Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • دہلی ، پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب سے ایک اور مشتبہہ شخص گرفتار

    دہلی ، پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب سے ایک اور مشتبہہ شخص گرفتار

    دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب سیکورٹی انتظامات ایک مرتبہ پھر شدید سوالات کے دائرے میں آ گئے ہیں۔ ہفتہ کو سی آئی ایس ایف نے پارلیمنٹ کے قریب ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا ہے جس سے سیکیورٹی اداروں کی چوکسی پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔

    اطلاع کے مطابق، سی آئی ایس ایف کے اہلکاروں نے جب مشتبہ سرگرمیوں کی نشاندہی کی تو ریل بھون کے قریب ایک شخص کو روک کر پکڑ لیا۔ ابتدائی تفتیش کے بعد اسے دہلی پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے جو اس کے دستاویزات کی جانچ اور تفصیلی پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔دہلی پولیس نے اس واقعے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کی سیکیورٹی میں کسی قسم کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔ پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری "روکو ٹوکو مہم” کے تحت عمل میں آئی ہے، جس کا مقصد حساس علاقوں میں مشتبہ افراد کو روک کر ان کی شناخت اور جانچ کرنا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔

    یہ واقعہ گزشتہ دو دنوں کے دوران پارلیمنٹ کے گردونواح میں مشتبہ افراد کی گرفتاری کا دوسرا کیس ہے، جس نے سیکورٹی اداروں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ جمعہ، 22 اگست کو بھی ایک سنگین واقعہ پیش آیا تھا جس میں ایک شخص نے پیڑ پر چڑھ کر دیوار پھاند کر پارلیمنٹ کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ خوش قسمتی سے سیکورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا تھا۔ پولیس ڈپٹی کمشنر دیویش مہلا نے اس شخص کو ذہنی معذوری کا شکار قرار دیا تھا۔ذرائع کے مطابق، ہفتہ کی صبح تقریباً پانچ بجے، آئی جی-3 گیٹ پر تعینات سی آئی ایس ایف اہلکاروں نے ایک شخص کو پارلیمنٹ چوک سرکل کی طرف آتے دیکھا۔ اس شخص کو علاقے سے چلے جانے کی ہدایت دی گئی، لیکن وہ کچھ دیر بعد ریڈ کراس روڈ پر مورچہ-8 کے قریب دوبارہ نظر آیا جہاں اسے گرفتار کیا گیا۔ بعد ازاں اسے پارلیمنٹ سیکورٹی اہلکاروں کے حوالے کیا گیا۔

    پارلیمنٹ ہاؤس کے گرد سیکیورٹی میں خامیوں اور مشتبہ افراد کی بار بار گرفتاری کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ 2023 میں پارلیمنٹ پر حملے کی سالگرہ کے موقع پر سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کے باوجود متعدد غیر معمولی واقعات رونما ہوئے تھے۔خاص طور پر ساگر شرما اور منورنجن ڈی نامی دو نوجوان پارلیمنٹ کے دوران لوک سبھا ہال میں گھس گئے تھے اور وہاں پیلے رنگ کا دھواں چھوڑا تھا، جس سے ایوان میں ہنگامہ مچ گیا تھا۔ دونوں کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس کیس میں کل چھ افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں مہیش کماوت اور لتلت جھا شامل تھے۔ دہلی پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں 900 سے زائد صفحات پر مشتمل چارج شیٹ دائر کی تھی۔

    سیکورٹی ایجنسیوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کی حفاظت کے لیے سخت انتظامات کئے ہوئے ہیں، لیکن حالیہ واقعات سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ کہیں یہ کوتاہیاں ملک کی سب سے بڑی قانون ساز اسمبلی کی سیکیورٹی کو نقصان نہ پہنچائیں۔سیکورٹی حکام نے کہا ہے کہ حساس مقامات پر "روکو ٹوکو مہم” جیسی کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ کسی بھی مشتبہ حرکت کو بروقت روکا جا سکے۔

