Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • لاہور پولیس کا کمال،جرائم کی پیش گوئی،روک تھام کیلیے "پنجاب ایمرجنسی اے آئی” سسٹم متعارف

    لاہور پولیس کا کمال،جرائم کی پیش گوئی،روک تھام کیلیے "پنجاب ایمرجنسی اے آئی” سسٹم متعارف

    لاہور پولیس نے جرائم کی پیشگی روک تھام اور مؤثر نگرانی کے لیے جدید آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) پر مبنی سسٹم "پنجاب ایمرجنسی اے آئی” کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ اقدام لاہور کو محفوظ تر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے اس جدید سسٹم کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ لاہور میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کا سہرا پولیس کی جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ حکمت عملی کے سر ہے۔ انہوں نے یہ بات پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔فیصل کامران کا کہنا تھا کہ پنجاب ایمرجنسی اے آئی سسٹم ایک ایسا جدید پلیٹ فارم ہے جو جرائم کی ممکنہ جگہ، وقت اور نوعیت کی پیشگی نشاندہی کرتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے لاہور پولیس متعدد علاقوں میں ڈکیتی، چوری اور دیگر جرائم کو ہونے سے پہلے ہی روکنے میں کامیاب ہوئی ہے،یہ سسٹم مختلف ڈیٹا ذرائع جیسے ماضی کے جرائم، لوکیشن کے رجحانات، جرائم کے اوقات، اور دیگر عوامل کا تجزیہ کرکے ان علاقوں کی نشاندہی کرتا ہے جہاں جرائم کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، ان علاقوں کو "ہاٹ اسپٹس” قرار دے کر پولیس وہاں پہلے سے ہی گشت اور نفری بڑھا دیتی ہے، یہ نیا اے آئی سسٹم لاہور میں "سمارٹ پولیسنگ” کے ایک نئے دور کا آغاز ہے، جہاں فیصلے ڈیٹا بیسڈ اور پیشگی معلومات پر مبنی ہوں گے اس سے پولیس فورس کو جرائم کے خلاف بروقت ردعمل دینے کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا،اگرچہ "پنجاب ایمرجنسی اے آئی” کی نشاندہی کی گئی جگہوں پر ہر بار جرائم کا وقوع پذیر ہونا سو فیصد یقینی نہیں ہوتا، لیکن متعدد کیسز میں سسٹم کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر کامیاب کارروائیاں کی گئی ہیں ،لاہور پولیس کا یہ قدم نہ صرف ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک بہترین مثال ہے بلکہ پاکستان میں پیشگی جرائم کنٹرول کے حوالے سے ایک سنگ میل بھی ہے۔ اگر یہ ماڈل کامیابی سے چلتا رہا، تو یہ دیگر شہروں کے لیے بھی ایک قابل تقلید مثال بن سکتا ہے۔

  • بنکاک ائیرپورٹ،پاکستانی شہری پر چینی خاتون کو چھونے کا الزام

    بنکاک ائیرپورٹ،پاکستانی شہری پر چینی خاتون کو چھونے کا الزام

    بنکاک: تھائی لینڈ کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جہاں ایک چینی خاتون مسافر نے الزام لگایا کہ پاکستانی نوجوان نے اسے مبینہ طور پر چھوا ہے۔ واقعے کی ویڈیو سوشل سائٹ "ریڈاٹ” پر شیئر ہوتے ہی تیزی سے وائرل ہوگئی اور سوشل میڈیا صارفین میں شدید بحث چھڑ گئی۔

    تفصیلات کے مطابق، ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ چند مردوں نے ایک پاکستانی نوجوان کو پکڑ رکھا ہے جس دوران چھڑانے کی کوشش میں اس کی شرٹ بھی پھٹ جاتی ہے۔ دوسری جانب چینی خاتون بار بار اپنا الزام دہراتی رہی اور کہتی سنائی دیتی ہے کہ "اس نے میرے جسم کو چھوا ہے، پولیس کو بلاؤ۔”الزام کا نشانہ بننے والے نوجوان نے اپنا نام احسن بتایا اور کہا "میں پاکستانی ہوں، میں نے آپ کو نہیں چھوا۔ اگر آپ کو برا لگا تو معذرت چاہتا ہوں۔”تاہم انگریزی نہ سمجھنے کی وجہ سے وہ بار بار ہاتھ جوڑ کر پولیس نہ بلانے کی درخواست کرتا رہا۔

