Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاک فوج کا جھنگ، فیصل آباد، چنیوٹ  اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ریسکیو آپریشن جاری

    پاک فوج کا جھنگ، فیصل آباد، چنیوٹ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ریسکیو آپریشن جاری

    پاک فوج کا جھنگ، فیصل آباد، چنیوٹ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ریسکیو آپریشن جاری ہے

    پنجاب کے سیلابی علاقوں میں پاک فوج کے دستے ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں مصروف عمل ہیں،پاک فوج کی جانب سے آبادی کو بچانے کیلئے جھنگ اور فیصل آباد میں تین مقامات پر بند میں شگاف ڈالے گئے ہیں،بند میں شگاف ڈالنے کے بعد ایک تا ڈیڑھ لاکھ کیوسک پانی نیچے کی سمت منتقل ہو گیا ہے،پاک فوج کے جوان متاثرین سیلاب کو ہیلی کاپٹر اور کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں،فیصل آباد کے متاثرہ دیہات میں پھنسے 15,800 افراد میں سے 14,050 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے،ریسکیو کیے جانے والے افراد میں بزرگ شہری، بچے اور خواتین بھی شامل ہیں،تاندلیانوالہ تحصیل میں سیلاب متاثرین کے لیے 5 ریلیف کیمپس، 18 میڈیکل کیمپس اور 6 ریسکیو کیمپس فعال ہیں ،ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بھی پاک فوج کے ریسکیو 1122 کیساتھ مل کر ریسکیو اینڈ ریلیف کیمپس قائم کردیئے

    ریلیف کیمپس میں پاک فوج کی جانب سے سیلاب متاثرین کی ضروری طبی امداد اور مفت ادویات دی جا رہی ہیں،پاک فوج کی سیلابی پانی کی فوری نکاسی اور متاثرہ دیہات میں ریلیف سرگرمیاں مزید تیز کر دی گئیں ہیں ،متاثرین سیلاب کی جانب سے پاک فوج کے ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کو سراہا جا رہا ہے،مشکل کی اس گھڑی میں پاک فوج عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے،

    سیلاب سے متاثرہ علاقے قصور میں پاک فوج کا رات بھر ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری رہا
    قصور میں شدید سیلابی صورتحال کے پیش نظر پاک فوج کے جوان رات بھر متاثرین سیلاب کو کشیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کرتے رہے،پاک فوج کے جوانوں نے متاثرین سیلاب کو ریسکیو کرنے کے ساتھ ساتھ طبی امدادی اور مفت ادویات بھی فراہم کیں،رات گئے متاثرین سیلاب جن میں بچے، بزرگ اور خواتین شامل تھی کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا،

  • ترکی کی غیر قانونی جوا اور دھوکہ دہی کے خلاف کارروائی، گرفتاریاں

    ترکی کی غیر قانونی جوا اور دھوکہ دہی کے خلاف کارروائی، گرفتاریاں

    ترکی کے وزیر داخلہ علی یرلکایا نے غیر قانونی جوا اور شدید دھوکہ دہی کے خلاف جاری آپریشنز کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ یرلکایا نے اپنے فیس بک پیج پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ترک حکام کی جانب سے حالیہ دنوں میں متعدد کارروائیاں کی گئی ہیں تاکہ غیر قانونی جوا اور دھوکہ دہی کے جرم کا خاتمہ کیا جا سکے۔ ان آپریشنز کا مقصد پانچ صوبوں میں کیے گئے مختلف چھاپوں کے ذریعے منظم جرائم کا سدباب کرنا تھا۔

    ان کارروائیوں کے دوران 43 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، جن کے بینک اکاؤنٹس میں ایک ارب ترک لیرا کی مشترکہ رقم موجود تھی۔ ان 43 مشتبہ افراد میں سے آٹھ کو گرفتار کیا گیا، جبکہ 29 افراد پر عدالتی نگرانی عائد کی گئی ہے۔ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں اور اس وقت تحقیقات جاری ہیں۔مشتبہ افراد پر الزام ہے کہ وہ غیر قانونی جوا کی سہولت فراہم کرنے اور ویب سائٹس کے ذریعے پیسوں کی منتقلی میں ملوث ہیں۔ ان افراد نے سوشل میڈیا پر جعلی ای بائیک، موبائل فون کی فروخت اور سرمایہ کاری کے مشورے دینے والے اشتہارات چلائے، جن کے ذریعے شہریوں کو دھوکہ دیا گیا۔

