Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • لاہور میں چھ گھنٹے بارش،سڑکوں‌پر پانی،بجلی غائب،مزید بارشوں کا الرٹ جاری

    لاہور میں چھ گھنٹے بارش،سڑکوں‌پر پانی،بجلی غائب،مزید بارشوں کا الرٹ جاری

    لاہور: پنجاب کے مختلف اضلاع میں مون سون کی موسلا دھار بارشوں کے باعث محکمہ پی ڈی ایم اے ے الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ یہ بارشیں 13 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ ریسکیو 1122، واسا، اور دیگر محکمے اپنی مشینری اور عملے کو الرٹ رکھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی جا سکے۔ نشیبی علاقوں میں پانی کے جمع ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے پانی کی نکاسی کے کاموں کو جلد از جلد مکمل کرنا ضروری ہے۔ شہریوں کو کچے مکانات اور پرانی و بوسیدہ عمارتوں سے دور رہنے کی بھی سخت ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی قسم کا جانی نقصان نہ ہو۔

    لاہور میں آج صبح سے جاری مسلسل بارش نے شہر کا معمول درہم برہم کر دیا ہے۔ نشیبی علاقوں میں پانی کی شدید گرفت نے کئی سڑکیں تالاب بنا دی ہیں، کئی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں پانی میں پھنس گئی ہیں۔ اب تک لاہور میں 178 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے، جیل روڈ پر 119 ملی میٹر، ایئرپورٹ 60 ملی میٹر ہیڈ آفس گلبرگ 141,لکشمی چوک 133,اپر مال 121,مغلپورہ 127, تاجپورہ 117,نشتر ٹاون 178,چوک نا خدا 131, ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے ۔جس کے باعث شہر میں مختلف جگہوں پر چھتیں اور دیواریں گرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔سیشن کورٹ لاہور نزد سول سیکرٹریٹ اسلام پورہ روڈ بارش کی وجہ سے شگاف پڑ گیا۔

    واسا کے ایم ڈی غفران احمد نے بارش کے دوران نشیبی علاقوں کا دورہ کیا اور واسا کے عملے کو تمام مرکزی شاہراہوں کو جلد از جلد پانی سے کلیئر کرنے کی ہدایات دی ہیں تاکہ ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ نہ آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ واسا کی ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں اور شہریوں کو سہولت فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گی۔

    بارش کی وجہ سے لاہور اور قریبی اضلاع میں لیسکو کے 142 فیڈرز متاثر ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔ لیسکو کے سی ای او کا کہنا ہے کہ جیسے ہی بارش رکے گی، بجلی کی بحالی کے کام فوری شروع کر دیے جائیں گے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بجلی کے کھمبوں اور دیگر تنصیبات سے دور رہیں تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ لاہور میں 6 گھنٹے سے مسلسل بارش جاری ہے۔ واسا اور ضلعی انتظامیہ کی تمام ٹیمیں فیلڈ میں موجود ہیں اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انڈر پاسز کو کلیئر رکھا گیا ہے اور چند نشیبی علاقوں میں پانی کی نکاسی کے کام جاری ہیں تاکہ شہریوں کو آسانی ہو۔

  • سانحہ سوات کی انکوائری کمیٹی مقررہ وقت تک رپورٹ پیش کرنے میں ناکام

    سانحہ سوات کی انکوائری کمیٹی مقررہ وقت تک رپورٹ پیش کرنے میں ناکام

    سانحہ سوات کے حوالے سے قائم کی گئی تین رکنی انکوائری کمیٹی مقررہ ڈیڈ لائن کے باوجود اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے اس کمیٹی کو صرف سات روز میں تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دی تھی، لیکن اب تک رپورٹ مکمل نہیں ہو سکی۔

