Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سوشل میڈیا پر توہین آمیز بیان،وقاص اکرم کا فواد چوہدری کیخلاف 10 ارب ہرجانے کا دعویٰ

    سوشل میڈیا پر توہین آمیز بیان،وقاص اکرم کا فواد چوہدری کیخلاف 10 ارب ہرجانے کا دعویٰ

    ڈسٹرکٹ کورٹ اسلام آباد ،پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم نے فواد چوہدری کیخلاف 10 ارب ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا،

    دعوے میں کہا گیا کہ فواد چوہدری کیجانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پرجھوٹی اور توہین آمیز بیان بازی کی جاتی ہے، درخواست گزار عزت دار شہری اور قومی اسمبلی میں عوام کا الیکٹڈ نمائندہ ہے، مذکورہ دعویٰ اسلام آباد (ویسٹ) کے معزز ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں دائر کیا گیا ہے، جس میں مدعی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ فواد حسین نے اُن کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی غرض سے جھوٹے الزامات لگائے، جو نہ صرف ان کی ساکھ کے خلاف تھے بلکہ انہیں عوامی سطح پر بدنام کرنے کا سبب بنے۔ہ وہ ایک سینئر سیاستدان، سابق وفاقی وزیر اور موجودہ رکنِ قومی اسمبلی ہیں، جنہیں عوامی فلاح و بہبود اور سیاسی خدمات کے باعث وسیع پیمانے پر عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی سیکرٹری سمیت متعدد اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔

    مدعی نے مؤقف اختیار کیا کہ فواد حسین کے الزامات نے نہ صرف ان کی نجی و سیاسی زندگی کو متاثر کیا بلکہ ان کی جماعت اور حلقہ انتخاب میں بھی ان کے خلاف غلط فہمی پیدا کی۔شیخ وقاص اکرم نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اُنہیں انصاف فراہم کیا جائے اور مدعا علیہ کو ہرجانے کی ادائیگی کا پابند بنایا جائے۔

  • حمیرا اصغر کی تدفین کے لئے کئی شخصیات سامنے آ گئیں

    حمیرا اصغر کی تدفین کے لئے کئی شخصیات سامنے آ گئیں

    صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ کی جانب سے اداکارہ حمیرا اصغر کی تدفین کرانے کا فیصلہ کیاگیا ہے

    صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ نےایڈیشنل آئی جی کراچی سے رابطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ مرحوم اداکارہ حمیرا اصغر کے ورثاء اگر لاش وصول یا تدفین نہیں کرتے تو محکمہ ثقافت حمیرا اصغر کا وارث ہوگا۔ صوبائی وزیر نے ڈائریکٹر جنرل کلچر کو معاملے پر فوکل پرسن مقرر کردیا۔سیکریٹری ثقافت سندھ نے ڈی آئی جی ساؤتھ کو لاش حوالگی کیلئے خط لکھا ہے،صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ کا کہنا ہے کہ مرحوم حمیرا اصغر لاوارث نہیں سندھ حکومت محکمہ ثقافت وارث ہے۔ حمیرا اصغر کا واقعہ افسوسناک اور دل دہلانے والا واقعہ ہے۔ تدفین قبرستان سمیت تمام مراحل محکمہ ثقافت کے ذمہ ہوگا۔ ہماری پہلی کوشش ہے کہ والدین راضی ہوں اور لاش وصول کریں۔پولیس کے تعاون سے اس معاملے پر محکمہ ثقافت اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔

    دوسری جانب پاکستانی اداکار سونیا حسین اور یاسر حسین اداکارہ حمیرا اصغر کی تدفین کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے میدان میں آگئے،ماڈل اور اداکارہ حمیرا اصغر کی درد ناک موت نے شوبز انڈسٹری اور ان کے مداحوں کو شدید صدمے میں مبتلا کیا، حمیرا کے والد کے لاش وصول کرنے سے انکار پر شوبز برادری کی کئی شخصیات ان کی تدفین کی ذمہ داری اٹھانے کےلیے تیار ہیں،اس کے علاوہ سماجی کارکن مہر بانو سیٹھی نے سب سے پہلے حمیرا اصغر کی تدفین کی ذمہ داری لینے کا اعلان کیا جس کے بعد اداکارہ سونیا حسین نے بھی اس مقصد میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے،سونیا حسین نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجھے یہ خبر ملی کہ حمیرا کا انتقال ہو چکا ہے اور ان کے گھر والے ان کی لاش وصول نہیں کررہے، میں یہ سن کر سکتے میں آگئی ہوں کہ کیا گناہ کیا تھا اُس لڑکی نے؟ میں کسی کو نصیحت کرنے نہیں آئی لیکن اگر خدا نخواستہ کوئی نہ آیا تو ایک انسان اور مسلمان ہونے کے ناطے میں اس کے کفن دفن کی ذمہ داری لینا چاہتی ہوں۔

