Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ،انڈیکس ایک لاکھ 35 ہزار سے بھی اوپر

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ،انڈیکس ایک لاکھ 35 ہزار سے بھی اوپر

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کے 100 انڈیکس نے ایک بار پھر ریکارڈ توڑتے ہوئے ایک لاکھ 35 ہزار 313 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح عبور کر لی ہے۔ نئے کاروباری ہفتے کے آغاز پر اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی جس کے باعث 100 انڈیکس میں ایک ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔

    ہفتے کے پہلے دن 100 انڈیکس میں 1013 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے مارکیٹ کا اعتماد واضح طور پر بڑھا ہوا نظر آیا۔ اس تیزی کے باعث سرمایہ کاروں میں جوش و خروش پایا گیا اور کاروباری سرگرمیاں تیز ہوگئیں۔یاد رہے کہ گزشتہ کاروباری ہفتے میں بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی کا رجحان رہا۔ پورے ہفتے کے دوران 100 انڈیکس میں 2350 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، اور ہفتے کے اختتام پر انڈیکس 134,299 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔ گزشتہ ہفتے انڈیکس نے مجموعی طور پر 2605 پوائنٹس کے بینڈ میں اپنی حرکت دیکھی گئی۔

    اس مارکیٹ کی مضبوط کارکردگی کو ملکی معیشت کے بہتر ہونے، سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان اور بین الاقوامی سطح پر مالیاتی حالات کے سازگار ہونے سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کی یہ مثبت صورتحال سرمایہ کاروں کے اعتماد کی علامت ہے اور مستقبل میں بھی مارکیٹ کی کارکردگی میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • متنازع پیکا ایکٹ،انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے چیف جسٹس کو لکھا خط

    متنازع پیکا ایکٹ،انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے چیف جسٹس کو لکھا خط

    متنازع پیکا ایکٹ اور صحافیوں کے مسائل پر انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے) نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا۔

    انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی جانب سے لکھے گئے خط کی کاپی وزیر اعظم، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اور صدر پی ایف یو جے کو بھی بھیجی گئی ہے،آئی ایف جے نے پیکا ایکٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں بڑھتے خطرات کا سامنا ہے، صحافیوں کو پیکا قانون کے تحت مقدمات، ہراسانی اور دھمکیوں کا سامنا ہے،پاکستان نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن اور اقوام متحدہ کے کنونشنز پر دستخط کر رکھے ہیں، پیکا کے تحت آزادی اظہار اور بنیادی حقوق محدود ہو رہے ہیں، پریس فریڈم رپورٹ کے مطابق 34 خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں،صحافیوں پر حملے، ہراسانی اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیزی اور تشدد کے کئی کیسز رپورٹ ہوئے، پاکستان میں صحافیوں کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا سامنا ہے، پاکستان میں صحافیوں کو غیرقانونی برطرفیوں اور سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔

    آئی ایف جے نے کہا کہ سپریم کورٹ کو براہ راست اپیلوں کی اجازت دینا ہائی کورٹس کو بائی پاس کرنے کے مترادف ہے، آئی ایف جے نے پاکستان میں دو مشن بھیجے، جنہوں نے میڈیا ورکرز سے براہ راست ملاقاتیں کیں، سپریم کورٹ پیکا قانون کا ازسرنو جائزہ لے اور حکومت کو قانون میں ترامیم کی ہدایت دے، آرٹیکل 19 کے تحت آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے فوری اقدام کیا جائے، پاکستان میں ایک سال کے دوران 7 صحافی قتل کیے گئے، چیف جسٹس سے اپیل ہے پیکا قانون کا فوری ازسرنو جائزہ لیا جائے۔

  • پاکستانی تین نوجوان بھارتی لڑکیوں کے ہنی ٹریپ میں پھنس کر تھائی لینڈ سے اغوا

    پاکستانی تین نوجوان بھارتی لڑکیوں کے ہنی ٹریپ میں پھنس کر تھائی لینڈ سے اغوا

    ساہیوال: ساہیوال کے تین نوجوانوں کو بھارتی لڑکیوں کے ذریعے ہنی ٹریپ کرکے تھائی لینڈ میں اغوا کر لیا گیا ہے۔ متاثرہ نوجوان عثمان امین، محمد احمد اور تجمل شہزاد اپنے فیصل آباد کے ایک دوست کے ساتھ 26 مئی 2025 کو تھائی لینڈ پہنچے تھے، جہاں سے انہیں اغوا کر کے میانمار منتقل کیا گیا۔