    انکوائری کمیٹی نے واقعے کی مکمل چھان بین کے لیے پچاس سے زائد متعلقہ افسران اور اہلکاروں کے بیانات قلم بند کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ریسکیو، آبپاشی، ریلیف، پی ڈی ایم اے، ٹی ایم اے اور دیگر متعلقہ محکموں سے بھی تحقیقات کی گئی ہیں تاکہ واقعے کی اصل وجوہات اور امدادی اقدامات کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔انکوائری کمیٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ تیار کرنے کا کام جاری ہے اور اسے دو سے تین روز کے اندر حکومت کو پیش کر دیا جائے گا۔ کمیٹی کی جانب سے اس تاخیر کی وجہ رپورٹ کی جامع تیاری اور تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ قرار دی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ 27 جون کو دریائے سوات میں شدید سیلاب کے باعث پھنس جانے والے 13 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس حادثے نے سوات کے عوام میں شدید صدمہ اور تشویش پیدا کی تھی، جس کے بعد فوری طور پر ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی تاکہ ذمہ داروں کا تعین اور مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے سفارشات مرتب کی جا سکیں۔

  • پٹودی لقمان کے رشتہ دار،سیف قطر بھاگنے کو تیار،ممبئی ایئر پورٹ مبشر لقمان کی زمین پر بنا

    پٹودی لقمان کے رشتہ دار،سیف قطر بھاگنے کو تیار،ممبئی ایئر پورٹ مبشر لقمان کی زمین پر بنا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ممبئی ایئر پورٹ کی زمین انکے خاندان کی تھی اور عدالت میں کیس کیا تھا جو ہماری فیملی جیتی تھی،

    مبشر لقمان کا ایک وی لاگ میں کہنا تھا کہ مجھےیہ لگ رہا ہے کہ سیف کرینہ کو طلاق دے رہے ہیں،کیونکہ سیف علی خان چھوٹی میڈ کے ساتھ پکڑے گئے تھے بقول میڈیا کے جو بھارت میں ہیں ،سیف علی خان رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا اور وہ حملہ کرینہ نے ہی کیا تھا، سیف علی خان نے قطر کی نیشنلٹی لے لی ہے لیکن کرینہ نہیں جا نا چاہ رہی، بھارت کی سیلبرٹیز نے یوکے ،کینیڈا اور دیگر ممالک کی نیشنلٹی لی ہوئی ہے،یہ انڈیا آتے کام کرتے ،پیسے کماتے اور نکل جاتے ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میری ماں اورانکی بہنوں کی ممبئی میں زمینیں تھیں جہا‌ں ممبئی ایئر پورٹ بنا ہوا ہے، میری ماں اور خالاؤں نے کیس کیا تھا،دیوانی کیس جس طرح چلتے ہیں، پچیس تیس سال چلا، اور پھر سیٹلمنٹ یہ ہوئی تھی کہ ستر یا 72 ہزار ہم دے رہے ہیں لیکن وہ انڈیا سے باہر نہیں جائیں گے یہیں خرچ کرنے ہوں گے، ہماری فیملی یہ زمین جیتی ہے یہ زمین ہمارے بزرگوں کی ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سیف علی خان سے کوئی رشتہ نہیں ہے،میری نانی کو بھوپال سے تعلق تھا، تین پیڑیاں اگر اوپر کوئی رشتے داری ہے تو میں یہ کلیم نہیں کر سکتاکہ کوئی عزیز داری یا رشتے داری ہے،میں آج تک ملا نہیں نہ وہ ملے تو پھر کون سا تعلق،بھارت میں یہ قانون ہے کہ اینمی پراپرٹی حکومت ضبط کر لے گی، ہائیکورٹ نے سیف علی خان کے خلاف فیصلہ دیا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ یہ جوائنٹ پراپرٹی ہے، بہنیں بھی حصے دار اور وہ پاکستان میں ہیں، اسلئے یہ زمین انڈیا حکومت کی بن گئی، پٹوڈی پیلس بھی سیف علی خان سے چلا گیا، سپریم کورٹ میں بھی یہ کیس نہیں چلے گا کیونکہ قانون بنا ہوا ہے،عدالت قانون کے خلاف نہیں جا سکتی.