  • طالبان نے 45 سالہ شخص کی 6 سالہ لڑکی سے شادی روک دی

    طالبان نے 45 سالہ شخص کی 6 سالہ لڑکی سے شادی روک دی

    جنوبی افغانستان کے ضلع مرجاہ میں ایک چھ سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر اس کے والد نے پیسے کے عوض 45 سالہ مرد سے زبردستی شادی کرا دی ہے۔ امریکی نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق، یہ واقعہ گزشتہ دنوں پیش آیا جہاں لڑکے نے، جس کی پہلے سے دو بیویاں ہیں، لڑکی کے خاندان کو شادی کے لیے رقم ادا کی۔

    طالبان حکام نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور لڑکی کو اس کے شوہر کے گھر لے جانے سے روک دیا ہے۔ طالبان کے مطابق، لڑکی کو اس کے شوہر کے گھر تب لے جایا جا سکتا ہے جب وہ کم از کم نو سال کی ہو جائے۔ اگرچہ مقامی طالبان حکام نے کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا، لیکن انہوں نے لڑکی کو زبردستی شوہر کے گھر لے جانے کی اجازت نہیں دی۔مرجاہ ضلع میں لڑکی کے والد اور دولہا کو گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم اب تک ان کے خلاف کوئی رسمی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ لڑکی اس وقت اپنے والدین کے ساتھ ہے۔ شادی کے لیے جس رسم یعنی "ولور” کا اطلاق کیا گیا، اس کے تحت لڑکی کی ظاہری حالت، تعلیم اور دیگر عوامل کی بنیاد پر قیمت مقرر کی گئی۔

    یہ واقعہ سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کا باعث بنا ہے۔ صارفین نے اس گھناؤنے عمل پر صدمہ اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔ شادی کی تصاویر، جن میں دولہا اور کم عمر لڑکی ایک ساتھ نظر آ رہے ہیں، نے انسانی حقوق کے کارکنوں میں بھی زبردست ردعمل پیدا کیا ہے۔

    2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان میں کم عمر اور قبل از وقت شادیوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ غربت کے بڑھتے ہوئے اثرات اور خواتین و لڑکیوں پر سخت پابندیوں، خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم پر مکمل بندش، اس رجحان کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ افغانستان میں شادی کی کم از کم قانونی عمر کا تعین نہیں ہے، اور سابقہ سول کوڈ جس نے لڑکیوں کے لیے 16 سال کی عمر مقرر کی تھی، اب نافذ نہیں ہے۔

    اقوام متحدہ کی خواتین کی تنظیم کی گزشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی طرف سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے باعث کم عمر شادیوں میں 25 فیصد اضافہ اور قبل از وقت حمل کی شرح میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو لڑکیوں کی زندگیوں کو مزید خطرے میں ڈال رہا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کم عمر شادیوں سے لڑکیوں کی جسمانی، ذہنی اور معاشرتی صحت شدید متاثر ہوتی ہے۔ قبل از وقت شادیوں کے نتیجے میں حمل کے دوران صحت کے خطرات، گھریلو تشدد، اور سماجی تنہائی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ یہ تنظیمیں زور دیتی ہیں کہ کم عمر شادیوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ افغانستان کے سماجی اور اقتصادی استحکام کو محفوظ رکھا جا سکے اور نوجوان لڑکیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

  • کینیڈا میں تربیتی طیاروں میں‌تصادم،بھارتی پائلٹ سمیت دو ہلاک

    کینیڈا میں تربیتی طیاروں میں‌تصادم،بھارتی پائلٹ سمیت دو ہلاک

    کینیڈا میں دو تربیتی ہوائی جہازوں کے درمیان ایک افسوسناک فضائی تصادم ہوا جس میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ بھارتی قونصل خانہ جنرل، ٹورنٹو نے بدھ کے روز اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مارے جانے والوں میں ایک ہندوستانی نژاد طالبعلم پائلٹ بھی شامل تھا۔

