوب (ٹھیکیدار)شامل ہیں،ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے جعلی چیکوں کی منظوری اور دستخط کے ذریعے جعلی تعمیراتی فرمز کا استعمال کرتے ہوئے اربوں روپے کی خردبرد کی۔ مالیاتی دھوکہ دہی، منی لانڈرنگ اور سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ملی بھگت سے بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے فنڈز منتقل کیے گئے۔ اس پورے عمل میں مواصلات و تعمیرات ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں کی بھی شمولیت شامل ہے، جنہوں نے اس اسکینڈل کو ممکن بنایا۔

    سرکاری دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ شفیق الرحمان قریشی نے اپر کوہستان میں جعلی ترقیاتی منصوبوں کے لیے بجٹ ہیڈ G-10113 کے تحت جعلی ٹریژری چیکوں کی منظوری اور دستخط میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ دیگر ملزمان نے مالیاتی دھوکہ دہی اور بینک کی سہولت کاری میں اہم کردار ادا کیا۔نیب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور اس میگا کرپشن اسکینڈل میں مزید گرفتاریوں کا امکان موجود ہے۔ ملزمان سے مزید شواہد حاصل کرنے اور مالی ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔نیب حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی کرپشن کے خلاف حکومت کی سنجیدہ اور مؤثر کوششوں کا حصہ ہے اور عوام کے اربوں روپے کی لوٹ مار کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • دوران پرواز مسافر کا ایمرجنسی دروازہ کھولنے کی کوشش،ہنگامہ،مسافر گرفتار

    دوران پرواز مسافر کا ایمرجنسی دروازہ کھولنے کی کوشش،ہنگامہ،مسافر گرفتار

    ایک علاقائی جیٹ طیارے کو سیڈر ریڈز میں ایمرجنسی لینڈنگ کرنا پڑی جب ایک مسافر نے ایمرجنسی ایگزٹ دروازہ کھولنے کی کوشش کی اور فلائٹ اٹینڈنٹ سے جھگڑا کر بیٹھا۔

    ڈیلٹا کنکشن کی فلائٹ 3612، جو اسکائی ویسٹ ایئرلائنز کے زیر انتظام اومہا سے ڈیٹرائٹ جارہی تھی، کے دوران یہ واقعہ تقریباً شام 7 بجے مقامی وقت پیش آیا۔ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے ایک بیان میں اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔پائلٹ نے ایئرپورٹ ٹاور کو ریڈیو پر اطلاع دی کہ، "ہمارے فلائٹ اٹینڈنٹ کے ساتھ ایک مسافر لڑائی میں ہے اور ایمرجنسی ایگزٹ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔تاہم، مسافر ایمرجنسی دروازہ کھولنے میں ناکام رہا اور طیارہ بحفاظت لینڈ کر کے گیٹ تک پہنچا۔

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے حکام نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے ایک شخص کو طیارے سے اتارتے ہوئے قید کر لیا۔ پولیس نے 23 سالہ ماریو نکپریلاج، جو نیبراسکا کا رہائشی ہے، پر پانچ الزامات عائد کیے ہیں جن میں فلائٹ اٹینڈنٹ کو دھمکانا اور دھکا دینا، بدتمیزی کا مظاہرہ، اور دو منشیات سے متعلق الزامات شامل ہیں۔ ماریو نکپریلاج نے جمعہ کو عدالت میں پیشی دی جہاں جج نے اس کی ضمانت 10,000 ڈالر مقرر کی۔ فوری طور پر اس کے وکیل کے بارے میں معلومات موصول نہیں ہو سکیں۔

    اسکائی ویسٹ ایئرلائنز نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا، "ہمارے لیے غیر مہذب رویے کے لیے صفر برداشت کی پالیسی ہے کیونکہ ہمارے صارفین اور عملے کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔”

    اس سال اب تک امریکہ میں طیاروں میں غیر مہذب مسافروں کی تعداد 870 سے تجاوز کر گئی ہے، FAA کے اعداد و شمار کے مطابق۔ ایسے واقعات میں مجرموں کو قید، جرمانے اور سفری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • لیاری گینگ وار لیڈر رحمان ڈکیت کا بیٹا منشیات کیس میں گرفتار

