Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کراچی سے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے 4 دہشتگرد گرفتار

    کراچی سے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے 4 دہشتگرد گرفتار

    کراچی: اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) نے کراچی کے علاقے قائدآباد سے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے لیے کام کرنے والے چار دہشتگردوں کو گرفتار کرنے کا انکشاف کیا ہے۔

    ایس ایس پی ایس آئی یو شعیب میمن نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ گرفتار دہشتگرد 2024 میں دہشتگردی کی تربیت حاصل کرنے کے لیے سجاول کے راستے بھارت گئے تھے۔ایس ایس پی شعیب میمن نے مزید کہا کہ گرفتار دہشتگرد بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے خفیہ ایجنٹ ہیں جو ملک کے خلاف سازشوں میں ملوث تھے۔ ملزمان کے خلاف جاری تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ وہ بھارت میں ایک کرنل سے رابطے میں تھے جو انہیں دہشتگردی کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کی ہدایات فراہم کرتا تھا۔ایس ایس پی نے بتایا کہ گرفتار دہشتگردوں کے قبضے سے ان کے موبائل فونز برآمد کیے گئے جن سے ملک دشمن مواد، مشکوک رابطے، اور دہشتگردانہ منصوبوں کی تفصیلات حاصل ہوئی ہیں۔ ان مواد کی مدد سے مزید انکشافات متوقع ہیں جو دہشتگرد نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے مطابق یہ گرفتاری ملک میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ایک بڑا قدم ہے۔ ایس ایس پی شعیب میمن نے کہا کہ ایس آئی یو اپنی کارروائیاں تیزی سے جاری رکھے گی تاکہ ملک کو اندرونی و بیرونی خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔

  • "ائیر انڈیا” کی پرواز میں عملے سمیت متعدد مسافروں کی طبیعت خراب

    "ائیر انڈیا” کی پرواز میں عملے سمیت متعدد مسافروں کی طبیعت خراب

    ممبئی: بھارتی قومی ائیر لائن ائیر انڈیا کی لندن سے ممبئی آنے والی پرواز ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے، جب جہاز میں سوار سات افراد، جن میں دو کریو ممبرز بھی شامل ہیں، اچانک ایک جیسی بیماری کی لپیٹ میں آ گئے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، دوران پرواز ان افراد نے شدید پیٹ درد، چکر آنا اور متلی جیسی علامات ظاہر کیں، جس سے فضائی عملے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔ تاہم، فلائٹ کو بحفاظت اپنی منزل پر اتارنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ میں فضائی عملے نے بتایا کہ دوران سفر جب سات افراد کو اچانک یہ علامات محسوس ہوئیں تو عملے نے فوری طور پر ایمرجنسی پروٹوکول کا نفاذ کیا اور جہاز کی لینڈنگ کے فوراً بعد متاثرہ مسافروں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔ائیر انڈیا کے ترجمان نے واقعے پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ پرواز میں مسافروں کی اچانک بیماری کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور ابھی تک کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکالا جا سکا۔

    بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق، کیبن ڈپریشن یعنی جہاز کے کیبن میں آکسیجن کی کم سطح کو اس بیماری کی سب سے بڑی وجہ سمجھا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں مسافروں کو چکر آنا، متلی اور پیٹ درد جیسی علامات ہو سکتی ہیں۔ تاہم بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ کیبن میں آکسیجن کی سطح نارمل تھی، جس کے باعث فوڈ پوائزننگ کو بھی بیماری کی ایک ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

  • سپارکس اسمارٹ فونز کا پاکستانی مارکیٹ سے مبینہ خاتمہ، صارفین اور ڈیلرز پریشان

    سپارکس اسمارٹ فونز کا پاکستانی مارکیٹ سے مبینہ خاتمہ، صارفین اور ڈیلرز پریشان

    ایک کثیر الجہتی تحقیقات کے مطابق، جسے مارکیٹ ذرائع اور صنعت کے ڈیٹا نے تقویت دی ہے، سپارکس اسمارٹ فونز — جو ڈیپلائے گروپ کا ایک برانڈ ہے — پاکستان میں گہرے آپریشنل چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے اور ممکنہ طور پر مارکیٹ سے اپنی سرگرمیاں کم کر رہا ہے یا مکمل طور پر ختم کر رہا ہے۔ یہ صورتحال صارفین اور ڈیلرز دونوں کے لیے تشویش کا باعث بن چکی ہے۔

