Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • دریا  کنارے کسی غریب کا ہوٹل نہیں،طاقتور شخصیات کے ریزورٹ ہیں،مصدق ملک

    دریا کنارے کسی غریب کا ہوٹل نہیں،طاقتور شخصیات کے ریزورٹ ہیں،مصدق ملک

    وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مصدق ملک کا کہنا ہے ملک میں ایلیٹ کلچرنگ ہے، دریا کنارے طاقتور شخصیات کے ریزورٹ ہیں جہیں بچانے کے لیے پوری پوری بستیاں اجاڑ دی گئیں۔

    جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مصدق ملک کا کہنا تھا ڈیمز اور کینالز کے معاملے پر صوبوں کے درمیان شک کی فضا ہے، ہر صوبے کو دوسرے صوبے پر شک ہے کہ وہ میرا پانی روک لے گا، بلوچستان کو شک ہے، سندھ کو پانی ملتا ہے اور سندھ انہیں پانی نہیں دیتا، ڈیمز اور کینالز کے معاملے پر بات کی جائے تو اتفاق رائے نہیں ہوتا، صوبوں کے درمیان شک کی فضا ختم کرنے کا حل ٹیلی میٹری ہے جس پر کام شروع ہو چکا ہے، ایک آدھ سال میں ٹیلی میٹری کا کام مکمل ہونے کی توقع ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں سینیٹر مصدق ملک کا کہنا تھا دریا کے اندر لوگوں نے کھیتی باڑی کی ہوئی ہے، ملک میں ایلیٹ کلچرنگ ہے، دریا کے کنارے کسی غریب کا ہوٹل نہیں، ہر طاقتور آدمی کا ریزورٹ ہے، 10 لوگوں کے ریزورٹس کو بچانے کے لیے پوری پوری بستیاں اجاڑ دی گئیں، سیلاب سے سرگودھا متاثر ہونا شروع ہو گیا ہے، جب پنجند پر تمام دریا جب اکٹھے ہوں گے تو توقع ہے کہ ریلا 10 لاکھ کیوسک تک ہو گا،پیشگی اطلاعات پر لوگوں اور مویشیوں کو نکالا جاتا ہے، ایک گاؤں میں 30 لوگ کہہ رہے تھے کہ ہم نہیں جائیں گے، منت کرکے انہیں نکالا، آج وہاں پانی موجود ہے،تحصیل اور ڈسٹرکٹ لیول پر اگر پانی کے ذخائر نہیں ہوں گے تو آپ کیا کریں گے؟ ہمیں ہر جگہ پر پانی کے نیچرل ریزرو بنانا پڑیں گے۔

  • مودی جعلی  ڈگری اسکینڈل، بی جے پی آر ایس ایس کے جھوٹے بیانیے کی قلعی کھل گئی

    مودی جعلی ڈگری اسکینڈل، بی جے پی آر ایس ایس کے جھوٹے بیانیے کی قلعی کھل گئی

    مودی جعلی ڈگری اسکینڈل نے بی جے پی آر ایس ایس کے جھوٹے بیانیے کی قلعی کھول دی

    شفاف بھارت کے دعوے کھوکھلے نکلے، مودی سرکار اپنی ڈگری کا سچ عوام کو نہ دکھا سکے،غریب ڈگری نہ دکھائے تو جیل، مودی ڈگری چھپائیں تو قانون اندھا ، نیےبھارت میں انصاف دفن ہوچکا،ڈگری اسکینڈل پر پردہ ڈالنے کی نئی کوشش، دہلی ہائی کورٹ نے عوام کا حقِ جانکاری چھین لیا،دی وائر کی رپورٹ کے مطابق "دہلی ہائی کورٹ نے مودی کی بیچلر ڈگری کی معلومات فراہم کرنے کا سینٹرل انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) کا حکم کالعدم قرار دے دیا”دہلی ہائی کورٹ نے مودی کی ڈگری کو ذاتی معلومات قرار دے کر تفصیلات ظاہر کرنے کی اجازت سے روک دیا ، محض عوامی عہدہ رکھنے سے کسی کی ذاتی معلومات عوامی نہیں ہوجاتیں، دہلی ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ تعلیمی ریکارڈ افشا نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ اعتماد اور رازداری کے زمرے میں آتا ہے ،دی وائر کے مطابق فیصلہ 175 صفحات پر مشتمل، عدالت نے ڈگری کی تفصیلات مکمل طور پر ذاتی قرار دے دیں، ہائی کورٹ نے چھ ماہ بعد فیصلہ سنایا، 27 فروری کی سماعت کے بعد رائے محفوظ تھی، شہریت کے ثبوت کے لیے شہریوں پر دباؤ کے درمیان مودی کی ڈگریوں کا تنازعہ دوبارہ شدت اختیار کر چکا ہے،

    دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر کانگریس جنرل سکریٹری جیرام رامیش نے بیان دیتے ہوئے کہا "مودی کی تعلیمی ڈگری پوشیدہ رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے، دیگر تمام افراد کی ڈگریاں عوامی ہیں، لیکن وزیراعظم کی تفصیلات کیوں پوشیدہ رکھی جا رہی ہیں”رائٹ ٹو انفارمیشن اور شفافیت کی کارکن انجلّی بھاردواج نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہائی کورٹ کا فیصلہ بہت مایوس کن ہے کیونکہ جمہوریت میں لوگوں کو معلومات کا حق حاصل ہے سپریم کورٹ کے مطابق انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو اپنے تعلیمی، مالی اور مجرمانہ ریکارڈ افیڈاویٹ پر ظاہر کرنا لازمی ہے، امید ہے کہ وزیراعظم خود دہلی یونیورسٹی سے اپنا رول نمبر اور 1978 کے گریجویٹس کے مارکس جاری کروائیں گے،

    مودی راج میں جمہوریت کا جنازہ نکل چکا، عدالت صرف طاقتور کی ڈھال، غریب بےیار و مددگار رہ گئے

  • پاکستان کا  آرمی راکٹ فورس کمانڈ  کے قیام کا اعلان،بھارت کیلئے دفاعی چیلنج

    پاکستان کا آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے قیام کا اعلان،بھارت کیلئے دفاعی چیلنج

    پاکستان نے یومِ آزادی کے موقع پر ایک تاریخی اور انقلابی دفاعی قدم اٹھاتے ہوئے آرمی راکٹ فورس کمانڈ (ARFC) کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے 14 اگست کو قوم سے خطاب میں اس نئی فورس کے قیام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنانے اور دشمن کی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، آرمی راکٹ فورس پاکستان کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی "کویڈ پرو کو پلس” کے تحت مؤثر انداز میں عملدرآمد کی مکمل صلاحیت فراہم کرے گی۔ یہ فورس نہ صرف بھارت کی بڑھتی عسکری سرگرمیوں اور میزائل دوڑ کا جواب ہے، بلکہ پاکستان کی روایتی جنگی صلاحیتوں میں کئی گنا اضافہ کرے گی۔حال ہی میں ہونے والے معرکۂ حق میں پاکستان نے "فتح-1” اور "فتح-2” راکٹ سسٹمز کے ذریعے بھارتی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا۔ ان حملوں میں بھارت کی متعدد دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے دشمن کو بھاری نقصان پہنچا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی نے بھارتی افواج کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا اور یہ واضح کر دیا کہ پاکستان اپنے دفاع کے لیے ہر سطح پر تیار ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق، آرمی راکٹ فورس کمانڈ محض ایک عارضی یا علامتی اقدام نہیں بلکہ پاکستان کی طویل المدتی دفاعی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔ اس کے ذریعے پاکستان کو دشمن کے خلاف کسی بھی محاذ پر گہرے، تیز اور درست حملے کرنے کی طاقت حاصل ہو گی۔

    مودی سرکار کے بڑھتے ہوئے جنگی جنون اور عسکری جنونیت کے پیش نظر پاکستان کا یہ فیصلہ بروقت اور فیصلہ کن ثابت ہوا ہے۔ نئی راکٹ فورس نہ صرف بھارت کے لیے ایک مستقل دفاعی چیلنج ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بھی قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

  • پولینڈ میں ایئر شو کے دوران ایف-16 جنگی طیارہ گر کر تباہ

    پولینڈ میں ایئر شو کے دوران ایف-16 جنگی طیارہ گر کر تباہ

    پولینڈ کے وسطی شہر راڈوم میں ایک ایف-16 لڑاکا طیارہ ایئر شو کی ریہرسل کے دوران گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں پائلٹ ہلاک ہو گیا۔ یہ حادثہ جمعرات کو پیش آیا اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے۔

