Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • امریکی عدالت میں عافیہ کیس،حکومت کا فریق بننے سے انکار

    امریکی عدالت میں عافیہ کیس،حکومت کا فریق بننے سے انکار

    اسلام آباد ہائی کورٹ،ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی صحت اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی

    حکومت نے امریکی عدالت میں عافیہ صدیقی کیس میں عدالتی معاونت اور فریق بننے سے انکار کر دیا،عدالت نے حکومت سے امریکہ میں کیس کا فریق نہ بننے کی وجوہات طلب کرلیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی صحت اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کے وکیل عمران شفیق، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور دیگرحکام عدالت میں پیش ہوئے۔،دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے امریکا میں اس کیس میں فریق نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے، اس پر جسٹس سردار اعجاز نے سوال کیا کہ کس وجہ سے یہ فیصلہ کیاگیا، وجوہات کیا ہیں، اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہی فیصلہ کیا گیا ہے،جسٹس سردار اعجاز نے کہا کہ حکومت یا اٹارنی جنرل کوئی فیصلہ کریں تواس کی وجوہات بھی ہوتی ہیں، بغیر وجوہات کے کوئی فیصلہ نہیں کیاجاتا، یہ آئینی عدالت ہے، ایسا نہیں ہوسکتا کوئی عدالت آکر کہے فیصلہ یہ کیا ہےلیکن وجوہات نہ بتائے،عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ 4 جولائی کی سماعت پر وجوہات سے آگاہ کیاجائے۔

  • وزیراعظم سے سعودی اور قطر کے سفیروں کی الگ الگ ملاقات

    وزیراعظم سے سعودی اور قطر کے سفیروں کی الگ الگ ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف نے برادر اسلامی ممالک سعودی عرب اور قطر کے سفیروں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں.

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اسلام آباد میں مملکتِ سعودی عرب کے سفیر نے ملاقات کی، جس میں مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کیا اور کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا برادر ملک ہے اور پاکستان اس مشکل وقت میں سعودی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی حمایت کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا،وزیراعظم نے خطے میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ تمام فریقین دانش مندی اور تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ ممکن ہو اور امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قطر کے سفیر سے ملاقات کی اور گزشتہ شب قطر پر ہونے والے حملوں پر امیر قطر اور برادر قطری عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا،وزیراعظم نے قطری عوام اور پورے خطے کے تحفظ و سلامتی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان قطر کے ساتھ اس مشکل گھڑی میں مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کرتا ہے،
    وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کے حامی رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر ممکنہ تعمیری کردار ادا کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے دعا کی کہ قطری بھائی بہنوں اور پورے خطے کو امن و امان نصیب ہو اور جلد حالات معمول پر آئیں۔

  • اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا بھی جنگ بندی کا اعلان

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا بھی جنگ بندی کا اعلان

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی جنگ بندی کا اعلان کردیا

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہونے امریکی صدر کے جنگ بندی کے اعلان کی توثیق کر دی،اسرائیلی وزیراعطم کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے تمام اہداف حاصل کر لئے ہیں،اسرائیلی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز سے اتفاق کرتی ہے، تاہم کسی بھی ایرانی خلاف ورزی کی صورت میں "شدید اور فوری ردعمل” دیا جائے گا۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ "اسرائیل نے اپنے بنیادی مقصد حاصل کر لیے ہیں، جن میں ایران کے جوہری اور بیلسٹک خطرے کو ختم کرنا شامل ہے۔” بیان میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا کہ "امریکا کی حمایت کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہ تھی۔”بیان کے مطابق اسرائیل مکمل جنگ بندی پر عملدرآمد کا خواہاں ہے، تاہم کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی صورت میں بھرپور اور جارحانہ جواب دیا جائے گا۔