    یہ حادثہ منگل کی صبح پیش آیا، جب ہاروز ایئر پائلٹ اسکول کے قریب دو چھوٹے سیسنا ایک انجن والے تربیتی طیارے ایک ساتھ ٹکرا گئے۔ حادثہ تقریباً رن وے سے 400 میٹر کی دوری پر ہوا۔مارے جانے والے پائلٹس کی شناخت 21 سالہ سریہری سکیش کے طور پر ہوئی جو کیرالا، ہندوستان کے رہائشی تھے جبکہ دوسرے پائلٹ ان کے ہم جماعت، 20 سالہ کینیڈین شہری، ساوانا مے روئس تھے۔

    قونصل خانہ جنرل نے ایک ٹویٹ میں کہا”گہرے دکھ کے ساتھ ہم سریہری سکیش، ایک نوجوان ہندوستانی طالبعلم پائلٹ، کے اچانک انتقال پر افسوس کرتے ہیں جو سٹینبیک، مینیٹوبا کے قریب فضائی تصادم میں جاں بحق ہوئے۔ ہم ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ قونصل خانہ مرحوم کے خاندان، پائلٹ تربیتی اسکول اور مقامی پولیس سے رابطے میں ہے تاکہ ہر ممکن مدد فراہم کی جا سکے۔”

    مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سریہری پہلے ہی اپنا پرائیویٹ پائلٹ لائسنس حاصل کر چکے تھے اور وہ کمرشل پائلٹ سرٹیفیکیشن کے لیے تعلیم حاصل کر رہے تھے۔حادثے کے وقت دونوں طالبعلم چھوٹے سیسنا طیاروں میں ٹیک آف اور لینڈنگ کی مشق کر رہے تھے۔ ہاروز ایئر پائلٹ اسکول کے صدر ایڈم پینر نے بتایا کہ دونوں پائلٹس بیک وقت رن وے پر لینڈنگ کی کوشش کر رہے تھے، جس کی وجہ سے ان کے طیارے آپس میں چند سو گز کے فاصلے پر ٹکرا گئے۔اگرچہ دونوں طیارے ریڈیو سے لیس تھے، لیکن نیو یارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بظاہر دونوں پائلٹس ایک دوسرے کو دیکھ نہیں پائے تھے۔

    ہاروز ایئر پائلٹ اسکول، جس کی بنیاد ایڈم پینر کے والدین نے 1970 کی دہائی میں رکھی تھی، ہر سال تقریباً 400 طالبعلموں کو پائلٹ کی تربیت دیتا ہے اور دنیا بھر سے طلباء یہاں پیشہ ورانہ اور تفریحی مقاصد کے لیے تربیت حاصل کرتے ہیں۔

  • وزیراعظم سے نانگا پربت سر کرنے والی پہلی قطری خاتون کوہ پیماء شیخہ اسماء الثانی کی ملاقات

    وزیراعظم سے نانگا پربت سر کرنے والی پہلی قطری خاتون کوہ پیماء شیخہ اسماء الثانی کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں قطری کوہ پیما شیخہ اسماء الثانی سے ملاقات میں ان کا خیرمقدم کیا اور انہیں حال ہی میں نانگا پربت کو کامیابی سے سر کرنے والی خلیج اور قطر کی پہلی خاتون کا اعزاز حاصل کرنے پر مبارکباد دی۔

