Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ، مسلم ممالک کے خلاف جارحیت کی  منصوبہ بندی جاری

    بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ، مسلم ممالک کے خلاف جارحیت کی منصوبہ بندی جاری

    بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ، مسلم ممالک کے خلاف جارحیت کی منصوبہ بندی جاری ہے

    بھارت اسرائیل عسکری اتحاد کے ذریعے ریاستی دہشت گردی کے فروغ کے لیے سرگرم ہیں مبھارت دنیا کا ایک بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک ہونے کے باوجودآپریشن سندور میں ناکامی سے دوچار ہوا،جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار نے اسرائیل سے گٹھ جوڑ کر کے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے،یہود ہنود گٹھ جوڑ کے بعد اسلحے کی خریدو فروخت پاکستان سمیت مسلم ممالک کے خلاف گھناؤنی سازش ہے ،روس، فرانس ،امریکہ اوراسرائیل سے اربوں ڈالر کے ہتھیار خرید کر مودی سرکار نے خطے کو اسلحے کا مرکز بنا دیا،مختلف بھارتی اخبارات اور مودی سرکار کے بیانیے نے بھارت اور اسرائیل کو دہشتگردی سے متاثرہ ملک قرار دے دیا

    انڈیا ٹوڈے کے مطابق اسرائیل اور بھارت کو مسلم ممالک سے مشترکہ خطرہ ہے، اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے 2012 سے 2022 کے دوران 37 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ خریدا،بھارت، اسرائیلی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے، گزشتہ دہائی میں اسرائیلی فوجی سازوسامان اور دفاعی ٹیکنالوجی پر تقریباً 2.9 بلین ڈالر خرچ کیا،”میک ان انڈیا” منصوبے کے تحت بھارتی اوراسرائیلی کمپنیاں مشترکہ طور پر اسلحہ سازی کی ٹیکنالوجی بھی تیار کر رہی ہیں،بھارتی جریدے دکن ہیرالڈ کے مطابق؛”یہ ہتھیار نہ صرف غزہ میں اسرائیلی فوج استعمال کر رہی ہے بلکہ بھارتی فوج بھی ان کا استعمال مقبوضہ کشمیر میں کر رہی ہے”

    بھارتی ادارے آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کی تحقیقات کے مطابق؛ "اسرائیل نے 1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں کے دوران بھارت کو اسلحہ فراہم کیا”دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑا تجارتی معاہدہ بھی زیر غور ہے، ریاستی دہشتگردی کے لیے اسرائیل بھارت کو جدید میزائل، انٹیلیجنس اور نگرانی کے نظام فراہم کر رہا ہے،کشمیر سے غزہ تک، بھارتی و اسرائیلی افواج ایک جیسے ہتھیار اور جابرانہ حربے استعمال کر رہی ہیں،صہیونیت و ہندوتوا کا اسلاموفوبیا پر مبنی نظریہ مسلم دنیا کے لیے مشترکہ خطرہ بن چکا ہے ،اسرائیل و بھارت کی مسلم ممالک کے خلاف دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری کی خاموشی خطے کو جنگ میں دھکیل رہی ہے

  • لکی مروت میں دہشت گردوں کا تھانہ گمبیلا پر حملہ ناکام

    لکی مروت میں دہشت گردوں کا تھانہ گمبیلا پر حملہ ناکام

    خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت کے علاقے تھانہ گمبیلا پر دہشت گردوں کی جانب سے حملے کی کوشش کو پولیس نے کامیابی سے ناکام بنا دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق دہشت گردوں کی مشتبہ نقل و حرکت کو بروقت بھانپتے ہوئے سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کی اور فائرنگ کا آغاز کیا جس کے باعث دہشت گرد موقع سے فرار ہوگئے۔

    اس واقعے میں خوش قسمتی سے پولیس کی نفری مکمل طور پر محفوظ رہی اور کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ دہشت گردوں کے حملے کی ناکامی سے علاقہ مکینوں میں بھی امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔اِس موقع پر آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے لکی مروت پولیس کے جوانوں سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور ان کی بروقت کارروائی اور بہادری کو سراہتے ہوئے ان کو خراج تحسین پیش کیا۔ آئی جی کا کہنا تھا کہ پولیس نے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی ادا کیا اور دہشت گردوں کی سازش کو ناکام بنایا۔