    یہ اشتہارات ترک پراسیکیوٹر کے دفتر کی توجہ کا مرکز بنے، جس کے بعد حکام نے ان 43 افراد کے خلاف تحقیقات شروع کیں۔ چھاپے کے دوران بہت ساری موبائل فونز، سم کارڈز، کمپیوٹرز، بینک کارڈز اور دیگر ڈیجیٹل مواد ضبط کیا گیا، جو دھوکہ دہی کی سرگرمیوں سے متعلق سمجھا جا رہا تھا۔

    ترکی اکیلا ایسا ملک نہیں جو غیر قانونی جوا کے مسئلے سے نمٹ رہا ہو۔ حالیہ ڈیٹا کے مطابق امریکہ میں تیس فیصد جوا غیر قانونی طور پر ہو رہا ہے۔ اسی طرح برطانیہ میں ویزا اور ماسٹرکارڈ دونوں نے غیر قانونی جوا کے خطرے کو اجاگر کیا ہے، جب کہ برازیل میں ریگولیٹرز اس بڑھتے ہوئے غیر قانونی عمل کو روکنے کے لیے وسائل اکٹھا کر رہے ہیں۔

  • وزیر آباد، مریم نواز کے دورے کے بعد فلڈ ریلیف کیمپ ختم، متاثرین پریشان

    وزیر آباد، مریم نواز کے دورے کے بعد فلڈ ریلیف کیمپ ختم، متاثرین پریشان

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے وزیر آباد میں سیلاب متاثرین کے فلڈ ریلیف کیمپ کے دورے کے بعد متاثرین نے کیمپ میں فراہم کیا گیا کھانا کھا کر واپس جانا شروع کر دیا، اور کیمپ کو تالے لگا دیے گئے۔

    مریم نواز کے دورے سے قبل سوہدرہ کے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول میں سیلاب زدگان کے لیے فلڈ ریلیف کیمپ قائم کیا گیا تھا، جہاں خیمے، کرسیاں، گدے، دوائیاں اور کھانے کے انتظامات کیے گئے تھے تاکہ متاثرین کو تمام ممکن سہولیات فراہم کی جا سکیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اسکول میں قائم کیمپ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سیلاب متاثرین سے ملاقات کی اور سیلاب میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مریم نواز نے متاثرہ بچوں کے ساتھ کھانا بھی کھایا اور ان سے ہمدردی کا مظاہرہ کیا۔مریم نواز نے متاثرین کو یقین دہانی کروائی کہ حکومت پنجاب ان کی مدد کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور انہیں تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

    تاہم، مریم نواز کے دورے کے بعد کیمپ کو بند کر کے سامان واپس بھجوا دیا گیا۔ متاثرین نے کھانا کھانے کے بعد کیمپ چھوڑ دیا اور کیمپ کے دروازے تالے لگا دیے گئے۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا ہے کہ متاثرین کھانا کھانے کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ گئے ہیں، اور کل صبح دوبارہ ڈاکٹروں اور عملے کے ہمراہ کیمپ فعال کیا جائے گا۔

    پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بھی وضاحت کی کہ سیلاب متاثرین دن کے اوقات میں کیمپ آتے ہیں تاکہ کھانا اور طبی سہولت حاصل کر سکیں، مگر وہ طویل قیام کے لیے اپنے رشتہ داروں کے گھروں کو ترجیح دیتے ہیں۔

  • اتحاد ٹاؤن میں کن کن لوگوں کی انویسمنٹ،مبشر لقمان کا مریم نواز سے معصومانہ سوال

    اتحاد ٹاؤن میں کن کن لوگوں کی انویسمنٹ،مبشر لقمان کا مریم نواز سے معصومانہ سوال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو چیلنج دیتے ہوئے سوال کا جواب مانگ لیا اور کہا کہ جواب دینا پڑے گا یہ مت سمجھیے گا کہ کوئی اور خبر آ گئی تو اس سوال کو بھول جائیں گے،