  • پی آئی اے کی خلیج کے لئے پروازیں بحال،دبئی ایئر پورٹس بھی فعال

    پی آئی اے کی خلیج کے لئے پروازیں بحال،دبئی ایئر پورٹس بھی فعال

    پاکستان کی قومی ائیرلائن پی آئی اے نے خلیج کے لیے پروازیں بحال کر دی ہیں

    کراچی،لاہور اور اسلام آباد سمیت مختلف ائیرپورٹ سے 55 پروازوں کی روانگی میں تاخیر ہوئی ہے،کراچی سے جدہ، دوحہ اوراستنبول کے لیے 8 پروازیں منسوخ کی گئیں، اس کے علاوہ کراچی سے دبئی کے لیے غیر ملکی ائیرلائن کی 2 پروازیں منسوخ ہوئیں جب کہ لاہور سے شارجہ، مسقط اورریاض کے لیے 5 پروازیں منسوخ ہوئیں، شارجہ سے پشاور، دبئی اورابوظبی کےلیے 5 پروازیں منسوخ ہوئیں، قومی ائیرلائن کی لاہور سے مدینہ کی پرواز 13 گھنٹے تاخیرکاشکار ہوئی جب کہ لاہور سے دمام کی پروازب بھی تاخیرکا شکار ہے،اسلام آباد سے دبئی کے لیے قومی ائیرلائن کی پرواز15 گھنٹے تاخیر کاشکار ہوئی، بحرین سے اسلام آباد کی 2 پروازوں میں 4 گھنٹے سے زائدکی تاخیر ہوئی۔

    تہران پر امریکی حملے کے جواب میں ایران کی جانب سے قطر میں واقع امریکی فضائی اڈے پر میزائل حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں فضائی سفر مزید متاثر ہو گیا ہے۔ خطے میں کشیدگی کے پیش نظر کئی ممالک نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی تھی، جس کے باعث متعدد ایئر لائنز کو پروازیں منسوخ، موخر یا متبادل راستوں پر منتقل کرنا پڑا۔مشرق وسطیٰ سے گزرنے والے مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ روانگی سے قبل اپنی ایئر لائنز سے تازہ ترین صورت حال معلوم کریں۔

    قطر ایئر ویز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پروازوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے اور قطری فضائی حدود بھی بحال کر دی گئی ہے۔دبئی ایئرپورٹس نے بھی مکمل آپریشن بحال کر دیا،متحدہ عرب امارات میں دبئی ایئرپورٹس کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ دبئی کے ہوائی اڈوں پر "عارضی حفاظتی وقفے” کے بعد فل فلائٹ آپریشن دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔

    ایئر انڈیا نے مشرق وسطیٰ کے لیے تمام پروازیں معطل کر دیں،ایئر انڈیا نے اعلان کیا ہے کہ موجودہ کشیدہ حالات کے باعث مشرق وسطیٰ کے لیے تمام پروازیں فوری طور پر بند کر دی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی شمالی امریکا اور یورپ کے مشرقی ساحلی شہروں سے آنے اور جانے والی پروازیں بھی اگلے اعلان تک معطل رہیں گی۔

    سنگاپور ایئرلائنز نے 24 اور 25 جون کو سنگاپور سے دبئی جانے والی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ آسٹریلیا کی قومی ایئرلائن قنطاس نے تصدیق کی ہے کہ آسٹریلیا اور یورپ کے درمیان 24 جون کو روانہ ہونے والی پروازیں حسبِ معمول روانہ ہو رہی ہیں۔

  • جنگ بندی کا دورانیہ 12 گھنٹے،جس کے بعد جنگ کو باضابطہ ختم  تصور کیا جائے گا،ٹرمپ

    جنگ بندی کا دورانیہ 12 گھنٹے،جس کے بعد جنگ کو باضابطہ ختم تصور کیا جائے گا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اسرائیل کے درمیان مکمل باقاعدہ جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا،

    ڈونلڈٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ جنگ بندی تقریباً 6 گھنٹے بعد شروع ہو گی، دونوں ممالک اپنے جاری آخری فوجی مشن مکمل کر لیں گے، جنگ بندی کا دورانیہ 12 گھنٹے ہو گا جس کے بعد جنگ کو باضابطہ ختم تصور کیا جائے گا،سرکاری طور پرجنگ بندی کا آغاز ایران کرے گا،12 گھنٹے بعد اسرائیل جنگ بندی میں شامل ہو گا،24 گھنٹے مکمل ہونے پر 12 روزہ جنگ کے اختتام کو دنیا بھر میں سراہا جائے گا، ہر فریق کی جنگ بندی کے دوران دوسرا فریق پرامن رہے گا،سب کچھ منصوبے کے مطابق چلا تو میں دونوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،یہ ایک ایسی جنگ تھی جو برسوں چل سکتی تھی اور مشرق وسطیٰ تباہ ہوجاتا،

  • ایرانی حملے کے بعد قطر ایئر ویز کی دوحہ جانے والی پرواز کو برطانیہ واپس لوٹنا پڑا