  • ڈکی بھائی کے جسمانی ریمانڈ میں 5 روز کی توسیع

    ڈکی بھائی کے جسمانی ریمانڈ میں 5 روز کی توسیع

    یوٹیوبر سعد الرحمان المعروف ڈکی بھائی کے جسمانی ریمانڈ میں 5 روز کی توسیع کردی گئی۔جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے کیس پر سماعت کی۔

    یوٹیوبر ڈکی بھائی کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔ جوئے کی ایپ کو پروموٹ کرنے کے معاملے پر نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے یوٹیوبر کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔عدالت نے انویسٹی گیشن ایجنسی کی درخواست منظور کرتے ہوئے ڈکی بھائی کے جسمانی ریمانڈ میں پانچ روز کی توسیع کردی،

    دوسری جانب معروف یوٹیوبر سعد الرحمان المعروف ڈکی بھائی نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا،کہا قوم سے معافی مانگتا ہوں۔پبلک نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی کا کہنا تھا روسٹنگ کے زمانے میں نامناسب ویڈیوز بناتا تھا جس پر میں پوری پاکستانی قوم سے اس کی معافی مانگتا ہوں۔ اُس کے بعد کچھ اپلیکیشنز کی پروموشن آئی جن کو بغیر تصدیق کئے میں نے پروموٹ کیا، کیونکہ وہ پی ایس ایل کے میچز پر بھی آرہی تھیں اس چیز کو نہیں دیکھا کہ اس کی پاکستان میں اجازت ہے یا نہیں۔ جوئے کی ایپ پی ایس ایل میں بھی دیکھائی جارہی تھی، اس لئے پتہ نہیں چلا اور اپنی اس حرکت پر معافی مانگتا ہوں۔

  • قومی ٹیم پر بلاوجہ تنقید بند کی جانی چاہیے،محسن نقوی

    قومی ٹیم پر بلاوجہ تنقید بند کی جانی چاہیے،محسن نقوی

    چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے کہا ہے کہ بھارت سے مذاکرات کی بھیک مانگنے کا وقت گزر گیا، جو کچھ ہوگا برابری کی بنیاد پر ہوگا۔

    بورڈ آف گورنرز اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں محسن نقوی نے کہا کہ بھارت کے خلاف ہماری ٹیم بہت اچھا کھیلے گی، میرا ٹیم کی سلیکشن میں 1 فیصد بھی حصہ نہیں ہے۔انہوں نے ایشیا کپ میں پاک بھارت میچ سے متعلق سوال پر کہا کہ ٹیم کی سب سے بڑی سپورٹ یہ ہے کہ قوم ان کے ساتھ کھڑی ہو، قومی ٹیم پر بلاوجہ تنقید بند کی جانی چاہیے۔ توقع ہے کھلاڑی دبئی میں اچھی پرفارمنس دکھائیں گے، ٹیم کی پرفارمنس مزید اچھی ہوگی، سلیکٹرز پروفیشنل ہیں اور انہیں میرٹ پر فیصلہ کرنے کا کہا ہے۔ ہم بھارت سے مذاکرات کی بھیک نہیں مانگیں گے، بھارت کے ساتھ جو بھی بات ہوگی برابری کی بنیاد پر ہوگی۔