  • "میڈ اِن انڈیا” کا فریب بے نقاب، مودی سرکار کا خود کفالت کا خواب چینی ماہرین کا محتاج نکلا

    "میڈ اِن انڈیا” کا فریب بے نقاب، مودی سرکار کا خود کفالت کا خواب چینی ماہرین کا محتاج نکلا

    مودی سرکار کے من گھڑت "میڈ اِن انڈیا” بیانیے کی قلعی کھل گئی

    بھارت کی پیداواری معیشت کا مصنوعی دعویٰ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا،چینی تعاون کے بغیر بھارت کی آئی ٹی اور الیکٹرونکس صنعت مفلوج، مودی سرکار کی خود انحصاری محض فریب ہے،گزشتہ چھ ماہ میں بھارت سے 100 سے زائد چینی ماہرین واپس بلا لیے گئے،چینی انجینئرز کی واپسی کے بعد بھارت کی آئی فون پروڈکشن لائن سست روی اور ناکامی کا شکارہو گئی

    پریس ریڈر کے مطابق؛”فاکسکون کے چینی ماہرین کی واپسی نے بھارت میں ایپل کی پیداوار میں توسیع اور آمدنی میں اضافے کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے”بھارتی حکومت کے دعووں کے برعکس، مقامی اسمبلی لائنز چینی ماہرین کی عدم موجودگی میں خودکفالت ثابت کرنے میں ناکام دکھائی دی،رپورٹ کے مطابق، بھارت میں ویلیو ایڈیشن یعنی "خالص منافع” اب براہِ راست چینی تکنیکی معاونت سے منسلک ہو چکا ہے، فاکسکون کی بھارتی سبسڈری "رائزنگ اسٹارز ہائی ٹیک” چینی ماہرین کے بغیر پیداواری اہداف حاصل کرنے سے قاصر نظر آتی ہے، بھارت میں 80 سے 90 ملین آئی فونز سالانہ تیار کرنے کا ہدف اب چینی ماہرین کے بغیر صرف ایک تخمینہ محسوس ہوتا ہے،چینی انجینئرز کی واپسی نے بھارت میں ایپل کی طویل مدتی سرمایہ کاری کے عمل کو غیر یقینی بنا دیا، بھارت کی 500 ارب ڈالر الیکٹرانکس معیشت کا خواب، چینی مہارت کے بغیر زمینی حقیقت سے کوسوں دور، امریکی، ویتنامی اور تائیوانی ماہرین کو متبادل کے طور پر لایا گیا، بھارت کے پاس کوئی تربیت یافتہ مقامی فورس نہیں، اسی لیے بیرونی ماہرین پر انحصار جاری ہے،بھارتی حکام کے بلند دعوؤں کے باوجود، فنی تربیت کا عمل تاحال مکمل خودمختاری حاصل کرنے میں ناکام رہا،

    فاکسکون سے چینی قیادت کے انخلا نے بھارت کے کھوکھلے اور ناتجربہ کار ٹیک ماڈل کی حقیقت بے نقاب کر دی،مودی سرکار کا ‘میڈ ان انڈیا’ محض نعرہ ثابت ہوا، انحصار آج بھی بیرونی پروڈکٹس اور ماہرین پر قائم ہے،مودی سرکار کے جھوٹے دعوے اور ناکام پالیسیاں، بھارت عالمی سرمایہ داروں کے لیے خودکشی بنتے جا رہے

  • جمشید محمود عرف جامی نے سزا کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    جمشید محمود عرف جامی نے سزا کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    کراچی: معروف فلم پروڈیوسر، رائٹر اور ڈائریکٹر جمشید محمود عرف جامی نے ہتک عزت کے الزام میں دی گئی سزا کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، جمشید محمود نے ہتک عزت کیس میں دی گئی سزا کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ جس جرم میں سزا سنائی گئی ہے وہ قابل ضمانت ہے اور سزا میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں، اس لیے ماتحت عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    واضح رہے کہ فلمساز جمشید محمود عرف جامی کے خلاف فلم اور میوزک ڈائریکٹر سہیل جاوید نے ڈائریکٹ کمپلین دائر کی تھی۔ اس کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے جمشید محمود کو 2 سال قید اور 10 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا تھا کہ ملزم نے شکایت کنندہ کے خلاف سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر غیر محتاط رویہ اپنایا اور توہین آمیز مواد شائع کیا، نیز ملزم نے اس مواد کی تردید کرنے اور خود کو علیحدہ رکھنے میں بھی ناکامی کا مظاہرہ کیا۔

