Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خیبر پختونخوا میں تبدیلی کی خواہش، مگر پی ٹی آئی اکثریت میں ہے، مولانا فضل الرحمان

    خیبر پختونخوا میں تبدیلی کی خواہش، مگر پی ٹی آئی اکثریت میں ہے، مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ہمارا صوبہ کسی سیاسی کشمکش کا متحمل نہیں ہوسکتا، صوبے سے متعلق پارٹی مشاورت سے فیصلہ کرے گی، میری تجویز ہوگی صوبے میں تبدیلی آئے۔

    پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تبدیلی آئے تو پی ٹی آئی کے اندر سے ہی آئے، سینیٹ سے متعلق کیا ایڈجسٹمنٹ ہوتی ہے ابھی تبصرہ نہیں کر سکتا،فاٹا انضمام غلط فیصلہ تھا جسے سب پارٹیوں کو تسلیم کرنا چاہیے، کل قبائل کا گرینڈ جرگہ دوبارہ بیٹھے گا، ان سے مشاورت کریں گے، ہم نے پہلے بھی فاٹا کے عمائدین کے مشورے سے فیصلے کرنا چاہے، انضمام مقصد نہیں تھا، بات قبائل کے سیاسی مستقبل کی تھی، انضمام کی تجویز آئی تھی ہم نے کہا نہیں، قبائل کو اختیار دو، فاٹا سے متعلق قبائلی مشران کی مشاورت ناگزیر ہےکمیٹی نے جے یو آئی ف سے نام مانگا ہے اور ہمیں فریق تسلیم کیا ہے، فاٹا کے لیے بنائی گئی کمیٹی میں کتنے پشتون ہیں اور کتنے صوبے سے ممبر ہیں؟ ہمارے صوبہ کا پیسا صرف اس لیے ہے کہ مراعات لی جائیں، 8 سال ہوگئے ہیں فاٹا میں ایک پٹواری نہیں جا سکتا ہے،2006 اور 2007 میں خیبرپختونخوا میں امن و امان تھا اور اس وقت صوبے میں ہماری حکومت تھی

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کے پی اور بلوچستان میں جس بچے پر ظلم ہوتا ہے، میں ان کو اپنا بچہ سمجھتا ہوں، جمعیت علما اسلام سے بڑھ کر کس نے ملین مارچ کیے؟ عوام کا مورال بلند کرنے کے لیے پشاور میں ملین مارچ کیا، سیاستدان جیل جاتا ہے، لیکن تحریک صرف رہائی کے لیے نہیں ہوتی، تحریکیں عظیم مقاصد کے لیے ہوتی ہیں،کوئی سیاستدان جیل میں نہیں ہونا چاہیے ،پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان دشمنی تو نہیں ہے،اسمبلیاں بکی ہوئی ہیں،بکاؤ حکومت کا حصہ نہیں بن سکتا،اگر وفاقی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہوتا تو حکومت کا حصہ ہوتا،کسی کےسامنے جھک کر اقتدار نہیں مانگو ں گا،

  • سپریم کورٹ، ججز کیخلاف شکایات نمٹانے پر انکے نام پبلک کرنے کی تجویز مسترد

    سپریم کورٹ، ججز کیخلاف شکایات نمٹانے پر انکے نام پبلک کرنے کی تجویز مسترد

    سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کیخلاف شکایات نمٹانے پر انکے نام پبلک کرنے کی تجویز مسترد کردی

    ذرائع کا بتانا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ختم ہو گیا ہے،نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں عدالتی ضابطہ اخلاق سمیت دیگر امور پر غور کیا گیا، سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس دو گھنٹے تک جاری رہا، سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کیخلاف شکایات نمٹانے پر ان کے نام پبلک کرنے کی تجویز مسترد کر دی، اجلاس میں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ جن ججز کیخلاف شکایات نمٹائی جاتی ہیں ان کے نام پبلک نہ کرنے کا کونسل کا فیصلہ ہے،

