Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اپووا کا اعلیٰ سطحی اجلاس، نویں سالانہ تربیتی ورکشاپ نومبر میں منعقد کرنے کا فیصلہ

    اپووا کا اعلیٰ سطحی اجلاس، نویں سالانہ تربیتی ورکشاپ نومبر میں منعقد کرنے کا فیصلہ

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کا ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا، جس کی صدارت بانی و صدر ایم ایم علی نے کی۔

    اجلاس میں تنظیم کے سینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان سمیت دیگر مرکزی و فعال عہدیداران، ممبران اور نمائندہ شخصیات نے شرکت کی۔اجلاس کا مقصد تنظیم کی آئندہ سرگرمیوں پر غور و خوض، گذشتہ کارکردگی کا جائزہ اور آئندہ منصوبہ بندی تھا۔ شرکاء نے متفقہ طور پر اس بات کا اعادہ کیا کہ اپووا کی تعلیمی و ادبی خدمات کو مزید وسعت دی جائے گی، اور اس ضمن میں سالانہ تربیتی ورکشاپ کو مسلسل نویں سال بھی بھرپور انداز میں منعقد کیا جائے گا۔اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نویں سالانہ تربیتی ورکشاپ نومبر کے دوسرے ہفتے میں منعقد کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ورکشاپ کا بنیادی مقصد نوجوان لکھاریوں، محققین، اساتذہ اور ادبی ذوق رکھنے والے افراد کی تربیت اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنا ہے۔

    اجلاس میں شامل دیگر اہم شرکاء میں حافظ محمد زاہد، سفیان فاروقی، اسلم سیال، محمد بلال، ممتاز اعوان، طارق نوید، ایمن سعید، لاریب اقراء، مدیحہ کنول، اور عروج درانی شامل تھے، جنہوں نے اپنی قیمتی آراء اور تجاویز سے اجلاس کو مؤثر بنانے میں کردار ادا کیا۔شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ورکشاپ میں نہ صرف ملک بھر سے ابھرتے ہوئے لکھاریوں کو موقع دیا جائے بلکہ معروف ادبی شخصیات کو بھی مدعو کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو سیکھنے کا بہتر ماحول فراہم ہو۔اجلاس کے اختتام پر بتایا گیا کہ ورکشاپ کی حتمی تاریخ اور دن کا باقاعدہ اعلان جلد کر دیا جائے گا۔ صدر اپووا ایم ایم علی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اللہ کے فضل سے اس بار بھی ورکشاپ اپنے معیار، اثر اور کامیابی کے حوالے سے ایک یادگار علمی و ادبی سرگرمی ثابت ہو گی۔

  • پنجاب کے 27 اضلاع، 64 تحصیل میں 3775 دیہات سیلاب سے متاثر

    پنجاب کے 27 اضلاع، 64 تحصیل میں 3775 دیہات سیلاب سے متاثر

    پنجاب حکومت نے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں ڈسٹرکٹ اور تحصیل کی سطح پر فلڈ ریلیف کمیٹیاں اور سیلاب متاثرین کیلئے سروے فارم، موبائل ایپ اور مانیٹرنگ ڈیش بورڈ قائم کرنے پر بریفنگ دی گئی،اجلاس میں صوبے بھر میں سیلاب متاثرین کی بحالی کا آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا جب کہ سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے آسان ترین طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت بھی کی گئی،اس موقع پر ریونیو ڈپارٹمنٹ نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب کے 27 اضلاع، 64 تحصیل میں 3775 دیہات سیلاب سے متاثر ہوئے، سیلاب سے 63 ہزار 200 پکے اور 3 لاکھ 9 ہزار 684کچے مکانا ت متاثر ہوئے، سیلاب متاثرین کے سروے کیلئے ٹیم میں اربن یونٹ، ریونیو، زراعت اور آرمی کے نمائندے شامل ہوں گے۔

    مریم نواز نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں سڑکوں، پلوں اورانفرا اسٹرکچر کی فوری بحالی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سیلاب متاثرین کی بھر پورامداد کیلئے یکسو ہے، حکومت کو سیلاب متاثرین تک خود پہنچنا چاہی، سیلاب متاثرین کو امداد کی ترسیل کیلئے زیادہ کیمپ اورپوائنٹس قائم کیے جائیں، ہر فرد کے نقصان کا ازالہ کریں گے تاکہ کوئی ریلیف سے محروم نہ رہے.