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مریم نواز صاحبہ آپ سے میرا ایک سوال ہے، اس کا جواب دلوا دیجیے گا اپنی کنیز کو کہہ دیجیے گا یا ڈی جی پی آر، سیکرٹری اطلاعات کوئی بھی دے سکتا ہے،یہ بتائیں کہ میں نے سنا کہ اتحاد ٹاؤن میں آپ کے بیٹے کی، چوہدری منیر، کھوکھروں کی بہت بڑی انویسمنٹ ہے، اس کی قیمت بڑھانے کے لئے کیا کیا گیا، ابھی خبر نہیں آئی، یہ سوال پوچھ رہا ہوں، مجھے جو چڑیل بتا رہی ہے کہ چیف سیکرٹری نے 40 ارب اتحاد ٹاؤن پر لگا دیا، وہاں کوئی تھیم سٹی بنانی ہے جس سے اتحادٹاؤں کی قیمت اور بڑھ جائے گی،اگر یہ صحیح ہے تو میں نے ایک رائے دینی ہے کیونکہ میں عمر میں بڑا ہوں،یہ یاد رکھنا کفن کی جیبیں نہیں ہوتیں،جتنا مرضی کمانا ہے کما لیں، بچانا ہے بچا لیں کفن کی جیب نہیں ہوتی،مجھے کنفرم کر دینا یہ خبر صحیح ہے یا نہیں ورنہ یہ نہ کہنا کہ کوئی اور آفت آئے گی، دس بارہ لوگ مر جائیں گے تو یہ خود ہی بھول جائے گا باقی خبروں کے پیچھے لگ جائے گا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب تو آپ نے پنجاب اسمبلی میں قانون بھی بنا دیا ہے کہ ہم تو یہ بھی نہیں پوچھ سکتے کہ اشتہاروں کی مد میں آپ نے کتنا پیسہ خرچا ،اگر حکومت بتا دے گی تو سب کو پتہ چل جائے گا کہ میڈیا والوں کو کتنی رشوت دی گئی.کس کس کا منہ بند کیا گیا، میڈیا والوں کو بھی پتہ چلنا چاہئے کہ کفن کی جیب نہیں ہوتی، سیلاب پر کام کچھ نہ کچھ شروع کر دیں، آپ کے دوروں سے کچھ نہیں ہوتا،امدادی کام رک جاتا ہے، پولیس پروٹوکول دینا شروع کر دیتی ہے، ریسکیو ادارے آپ کو دکھانے کے لئے کاروائی کرتے ہیں، سیکرٹریٹ میں بیٹھ کر کام کریں گی تو ادارے صحیح کام کریں گے، اسوقت پاک فوج گلگت بلتستان،خیبر پختونخوا،پنجاب ہر جگہ کام کر رہی ہے، پاک فوج کو سلام ہے ،لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی جتنی سیاسی جماعتیں ہیں،وہ کہیں بھی سیلاب میں نظر نہیں آ رہیں، دعوت اسلامی نظر آ رہی ہے، ان کے کارکنان رضاکار جان کو خطرے میں ڈال کر امدادی سامان پہنچا رہے ہیں، مرکزی مسلم لیگ بھی کام کر رہی ہے، انکے رضاکاروں کو سلام ہے، بے لوث ہو کر لوگوں کو ریسکیو کر رہے ہیں، ضروریات زندگی کی چیزیں پہنچا رہے ہیں،یہ سب سے بہتر ہیں، سیاسی جماعتوں سے تو پاک فوج ہی بہتر ہے.

  • خیبرپختونخوا سے گلگت،پنجاب،ہر سیلاب متاثرہ ضلع میں مرکزی مسلم لیگ نظر آئے گی،تابش قیوم

    خیبرپختونخوا سے گلگت،پنجاب،ہر سیلاب متاثرہ ضلع میں مرکزی مسلم لیگ نظر آئے گی،تابش قیوم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے کہا ہے کہ خیبر پختونخواہ کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،گلگت میں بھی ہمارے رضاکار امدادی کاموں میں مصروف ہیں،پنجاب کے 30 اضلاع میں مرکزی مسلم لیگ کام کر رہی ہے،کشتی سروس کے ذریعے شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے،لاہور سمیت سیلاب متاثرہ اضلاع میں دس ہزار سے زائد رضاکار متحرک ہیں،پکی پکائی خوراک کشتیوں کے ذریعے بھی متاثرین تک پہنچائی جا رہی ہے.