    تینوں نوجوان بھارتی لڑکیوں کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے میں تھے جنہوں نے ان کا اعتماد جیت کر انہیں ہنی ٹریپ کیا۔ متاثرہ نوجوانوں کے والدین کا کہنا ہے کہ اسی بھارتی لڑکی نے تھائی لینڈ کے لیے ان نوجوانوں کے ٹکٹ بھیجے تھے، اور لاہور ایئرپورٹ پر نامعلوم افراد نے انہیں رخصت کیا تھا۔نوجوانوں کے والدین نے بتایا کہ میانمار سے اغواکاروں نے ان کی رہائی کے بدلے ایک کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا ہے۔ والدین نے حکام سے فوری کارروائی اور اپنے بچوں کو بازیاب کرانے کی اپیل کی ہے۔

    یہ واقعہ ایک بار پھر ہنی ٹریپنگ اور انسانی اسمگلنگ کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے، جس میں نوجوانوں کو فریب دے کر غیر ممالک میں لے جایا جاتا ہے اور پھر ان سے تاوان طلب کیا جاتا ہے۔ حکام کی جانب سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور نوجوانوں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

  • خیبرپختونخوا کی سیاست میں بڑی تبدیلی کی بازگشت،اہم مشاورت حتمی مرحلے میں

    خیبرپختونخوا کی سیاست میں بڑی تبدیلی کی بازگشت،اہم مشاورت حتمی مرحلے میں

    پشاور: خیبرپختونخوا کی سیاسی فضا میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے، جہاں صوبے کی اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اہم مشاورت حتمی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس حوالے سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزیر امیر مقام، وزیراعظم کے مشیر پرویز خٹک اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان غیر رسمی ملاقات ہوئی، جس میں صوبائی سیاسی صورتحال، ضم شدہ اضلاع کے مسائل اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق یہ غیر رسمی ملاقات پرویز خٹک کی رہائش گاہ پر ان کی ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت کے لیے ہوئی، مگر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی قیادت نے صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں اپوزیشن جماعتوں نے آئندہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور ایک متحدہ لائحہ عمل کے تحت انتخابات لڑنے پر اصولی اتفاق رائے قائم کیا ہے۔اسی دوران ضم شدہ قبائلی اضلاع میں جاری بدامنی اور عوامی تشویش پر بھی غور کیا گیا اور وزیراعظم کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی کے کردار اور کارکردگی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ اس ضمن میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اپوزیشن ان اضلاع کے مسائل کو سیاسی ایجنڈے میں اہم مقام دے رہی ہے تاکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ موقف اپنایا جا سکے۔

    دوسری جانب گورنر فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر امیر مقام کے درمیان بھی گورنر ہاؤس پشاور میں ایک علیحدہ ملاقات ہوئی جس میں صوبے کی آئندہ سیاسی حکمت عملی پر غور و خوض کیا گیا۔ اس ملاقات کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ گورنر ہاؤس میں اپوزیشن اراکین اسمبلی کی ایک بڑی بیٹھک جلد بلائی جائے گی، جس میں صوبے کی سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں اپوزیشن جماعتوں کی سرگرمیوں میں تیزی اور مشترکہ حکمت عملی کی طرف پیش رفت، صوبے کی سیاسی صورتحال میں ممکنہ بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ خاص طور پر سینیٹ انتخابات اس نئی سیاسی صف بندی کا پہلا بڑا امتحان ثابت ہو سکتے ہیں، جس کا اثر نہ صرف صوبے بلکہ ملک کی سیاسی سیاست پر بھی پڑے گا۔

  • علی امین گنڈا پور کا چیلنج ،مولانا فضل الرحمان کے بھائی نے کھری کھری سنا دیں

    علی امین گنڈا پور کا چیلنج ،مولانا فضل الرحمان کے بھائی نے کھری کھری سنا دیں

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بھائی نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا الیکشن لڑنے کا چیلنج قبول کرلیا۔