    آر پی او بنوں ریجن سجاد خان نے بھی اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے پہلے سے ہی الرٹ ہے اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے جو ہر طرح کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی ادارے اپنی خدمات جاری رکھیں گے تاکہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

  • کراچی میں حمیرا کے گھر کا پتہ ہمیں معلوم نہیں تھا،چچاکا بیان

    کراچی میں حمیرا کے گھر کا پتہ ہمیں معلوم نہیں تھا،چچاکا بیان

    کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 میں مقامی فلیٹ سے معروف اداکارہ حمیرا اصغر کی مردہ حالت میں لاش برآمد ہوئی ہے۔ واقعے کے بعد ادکارہ کے قریبی رشتہ دار، خاص طور پر ان کے چچا محمد علی نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اہم اطلاعات فراہم کیں۔

    محمد علی کا کہنا تھا کہ انہیں کراچی میں حمیرا اصغر کے رہائشی پتے کا علم نہیں تھا اور ان کا رابطہ زیادہ تر فون کے ذریعے ہوتا تھا۔ "جب بھی وہ لاہور آتی تھی تو گھر ضرور آتی تھی، لیکن کراچی میں ان کے گھر کا پتہ ہمیں معلوم نہیں تھا”، انہوں نے کہا۔اداکارہ کے چچا نے بتایا کہ حمیرا اصغر شوبز انڈسٹری میں کام کرنے کی خواہش مند تھیں اور اس شعبے میں اپنی شناخت بنانا چاہتی تھیں۔ "وہ وہاں خوش تھیں لیکن ان کے والدین اس فیصلے سے خوش نہیں تھے، اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے روابط میں کمی آئی۔” محمد علی نے مزید کہا کہ جب ان کا فون بند ہوگیا تو کوئی بھی حمیرا سے رابطہ نہیں کر سکا۔

    محمد علی نے اپنی بہن کی وفات کا بھی ذکر کیا جو ان کے خاندان کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ تھا۔ "ہم اس غم میں مبتلا تھے ، حمیرا نے 2018 میں کراچی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ حمیرا تعلیم یافتہ تھیں، پینٹنگز بنانے کا شوق رکھتی تھیں اور اپنے فن میں خوش رہتی تھیں۔

  • سانحہ سوات،ضلعی انتظامیہ، محکمہ آبپاشی، بلدیات اور ریسکیو 1122ذمہ دار قرار

    سانحہ سوات،ضلعی انتظامیہ، محکمہ آبپاشی، بلدیات اور ریسکیو 1122ذمہ دار قرار

    صوبائی انسپکشن کمیٹی نے دریائے سوات میں 26 جون کو پیش آنے والے سیلابی ریلے کے باعث 13 افراد کے ڈوبنے کے واقعے کی جامع انکوائری مکمل کر کے 63 صفحات پر مشتمل رپورٹ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو پیش کر دی ہے۔

    رپورٹ میں ضلعی انتظامیہ، محکمہ آبپاشی، بلدیات اور ریسکیو 1122 کو اس حادثے کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے رپورٹ میں شامل کوتاہیوں کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے متعلقہ افراد کے خلاف سخت تادیبی کارروائیاں کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔رپورٹ کے مطابق مختلف محکموں بشمول محکمہ پولیس، ریونیو، ایریگیشن، ریسکیو، اور ٹورازم پولیس کے درمیان فیلڈ میں کوآرڈینیشن کا شدید فقدان رہا، جس کی وجہ سے امدادی کارروائیاں بروقت اور مؤثر طریقے سے انجام نہ دی جا سکیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ تمام متعلقہ محکمے 60 دن کے اندر اپنی تمام قانونی ذمہ داریاں پوری کریں اور کوتاہی برتنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔مزید برآں، رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ متعلقہ ادارے 30 دن کے اندر اپنی کوتاہیوں کو دور کریں تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

