Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • 10 سالہ بچی کو ہراساں کرنے والا حجام گرفتار

    10 سالہ بچی کو ہراساں کرنے والا حجام گرفتار

    10 سالہ بچی کو ہراساں کرنے والا حجام گرفتارکر لیا گیا

    ترجمان پولیس کے مطابق بچی اسکول و عربی قاعدہ کی پڑھائی کے لیے بازار سے گزرتی تھی اور اوباش ملزم اجمل نے بازار میں حجام کی دکان بنائی ہوئی تھی،ملزم معصوم بچی سے دوستی کی آڑ میں شاپنگ کے بہانے بازار جانے پر آمادہ کرتا رہا، بچی قریبی فلٹر سے پانی بھرنے گئی تو ملزم نے بچی کو حراساں کیا لیکن والدہ کے موقع پر آنے سے ملزم اجمل وہاں سے فرار ہوگیا۔ایس پی ڈاکٹر محمد عمر کے مطابق والدہ نسیم کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے ملزم اجمل کو فوری گرفتار کیا گیا۔ ایس پی اقبال ٹاؤن نے ایس ایچ او ساندہ انسپکٹر شرجیل اور پولیس ٹیم کو شاباش دی۔ ڈاکٹر محمد عمر نے واضح پیغام دیا کہ بچوں اور عورتوں کو حراساں کرنے والوں کے خلاف کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔

  • عاصم منیر کا حالیہ واشنگٹن دورہ پاک امریکا تعلقات کے لیے  نئی جہت کی علامت قرار

    عاصم منیر کا حالیہ واشنگٹن دورہ پاک امریکا تعلقات کے لیے نئی جہت کی علامت قرار

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہوگئے ہیں اور اس کا کریڈٹ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کو جاتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ واشنگٹن کا دورہ پاک امریکا تعلقات کے لیے ’’نئی جہت کی علامت‘‘ قرار دی گئی ہے،امریکی تھنک ٹینک یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے ماہر ڈاکٹر ڈینیئل ایس مارکی نے کہا کہ پاکستان ٹرمپ انتظامیہ سے قریبی تعلقات کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہا ہے، جس میں عسکری، تجارتی اور توانائی شعبوں میں تعاون شامل ہے۔اخبار نے لکھا کہ امریکا نے پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔پاکستان نے امریکا کو کرپٹو کرنسی، معدنی وسائل اور توانائی کے منصوبوں میں تعاون کی پیشکش کی، جس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی۔

    دی اکانومسٹ نے بھی ایک تفصیلی مضمون میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا معمار قرار دیا اور ان کی 18 جون کو وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کو خطے میں سفارت کاری کا نیا موڑ قرار دیا۔

    حالیہ پیش رفت میں امریکا نے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرتے ہوئے اسے ’’کمزور معیشت‘‘ قرار دیا جبکہ پاکستان کے ساتھ صرف 19 فیصد ٹیرف پر تجارتی معاہدہ کیا،بصرین کے مطابق یہ پیشرفت جنوبی ایشیا، چین اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کی اسٹریٹجک ترجیحات میں تبدیلی کا عندیہ دیتی ہے۔

  • خیبرپختونخو اسیلاب،نقصانات بہت زیادہ ہیں،قوم مدد کو آگے بڑھے،شفیق الرحمان وڑائچ

    خیبرپختونخو اسیلاب،نقصانات بہت زیادہ ہیں،قوم مدد کو آگے بڑھے،شفیق الرحمان وڑائچ

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نےکہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں‌سیلاب سے نقصانات بہت زیادہ ہوئے،ہزاروں گھر تباہ ہوئے،خواتین وبچے اب بھی گھروں سے باہر کیونکہ گھر رہنے کے قابل نہیں رہے،بیماریاں پھیل رہی ہیں، خوراک،صاف پانی کی کمی ہے،مرکزی مسلم لیگ کے دو ہزار سے زائد رضاکار ریسکیو و ریلیف آپریشن میں مصروف ہیں، خشک راشن کی تقسیم اور مفت علاج معالجے کا سلسلہ بھی جاری ہے