    چینی خاتون اپنے مؤقف پر ڈٹی رہی اور کہتی رہی کہ اسے تکلیف پہنچی ہے، لہٰذا صرف معافی کافی نہیں۔ ویڈیو کے آخر میں ایئرپورٹ کی سیکیورٹی کو معاملہ سنبھالنے کے لیے مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا خاتون نے آخرکار معذرت قبول کی یا پاکستانی نوجوان کو پولیس کیس کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم سوشل میڈیا پر اس واقعے نے مختلف آراء کو جنم دیا ہے۔ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ایئرپورٹ پر پاکستانیوں کو خاص احتیاط کرنی چاہیے، جبکہ دیگر کے مطابق بغیر شواہد کے کسی پر الزام لگانا بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔

  • ٹک ٹاک پر فحش مواد،50 سے زائد افراد گرفتار

    ٹک ٹاک پر فحش مواد،50 سے زائد افراد گرفتار

    خیبرپختونخوا پولیس نے سوشل میڈیا پر نازیبا اور فحش ویڈیوز شیئر کرنے والوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے جس کے دوران اب تک 50 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی جانب سے اپنے اعمال پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں۔

    ایس ایس پی مسعود احمد نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس کو عوامی شکایات موصول ہوئیں جن میں کہا گیا کہ کچھ افراد، بالخصوص خواتین اور نوجوان، ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نازیبا اور فحش مواد پھیلا رہے ہیں۔ ان شکایات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر اس قسم کے مواد کی اشاعت سے معاشرے میں منفی رجحانات فروغ پاتے ہیں اور نئی نسل پر بھی اس کے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام سے اپیل ہے کہ اگر کسی کے پاس ایسے افراد یا گروپس کے بارے میں مزید شواہد یا معلومات ہوں تو پولیس کو فراہم کریں تاکہ ان عناصر کے خلاف مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

    پولیس حکام کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد کی نشاندہی کے بعد ان کے موبائل فونز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بھی شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کچھ افراد جان بوجھ کر ایسے مواد کو وائرل کرتے تھے تاکہ زیادہ سے زیادہ فالوورز اور شہرت حاصل کر سکیں۔ایس ایس پی مسعود احمد نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ خیبرپختونخوا میں اس طرح کی فحاشی اور بے حیائی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور معاشرتی اقدار کو داغدار کرنے والے افراد کو قانون کے مطابق سخت سزائیں دی جائیں گی۔

  • جارجیا میں بھارتی سیاحوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک

    جارجیا میں بھارتی سیاحوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک

    جارجیا اور آرمینیا کی سرحد پر بھارتی شہریوں کے ساتھ مبینہ طور پر غیر انسانی سلوک کیے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ ایک بھارتی خاتون، دھرووی پٹیل نے الزام عائد کیا ہے کہ 56 بھارتی مسافروں کو آرمینیا سے جارجیا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران جارجین حکام نے شدید ہراساں کیا۔

    دھرووی پٹیل نے انسٹاگرام پر تفصیلات شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پورا گروپ درست ای ویزا اور تمام ضروری سفری دستاویزات رکھنے کے باوجود تضحیک اور طویل حراست کا نشانہ بنا۔ ان کے مطابق یہ واقعہ سداخلو بارڈر پر پیش آیا جو آرمینیا اور جارجیا کے درمیان مرکزی زمینی گزرگاہ ہے،خاتون نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ مسافروں کو 5 سے زائد گھنٹے یخ بستہ سردی میں کھڑا رکھا گیا، نہ کھانے کا انتظام تھا نہ بیت الخلا کی سہولت،حکام نے ان کے پاسپورٹ 2 گھنٹے سے زائد قبضے میں رکھے اور کسی قسم کی وضاحت نہیں دی۔سب کو فٹ پاتھ پر مویشیوں کی طرح بٹھا دیا گیا۔جارجین حکام نے بھارتی مسافروں کی ویڈیوز اس طرح بنائیں جیسے وہ مجرم ہوں، لیکن متاثرین کو ریکارڈنگ سے روک دیا۔مزید یہ کہ دستاویزات تک چیک نہیں کی گئیں بلکہ صرف یہ کہہ دیا گیا کہ "ویزے غلط ہیں۔”