    لیاری گینگ وار لیڈر رحمان ڈکیت کا بیٹا منشیات کیس میں گرفتار

    کراچی،کلاکوٹ پولیس کی ٹارگٹڈ کاروائی کے دوران رحمان ڈکیت کابیٹا منشیات سمیت گرفتار کر لیا گیا

    ملزم سے 210 گرام کرسٹال برآمد کیا گیا،پولیس حکام کے مطابق ملزم کو علاقہ تھانہ کلاکوٹ کی حدود سے گرفتار کیا گیا. ملزم کی شناخت سلطان کے نام سے ہوئی ہے. ملزم لیاری گینگ وار لیڈر رحمان ڈکیت کا بیٹا ہے. ملزم عادی/پیشہ ور ہے, ملزم اس سے قبل بھی کئی مقدمات میں گرفتار ہوکر جیل جا چکا ہے.ملزم کے سابقہ کریمنل ریکارڈ کے مطابق مقدمہ الزام نمبر 148/2023 بجرم دفعہ 6/9-2(4) تھانہ کلاکوٹ (مفرور)،مقدمہ الزام نمبر 285/2024 بجرم دفعہ 6/9-2(3)تھانہ کلاکوٹ(مفرور)،مقدمہ الزام نمبر 31/2021 بجرم دفعہ 324/34 تھانہ کلاکوٹ،مقدمہ الزام نمبر 282/2021 بجرم دفعہ 6/9C تھانہ کلاکوٹ،مقدمہ الزام نمبر 77/2020 بجرم دفعہ 6/9C تھانہ کلاکوٹ،مقدمہ الزام نمبر 219/2021 بجرم دفعہ 4/5 ایکسپلوزو ایکٹ شامل ہیں، ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیاملزم کو مزید قانونی کاروائی کیلئے انویسٹیگیشن حکام کے حوالے کیا جا رہا ہے.

  • بدھ راہبوں کے ساتھ جنسی تعلق،80 ہزار فحش تصاویر،بلیک میلنگ،خاتون گرفتار

    بدھ راہبوں کے ساتھ جنسی تعلق،80 ہزار فحش تصاویر،بلیک میلنگ،خاتون گرفتار

    بینکاک: تھائی لینڈ میں ایک بڑا جنسی اور بھتہ خوری اسکینڈل منظرِ عام پر آ گیا ہے جس نے ملک بھر میں بدھ مت کی روحانی برادری کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پولیس نے ایک خاتون "ویلاوان ایمساوت” (Wilawan Emsawat) کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر بدھ راہبوں کو جنسی تعلقات کے جال میں پھنسا کر انہیں بلیک میل کر کے کروڑوں روپے وصول کر رہی تھی۔ اب تک کم از کم 9 سینئر راہبوں کو ان الزامات کے بعد راہبوں کے عہدے سے نکالا جا چکا ہے۔

    ویلاوان ایمساوت کون ہے؟
    ویلاوان ایمساوت، جو کہ 30 کی دہائی میں ہے، کو بینکاک کے نواحی علاقے نونتھابوری میں اس کے پرتعیش گھر سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق وہ "مس گالف” (Ms Golf) کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔ اس پر بھتہ خوری، منی لانڈرنگ اور چوری شدہ املاک رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے کم از کم نو بدھ راہبوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے اور پھر انہی راہبوں کو بلیک میل کر کے بڑی رقوم وصول کیں۔

    80 ہزار فحش ویڈیوز اور 385 ملین باہت (تقریباً 102 کروڑ روپے) کا اسکینڈل
    پولیس کے مطابق ویلاوان کے فونز سے 80,000 سے زائد تصاویر اور ویڈیوز برآمد ہوئیں جن میں وہ مختلف بدھ راہبوں کے ساتھ جنسی حرکات میں ملوث نظر آتی ہے۔ انہی ویڈیوز کو استعمال کرتے ہوئے اس نے راہبوں کو بلیک میل کیا۔ پولیس کے مطابق وہ اس دھندے سے پچھلے تین سالوں میں تقریباً 385 ملین تھائی باہت (تقریباً 102 کروڑ پاکستانی روپے) کما چکی ہے، جن میں سے بڑی رقم اس نے آن لائن جوئے پر خرچ کی۔