  • اسلام آبادپولیس پر حملہ کیس،عمران خان ذاتی حیثیت میں عدالت طلب

    اسلام آبادپولیس پر حملہ کیس،عمران خان ذاتی حیثیت میں عدالت طلب

    لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ کینٹ نے بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان کو گھر کے باہر اسلام آباد پولیس پر حملہ کیس میں 22 جولائی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، عدالت نے روبکار بھی جاری کردی۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ کینٹ سہیل رفیق نے سپرنٹنڈنٹ کیمپ جیل کے نام حکم نامے میں کہا کہ لاہور میں بانیٔ پی ٹی آئی کے گھر کے باہر اسلام آباد پولیس پر حملہ کیس میں بانیٔ پی ٹی آئی کو 22 جولائی تک ذاتی حیثیت میں پیش کیا جائے

    یاد رہے کہ اسلام آباد پولیس نے بانیٔ پی ٹی آئی کے خلاف تھانہ ریس کورس لاہور میں مقدمہ درج کروا رکھا ہے،عدالت نے کیس کی پیروی کے لیے اڈیالہ جیل میں قید بانیٔ پی ٹی آئی کو ذاتی حیثیت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے طلبی کے حکم نامے کے ساتھ روبکار بھی جاری کردی ہے۔

  • حمیرا کی لاش چھ ماہ پرانی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ

    حمیرا کی لاش چھ ماہ پرانی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ

    کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 کے ایک فلیٹ سے معروف اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش برآمد ہونے کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے، اور اب تک سامنے آنے والی معلومات نے اس واقعے کو مزید پراسرار بنا دیا ہے۔

    ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق، ابتدائی شواہد اور فارنزک جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اداکارہ کی لاش تقریباً چھ ماہ پرانی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلیٹ میں موجود کھانے پینے کی اشیاء پر درج ایکسپائری تاریخ 2024 کی ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ فلیٹ کئی مہینوں سے بند پڑا تھا۔تحقیقات کے دوران اداکارہ کے موبائل فون کا ڈیٹا بھی حاصل کیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوا ہے کہ آخری پیغام اکتوبر 2024 میں بھیجا گیا تھا۔ اس آخری رابطے میں ایک آن لائن ٹیکسی ڈرائیور شامل ہے، جس سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فلیٹ کی بجلی بھی طویل عرصے سے منقطع تھی، اور اداکارہ کا فلیٹ کے مالک سے آخری رابطہ بھی 2024 میں ہی ہوا تھا۔پولیس حکام کے مطابق، اداکارہ کے اہلخانہ آج لاش وصول کرنے کے لیے سرد خانے پہنچیں گے۔ اس موقع پر پولیس کی موجودگی کو بھی یقینی بنایا جائے گا تاکہ مزید تفتیش میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور جلد ہی حمیرا اصغر کی موت کے اسباب سے متعلق مزید حقائق سامنے لائے جائیں گے۔

  • ایمل ولی خان کا ثمر بلور کی مسلم لیگ ن میں شمولیت پر ردعمل

    ایمل ولی خان کا ثمر بلور کی مسلم لیگ ن میں شمولیت پر ردعمل

    پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صدر ایمل ولی خان نے سابق پارٹی رہنما ثمر بلور کی مسلم لیگ ن میں شمولیت پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ثمر بلور کا مسلم لیگ ن میں شامل ہونا حیران کن بات نہیں ہے، کیونکہ متعدد پارٹی رہنماؤں نے پہلے ہی اس امکان کی نشاندہی کر دی تھی۔

    ایمل ولی خان نے کہا کہ ثمر بلور کو صوبائی اسمبلی کی نشست شہید بشیر بلور اور شہید ہارون بلور کے لہو کی قربانیوں کی بدولت ملی تھی، جنہوں نے پارٹی اور عوام کی خدمت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما حاجی غلام احمد بلور آج بھی پارٹی کے ساتھ چٹان کی طرح مضبوطی سے کھڑے ہیں اور ان کی سیاسی زندگی میں 60 سال سے زائد قربانیاں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔صدر اے این پی نے مزید کہا کہ غلام احمد بلور کی عمر اور تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ مزید کسی بھی سیاسی آزمائش کے مستحق نہیں ہیں، اور ان کی قربانیاں پارٹی کے لیے رہنمائی کا منبع ہیں۔

    دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما غلام احمد بلور نے بھی ثمر بلور کی پارٹی چھوڑنے پر ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ثمر بلور کا یہ ذاتی فیصلہ ہے اور وہ اس میں کسی مداخلت کے حق دار نہیں ہیں۔ غلام احمد بلور نے اپنی وفاداری عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ ظاہر کی اور کہا کہ وہ پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    ثمر بلور، جو کہ پشاور کے معروف بلور خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، نے حال ہی میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی ہے۔ وہ عوامی نیشنل پارٹی میں صوبائی سطح کی رہنما تھیں اور 2018 میں ضمنی انتخابات جیت کر پہلی بار صوبائی اسمبلی کی رکن بنیں۔ جون 2020 میں انہیں خیبر پختونخوا اے این پی کی صوبائی سیکرٹری انفارمیشن مقرر کیا گیا تھا۔

    ثمر بلور نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں وفاقی وزیر امیر مقام بھی موجود تھے۔ اس ملاقات کے دوران انہوں نے مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ثمر بلور کی شمولیت سے مسلم لیگ ن کو خیبر پختونخوا میں مضبوطی ملے گی۔ثمر بلور، شہید رہنما ہارون بشیر بلور کی بیوہ ہیں اور انہوں نے تقریباً چار سال تین ماہ (24 اکتوبر 2018 سے 18 جنوری 2023 تک) صوبائی اسمبلی کی رکن کے طور پر خدمات انجام دیں۔

  • حمیرا اصغر ایک ماہ پہلے نہیں گزشتہ برس اکتوبر میں ہی مر گئی تھی،مبشر لقمان کا انکشاف

    حمیرا اصغر ایک ماہ پہلے نہیں گزشتہ برس اکتوبر میں ہی مر گئی تھی،مبشر لقمان کا انکشاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ حمیرااصغر کی پراسرار طریقے سے لاش ملی ہے، پولیس نے کہہ دیا کہ ایک مہینہ پرانی لاش ہے، لواحقین سامنے نہیں آ رہے، میں نے کچھ لوگوں سے باتیں کیں، چند گھنٹے میں مجھے وہ پتہ چل گیا جو پولیس کو نہیں پتہ، اس کی موت پچھلے سال اکتوبر میں ہوئی ہے،میں یہ بڑا سوچ کر کہہ رہا ہوں، اکتوبر یا ستمبر کے آخر میں موت ہوئی ہے، اسکے بعد کا کسی کو پتہ نہیں تھا لواحقین نے لاش لینے سے انکار کر دیا، سامنے کوئی نہیں آ رہا تو پولیس نے کہا مٹی ڈالو کیس ختم کرو کیونکہ اس کیس میں انکم تو ہو نہیں رہی

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نےکہا کہ ہم ویڈیو شیئر کرتے ہیں جس پر میں نے کہا کہ مجھے ویڈیو نہ شیئر کریں، کوئی بھی ماں باپ اس طرح کی خبر سن کر ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے،بجائے اس کے کہ ہم ویڈیو دیکھتے رہیں،حمیرا پچھلے دس سالوں سے کچھ سٹوڈیو میں آنا جانا تھا ایکٹنگ کر رہی تھی، لوگ کہتے تھے کہ اس کو شوق تھا لیکن بیچاری شاید لمیٹڈ تھی اپنی سکلز میں،اور اس کو بڑے موقع نہیں ملے، زندگی کا بڑا موقع تماشا میں ملا، پہلی باری فیم سامنے آیا اور لوگ اس کو جاننا شروع ہو گئے، ابھی بھی جب اس کی موت کی خبریں سامنے آئی ہیں تو تماشا میں لڑائی کی ویڈیو پھر وائرل ہو رہی ہے

    مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ حمیرا کے باپ نے کہہ دیا کہ میں نے قطع تعلق کر دیا تھا لاش بھی نہیں لینی، میں کیا کہوں اسکے لئے میرے پاس لفظ نہیں،پتھر صفت انسان ہو گا یہ، انسان کے گھرمیں‌ رہنے والے جانور کی موت ہو جائے تو بندہ ہل جاتا ہے بجائے اس کے کہ اپنا خون جدا ہو اور انسان ایسا کرے، قطع تعلقی کہ وجہ اداکار بننا ہی ہو سکتا ہے، اگر وہ چلی گئی تو اس نے کتنی مشکلیں جھیلیں ،اگر کسی سے تعلق ہوتا تو نوبت ہی نہ آتی،اسکو سر چھپانے کی اور جگہ ملتی، اس نے اپنے آخری رابطوں میں دوستوں سے کہا تھا کہ میں آج کل بہت پریشان ہوں، اسکو شاید کہیں سے دھمکیاں مل رہی تھیں.

  • منتظر ہوں  پاکستان بھارت جامع مذاکرات کی میز پر بیٹھیں،بلاول

    منتظر ہوں پاکستان بھارت جامع مذاکرات کی میز پر بیٹھیں،بلاول

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کے جن گروپوں پر تحفظات ہیں، اس حوالےسے حال ہی میں ہم ایف اے ٹی ایف کے سخت عمل سے گزرے ہیں، ایف اے ٹی ایف میں عالمی برادری نے ان گروپوں کے خلاف پاکستان کے اقدامات کی تصدیق کی ہے۔

    بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری کا کہناتھاکہ پاکستان کسی گروپ کو ملک کے اندر یا باہر دہشت گرد حملوں کی اجازت نہیں دیتا، پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا شکارہے اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 92 ہزار پاکستانیوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس دہشت گردی کے 200 سے زیادہ واقعات پیش آئے، 1200 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے، پاکستان میں دہشت گرد حملے رواں برس بھی جاری ہیں، دہشت گردی کے حوالے سے یہ سال پاکستان کی تاریخ میں بدترین سال ہے، میں خود دہشت گردی کا شکار رہا ہوں اور پہلگام دہشت گرد حملے کا درد محسوس کر سکتا ہوں۔

    ان کا کہنا تھاکہ ہمارے خطے میں دہشت گردی کی ایک تاریخ ہے اس میں لشکر جھنگوی، لشکر طیبہ اور دیگر دہشت گرد گروپ ہیں، سرد جنگ کی وجہ سے پاکستان کی یہ پالیسی تھی کہ ان گروپس کو اس وقت نہ دہشت گرد سمجھا گیا نہ کہا گیا، دہشت گرد کا لفظ نائن الیون کے بعد آیا، اس سے پہلے ایسے گروپوں کو فریڈم فائٹرز کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور افغانستان اور سرد جنگ کے دوران لڑنے والوں کو اسی طرح دیکھا گیا، اُس وقت بھی میری والدہ اور میری جماعت اس بات کی ہم خیال نہیں تھی۔

    بلاول کا کہنا تھاکہ ہم ماضی سے نہیں بھاگ رہے نہ ہی ماضی کی حقیقتوں کو نظرانداز کررہے ہیں، ماضی میں نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی برادری اور ڈکٹیٹر جنرل ضیا نے اس کوجہاد کے طور پر معاشرے میں پیش کیا، یہ انہوں نے افغانستان میں اپنی جنگ لڑنے کے پیش نظر کیا، ہمیں اپنے ملک میں ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش، بی ایل اے ان سب کی دہشت گردی کا سامنا ہے، جوکچھ افغانستان میں ہوا برصغیر میں ہونے والی دہشت گردی اس کا نتیجہ ہے، القاعدہ یا وہ تمام گروپ جن کا آپ نے ذکر کیا سب کی جڑیں ماضی میں افغان جہاد میں رہی ہیں، جب افغان جہاد ختم ہوا تو ان گروپوں نے القاعدہ میں جگہ بنائی اور نائن الیون والا حملہ کیا۔