    اپنی پوسٹ میں دھرووی پٹیل نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو ٹیگ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ "بھارت کو اس معاملے پر سخت موقف اپنانا چاہیے۔” انہوں نے اس سلوک کو "شرمناک اور ناقابل قبول” قرار دیا۔یہ پوسٹ سامنے آتے ہی بڑی تعداد میں صارفین نے اپنی رائے دی اور کچھ نے اسی طرح کے تجربات شیئر کیے ایک صارف نے لکھا: "افسوس ہے، لیکن یہ پہلا واقعہ نہیں، جارجیا میں بھارتیوں کے ساتھ یہ رویہ کافی عرصے سے جاری ہے۔”دوسرے صارف نے سوال اٹھایا: "جب یہ بدسلوکی مسلسل ہو رہی ہے تو بھارتی اب بھی جارجیا کیوں جاتے ہیں؟”

  • وزیر اعظم شہباز شریف کو سعودی فضائیہ کا شاندار پروٹوکول،جنگی طیاروں نے کیا استقبال

    وزیر اعظم شہباز شریف کو سعودی فضائیہ کا شاندار پروٹوکول،جنگی طیاروں نے کیا استقبال

    وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کو سعودی عرب کے دورے کے دوران ایک غیر معمولی اعزاز حاصل ہوا۔ جیسے ہی وزیر اعظم کا طیارہ سعودی فضائی حدود میں داخل ہوا، سعودی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے ان کے طیارے کا استقبال کرتے ہوئے اسے حفاظتی حصار میں لے لیا۔

    ذرائع کے مطابق سعودی حکومت کی جانب سے دیا جانے والا یہ پروٹوکول دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات اور مضبوط سفارتی رشتوں کا مظہر ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کا استقبال صرف قریبی اتحادی اور برادر اسلامی ممالک کے سربراہان کو ہی دیا جاتا ہے۔پاکستانی حکومتی ذرائع نے اس موقع کو "اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت، وزیر اعظم شہباز شریف کی کامیاب سفارتکاری اور پاک افواج کی بے مثال قربانیوں اور کارناموں کا نتیجہ” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا میں پاکستان کو ملنے والا یہ اعزاز نہ صرف پاکستانی قوم کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید استحکام ملے گا۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ قریبی اور برادرانہ رہے ہیں، تاہم حالیہ عرصے میں اقتصادی تعاون، دفاعی تعلقات اور خطے کی سلامتی کے حوالے سے دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان قربت مزید بڑھی ہے۔پاکستانی عوام کی جانب سے بھی وزیر اعظم کے اس شاندار استقبال پر خوشی اور فخر کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور سوشل میڈیا پر "اللہ اکبر” کے نعروں کے ساتھ اس موقع کو تاریخی قرار دیا جا رہا ہے۔

  • زیادتی کے ملزم پرمتاثرہ بچیوں نے عدالت میں تھپڑ برسا دیئے

    زیادتی کے ملزم پرمتاثرہ بچیوں نے عدالت میں تھپڑ برسا دیئے

    کراچی کے علاقے قیوم آباد میں بچوں اور بچیوں سے زیادتی کرنے والے ملزم کو متاثرہ بچیوں نے عدالت میں ملزم کو تھپڑ دے مارے۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی میں شربت فروش کا متعدد بچوں اور بچیوں سے زیادتی کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی،ملزم شبیر تنولی کو 7 مقدمات میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس نے زیادتی کا شکار بچیوں کو بھی عدالت میں پیش کیا۔ متاثرہ بچیوں نے ملزم کو احاطہ عدالت میں تھپڑ مارے،پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو اہل علاقہ کی شکایت پر گرفتار کیا گیا تھا، ملزم 2016ء سے بچوں اور بچیوں سے زیادتی کر کے ویڈیوز بناتا تھا۔ ملزم کے خلاف تھانہ ڈیفنس میں مقدمات درج ہیں،جس کے بعد عدالت نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں 3 روز کی توسیع کر کے آئندہ سماعت پر پیش رفت ریورٹ طلب کر لی۔