    راہبوں کے اعترافات اور تعلقات کی کہانیاں
    "دی ٹائمز” کے مطابق کئی راہبوں نے ویلاوان سے تعلقات کا اعتراف کیا ہے۔ ایک راہب نے بتایا کہ وہ ایک لمبے عرصے سے اس کے ساتھ تعلق میں تھا اور ویلاوان نے اسے ایک گاڑی بھی تحفے میں دی تھی۔ لیکن جب اسے پتا چلا کہ ویلاوان کسی اور راہب سے بھی تعلق رکھتی ہے تو جھگڑا ہوا اور پھر ویلاوان نے اس سے بھاری رقم کا مطالبہ شروع کر دیا۔

    بچے کی ماں ہونے کا دعویٰ
    ویلاوان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا ایک بچہ ہے جس کا باپ ایک بدھ راہب ہے۔ یہ اسکینڈل اُس وقت عوام کے علم میں آیا جب بینکاک کے مشہور واٹ تری تھوتسا تھیپ مندر کے ایک اعلیٰ راہب نے اچانک راہبانہ زندگی چھوڑ دی۔ پولیس کے مطابق وہ بلیک میلنگ سے بچنے کے لیے روپوش ہو گیا، اور اب ویلاوان دعویٰ کر رہی ہے کہ وہی اس کے بچے کا باپ ہے۔

    اس واقعے نے بدھ برادری (سنگھا) میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ کم از کم 9 راہبوں کو برطرف کر دیا گیا ہے جن میں کئی معروف مندروں کے ابّات بھی شامل ہیں، جبکہ دو راہب روپوش ہو چکے ہیں۔ تھائی سینیٹ کی ایک کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ ایسی خواتین کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں جو راہبوں سے جنسی تعلقات قائم کرتی ہیں، تاہم اس تجویز پر عوام میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

    تھائی اخبار "بینگکاک پوسٹ” کی کالم نگار سانتسودا ایکاچائی نے لکھا:”یہ اسکینڈل صرف چند راہبوں کی اخلاقی پستی نہیں بلکہ بدھ ادارے کے اندرونی نظام کی منافقت کو ظاہر کرتا ہے۔ عورتوں کو ہمیشہ راہبوں کے ‘روحانی زوال’ کی جڑ قرار دیا گیا ہے، لیکن جب راہب خود بے راہ روی اختیار کرتے ہیں تو عورتوں کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔”

    تھائی لینڈ میں تقریباً 90 فیصد آبادی بدھ مت پر یقین رکھتی ہے اور ملک میں ہر وقت تقریباً 2 لاکھ راہب اور 85 ہزار نو آموز موجود ہوتے ہیں۔ بدھ مت کے حلقوں میں ماضی میں بھی جنسی و مالی اسکینڈلز سامنے آ چکے ہیں، لیکن اس بار جس پیمانے پر سینئر راہب ملوث پائے گئے ہیں، اس نے پورے ملک کو چونکا دیا ہے۔یہ اسکینڈل نہ صرف مذہبی برادری بلکہ معاشرتی و قانونی نظام کے لیے بھی ایک امتحان بن چکا ہے۔ عوام اب اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کہ راہبوں اور عام شہریوں کو یکساں قانونی جوابدہی کا سامنا کرنا چاہیے۔

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ‘وال اسٹریٹ جرنل’ کے خلاف مقدمہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ‘وال اسٹریٹ جرنل’ کے خلاف مقدمہ

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل اخبار اور اسکے مالک روپرٹ مرڈوک کیخلاف دس ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کردیا۔

    اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نےکمسنوں سے جنسی تعلق میں ملوث بدنام زمانہ جیفری ایپسیٹین کو سن دوہزار تین میں اسکی پچاسویں سالگرہ پر تحفہ بھیجا تھا،اخبار کے مطابق سالگرہ پر بھیجے گئے اس کارڈ میں لکھا تھا کہ جیفری، ہم میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں، زندگی کے معنی سب کچھ حاصل کرنے سے زیادہ ہونے چاہیں، سالگرہ مبارک ہو اور میری خواہش ہے کہ تمہارا ہر روز شاندار رازوں سے بھرا ہو،اخبار کا دعویٰ تھا کہ اس نے ٹائپ شدہ خط دیکھا ہے جس پر خاتون کی برہنہ تصویر کا اسکیچ ہے اور اس پر ٹرمپ نے ڈونلڈ لکھ کر دستخط کیے تھے۔

    قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معروف امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ پر مبینہ طور پر ان کے نام سے لکھے گئے ایک فحش اور قابل اعتراض خط کی خبر شائع کرنے پر مقدمہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس خط کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ خط ٹرمپ نے 2003 میں جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کو ان کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر لکھا تھا، جس میں ایک خاتون کی قابل اعتراض تصویر شامل تھی۔ تاہم ‘وال اسٹریٹ جرنل’ نے کہا ہے کہ انہوں نے خط کا جائزہ لیا ہے مگر کسی تصویر کو شائع نہیں کیا۔

    صدر ٹرمپ نے اس خبر کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خط ان کے الفاظ پر مبنی نہیں اور وہ اس طرح بات نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے روپرٹ مرڈوک سے بھی کہا تھا کہ یہ ایک جھوٹی کہانی ہے، لیکن انہوں نے پھر بھی اسے شائع کیا۔ اب میں ان پر اور ان کے اخبار پر کیس کروں گا۔‘‘یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی سیاست میں جیفری ایپسٹین کے جنسی استحصال کیس سے متعلق ہلچل جاری ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کے رویے نے سیاسی تناؤ کو بڑھا دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ پورا کیس ‘ڈیموکریٹس کی طرف سے چلایا جا رہا اسکیم’ ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اٹارنی جنرل پام بانڈی کو ہدایت کی کہ وہ جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق تمام متعلقہ گرینڈ جیوری کی گواہی عدالت کی منظوری کے بعد منظر عام پر لائیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس ‘سیاسی اسکیم’ کو فوری طور پر بند کیا جائے۔ٹرمپ نے کہا، ’’ڈیموکریٹس کی طرف سے چلایا جا رہا یہ اسکیم ابھی بند ہونا چاہیے۔‘‘

    جیفری ایپسٹین ایک مالیاتی مجرم تھا جس پر نوجوان لڑکیوں کے جنسی استحصال کے سنگین الزامات تھے۔ اس کا کیس امریکی سیاست اور عدالتوں میں خاصی ہنگامہ خیزی کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس معاملے میں ٹرمپ اور ان کے سیاسی حریفوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔

  • بارشوں سے متاثرہ اضلاع،مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیاں،ترجمان کا دورہ

    بارشوں سے متاثرہ اضلاع،مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیاں،ترجمان کا دورہ

    متاثرین کو خوراک کی فراہمی،میڈیکل کیمپ لگائے گئے،امدادی کاروائیاں تیز کریں،تابش قیوم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے حالیہ بارشوں سے متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مرکزی صدر خالد مسعود سندھو کی خصوصی ہدایات پر راولپنڈی، چکوال، جہلم سمیت دیگر متاثرہ علاقوں میں پارٹی کارکنان کی جانب سے کھانے پینے کی اشیاء، میڈیکل سہولیات اور محفوظ نقل مکانی کا بندوبست کیا گیا ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی ترجمان تابش قیوم نے جمعہ کے روز جہلم اور راولپنڈی کے مختلف متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ریلیف آپریشن میں حصہ لینے والے کارکنان کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ ان کے ہمراہ مرکزی مسلم لیگ جہلم کے سیکرٹری جنرل چوہدری ہارون رفیق، اور دیگر مقامی رہنما بھی موجود تھے۔مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے راولپنڈی کے تین مختلف مقامات پر میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے جہاں ماہر ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے خواتین اور بچوں کا مفت معائنہ کیا اور ادویات بھی فراہم کیں۔ متاثرہ علاقوں میں پکی پکائی خوراک کی تقسیم بھی جاری ہے، جبکہ وہ علاقے جہاں سڑکیں زیر آب آچکی ہیں، وہاں رضاکار کشتیوں کے ذریعے نہ صرف متاثرہ خاندانوں تک خوراک اور پینے کا پانی پہنچا رہے ہیں بلکہ متاثرین اور ان کے سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل بھی کیا جا رہا ہے۔

    اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم کا کہنا تھاکہ مرکزی مسلم لیگ ہر ممکن طریقے سے اپنے بارش سے متاثرہ بھائیوں کی مدد جاری رکھے گی۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم آزمائش کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں، خدمت انسانیت مرکزی مسلم لیگ کا منشور ہے، ہمارا ہر کارکن خدمت کے جذبے سے معمور ہے،متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں تیزی لائی جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