    دوسری جانب سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا،اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ، منیب اختر، عالیہ نیلم اور جنید غفار نے شرکت کی،سپریم جوڈیشل کونسل سروس رولز 2025 کا مسودہ منظور کر لیا گیا،ضابطہ اخلاق میں ترامیم پر مزید قانونی غور کی ضرورت قرار،انکوائری کے طریقہ کار پر بھی مزید مشاورت کی جائے گی، اجلاس میں ججز کے خلاف 24 شکایات پر غور کیا گیا، 19 شکایات کو متفقہ طور پر خارج کر دیا گیا،5 شکایات کو مؤخر کر دیا گیا،

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت میں پی ٹی آئی اراکین کا قافلہ لاہور روانہ

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت میں پی ٹی آئی اراکین کا قافلہ لاہور روانہ

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ کے پی حکومت کا قافلہ پنجاب اسمبلی سے نکالے گئے نمائندوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ہے۔

    اپنے ایک بیان میں علی امین گنڈاپور نے کہا کہ یہ قافلہ غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف پُرامن ردعمل ہے۔ ہم امن، محبت، بھائی چارے اور رواداری کا پیغام لے کر جارہے ہیں،علی امین گنڈاپور نے کہا کہ یہ احتجاج نہیں محض اظہارِ یکجہتی ہے، ہمارا مقصد انتشار نہیں بلکہ جمہوری اقدار کا تحفظ ہے، ہم یہ بتانےجارہے ہیں کہ جمہوری نمائندوں کے ساتھ ہیں،ہم صرف امن، محبت، بھائی چارے اوررواداری کا پیغام لیکرجا رہے ہیں، جوسمجھتے ہیں کوئی احتجاج ہے، جان لیں یہ محض اظہارِیکجہتی ہے، عوام دیکھ لیں یہ قافلہ نفرت نہیں، صرف محبت لے کر نکل رہا ہے

    دوسری جانب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ گرفتاریاں ممکن نہیں ہیں، ایسا نہیں ہونے والا.اسلام آباد میں خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صرف پارلیمنٹیرینز لاہور جا رہے ہیں،ہمارا پنجاب والوں سے رابطہ ہے وہ بھی پارلیمنٹیرینز ہیں۔

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ہمارا حق ہے ہم سڑک پر چل سکتے ہیں ،آرٹیکل 19 ہمارا بنیادی حق ہے یہ حق ہم سے چھین لیا گیا ،ہماری خواہش ہے ہم لوگوں کے ساتھ بیٹھیں اور گفتگو کریں اور ان کے مسائل سنیں ،یہ قافلہ صرف گفتگو کرنے کے لیے لاہور روانہ ہورہا ہے ،آج میٹنگ ہوگی اور کل بھی ہوگی اور اس کے بعد واپس آئیں گے ،بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کا واپس آنا ان کا بنیادی حق ہے وہ آئیں گے

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس، بحریہ ٹاؤن سکینڈل، مرزاشہزاد اکبر ماسٹر مائنڈ قرار

    190 ملین پاؤنڈ کیس، بحریہ ٹاؤن سکینڈل، مرزاشہزاد اکبر ماسٹر مائنڈ قرار

    بحریہ ٹاؤن کے 190 ملین پاؤنڈز کے اسکینڈل میں اب تک کی سب سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں مرزا شہزاد اکبر کو مرکزی کردار ادا کرنے والا ملزم قرار دیا گیا ہے۔

    شہزاد اکبر جو سابق وزیراعظم عمران خان کے معاون اور احتساب کے حوالے سے خاص ذمہ داری نبھاتے تھے، ان پر قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے سنگین الزامات کے سامنے ہیں،آزادنیوز کے مطابق یہ اسکینڈل اس وقت سامنے آیا جب برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے پاکستان کو بحریہ ٹاؤن کے خلاف مالی بدعنوانی کی تحقیقات میں 190 ملین پاؤنڈز کی ریکوری کی پیشکش کی۔ یہ رقم پاکستان کی سرکاری ملکیت میں ہونی چاہیے تھی، لیکن تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس کو غیر قانونی طریقے سے ایک مخصوص اکاؤنٹ میں منتقل کیا گیا، جس کا تعلق رجسٹرار سپریم کورٹ پاکستان سے تھا۔

    تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مزا شہزاد اکبر نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ انہوں نے 6 نومبر 2019 کو ایک "کانفڈینشیئلٹی ڈید” پر دستخط کیے، جس میں رجسٹرار کے اکاؤنٹ کو "ڈیزگنیٹڈ اکاؤنٹ” قرار دیا گیا تاکہ رقم اسی اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے۔ اس معاہدے پر دیگر متعلقہ افراد جیسے ضیاءالمصطفیٰ نسیم نے بھی دستخط کیے۔مزید یہ کہ شہزاد اکبر نے کابینہ کی منظوری لینے سے پہلے یہ دستاویز خود دستخط کر دی تھی، اور پھر 3 دسمبر 2019 کو کابینہ کے اجلاس میں اس کی منظوری کے لیے پیش کیا، جو کہ حکومتی عمل میں دھوکہ دہی اور جان بوجھ کر حقائق چھپانے کا واضح ثبوت ہے۔

    شہزاد اکبر اور ضیاءالمصطفیٰ نسیم نے 2019 میں برطانیہ کے دو دورے کیے، جن میں انہوں نے نیشنل کرائم ایجنسی اور برطانوی ہوم سیکرٹری سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں کا مقصد مالی جرائم کی تحقیقات اور رقم کی حوالگی سے متعلق بات چیت تھی۔تاہم، اس دوران پاکستان کے نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک جیسے اداروں کو مذاکرات سے مکمل طور پر خارج رکھا گیا، جس کی وجہ سے پاکستان کو اربوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

    کانفڈینشیئلٹی ڈید، جس پر شہزاد اکبر نے 6 نومبر 2019 کو دستخط کیے، جو کہ اصل میں غیر قانونی اکاؤنٹ کو مالی رقوم منتقل کرنے کے لیے ایک سرکاری اجازت نامہ تھا۔ کابینہ کی منظوری کے بغیر رقم کی منتقلی، جو قانونی تقاضوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔مارچ 2019 میں شہزاد اکبر اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان اس اسکینڈل کے حوالے سے ملاقاتیں ہوئیں، جن میں اہم معلومات کو چھپایا گیا۔سرکاری خطوط اور نوٹیفیکیشنز، جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ شہزاد اکبر کے پاس قانونی دائرہ کار کے اندر کام کرنے کی ذمہ داری تھی، مگر انہوں نے اپنی ذاتی مرضی سے قواعد کی خلاف ورزی کی۔

    تحقیقات میں واضح ہوا ہے کہ اس سازش کی وجہ سے پاکستان کے قومی خزانے کو 190 ملین پاؤنڈز کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ اس اسکینڈل میں شامل افراد کی غفلت اور بدانتظامی کی بنا پر یہ رقم بحریہ ٹاؤن کے حوالے سے غیر قانونی طور پر منتقل ہوئی، جس سے ملک کی معیشت اور عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا۔

    3 فروری 2019 کی کابینہ میٹنگ سے پہلے 06.11.2019 کو معاہدے پر دستخط کرنے سے اس کی بد نیتی ظاہر ہوتی ہے۔نومبر 2019 کے آخری ہفتے یعنی کابینہ اجلاس سے پہلے برطانیہ سے پاکستان کو جرائم کی رقم کی منتقلی اس بات کا ثبوت ہے۔ اعظم خان کا بیان، جس میں ملزم عمران خان اور اشتہاری مجرم مرزا شہزاد اکبر کے 02.03.2019 کو نوٹ پر ملاقات کا ذکر ہے۔شہزاد اکبر نے کابینہ سے حقائق چھپائے اور معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے اسے بغیر کسی اجازت کے مکمل کر لیا۔تحقیقات میں اس کی اہمیت اور بد نیتی کے شواہد واضح ہیں اور وہ اس وقت اشتہاری مجرم کے طور پر مطلوب ہیں۔دستاویزات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ شہزاد اکبر نے کابینہ سے اہم حقائق چھپائے اور ایسی کارروائیاں کیں جن کے لیے انہیں قانونی اختیار حاصل نہیں تھا۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اس جان بوجھ کر کی گئی بدانتظامی نے ایک غیر قانونی منتقلی اسکیم کو عملی جامہ پہنانے میں مدد فراہم کی، جس سے پاکستان کے قومی مفاد کو شدید نقصان پہنچا۔ حکام اب اس سنگین معاملے میں ملوث تمام افراد سے مکمل احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی افغان سفیر کو  کینسر اسپتال کے قیام میں معاونت کی پیشکش