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے 365 نیوز کے سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ کے فلڈ پر خصوصی پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے کیا، تابش قیوم کا کہنا تھا کہ 15 دن ہو گئے ہیں ہم سیلاب زدہ علاقے میں ہیں، بونیر میں سیلاب آیا وہاں پہنچے ،امدادی کام شروع کیا، مینگورہ میں سیلاب آیا تو وہاں ٹیمیں پہنچیں،مینگورہ میں دو دریا نالے آپس میں ملتے ہیں، کئی محلے ہیں جہاں سینکڑوں گھر ہیں، ایسی گلیاں ہیں جہاں صرف ٹرالیاں جا سکتی ہے،گھروں میں پانی آیا تو پانچ چھ چھ فٹ مٹی گھروں میں ہے،مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار ٹرالیوں کے ذریعے گھروں سے مٹی نکال رہے ہیں،شاید دو گھر بھی مکمل کلیئر نہ ہوئے ہوں اتنی مٹی وہاں ہے،

    ایک اور سوال کے جواب میں تابش قیوم کاکہنا تھا کہ لوگ اپنے طور پر کام کر رہے تھے، ہمارے رضاکار پہنچے کنویں دب گئے،صاف پانی کے ٹینکر پہنچائے، وہاں پر تھے تو پتہ چلا کہ غذر میں سیلاب آ گیا، ہزاروں ایکڑ کے باغات تباہ ہو گئے، چالیس چالیس فٹ ملبہ پہاڑوں سے اترا ہے، اب وہ لوگ کہتے ہیں کہ پانی کے پائپ دے دیں، ایک لاکھ فٹ پانی کا پائپ وہاں پہنچایا ہم شگر کی طرف جانا چاہ رہے تھے کہ پنجاب میں سیلاب آ گیا، پنجاب میں 30 اضلاع میں مرکزی مسلم لیگ ریسکیو و ریلیف آپریشن جاری ہے، راوی میں پانی کم ہوا ہے لیکن اگلے تین چار دن بارشیں ہونی ہیں،پانی میں پھر ا ضافہ ہو گا،غذر میں دائین گاؤں میں مصنوعی جھیل بن گئی اور آبادی کا کوئی راستہ نہیں رہا، ہم کشتی پر وہاں جا رہے تھے تو ہماری کشتی تقریبا الٹ گئی تو پانی کتنا ٹھنڈا ہے اور کتنی شدت ہے، کشتی چلانا کتنا مشکل کا کام ہے،وہ گلیشئر کا پانی تھا،

  • سیلاب ،لاہور میں تباہی،20 ہزار گھر ڈوب گئے،ایک لاکھ افراد بے گھر

    سیلاب ،لاہور میں تباہی،20 ہزار گھر ڈوب گئے،ایک لاکھ افراد بے گھر

    لاہور میں سیلاب نے تباہی مچا دی، 20 ہزار سے گھر ڈوب گئے، ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو گئے، خواتین، بچوں سمیت متاثرین کھلے آسمان تلے رہنےپر مجبور ہو چکے ہیں،پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے خیمہ بستی لگا دی، حکومت مدد کو نہ آئی،پولیس صرف شہریوں کو سیلابی پانی کے قریب جانے سے روکنے پر تعینات ہے،شہریوں کا قیمتی سامان،جانور پانی میں بہہ گئے،خواتین کی چیخ و پکار، مردوں کی دہائیاں، زندگی کی جمع پونجی ختم ہو گئی

