Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پی آئی اےنجکاری، چار کنسورشیم نے اپنی اسٹیٹمنٹ جمع کروائی،وزارت نجکاری

    پی آئی اےنجکاری، چار کنسورشیم نے اپنی اسٹیٹمنٹ جمع کروائی،وزارت نجکاری

    قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی نجکاری کا ڈاکٹر فاروق ستار کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں قومی ایئر لائن کی نجکاری کا معاملہ زیر غور لایا گیا۔

    وزارت نجکاری کے حکام کا کہنا ہے کہ قومی ایئر لائن کی نجکاری کے لیے چار کنسورشیم نے اپنی اسٹیٹمنٹ جمع کروائی، ان کمپنیوں کو ڈیٹا روم تک رسائی دی ہے، انہیں سائٹ ویزٹ کروائے جا رہے ہیں۔حکام وزارت نجکاری کا کہنا ہے کہ کوشش ہو گی کہ سال کی آخری سہ ماہی میں قومی ایئر لائن کی بولی کر لیں، کسی بھی اعتراض کو دیکھا جائے گا، بڈنگ کی لائیو ٹیلی کاسٹ ہوگی۔ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ وزارت بھی حلف دے کہ کسی ایک کمپنی کی طرف داری نہیں کی جائے گی،حکام نے کہا کہ کسی کی طرف داری کے متحمل نہیں ہو سکتے، اس سے سارے نجکاری عمل پر سمجھوتا ہو جائے گا۔

    دوسری جانب پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن میں جعلی ڈگریوں پر پائلٹس اور انجینئرزسمیت دیگر ملازمین کے کام کرنے کاانکشاف ہواہے ،جعلی ڈگریوں پر ملازمین کی بھرتی سے پی آئی اے کو 9کروڑ72لاکھ روپے کانقصان ہواہے ،پی آئی اے نے سپریم کورٹ کے حکم کے باجود جعلی ڈگریوں والے ملازمین کے خلاف ایکشن نہیں لیا،جعلی ڈگری کے 7 پائلٹس عدالت سے اسٹے آرڈر لے کر کام کر رہے ہیں،جعلی ڈگری والے 52 انجینئرنگ عملہ/افسران میں سے36اب بھی سروس میں ہیں،آڈٹ نے جعلی ڈگریوں والے ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش کردی ۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ2024-25 کے مطابق پی آئی اے کوجعلی ڈگریوں پر افسران / عہدیداروں کی تقرری سے 9کروڑ72لاکھ روپے نقصان ہواہے ۔

    اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، حکومت پاکستان نے 8 مارچ 2011 کو ہدایت دی کہ تمام وفاقی حکومت کے ملازمین کی ڈگریوں اور اسناد کی تصدیق ان کے متعلقہ وزارتوں اور اداروں سے کی جائے اور غیر ملکی ڈگریوں کی تصدیق ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے ذریعے کی جائے، جیسا کہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے (2009 SCR 1492)میں جعلی ڈگری کے مقدمات کی سنگینی پر زور دیا گیا تھا۔پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (PIACL) کے پرسنل پالیسی مینول کے پیرا 75 (aj) اور پیرا 76 (h) کے مطابق، غلط معلومات فراہم کرنا سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔ اس میں کسی کے نام، عمر، والد کے نام، تعلیمی یا پیشہ ورانہ کوائف، پچھلی خدمات یا تجربے کی غلط تفصیلات دینا شامل ہے۔ یہ misconduct ہے، چاہے یہ کارپوریشن میں شمولیت کے وقت ہو یا دورانِ ملازمت، اور اس کی سزا برطرفی ہے۔پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمٹیڈ(PIACL)، اسلام آباد اسٹیشن کے 2021-2023 کے سالانہ آڈٹ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ انتظامیہ نے مختلف ادوار میں مختلف عہدوں پر 27ملازمین کو جعلی ڈگریوں پر تقرری کی۔پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمٹیڈ(PIACL) کی 2008-2017 کی خصوصی آڈٹ کے دوران بھی یہ بات سامنے آئی کہ 458 ملازمین کی ڈگریاں / اسناد جعلی تھیں، جن میں سے 208 ملازمین کو برطرف / ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔458 جعلی ڈگر ی والے ملازمین 16 پائلٹس بھی شامل تھے جس میں سے7 پائلٹس اب بھی عدالت کے اسٹے آرڈر کی وجہ سے کام کر رہے ہیں، 52 انجینئرنگ عملہ/افسران شامل تھے جن میں سے 36 اب بھی کام کررہے ہیں ۔67افسران (AM سے DGM تک)اور 33 ایئرہوسٹسز بھی جعلی ڈگری والوں میں شامل تھیں۔ آڈٹ کاکہنا ہے کہ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اہم اور حساس عہدوں پر جعلی ڈگری رکھنے والے افراد کو تعینات کیا گیا اور ان کی اسناد کو بروقت انتظامیہ کی جانب سے تصدیق نہیں کروایا گیا۔ مزید برآں سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے مطابق جعلی ڈگریوں والے 42 افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔آڈٹ کا کہناہے کہ جعلی ڈگریوں پر تقرریوں کی جاری رکھنے سے انتظامیہ کی غفلت ظاہر ہوئی۔ اس کے نتیجے میں 97.200 ملین روپے کی غیر قانونی تنخواہ کی ادائیگی ہوئی۔ انتظامیہ نے ان ملازمین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جنہوں نے جعلی ڈگریاں / اسناد فراہم کیں۔آڈٹ نے سفارش ہے کہ انتظامیہ جعلی ڈگریوں والے ملازمین کے خلاف کارروائی کرے۔ترجمان پی آئی اے کاکہناہے کہ جعلی ڈگریوں والے پائلٹ جہاز نہیں چلارہے اور نہ ہی نوکری پر ہیں ۔