    ان خیالات کا اظہار مرکزی مسلم لیگ ،خدمت خلق کے چیئرمین شفیق الرحمان وڑائچ، خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر عارف اللہ خٹک، مرکزی ترجمان تابش قیوم،مرکزی مسلم لیگ وسطی پنجاب کے صدر حمید الحسن،مرکزی مسلم لیگ راولپنڈی کے سیکرٹری جنرل انجنینئر مبین صدیقی,مرکزی مسلم لیگ فیصل آباد کے سیکرٹری جنرل احسن تارڑ نے مینگورہ بازار میں مرکزی مسلم لیگ کے امدادی کیمپ میں متاثرین میں سامان کی تقسیم کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر مینگورہ کے سیلاب متاثرین 350 خاندانوں میں خشک راشن سمیت دیگر امدادی سامان تقسیم کیا گیا،اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات طہٰ منیب، ترجمان خیبر پختونخوا محمد عبداللہ بھی موجودتھے،شفیق الرحمان وڑائچ کاکہنا تھا کہ جمعہ کو سیلاب آیا اور شدید ترین سیلاب نے علاقوں کے علاقے ہلا ڈالے، کافی اموات ہوئیں، مالی نقصان کو تو اندازہ ہی نہیں ہو رہا،شانگلہ،مینگورہ،بونیر دیکھیں ،باجوڑ میں آپریشن کے متاثرین الگ ہیں اور سیلاب متاثرین الگ،گلگت ،سکردو میں بھی نقصان ہوا،کچھ علاقے جہاں شدید تباہی ہے وہ ابھی بھی نظر انداز ہیں، مینگورہ میں چھ ہزار سے زائد گھر متاثر ہوئے، گھر ختم،سیلاب بہہ گئے، ان حالات میں جمعہ کے دن سے فوری طور پر ریسکیو کا آپریشن شروع کیا، لاشیں نکالی،جنازے پڑھے،ہفتے سے ملک بھر سے میڈیکل ٹیمیں روانہ ہوئیں ،پکی پکائی خوراک تقسیم کی جا رہی ہے، دن رات ہمارے رضاکار کام کر رہے ہیں، ساڑھے تین ہزار افراد تک راشن پہنچایا گیا ہے،اگلے مرحلے میں ہم ملبہ اٹھانے کا کام کریں گے، کئی لوگوں کی ابھی تک لاشیں نہیں ملیں، گھروں، دکانوں کو تعمیر کریں گے،باجوڑ میں بھی امدادی کام جاری ہے،ہم سکردو سے بونیر ،باجوڑ تک کام کر رہے ہیں،مینگورہ میں ہمیں بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ اتنا نقصان ہوا،مینگورہ میں آج 350 سے زائد خاندانوں میں لاکھوں روپے مالیت کا راشن تقسیم کر رہے ہیں، مچھر دانیاں بھی تقسیم کر رہے ہیں

    خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر عارف اللہ خٹک کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں سیلاب رب کی طرف سے آزمائش تھی ،ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے، قیمتی سامان،مال مویشی سب بہہ گیا، خواتین،بچے کھلے آسمان تلے زندگیاں گزار رہے ہیں، خیبر پختونخوا کا شمالی ریجن سیلاب سے متاثر ہوا ہے، باجوڑ،چترال،و دیگر علاقوں میں جو نقصان ہو اس کے بعد مرکزی مسلم لیگ فوری متحرک ہوئی، مینگورہ میں زیادہ نقصان ہوا ہے،شانگلہ میں بھی کوئی نہیں پہنچا،مرکزی مسلم لیگ پہنچی ہے، ریسکیو،ریلیف آپریشن جاری ہے.مرکزی مسلم لیگ کے دو ہزار سے زائد رضاکار ریسکیو وریلیف آپریشن میں مصروف ہیں،گھروں سے کیچڑ نکالا جا رہا،کئی مقامات سے ہمارے رضاکاروں نے لاشیں بھی نکالیں،ایک ایک گھر میں دس دس سے زیادہ اموات ہوئیں، بونیر،سوات،مینگورہ و دیگر علاقوں میں امدادی کیمپ لگائے گئے ہیں،مینگورہ میں تباہی زیادہ ہوئی،آدھا شہر ڈوب گیا،نقصانات بہت زیادہ ہیں لیکن نقصانات کم بتائے جا رہے،مینگورہ میں دس ہزار گھر متاثر،ہزاروں دکانیں ڈوب گئیں،گھروں میں دس دس فٹ پانی آیا،خواتین،بچوں نے چھتوں پر چڑھ کر جانیں بچائیں،