    مولانا فضل الرحمان کے چھوٹے بھائی انجینئر ضیا الرحمان نے جاری ویڈیو بیان میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا الیکشن لڑنےکا چیلنج قبول کرتے ہوئے کہا ہے علی امین گنڈاپور تمہارا چیلنج قبول ہے، تمہاری اوقات نہیں کہ مولانا فضل الرحمان تمہارا چیلنج قبول کرے،پہلے تم مفتی محمود کے اس بیٹے سے مقابلہ کرکے دکھاؤ۔مولانا فضل الرحمان نے تو تمہارے لیڈر کو اقتدار کی کرسی سے گھسیٹ کر نکالا تھا، تم اپنے بھائی سے استعفیٰ دلوا کر ان کا مجھ سے مقابلہ کراؤ،میں نے ڈی آئی خان کے چوک میں کھڑے ہوکر کہا تھا کہ اگر ان کا ڈی این اے کیاگیا تو یہ گنڈاپور نہیں نکلے گا۔ گنڈاپور بہادر اور غیرت مند لوگ ہیں،مگر یہ ان میں سے نہیں، علی امین گنڈاپور کے انداز گفتگو اور تکلیف سے انہیں معلوم ہوچکا ہے کہ ان کے چل چلاؤ کا زمانہ آچکا ہے۔

    واضح رہے کہ اتوار کو لاہور میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پختونخوا علی امین گنڈا پور نے مولانا فضل الرحمان کو کھلا چیلنج دیا تھا،علی امین گنڈاپور نے مولانا فضل الرحمان کو چیلنج دیتے ہوئے کہا تھا کہ ڈی آئی خان میں میرے بھائی کے خلاف الیکشن جیت کر دکھائیں، مولانا فضل الرحمان نے الیکشن جیت لیا تو میں استعفیٰ دے دونگا۔

  • دہلی،چھ روز سے لاپتہ طالبہ کی لاش دریاسے برآمد

    دہلی،چھ روز سے لاپتہ طالبہ کی لاش دریاسے برآمد

    نئی دہلی: دہلی یونیورسٹی کی 19 سالہ طالبہ سنیہا دیبناتھ جو چھ روز قبل لاپتہ ہوئی تھی، کی لاش یامنا دریا سے برآمد ہو گئی ہے۔ پولیس کے مطابق سنیہا دیبناتھ، جو تری پورہ کی رہائشی تھی، کی لاش کو اس کے اہل خانہ نے شناخت کر لیا ہے۔ لاش کو مزید تفتیش کے لیے پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

    سنیہا دیبناتھ چھ جولائی کو شمالی دہلی کے سِگنیچر برج کے قریب ایک کیب میں سوار ہوئی تھی، جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئی تھی۔ پولیس کے مطابق، اس نے ایک ہاتھ سے لکھا ہوا نوٹ چھوڑا تھا جس میں اس نے خودکشی کا اشارہ دیا تھا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ اس کا تعلیمی شعبے سے کوئی مسئلہ نہیں تھا بلکہ اس کی ذہنی اذیت کا سبب خاندانی مسائل تھے۔تحقیقات کے دوران پولیس نے تکنیکی نگرانی کی مدد سے سنیہا کی حرکتوں کا سراغ لگایا اور اس کی آخری معلوم جگہ سِگنیچر برج کو قرار دیا۔ لاش شمالی دہلی کے ماجنوں کا تِلا کے قریب گیتا کالونی میں ایک فلائی اوور کے نیچے واقع یامنا دریا سے ملی، جو سِگنیچر برج سے تقریباً 10 کلومیٹر نیچے ہے۔

    پولیس کے مطابق، کیب ڈرائیور نے بیان دیا کہ اس نے سنیہا کو سِگنیچر برج پر اتارا تھا۔ کچھ عینی شاہدین نے بھی بتایا کہ انہوں نے ایک لڑکی کو پل پر کھڑا دیکھا تھا جو کچھ دیر بعد وہاں سے غائب ہو گئی تھی۔لاش کی تلاش کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس اور پولیس کی مختلف ٹیموں نے شمالی دہلی کے نگم بودھ گھاٹ سے لے کر نویدا تک کے علاقوں کی چھان بین کی۔پولیس نے بتایا کہ سنیہا نے سات جولائی کی صبح کے وقت اپنے قریبی دوستوں کو ای میلز اور پیغامات بھیجے تھے۔ اس کے دوستوں نے بتایا کہ وہ پچھلے چند مہینوں سے ذہنی دباؤ اور پریشانی میں مبتلا تھی۔سنیہا کے اہل خانہ اور کچھ دوستوں نے سِگنیچر برج کے سی سی ٹی وی کیمرے کی نگرانی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ جب سنیہا لاپتہ ہوئی تو وہاں نصب تمام کیمرے کام نہیں کر رہے تھے۔پولیس اس کیس کی مزید تحقیقات کر رہی ہے تاکہ سنیہا کی موت کے پیچھے چھپے حقائق سامنے آ سکیں۔