  • سوات اور گلگت بلتستان میں سیلاب سے تباہی، امدادی کارروائیاں جاری

    سوات اور گلگت بلتستان میں سیلاب سے تباہی، امدادی کارروائیاں جاری

    سوات کے علاقے شانگلہ میں شدید سیلابی ریلے نے گاؤں شائی درہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ سیلابی ریلے نے نہ صرف مکانات اور مقامی مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا بلکہ گاؤں کا واحد لڑکیوں کا پرائمری اسکول بھی مکمل طور پر متاثر ہو گیا ہے۔ رابطہ سڑک تباہ ہونے کی وجہ سے امدادی سامان متاثرہ علاقے تک پہنچنے میں شدید رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں، جس سے مقامی باشندوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ زاہد آباد میں سیلاب کے 10 روز گزرنے کے باوجود کئی مکانات اور گلیاں ابھی تک صاف نہیں کی جا سکیں۔ مقامی حکومتی ادارے اور رضاکار مل کر صفائی کے کام میں مصروف ہیں لیکن صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔

    دوسری جانب ضلع غذر میں بھی سیلابی تباہی کی لپیٹ میں آ کر چٹورکھنڈ اور گاؤں دائن کو ملانے والا اہم پل گر گیا ہے، جس کے باعث مقامی آبادی کا گلگت اور گاہکوچ سے دو ہفتے سے رابطہ منقطع ہے۔ اس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور روزمرہ کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔غذر میں گلیشیئر پھٹنے کے باعث تالی داس، راوشن اور دیگر متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم گلگت شندور روڈ بند ہونے کی وجہ سے بالائی علاقوں کے لیے ٹریفک کی روانی معطل ہے۔

    اس حوالے سے گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ تالی داس گاؤں کے مکینوں کی آباد کاری کے لیے متبادل گاؤں کے قیام کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد کی بحالی اور نئے گاؤں کی تعمیر کے لیے وفاقی حکومت سے تعاون حاصل کیا جائے گا۔ مزید برآں، دائن اور چٹورکھنڈ کے درمیان آر سی سی پل کی تعمیر کے لیے بھی وفاقی تعاون درکار ہے تاکہ رابطہ دوبارہ بحال ہو سکے۔

  • پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کی بونیر میں مرکزی مسلم لیگ کے امدادی کیمپ آمد

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کی بونیر میں مرکزی مسلم لیگ کے امدادی کیمپ آمد

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر بونیر میں مرکزی مسلم لیگ کے امدادی کیمپ پہنچ گئے،مرکزی مسلم لیگ خدمت خلق لاہور کے صدر عمار حنیف نے بیرسٹر گوہر کو خوش آمدید کہا،بیرسٹر گوہر نے امدادی کیمپ کا دورہ کیا، ریلیف کے کاموں کا جائزہ لیا، رضاکاروں سے ملاقات کی،پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے مرکزی مسلم لیگ کے امدادی کیمپ پر کھانا بھی کھایا،بیرسٹر گوہر نے بہترین امدادی سرگرمیوں پر مرکزی مسلم لیگ کےکردار کو سراہا

