Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • معلمہ پر تیزاب حملے کاملزم اور خاتون ساتھی گرفتار

    معلمہ پر تیزاب حملے کاملزم اور خاتون ساتھی گرفتار

    اترپردیش کے ضلع سنبھل میں ایک 22 سالہ معلمہ پر تیزاب پھینکنے والے ملزم کو پولیس نے مقابلے کے بعد گرفتار کرلیا، جبکہ اس کی خاتون ساتھی کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت نشو تیواری (30) کے نام سے ہوئی ہے جو ضلع امروہہ کے گاؤں ٹگری کا رہائشی ہے۔ خاتون ملزمہ کی شناخت جہانوی عرف ارچنا کے طور پر کی گئی ہے۔سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کرشن کمار کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ 23 ستمبر کو تھانہ نکھاسہ کے علاقے دیہا گاؤں کے قریب پیش آیا، جب ایک اسکول ٹیچر گھر واپس جارہی تھی۔ اسی دوران نشو تیواری نے اس پر موٹر سائیکل سے جاتے ہوئے تیزاب پھینک دیا۔ اس حملے میں متاثرہ معلمہ کے چہرے اور جسم پر 20 سے 30 فیصد تک جھلسنے کے زخم آئے۔ فوری طور پر انہیں ضلع اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زیرِ علاج ہیں اور اب خطرے سے باہر بتائی جاتی ہیں۔

    ایس پی کرشن کمار نے بتایا کہ جمعرات کی رات نکھاسہ پولیس نے کلیان پور گاؤں کے قریب ملزم کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے پولیس پر فائرنگ کردی۔ پولیس نے جوابی کارروائی کی جس میں نشو تیواری کی دونوں ٹانگوں میں گولیاں لگیں۔ پولیس نے موقع سے ایک پستول، دو کارتوس اور استعمال شدہ اسکوٹر بھی برآمد کیا۔

    تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزم کو جہانوی عرف ارچنا نے اس جرم پر اکسانے میں اہم کردار ادا کیا۔ پولیس کے مطابق نشو نے بتایا کہ وہ سوشل میڈیا پر "ڈاکٹر ارچنا” کے نام سے ایک خاتون کے رابطے میں آیا، جس نے اسے جھوٹے رشتوں اور کہانیوں کے ذریعے متاثرہ کے خلاف بھڑکایا۔ ارچنا نے دعویٰ کیا کہ اس کی بہن جہانوی کی منگنی ایک فوجی سے ہوئی تھی مگر اس نے منگنی توڑ کر متاثرہ معلمہ سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ انتقام کے طور پر اس نے نشو کو تیزاب حملے پر آمادہ کیا۔پولیس نے بتایا کہ دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے جبکہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

  • پاکستان کو عالمی سیاحتی مرکز بنانے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا،صدر مملکت

    پاکستان کو عالمی سیاحتی مرکز بنانے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا،صدر مملکت

    صدر آصف علی زرداری نےعالمی یومِ سیاحت 2025 کے موقع پر خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان میں سیاحت پائیدار ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ "سیاحت اور پائیدار تبدیلی” عالمی یومِ سیاحت 2025 کا موضوع قرار دیا گیا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی پاکستان کی سیاحتی ترقی کے لیے بڑا چیلنج ہے،گلیشیئرز کا پگھلاؤ اور شدید موسمی حالات سیاحتی ورثے کے لیے خطرہ ہے۔انتہاپسندی اور عدم برداشت پاکستان کی سیاحت کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ہیں،سیاحت سے مقامی معیشت کو فروغ، خواتین و نوجوانوں کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے،حکومتِ پاکستان سیاحت کو اقوام متحدہ کے ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ کر رہی ہے،گرین سرٹیفیکیشن، کمیونٹی بیسڈ اور ماحولیاتی سیاحت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔سیاحت، امن و ہم آہنگی کے فروغ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کا مؤثر ذریعہ ہے۔پاکستان قدرتی حسن، ورثے اور مہمان نوازی کا حامل ملک ہے،سیاحت کے فروغ میں نجی شعبہ، سول سوسائٹی اور نوجوانوں کا کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان کو عالمی سیاحتی مرکز بنانے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا

  • 12 سالہ بچے سے مدرسے میں بد فعلی کرنے والا معلم گرفتار

    12 سالہ بچے سے مدرسے میں بد فعلی کرنے والا معلم گرفتار

    ایس ایچ او تھانہ صدر تلہ گنگ انسپکٹر راجہ محمد عماد نے ہمراہ ٹیم کاروائی کرتے ہوئے مدرسے کے معلم کو گرفتار کر لیا

    12 سالہ بچے سے مدرسے میں بد فعلی کرنے والا معلم گرفتار مقدمہ درج کر لیا گیا وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن، آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور اور آر پی او راولپنڈی بابر سرفراز الپا کے احکامات پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر تلہ گنگ،چکوال لیفٹیننٹ ریٹائرڈ احمد محی الدین کی زیر نگرانی ایس ڈی پی او تلہ گنگ سرکل یاسر مطلوب کیانی کی سربراہی میں، ایس ایچ او تھانہ صدر تلہ گنگ انسپکٹر راجہ محمد عماد نے ہمراہ ٹیم کاروائی کرتے ہوئے مدرسے کے معلم کو گرفتار کر لیا۔

    ترجمان چکوال پولیس کے مطابق ملزم کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت کیا جائے گا تاکہ ملزم کو قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن NEVER AGAIN مہم کے تحت عورتوں، بچوں پر تشدد،جنسی ہراسگی کے فوری مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ تشدد،زیادتی اور ہراسمنٹ نا قابل برداشت ہیں۔

  • اقوام متحدہ میں پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم کابھارتی پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب

    اقوام متحدہ میں پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم کابھارتی پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب

    اقوام متحدہ میں پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم نے بھارتی پروپیگنڈے اور بے بنیاد الزامات کا دوٹوک اور مدلل جواب دیتے ہوئے عالمی برادری کی توجہ خطے میں بھارت کے منفی کردار کی جانب مبذول کرائی۔

    اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت مسلسل سرحد پار دہشت گردی اور تشدد کو فروغ دے رہا ہے، اور اس مقصد کے لیے پراکسی گروپس کو استعمال کررہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے کو غیر مستحکم کرنے کی تمام تر کوششوں کے پیچھے بھارتی عزائم کارفرما ہیں۔پاکستانی قونصلر نے بھارت کے اندرونی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہاں اقلیتوں کے ساتھ منظم مظالم روا رکھے جارہے ہیں۔ نہ صرف انہیں مذہبی آزادی سے محروم کیا گیا ہے بلکہ عبادت کے بنیادی حق تک سے روکا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کو دبانا اب بھارتی حکومت کی سرکاری پالیسی میں شامل ہوچکا ہے۔

    انہوں نے گجرات فسادات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دنیا آج بھی ان مظالم کو ظلم و بربریت کی بدترین داستان کے طور پر یاد کرتی ہے۔ صائمہ سلیم نے مزید کہا کہ بھارت میں اسلاموفوبیا کو سیاست میں معمول اور میڈیا میں فخر کی علامت سمجھا جا رہا ہے، جو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے۔صائمہ سلیم کے اس مؤقف کو بین الاقوامی مبصرین بھارت کے حقیقی چہرے کو بے نقاب کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو بھارت کی ان پالیسیوں کا نوٹس لینا چاہیے جو نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں ،

  • سنیما آپریٹرز  سینسر شپ قانون کو ڈیجیٹل اسٹریمنگ سروسز پر نافذ کرنے کی درخواست مسترد

    سنیما آپریٹرز سینسر شپ قانون کو ڈیجیٹل اسٹریمنگ سروسز پر نافذ کرنے کی درخواست مسترد

    لاہور ہائی کورٹ نے سنیما آپریٹرز کی جانب سے سینسر شپ قانون کو ڈیجیٹل اسٹریمنگ سروسز پر نافذ کرنے کی درخواست مسترد کر دیا اور فیصلے میں قرار دیا کہ موشن پکچرز آرڈیننس 1979 کا قانون او ٹی ٹی پلیٹ فارمز جیسے نیٹ فلکس اور ایمازون جیسی ڈیجیٹل اسٹریمنگ سروسز پر نافذ نہیں ہوتا۔