    سپارکس نے اپنا سب سے حالیہ فلیگ شپ ڈیوائس ایج 20 فروری 2025 میں بہت دھوم دھام اور ماہرہ خان کی جانب سے اعلیٰ سطحی توثیق کے ساتھ پیش کیا تھا۔ تاہم، جارحانہ مارکیٹنگ کے باوجود، صنعت کے تاثرات بتاتے ہیں کہ ایج 20 متوقع فروخت کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اس کے بعد کسی بھی نئے ماڈل کے اعلانات کی عدم موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سپارکس کو اپنی مصنوعات کی رینج کو تازہ کرنے میں R&D یا سپلائی چین کی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔علاوہ ازیں، سپارکس کے آفیشل سوشل میڈیا چینلز پر مئی 2025 کے وسط سے کوئی نئی پوسٹ نہیں کی گئی ہے، اور تازہ ترین مواد صرف پرانے ماڈلز پر مرکوز ہے۔ یہ طویل غیر فعالیت، جو عام طور پر مصنوعات کی لانچنگ اور کسٹمر کی مصروفیت کے لیے استعمال ہوتی ہے، مارکیٹنگ کی کوششوں میں تعطل کا اشارہ ہے، جو ایسے وقت میں برانڈ کی نمائش کو بری طرح متاثر کر رہا ہے جب حریف باقاعدہ طور پر اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں اور نئے موبائلز لانچ کر رہے ہیں۔

    ڈیپلائے گروپ کا کراچی میں سپارکس کے لیے درج کردہ دفتر کا پتہ اب خالی نظر آتا ہے۔ مقام پر کی گئی آزادانہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ احاطہ ایک غیر متعلقہ اسمارٹ فون اسمبلر نے لے لیا ہے۔ اگرچہ ڈیپلائے گروپ نے عوامی طور پر جگہ کی منتقلی یا فروخت کی تصدیق نہیں کی ہے، کمپاؤنڈ کے نئے مالک نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔حاصل ہونے والے درآمدی ڈیٹا کے مطابق، سپارکس (اور اس سے متعلقہ ادارے جیسے ڈیپلائے یا برانڈ ایکس) نے مئی اور جون 2025 کے لیے ہینڈ سیٹ کے اجزاء کی نہ ہونے کے برابر درآمدات ریکارڈ کیں۔ اپریل 2025 میں بھی صرف تقریباً 4,000 یونٹس کے اجزاء کی کلیئرنس ہوئی، جو بڑے پیمانے پر پیداوار یا انوینٹری کو دوبارہ بھرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ڈیلرز کی جانب سے موجودہ اسٹاک کو بھاری رعایت پر فروخت کرنے کی اطلاعات ہیں تاکہ نقصانات کو کم کیا جا سکے، جو کنزیومر الیکٹرانکس میں کسی برانڈ کے مارکیٹ سے نکلنے سے پہلے کی کلیئرنس کے رویے سے مطابقت رکھتی ہے۔

    پہلے کی رپورٹس میں سپارکس کے دو ڈیلرز کے کمپنی کی جانب سے یورپ کے دورے کے دوران "غائب” ہونے سے ہونے والے سنگین بدنامی کے نقصان کی تفصیلات دی گئی تھیں، جس سے تحقیقات کا آغاز ہوا اور کارپوریٹ نگرانی اور اخلاقیات کے بارے میں سوالات اٹھے۔ اس کے علاوہ، متعدد ڈیلرز نے وارنٹی کے دعووں کے حل نہ ہونے، اسپیئر پارٹس کی قلت، اور بعد از فروخت سپورٹ کی کمی کی شکایت کی ہے—یہ مسائل صارفین کے اعتماد اور ڈیلرز کے بھروسے کو ختم کر رہے ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ کچھ ڈیلرز نے سپارکس سے دوری اختیار کرنا شروع کر دی ہے، جس کی وجہ سروس کی فراہمی میں بار بار ناکامیاں ہیں۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے تو یہاں تک لکھا، "سپارکس موبائل نہ خریدیں۔ میرے موبائل کو فنگر پرنٹ کے مسئلے کی وجہ سے دو ماہ سے سپارکس وارنٹی سینٹر میں رکھا ہوا ہے، لیکن ابھی تک واپس نہیں کیا گیا۔ ان کے پاس اسپیئر پارٹس بھی نہیں ہیں۔ برا فون، بری سروس، غیر کارپوریٹ۔”