    اس موقع پر پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا تھاکہ سیلاب اللہ کی طرف سے آزمائش ہے، ابھی تک 14 افراد مسنگ ہیں،خیبر پختونخوا میں 10 ضلعے متاثر ، 236 اموات، 120 زخمی ہیں،470 دکانیں، 875 گھر تباہ، 55 ہزار ایکڑ پر فیصلیں تباہ ہوئی ہیں،صرف ضلع بونیر میں 29 سکول تباہ ،14 صحت کے سنٹر تباہ ہوئے ہیں، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ایک ایک لمحے کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں ،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے بھی مرکزی مسلم لیگ کا مشکور ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار کھانا ،راشن ،عزت دے رہے،بااخلاق رضاکار ہیں،یہاں ہوٹلوں میں ایسا کھانا نہیں ملتا جو مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار کھلا رہے ہیں،جو اموات ہوئیں ،انکے لواحقین سے افسوس کا اظہار کرتے ہیں

  • سیلاب کی پیشگی اطلاع، بھارت کا 24 گھنٹوں میں پاکستان سے دوسری بار رابطہ

    سیلاب کی پیشگی اطلاع، بھارت کا 24 گھنٹوں میں پاکستان سے دوسری بار رابطہ

    اسلام آباد: بھارت نے 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان سے دوبارہ رابطہ کر کے دریائے ستلج میں ممکنہ سیلاب کے حوالے سے پیشگی اطلاعات فراہم کی ہیں۔ یہ اطلاعات سفارتی ذرائع کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن اسلام آباد کی جانب سے وزارت خارجہ پاکستان کو دی گئی ہیں۔

    ذرائع نے بتایا کہ بھارت کی طرف سے ماضی میں بھی سیلابی پانی کی معلومات دی جاتی رہی ہیں تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے بچا جا سکے۔ تاہم، اس بار یہ رابطہ سندھ طاس معاہدے کے بجائے سفارتی چینلز کے ذریعے کیا گیا ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے تصدیق کی کہ بھارت نے 24 اگست کو دریائے ستلج میں سیلاب کی وارننگز سندھ طاس کمیشن کی بجائے براہ راست سفارتی رابطوں سے پاکستان کو دی ہیں۔ اس موقع پر پاکستان نے بھارت کو واضح کیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عملدرآمد کا پابند ہے۔

    شفقت علی خان نے کہا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل قرار دینا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور بھارت کے یکطرفہ اقدامات خطے کے امن و استحکام پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے کا خواہاں ہے، لیکن تمام فریقین کو قانونی معاہدوں کا احترام کرنا ہوگا۔

    یہ رابطہ بھارت کی جانب سے گزشتہ رات بھی کیا گیا تھا، جب پاکستان کو دریائے طوی میں جموں کے مقام پر ممکنہ بڑے سیلاب سے آگاہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ مئی میں پاک بھارت جنگ کے بعد بھارت کی طرف سے پاکستان سے پہلا بڑا رابطہ تھا۔

    مئی میں ہوئی پاک بھارت جنگ کے بعد بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے پاکستان نے سختی سے مسترد کیا تھا۔ اس حوالے سے پاکستان نے بارہا کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ خطے میں پانی کے تنازعات کے حل کے لیے ایک اہم قانونی فریم ورک ہے جس کا احترام لازم ہے۔

  • مودی بھی عمران خان کے نقش  قدم پر،امریکہ سے تعلقات کی بہتری کیلئے فرم ہائر کر لی

    مودی بھی عمران خان کے نقش قدم پر،امریکہ سے تعلقات کی بہتری کیلئے فرم ہائر کر لی

    مودی بھی عمران خان کے نقش قدم پر ،بھارت نے امریکی صدر کی بے رخی کے بعد ٹرمپ انتظامیہ سے تعلقات کی بہتری کے لیے لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرلی ہیں