    وزیراعلیٰ نے چیف سیکرٹری کی قیادت میں ایک اورسائٹ کمیٹی بنانے کی منظوری دی ہے جو ماہانہ بنیادوں پر وزیراعلیٰ کو رپورٹ پیش کرے گی۔ یہ کمیٹی ریور سیفٹی ماڈیولز کی تشکیل، اگلے مون سون کے دوران ایمرجنسی پلان بنانے، اور ریسکیو 1122 کی استعداد بڑھانے کے لیے منصوبہ بندی کرے گی۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دریاؤں کے اطراف سیاحتی مقامات میں حفاظتی خطرات کی کوئی درجہ بندی نہیں کی گئی، جبکہ آبی گزرگاہوں پر غیر قانونی تعمیرات روکنے کے لیے اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ صوبہ بھر میں تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کے دوران 127 غیر قانونی عمارتوں کو سیل کیا گیا اور 682 کنال زمین پر تعمیرات کو مسمار کیا گیا۔رپورٹ میں آئندہ ایسے سیلابی حادثات سے نمٹنے کے لیے 36 نئے ریسکیو اسٹیشنز کے قیام، جدید ریسکیو آلات کی خریداری اور 70 کمپیکٹ ریسکیو اسٹیشنز قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے قیام کی منظوری بھی دی گئی ہے تاکہ بروقت خطرات کی نشاندہی اور مؤثر ردعمل ممکن ہو سکے۔

    یاد رہے کہ 26 جون کو دریائے سوات میں آنے والے سیلابی ریلے کے باعث 17 افراد بہہ گئے تھے، جن میں سے 4 کو بچالیا گیا جبکہ 12 کی لاشیں مل چکی ہیں اور ایک لاش اب تک نہیں ملی۔

  • حمیرا اصغر  کیس،میر پور کے حکیم پر نازیبا ویڈیو،مبینہ زیادتی کا الزام،حکیم کی تردید

    حمیرا اصغر کیس،میر پور کے حکیم پر نازیبا ویڈیو،مبینہ زیادتی کا الزام،حکیم کی تردید

    میرپورخاص ( باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ ) مشہور اداکارہ حمیرہ اصغر قتل کیس میرپورخاص کے معروف سماجی شخصیت حکیم سجاد پر الزامات، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل،جبکہ حکیم سجاد نے الزامات کو جھوٹا اور بلیک میلنگ قرار دے دیا

    تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک متنازعہ ویڈیو نے میرپورخاص میں ہلچل مچا دی، جس میں مشہوراداکارہ حمیرہ اصغر کے قتل کا الزام میرپورخاص سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر سارم سجاد اور ان کے خاندان پر عائد کیا گیا ہے۔ ویڈیو میں متعدد سنگین نوعیت کے الزامات عائد کئے گئے ہیں، جن میں نازیبا ویڈیوز، بدسلوکی، اور جنسی زیادتی جیسے دعوے شامل ہیں۔ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا کہ ٹک ٹاکر کی ایک مبینہ دوست ڈاکٹر سیدہ کائنات شاہ کی جانب سے آئی جی سندھ اور ایف آئی اے کو ایک تحریری درخواست دی گئی ہے، جس میں مذکورہ ڈاکٹر اور ان کے والد پر الزامات عائد کئے گئے ہیں۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر سارم سجاد مبینہ طور پر حمیرا اصغر کو میرپورخاص کے ایک فارم ہاؤس پر لے جاتے تھے جہاں اس کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بنائی جاتیں۔ویڈیو میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ڈاکٹر سارم سجاد کے والد نے بھی حمیرہ اصغر سے جنسی زیادتی کی۔ویڈیو میں مذکورہ خاندان کی ذاتی زندگی اور کردار پر بھی سخت تنقید کی گئی۔