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی افغان سفیر کو کینسر اسپتال کے قیام میں معاونت کی پیشکش

    اسلام آباد: وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی افغانستان کے سفیر سردار احمد شکیب سے اہم ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، باہمی تعاون اور علاقائی استحکام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات میں وزیرِ اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات بیریسٹر محمد علی سیف بھی موجود تھے۔ انہیں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے افغانستان کے متعلقہ حکام سے رابطے کی ذمہ داری سونپی گئی، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان عملی سطح پر روابط کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے افغانستان میں کینسر اسپتال کے قیام میں تعاون فراہم کرنے کی پیشکش کی، جبکہ زراعت کے شعبے میں بھی بھرپور معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت افغانستان کے عوام کی فلاح و بہبود میں ہر ممکن کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

    ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل سرحد، مشترکہ زبان، نسلی، قبائلی اور مذہبی رشتے موجود ہیں، جنہیں امن، بھائی چارے اور باہمی احترام کے ساتھ مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ بیرونی طاقتوں کے مذموم عزائم کے خلاف مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، مستحکم اور پرامن مستقبل فراہم کیا جا سکے۔

    افغانستان کے سفیر سردار احمد شکیب نے افغان مہاجرین کا خاص خیال رکھنے پر حکومتِ خیبر پختونخوا کا شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے اعلان کیا کہ وہ ایک خصوصی وفد افغانستان بھیجنا چاہتے ہیں، جو پاکستان اور افغانستان کی عوام کے درمیان اعتماد اور ہم آہنگی کے فروغ میں پل کا کردار ادا کرے گا۔

  • سوشل میڈیا پربارشی پانی کی تصویریں ڈی ایچ اے کی ،وہ ہمارےدائرہ اختیار میں نہیں آتا،عظمیٰ بخاری

    سوشل میڈیا پربارشی پانی کی تصویریں ڈی ایچ اے کی ،وہ ہمارےدائرہ اختیار میں نہیں آتا،عظمیٰ بخاری

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہاہے کہ انسانی حقوق کے علمبردار بلوچستان میں ہونے والے مظالم پر خاموش کیوں ہیں؟ انہوں نے بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سخت اور مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کا سب سے اہم ترجیحی ایجنڈا صحت کا شعبہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مریم نواز اس حوالے سے دن رات محنت کر رہی ہیں تاکہ صحت کے شعبے کی بہتری کو یقینی بنایا جا سکے۔ عظمیٰ بخاری نے اس بات کی وضاحت کی کہ صحت کارڈ پروگرام کے تحت مریضوں کا علاج مسلسل جاری ہے اور اس پروگرام کو بند کرنے کی افواہیں اور پروپیگنڈہ بے بنیاد ہیں۔انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ صحت کارڈ کا استعمال نجی اسپتالوں میں تو بخوبی ہو رہا ہے لیکن سرکاری اسپتالوں میں اس کا غلط استعمال پایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ کے حوالے سے تمام آڈٹ رپورٹس جلد منظر عام پر لائی جائیں گی تاکہ عوام کو مکمل شفافیت فراہم کی جا سکے۔

    وزیر اطلاعات نے پنجاب حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کی احتجاجی کال پر خاموشی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے نہ پہلے پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال پر کوئی ردعمل دیا اور نہ ہی اب دے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخواہ حکومت سے پی ٹی آئی کو فنڈز کی فراہمی کی خبریں ہیں، جس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