    غیر ملکی خبر ایجنسی بلوم برگ کے مطابق امریکا سے ناخوشگوار تعلقات اور 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد بھارت نے ٹرمپ انتظامیہ سے تعلقات کی بہتری کے لیے ایک امریکی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرلی ہیں،واشنگٹن میں موجود بھارتی سفارت خانے نے ٹرمپ انتظامیہ سے قریبی تعلقات رکھنے والی فرم کی خدمات حاصل کی ہیں جو ماضی میں بھی امریکا کی طرف سے نشانہ بنائے جانے والے غیر ملکی اداروں کے لیے بھی لابنگ کرتی رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بھارتی سفارتخانے اس حوالے سے 18 اگست کو ایک معاہدہ کیا جس کے تحت حکومتی تعلقات، میڈیا تعلقات اور دیگر خدمات فراہم کرنے کے بدلے بھارتی سفارتخانہ لابنگ فرم Mercury Public Affairs LLC کو ماہانہ 75 ہزار ڈالر کی رقم ادا کرے گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ سے امریکا اور بھارت کے تعلقات میں سرد مہری ہے، بھارت کی جانب سے امریکا کے ساتھ تجارتی ڈیل فائنل نہ کرنے کا بعد امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت پرٹیرف 50 فیصد کردیا تھا جب کہ ٹرمپ وقتاً فوقتاً پاک بھارت جنگ میں اپنے کردار کا ذکر کرتے رہتے ہیں جس سے بھارت انکاری ہے

  • ثابت کر سکتی ہوں سیکریٹری جنرل ہاکی فیڈریشن کی تعیناتی غیرآئینی ہے۔شہلا رضا

    ثابت کر سکتی ہوں سیکریٹری جنرل ہاکی فیڈریشن کی تعیناتی غیرآئینی ہے۔شہلا رضا

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر اگلے اجلاس میں رانا ثناء اللّٰہ کو طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی ثناء اللّٰہ مستی خیل کی زیر صدارت ہوا جس میں کمیٹی ممبران نے وزیر بین الصوبائی رابطہ رانا ثناء اللّٰہ کی عدم موجودگی پر اظہار برہمی کیا،اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رانا ثناءاللّٰہ کے ساتھ میرا بہت پیار والا تعلق ہے، میں ان کی بھائیوں کی طرح عزت کرتا ہوں۔ رانا ثناءاللّٰہ کمیٹی میں نہیں آتے، اگلی بار وہ نہ آئے تو کمیٹی اجلاس نہیں ہوگا،ثناءاللّٰہ مستی خیل کا کہنا تھا کہ اگست کا مہینہ مقدس ہے، عوام متحد ہیں، سب نے مل کر پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے۔ ملک سب سے پہلے ہے سیاست بعد میں ہوتی رہے گی۔

    قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ میں قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ کا خیرمقدم کیا گیا۔ کمیٹی ممبران نے کہا کہ پاکستان کا نام بلند کرنے پر کمیٹی آپ کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ سیکریٹری جنرل پاکستان ہاکی فیڈریشن رانا مجاہد نے ہاکی فیڈریشن کے آئین سے متعلق کمیٹی ممبران کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 10 سال قومی ہاکی ٹیم کی خدمت کی، ورلڈ چیمپئن ٹیم کا حصہ رہا، ایک طویل کیریئر کے بعد میں ہاکی فیڈریشن میں بطور سیکریٹری جنرل تعینات ہوا ہوں۔رانا مجاہد نے کہا کہ ہاکی فیڈریشن کو ایک کروڑ 30 لاکھ روپے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے دیا گیا، ہم فیلڈ مارشل کی زیر نگرانی پاکستان ہاکی لیگ کا انعقاد کرنے جا رہے ہیں، پاکستان سپر لیگ طرز کی پاکستان ہاکی لیگ ہونے جا رہی ہیں، ایسی لیگ 20 سال میں کبھی نہیں ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ پرو لیگ بہت بڑا ایونٹ ہے، جس میں دنیا کی 10 بہترین ٹیمیں حصہ لیتی ہیں، پرو لیگ میں شرکت کے لیے 35 کروڑ روپے درکار ہیں۔

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی اثاثے نہیں ہیں جس سے ہاکی فیڈریشن منافع کما سکے، دو سال قبل تک پاکستان اسپورٹس بورڈ 35 لاکھ ماہانہ دیا کرتا تھا، اب نہیں دے رہا۔انہوں نے کہا کہ 3 کروڑ سابق نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے گرانٹ دی، 2024 میں وزیراعظم شہباز شریف نے 5 کروڑ گرانٹ دی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شہلا رضا نے کہا کہ پاکستان ہاکی ٹیم 17ویں اور 18ویں نمبر کی ٹیموں سے جیت کر 15ویں نمبر پر آئی ہے، ٹاپ ٹین والی پرو ہاکی لیگ شرکت کرنے جا رہی ہے، ثابت کر سکتی ہوں سیکریٹری جنرل ہاکی فیڈریشن رانا مجاہد کی تعیناتی بھی غیرآئینی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے 2 قومی کھلاڑی بیرونِ ملک جا کر غائب ہو گئے ہیں۔

    قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ نے ہاکی فیڈریشن کے معاملات پر ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آفتاب احمد ہاکی فیڈریشن کے معاملات پر ذیلی کمیٹی کے کنوینئر ہوں گے جبکہ خواجہ اظہار، شہلا رضا، یوسف خان، وسیم قادر، مہرین رزاق ذیلی ممبران کمیٹی ہوں گے،انہوں نے کہا کہ ذیلی کمیٹی ہاکی فیڈریشن کی باڈی کی قانونی حیثیت اور مالی معاملات کا جائزہ لے گی، ذیلی کمیٹی ایک ہفتے میں ہاکی فیڈریشن کے معاملات پر قائمہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کرے گی۔

  • 9 مئی، ایک اور کیس کا فیصلہ،109 میں سے 75 ملزمان کو سزائیں

    9 مئی، ایک اور کیس کا فیصلہ،109 میں سے 75 ملزمان کو سزائیں

    انسداد دہشت گردی عدالت فیصل آباد کے جج جاوید اقبال نے رانا ثنا اللہ کے ڈیرے پر حملے کے 9 مئی متعلق کیس میں فیصلہ سنا دیا

    انسداد دہشتگردی عدالت نے تھانہ سمن آباد میں درج مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا، 109 ملزمان کا ٹرائل مکمل ہونے پر ملزمان کو سزائیں سنائی گئیں،34 ملزمان مقدمہ سے بری، فواد چوہدری کو مقدمہ سے بری کر دیا ،109 ملزمان میں سے 75 کو سزائیں دی گئیں،34 بری کر دیئے گئے،ملزمان کو دس دس سال کی سزائیں سنائی گئیں۔ پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب، زرتاج گل، شبلی فراز، کنول شوزب کو دس دس سال کی سزا سنائی گئی۔ اسی طرح ارکان اسمبلی شیخ شاہد جاوید کو 3 سال اور اسماعیل سیلا کو دس سال قید کی سزاسنائی گئی۔

  • خیبر پختونخوا سیلاب،10 ہزار سے زائد خاندانوں میں خشک راشن تقسیم

    خیبر پختونخوا سیلاب،10 ہزار سے زائد خاندانوں میں خشک راشن تقسیم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی خیبر پختونخوا ،گلگت کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، باجوڑ، بونیر، مینگورہ، سوات،گلگت،سکردو میں 10 ہزار سے زائد خاندانوں میں خشک راشن تقسیم کیا جا چکا ہے

    مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے 10 دنوں میں تین لاکھ سے زائد افراد میں پکا پکایاکھانا تقسیم کیاگیا ہے،مرکزی مسلم لیگ کی 32میڈیکل ٹیمیں،250ڈاکٹر، پیرا میڈیکل سٹاف خدمت میں مصروف ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے 450 میڈیکل کیمپوں میں ڈھائی لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج معالجہ کیا جا چکا ہے،سیلاب متاثرین میں 10 ہزار سے زائد بستر،دو ہزار مچھر دانیاں، چار ہزار گھروں میں برتن تقسیم کئے گئے ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے 850 سے زائد گھروں کا ملبہ صاف کر دیا گیا،مرکزی مسلم لیگ نے گھروں کی صفائی کیلیے مرکزی مسلم لیگ نے 2000 بیلچے،1000 ہاتھ ٹرالی تقسیم کر دی،سیلاب متاثرین کو صاف پانی کی فراہمی کا عمل جاری،روزانہ دو ٹینکر،5000پانی کی بوتلیں تقسیم کی گئی ہیں، مرکزی مسلم لیگ نے شہید مساجد،مکانات کی تعمیر کا آغاز کر دیا، گلگت کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں مرکزی مسلم لیگ کی امدادی ٹیمیں پہنچیں اور کوئی مددکو نہ آیا،مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم گلگت میں موجود،متاثرین میں راشن،امدادی سامان تقسیم کیا، لاہور،اسلام آباد،سیالکوٹ،فیصل آباد،راولپنڈی،گوجرانوالہ و دیگر شہروں کے رضاکار امدادی کاموں میں مصروف ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے دو ہزار سے زائد رضاکار گھروں سے کیچڑ نکالنے،امدادی کاموں میں مصروف ہیں، ترجمان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم کا کہنا ہے کہ مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے گھروں کے نقصان کا سروے جاری،گھر تعمیر کریں گے