    اس سلسلے میں سپارکس اسمارٹ فونز/ڈیپلائے گروپ کے سی ای او ذیشان قریشی سے رابطہ کیا گیا۔ قریشی نے آپریشنز بند کرنے کے دعووں کو مسترد کیا اور یقین دلایا کہ وہ پوچھے گئے سوالات کا جواب دیں گے۔ انہوں نے پاکستان موبائل فون ایسوسی ایشن (PMPA) کا حوالہ دیا، جس کا مطلب یہ تھا کہ سپارکس اب بھی فعال ہے۔تاہم، PMPA حکام نے تصدیق کی کہ ڈیپلائے گروپ یا سپارکس فونز رجسٹرڈ ممبر نہیں ہیں، اور اس طرح وہ ایسوسی ایشن سے توثیق یا مدد کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ ان تبادلوں کے بعد، اس معاملے کی جانچ پڑتال پر سپارکس کی قیادت سے ایک قانونی نوٹس موصول ہوا، لیکن جاری پیداوار، شپمنٹ کے حجم، یا صنعت کے اداروں میں رکنیت کو ظاہر کرنے کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔

    پاکستان کا موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ/اسمبلی سیکٹر کافی حد تک بڑھا ہے، جس نے 2024 میں مقامی اسمبلی کے ذریعے ہینڈ سیٹ کی گھریلو مانگ کا تخمینہ 95% پورا کیا ہے۔ تاہم، پالیسی میں تبدیلیاں، ٹیکس کے دباؤ، اور مقامی طور پر اسمبل کیے جانے والے عالمی برانڈز سے سخت مقابلہ چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔

    اگر سپارکس واقعی پاکستان میں اپنے آپریشنز بند کر دیتا ہے، تو موجودہ ڈیوائس مالکان کو وارنٹی کی مرمت، اسپیئر پارٹس، یا سافٹ ویئر اپ ڈیٹس حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ڈیلرز کو بقیہ اسٹاک کے نقصانات اور چھوٹے مقامی برانڈز پر صارفین کے اعتماد میں کمی کا خطرہ ہے۔صنعت کے اسٹیک ہولڈرز نے تجویز دی ہے کہ PMPA اور متعلقہ حکام مقامی برانڈز سے رکنیت کی حیثیت، آپریشنل صحت، اور بعد از فروخت سپورٹ کی ضمانتوں کے بارے میں واضح انکشافات کا مطالبہ کرنے کے لیے میکانزم قائم کر سکتے ہیں۔ اس میں لازمی نوٹیفکیشن کی مدت یا ایسکرو پر مبنی وارنٹیاں شامل ہو سکتی ہیں تاکہ صارفین کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اگر کوئی برانڈ اچانک مارکیٹ سے باہر ہو جاتا ہے۔

    مارچ 2025 کے بعد پروڈکٹ پائپ لائن میں تعطل، مئی کے وسط سے سوشل میڈیا پر خاموشی، کم از کم درآمدی سرگرمی، خالی دفتر کے احاطے، صنعت ایسوسی ایشن میں عدم رکنیت، ڈیلرز کی رعایت شدہ قیمتوں پر کلیئرنس، اور پہلے کے بدنامی کے واقعات — یہ تمام اشارے مشترکہ طور پر سپارکس اسمارٹ فونز کے پاکستان میں آپریشنز کو کم کرنے یا بند کرنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اگرچہ کمپنی کی قیادت باضابطہ طور پر ان دعووں کو مسترد کرتی ہے، لیکن قابل تصدیق ثبوت کی عدم موجودگی اور بڑھتے ہوئے مارکیٹ سگنلز اہم آپریشنل سکڑاؤ کی تصدیق کرتے ہیں۔

    رپورٹ.زبیر قصوری،اسلام آباد

  • پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین  ویزا فری انٹری سمیت متعدد معاہدوں پر دستخط

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین ویزا فری انٹری سمیت متعدد معاہدوں پر دستخط

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مشترکہ وزارتی کمیشن اجلاس میں ویزا فری انٹری، مشترکہ سرمایہ کاری ٹاسک فورس اور مصنوعی ذہانت کے معاہدوں پر دستخط کردیے گئے۔

    وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مشترکہ وزارتی کمیشن کا 12 واں اجلاس ابوظبی میں ہوا جس کی صدارت وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور اماراتی ہم منصب شیخ عبداللہ بن زاید نے کی،مشترکہ کمیشن نے تجارت، توانائی اور صحت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون اور دونوں ممالک میں بین الوزارتی رابطہ کاری کوفروغ دینے پر اتفاق کیا، دونوں ممالک میں ڈپلومیٹک ویزا استثنیٰ اور مصنوعی ذہانت کے معاہدے پر دستخط کیے گئے جب کہ پاک امارات مشترکہ کمیشن کا 13واں اجلاس پاکستان میں منعقد کرنے پر اتفاق کیا گیا، مشترکہ وزارتی کمیشن اجلاس میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع، تعلیم اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا جب کہ خوراک، موسمیاتی تبدیلی، ریلوے، صحت اور افرادی قوت کے شعبوں میں بھی اشتراک بڑھانے کا عزم کیا گیا، اجلاس میں ویزا فری انٹری معاہدہ، مشترکہ سرمایہ کاری ٹاسک فورس اور مصنوعی ذہانت کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔

  • ایران نے جوہری نگرانی کے ادارے کے ساتھ تعاون معطل کر دیا

    ایران نے جوہری نگرانی کے ادارے کے ساتھ تعاون معطل کر دیا

    ایران نے اقوام متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے، انٹرنیشنل ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA)، کے ساتھ اپنا تعاون معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکی اور اسرائیلی ہوائی حملوں کے بعد آیا ہے جن میں 12 دنوں کے دوران ایران کے جوہری مراکز کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ ایرانی پارلیمنٹ نے اس بل کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت IAEA کے انسپکٹرز کو ملک کے افزودگی مراکز میں داخلے سے روک دیا جائے گا۔

    پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ "IAEA نے ایران کے جوہری مراکز پر حملے کی سخت مذمت کرنے سے انکار کیا، جس نے اس کی بین الاقوامی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "ایٹمی توانائی تنظیم ایران اب IAEA کے ساتھ تعاون روک دے گی جب تک کہ جوہری مراکز کی سلامتی کی مکمل ضمانت نہ دی جائے۔” اس بل کی حتمی منظوری سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی طرف سے دی جائے گی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ان کے بھیجے گئے بنکر بستر بم اور ٹامہاک میزائلز نے ایران کے جوہری مراکز کو مکمل تباہ کر دیا ہے اور ایران کی ایٹمی بم بنانے کی صلاحیت کو ختم کر دیا ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی زیادہ افزودہ یورنیئم کی بڑی مقدار موجود ہے اور ممکن ہے کہ اس کے پاس دیگر خفیہ مراکز بھی ہوں جہاں وہ ایٹمی مواد تیار کر رہا ہو۔

    IAEA کے سربراہ رافیل گروسّی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو خط لکھ کر تعاون بحال کرنے کے لیے ملاقات کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا، "IAEA کے ساتھ تعاون کی بحالی ایک کامیاب سفارتی معاہدے کی کلید ہے جو ایران کے جوہری پروگرام کے تنازعے کو حل کر سکتا ہے۔” گروسّی نے کہا کہ IAEA کے انسپکٹرز ابھی بھی ایران میں موجود ہیں اور کام شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ماہرین کے مطابق، ایران کی جانب سے IAEA کے ساتھ تعاون روکنا اس کے نیوکلیئر نان پرو لیفریشن ٹریٹی (NPT) کے تحت ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہو گی۔ تاہم، امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران اس معاہدے سے نکلنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔ RUSI کی پروفیشنل ڈاریا ڈولزیکووا کا کہنا ہے کہ NPT کے تحت کوئی ملک تین ماہ کا نوٹس دے کر معاہدے سے نکل سکتا ہے اگر اسے لگے کہ اس کے مفادات کو شدید خطرہ ہے، اور گزشتہ ہفتوں کے واقعات ایران کو یہ جواز فراہم کر سکتے ہیں۔

    مئی میں IAEA نے اطلاع دی تھی کہ ایران کے پاس 400 کلوگرام سے زیادہ 60 فیصد افزودہ یورنیئم موجود ہے، جو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہے۔ اگر ایران اس افزودگی کو 90 فیصد تک بڑھا دے تو وہ جدید اور ہلکے ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے جو میزائلوں پر نصب کیے جا سکتے ہیں۔