    قبل ازیں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی کی زیر صدارت بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں اہم منظوریاں دے دی گئیں۔اجلاس میں پی سی بی کے اپ ڈیٹڈ فنانشل رولز، آڈیٹرز کی از سر نو تقرری اور کئی برس سے استعمال نہ ہونے والے اکاؤنٹس کو بند کرنے کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں کارپوریٹ کریڈٹ کارڈز کے حصول، گلوبل اینٹی کرپشن کوڈ اپنانے کے پروسیجرل رد و بدل اور کلبز کی اسکروٹنی کےطریقہ کار میں تبدیلی کی منظوری دی گئی۔پی سی بی اجلاس میں بی او جی کے 78ویں اور 79ویں اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی گئی جبکہ پاکستانی کرکٹ کا معیار بہتر بنانے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔اجلاس میں انٹرنیشنل کرکٹ میں ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے حوالے سے بحث ہوئی اور خواتین کرکٹ کے فروغ کےلیے گراس روٹ لیول اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔شرکاء کو ڈومیسٹک کرکٹ اور نوجوان ٹیلنٹ آگے لانے اور ہائی پرفارمنس سنٹرز کی اپ گریڈیشن پر بریف کیا گیا۔اجلاس میں بی او جی کے ممبران انوار غنی، ظہیر عباس، سجاد علی، ظفر اللّٰہ، چیف آپریٹنگ آفیسر پی سی بی سمیر احمد، چیف ایگزیکٹو آفیسر پی ایس ایل سلمان نصیر، چیف فنانشل آفیسر، انٹرنیشنل کرکٹ، میڈیا اینڈ کمیونیکیشن، ڈومیسٹک کرکٹ حکام، ہیومن ریسوریس، ہائی پرفارمنس سینٹرز کے ڈائریکٹرز، ویمنز کرکٹ کے سربراہ اور لیگل ڈپارٹمنٹ حکام نے شرکت کی۔

  • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی بنگلہ دیش میں سیاسی جماعتوں کے وفود سے ملاقاتیں

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی بنگلہ دیش میں سیاسی جماعتوں کے وفود سے ملاقاتیں

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بنگلادیش میں جماعت اسلامی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کے وفود سے ملاقات کی۔

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پاکستانی ہائی کمیشن میں وفود سے ملاقاتیں کیں۔ نائب وزیراعظم سے نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے وفد نے ملاقات کی جس کی قیادت پارٹی کے ممبرسیکرٹری اختر حسین نے کی،اسحاق ڈار سے جماعتِ اسلامی بنگلادیش کے وفد نے بھی ملاقات کی جس کی قیادت عبداللہ محمد طاہر نے کی،ترجمان دفترخارجہ کے مطابق ملاقات میں پاک بنگلا دیش تعلقات مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا اور ملاقات میں خطے میں حالیہ پیش رفت پر بھی گفتگو کی گئی،اسحاق ڈار نے جماعت اسلامی بنگلادیش کی کٹھن حالات کے باوجود ثابت قدمی کو سراہا،بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کا وفد بھی اسحاق ڈارسے ملاقات کیلئے ہائی کمیشن پہنچ گیا جس کی قیادت بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل مراز فخرالاسلام نے کی۔

  • علیمہ کےبیٹوں کی گرفتاری، سانحہ 9 مئی کے مفرور ملزمان کے گرد گھیرا تنگ

    علیمہ کےبیٹوں کی گرفتاری، سانحہ 9 مئی کے مفرور ملزمان کے گرد گھیرا تنگ

    شیر شاہ اور شریز خان کی شواہد پر گرفتاری، سانحہ 9 مئی کے دونوں مفرور ملزمان کے گرد گھیرا تنگ کر لیا گیا

    9 مئی 2023ء کو پی ٹی آئی کی شرانگیزی میں شریک دو مفرور شر پسندوں کی گرفتاریاں کی گئیں ہیں، جناح ہاؤس حملے کے مفرور ایک اور مرکزی ملزم شیر شاہ خان کو گرفتار کرلیا گیا ،نو مئی 2023 کو جناح ہاؤس پر حملے کے وقت ملزم شیر شاہ سزا یافتہ مجرم حسان نیازی کے ساتھ موجود تھا ، شیر شاہ 9 مئی 2023ء کو شر انگیزی کے بعد پہلے روپوش اور بعد میں لندن فرار ہو گیا تھا،کئی مہینوں تک شیر شاہ پروپیگنڈے کی آڑ میں چھپا رہا اور ریاست کے خلاف ڈیجیٹل مہمات چلاتا رہا، ملزم شیر شاہ کو پاکستان واپسی پر پولیس نے 22 اگست 2025 کو گرفتار کیا، ملزم شیر شاہ پر نو مئی حملہ کیس میں پہلے بھی ایف آئی آر درج ہے،