    بارشوں کے باعث لاہور میں پانی کے جمع ہونے کے حوالے سے سوال پر عظمیٰ بخاری نے کہا کہ طوفانی بارشوں میں پانی کا جمع ہونا ایک قدرتی عمل ہے۔ سوشل میڈیا پر جو تصاویر گردش کر رہی ہیں، وہ ڈی ایچ اے کی حدود کی ہیں اور ڈی ایچ اے پنجاب حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈی ایچ اے کے شہری جنہیں ووٹ دیتے ہیں ان سے پوچھیں،

  • مقبوضہ کشمیر : یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر 13 جولائی کو مکمل ہڑتال کی کال

    مقبوضہ کشمیر : یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر 13 جولائی کو مکمل ہڑتال کی کال

    مقبوضہ جموں کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے 13 جولائی (بروز اتوار) کو "یوم شہدائے کشمیر” کے موقع پر مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تمام آزادی پسند رہنماﺅں اور تنظیموں نے ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کی فوجیوں کے ہاتھوں 13 جولائی 1931ء کو شہید ہونیوالے 22 کشمیریوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ہڑتال کی کال کی حمایت کی ہے ۔ حریت کانفرنس کے ترجمان عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کشمیری عوام سے شہداء کی روح کے ایصالِ ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی غرض سے مزار شہداء نقشبند صاحب سرینگر کی طرف مارچ کی بھی اپیل کی ہے ۔حریت ترجمان نے کہا کہ کشمیری شہداء کی قربانیوں کو ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور بھارتی تسلط سے جموں کشمیر کی آزادی تک شہداء کے مشن کو ہر قیمت پر جاری رکھا جائے گا۔

    یاد رہے کہ 13 جولائی 1931ء کو شہید ہونے والے یہ افراد ان ہزاروں لوگوں میں شامل تھے جو عبدالقدیر نامی ایک شخص کے خلاف مقدمے کی سماعت کے موقع پر سرینگر سینٹرل جیل کے باہر جمع ہوئے تھے جس نے کشمیری عوام کو ڈوگرہ حکمرانی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا کہا تھا۔ نمازِ ظہر کے وقت ایک کشمیری نوجوان نے جب اذان دینا شروع کی تو مہاراجہ کے فوجیوں نے اسے گولی مارکر شہید کر دیا۔اس کے بعد دوسرا شخص اذان پوری کرنے کےلئے کھڑا ہوا تو اسے بھی شہید کر دیا گیا۔ یوں اذان مکمل ہونے تک 22 کشمیریوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔

  • ترجمان پاک فوج کا مظفرآباد دورہ،سول سوسائٹی کے ساتھ خصوصی نشست

    ترجمان پاک فوج کا مظفرآباد دورہ،سول سوسائٹی کے ساتھ خصوصی نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری، ہلالِ امتیاز (ملٹری) نے مظفر آباد کا دورہ کیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی آزاد جموں و کشمیر کی سول سوسائٹی کے ساتھ خصوصی نشست ہوئی ہے،شرکا ء اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے درمیان سوال و جواب کی جامع نشست کا بھی اہتمام کیا گیا،حاضرین کا کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھی، ہے اور ہمیشہ رہے گی، شرکا کا کہنا تھا کہ پاکستان اور کشمیر کو دنیا کی کوئی طاقت جدا نہیں کر سکتی،

    کشمیری عوام نےپاک آرمی سے محبت کا انوکھا اظہار کیا، ڈی جی آئی ایس پی آر کو کشمیری ثقافتی لباس پیش کیا،
    آزاد جموں و کشمیر کی عوام نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا،شرکاء نے پاکستان اور کشمیر کے جھنڈے لہرا کر پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ کشمیری عوام کل بھی پاکستان کے ساتھ تھے اور ہمیشہ پاکستان کے ساتھ رہیں گے،کشمیر بنےگا پاکستان کے نعروں کی گونج بھی نظر آئی.