    ایرانی حملے کے بعد قطر ایئر ویز کی دوحہ جانے والی پرواز کو برطانیہ واپس لوٹنا پڑا

    قطر کی فضائی حدود میں ایران کے میزائل حملے کے بعد قطر ایئر ویز کی ایک دوحہ جانے والی پرواز کو غیر متوقع طور پر واپس برطانیہ لوٹنا پڑا۔ یہ واقعہ خطے میں امریکی اور ایرانی کشیدگی کے بڑھنے کے درمیان پیش آیا ہے۔

    پرواز QTR36R شام 5:56 پر ترکی کے مغربی ساحل کے قریب پہنچنے کے بعد اچانک واپس مانچسٹر ہوائی اڈے کی جانب مڑ گئی۔ قطر ایئر ویز نے تقریباً 7:30 بجے اعلان کیا کہ قطر کی فضائی حدود بند ہونے کی وجہ سے تمام پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔قطر ایئر ویز نے اپنے سرکاری ٹوئٹر (X) پیغام میں کہا "قطر کی فضائی حدود بند ہونے کی وجہ سے قطر ایئر ویز کی پروازیں عارضی طور پر معطل کی گئی ہیں۔ ہم متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر متاثرہ مسافروں کی مکمل مدد کر رہے ہیں اور جیسے ہی فضائی حدود دوبارہ کھلے گی، پروازیں بحال کر دی جائیں گی۔ ہماری اولین ترجیح مسافروں اور عملے کی سلامتی ہے۔”

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب قطر نے ایران کے میزائل حملے کو روکا، جو کہ اس کے سرزمین پر واقع سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے، العدید ائیر بیس، کو نشانہ بنا تھا۔ قطر کی وزارت خارجہ نے اس حملے کو اپنی خودمختاری کی "صریح خلاف ورزی” قرار دیا اور کہا کہ وہ اس جارحیت کے مناسب اور متناسب جواب کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

    دوحہ کے آسمان پر دھماکوں اور چمکدار روشنیوں نے خوف و ہراس پھیلایا۔ علاقے میں ہوا بازی معطل کر دی گئی، جس میں قطر کے علاوہ بحرین اور کویت کی فضائی حدود بھی شامل تھیں۔ قطر کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،واشنگٹن میں ایک امریکی دفاعی اہلکار نے بتایا کہ العدید پر حملہ ایرانی میزائلوں نے کیا، جن کی قسم مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والی تھی۔ ایران کی نیشنل سیکیورٹی کونسل نے بھی اس حملے کی تصدیق کی اور دعویٰ کیا کہ اس سے قطر کو کوئی خطرہ نہیں پہنچا اور میزائلوں کی تعداد اتنی ہی تھی جتنی امریکی بمباری میں استعمال ہوئی تھی۔

  • جنگ بندی سے قبل ایران کے میزائل حملے،چار اسرائیلی ہلاک،عمارتیں تباہ

    جنگ بندی سے قبل ایران کے میزائل حملے،چار اسرائیلی ہلاک،عمارتیں تباہ

    یروشلم: ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث اسرائیل نے رات کے وقت اور منگل کی صبح تک چھ علیحدہ علیحدہ میزائل حملوں کی اطلاع دیتے ہوئے ایئر ریڈ الرٹس جاری کیے۔ یہ الرٹس تب دیے گئے جب دونوں ممالک کے درمیان ایک نازک جنگ بندی نافذ ہونے والی تھی۔

    اس دوران اسرائیل کے مختلف علاقوں میں ہوائی حملے کی وارننگ سائرن بار بار بجیں، کیونکہ ایران نے متعدد میزائل داغے، جن میں سے کچھ جنوبی شہر بیئر شیوا پر نشانہ بنے، جہاں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے۔رات بھر اور صبح کے وقت بھی اسرائیلی شہریوں کو بار بار حفاظتی پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت کی جاتی رہی، کیونکہ اسرائیل کی فضائی دفاعی نظام نے میزائلوں کی آمد کا پتہ لگایا۔ کچھ شہریوں نے عارضی طور پر پناہ گاہیں چھوڑیں تو دوبارہ سائرن بجنے کی وجہ سے واپس جانے کا حکم ملا۔