    ایف آئی آر متن کے مطابق ملزم شیرشاہ خان 9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ پولیس وین کو آگ لگانے اور پولیس اہلکاروں پر حملوں میں ملوث ہے،شیر شاہ خان کی جائے وقوعہ پر موجودگی کے مستند شواہد ویڈیو ریکارڈ کی صورت میں پولیس کے پاس موجود ہیں،ملزم کے پولی گرافک ٹیسٹ و دیگر کے لیے 30 روز کا جسمانی ریمانڈ درکار ہے،

    شیرشاہ دو سال سے لندن میں روپوش تھا، گرفتاری قانون کے مطابق کی گئی ہے، دوسرے ملزم شاہریز خان کو بھی 9 مئی 2023 جناح ہاؤس پر حملے اور منصوبہ بندی کے سلسلے میں باقاعدہ طور پر گرفتار کیا گیا ہے،شاہریز کا نام ستمبر 2023 کی ضمنی رپورٹ میں بھی شامل تھا، شاہریز کو 22 اگست 2025 کو عدالت میں پیش کیا گیا، شاہریز کیخلاف باقاعدہ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے،

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق;’’ملزم شاہریز عظیم کو 21 اگست 2025 کو ثبوتوں کی بنیاد پر باقاعدہ گرفتار کیا گیا ‘‘9 مئی 2023 جائے وقوعہ پر جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، اور پولیس اہلکاروں پر حملے کیے گئے۔ پولیس وینز کو بھی نذرِ آتش کیا گیا، پولیس نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ شواہد کیلئے ملزم شاہریز عظیم کا 30 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے،

    شاہریز اور شیر شاہ کی گرفتاری پر سیاسی جماعت کے سوشل میڈیا کا ریاست اور ریاستی اداروں کیخلاف منفی پروپیگنڈا جاری ہے ، ویڈیو اور جیو فینسنگ کی ذریعے شواہد اکھٹے کیے گئے ، ملزمان شاہریز اور شیر شاہ کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ جو بھی ریاست، عوام یا اداروں پر حملہ کرے گا، وہ احتساب سے نہیں بچ سکے گا، سانحہ 9 مئی ایک غداری تھی، اور اس کے مجرموں کو انصاف کے مکمل تقاضوں کا سامنا کرنا ہوگا، دونوں بھائی قیادت کی آڑ میں کارکنوں کو چھوڑ کر ایک عرصے سے روپوش تھے اورپاکستان کے خلاف ڈیجیٹل میڈیا سیل بھی چلا رہے تھےعدالتوں سے ریمانڈ آرڈر حاصل کیے گئے جو قانونی عملداری کو ثابت کرتے ہیں،

  • خیبر پختونخوا سیلاب ، مواصلاتی انفراسٹرکچر کو سنگین نقصان

    خیبر پختونخوا سیلاب ، مواصلاتی انفراسٹرکچر کو سنگین نقصان

    پشاور: خیبر پختونخوا میں 15 اگست سے 22 اگست کے دوران موسلادھار بارشوں اور شدید سیلاب نے صوبے کے مواصلاتی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مختلف اضلاع میں سڑکوں اور پلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے کئی راستے بند ہو گئے ہیں اور کئی علاقوں کی رابطہ کاری متاثر ہوئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے مجموعی طور پر 331 سڑکوں کو 336 مختلف مقامات پر نقصان پہنچا، جس کی کل لمبائی 493 کلومیٹر ہے۔ ان میں سے 57 سڑکیں تاحال مکمل بند ہیں۔ سڑکوں کی بحالی پر اندازاً 9 ارب 45 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ اب تک 229 سڑکیں جزوی طور پر اور 50 سڑکیں مکمل طور پر بحال کی جا چکی ہیں۔پلوں کی صورتحال بھی تشویشناک ہے، جہاں 32 پل سیلاب کی نذر ہوگئے ہیں۔ ان میں سے ایک پل مکمل طور پر ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، جبکہ 22 پل جزوی طور پر کھول دیے گئے ہیں۔ باقی 9 پل ابھی بھی بند ہیں۔ پلوں کی مرمت پر تقریباً ایک ارب 12 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔

    سوات: سب سے زیادہ نقصان سوات میں ہوا ہے جہاں 79 سڑکیں 80 مقامات پر متاثر ہوئیں۔ یہاں 43 کلومیٹر سڑکیں سیلاب میں بہہ گئیں۔ اب تک 3 سڑکیں مکمل اور 75 سڑکیں جزوی طور پر بحال ہو چکی ہیں، جبکہ 2 سڑکیں بند ہیں۔ سوات میں سڑکوں کی بحالی پر 45 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئے گی۔

    بونیر: بونیر میں 43 سڑکیں متاثر ہوئیں جن میں سے 39 سڑکیں جزوی طور پر بحال ہو چکی ہیں اور 4 سڑکیں مکمل بند ہیں۔ بونیر میں بحالی کے لیے ساڑھے 4 ارب روپے کی لاگت درکار ہے۔

    صوابی: صوابی میں 41 سڑکیں متاثر ہوئی ہیں، جن میں سے 32 اب تک بحال نہیں ہو سکیں۔ یہاں سڑکوں کی بحالی پر 2 ارب 76 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔

    محکمہ مواصلات و تعمیرات کے سیکرٹری محمد اسرار نے جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ تیز بارشوں اور سیلاب کے باعث خاص طور پر بونیر، صوابی اور دیگر اضلاع میں شدید نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 15 اگست کو محکمہ خزانہ کو ڈیڑھ ارب روپے جاری کرنے کی درخواست کی گئی تھی، جس میں سے 70 کروڑ روپے فوری طور پر جاری کر دیے گئے ہیں۔ ان میں 40 کروڑ مالاکنڈ، 10 کروڑ ہزارہ ریجن، اور 20 کروڑ پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کو دیے گئے ہیں۔محمد اسرار نے مزید بتایا کہ 186 چھوٹی بڑی مشینریوں کے ذریعے سڑکوں کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے تاکہ جلد از جلد رابطے بحال کیے جا سکیں اور متاثرہ علاقوں کی ترقیاتی سرگرمیاں معمول پر آ سکیں

  • سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی نگرانی، تابش قیوم گلگت پہنچ گئے

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی نگرانی، تابش قیوم گلگت پہنچ گئے

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم گلگت بلتستان میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کے لئے پہنچ گئے،گلگت بلتستان،سیلاب متاثرہ علاقوں میں مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے 1000 سے زائد متاثرہ خاندانوں میں راشن تقسیم کیا گیا ہے

    مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے سیلاب متاثرہ افراد میں پکی پکائی خوراک کی تقسیم کا سلسلہ بھی جاری ہے،گلگت کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ساڑھے پانچ سو افراد میں پکاپکایا کھانا تقسیم کیاجا رہا ہے،ضلع دیامر،بابوسر،شیتل و دیگر مقامات پر میڈیکل کیمپ میں دو ہزار سے زائد مریضوں کا علاج معالجہ کیا گیا ہے،مرکزی مسلم لیگ کے رہنما مقصود حسین سندھو کا کہنا ہے کہ گلگت بلستان کے اضلاع میں سیلاب سے گھر بہہ گئے ، فصلیں، باغات،چکیاں، واٹر چینل ،سڑکیں سب سیلاب میں بہہ گیا، متاثرین کی بحالی تک امدادی سرگرمیاں جاری رکھیں گے، غذر ویلی میں سیلاب آیا، چرواہوں نے فون کر کے بتایاکہ سیلاب آ رہا ہے، لوگ گھروں سے نکلے ،گھر تباہ ہو گئے لیکن جانی نقصان نہیں ہوا،کچھ لوگ پھنسے انکو ریسکیو کیا گیا،دائیں پل سیلاب کا نذر ہوگیا ہے،کانچے پل کے ساتھ کانچے گاؤں میں بھی بہت نقصان ہوا ہے،پوری کی پوری آبادیاں تباہ ہوئی ہیں، پتھروں اور مٹی میں گھر تباہ ہو چکے،کھلے آسمان تلے زندگیاں گزار رہے ہیں، سردی آ رہی ہے، موسم ٹھنڈا ہو جائے گا، مکینوں کو گھر، راشن چاہئے،راستے بند ہو چکے ہیں، کئی علاقوں میں گھنٹوں پیدل چلنا پڑتا ہے وہاں امدادی سامان نہیں پہنچ رہا، مرکزی مسلم لیگ ان علاقوں میں مدد کر رہی ہے،ضلع دیامر کے 27 نالہ جات سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، سیاحوں کی بھی اموات ہوئی ہیں، استور کا علاقہ بھی سیلاب سےمتاثر ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کے سیلاب متاثرین کو بھی پاکستانی قوم یاد رکھے،