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم کا کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ کی سیاست خدمت انسانیت ہے،سیلاب کےفوری بعد ملک بھر سے مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار متاثرہ علاقوں میں پہنچے اور ریسکیو ،ریلیف آپریشن شروع کر دیا،بونیر ،مینگورہ،باجوڑ ، گلگت ، سکردو میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،مرکزی مسلم لیگ روزانہ 2500متاثرین میں پکی پکائی خوراک تقسیم کر رہی ہے،مینگورہ بازار میں امدادی کیمپ قائم کیا ہے،3500 سے زائد خاندانوں میں خشک راشن تقسیم کر چکے،350 خاندانوں میں آ ج راشن اور امدادی سامان تقسیم کیا،مرکزی مسلم لیگ کی 32میڈیکل ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ لگا رہی ہیں،اب تک تقریبا ایک لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج معالجہ کر چکے،مفت ادویات دی جا رہی ہیں،12 ہزار افراد میں صاف پانی تقسیم کیا گیا ہے جبکہ 18 سو بستر بھی تقسیم کیے گئے ہیں،،متاثرہ گھروں کا بھی ٹیمیں سروے کر رہی ہیں، مرکزی مسلم لیگ گھر بنا کر دے گی،گھروں میں کیچڑ کی صفائی کی وجہ سے رہنے کے قابل نہیں،مزید افرادی قوت کی ضرورت ہے،مشکل کی گھڑی میں قوم خدمت کے جذبے کے ساتھ متاثرین کی مدد کرے،مرکزی مسلم لیگ متاثرین کی بحالی تک امدادی سرگرمیاں جاری رکھے گی،

  • سہیل وڑائچ صحافی، ذاتی فائدے کے لئے من گھڑت کہانی گھڑی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    سہیل وڑائچ صحافی، ذاتی فائدے کے لئے من گھڑت کہانی گھڑی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    سہیل وڑائچ کا فیلڈ مارشل اور عمران خان سے متعلق کالم، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کالم کو من گھڑت قرار دیدیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ برسلز میں آرمی چیف نے نہ پی ٹی آئی اور نہ ہی عمران خان کا کوئی ذکر کیا، سہیل وڑائچ نے ذاتی مفاد کیلئے اپنی طرف سے کہانی گھڑی،برسلز میں پی ٹی آئی کا کوئی ذکر نہیں ہوا نہ ہی معافی کا ذکر ہوا۔ سہیل وڑائچ کی خبر چھاپنے سے پہلے ادارے کو بھی ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے تھا، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کوئی انٹرویو سہیل وڑائچ کو نہیں دیا،برسلز میں آرمی چیف نے کسی کی معافی کا ذکر نہیں کیا،فوج کا 9 مئی کے حوالہ سے مؤقف واضح ہے ہر کردار کو جواب دینا ہو گا،قانونی طور پر جو غلط حرکت کرتا ہے اس کو قانون کے کٹہرے میں آنا ہو گا،میڈیا کو سمجھنا چاہئے، برسلز تقریب میں سینکڑوں افراد موجود تھے، تقریب میں شریک افراد نے فیلڈ مارشل کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔ 9 مئی صرف فوج کا نہیں قوم کا مقدمہ ہے، واضح ہیں کہ 9 مئی کرنے والوں، اس کے سہولت کاروں اور منصوبہ سازوں کو قانون کے مطابق جوابدہ ہونا چاہیے۔