  • سیلاب زدہ علاقوں سے پانی نکلنا شروع ہو گیا ہے،ڈی جی پی ڈی ایم اے

    سیلاب زدہ علاقوں سے پانی نکلنا شروع ہو گیا ہے،ڈی جی پی ڈی ایم اے

    لاہور: ڈائریکٹر جنرل پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) عرفان علی کاٹھیا نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں مون سون کا سیزن باضابطہ طور پر ختم ہو گیا ہے اور آئندہ ہفتے بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ مون سون کے اختتام کے بعد سیلاب زدہ علاقوں میں پانی اترنا شروع ہو گیا ہے، کئی اضلاع میں پانی کی سطح کم ہونے کے باعث کشتیاں بھی آپریشنل نہیں رہیں۔ ان کے مطابق مرالہ سے لے کر پنجند تک دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے اور کہیں بھی بند توڑنے کی نوبت نہیں آئی۔عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ سیلابی صورتحال کے دوران تمام اداروں نے مل کر کام کیا، جس کے نتیجے میں بڑے انسانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔ ان کے مطابق پنجاب کے 28 اضلاع میں مجموعی طور پر 4 ہزار 755 دیہات متاثر ہوئے، جن میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقے علی پور، ملتان اور جلال پور رہے۔

    انہوں نے کہا کہ 24 لاکھ 82 ہزار ایکڑ زرعی رقبہ زیرِ آب آیا، جس میں چاول کی فصل کو 15 فیصد اور گنے کی فصل کو 22 فیصد نقصان پہنچا۔ تاہم محکمہ زراعت کی مدد سے مویشیوں کو چارہ فراہم کیا گیا اور لائیو اسٹاک کو بڑی حد تک بچایا گیا۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے مزید بتایا کہ متاثرہ افراد کے علاج کے لیے 425 میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے، جہاں طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ تاہم گزشتہ روز سانپ کے کاٹنے سے ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔انہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ رواں سیلابی صورتحال کے دوران مجموعی طور پر 123 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ ہزاروں افراد کو بروقت ریسکیو آپریشن کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

  • خوارج کی جانب سے مسجدوں کو فتنہ انگیزی کے لیے استعمال کرنے کا ہولناک انکشاف

    خوارج کی جانب سے مسجدوں کو فتنہ انگیزی کے لیے استعمال کرنے کا ہولناک انکشاف

    خوارج کی جانب سے مسجدوں کو فتنہ انگیزی کے لیے استعمال کرنے کا ہولناک انکشاف سامنے آیا ہے

    شمالی وزیرستان کے زنگوٹی گاؤں میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن کے دوران ہتھیار ڈالنے والے خوارجی عبد الصمد کا انکشافی بیان سامنے آیا ہے، خوارجی عبدالصمد کا کہنا ہے کہ سال 2020 سے طالبان کے ساتھ منسلک ہوں،خوارج مساجد کو فساد کے لیے استعمال کرتے ہیں،خوارج مسجدوں میں لوگوں کو فوج کے خلاف اکساتے، اور مائنز استعمال کرنے کی ہدایات دیتے ہیں ،خوارج کی جانب سے مساجد میں بدکاری کی جاتی تھی جس کو دیکھ کر میرا دل دہل گیا تھا،خوارج مسجد کی حرمت پامال کرتے، وہاں ویڈیوز چلاتے اور ناچ گانا کیا کرتے تھے، مسجدوں میں آئی ای ڈیز بھی تیار کرتے تھے جن کو بعد میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف استعمال کرتے، افغانستان سے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوا،پاکستان میں داخل ہونے کے بعد زنگوٹی حرسین کی ایک مسجد میں کمانڈر اسد کے گروپ سے ملا، اسد ملا نے گروپ کے لیے بچوں کو اپنے ساتھ رکھا اور انہیں غلط کاموں کے لیے استعمال کیا،مسجد میں بم بنانے کے دوران گندی اور فحش ویڈیوز چلتی رہتی تھی، اور گانوں کا اہتمام بھی ہوتا تھا، امیر لوگوں سے زبردستی بھتہ وصول کرتے اور انہی پیسوں سے افغانستان سے ہتھیار خریدتے،خوارج مساجد کی بے حرمتی، بھتہ خوری اور قتل کرتے ہیں، یہ اسلام نہیں،فوج سے جب ملا تو دل خوش ہو گیا، اب اگر میں واپس بھی لوٹا تو ان کے پاس نہیں جاؤں گا، اپنے بچوں کو ان عناصر سے دور رکھیں اور فوج کے ساتھ تعاون کریں،