    خدمت کی سیاست کا عملی نمونہ،پنجاب کے مختلف شہروں سے امدادی سامان خیبر پختونخوا روانہ
    گوجرانوالہ سے گفٹ پیک ،گھروں کی صفائی کے لئے بیلچے ریڑھیاں،دیگر شہروں سےخشک راشن روانہ

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر مختلف شہروں سے خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی روانگی کا سلسلہ جاری ہے،گوجرانوالہ سے 500 گفٹ پیک سمیت امدادی سامان روانہ کر دیا گیا، ایبٹ آباد سے بھی خشک راشن سینکڑوں افراد کے لئے مینگورہ روانہ کر دیا گیا،ننکانہ صاحب سے بھی امدادی سامان مینگورہ پہنچ گیا،مرکزی مسلم لیگ ساہیوال کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لئے امدادی سامان بونیر پہنچ گیا

    مرکزی مسلم لیگ کا خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن جاری ہے،ملک بھر سے امدادی سامان ،خشک راشن، بستر،برتن و دیگر اشیا خیبر پختونخوا پہنچائی جا رہی ہیں،پاکستان مرکزی مسلم لیگ ضلع ساہیوال کا امدادی قافلہ
    بونیر پہنچ چکا ہے، ساہیوال کے ضلعی سیکرٹری جنرل ارشد نواب کی نگرانی امدادی سامان تقسیم کیا جائے گا، ایبٹ آباد سے سینکڑوں خاندانوں کے لئے خشک راشن و دیگر امدادی سامان کا قافلہ مینگورہ روانہ ہوا ہے، سیکرٹری جنرل حافظ امجدکی نگرانی میں امدادی سامان روانہ کیا گیا،گوجرانوالہ سے خٰیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرین کے لئے 500 گفٹ پیک،40 خاندانوں کے لئے ڈنر سیٹ روانہ کئے گئے جبکہ بیلچے اور ریڑھیاں بھی بھجوائی گئی‌ ہیں،

    سوات،مینگورہ،باجوڑ،بونیر میں مرکزی مسلم لیگ کا ریلیف آپریشن مسلسل جاری
    مینگورہ میں مزید 2سو خاندانوں میں راشن تقسیم،مریضوں میں مفت ادویات بھی تقسیم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ شعبہ خدمت خلق کے زیر اہتمام خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن مسلسل جاری ہے،خشک راشن کی تقسیم کے علاوہ ہزاروں افراد میں پکی پکائی خوراک بھی تقسیم کی جا رہی ہے،شعبہ خدمت خلق کے چیئرمین شفیق الرحمان وڑائچ امدادی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں، گھروں کی صفائی کے لئے ریڑھیوں اور بیلچوں‌کی تقسیم کا عمل بھی جاری ہے، مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار گھروں کی صفائی میں مصروف عمل ہیں.