    بھارتی آبی جارحیت کے نتیجے میں آنے والا سیلاب، جو نہ صرف پانی کا طوفان تھا بلکہ ایک دردناک المناک حقیقت بھی، موہلنوال کے بیس ہزار سے زائد گھروں کو اپنی گہرائی میں لے گیا۔ راوی کے کنارے بستا ہوا موہلنوال، آج بدقسمت اور بے یار و مددگار انسانوں کی بستی بن چکا ہے۔ وہی گھر جو کبھی مسکراہٹوں کی گواہی دیتے تھے، آج پانی کی لپیٹ میں آکر صرف سنسان یادیں بن کر رہ گئے ہیں۔ بیس ہزار سے زائد گھر، جن میں زندگی کی خوشیاں، خواب، یادیں بند تھیں، ایک لمحے میں پانی کے بے رحم ہتھیاروں میں بہہ گئے۔ وہ گھر، جن کی پہلی منزلیں اب پانی کے نیچے دب گئیں، اور سنگل سٹوری مکانات کی چھتوں کے اوپر سے بھی پانی گزر گیا.موہلنوال کے باسی، جنہوں نے اپنی محنت کی کمائی سے اپنے بچوں کے لئے چھت بنائی، آج وہی چھت ان کے سر سے چھن گئی۔ ایک لاکھ سے زائد انسان، جن میں خواتین، بچے، بوڑھے اور جوان شامل ہیں، بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کپڑوں کے سوا کچھ بھی ساتھ نہیں، نہ کوئی سامان، نہ کوئی آسرا، بس درد اور دکھ کی ایک کہانی ہاتھ میں ہے۔

    خواتین کی بے بسی کی چیخیں، بچوں کی بے سروسامانی، مردوں کی عاجزانہ دہائیاں، دل دہلا دینے والی یہ صورت حال، جو ہر انسان کے دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ جانور، قیمتی سامان، اور زندگی کی جمع پونجی سب سیلاب کے پانی میں بہہ گئی۔ وہی پانی جس نے بستی کو ویران کر دیا، ان خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔حکومت کی بے حسی اور خاموشی دل دہلا دینے والی ہے۔ جب سیلاب نے تباہی مچائی، تو حکومتی اہلکار کہاں تھے؟ موہلنوال کے گھروں میں انسانی زندگی کی حفاظت کے لئے کوئی مدد کو نہ آیا۔ پولیس کی بھاری نفری صرف شہریوں کو پانی کے قریب جانے سے روکنے پر مامور ہے،ایسے وقت میں، پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے مظلوموں کا سہارا بن کر کشتی سروس شروع کی، تین کشتیوں کے ذریعے نہ صرف شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا بلکہ جانوروں اور سامان کو بھی بچانے کی کوشش کی گئی۔ خیمہ بستی قائم کی گئی جہاں متاثرین کو کھانے، طبی سہولیات اور راحت فراہم کی جا رہی ہے، لیکن یہ سب کچھ تب بھی کافی نہیں جب تک حکومتی سرپرستی کا احساس نہ ہو۔مرکزی مسلم لیگ لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی امدادی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں، مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات طہٰ منیب نے بھی موہلنوال کا دورہ کیا اور سیلاب متاثرین سے ملاقات کے علاوہ امدادی کاموں کا جائزہ لیا، موہلنوال میں مرکزی مسلم لیگ نے خیمہ بستی بھی قائم کر دی ہے جہاں بے گھر افراد مقیم ہیں، خیمہ بستی میں متاثرین میں تین وقت کا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ میڈیکل کیمپ بھی لگایا گیا ہے جہاں علاج معالجہ اور مفت ادویات کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے، مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کی بحالی تک امدادی سرگرمیاں جاری رکھیں گے

    موہلنوال کی ایک متاثرہ خاتون کی آواز، جو دلوں کو ہلا دینے والی ہے، آج ہر پاکستانی کی آنکھوں کے سامنے رونے کی صدا بن گئی ہے،خاتون کا کہنا تھا کہ ہمارا کچھ نہیں بچا، بچے کندھوں پر اٹھائے، سامان پانی میں بہہ گیا، گھر مکمل ڈوب چکا ہے، نہ پہننے کو کپڑے، نہ کھانے کو کچھ، پنجاب کی وزیراعلیٰ کہاں ہے؟ کیا ہم لوگ پتھر ہیں جو ہماری طرف کوئی دیکھنے والا نہیں؟،ایک اور متاثرہ شہری نے کہا، "ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ پانی نہیں آئے گا، لیکن رات کے اندھیرے میں پانی آ گیا۔ اگر تھوڑی دیر اور ہوتی تو ہم سب پانی میں بہہ جاتے۔ مرکزی مسلم لیگ کے شکر گزار ہیں کہ وہ ہمارے لئے موجود ہیں، ورنہ حکومت کی کوئی نشان نہیں۔”