    اب تک یہ معلوم نہیں کہ امریکی حملہ ‘آپریشن مڈنائٹ ہتھ’ ایران کے فورڈو فیول افزودگی پلانٹ پر کتنا مؤثر رہا، جہاں افزودگی کی مشینیں 90 میٹر گہرائی میں چٹانوں اور کنکریٹ کے نیچے چھپی ہوئی ہیں۔ خدشہ ہے کہ ایران کے پاس اور بھی خفیہ ایٹمی مراکز ہو سکتے ہیں جن کی اطلاع اسرائیلی موساد اور امریکی سی آئی اے کے پاس نہیں ہے۔

    یہ اقدام عالمی برادری کے لیے ایک تشویش کا باعث ہے کیونکہ ایران کے اس قدم سے خطے میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

  • عمران خان سے ملاقات،علی امین سپریم کورٹ پہنچ گئے

    عمران خان سے ملاقات،علی امین سپریم کورٹ پہنچ گئے

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لیے سپریم کورٹ پہنچ گئے۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لیے جسٹس منصور علی شاہ کی عدالت میں پیش ہوئے ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی لاہور میں ہیں لہٰذا ان سے رجوع کریں، لطیف کھوسہ اور ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل بھی عدالت میں پیش ہوئے،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایک ارجنٹ مسئلہ درپیش ہے ، خیبرپختونخوا اسمبلی کا بجٹ سیشن چل رہاہے ، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست ارجنٹ سنی جائے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جوڈیشل سائیڈ پر ہم کچھ نہیں کر سکتے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی یا رجسٹرار سپریم کورٹ سے رجوع کریں ،یہی بہترین طریقہ ہے آپ کا وقت بچے گا،
    آپ نے غلط دروازہ کھٹکھٹایا ہے،چیف جسٹس یحییٰ آفرید ی پریکٹس پروسیجر کمیٹی کے چیئرمین ہیں ،

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ بجٹ منظوری کا پراسس اسمبلی میں چل رہا ہے،پارٹی سربراہ کا ایک ویژن ہوتا ہے، ہماری بار بار درخواست کے باوجود بانی سے ملاقات نہیں کرائی گئی،تحریک انصاف کی بجٹ کمیٹی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرے گی،بانی پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کو خط بھی لکھا تھا، خط پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بڑے اچھے ریمارکس دیئے تھے،بانی پی ٹی آئی کے خط پر کوئی عمل نہیں ہوا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ چیف جسٹس یحیی ٰ آفریدی لاہور میں ہیں،چیف جسٹس سے رجوع کریں،جوڈیشل سائیڈ پر ہم کچھ نہیں کر سکتے،بہتر یہ ہے رجسٹرار یا چیف جسٹس سے رجوع کریں ،

    بعد ازاں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کےلیے پچھلے کئی دنوں سے کوشش کررہے تھے، عمران خان کی ہدایت پر آج سپریم کورٹ آیا ہوں،عمران خان نے سپریم کورٹ کو خط بھی لکھا تھا، خط کے ساتھ بانی پی ٹی آئی نے ثبوت بھی لگائے تھے، خط پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بڑے اچھے ریمارکس دیے تھے مگر خط پر کوئی عمل نہیں ہوا،ہماری باربار کی درخواست کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائی گئی، ہمارے خلاف یہ ایک سازش ہو رہی ہے، بجٹ منظوری کا عمل اسمبلی میں چل رہا ہے، تحریک انصاف کی بجٹ کمیٹی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرے گی۔

  • ابھینندن کو گرفتار کرنے والے میجر معیز  شہید کی نماز جنازہ ادا

    ابھینندن کو گرفتار کرنے والے میجر معیز شہید کی نماز جنازہ ادا

    جنوبی وزیرستان میں خوارج کے خلاف آپریشن کے دوران شہید ہونے والے میجر معیز کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق میجر سید معیز عباس شاہ شہید کی نمازجنازہ چکلالہ گیریژن راولپنڈی میں ادا کی گئی جس میں فیلڈمارشل عاصم منیر، وزیرداخلہ اور اعلیٰ عسکری و سول حکام نے شرکت کی،اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ میجر سید معیز عباس نے وطن کے دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ دیا، اُن کی یہ قربانی بہادری اور حب الوطنی کی اعلیٰ روایتوں کی علمبردار ہے، قوم ان کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتی ہے، ہم اپنے شہدا کےمقروض ہیں، شہدا کا لہو ہمارے وطن کی بنیاد ہے۔ شہید کا جسدِ خاکی ان کے آبائی علاقے روانہ کر دیا گیا ہے جہاں انہیں فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا۔