    موقع پر موجود افراد نے بتایا کہ طیارہ ایروبیٹک مشقوں کے دوران بیرل رول کر رہا تھا کہ اچانک کنٹرول کھو بیٹھا اور زمین پر جا گرا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارہ رن وے پر آگ کی لپیٹ میں آ کر کئی میٹر تک پھسلتا رہا، اور پھٹ گیا۔پولینڈ حکومت کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ یہ حادثہ 31 ویں ٹیکٹیکل ایئر بیس کے قریب شہر پوزنان کے علاقے میں ہوا۔ ترجمان نے کہا، "یہ ہمارے ایئر فورس کے لیے ایک بڑا نقصان ہے اور ہم اس پر گہرے دکھ میں ہیں۔”خوش قسمتی سے، اس حادثے میں کسی بھی عام شہری کو نقصان نہیں پہنچا، تاہم پائلٹ کی ہلاکت نے فوج اور ملک بھر میں غم و افسوس کی لہر دوڑا دی ہے۔

    حادثے کے فوری بعد پولینڈ کی مسلح افواج نے ایئر شو کو منسوخ کر دیا ہے جب کہ حادثے کی وجوہات ابھی تک سامنے نہیں آئیں۔ حکام نے مزید تفصیلات جاری کرنے سے گریز کیا ہے، لیکن تحقیقات جاری ہیں۔

  • پنجاب،سیلاب متاثرہ علاقوں میں‌تعلیمی ادارے مزید ایک ہفتہ بند کرنے پر غور

    پنجاب،سیلاب متاثرہ علاقوں میں‌تعلیمی ادارے مزید ایک ہفتہ بند کرنے پر غور

    پنجاب حکومت سیلاب متاثرہ علاقوں میں تعلیمی ادارے ایک ہفتے کیلئے بند رکھنے پر غورکررہی ہے۔

    چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی زیرصدارت پی ڈی ایم اے کا اجلاس ہوا جس میں ریلیف کمشنر پنجاب اور ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا شریک ہوئے جب کہ صوبائی وزرا خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی،اجلاس میں کلینک آن وہیلز کو سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں فوری روانہ کرنے کے احکامات دیے گئے جب کہ متاثرہ علاقوں میں تعلیمی اداروں کو ایک ہفتے کے لیے بند رکھنے پرغور بھی کیا گیا، پی ڈی ایم اے اجلاس میں ننکانہ، شیخوپورہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ کے دریائی بیلٹ کے علاقوں کو فوری خالی کرانے کی ہدایات کی گئی جب کہ جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے کے لیے رواز پل پر شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    اجلاس میں چیف سیکرٹری نےسیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ٹینٹ ولیج قائم کرنے، تمام اضلاع کے میڈیکل کیمپس میں ضروری ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

  • پاک فوج کا سیالکوٹ، نارووال ،گوجرانوالہ اور ہیڈ خانکی میں ریسکیو آپریشن جاری

    پاک فوج کا سیالکوٹ، نارووال ،گوجرانوالہ اور ہیڈ خانکی میں ریسکیو آپریشن جاری

    پاک فوج کا سیالکوٹ، نارووال ،گوجرانوالہ اور ہیڈ خانکی میں ریسکیو آپریشن جاری ہے

    پنجاب کے سیلابی علاقوں میں پاک فوج کے دستے ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں مصروف عمل ہیں،پاک فوج کے جوان متاثرین سیلاب کو ہیلی کاپٹر اور کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں،پاک فوج کے دستوں نے گجرانوالہ اور ہیڈ خانکی میں بھی متاترین سیلاب کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا،سیالکوٹ اور نارووال میں بھی سیلاب میں گھرے افراد کی محفوظ مقامات پر منتقلی جاری ہے،ریسکیو کئے جانے والے افراد میں بزرگ شہری، بچے اور خواتین بھی شامل ہیں،پاک فوج نے سول انتظامیہ کیساتھ مل کر ریسکیو اینڈ ریلیف کیمپس بھی قائم کئے ہیں،ریلیف کیمپس میں پاک فوج کی جانب سے سیلاب متاثرین کی ضروری طبی امداد کے انتظامات بھی کئے گئے ہیں