  • پشاور پولیس نے نامناسب ویڈیوز بنانے والے ٹک ٹاکر کو دوبارہ گرفتار کر لیا

    پشاور پولیس نے نامناسب ویڈیوز بنانے والے ٹک ٹاکر کو دوبارہ گرفتار کر لیا

    پشاور: پشاور پولیس نے اندرون شہر تحصیل پارک گور کھڑی علاقے سے نامناسب ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والے معروف ٹک ٹاکر ‘ماصل’ کو ایک بار پھر گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم پر مختلف دفعہ منشیات کے استعمال، لڑائی جھگڑے اور غیر اخلاقی ویڈیوز بنانے کے متعدد مقدمات پہلے سے درج ہیں اور وہ عادی مجرم کے طور پر ریکارڈ میں موجود ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق ماصل نے تحصیل پارک گور کھڑی میں متعدد بار ایسے نامناسب اور غیر اخلاقی ویڈیوز بنا کر انہیں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپلوڈ کیا تھا، جس سے عوام میں شدید تشویش اور ناپسندیدگی پائی گئی۔ عوامی حلقوں نے اس قسم کی حرکتوں کی سخت مذمت کی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ملزم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔پولیس نے مزید بتایا کہ ماصل کو تھری ایم پی او (مقامی قانون کے تحت) کے تحت جیل منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ وہ آئندہ ایسے جرائم سے باز رہے۔ پشاور پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھے گی جو معاشرتی اقدار اور اخلاقیات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

  • دو روز قبل 83 ویں سالگرہ منانے والے بھارتی اداکار چل بسے

    دو روز قبل 83 ویں سالگرہ منانے والے بھارتی اداکار چل بسے

    700 سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والے سینیئر اداکار اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سابق ایم ایل اے کوٹا سرینواسا راؤ 83 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق کوٹا سرینواسا راؤ کا انتقال اتوار کی صبح حیدرآباد دکن میں واقع رہائش گاہ پر ہوا، صرف 2 دن قبل ہی انہوں نے اپنی 83ویں سالگرہ منائی تھی،آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے اداکارکوٹا سرینواسا راؤ کافی عرصے سے بیمار تھے،سرینواسا راؤ نے 1978 میں اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ 4 دہائیوں پر مشتمل اپنے شاندار کیریئر کے دوران انہوں نے 750 سے زائد فلموں میں اداکاری کی، جن میں تیلگو، تامل، کنڑ اور ہندی فلمیں شامل تھیں۔

    وہ خصوصاً منفی کرداروں اور کیریکٹر رولز میں اپنی بہترین اداکاری کے لیے مشہور ہوئے۔کوٹا سرینواسا راؤ کو ان کی بھارتی سنیما کے لیے خدمات پر کئی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں 2015 میں ’پدما شری‘ ایوارڈ بھی شامل ہے،اداکاری کے علاوہ انہوں نے سیاست میں بھی قدم رکھا اور 1999 سے 2004 تک بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایم ایل اے کےطور پر خدمات انجام دیں،بھارتی فلم انڈسٹری لیجنڈری اداکار کے انتقال پر سوگوار ہے اور ان کے مداحوں اور ساتھی فنکاروں کی جانب سے خراجِ عقیدت کا سلسلہ جاری ہے۔

  • غزہ میں بمباری سے شہادتیں،پھر بھوک سے اموات، ایک المیہ ہے،حافظ خالد نیک

    غزہ میں بمباری سے شہادتیں،پھر بھوک سے اموات، ایک المیہ ہے،حافظ خالد نیک

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی مظالم ایک طرف تو وہیں بھوک سے فلسطینی مر رہے ہیں،اقوام متحدہ کی دل دہلا دینے والی رپورٹ سامنے آئی ہے،خوراک کے حصول کی کوشش میں 798 فلسطینیوں کا شہید ہونا ایک المیہ ہے،اسرائیلی مظالم کیخلاف امت کو ایک آواز ہونے کے ساتھ امدادی سامان پہنچانے کی بھی کوشش کرنی چاہئے