  • چونڈہ کا میدان، بھارتی ٹینکوں کا قبرستان

    چونڈہ کا میدان، بھارتی ٹینکوں کا قبرستان

    چونڈہ کا میدان، بھارتی ٹینکوں کا قبرستان

    جنگ عظیم دوئم کے بعد چونڈہ کی جنگ ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی مانی جاتی ہے،تقریباً چھے سو سے زائد بھارتی ٹینک اور 2 ہزار سے زائد پیدل سپاہ نے چونڈہ پر قبضے کے ناکام ارادہ سے حملہ کیا،پاکستانی آرٹلری نے ہیبت ناک بمباری سے دشمن کی صفوں کو تہس نہس کر ڈالا،پاکستانی ٹینک یونٹ کے بے باک ایڈوانس، آرٹلری کی تباہ کن بمباری اور پاکستانی انفنٹری کی ثابت قدمی کے آگے تین بھارتی ڈویژن بے بس ہو گئے،بھارتی فوج سینکڑوں لاشیں چھوڑ کر دم دبا کر بھاگ نکلی،تقریباً 8 سو کے قریب بھارتی فوجی جہنم واصل جبکہ ایک ہزار سے زائد قیدی بنا لئے گئے،بھارتی فرست آرمرڈ ڈویژن 180 ٹینکوں کو تباہ کروا کر بھی پاکستانی سپاہیوں کے آہنی عزم کو توڑ نہ سکا،عبرتناک شکست کے بعد بھارتی آرمرڈ ڈویژن بارڈر کی طرف پسپا ہو کر لوٹ گیا

  • مودی کی جمہوریت کے نام پر الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے دھوکہ دہی بے نقاب

    مودی کی جمہوریت کے نام پر الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے دھوکہ دہی بے نقاب

    مودی کی جمہوریت کے نام پر الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے دھوکہ دہی بے نقاب ہو گئی.

    بھارتی الیکشن کمیشن فرائض کے برعکس ہندوتوا نظریے کا آلہ کار ہے،مودی کی شرمناک حکومت اور جانبدار الیکشن کمیشن عوامی مینڈیٹ کےقاتل بن چکے ہیں، بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ” راہول گاندھی نے بھارتی الیکشن کمشنر پر جمہوریت کو قتل کرنےوالوں کی حفاظت کا الزام لگا دیا” اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کہا کہ "الیکشن کمیشن ووٹ چوروں کو بچا رہا ہے جو جمہوریت کا قتل کر رہے ہیں،ووٹرز کے نام جان بوجھ کر حذف یا شامل کیے گئے تاکہ بی جے پی کو ریاستی انتخابات میں جتوایا جا سکے،ہمارے الزامات سو فیصد ثبوت کے ساتھ ہیں، مگر الیکشن کمیشن نے کوئی کارروائی نہیں کی، کرناٹک کے الانڈ حلقے میں6ہزار سے زائد ووٹرز کے نام حذف کیے گئے جو کانگریس کے مضبوط علاقے تھے،یہ نام زیادہ تر اقلیتی اور پسماندہ طبقات کے لوگوں کے تھے جو کانگریس کے حامی تھے، کرائم ڈیپارٹمنٹ نے 18 ماہ میں18خطوط الیکشن کمیشن کو لکھے مگر کوئی جواب نہیں ملا، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ایک ہفتے کے اندر تفصیلات جاری کریں،مہاراشٹر کے راجورہ حلقے میں 6,850 جعلی نام ووٹر لسٹ میں شامل کیے گئے،