    ملاقات کے دوران وزیراعظم نے اس اہم سنگ میل کو حاصل کرنے کیلئے شیخہ عاصمہ کی غیر معمولی ہمت اور عزم کو سراہا۔ وزیرِ اعظم نے ایڈونچر اور کوہ پیمائی کے ذریعے دنیا بھر کی خواتین بالخصوص نوجوانوں کو با اختیار بنانے کی آگاہی کو فروغ دینے کے حوالے سے ان کی تعریف کی۔ پاکستان کے قدرتی حسن کی آگاہی کے لیے ان کی کامیابی اور عزم کے اعتراف میں، وزیر اعظم نے شیخہ اسماء الثانی کو پاکستان کی ماؤنٹینز اینڈ ٹورازم کے لیے باقاعدہ طور پر برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کی چودہ بلند ترین چوٹیوں میں سے پانچ کا پاکستان میں ہونا، پاکستان کیلئے فخر کی بات ہے، جو اسے کوہ پیماؤں اور ایڈونچر کے متلاشیوں کے لیے ایک اہم مقام بناتا ہے۔ انہوں نے شیخہ عاصمہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستان کے شاندار پہاڑوں کا انتخاب کیا اور ان کے چیلنجز اور قدرتی خوبصورتی کی طرف بین الاقوامی توجہ دلانے میں قابل قدر کردار ادا کیا۔

    انہوں نے پاکستانی کوہ پیماء پورٹرز اور گائیڈز کی اہم شراکت کا بھی ذکر کیا جو دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کو ان کی مہمات میں مدد فراہم کرتے ہیں، اور کہا کہ ان کی مہارت اور لگن اس طرح کی غیر معمولی کامیابیوں کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔

    پاکستان اور قطر کے درمیان گہرے اور دوستانہ تعلقات پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ شیخہ اسماء کی کامیابی دونوں ممالک کے درمیان جرات، مثبت عزائم اور استقامت کی مشترکہ اقدار کی عکاس ہے۔ انہوں نے ایڈونچر ٹورازم، کھیلوں اور نوجوانوں کی شمولیت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے شیخہ اسماء آلثانی کے مساوی مواقع کی تخلیق میں جینڈر مساوات کمیشن کی نائب صدر کے طور پر فعال کردار کی بھی تعریف کی۔ وزیر اعظم نے بین الاقوامی کوہ پیماؤں کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے جاری حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے انہیں تمام ضروری سہولیات، حفاظت اور مہمان نوازی کا یقین دلایا۔

    دنیا کی 8,000 میٹر کی چوٹیوں میں سے تمام چودہ چوٹیوں کو سر کرنے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے، وزیراعظم نے شیخہ اسماء کو مستقبل کی کوہ پیمائی کے لیے پاکستان واپس آنے اور پاکستان کے متنوع اور دلکش مناظر کو مزید دریافت کرنے کے لیے دعوت دی۔ شیخہ اسماء الثانی نے اپنے دوروں کے دوران ان کی پرتپاک مہمان نوازی پر وزیراعظم اور پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا۔ نانگا پربت کی اپنی حالیہ کوہ پیمائی کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے مقامی پورٹرز اور گائیڈز کے تعاون کی تعریف کی اور اس شاندار پہاڑ کی خوبصورتی کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے K2، جسے ماضی میں وہ سر کر چکی ہیں، اپنی سر کی گئیں تمام چوٹیوں میں بہترین پہاڑ قرار دیا اور کہا کہ اس کی خوبصورتی بے مثال ہے۔

    وزیر اعظم نے شیخہ اسماء الثانی کی مستقبل کی کوششوں اور عالمی سطح پر نوجوانوں بالخصوص خواتین کو عزم کے ساتھ اپنے اہداف کے حصول کی ترغیب دینے کے لیے ان کی جاری کوششوں کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

  • فیملی میٹرز میں معاوضوں کی ادائیگی،نچلی عدالتوں میں معاملہ ختم ہونا چاہئے،چیف جسٹس

    فیملی میٹرز میں معاوضوں کی ادائیگی،نچلی عدالتوں میں معاملہ ختم ہونا چاہئے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ فیملی میٹرز میں معاوضوں کی ادائیگی کی اپیلیں سپریم کورٹ میں نہیں آنی چاہیے

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے فیملی میٹرز میں معاوضوں کی ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت کی،دوران سماعت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیملی میٹرز میں معاوضوں کی ادائیگی کی اپیلیں سپریم کورٹ میں نہیں آنی چاہئیں، نچلی عدالتیں معاوضہ طے کردیں تو معاملہ ختم ہونا چاہیے، معاوضوں کی ادائیگیوں کی رقم میں سپریم کورٹ نہیں پڑے گی،اس موقع پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ چھوٹے بچے کے لیے 25 ہزار ماہانہ خرچہ بہت زیادہ ہے،تاہم عدالت نے ماہانہ خرچہ 25 ہزار مقرر کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کردی۔