    یہ میزائل حملے اس وقت ہوئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا سمجھوتہ ہو گیا ہے۔ ایرانی اور اسرائیلی میڈیا دونوں نے جنگ بندی کے آغاز کی اطلاع دی، لیکن اس کے تفصیلی وقت اور شرائط کو لے کر اب بھی الجھن برقرار ہے۔صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا کہ جنگ بندی تقریباً چھ گھنٹے بعد شروع ہو گی، جو کہ مشرقی وقت کے حساب سے آدھی رات کے قریب تھی۔ آدھی رات کے بعد ایرانی اور اسرائیلی میڈیا نے خبر دی کہ جنگ بندی نافذ ہو چکی ہے۔

    ایرانی سرکاری نیوز چینل پریس ٹی وی نے کہا: "ایرانی حملوں کی چار لہروں کے بعد اسرائیلی قبضہ شدہ علاقوں پر جنگ بندی شروع ہو گئی ہے۔”

    نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر مختصر اعلان کیا کہ جنگ بندی اپنے نفاذ کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔اسرائیلی میڈیا چینل 12 اور وائی نیٹ نے بھی خبریں چلائیں کہ جنگ بندی کا آغاز ہو چکا ہے۔ایرانی سرکاری میڈیا نے منگل کی صبح اعلان کیا کہ جنگ بندی "دشمن پر عائد کر دی گئی ہے” لیکن اس کا ٹھیک وقت نہیں بتایا۔

    اسرائیل کی ہنگامی خدمات کے مطابق منگل کی صبح جنوبی اسرائیل میں ایک رہائشی عمارت کو ایرانی میزائل نے براہ راست نشانہ بنایا، جس سے کئی افراد محفوظ نکالے گئے۔ بیئر شیوا میں اس حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے، جنہیں ہلکی چوٹیں آئی ہیں۔اس ایرانی میزائل حملے کی وجہ سے ایک زوردار دھماکہ ہوا اور گہرے دھوئیں کے بادل اٹھے، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں اور سی این این نے تصدیق کی ہے۔حملے کے بعد کی تصاویر میں عمارت کے سامنے سڑک پر کنکریٹ کے ٹکڑے اور جلنے والے گاڑیوں کے ملبے نظر آتے ہیں۔ عمارت کی دیواریں تباہ ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے گھر کے اندر کے حصے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ سی این این کی تصدیق شدہ ویڈیوز میں امدادی کارکنوں کو ملبے میں چلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ایمرجنسی کارکن شمیرت سیلا نے سی این این کو بتایا، "ہم نے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا اور قریب پہنچ کر کئی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہوا پایا۔”رہائشی علاقے میں اسرائیلی جھنڈے کھڑکیوں سے لٹک رہے ہیں، جبکہ ایمرجنسی گاڑیوں کی لائٹس فلشر کر رہی ہیں، ویڈیوز اور تصاویر میں یہ مناظر واضح ہیں۔مقامی ریسکیو ٹیموں نے تین افراد کو زندہ نکالا ہے اور تلاش و بچاؤ کا عمل جاری ہے۔

  • بھارتی آبی جارحیت خطےکیلئے خطرہ، گنگامعاہدہ معطل کر کےبنگلہ دیش کاپانی روکنےکی تیاری

    بھارتی آبی جارحیت خطےکیلئے خطرہ، گنگامعاہدہ معطل کر کےبنگلہ دیش کاپانی روکنےکی تیاری

    بھارتی آبی جارحیت خطےکیلئے خطرہ: گنگامعاہدہ معطل کر کےبنگلہ دیش کاپانی روکنےکی تیاری کر رہا ہے

    پہلگام حملے کو جواز بنا کر جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے پورے خطے کے امن کو خطرات سے دوچار کردیا ہے ،سندھ طاس معاہدہ معطلی کے بعد اب بھارت نےبنگلہ دیش سے گنگامعاہدے پرنظرثانی کافیصلہ کرلیا،بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق "1996 کا بھارت -بنگلہ دیش گنگا معاہدہ 30 سال مکمل ہونےپر 2026 میں ختم ہونے والاہے”گنگا معاہدے کی شق نمبر 12 کے مطابق اس معاہدے کی تجدید دونوں فریقین کی باہمی رضامندی سے کی جائے گی،گنگامعاہدے کے مطابق خشک موسم خصوصاَ فرکا بیراج کے اطراف میں پانی کی تقسیم کو منصفانہ بناناتھا ، بھارت نے بنگلہ دیش کو آگاہ کیا ہے کہ ترقیاتی ضروریات کیلئے زیادہ پانی درکار ہے،
    بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق "پہلگام حملے سے پہلے بھارت گنگا معاہدہ 30 سال بڑھاناچاہتا تھا، مگر حالات یکسر بدل گئے”