    بی بی سی کے مطابق کمیشن نے مہاراشٹرا کے راجورہ حلقے کے الزامات پر کوئی جواب نہیں دیا،سابق چیف الیکشن کمشنرز نے کہا انتخابی عمل کی ساکھ پر شکوک و شبہات دور کرنا کمیشن کی ذمہ داری ہے ،

    بی جے پی حکومت اور الیکشن کمیشن کی گٹھ جوڑ نے بھارتی جمہوریت کو دفن کر دیا،مودی کے سفاک راج میں انتخابی دھاندلی عوامی رائے کو دبانے اور آمریت مسلط کرنے کا کھلا ثبوت ہے.

  • سکھ برادری کا  کینیڈا میں احتجاج ،بھارت کے خفیہ نیٹ ورکس کا عالمی سطح پر پردہ چاک

    سکھ برادری کا کینیڈا میں احتجاج ،بھارت کے خفیہ نیٹ ورکس کا عالمی سطح پر پردہ چاک

    سکھ برادری کا کینیڈا میں احتجاج ،بھارت کے خفیہ نیٹ ورکس کا عالمی سطح پر پردہ چاک

    ہندوتوا نظریہ کے تحت مودی کی سفاکی قتل و غارت سے خالصتان جدوجہد دبانے کی کوشش میں مصروف عمل ہے،خالصتان تحریک کے رہنماؤں کے مطابق ’’ بھارت میں سکھ رہنماؤں کے قتل کی عالمی سطح پر سازشیں کی جا رہی ہیں‘‘کینیڈین سرزمین پر بھارتی جاسوسی اور دھونس کی جواب دہی کے لیے سکھ برادری کا احتجاج جاری ہے،سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ کے مطابق ’’خالصتان تنظیم سِکھز فار جسٹس کا وینکورمیں بھارتی قونصلیٹ کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا ہے ‘‘،سکھز فار جسٹس کا کہنا ہے کہ بھارت خالصتان تحریک کو دہشتگرد کہتا ہے جبکہ اصل دہشتگرد نئی دہلی اور بھارتی مشنز میں بیٹھے ہیں،

    بھارتی قونصلیٹ کے باہر تاریخی احتجاج کرنے کے لیے سِکھز فار جسٹس نے میڈیا ایڈوائزری بھی جاری کر دی،میڈیا ایڈوائزری میں کہا گیا کہ خالصتان کے حامی بھارتی قونصلیٹ کے باہر تاریخی ’’احتجاج ‘‘ کریں گے ، میڈیا ایڈوائزری کے مطابق 18 ستمبر 2023 کو کینیڈین وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے اعلان کیا تھا کہ ” ہردیپ سنگھ نجرکے قتل میں بھارتی ایجنٹوں کے کردار کی تحقیقات کی جا رہی ہیں”میڈیا ایڈوائزری کے مطابق بھارتی قونصلیٹ آج بھی خفیہ جاسوس نیٹ ورکس اور نگرانی کے ذریعے خالصتان تحریک کے حامیوں کو نشانہ بنا رہا ہے،خطرے کی سنگینی پر کینیڈین پولیس نے ہردیب سنگھ نجر کے قتل کے گواہ اندرجیت سنگھ گوسل کو تحفظ کی پیشکش بھی کی،

    سکھ برادری نے اعلان کیا ہے کہ ہردیب سنگھ نجر کا خون سکھ مزاحمت کا نعرہ بن چکا ہے، سکھوں کی عالمی جدوجہد انصاف ملنے تک نہیں رکے گی،

    1984ءسے آج تک بھارت نے سکھ برادری کو ظلم، فریب اور تشدد کے سوا کچھ نہیں دیا،بھارت نے سفارت خانوں کو خفیہ کمانڈ سینٹرز میں تبدیل کرکے بیرون ملک سکھوں کو نشانہ بنایا،کینیڈا میں ہردیب سنگھ نجر کا قتل بھارت کی سرحد پار دہشت گردی کو بے نقاب کرتا ہے،امریکہ اور برطانیہ میں سکھ رہنماؤں پر حملے بھارتی ریاستی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں،مودی کے ظلم و بربریت کیخلاف خالصتان تحریک اب عالمی تحریک کا روپ دھار چکی ہے