  • سندھ ہائیکورٹ نے جمشید محمود عرف جامی کی سزا معطل کردی

    سندھ ہائیکورٹ نے جمشید محمود عرف جامی کی سزا معطل کردی

    سندھ ہائیکورٹ نے فلم پروڈیوسر، رائٹر اور ڈائریکٹر جمشید محمود المعروف جامی کی سزا معطل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ سندھ ہائیکورٹ میں جمشید محمود کی سزا کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کے دوران سنایا گیا۔

    عدالت نے جمشید محمود کو ماتحت عدالت کی جانب سے دی گئی سزا معطل کرتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کی ہے۔ ضمانت کے بدلے 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کروانے کی شرط رکھی گئی ہے۔ وکیل حافظ محمد یحییٰ ایڈووکیٹ نے میڈیا کو بتایا کہ جمشید محمود کو جلد ہی جیل سے رہا کردیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے جمشید محمود کو ڈائریکٹ کمپلینٹ پر دو سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ یہ سزا فلم اور میوزک ڈائریکٹر سہیل جاوید کی طرف سے جمشید محمود کے خلاف دائر کی گئی ہتک عزت کی شکایت پر دی گئی تھی۔

    معروف فلم پروڈیوسر، رائٹر اور ڈائریکٹر جمشید محمود عرف جامی نے ہتک عزت کے الزام میں دی گئی سزا کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی تھی، جمشید محمود نے ہتک عزت کیس میں دی گئی سزا کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ جس جرم میں سزا سنائی گئی ہے وہ قابل ضمانت ہے اور سزا میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں، اس لیے ماتحت عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • بغیر اجازت خواتین کی ویڈیوز پوسٹ کرنے والاگرفتار

    بغیر اجازت خواتین کی ویڈیوز پوسٹ کرنے والاگرفتار

    بنگلورو میں انسٹاگرام پر خواتین کی بغیر اجازت ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کرنے والے 26 سالہ شخص کو ایک خاتون کی وائرل انسٹاگرام پوسٹ کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ملزم کی شناخت گردیپ سنگھ کے نام سے ہوئی ہے، جو ہوٹل مینجمنٹ کا گریجویٹ ہے اور فی الحال بے روزگار ہے۔ اسے بنگلورو کے کے آر پورم علاقے میں واقع اس کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا۔ گردیپ سنگھ اپنے بھائی کے ساتھ رہتا ہے اور پولیس کی تحویل میں ہے، کیونکہ پولیس نے خود اس کیس کا نوٹس لیا تھا۔زیرِ بحث انسٹاگرام اکاؤنٹ بنیادی طور پر چرچ سٹریٹ پر فلمائی گئی ویڈیوز کلپس پوسٹ کرتا تھا، جو وسطی بنگلورو کا ایک مقبول تجارتی اور پیدل چلنے والا علاقہ ہے۔ ان کلپس میں خواتین کو عوامی مقامات پر چلتے ہوئے دکھایا جاتا تھا، جو اکثر کیمرہ ان کی طرف ہونے پر بے خبر یا چونکتی ہوئی نظر آتی تھیں۔ کئی ویڈیوز میں خواتین کو خفیہ طور پر فالو کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا،

    یہ کیس اس وقت سامنے آیا جب ایک خاتون نے انسٹاگرام پر اس مواد کے خلاف خطرے کی گھنٹی بجائی۔ خاتون نے الزام لگایا کہ اسے شہر میں چلتے ہوئے اس کی اجازت یا علم کے بغیر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس کی ویڈیو کو ہٹانے کی کوششیں، بشمول انسٹاگرام کے اندرونی میکانزم کے ذریعے رپورٹیں فائل کرنا، ناکام رہی تھیں۔اپنی پوسٹ میں، اس نے کہا، "یہ شخص چرچ سٹریٹ پر ‘کیوس’ کو فلمانے کا بہانہ کرتا ہے ، لیکن حقیقت میں، یہ صرف خواتین کو فالو کرتا ہے اور انہیں ان کی رضامندی کے بغیر ریکارڈ کرتا ہے۔ یہ میرے ساتھ ہوا۔ اور مجھے یقین ہے کہ بہت سی دوسری خواتین کو بھی نہیں معلوم کہ انہیں بھی فلمایا گیا ہے۔ صرف اس لیے کہ میرا اکاؤنٹ عوامی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں عوامی طور پر فلمائے جانے کی رضامندی دیتی ہوں۔ رضامندی ایسے کام نہیں کرتی۔” اس نے مزید الزام لگایا کہ اس ویڈیو کے نتیجے میں اسے آن لائن اجنبیوں کی طرف سے فحش پیغامات موصول ہوئے۔