    بھارت کے یکطرفہ فیصلے پر بنگلہ دیش نےتشویش کا اظہار کیاہے،جنگی جنون میں مبتلا بھارت کی آبی جارحیت جنوبی ایشیامیں ایک نئے بحران کو جنم دے سکتی ہے،

  • ایران کے قطر میں میزائل حملے اپنی قوم کو مطمئن کرنے کی کوشش

    ایران کے قطر میں میزائل حملے اپنی قوم کو مطمئن کرنے کی کوشش

    ایرانی میزائل حملے ناکام، امریکی اور قطری فضائی دفاع نے ناکارہ بنا دیا

    ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل حملے کسی بڑے نقصان کا سبب نہیں بنے کیونکہ امریکی اور قطری فضائی دفاعی نظاموں نے تمام میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے غالباً ہائپرسونک میزائل استعمال نہیں کیے تاکہ کسی قسم کے جانی نقصان سے بچا جا سکے اور یہ حملہ ایک علامتی جواب تھا جس کا مقصد اپنے شہریوں کے درمیان حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

    دوسری جانب اسرائیلیوں نے انڈینز کے ذریعے بلوچ، ایرانی اور پاکستانیوں کو اندرونی مسائل پیدا کرنے کے لیے کہا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس صورتحال میں سفارتی راستے ہی بہترین حل ہیں تاکہ خطے میں امن قائم رہے اور کسی بھی قسم کے عسکری تصادم سے بچا جا سکے۔ امریکہ اور قطر کی جانب سے بروقت حفاظتی اقدام نے حالات کو کشیدگی سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

  • صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کی درخواست "گڑگڑانے جیسے انداز میں” کی،ایرانی میڈیا

    صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کی درخواست "گڑگڑانے جیسے انداز میں” کی،ایرانی میڈیا

    ایرانی سرکاری میڈیا نے جنگ بندی کا اعلان کر دیا ،

    سی این این کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ دشمن پر جنگ بندی نافذ کر دی گئی ہے،جنگ بندی امریکی جارحیت کے جواب میں فوجی ردعمل کے بعد کی گئی،امریکی جارحیت کے جواب میں کامیاب میزائل آپریشن کے بعد جنگ بندی کی .ایرانی سرکاری میڈیا نے جنگ بندی کے نفاذ کے وقت کا اعلان نہیں کیا،

    دوسری جانب ایران نے اسرائیل پر صبح سے تیسرا میزائل حملہ کردیا۔ اسرائیل کے جنوبی شہر بیرشیبا میں میزائل گرنے سے تباہی ہوئی، 3 اسرائیلی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔

    یورپ اور مشرق وسطیٰ میں دیر رات تک جاری رہنے والی کشیدگی کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا ہے، تاہم اس جنگ بندی کے نفاذ اور اس کی شرائط کے بارے میں اب تک کوئی واضح معلومات نہیں ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان 12 دن سے جاری تصادم کے خاتمے کے حوالے سے یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران نے قطر میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا تھا۔صدر ٹرمپ نے پیر کی دیر رات مشرقی وقت کے مطابق اعلان کیا کہ مکمل جنگ بندی تقریباً چھ گھنٹے بعد یعنی منگل کی صبح اسرائیل کے وقت صبح 7 بجے شروع ہو جائے گی۔ قطر نے اس جنگ بندی کے معاملے میں ثالثی کی ہے

    ایرانی سرکاری ٹی وی نے منگل کی صبح اعلان کیا کہ دشمن پر جنگ بندی "مجبوری میں عائد کی گئی ہے” جو امریکہ کی جارحیت کے جواب میں ایران کی فوجی کارروائی کا نتیجہ ہے۔ ایران کے سرکاری نیوز چینل نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کی درخواست "گڑگڑانے جیسے انداز میں” کی۔ دوسری طرف ٹرمپ نے کہا کہ "اسرائیل اور ایران نے مجھے امن کے لیے رابطہ کیا۔”

    قبل ازیں قطر میں امریکی اڈے پر ایران کی جانب سے میزائل حملہ اس کے چند دن پہلے خالی کر دیے جانے کے بعد کیا گیا، جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایرانی حکام نے قطر کو اس حملے کی پیشگی اطلاع دی تھی۔