    حافظ خالد نیک کا کہنا تھا کہ غزہ میں مئی 2024 سے اب تک 798 فلسطینی صرف خوراک حاصل کرنے کی کوشش میں شہید ہو چکے ہیں،غزہ میں بچوں، خواتین اور بوڑھوں کو خوراک جیسی بنیادی انسانی ضرورت کی تلاش میں قتل کرنا اسرائیل کی ظالمانہ پالیسیوں کی انتہا ہے، یہ صرف جنگی جرم نہیں بلکہ منظم نسل کشی ہے، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے نام نہاد ادارے کہاں ہیں، کیا فلسطینی انسان ہیں ،انکے حقوق نہیں، غزہ کی موجودہ صورتحال پر او آئی سی کو آگے بڑھنا چاہئے، پاکستان کو بھی سفارتی محاذ پر متحرک کردار ادا کرنا ہوگا، پاکستانی عوام، خصوصاً نوجوان سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کریں،یہ صرف فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں، یہ انسانیت کا امتحان ہے۔

  • خیبر پختونخوا میں تبدیلی کی خواہش، مگر پی ٹی آئی اکثریت میں ہے، مولانا فضل الرحمان

    خیبر پختونخوا میں تبدیلی کی خواہش، مگر پی ٹی آئی اکثریت میں ہے، مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ہمارا صوبہ کسی سیاسی کشمکش کا متحمل نہیں ہوسکتا، صوبے سے متعلق پارٹی مشاورت سے فیصلہ کرے گی، میری تجویز ہوگی صوبے میں تبدیلی آئے۔

    پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تبدیلی آئے تو پی ٹی آئی کے اندر سے ہی آئے، سینیٹ سے متعلق کیا ایڈجسٹمنٹ ہوتی ہے ابھی تبصرہ نہیں کر سکتا،فاٹا انضمام غلط فیصلہ تھا جسے سب پارٹیوں کو تسلیم کرنا چاہیے، کل قبائل کا گرینڈ جرگہ دوبارہ بیٹھے گا، ان سے مشاورت کریں گے، ہم نے پہلے بھی فاٹا کے عمائدین کے مشورے سے فیصلے کرنا چاہے، انضمام مقصد نہیں تھا، بات قبائل کے سیاسی مستقبل کی تھی، انضمام کی تجویز آئی تھی ہم نے کہا نہیں، قبائل کو اختیار دو، فاٹا سے متعلق قبائلی مشران کی مشاورت ناگزیر ہےکمیٹی نے جے یو آئی ف سے نام مانگا ہے اور ہمیں فریق تسلیم کیا ہے، فاٹا کے لیے بنائی گئی کمیٹی میں کتنے پشتون ہیں اور کتنے صوبے سے ممبر ہیں؟ ہمارے صوبہ کا پیسا صرف اس لیے ہے کہ مراعات لی جائیں، 8 سال ہوگئے ہیں فاٹا میں ایک پٹواری نہیں جا سکتا ہے،2006 اور 2007 میں خیبرپختونخوا میں امن و امان تھا اور اس وقت صوبے میں ہماری حکومت تھی

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کے پی اور بلوچستان میں جس بچے پر ظلم ہوتا ہے، میں ان کو اپنا بچہ سمجھتا ہوں، جمعیت علما اسلام سے بڑھ کر کس نے ملین مارچ کیے؟ عوام کا مورال بلند کرنے کے لیے پشاور میں ملین مارچ کیا، سیاستدان جیل جاتا ہے، لیکن تحریک صرف رہائی کے لیے نہیں ہوتی، تحریکیں عظیم مقاصد کے لیے ہوتی ہیں،کوئی سیاستدان جیل میں نہیں ہونا چاہیے ،پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان دشمنی تو نہیں ہے،اسمبلیاں بکی ہوئی ہیں،بکاؤ حکومت کا حصہ نہیں بن سکتا،اگر وفاقی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہوتا تو حکومت کا حصہ ہوتا،کسی کےسامنے جھک کر اقتدار نہیں مانگو ں گا،