    الزامات کا نشانہ بننے والے میرپورخاص کے معروف سماجی شخصیت حکیم سجاد (ڈاکٹر سارم سجاد کے والد) نے حیدرآباد روڈ پر واقع پریس کلب میں وکلا وشن داس کولھی اور یحییٰ آفریدی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان الزامات کو مکمل طور پر جھوٹا، من گھڑت اور بلیک میلنگ قرار دیا۔حکیم سجاد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مجھ پر اور میرے خاندان پر سوشل میڈیا پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے۔ مجھ سے دو سے تین کروڑ روپے بھتہ مانگا جا رہا تھا۔ اور اب یہ ویڈیو اسی بلیک میلنگ کی ایک شکل ہے۔ یہ تمام ویڈیوز فیک ہیں، ایڈیٹنگ کی گئی ہے، حتیٰ کہ ویڈیو میں موجود نمبر، آئی ڈی اور ایڈریس بھی جعلی ہیں۔حکیم سجاد نے مزید کہا کہ میری کسی بھی وقت کی موبائل فون لوکیشن، شناختی کارڈ کی تفصیلات اور سرکاری ریکارڈ سے تصدیق کی جا سکتی ہے۔ میں تو نہ کبھی حمیرہ اصغر سے ملا ہوں اور نہ ہی کبھی کوئی ذاتی تعلق رہا ہے۔ماہرین کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی فرد کی جعلی ویڈیو تیار کرنا ممکن ہوچکا ہے اور سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیوز میں اکثر اوقات بغیر کسی ثبوت کے لوگوں کو بدنام کیا جاتا ہے۔ اسی لئے حکام نے ویڈیوز کی فارنزک جانچ اور ڈیجیٹل ٹریسنگ کے ذریعے اصل حقائق تک پہنچنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔حکیم سجاد نے میرپورخاص انتظامیہ، ڈی آئی جی پولیس، اور وفاقی سائبر کرائم ونگ سے مطالبہ کیا کہ اس جعلی ویڈیو اور بلیک میلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔حکیم سجاد نے پریس کانفرنس میں واضح الفاظ میں کہا کہ میں اعلیٰ حکام سے اپیل کرتا ہوں کہ مجھ پر بار بار فیک آئی ڈیز کے ذریعے حملے کئے جا رہے ہیں۔ میرے خاندان کو بدنام کرکے پیسے بٹورنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس سازش کا سختی سے نوٹس لیا جائے۔تاحال اس معاملے میں کوئی سرکاری ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، تاہم پولیس اور ایف آئی اے ویڈیو کے مندرجات درخواست کی صداقت اور الزام عائد کرنے والے عناصر کی شناخت پر کام کر رہی ہے۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر عوامی رائے دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے، کچھ افراد ان الزامات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، جبکہ کچھ اسے واضح بلیک میلنگ قرار دے رہے ہیں۔

  • پیپلز پارٹی وفد کی مولانا سے ملاقات،سینیٹ انتخابات کیلئے کسی نے رابطہ نہیں کیا،جے یو آئی

    پیپلز پارٹی وفد کی مولانا سے ملاقات،سینیٹ انتخابات کیلئے کسی نے رابطہ نہیں کیا،جے یو آئی

    : جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) خیبر پختونخوا کے ترجمان مولانا عبدالجلیل جان نے واضح کیا ہے کہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے اب تک مولانا فضل الرحمان سے کسی سیاسی جماعت نے رابطہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی جماعت کی جانب سے رابطہ کیا گیا تو جے یو آئی کے دروازے کھلے ہیں اور ہر قسم کے سیاسی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

    مولانا عبدالجلیل جان نے مزید کہا کہ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کچھ رہنما ہمارے پاس آ رہے ہیں لیکن ابھی تک جے یو آئی کی مجلس عاملہ کی جانب سے پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کی منظوری نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پارٹی اپنی حکمت عملی اور اتحاد کے حوالے سے اپنا فیصلہ مجلس عاملہ میں کرے گی۔

    دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے وفد نے خورشید شاہ کی قیادت میں مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی ہے جس میں خیبر پختونخوا میں سینیٹ انتخابات کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ اس ملاقات میں صوبے میں سیاسی صورتحال اور الیکشن کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ملاقات کے بعد گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی جنرل اور خواتین کی نشستوں پر الیکشن لڑ رہی ہے اور ان کی کوشش ہے کہ اپوزیشن خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی پانچوں نشستیں جیتے۔ انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن کے پاس اگر ایک بھی ممبر اضافی ہوا تو تحریک عدم اعتماد لانے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں کے پی اور بلوچستان میں دہشتگردی کی موجودہ صورتحال پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے درمیان رابطے اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ سیاست میں اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں، اس لیے سیاسی رہنماؤں کے درمیان رابطہ بہت اہم ہے۔