    پولیس کے مطابق، انسٹاگرام اکاؤنٹ کو ہٹانے کی کوششیں پلیٹ فارم کی اندرونی پالیسیوں کی وجہ سے پیچیدہ ہو گئی ہیں۔ پولیس نے کہا ہے کہ وہ اب میٹا (انسٹاگرام کی پیرنٹ کمپنی) کو اکاؤنٹ ہٹانے پر مجبور کرنے کے لیے عدالتی مداخلت حاصل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

    یہ گرفتاری ایک ایسے ہی کیس کے چند ہفتوں بعد ہوئی ہے جس میں ایک اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ شامل تھا، جس نے بنگلورو میٹرو میں سفر کرنے والی خواتین کی بغیر اجازت تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے لیے بدنامی حاصل کی تھی۔ اس اکاؤنٹ کے پیچھے 27 سالہ دیگنت، جو ہاسن ضلع سے تعلق رکھتا ہے، کو جون میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ ایک نجی فرم کے اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتا تھا اور اس نے اپنی روزمرہ کی آمدورفت کے دوران خواتین کو فلمانے کا اعتراف کیا تھا۔

  • سیف کا تاجر پر تشدد کیس،گواہ ملائیکہ اروڑا کے وارنٹ منسوخ

    سیف کا تاجر پر تشدد کیس،گواہ ملائیکہ اروڑا کے وارنٹ منسوخ

    ممبئی کی ایک عدالت نے اداکارہ ملائیکہ اروڑا کے خلاف جاری قابل ضمانت وارنٹ منسوخ کر دیا، جو کہ 2012 میں ہونے والے ایک ہوٹل جھگڑے کے مقدمے میں ثبوت پیش کرنے والی گواہ تھیں۔ یہ مقدمہ بالی وڈ اسٹار سیف علی خان سے متعلق ہے۔ وارنٹ اس وقت جاری کیا گیا تھا جب ملائیکہ عدالت میں پیش نہیں ہوئیں۔

    عدالت نے ملائیکہ کو گواہ کی حیثیت سے مقدمے سے خارج کر دیا کیونکہ استغاثہ نے کہا کہ اداکارہ ان کے کیس کی حمایت نہیں کر رہیں۔یہ مقدمہ 13 سال پرانا ہے جس میں سیف علی خان پر الزام ہے کہ انہوں نے ممبئی کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں ایک غیر ملکی تاجر پر حملہ کیا تھا۔ملائیکہ اروڑا اس گروپ کا حصہ تھیں جو اس رات سیف علی خان کے ساتھ ہوٹل میں کھانے کے لیے گئی تھیں۔ یہ واقعہ 22 فروری 2012 کو پیش آیا تھا۔اپریل میں عدالت نے ملائیکہ کے پیش نہ ہونے پر ان کے خلاف قابل ضمانت وارنٹ جاری کیا تھا۔

    بدھ کو اداکارہ ملائیکہ اروڑا نے چیف جسٹس میجسٹریٹ (ایسپلانڈ کورٹ) کے سامنے پیش ہو کر وارنٹ منسوخی کی درخواست دی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔

    سیف علی خان اور دو دیگر افراد کو اس واقعے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ گرفتاری ایک تاجر اقبال میر شرما کی شکایت پر ہوئی تھی۔ گرفتار تینوں کو بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔سیف علی خان کے ساتھ اس رات ان کی اداکارہ اہلیہ کرینہ کپور، ان کی بہن کرشمہ، ملائیکہ اروڑا، ان کی بہن امرتا اروڑا اور کچھ مرد دوست بھی موجود تھے۔پولیس کے مطابق، جب تاجر اقبال میر شرما نے فلمی ستارے اور ان کے دوستوں کی شور شرابے کی شکایت کی تو سیف علی خان نے تاجر کو دھمکی دی اور ان کی ناک پر مکا مار،نہ صرف اقبال میر شرما، بلکہ ان کے سسر رمن پٹیل کو بھی سیف علی خان اور ان کے دوستوں کی جانب سے مارا گیا تھا۔سیف علی خان کا موقف ہے کہ تاجر نے ان خواتین پرتوہین آمیز الفاظ استعمال کیے اور ان کی توہین کی، جس کی وجہ سے جھگڑا ہوا۔عدالت میں اس معاملے کی اگلی سماعت 22 اگست کو ہوگی۔