    مرکزی مسلم لیگ شعبہ خدمت خلق کے تحت مینگورہ کے سیلاب متاثرین کے لیے خشک راشن کی تقسیم کی تقریب منعقد کی گئی۔ اس موقع پر سینکڑوں متاثرین سیلاب خاندانوں میں خشک راشن تقسیم کیا گیا۔ اس موقع پر شعبہ خدمت پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے چیئرمین انجینئر شفیق وڑائچ ، صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ خیبرپختونخوا عارف اللہ خٹک، پاکستان مرکزی مسلم لیگ وسطی پنجاب کے صدر حمید الحسن ، جنرل سیکرٹری مرکزی مسلم لیگ سوات انس کرار و دیگر موجود تھے۔خشک راشن کی تقسیم کے موقع پر شفیق الرحمن وڑائچ کا کہنا تھا کہ متاثرین کی بحالی تک مرکزی مسلم لیگ کا تعاون جاری رہے گا، صوبائی صدر مرکزی مسلم لیگ خیبرپختونخوا عارف اللہ خٹک کا کہنا تھا کہ اس وقت ہم سینکڑوں خاندانوں کو خشک راشن فراہم کر رہے ہیں، اس کے ساتھ مریضوں کے لیے میڈیکل کیمپ کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں مفت علاج معالجہ اور ادویات فراہم کی جارہی ہیں،ہم پاکستان بھر سے آنے والے مرکزی مسلم لیگ کے ذمہ داران کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔

  • باجوڑ آپریشن، فتنتہ الخوارج کا ایک اور عوام مخالف پروپیگنڈا بے نقاب

    باجوڑ آپریشن، فتنتہ الخوارج کا ایک اور عوام مخالف پروپیگنڈا بے نقاب

    باجوڑ میں جاری سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کیخلاف فتنتہ الخوراج کے خارجی نور ولی کا اعلامیہ منظر عام پر آ گیا

    سکیورٹی فورسز کی جانب سے 18 اگست کو باجوڑ کی عوام کو ہدایات دی تھیں کہ جاری آپریشن کے دوران دہشتگردوں کو علاقے میں نہ آنے دیں،خارجی نور ولی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق؛مقامی کمانڈروں کو باجوڑ چھوڑنے کی اجازت نہیں‘‘ فتنتہ الخوارج نے اعلامیے میں باجوڑ آپریشنز کو "پاک فوج کا ظلم” قرار دے دیا ، فتنتہ الخوارج کا اعلامیہ حقائق سے یکسر مختلف ہے، فتنتہ الخوارج کی جانب سے جاری بیان دراصل اس کی دوغلی پالیسی کا عکاس ہے، سکیورٹی فورسز باجوڑ میں صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنا رہی ہیں، سکیورٹی فورسز باجوڑ کی عوام، ان کے کاروبار اور ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ بنا رہی ہیں،

    باجوڑ کے اصل سپوت اس دھرتی کے بیٹے ہیں، غیر ملکی دہشتگرد اور خوارج خود کو علاقے کا محافظ ظاہر کرتے ہیں مگر اصل میں یہ ان کے دشمن ہیں، آپریشن کی وجہ سے بے گھر ہونے والا خاندان دراصل فتنتہ الخوارج کے ظلم کا نتیجہ ہے،ریاست کیلئے مقامی عوام کی حمایت دیر پا امن کی سب سے بڑی ضمانت ہے اور یہی فتنتہ الخوارج کیلئے بڑا خطرہ ہے،

    فتنہ الخوارج کا جاری کردہ بیان دراصل اس کی شکست کا عکاس ہے، یہ مقامی آبادی کو دھوکا دے رہے ہیں،باجوڑ کے عوام نے فتنتہ الخوارج کا حقیقی چہرہ پہچان لیا ہے اور ان کے بیانیے کو عوامی سطح پر مسترد کردیا ہے،باجوڑ کا مستقبل اب امن، ترقی اور خوشحالی سے وابستہ ہے نہ کہ خونریزی اور دہشتگردی کی واپسی سے، دہشتگردوں کی باجوڑ واپسی کا مطلب ہے مزید تباہ شدہ بازار، برباد گھروں کی داستانیں اور معصوم جانوں کا ضیاع ہوگا،

  • علیمہ خان کے بیٹے شیرشاہ کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    علیمہ خان کے بیٹے شیرشاہ کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے بیٹے شیر شاہ کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