    گورنر نے کہا کہ تحریک انصاف کے دو چیپٹر ہیں، ایک اسلام آباد اور دوسرا خیبر پختونخوا کا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی خراب صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس حوالے سے بھی سیاسی سطح پر بات چیت ضروری ہے۔

    اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ نے کہا کہ ان کا مولانا فضل الرحمان سے پرانا تعلق ہے اور وہ ان سے قریبی رابطے میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اسمبلی میں جتنے ارکان کے حامل ہے، اتنی ہی نشستوں پر پارٹی الیکشن لڑے گی۔

  • صدر آر آئی یو جے طارق ورک گرفتار،صحافی برادری میں تشویش کی لہر

    صدر آر آئی یو جے طارق ورک گرفتار،صحافی برادری میں تشویش کی لہر

    راولپنڈی تھانہ نیو ٹاؤن پولیس نے متعدد صحافیوں کو حراست میں لے لیا

    صحافی تھانہ نیوٹاون کی حراست میں لیے گئے صحافی نعیم منہاس کی رہائی کے لیے تھانے کے باہر احتجاج کررہے تھے ، حراست میں لیے گئے صحافیوں میں صدر آر آئی یو جے طارق علی ورک بھی شامل ہیں،صحافی برادری میں شدید تشویش کی لہر دوڑگئی،

    تھانہ نیو ٹاؤن کا سینئر صحافی صدر راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس طارق ورک اور کرائم رپورٹر نعیم منہاس پر بیہمانہ تشدد ،کرائم رپورٹر نعیم منہاس پر بےبنیاد اندراج ایف آئی آر پر صدر آر آئی یو جے طارق ورک تھانہ نیو ٹاؤن پہنچے تھے صحافی نعیم منہاس پر بےبنیاد ایف آئی آر اندراج سے متعلق استفسار کرنے پر پولیس نے صدر آر آئی یو جے طارق ورک پر تشدد کیا پولیس اہلکار غلیظ زبان استعمال کرتے گالم گلوچ کرتے ہوئے صدر آر آئی یو جے کو گھسیٹتے ہوئے حوالات لے گئے ،صدر آر آئی یو جے گزشتہ کئی گھنٹوں سے پولیس کی غیر قانونی حراست میں حوالات میں بند ہیں ،

    صحافیوں کا کہنا ہے کہ نیو ٹاؤن پولیس گردی کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کریں گے راولپنڈی میں سی پی او ،ار پی او آفس کے سامنے احتجاج کریں گے پولیس گردی کے خلاف وزیر اعلی پنجاب ،آئی جی پنجاب دفتر اور ہاؤس کے سامنے احتجاج کریں گے ملک بھر کی صحافتی تنظیمیں طارق ورک اور نعیم منہاس کے ساتھ کھڑی ہیں پولیس گردی کے خلاف پر فورم پر احتجاج کریں گے۔

  • آپریشن سندور،مودی سرکار نے "جھوٹ” پر مبنی کتاب شائع کر دی

    آپریشن سندور،مودی سرکار نے "جھوٹ” پر مبنی کتاب شائع کر دی

    پاکستان کے خلاف بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب،مودی سرکار نے جھوٹ پر مبنی کتاب شائع کر دی

    مودی سرکار کا آپریشن سندور میں ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے جھوٹا پروپیگنڈا جاری ہے،بھارت نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے "آپریشن سندور” کے عنوان سے کتاب شائع کر دی،کتاب کو بیس بھارتی تجزیہ کاروں اور کالم نگاروں سے منسوب کیا گیا ہے جن کو ’’را‘‘ سے منسلک کیا گیا ،یہ کتاب117 صفحات پر مشتمل ہے جس کی ترتیب تک درست نہیں ،اس مضحکہ خیز کتاب کا مقصد بھارتی عوام اور عالمی برادری کو گمراہ کرکے جھوٹ کو پروان چڑھانا ہے،یہ کتاب بھارتی اسٹریٹجک سوچ کی کمزوری کو بے نقاب کرتی ہے