    عدالت کے باہر صحافیوں نے ملزم سے سوال کیا کہ ویڈیوز کا کیا کرتے تھے؟ ملزم نے بتایا کہ میں بعد میں ویڈیوز دیکھا کرتا تھا۔

  • پہلے انڈا پھینکا، پھر بدتمیزی کی، کل پتھر مارے اب چھرا بھی مار سکتے ہیں،علیمہ خان

    پہلے انڈا پھینکا، پھر بدتمیزی کی، کل پتھر مارے اب چھرا بھی مار سکتے ہیں،علیمہ خان

    بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ مجھ پر انڈوں سے حملہ کرنے کا واقعہ اسکرپٹڈ تھا، جن 2 خواتین نے مجھ پر انڈا پھینکا ان کو پولیس نے بچایا۔

    جوڈیشل کمپلیکس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس نے کہا کہ دونوں خواتین کو حراست میں لیا گیا ہے بعد میں دونوں کو چھوڑ دیا گیا، دو سال سے ہم جیل آتے ہیں کبھی کوئی بدتمیزی کا واقعہ پیش نہیں آیا، دو چار لوگوں کو باقاعدہ طور پر اب ماحول خراب کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے، ہمیں پولیس نے بتایا 4 بندے بدتمیزی کرنے کے لیے آپ کے پیچھے ہیں، کسی کی بھی ماں بیٹی پر اس طرح حملہ ہوگا کوئی برداشت نہیں کرے گا، ہمارا معاشرہ اور دین خواتین سے اس طرح کی بدتمیزی کی اجازت نہیں دیتا،کل بھی ہمارے ساتھ جیل کے باہر اسی خاتون نے بدتمیزی کی کوشش کی جس نے انڈا پھینکا، جیل کے باہر کل ہمارے اوپر کسی نے پتھر بھی مارے، پہلے انڈا پھینکا، پھر بدتمیزی کی، کل پتھر مارے اب چھرا بھی مار سکتے ہیں۔

    علیمہ خان نے کہا کہ ہمارا کام بانی پی ٹی آئی کا پیغام پہنچانا ہے وہ ہم پہنچائیں گے، ہم پر حملہ ہوا ہماری ایف آئی آر پولیس درج نہیں کر رہی۔ ہمارے وکلاء جی ایچ کیو حملہ کیس کا ٹرائل اے ٹی سی منتقل کرنے کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کریں گے۔ قانون اور انصاف تو یہاں ہے نہیں، یہ بانی پی ٹی آئی کی آواز بند کرنا چاہتے ہیں۔

  • منعم ظفر جن سڑکوں کا افتتاح کرتے ہیں وہ بار بار ٹوٹ جاتی ہیں ،مرتضیٰ وہاب

    منعم ظفر جن سڑکوں کا افتتاح کرتے ہیں وہ بار بار ٹوٹ جاتی ہیں ،مرتضیٰ وہاب

    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شہر کے ٹریفک مسائل کے حل کے لیے ایک اور بڑے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے بھینس کالونی کو مہران ہائی وے سے ملانے والے پل کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔

    اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ عظیم پورہ انٹرسیکشن پر 682 میٹر طویل پل تعمیر کیا جائے گا تاکہ شہری شاہ فیصل کالونی کے ٹریفک میں پھنسے بغیر براہِ راست شاہراہ فیصل تک رسائی حاصل کرسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ شہریوں کے لیے 100 دنوں میں مکمل کرکے ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔میئر کراچی نے مزید کہا کہ مرغی خانہ کے مقام پر بھی ایک نیا پل تعمیر کیا جائے گا جو چھ ماہ میں مکمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت نیت اور فنڈز کا کوئی مسئلہ نہیں اور نہ ہی کوئی تنظیمی رکاوٹ حائل ہے، ہم عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کررہے ہیں۔