    مقامی انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسٹس راحیل کامران نے 20 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ یہ آرڈیننس ڈیجیٹل دور سے پہلے بنایا گیا تھا تاکہ فلموں کی نمائش کو ریگولیٹ کیا جا سکے، جو سنیما گھروں اور دیگر عوامی مقامات پر سنیماٹوگراف کے ذریعے دکھائی جاتی ہیں، یہ آن لائن اسٹریمنگ سروسز کے لیے وضع نہیں کیا گیا تھا، این سی انٹرٹینمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ دیگر درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ سنیما گھروں کو فلم سرٹیفکیشن لینے کا پابند بنانا، جب کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ریگولیٹ نہ کرنا امتیازی ہے اور اس سے ان کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔انہوں نے دلیل دی کہ آرڈیننس کی دفعہ 6 کے تحت سینسر شپ کے اصول، جو آئین کے آرٹیکل 19 سے ماخوذ ہیں، تمام پلیٹ فارمز پر یکساں لاگو ہونے چاہئیں تاکہ معاشرتی شرافت اور اخلاقیات کو برقرار رکھا جا سکے۔

    وکلا کا کہنا تھا کہ آرڈیننس کی دفعات کو تمام عوامی اور نجی نمائش کے ذرائع پر یکساں طور پر نافذ نہیں کیا جا رہا بلکہ انہیں منتخب اور من مانے طریقے سے صرف درخواست گزاروں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، جب کہ دیگر تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بغیر کسی روک ٹوک کے کام کر رہے ہیں، وفاقی حکومت کے ایک لا افسر نے ان درخواستوں کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مخالفت کی، درخواست گزاران متاثرہ فریق نہیں ہیں، اور ان کے کسی قائم شدہ حق کو کسی بھی فریقِ مخالف نے روکا ہے نہ محدود کیا ہے،آئین کی 18ویں ترمیم کے بعد سنیماٹوگراف سینسرشپ کا معاملہ صوبوں کو منتقل ہو چکا، اور اس سلسلے میں صوبوں کو خصوصی اختیار حاصل ہے۔سنیماٹوگراف کی اصطلاح کو آرڈیننس کے تناظر میں سمجھا جائے اور اس میں او ٹی ٹی پلیٹ فارمز شامل نہیں ہیں۔

    پنجاب حکومت کے ایک لا افسر نے کہا کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) صرف الیکٹرانک میڈیا سے متعلق ہے، جب کہ پنجاب فلم سینسر بورڈ کا دائرہ صرف فلموں کی سینسر شپ تک محدود ہے۔انہوں نے بھی زور دیا کہ سنیماٹوگراف کی اصطلاح کو آرڈیننس کے تناظر میں سمجھا جائے، جس کا اطلاق او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر نہیں ہوتا۔

  • ڈاکٹر شمع جونیجو کا نام فہرست میں شامل نہیں تھا، وزارت خارجہ کی وضاحت

    ڈاکٹر شمع جونیجو کا نام فہرست میں شامل نہیں تھا، وزارت خارجہ کی وضاحت

    ڈاکٹر شمع جونیجو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں کیسے پہنچیں اور وزیر دفاع کے پیچھے کیسے بیٹھیں، خواجہ‌آصف کی جانب سے وضاحت کے بعد وزارت خارجہ کا بھی ردعمل آ گیا

    وزارت خارجہ کی جانب سے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں وضاحت کی گئی ہے، جس میں سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے پیچھے ایک خاتون ڈاکٹر شمع جونیجو کی نشست پر بیٹھنے کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے تھے۔ترجمان وزارتِ خارجہ کے مطابق اس خاتون کا نام پاکستان کے سرکاری وفد کی فہرست میں شامل نہیں تھا، جو 80ویں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ "لیٹر آف کریڈینس” میں درج ہوتی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ چونکہ اس خاتون کا نام سرکاری وفد کے تصدیق شدہ کاغذات میں شامل نہیں تھا، اس لیے ان کی وزیر دفاع کے پیچھے نشست پر موجودگی وزارتِ خارجہ یا نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ کی منظوری کے بغیر تھی۔وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے سرکاری وفد کے تمام اراکین کی فہرستیں باضابطہ طور پر اقوامِ متحدہ کو فراہم کی جاتی ہیں، اور صرف وہی افراد سرکاری طور پر اجلاسوں میں شرکت کے مجاز ہوتے ہیں جنہیں اس فہرست میں شامل کیا گیا ہو۔

    https://x.com/ForeignOfficePk/status/1971668247595590143

    اس وقت وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطحی وفد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہے۔ اس وفد میں معروف کالم نگار اور سماجی کارکن ڈاکٹر شمع جونیجو کی شمولیت نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔سوشل میڈیا پر گردش کرتی تصاویر میں ڈاکٹر شمع جونیجو کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف کے عقب میں بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تصاویر وائرل ہونے کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید سامنے آئی ہے، خاص طور پر اس بنیاد پر کہ ڈاکٹر شمع ماضی میں اسرائیل سے متعلق بعض متنازع بیانات دے چکی ہیں، جنہیں فلسطینی عوام کے جذبات کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔

    اس تنقید کے جواب میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک وضاحتی پیغام جاری کیا۔ اپنے پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ”اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں تقریر میں نے اس لیے کی کیونکہ وزیراعظم مصروف تھے۔ میرے پیچھے کون بیٹھے گا، یہ فیصلہ وزارت خارجہ کا ہوتا ہے نہ کہ میرا۔”انہوں نے مزید کہا "فلسطین کے مسئلے سے میرا 60 سالہ جذباتی تعلق اور کمٹمنٹ ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ میں اس مسئلے پر ہمیشہ پاکستان کے اصولی مؤقف کا حامی رہا ہوں۔”

    خواجہ آصف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا پر متعدد صارفین پاکستانی وفد کی شفافیت اور نمائندگی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ جیسے حساس اور عالمی سطح کے فورم پر ایسے افراد کی شمولیت جن کا ماضی متنازع ہو، پاکستان کی خارجہ پالیسی اور فلسطین سے وابستگی پر سوالیہ نشان بنتی ہے۔تاحال وزارت خارجہ کی جانب سے ڈاکٹر شمع جونیجو کی وفد میں شمولیت پر کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔ نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ انہیں کس حیثیت میں اس وفد کا حصہ بنایا گیا ہے

    ڈاکٹر شمع جونیجو ایک معروف صحافی، کالم نگار اور انسانی حقوق کی کارکن ہیں۔ وہ کئی بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ تاہم، ان کے بعض ماضی کے بیانات، جن میں اسرائیل سے متعلق نرم رویہ اختیار کیا گیا تھا، حالیہ تنقید کی بنیاد بنے ہیں۔ ان بیانات کے اسکرین شاٹس اور ویڈیوز اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں

  • ایشیا کپ،پاک بھارت فائنل سے قبل کپتانوں کا ٹرافی شوٹ ہو پائے گا؟

    ایشیا کپ،پاک بھارت فائنل سے قبل کپتانوں کا ٹرافی شوٹ ہو پائے گا؟

    دبئی: پاکستان اور بھارت کے درمیان ایشیا کپ کا فائنل کل بروز اتوار دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جس کا شائقین کرکٹ بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق دونوں ملکوں کی ٹیموں کے درمیان حالیہ تناؤ کے باعث اس مرتبہ فائنل سے پہلے دونوں کپتانوں کا ٹرافی کے ساتھ روایتی فوٹو شوٹ نہیں ہوگا۔ ٹورنامنٹ کے منتظمین نے اس کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج (ہفتے کو) فوٹو شوٹ کا کوئی انعقاد نہیں ہو رہا، البتہ اتوار کو میچ سے قبل اس حوالے سے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کی ٹیم نے ایونٹ کے دوران پاکستان کے خلاف کھیلے گئے دونوں میچز میں کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے گریز کیا، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کل ہونے والے فائنل میں بھی ایسا ہی ماحول دیکھنے کو ملے گا۔ کرکٹ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال کھیل کے روایتی کھیل روح کو متاثر کر رہی ہے۔

    ادھر پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا آج رات پاکستانی وقت کے مطابق 7 بجے پریس کانفرنس کریں گے جس میں وہ ٹیم کی تیاریوں اور حکمتِ عملی سے متعلق صحافیوں کو آگاہ کریں گے۔ اس کے علاوہ قومی ٹیم دبئی میں واقع آئی سی سی اکیڈمی میں رات 7 بجے سے 10 بجے تک فائنل کے لیے خصوصی پریکٹس سیشن میں حصہ لے گی۔

    ایشیا کپ فائنل نہ صرف دونوں ممالک کے شائقین کے لیے اعصاب شکن مقابلہ ثابت ہوگا بلکہ یہ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے اعصاب کا بھی سخت امتحان ہوگا۔ شائقین کرکٹ کی نظریں دبئی اسٹیڈیم پر جمی ہوئی ہیں جہاں کل روایتی حریف ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں گے۔

  • سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،وزیراعظم

    سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،وزیراعظم

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے خطاب کے فوری بعد ملک حالیہ سیلابی صورتحال اور بحالی کے جاری اقدامات پر جائزہ اجلاس کی صدارت کی

    وزیر اعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف اور بحالی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کر دی ،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے.اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت پنجاب متاثرین کی بحالی کیلئے مثالی اقدامات کر رہی ہے. اجلاس کو فصلوں کے نقصانات اور کسانوں کی بحالی کے حوالے سے بھی تجاویز پیش کی گئیں.وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آئندہ ایک ہفتے میں نقصانات کے جائزے پر ایک جامع رپورٹ مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی

  • ڈاکٹر شمع جونیجو کی اقوام متحدہ اجلاس میں شرکت ، خواجہ آصف کا ردعمل

    ڈاکٹر شمع جونیجو کی اقوام متحدہ اجلاس میں شرکت ، خواجہ آصف کا ردعمل

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستانی وفد کے ہمراہ ڈاکٹر شمع جونیجو کی موجودگی پر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے بعد ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس وقت وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطحی وفد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہے۔ اس وفد میں معروف کالم نگار اور سماجی کارکن ڈاکٹر شمع جونیجو کی شمولیت نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔سوشل میڈیا پر گردش کرتی تصاویر میں ڈاکٹر شمع جونیجو کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف کے عقب میں بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تصاویر وائرل ہونے کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید سامنے آئی ہے، خاص طور پر اس بنیاد پر کہ ڈاکٹر شمع ماضی میں اسرائیل سے متعلق بعض متنازع بیانات دے چکی ہیں، جنہیں فلسطینی عوام کے جذبات کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔

    اس تنقید کے جواب میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک وضاحتی پیغام جاری کیا۔ اپنے پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ”اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں تقریر میں نے اس لیے کی کیونکہ وزیراعظم مصروف تھے۔ میرے پیچھے کون بیٹھے گا، یہ فیصلہ وزارت خارجہ کا ہوتا ہے نہ کہ میرا۔”انہوں نے مزید کہا "فلسطین کے مسئلے سے میرا 60 سالہ جذباتی تعلق اور کمٹمنٹ ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ میں اس مسئلے پر ہمیشہ پاکستان کے اصولی مؤقف کا حامی رہا ہوں۔”

    خواجہ آصف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا پر متعدد صارفین پاکستانی وفد کی شفافیت اور نمائندگی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ جیسے حساس اور عالمی سطح کے فورم پر ایسے افراد کی شمولیت جن کا ماضی متنازع ہو، پاکستان کی خارجہ پالیسی اور فلسطین سے وابستگی پر سوالیہ نشان بنتی ہے۔تاحال وزارت خارجہ کی جانب سے ڈاکٹر شمع جونیجو کی وفد میں شمولیت پر کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔ نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ انہیں کس حیثیت میں اس وفد کا حصہ بنایا گیا ہے

    ڈاکٹر شمع جونیجو ایک معروف صحافی، کالم نگار اور انسانی حقوق کی کارکن ہیں۔ وہ کئی بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ تاہم، ان کے بعض ماضی کے بیانات، جن میں اسرائیل سے متعلق نرم رویہ اختیار کیا گیا تھا، حالیہ تنقید کی بنیاد بنے ہیں۔ ان بیانات کے اسکرین شاٹس اور ویڈیوز اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں

  • اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے فلسطین اور کشمیر کا مقدمہ لڑا،عطا تارڑ

    اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے فلسطین اور کشمیر کا مقدمہ لڑا،عطا تارڑ

    وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات مستحکم ہورہے ہیں۔

    نیو جرسی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے فلسطین اور کشمیر کا مقدمہ لڑا، اب پاکستان اور امریکا کے تعلقات مستحکم ہورہے ہیں، کہاں ایک حکمران تھا جس کے دور میں پاکستان ڈیفالٹ کررہا تھا،اب مہنگائی اورانٹرسٹ ریٹ سمیت تمام میکرو اکنامک اشاریے مثبت ہیں،ماضی کے حکمران نے تمام ملکوں کے ساتھ تعلقات اپنی اناکی خاطرخراب کیے، اب پاکستان کی مشرق سے لےکرمغرب تک دنیامیں عزت ہے۔پاکستان کے ساتھ ممالک کے تعلقات اچھے ہو چکے، سفارتی محاذ پر پاکستان آگے بڑھ چکا،