    کتاب میں کسی تحقیق یا حوالہ کا ذکر بھی موجود نہیں، جو کسی سنجیدہ کتاب کی بنیادی شرط ہے،یہ کتاب محض فرضی الفاظ کو اکٹھا کر کے جھوٹ پر مبنی داستان پیش کرتی ہے،کتاب میں پہلگام فالس فلیگ آپریشن میں ہلاکتوں کی تعداد میں بھی تضاد ہے،کتاب میں آپریشن سندور کے دورانیے کے حوالے سے بھی تضاد ہے، بھارت کی سیاسی، عسکری اور سفارتی غلطیوں کا کتاب میں سرسری ذکر کیا گیا،کتاب میں آپریشن سندور کے دوران ہونے والے نقصانات پر کوئی سچا یا تفصیلی تجزیہ موجود نہیں،کتاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بھی انتہائی نامناسب زبان استعمال کی گئی ،کتاب میں اسرائیل کی کھل کر حمایت نہ کرنے کا شکوہ بھی کیا گیا ہے،یہ تصنیف بھارتی فوج، حکومت اور انٹیلیجنس اداروں کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہے،یہ کتاب تلخ حقیقت ، بھارت میں آزادی اظہار اب محض ایک خواب بن چکا ہے

  • مطیع اللّٰہ جان اور اسد طور کے یوٹیوب چینلز کی بندش کا حکم معطل

    مطیع اللّٰہ جان اور اسد طور کے یوٹیوب چینلز کی بندش کا حکم معطل

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں یوٹیوب چینلز کی بندش کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عدالت نے معروف صحافیوں مطیع اللّٰہ جان اور اسد علی طور کے یوٹیوب چینلز کی بندش کا حکم معطل کر دیا ہے۔

    ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے اس درخواست پر سماعت کی، جو مذکورہ صحافیوں کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ صحافت اور اظہارِ رائے کی آزادی کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور بغیر شنوائی کے چینلز کو بلاک کرنا آئینی اور قانونی اصولوں کے خلاف ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے 27 یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کا حکم دیا تھا، جن میں مطیع اللّٰہ جان اور اسد طور کے چینلز بھی شامل تھے۔ یہ فیصلہ مبینہ طور پر "ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا” کے الزامات کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ایڈیشنل سیشن جج نے عبوری طور پر اس بندش کے حکم کو معطل کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’’اظہار رائے کی آزادی ایک بنیادی حق ہے، اور عدالت قانون کی روشنی میں اس کا تحفظ کرے گی۔‘‘ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

  • بھارتی معیشت کو بڑاجھٹکا؛  امریکا کیساتھ تجارت پر 10فیصد ٹیرف عائد ہوگا

    بھارتی معیشت کو بڑاجھٹکا؛ امریکا کیساتھ تجارت پر 10فیصد ٹیرف عائد ہوگا

    بھارتی معیشت کو بڑاجھٹکا؛ امریکا کیساتھ تجارت پر 10فیصد ٹیرف عائد ہوگا

    امریکی صدر نے برکس ممالک(برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ) کے بارےمیں سخت موقف اختیار کیا ہے، ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ٹیرف کے حوالے سے بھارت کو کوئی استثنیٰ نہیں دیا جائے گا،بھارت بھی برکس کا رکن ہے وہ بھی 10 فیصد ٹیرف کے دائرے میں آئے گا، برکس کاقیام ہمیں نقصان پہنچانے اور ڈالر کو کمزور کرنے کے لیے کیا گیا ہے،اگر کوئی ڈالر کو چیلنج کرنا چاہتا ہے تو ہم اسکی اجازت نہیں دیں گے،

    ناکام پالیسیوں کی بدولت بھارت کو سفارتی اور معاشی میدان میں ہزیمت کا سامناہے