  • ملالہ یوسف زئی  28 برس کی ہو گئیں

    ملالہ یوسف زئی 28 برس کی ہو گئیں

    پاکستان کی عالمی شہرت یافتہ سماجی کارکن اور تعلیم کی علمبردار، نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی آج 28 سال کی عمر میں قدم رکھ چکی ہیں۔ ملالہ نے اپنی زندگی تعلیم، امن اور خواتین کے حقوق کی علمبرداری کے لیے وقف کی ہے اور دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔

    ملالہ یوسف زئی 12 جولائی 1997 کو سوات کے شہر مینگورہ میں پیدا ہوئیں۔ بچپن سے ہی تعلیم کے لیے ان کا جذبہ بے مثال تھا اور انہوں نے سکول کی سطح پر ہی لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں آواز بلند کرنی شروع کی۔ تاہم، ان کی یہ آواز دہشت گردوں کو ناگوار گزری اور 9 اکتوبر 2012 کو وہ سکول سے گھر جاتے ہوئے شدت پسندوں کی فائرنگ کا نشانہ بن گئیں، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئیں۔کئی دنوں تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد ملالہ نے ہمت نہیں ہاری اور نہ صرف اپنی صحت کو بحال کیا بلکہ دنیا بھر میں تعلیم اور خواتین کے حقوق کے لیے ایک عالمی علامت بن گئیں۔ ان کی جرأت اور حوصلہ نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو متاثر کیا۔

    2014 میں ملالہ یوسف زئی کو نوبل امن انعام سے نوازا گیا، جو انہیں دنیا کی سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ شخصیت بناتا ہے۔ اس کے علاوہ ملالہ کو سخاروف انعام، ورلڈ چلڈرن پرائز سمیت 40 سے زائد بین الاقوامی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ملالہ نے تعلیم کے فروغ کے لیے "ملالہ فنڈ” بھی قائم کیا ہے، جو دنیا بھر میں تعلیم کے حق کے لیے کام کر رہا ہے۔ آج وہ برطانیہ کے شہر لندن میں مقیم ہیں، جہاں سے اپنے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    ملالہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ حقیقی تبدیلی صرف تعلیم کے ذریعے ممکن ہے اور وہ ہمیشہ اس عزم کے ساتھ تعلیم کے فروغ اور محروم بچوں کے حقوق کی جنگ لڑتی رہیں گی۔

    پاکستانی قوم ملالہ کی سالگرہ پر انہیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہے اور ان کی کامیابیوں پر فخر محسوس کرتی ہے۔

  • ژوب واقعہ ، شہید بیٹے کی لاش دیکھ کر والد کی بھی موت،دو جنازے ایک ساتھ

    ژوب واقعہ ، شہید بیٹے کی لاش دیکھ کر والد کی بھی موت،دو جنازے ایک ساتھ

    بلوچستان کے ضلع ژوب میں دہشتگردی کے تازہ واقعے میں شہید ہونے والے غلام سعید کی شہادت نے میاں چنوں کے علاقے کو غم میں ڈوب دیا۔ شہید غلام سعید کا تعلق چک نمبر 72 پندرہ ایل سے تھا۔ جب ان کا جسدِ خاکی آبائی گھر پہنچا، تو ان کے والد غلام سرور کی بھی شدت غم کی وجہ سے موت ہو گئی

    غلام سرور جو کافی عرصے سے بیماری کا شکار تھے، بیٹے کی شہادت کی اطلاع ملتے ہی شدید صدمے میں مبتلا ہو گئے اور موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ غلام سعید کے بیٹے کی خبر سن کر وہ چھٹی لے کر گھر واپس آ رہے تھے، مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔میاں چنوں میں واقع ان کے آبائی گاؤں 72 پندرہ ایل کے اسکول گراؤنڈ میں شہید غلام سعید اور ان کے والد غلام سرور کی مشترکہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں فوج کے دستے کے علاوہ سیاسی رہنماؤں، سماجی کارکنوں، پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی، جنہوں نے شہید کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا۔نماز جنازہ میں شریک افراد نے دہشتگردی کے خلاف یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ شہداء کے خون کا انصاف کرے اور علاقے کو دہشتگردی سے پاک کرے تاکہ عوام سکون سے زندگی گزار سکیں۔