  • بھارت کاپاکستانی ٹیم کو نئے تنازع میں ملوث کرنے کی کوشش

    بھارت کاپاکستانی ٹیم کو نئے تنازع میں ملوث کرنے کی کوشش

    ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں ہینڈ شیک تنازع ختم ہونے کے 24 گھنٹے بعد بھارتی میڈیا اور آئی سی سی میں کام کرنے والے بھارتی افسران نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ایک اور تنازع میں ملوث کرنے کی کوشش کی ہے۔

    جیو ٹی وی کے مطابق آئی سی سی کی جانب سےمیچ ریفری کی معذرت کے دوران ویڈیو بنانے اور اسے میڈیا میں ریلیز کرنے پر اعتراض کیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق دبئی میں بدھ کو متحدہ عرب امارات کے خلاف ایشیا کپ کے میچ سے قبل جب آئی سی سی حکام، ٹیم انتظامیہ کی موجودگی میں میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ نے معذرت کی، اس وقت پاکستانی ٹیم کے میڈیا منیجر نعیم گیلانی نے ٹورنامنٹ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پلیئرز میچ آفیشلز ایریا میں فلم بندی کی۔

    آئی سی سی نے بدھ کو ہونے والے میچ سے قبل کھلاڑیوں اور میچ آفیشلز ایریا (پی ایم او اے) کے پروٹو کول کی’بدانتظامی‘ اور’متعدد خلاف ورزیوں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایک ای میل بھیجی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے سی ای او سنجوگ گپتا نے پی سی بی کو لکھا ہے کہ پاکستانی ٹیم انتظامیہ کے ایک رکن میچ کے دن پی ایم او اے کی بار بار خلاف ورزیوں کے قصوروار قرار پائے ہیں۔

  • بس بہت ہوگیا، اب ایک دوسرے کو ٹارگٹ کرنا بند کریں،بیرسٹر گوہر

    بس بہت ہوگیا، اب ایک دوسرے کو ٹارگٹ کرنا بند کریں،بیرسٹر گوہر

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کو کلاؤڈ برسٹ کی طرح سزائیں ہوئیں۔

    پشاور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی رہنماؤں عمر ایوب، شبلی فراز اور عبدالطیف کی نااہلی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی،دوران سماعت بیرسٹر گوہر نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ کلاؤڈ برسٹ کی طرح پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزائیں ہوئیں ، ہم نااہلی کے فیصلوں سے بہت متاثر ہوئے، بس بہت ہوگیا، اب ایک دوسرے کو ٹارگٹ کرنا بند کریں،بیرسٹر گوہر نے عدالت میں الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی استدعا بھی کی۔

    یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی جلاؤ گھیراؤ کیس میں عمر ایوب اور شبلی فراز سمیت کئی پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزائیں سنائی تھیں، الیکشن کمیشن نے عدالتی احکامات کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز عمر ایوب اور شبلی فراز سمیت کئی رہنماؤں کو نااہل قرار دے دیا تھا،

  • ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران سے پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے وفد کی ملاقات

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران سے پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے وفد کی ملاقات

    پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ اینڈ ڈیجیٹل میڈیا کے صدر ملک محمد سلمان کی قیادت میں سینئر صحافیوں، اینکرز،کالم نگاروں کے وفد نے ڈی آئی جی آپریشنزلاہور محمد فیصل کامران سے ملاقات کی، وفد میں روزنامہ سرزمین کے چیف ایڈیٹر صفدرعلی خان، روزنامہ طاقت کے ایڈیٹر محمد اویس رازی،مشرق میگزین کے ایڈیٹر ساجد خان، سنو ٹی وی کے اینکر طارق حفیظ بزمی،ٹی وی ٹوڈے کے اینکر عابد نصیر،سنو ٹی وی مارننگ شو کے میزبان عزیر ملک،کالم نگار نئی بات حافظ ذوہیب طیب،کالم نگار نوائے وقت حمزہ نوید چوہدری، نیو ٹی وی کی اینکر ردا جمشید،ایکسپریس ٹی وی کی اینکر سنیہ اسحاق، خبریں ڈیجیٹل کی اینکر خوشبو افضال، اینکر،سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سعدیہ مقصود، ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان شامل تھے.