    انہوں نے مزید کہاکہ کچھ گروپوں نے طے کیا کہ وہ افغان جہاد میں جائیں گے، ان گروپوں کا آغاز افغان جہاد سے ہوا اس کے بعد یہ گروپ القاعدہ اور دوسرے گروپوں میں تقسیم ہوئے، ان گروپوں میں وہ بھی شامل ہیں جو کشمیر جہاد میں گئے، جہاد کے نظریے کے تحت پاکستانی معاشرے اور پاکستانی سیاست میں ان گروپوں کی مخالفت نہیں کی گئی، پاکستانی گروپوں یا پاکستان سےتعلق رکھنے والےان افراد کی افغان جہاد کے لیے عالمی برادری کی طرف سے ٹریننگ کی گئی۔

    ان کا کہنا تھاکہ جیسا کہ میرے والد اور دوسرے کہتے رہے ہیں پاکستان ماضی میں ایک پروسیس سے گزرا ہے جسے بھارت نے نظرانداز کیا، دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے اقدامات کا ایف اے ٹی ایف نے بطور ادارہ تصدیق کر دی ہے، ریکارڈ کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف 2 ہزار 645 کیسز درج کیے، دہشت گردی کی مالی معاونت کیسز میں پاکستان نے 2 ہزار 727 افراد کو گرفتار کیا، 549 افراد کو سزا دی، پاکستان میں حافظ سعید کو 2022 میں دہشت گردی کی مالی معاونت پر 31 برس قید کی سزا دی گئی۔

    ممبئی حملوں کے حوالے سے پی پی چیئرمین کا کہنا تھاکہ ممبئی حملوں سے متعلق کیس عدالت میں ہے جس میں بھارت نے معاونت سے انکار کیا،ضروری گواہان کو اب تک پیش نہیں کیا، ممبئی حملوں سے متعلق ہمارے پاس کیس چل رہا ہے بھارت آئے اور اس میں حصہ لے،گواہان پیش کرے، ہم بھی چاہتے ہیں کہ ممبئی حملوں کے متاثرین کو انصاف ملے لہٰذا ضرورت ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دوبارہ ایسے تعلقات ہوں کہ باہمی تعاون سے ممبئی حملہ متاثرین کو انصاف کی فراہمی ہوسکے۔

    ان کا کہنا تھاکہ ممبئی حملے کے ساتھ میں آپ کو 2007 میں ہونے والا سمجھوتا ایکسپریس حملہ بھی یاد کرانا چاہتا ہوں، سمجھوتا ایکسپریس حملے میں بھارتی سرزمین پر 40 پاکستانی شہریوں کی جانیں گئیں، بھارت میں سمجھوتا ایکسپریس حملے پر نہ کوئی عدالتی کارروائی ہوئی بلکہ اعترافی بیان بھی واپس لے لیا گیا، پاکستان تو کیس بھی چلا رہا ہے حملوں میں ملوث افراد کی سزاؤں کے لیےبھی پُرعزم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنے عوام سے جھوٹ بولا کہ پاکستان پہلگام حملے میں ملوث ہے، آج تک بھارت پہلگام واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا ایک ثبوت سامنے نہیں لا سکا، جنگ کے دوران بھارتی حکومت اور بھارت میڈیا نے بھارتی عوام سے جھوٹ بولا، دھوکہ دیا۔

    بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری کا کہناتھاکہ پاکستان میں بھارت کی حمایت سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کی ایک لمبی فہرست موجود ہے، بلوچستان میں پکڑے جانے والے بھارتی فوجی افسر کلبھوشن سے تو آپ بھی واقف ہوں گے، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں کا ایک سلسلہ جاری رہا ہے اور حالیہ جعفرایکسپریس دہشت گرد حملے کا براہ راست تعلق بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی سے ہے۔

    انہوں نے کہاکہ بھارت کی حمایت سے پاکستان میں دہشت گرد حملے ہوئے، میں ثبوت پیش کر سکتا ہوں، بھارتی فوجی افسر کلبھوشن یادیو بلوچستان سے پکڑا گیا، جعفرایکسپریس حملے کا براہ راست بھارتی حساس ادارے کے سہولتکاروں سے تعلق ہے۔