    یاد رہےکہ 27 فروری 2019کو پاکستان نےلائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے والے 2 بھارتی لڑاکا طیاروں کو مار گرایا تھا اور ایک پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کو زندہ گرفتار کرلیا تھا،پاکستانی حدود میں گرنےکے بعد پاکستانی شہری ابھینندن کو تشدد کا نشانہ بنارہے تھےکہ میجر معیز اپنی ٹیم کے ساتھ وہاں پہنچے اور ابھینندن کو پاکستانی شہریوں سے بچایا اور گرفتار کرلیا

  • ٹرمپ  کو  نوبیل امن انعام 2026دیا جائے،امریکیوں نے بھی خط لکھ دیا

    ٹرمپ کو نوبیل امن انعام 2026دیا جائے،امریکیوں نے بھی خط لکھ دیا

    واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام 2026 کے لیے باضابطہ طور پر نامزد کر دیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق جارجیا سے ریپبلکن رکن کانگریس بڈی کارٹر نے صدر ٹرمپ کی نامزدگی کے لیے ناروے کی نوبیل کمیٹی کو ایک خط لکھا ہے، جس میں صدر ٹرمپ کو اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں ادا کیے گئے کردار کے اعتراف میں یہ انعام دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

    خط میں بڈی کارٹر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے دنیا میں دہشت گردی کے سب سے بڑے ریاستی معاون کو مہلک ترین ہتھیاروں کے حصول سے روکنے اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان مسلح تنازع کو ختم کرنے میں ایک غیرمعمولی اور تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ ان تمام اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنا چاہیے۔

    اس سے قبل پاکستان نے بھی امریکی صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے سفارش کی تھی۔ حکومت پاکستان نے نوبیل کمیٹی کو ایک خط ارسال کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی مداخلت نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ کو ٹال دیا۔ یہ سفارش حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران صدر ٹرمپ کی فیصلہ کن سفارتی کوششوں کی وجہ سے کی گئی تھی۔

    صدر ٹرمپ نے خود بھی اس ضمن میں کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ بندی کے سبب انہیں نوبیل امن انعام ملنا چاہیے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ نوبیل انعام زیادہ تر لبرلز کو دیا جاتا ہے اور ممکن ہے کہ انہیں یہ انعام نہ ملے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ ماہ 10 مئی کو پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے عروج پر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں، جسے عالمی برادری نے سراہا تھا۔اب تازہ ترین طور پر اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان بھی صدر ٹرمپ نے کیا ہے، جس کے بعد ان کی نوبیل امن انعام کے لیے نامزدگی کو عالمی سطح پر نمایاں اہمیت دی جا رہی ہے۔

  • جنوبی وزیرستان میں آپریشن،11 دہشتگردجہنم واصل،میجر سمیت دو جوان شہید

    جنوبی وزیرستان میں آپریشن،11 دہشتگردجہنم واصل،میجر سمیت دو جوان شہید

    سیکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کیخلاف جنوبی وزیرستان میں آپریشن کرتے ہوئے 11بھارتی اسپانسرڈ خوارج کو جہنم واصل کر دیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان کے علاقے سرا روغہ میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کامیاب آپریشن کیا،علاقے میں بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ فتنہ الخوارج کے کارندے موجود تھے، آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 11 بھارتی سرپرستی میں سرگرم خوارج جہنم واصل جبکہ 7 دہشت گرد زخمی ہو گئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے دو بہادر سپوت مادر وطن پر قربان ہو گئے، شہداء میں میجر سید معیز عباس شاہ (عمر 37 سال، ضلع چکوال کے رہائشی) اور لانس نائیک جبران اللہ (عمر 27 سال، ضلع بنوں کے رہائشی) شامل ہیں،میجر معیز شاہ شہید ایک دلیر اور نڈر افسر تھے، جنہوں نے ماضی میں بھی دہشت گردوں کے خلاف کئی کامیاب کارروائیوں کی قیادت کی۔ آپریشن کے بعد علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی چھپے ہوئے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد کو تلاش کر کے ختم کیا جا سکے، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک کو بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی سے پاک کرنے کے عزم پر قائم ہیں اور ہمارے جوانوں کی ایسی لازوال قربانیاں ہمارے حوصلے اور عزم کو مزید مضبوط بناتی ہیں.