    پانی کی فراہمی سے متعلق بات کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ حب ڈیم سے کراچی کے لیے پانی کا کوٹہ 100 ایم جی ڈی سے بڑھا کر 200 ایم جی ڈی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حب ڈیم سے اضافی 100 ایم جی ڈی پانی کی فراہمی کے لیے درکار انفرا اسٹرکچر 31 دسمبر تک مکمل کردیا جائے گا جبکہ نئی حب کینال ساڑھے 9 ماہ میں تیار ہوگی۔میئر کراچی نے اس موقع پر حالیہ بارشوں میں حب کینال کو پہنچنے والے نقصان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 20 میٹر حصہ متاثر ہوا تو شور مچادیا گیا، لیکن دوسری جانب جب ملتان کی موٹروے بارشوں میں بہہ گئی تو وہاں اس طرح کے تبصرے سامنے نہیں آئے۔انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کی اندرونی گلیوں کی تعمیر و مرمت کے کام جاری ہیں، پرانی مارکیٹوں کو بھی بہتر بنایا جارہا ہے۔ مرتضیٰ وہاب نے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لیاقت آباد میں منعم ظفر جن سڑکوں کا افتتاح کرتے ہیں وہ بار بار ٹوٹ جاتی ہیں لیکن ان کی جانب سے اس پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاتا۔

  • شادی والے دن لاپتا ہونے والے نوجوان کا بیان سامنے آگیا

    شادی والے دن لاپتا ہونے والے نوجوان کا بیان سامنے آگیا

    کراچی کے علاقے کورنگی میں شادی والے دن لاپتا ہونے کے بعد چند روز بعد گھر واپس آنے والے نوجوان کا بیان پولیس کے سامنے آگیا ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق نوجوان نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے گھر سے نکلا تھا کیونکہ وہ اس رشتے پر راضی نہیں تھا جو اس کے والدین طے کر رہے تھے۔ پولیس کے مطابق نوجوان نے بتایا کہ شادی کے دباؤ اور ذہنی پریشانی کے باعث اس نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور کئی دن تک سڑکوں پر وقت گزارتا رہا۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ نوجوان کو کسی نے اغوا نہیں کیا تھا بلکہ وہ خود فرار ہوکر شہر کے مختلف علاقوں میں رہا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نوجوان اور اس کے اہلخانہ سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ معاملے کی تمام پہلوؤں سے جانچ کی جا سکے۔

    یاد رہے کہ 11 ستمبر کو شادی والے دن نوجوان دلہا تیار ہونے کے لیے سیلون گیا تھا لیکن کچھ دیر بعد اہلخانہ کو اطلاع ملی کہ وہ سیلون نہیں پہنچا۔ اس واقعے پر دلہا کے والد کی مدعیت میں تھانہ زمان ٹاؤن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں اغوا کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اب صورتحال واضح ہوگئی ہے کہ نوجوان نے اپنی مرضی سے شادی سے انکار کرتے ہوئے گھر چھوڑا تھا، تاہم قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد مقدمے میں مزید پیش رفت سامنے آئے گی۔

  • سی ویو کے قریب گاڑی سے ملنے والی مرد اور خاتون کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل

    سی ویو کے قریب گاڑی سے ملنے والی مرد اور خاتون کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل

    کراچی میں سی ویو کے قریب اپارٹمنٹ کی پارکنگ میں مرد اور خاتون کی لاشیں ملنے کے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے، جس کی ابتدائی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ موت گاڑی کے اندر گیس بھر جانے سے واقع ہوئی۔

    ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق گاڑی کے اندر آکسیجن کی کمی اور گیس جمع ہونے کے باعث دم گھٹنے سے دونوں افراد کی جان گئی، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ حتمی وجوہات پوسٹ مارٹم کی تفصیلی رپورٹ آنے پر واضح ہوں گی۔ اس ضمن میں فرانزک اور کیمیکل ٹیسٹ بھی کیے جارہے ہیں۔پولیس حکام نے بتایا کہ واقعے کا مقدمہ فی الحال درج نہیں کیا گیا، تاہم متاثرہ خاندان سے رابطہ کیا گیا ہے اور ان کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر واقعہ حادثاتی لگتا ہے لیکن تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات جاری ہیں۔

    لاشوں میں سے مرد کی شناخت شہباز ملک کے نام سے ہوئی ہے جو ایک ریٹائرڈ سرکاری افسر تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کی شناخت کے لیے ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے اور ان کے لواحقین کو تلاش کیا جا رہا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے گاڑی کو تحویل میں لے لیا گیا ہے اور اس کا تکنیکی معائنہ بھی کرایا جائے گا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ گیس کس وجہ سے جمع ہوئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ طے ہوگا کہ یہ حادثہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور پہلو موجود ہے۔