    یہ لاہور ہے، جہاں انسانیت اپنی آخری حدوں پر ہے،سیلاب کی یہ تباہی صرف پانی کی لپیٹ نہیں، بلکہ انسانوں کی بھلائی، امید، اور مستقبل کی تباہی ہے۔جہاں سیلاب نے نہ صرف زمین کو دھو ڈالا، بلکہ انسانیت کی شریانوں کو بھی کاٹ دیا۔ جہاں آنکھوں میں آنسو، دلوں میں خوف، اور ہاتھوں میں خالی پن ہے۔ یہاں کا ہر ایک انسان ایک زندہ المیہ بن کر رہ گیا ہے۔یہ وقت ہے کہ حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں، اور فوری طور پر متاثرین کی بحالی اور مدد کے لئے بھرپور اقدامات کریں۔ نہیں تو یہ دردناک مناظر ہماری تاریخ کے اوراق میں ایک سیاہ باب کی طرح رقم ہو جائیں گے، جسے یاد کرنا بھی انسانیت کے لئے باعث شرم ہوگا۔

  • راوی میں 40 سال پانی نہیں آیا، لوگ دریا کی زمین پر کاشت کرتے، ڈی جی پی ڈی ایم اے

    راوی میں 40 سال پانی نہیں آیا، لوگ دریا کی زمین پر کاشت کرتے، ڈی جی پی ڈی ایم اے

    پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے پانی کی گزر گاہوں کو خالی کرنا پڑے گا ورنہ جو ہو رہا وہی ہوتا رہے گا۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایات ہیں کہ سیلاب سے متاثرہ عوام کے مویشیوں کو بھی بچایا جائے، اب تک 3 لاکھ 174 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا جبکہ مویشیوں کے لیے چارے کا بھی بندوبست کیا جا رہا ہے،اب تک سیلاب کے باعث 20 افراد کا انتقال ہو چکا ہے اور سب سے زیادہ اموات گوجرانوالہ میں رپورٹ ہوئیں، حکومت پنجاب کی جانب سے سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے کی امدادی رقم دی جائےگی۔

    انہوں نے کہا کہ آج بھی فیصل آباد، سرگودھا ڈویژن، راجن پور اور ڈی جی خان میں بارش کی پیشگوئی ہے، 2 ستمبر تک اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے، انتظامیہ الرٹ ہے اور اربن فلڈنگ کی صورت میں پیشگی اقدامات کی ہدایات کر دی ہیں، سیلاب سے لوگوں کی فصلوں کو بہت نقصان پہنچا ہے، ہم مربوط طریقے سے فصلوں کے نقصانات کے سروے کی طرف جا رہے ہیں، جن لوگوں کا نقصان ہوا ان کا ازالہ کیا جائے گا، موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے، موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر رکھے بغیر کوئی بھی ترقیاتی کام کریں گے تو اس میں نقصان اٹھائیں گے، پانی کی گزر گاہوں کو خالی کرنا پڑے گا ورنہ وہی ہوگا جو رہا ہے، وزیراعلیٰ کے واضح احکامات ہیں کہ پانی کی گزر گاہوں کو فوری خالی کرایا جائے، راوی میں 40 سال پانی نہیں آیا، لوگ دریا کی زمین پر کاشت کرتے ہیں، دریائے راوی اور ستلج کی گزرگاہوں پر کاشت فصلیں متاثر ہو چکی ہیں، راوی میں لاہور سے 1988 کے بعد سے سب سے بڑا پانی کا ریلا گزرا ہے۔