    وزیرِاعظم کا جنوبی وزیرستان آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین، شہداء کو زبردست خراج عقیدت
    اسلام آباد: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے جنوبی وزیرستان میں ہندوستان کے زیرِ سرپرستی سرگرم فتنے، الخوارج کے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن پر مسلح افواج کے افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانے پر بھرپور کارروائی کرتے ہوئے 11 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا، جو کہ قابلِ فخر کارنامہ ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہماری افواج دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ہر لمحہ تیار اور چوکس ہیں۔وزیرِ اعظم نے اس آپریشن کے دوران ارضِ وطن کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کرنے والے میجر سید معیز عباس شاہ اور لانس نائیک جبران اللہ کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ان شہداء کی قربانیاں قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں اور ان کی جُرات و بہادری کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔شہداء کے درجات کی بلندی اور اُن کے لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا "مجھ سمیت پوری قوم کو اپنے شہداء اور ان کے اہلِ خانہ پر فخر ہے۔”وزیرِ اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ "وطن عزیز کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ہم دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کرکے دم لیں گے۔””ارضِ وطن کی حفاظت کے غیر متزلزل عزم میں، میں اور پوری قوم اپنی بہادر افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔”وزیرِ اعظم نے قومی یکجہتی اور عوامی اعتماد کو سیکیورٹی اداروں کی کامیابی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد اور ثابت قدم ہے۔

  • محرم الحرام کے  ایام کو محبت وپیار سے گزاریں،سبیل اکرام

    محرم الحرام کے ایام کو محبت وپیار سے گزاریں،سبیل اکرام

    سیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے آج یہاں مختلف وفود سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام میں امن وامان یقینی بنانے کےلئے علما ، انتظامیہ اور میڈیا اپنا کردار ادا کرے ۔محرم اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہی نہیں بلکہ یہ حرمت والا مہینہ بھی ہے اس مہینے کی حرمت کا تقاضا ہے کہ ہم پاکستان کو اسلام کا قلعہ ، امن وامان کا گہوارہ اور صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا عہد کریں ۔ محرم کی حرمت کا ایک تقاضہ یہ بھی ہے کہ ہم اس مہینے کو مسنون طریقے کے مطابق گزاریں ۔

    انھوں نے کہا ہے کہ اسلام امن ، محبت اور رواداری کا دین ہے۔ امن محبت اور روداری اسلام کاحسن ہے۔ اسلام امن ، محبت اور روداری کے ذریعے سے ہی دنیا میں پھیلا ہے ۔ دنیا امن کےلئے ترس رہی ہے جبکہ امن وامان صرف اسلام کی تعلیمات کے ذریعے سے ہی ممکن ہے ،لیکن اس کےلئے ضروری ہے کہ ہم خود سب سے پہلے حقیقی معنوں میں مسلمان بن جائیں۔انھوں نے کہا قرآن کا پیغام اور ہمارے نبی ﷺ کی تعلیمات بہت اعلیٰ، خوبصورت اور سراپا امن ہیں جبکہ کچھ شدت پسند اسلام کا چہرہ مسخ کررہے اور مذہب کے نام پر مسلمانوں کو آپس میں لڑاتے ہیں حالانکہ اسلام نے مسلمان کی عزت کو حرم کعبہ سے بھی زیادہ حرمت والا قرار دیا ہے اسی طرح ہمارے نبی ﷺ نے چار مہینوں کو بھی حرمت والا قراردیا ہے جن میں ایک مہینہ محرم کا ہے ۔ حرمت والے مہینے کا آغاز ہونے والا ہے لہذا ہمیں رسول مقبول ﷺ کے ان فرامین سے رہنمائی لینے کی ضرورت ہے جو انھوں نے محرم کی حرمت اور فضلیت کے بارے میں بیان فرمائے ہیں ۔ محرم کا اصل حق یہ ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کےلئے اپنے دل صاف کریں، دلوں سے کدورتیں ، نفرتیں ، دشمنیاں اور تعصب دور کریں ، اپنے کلمہ گو بھائیوں کےلئے ریشم کی طرح نرم وملائم بن جائیں اور محرم الحرام کے ان ایام کو محبت وپیار سے گزاریں اسلئے کہ اسلام سراپا خیر وبرکت ہے اور رحمت کا دین ہے ۔