    ان کا کہنا تھاکہ پاکستان اور بھارت نے 2012 میں دہشت گرد گروپوں کی اطلاعات کے تبادلے پر اتفاق کیا تھا، پاکستان کی اطلاعات پر بھارت نے دہشت گردی کے کئی حملوں کو روکا، پاکستان کسی گروپ کو پاکستان کے اندر اور باہر دہشت گرد حملوں کی اجازت نہیں دیتا، پاکستان کے ہاتھ صاف تھے اس لیے بھارت کو آزاد بین الاقوامی انکوائری کی پیش کش کی لیکن بھارتی حکومت نے پاکستان کی پہلگام تحقیقات کی پیش کش نہیں مانی۔

    بلاول نے مزید کہا کہ ممبئی حملہ کیس بھارت کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ پا رہا، بھارت اب تک ممبئی حملہ کیس کے گواہوں کو عدالت کے سامنے پیش کرنے سے انکاری ہے، بھارت چاہے توممبئی حملے کے گواہوں کو آن لائن عدالت میں پیش کر سکتا ہے، دنیا نے دیکھا ہے پاکستان نے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کیے، ایف اے ٹی ایف دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کا معترف ہے، بھارت کی معتصبانہ سوچ کے بجائے عالمی سطح پر ریکارڈ زیادہ اہم ہے۔اب بھارت 25 کروڑ پاکستانیوں کا پانی بند کرنا چاہتا ہے، بھارتی حکومت گاندھی کےفلسفے کے خلاف چل رہی ہے، بھارتی عوام ڈس انفارمیشن سے بچے، اسکرین پر بیٹھے لوگ بھارتیوں کو نفرت کی طرف دھکیل رہے ہیں، میں نہیں چاہتا پاکستان اور بھارت کی جنریشنز کشمیر، دہشت گردی اور پانی پر لڑتی رہیں۔

    انٹرویو کے دوران بھارتی صحافی بار بار بلاول بھٹو کو جواب دینے سے روکتے رہے، اس پر بلاول نے کہا کہ اگر جواب نہیں سننا تو پروگرام چھوڑ کر چلاجاؤں گا۔

    پی پی چیئرمین کا کہنا تھاکہ مسعود اظہر پاکستان میں نہیں افغانستان میں ہے، اگر مسعود اظہر پاکستان میں ہو تو ہم فوری گرفتار کریں گے، بھارت کو پاکستان سے مزید اقدامات کی توقع ہے تو میڈیا پر پاکستان کے خلاف چیخنے کے بجائے جامع مذاکرات کا حصہ بنے، بھارت جامع مذاکرات کا حصہ بنے گا تو دیگر مسائل پر بھی بات ہوگی، منتظر ہوں کہ پاکستان بھارت جامع مذاکرات کی میز پر بیٹھیں، دہشت گردی ایجنڈے میں شامل ہو، ایف اے ٹی ایف ریکارڈ کے مطابق پاکستان نےجیش محمد اور لشکرطیبہ کے خلاف کارروائی کی ہے، ایف اے ٹی ایف کے تحت لشکر طیبہ، جیش محمد اور ٹی ٹی پی کے ہتھیار ڈالنے والے ارکان بحالی پروگرام کا حصہ بنائے گئے، بطور ریاست پاکستان تبدیل ہوا ہے یہ ایک حقیقت ہےکہ پاکستان میں دہشت گردی کےخطرات اب بھی موجود ہیں، جیسے کہ عراق میں القاعدہ کو شکست دی گئی لیکن وہ داعش کی صورت میں دوبارہ اُبھرے، میں جنوبی ایشیا کو دہشت گردی سے پاک خطہ دیکھنا چاہتا ہوں۔

    بلاول کا کہنا تھاکہ آپ تو ایف اے ٹی ایف پر بھی نہیں یقین کرتے لیکن ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کے اقدامات کی تصدیق کی، بھارت کو تعصب کے بجائے بین الاقوامی برادری کے مؤقف کے ساتھ جانا چاہیے، ماضی کے گروپوں کا نئے گروپوں کی صورت میں سامنے آنا عالمی حقیقت اور خطرہ ہے جس کا ہمیں بھی سامنا ہے، ان گروپوں کے خلاف کارروائیاں کر کے ہم نے عالمی برادری کو مطمئن کر دیا ہے، چاہے پاکستان میں ہو یا بھارت میں دہشت گردی ایک حقیقت ہے۔