  • دریائے راوی، امدادی کاموں کے دوران لائف بوٹ میں سانپ گھس گیا

    دریائے راوی، امدادی کاموں کے دوران لائف بوٹ میں سانپ گھس گیا

    دریائے راوی میں شدید سیلاب کی صورت حال کے پیش نظر جاری امدادی کارروائیوں کے دوران ایک دلچسپ اور سنسنی خیز واقعہ پیش آیا، جب ریسکیو اہلکاروں کی لائف بوٹ میں اچانک ایک زہریلا سانپ گھس گیا۔ اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہوگئی ہے، جس میں اہلکار لکڑی کی مدد سے سانپ کو لائف بوٹ سے نکالتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دریائے راوی میں مختلف متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی جان و مال کی حفاظت اور بچاؤ کے لیے کام کرنے والے ریسکیو اہلکار نہایت ہمت اور دلیری سے کام کر رہے تھے کہ اچانک ان کی لائف بوٹ میں سانپ داخل ہوگیا۔ اہلکاروں نے جلد از جلد لکڑی کا استعمال کرتے ہوئے اس خطرناک جانور کو لائف بوٹ سے نکالا، جس پر دریا کے کنارے کھڑے افراد نے ان کی بہادری کو داد دی اور شاباشی دی۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شاہدرہ کے مقام پر دریائے راوی میں سیلاب کا پانی انتہائی بلند سطح پر پہنچ چکا ہے، جس کی وجہ سے قریبی رہائشی علاقے جیسے فرخ آباد، عزیز کالونی، امین پارک، افغان کالونی، شفیق آباد اور مریدوالا شدید متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور بچاؤ کے کام جاری ہیں۔علاقائی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں دن رات محنت کر رہی ہیں تاکہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو فوری مدد پہنچائی جا سکے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ محفوظ جگہوں پر رہیں اور امدادی ٹیموں کے کام میں تعاون کریں تاکہ نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔دریائے راوی میں اس سیلابی صورتحال نے لوگوں کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، مگر ریسکیو اہلکاروں کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت نے عوام کے دل جیت لیے ہیں، خاص طور پر اس واقعے نے امدادی ٹیموں کی جانفشانی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

  • کراچی،  پولیس نے چار سالہ بچے کے اغواء کی کوشش ناکام بنا دی

    کراچی، پولیس نے چار سالہ بچے کے اغواء کی کوشش ناکام بنا دی

    شہر قائد میں مددگار 15 پولیس نے ایک چار سالہ بچے کے اغواء کی کوشش کو بروقت اطلاع اور فوری کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا ہے۔

    مددگار 15 کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، ایک شہری نے پولیس کو اطلاع دی کہ کچھ افراد بچے کو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اطلاع ملتے ہی مددگار 15 کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور اطلاع دہندہ کی نشاندہی پر مشتبہ افراد کا تعاقب شروع کیا۔ پولیس کی تیز رفتاری اور مؤثر حکمت عملی کے باعث ملزمان مجبور ہو کر بچے کو گاڑی میں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ بچے کو فوری طور پر اس کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ وہ محفوظ رہے۔ مزید قانونی کارروائی کے لیے مشتبہ گاڑی کو علاقہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تحقیقات کی جا سکیں۔

    مددگار 15 پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک یا غیر معمولی واقعہ کی صورت میں فوراً اطلاع دیں تاکہ ایسے سنگین واقعات کو بروقت روکا جا سکے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،عافیہ کیس کا بینچ تبدیل

    اسلام آباد ہائیکورٹ،عافیہ کیس کا بینچ تبدیل

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس اسلام آباد ہائی کورٹ کے دوسرے بینچ کو منتقل کردیا گیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں موسم گرما کی تعطیلات کے بعد ججز کا نیا ڈیوٹی روسٹر جاری کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق عدالت عالیہ کے 9 ججز سنگل بینچز میں فرائض سرانجام دیں گے جب کہ 5 ڈویژن بینچز بھی آئندہ ہفتے دستیاب ہوں گے،روسٹر کے مطابق جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان سنگل بینچز کا حصہ نہیں ہوں گے، اس وجہ سے ان کے سنگل کیسز دوسرے ججز کو منتقل کر دیے گئے ہیں، تاہم دونوں ججز کو ٹیکس سے متعلق مقدمات کے لیے ڈویژن بینچ میں شامل کیا گیا ہے،اسی طرح اہم مقدمات کی منتقلی میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس بھی شامل ہے، جو جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت سے جسٹس انعام امین منہاس کو منتقل کر دیا گیا ہے۔

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے حال ہی میں وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کو توہینِ عدالت کے نوٹسز جاری کیے تھے اور یکم ستمبر تک جواب طلب کیا تھا تاہم اب بینچ تبدیل کر دیا گیا ہے،نئے روسٹر کے تحت آئندہ ہفتے اسلام آباد ہائیکورٹ میں 9 سنگل اور 5 ڈویژن بینچ مختلف مقدمات کی سماعت کریں گے۔