    متاثرین سیلاب کی جانب سے پاک فوج کے ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کو سراہا جا رہا ہے،مشکل کی اس گھڑی میں پاک فوج عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے

  • راہول کی ریلی میں مودی کو گالی دینے والا گرفتار

    راہول کی ریلی میں مودی کو گالی دینے والا گرفتار

    کانگریس رہنما راہول گاندھی کی پول کے دوران جاری ‘ووٹر یاترا’ کے موقع پر ایک شخص نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی والدہ کے خلاف نازیبا الفاظ کہے، جس کے بعد داربھنگہ پولیس نے اسے گرفتار کر لیا ہے۔
    پولیس نے بتایا کہ واقعہ کے سلسلے میں سِمری تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی اور ایک ملزم کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

    اس سے قبل ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک شخص کانگریس کا جھنڈا تھامے ہوئے وزیر اعظم مودی کے خلاف ہندی میں گالی گلوچ کر رہا تھا۔ یہ واقعہ راہول گاندھی کی ‘ووٹ چوری’ کے خلاف احتجاج کی تقریب کے دوران پیش آیا۔ اس کے بعد بی جے پی نے معاملہ درج کرایا اور کانگریس سے معذرت کا مطالبہ کیا۔ پٹنہ میں بھی اس واقعہ کے حوالے سے راہول گاندھی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے وزیر اعظم کے خلاف استعمال کی گئی زبان کی شدید مذمت کی اور اسے ملک کے جمہوری نظام پر ایک بدنما داغ قرار دیا۔ انہوں نے کانگریس کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "راہول گاندھی کی قیادت میں کانگریس سیاست اپنی سب سے نچلی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ وہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ایک غریب ماں کا بیٹا 11 سالوں سے وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھا ہے اور ملک کو ترقی کی راہ پر لے جا رہا ہے۔”

    بی جے پی کے صدر جے پی نڈا نے بھی اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم مودی اور ان کی والدہ کے خلاف گالیاں "اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر گئی ہیں”۔ انہوں نے راہول گاندھی اور آر جے ڈی کے رہنما تیجسوی یادو سے معذرت کا مطالبہ کیا، جو اس ریلی کا حصہ تھے۔بہار کے وزیراعلیٰ نیتیش کمار نے واقعہ کو "نا مناسب” قرار دیا اور کہا، "کانگریس اور آر جے ڈی کے پلیٹ فارم سے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی والدہ کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال انتہائی غیر مناسب ہے، اور میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔”تاہم، کانگریس کے رہنما پاون کھیڑا نے اس واقعہ کی تردید کی اور کہا کہ بی جے پی غیر متعلقہ مسائل اٹھا کر اہم موضوعات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

  • کراچی میں فائرنگ سے جعلی خواجہ سرا کی موت

    کراچی میں فائرنگ سے جعلی خواجہ سرا کی موت

    کراچی کے علاقے قائد آباد میں ڈی سی آفس کے قریب نامعلوم ملزم کی فائرنگ سے جعلی خواجہ سرا جاں بحق ہو گیا۔

    پولیس کے مطابق، جاں بحق ہونے والے کی شناخت 35 سالہ سجاد ولد بشیر کے نام سے ہوئی ہے، جو جعلی خواجہ سرا تھا۔ مقتول رات کے وقت میک اپ کر کے اور خواتین کے کپڑے پہن کر سڑکوں پر گھومتا تھا۔واقعے کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ نامعلوم ملزم نے سجاد کو نشانہ بنایا اور فائرنگ کرکے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ جائے وقوعہ پر پولیس نے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔مزید برآں، پولیس نے مقتول کے ساتھ کمرے میں رہنے والے ایک شخص کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے تاکہ قتل کے محرکات اور ملزم کی شناخت کا پتہ چلایا جا سکے۔

  • یمن،انصاراللہ سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم احمد غالب اسرائیلی حملے میں جاں بحق

    یمن،انصاراللہ سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم احمد غالب اسرائیلی حملے میں جاں بحق

    یمن کے دارالحکومت صنعا کے جنوبی علاقے حدا میں اسرائیلی فضائی حملے میں حوثی رہنما اور وزیراعظم احمد غالب ہلاک ہوگئے ہیں۔