  • بھارتی فضائیہ کے جنگی طیارے کا حادثہ،دو پائلٹ ہلاک

    بھارتی فضائیہ کے جنگی طیارے کا حادثہ،دو پائلٹ ہلاک

    راجستھان کے چورو ضلع میں کل پیش آنے والے جاگوار جنگی طیارے کے حادثے میں دو بھارتی فضائیہ کے پائلٹ ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ہلاک ہونے والے پائلٹس کی شناخت سکواڈرن لیڈر لوکندر سنگھ سندھو، عمر 31 سال، اور فلائٹ لیفٹیننٹ رشی راج سنگھ، عمر 23 سال کے طور پر ہوئی ہے۔ سکواڈرن لیڈر سندھو ہریانہ کے روہتک سے تعلق رکھتے تھے جبکہ فلائٹ لیفٹیننٹ رشی راج سنگھ راجستھان کے پالی ضلع کے رہائشی تھے۔حادثہ گزشتہ روز دوپہر کو بھانوڑا گاؤں کے قریب پیش آیا جب یہ ڈبل سیٹر جاگوار جنگی طیارہ معمول کی تربیتی پرواز پر تھا۔ بھارتی فضائیہ نے واقعے کے فوری بعد ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اس حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے ایک تحقیقات کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

    بھارتی فضائیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے بھارتی فضائیہ کا جاگوار ٹرینر طیارہ معمول کی تربیتی مشن کے دوران آج چورو، راجستھان کے قریب حادثے کا شکار ہوا۔ دونوں پائلٹ حادثے میں جان بحق ہو گئے۔ شہری املاک کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ آئی اے ایف اس المناک حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے اور مرحومین کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔ حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے ایک کورٹ آف انکوائری تشکیل دی گئی ہے۔

    یہ سال کا تیسرا جاگوار طیارہ حادثہ ہے، اس سے قبل مارچ میں ہریانہ کے پنچکولا میں اور اپریل میں گجرات کے جمنگڑ کے قریب جاگوار طیارے گر چکے ہیں۔بھارتی فضائیہ میں استعمال ہونے والا جاگوار فائٹر بمبر ایک پرانا ماڈل ہے جسے سالوں میں کئی بار اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ بھارت کے پاس تقریباً 120 ایسے طیارے موجود ہیں جو چھ مختلف اسکواڈرنز میں تقسیم ہیں۔یہ حادثہ ایک بار پھر جاگوار طیاروں کی حفاظت پر سوالات اٹھاتا ہے۔ یہ طیارے 1979 میں بھارتی فضائیہ میں شامل کیے گئے تھے اور زیادہ تر ہندستان ایرواسپیس لمیٹڈ (HAL) نے فرانس اور برطانیہ کی مشترکہ کمپنی SEPECAT سے ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے ذریعے تیار کیے ہیں۔

    بھارتی فضائیہ اب جاگوار طیاروں کی واحد آپریٹر ہے کیونکہ برطانیہ، فرانس، ایکواڈور، نائیجیریا اور عمان جیسے ممالک نے اپنے جاگوار طیارے ریٹائر کر دیے ہیں۔ اگرچہ بھارتی فضائیہ جاگوار کے پرانے ماڈلز کو ریٹائر کرنے کی تیاری کر رہی ہے، لیکن HAL تیجس Mk2، رافیل، اور ملٹی رول فائٹر ایئرکرافٹ کی ترسیل میں تاخیر کی وجہ سے انہیں ابھی بھی جاگوار پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔گزشتہ حادثات کی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ اکثر حادثات انجن کی خرابی کی وجہ سے ہوئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جاگوار طیاروں کو جلد از جلد ریٹائر کیا جانا چاہیے۔