    ڈی آئی جی آپریشنز آفس پہنچنے پر میڈیا وفد کا پرتپاک خیر مقدم کیا گیا،ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے میڈیا وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں جرائم کی شرح میں مسلسل کمی ہو رہی ہے،پولیس میں اصلاحات لا رہے ہیں، خدمت مرکزعوام کی خدمت کر رہے ہیں، تھانوں کو عوام اپنا گھر سمجھیں،تمام مقدمات میرٹ پر درج کیے جاتے ہیں،مقدمہ درج نہ ہونے پر ایس ایچ او کو معطل کر دیا جاتا ہے،عوام کے ذہنوں سےپولیس کا ڈر ختم کرنے کے لئے،پولیس کی جدید اصلاحات اجاگر کرنے کے لئے میڈیا پل کا کردار ادا کرے،صحافی پولیس پر تنقید کریں لیکن بلیک میلنگ والا دھندہ چھوڑیں،پولیس سرکار کی ملازم ہے،جوئے کے اڈے، قحبہ خانوں کے خلاف کاروائیاں جاری رہیں گی،جائز کام کے لئے کسی سفارش کی ضرورت نہیں،میرا دفتر عوام کےلئے کھلا ہے، میرے دفتر سمیت تمام تھانوں اور جمعہ میں مساجد کو کھلی کچہریوں کا سلسلہ شروع کیا ہے تا کہ عوام اور پولیس کے مابین روابط میں بہتری آ سکے،صحافی تجاویز دیں عمل کریں گے،جرائم پیشہ عناصر کے لئے لاہور میں اب کوئی جگہ نہیں،جرائم میں شرح کی کمی لاہور پولیس کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے،پولیس امن و امان کے قیام کے لئے قربانیاں دے رہی ہے،لاہور کو محفوظ ترین شہر بنا دیا،دنیا بھی لاہور پولیس کے اقدامات کو تسلیم کر رہی ہے.

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کا مزید کہنا تھا کہ لاہور پولیس شہر میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے اور ہر قسم کے دباؤ اور پریشر گروپس کو بالائے طاق رکھ کر میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنایا جا رہا ہے،لاہور پولیس نے گزشتہ ڈیڑھ سال میں جرائم کے خلاف مثالی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں نہ صرف جرائم کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی بلکہ منشیات کے خلاف تاریخی کارروائیاں بھی عمل میں لائی گئیں،لاہور پولیس کی کامیابیوں میں پنجاب حکومت اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی واضح پالیسیوں اور مکمل سرپرستی کا کلیدی کردار ہے،انہوں نے آئی جی پولیس پنجاب اور سی سی پی او لاہور کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا، جن کی براہِ راست نگرانی اور رہنمائی سے پولیس کو بہتر نتائج دینے میں مدد ملی۔

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے دوران بریفنگ سیف سٹی اتھارٹی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال کے پہلے 8 ماہ میں صرف 17,276 مقدمات رپورٹ ہوئے، جب کہ 2023 میں یہ تعداد 58,014 اور 2022 میں 34,684 تھی، دورانِ ڈکیتی قتل کی وارداتوں میں 65 فیصد کمی آئی ہے۔ رواں سال صرف 6 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ گزشتہ سال 17 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔دیگر جرائم میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، صرف جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہی نہیں بلکہ پولیس کے اندرونی نظام میں بھی احتساب کا عمل مزید سخت کیا گیا ہے۔ جو افسران یا اہلکار نااہلی یا غفلت کے مرتکب پائے گئے ان کے خلاف سخت کارروائیاں کی گئیں،لاہور پولیس ہر گزرتے دن کو پچھلے سے بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ جرائم میں مزید کمی لا کر "کرائم فری انڈیکس” میں مزید بہتری لائی جائے گی تاکہ لاہور کو حکومت پنجاب کے وژن کے مطابق "محفوظ اور پُرامن شہر” بنایا جا سکے،اس ضمن میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے، میڈیا پولیس کی کارکردگی کو عوام کے سامنے لائے اور ایک پل کا کردار ادا کرے.