    روسی میڈیا کے مطابق، احمد غالب اپنے گھر پر بمباری کا شکار ہوئے، جس میں ان کے ساتھ تین دیگر ساتھی بھی مارے گئے۔انصاراللہ نے گزشتہ سال 10 اگست کو احمد غالب کو وزیراعظم مقرر کیا تھا۔ وہ حوثیوں کی سپریم سیاسی کونسل کے اہم رکن بھی تھے اور تنظیم کی سیاسی قیادت میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔

    دوسری جانب، یمنی وزارت دفاع نے اسرائیلی حملوں میں اپنی قیادت کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل کشی اور قحط سالی کیخلاف کارروائیوں کو جاری رکھے گی۔اسرائیلی فوج نے حالیہ حملوں میں انصاراللہ کے متعدد رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ چار روز قبل بھی اسرائیل نے یمن میں فضائی کارروائیاں کی تھیں، جن میں کم از کم 10 افراد جاں بحق اور 90 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

  • راوی، چناب اور ستلج نے تباہی مچا دی، ہزاروں متاثر

    راوی، چناب اور ستلج نے تباہی مچا دی، ہزاروں متاثر

    پنجاب کے تین بڑے دریا راوی، چناب اور ستلج نے شدید سیلابی صورت حال پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں دریاؤں کے کنارے آباد گاؤں، قصبے اور فصلیں مکمل طور پر زیر آب آ گئی ہیں۔ ہزاروں لوگ اپنی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے ساتھ ساتھ حالیہ موسلا دھار بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ دریائے چناب، ستلج اور راوی کے پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث لاہور کے کئی علاقے سیلاب کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔پنجاب کے مختلف شہروں اور دیہی علاقوں میں دریاؤں کے کنارے آباد بستیاں پانی میں ڈوب گئی ہیں۔ کئی لوگ مکانوں کی چھتوں پر پناہ لیے ہوئے ہیں جبکہ بعض شہری اپنے بچی کُچی سامان کے ساتھ محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔وزیرآباد، قصور، نارووال، حافظ آباد، کمالیہ، منڈی بہاؤالدین، بہاول نگر، سیالکوٹ، سرگودھا، وہاڑی اور پاکپتن سمیت متعدد اضلاع میں سیلابی پانی نے زمینی رابطہ منقطع کر دیا ہے اور کئی عارضی بند بھی ٹوٹ چکے ہیں۔فیصل آباد کے علاقے تاندلیانوالہ میں دریائے راوی کی پانی کی سطح میں اضافے کے باعث نشیبی علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔دریائے چناب کے چنیوٹ پل پر پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں پانی کی آمد 830100 کیوسک تک پہنچ گئی ہے، جو کہ خطرناک حد تصور کی جا رہی ہے۔دریائے راوی کے شاہدرہ مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، جس کے باعث فرخ آباد، عزیز کالونی، امین پارک، افغان کالونی، شفیق آباد اور مریدوالہ جیسے علاقے متاثر ہوئے ہیں۔پارک ویو سوسائٹی میں بھی پانی پہنچ چکا ہے

    ڈپٹی کمشنر راجن پور شفقت اللہ مشتاق نے خبردار کیا ہے کہ دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آ سکتا ہے۔ نشیبی علاقوں سے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے۔ فلڈ ریلیف کیمپس بھی دریائے سندھ کے قریب قائم کر دیے گئے ہیں۔محکمہ صحت، لائیو اسٹاک اور ریسکیو ٹیمیں پوری قوت کے ساتھ متحرک ہیں اور حفاظتی بندوں کو مضبوط بنانے کے لیے کام جاری ہے۔ پولیس بھی کچے کے علاقوں میں ریسکیو آپریشنز کر رہی ہے تاکہ سیلاب متاثرین کی مدد کی جا سکے۔

    ملتان میں بھی دریائے چناب کا سیلابی ریلہ 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر شہر کی حدود میں داخل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ شہر کی حفاظت کے لیے ہیڈ محمد والا پر بریچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ پانی کو کنٹرول کیا جا سکے اور شہریوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو حکام، مقامی رضا کار، پاک فوج اور پاکستان رینجرز امدادی کاموں میں مصروف ہیں تاکہ لوگوں کو بروقت بچایا جا سکے اور متاثرین کو ضروری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ دونوں رہنماؤں نے متاثرین کی فوری مدد اور امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