  • لاہور سے  غزہ کیلئے412ٹن امدادی سامان پانچ پروازوں کے ذریعے روانہ

    لاہور سے غزہ کیلئے412ٹن امدادی سامان پانچ پروازوں کے ذریعے روانہ

    وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر پاکستان کی جانب سے غزہ کے لیے مزیدامدادی سامان روانہ کیا جا رہا ہے

    غزہ کے لیے امدادی سامان کی فراہمی کے حالیہ سلسلے میں مزید412ٹن امدادی سامان پانچ پروازوں کے ذریعے روانہ کیا گیا،علامہ اقبال انٹر نیشنل ائیر پور ٹ لاہور سے 100 ٹن امدادی سامان پر مشتمل 21ویں کھیپ بذریعہ خصوصی پروازروانہ کی جار ہی ہے،

    قبل ازیں 23 اگست کو100 ٹن امدادی سامان پر مشتمل19 ویں کھیپ لاہور جبکہ چوتھی کھیپ 12ٹن سامان کے ساتھ اسلام آباد سے روانہ کی گئی۔ 21ویں کھیپ میں 100 ٹن امدادی سامان بشمول راشن بیگز، تیار کھانا اور ڈبہ بند فروٹ شامل ہیں۔اب تک 21امدادی کھیپوں کے ذریعے بھیجی گئی امداد کا مجموعی وزن2027 ٹن ہے۔

    سامان روانگی تقریب میں وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ،تقریب میں حکومتی نمائندے اوراین ڈی ایم اے کے اعلی افسران بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیرنے سامان کی فوری روانگی یقینی بنانے پر این ڈی ایم اے اور دیگر فلاحی اداورں کی کوششوں کو سراہا اوران کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں فلسطین کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا

  • ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    انسداد دہشت گردی منتظم عدالت نے ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی و دیگر ملزمان کو 28 اگست تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔

    ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی و دیگر کے خلاف تشدد اور دھمکیاں دینے کے کیس کی سماعت کے دوران جج نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ آپ نے ملزمان کو گرفتار کیا ہے یا یہ خود چل کر آئے ہیں؟ تفتیشی افسر عدالت کو بتایا کہ ملزمان خود تھانے آئے تھے۔جج نے تفتشی افسر سے سوال کیا کہ ملزمان خود چل کر آتے ہیں؟ ملزمان کے کیا نام ہیں اور الزمات کیا ہیں؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزمان نے مدعی مقدمہ سمیت دیگر کو مارا پیٹا ہے۔

    پراسیکیوٹر نے کہا کہ مدعی مقدمہ پولیس اہلکاروں کی نگرانی میں کام کر رہے تھے۔عدالت نے پراسیکیوٹر سے سوال کیا کہ مدعی جنہیں مارا ہے وہ کس ادارے کے اہلکار و ملازم تھے؟پراسیکیوٹر ادارے کے حوالے سے عدالت کو کوئی جواب نہیں دے سکے اور کہا کہ ہمیں 14 دن کا ریمانڈ دیا جائے تاکہ تفتیش کر سکیں۔عدالت نے ملزمان سے سوال کیا کہ آپ کے وکیل کہاں ہیں؟ فرحان غنی و دیگر ملزمان نے جواب دیا کہ ہمارا وکیل نہیں،عدالت نے سوال کیا کہ اس کیس میں اے ٹی اے کی دفعہ کیوں لگائی گئی؟ جس پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ مدعی اور سرکاری ملازمین دیگر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس وجہ سے اے ٹی اے لگائی ہے۔جج نے استفسار کیا کہ ملازمین کیا کام کر رہے تھے؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ فائبر کی کیبل کا کام کر رہے تھے۔فرحان غنی نے عدالت میں بیان دیا کہ میں نے کوئی تشدد نہیں کیا مجھ پر جھوٹا الزام ہے، میں وہاں سے گزر رہا تھا تو میں نے روک کر پوچھا کیا کام کر رہے ہو اور کس کی اجازت سے؟ میں ٹاؤن چیئرمین ہوں میرا اختیار ہے پوچھنا اور غیر قانونی کام کو روکنا، میں نے روڈ کھودنے کا اجازت نامہ مانگا لیکن انہوں نے نہیں دی،عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ پولیس آئندہ سماعت پر پیش رفت پورٹ کے ساتھ ملزمان کو پیش کرے۔