    یہ فیصلہ عدالت نے پولیس کی جانب سے دائر کی گئی 30 روزہ ریمانڈ کی درخواست پر سماعت کے بعد سنایا، جو کہ کچھ دیر محفوظ رکھا گیا تھا۔ پولیس کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ شیر شاہ 9 مئی کے جلاؤ گھیراؤ کیس میں براہِ راست ملوث ہے۔شیر شاہ کو سخت سیکیورٹی میں انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس نے مؤقف اپنایا کہ ملزم جائے وقوعہ پر موجود تھا اور پی ٹی آئی رہنما حسان نیازی کے ہمراہ کارروائیوں میں شریک تھا۔ تفتیشی افسر کے مطابق، ملزم موقع پر موجود لوگوں کو اشتعال دلا کر جلاؤ گھیراؤ پر اکسا رہا تھا، جس کے شواہد موجود ہیں۔
    پولیس نے عدالت سے شیر شاہ کے 30 دن کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی تھی تاکہ ملزم سے تفتیش مکمل کی جا سکے اور دیگر شریک افراد کا سراغ لگایا جا سکے۔ تاہم عدالت نے پولیس کی جانب سے فراہم کردہ شواہد اور دلائل کا جائزہ لینے کے بعد صرف 5 روزہ جسمانی ریمانڈ کی منظوری دی۔

    عدالت نے حکم دیا کہ ملزم کو 28 اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ آئندہ سماعت پر تفتیش کی مکمل رپورٹ پیش کی جائے۔

  • گلگت،گلیشیئر پگھلنے سے لینڈ سلائیڈنگ کے نقصانات کی ابتدائی رپورٹ تیار

    گلگت،گلیشیئر پگھلنے سے لینڈ سلائیڈنگ کے نقصانات کی ابتدائی رپورٹ تیار

    ضلع غذر کی تحصیل گوپس یاسین میں گلیشیئر کے پگھلنے کے باعث شدید لینڈ سلائیڈنگ واقع ہوئی جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ حکام نے نقصانات کی ابتدائی رپورٹ مکمل کرکے اعلیٰ حکام کو ارسال کر دی ہے جبکہ متاثرہ علاقوں کے لوگوں نے حکومت سے فوری امداد اور ریلیف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گوپس یاسین، شیر افضل نے بتایا کہ گلیشیئر کے پھٹنے سے تالی داس، مڈوری، مولا آباد، ہاکس تھنگی، راؤشن اور گوتھ کے متعدد دیہات شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق تقریباً 330 گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ لینڈ سلائیڈنگ اور عارضی جھیل بننے کے باعث کئی دکانیں بھی تباہ ہو گئی ہیں۔شیر افضل نے مزید کہا کہ متاثرین کو خیمے، راشن، اور دیگر ضروری اشیاء کی فوری ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ راؤشن گاؤں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث دریا کا بہاؤ رک گیا تھا جس کی وجہ سے عارضی ڈیم بن گیا تھا، تاہم اب اسپیل وے بننے سے پانی کا اخراج جاری ہے اور اس بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بننے والی جھیل سے پانی کا اخراج ہو رہا ہے جس سے جھیل کی سطح میں کمی آ رہی ہے۔ اس کمی کی وجہ سے نچلے علاقوں میں ممکنہ کٹاؤ اور مزید تباہی کا خطرہ کم ہو گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ دریا کا بہاؤ رکنے کی وجہ سے ہزاروں گھروں کے ڈوبنے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا مگر اسپیل وے کے کھلنے سے یہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ تاہم متاثرہ گھروں میں پانی کا اترنا ابھی وقت طلب ہے۔

    دوسری جانب، متاثرہ علاقے کے ایک چرواہے وصیت خان کو واقعے کی بروقت اطلاع دینے اور سیکڑوں لوگوں کی جان بچانے کے لیے نقد انعام اور تعریفی سند دے کر حکام کی جانب سے حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ اس بہادر عمل نے بڑی تباہی سے کئی جانیں محفوظ کر لی ہیں۔حکام نے متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ متاثرین کو جلد از جلد سہولیات فراہم کی جا سکیں۔