  • سپریم کورٹ،نومئی کے  مقدمے،عمران کی ضمانت منظور

    سپریم کورٹ،نومئی کے مقدمے،عمران کی ضمانت منظور

    سپریم کورٹ، نو مئی کے آٹھ مقدمات میں عمران خان کی ضمانت منظور کر لی گئی

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،دوران سماعت اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے عدالت کو بتایا کہ کل طبیعت ناسازی کے باعث پیش نہیں ہو سکا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کوئی بات نہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا آپ دونوں سے عدالت کے دو سوالات ہیں، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ پڑھا ہو گا۔پہلا سوال! کیا ضمانت کیس میں حتمی فائنڈنگ دی جا سکتی ہے؟دوسرا سوال! ماضی میں سازش کے الزام پر سپریم کورٹ نے ملزمان کو ضمانت دی، کیا تسلسل کا اصول اس کیس پر اپلائی ہوگا؟

    اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے کہا ضمانت کیس میں عدالت کی آبزرویشن ہمیشہ عبوری نوعیت کی ہوتی ہے، عدالتی آبزرویشن کا ٹرائل پر کوئی فرق نہیں پڑتا، سپریم کورٹ نے ضمانت سے متعلق گائیڈ لائنز دی ہوئی ہیں جو کبھی فالو ہوتی ہیں کبھی نہیں ہوتی،پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے سپریم کورٹ کا ضمانت سے متعلق فیصلہ پڑھا۔اسپیشل پراسیکیوٹر نے اعجاز احمد چوہدری کیس میں ضمانت منظوری کا فیصلہ عدالت میں پڑھا۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ میں سازش سے متعلق کیسز میں ضمانت مسترد ہونے کے فیصلے پڑھ کر آئیں۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے اسپیشل پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ کیس میں سازش کی بات کرتے ہیں، کوئی ایسا کیس ہے جس میں سازش ہوئی ہو اور ضمانت مسترد ہوئی ہو؟

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا حال ہی میں سپریم کورٹ میں جتنے سازش سے متعلق کیس آئے ان میں ضمانت منظور ہوئی ہے، سپریم کورٹ نے ایسے ہی الزام کے 3 کیسز میں ضمانتیں منظور کی ہیں، اپنے کیس کو سازش سے متعلق دیگر کیسز سے الگ ثابت کریں۔اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے کہا سپریم کورٹ میں سازش سے متعلق ضمانت منظور ہونے والےکیسز میں ثبوت نہیں ہوں گے، موجودہ کیس میں سوشل میڈیا پر سازش سے متعلق ثبوت موجود ہیں۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا آپ لوگوں نے ضمانت کی اسٹیج پر میرٹ پر بات نہیں کرنی۔عمران خان کے وکیل سلمان صفدر بولے میرے پاس سازش سے متعلق ضمانت کے تمام کیسز موجود ہیں۔چیف جسٹس نے اسپیشل پراسیکیوٹر کوضمانت مسترد سے متعلق فیصلے کی تفصیلات دینے کی ہدایت کی اور کہا پراسیکیوٹر سپریم کورٹ کے ایسےکیس کا حوالہ دیں کہ سازش کے الزام میں ضمانت منسوخ ہوئی ہو، سازش کے جن 3 مقدمات میں ضمانت دی۔

    استغاثہ ذوالفقار نقوی نے عدالت کو بتایا کہ ان میں نام ایف آئی آر میں شامل نہیں تھے، جس پر چیف جسٹس نے کہا سازش کے جرم کے مقدمات میں ضمانت نہ دینا تھوڑا مشکل ہوتا ہے، کیس کے میرٹس پر کسی فریق کو نہیں سنیں گے، دونوں فریقین سمجھ لیں کیس کے مرکزی حقائق پر بات نہیں کرنے دیں گے، میرٹس ٹرائل کورٹ نے خود طے کرنے ہیں۔اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2014 میں ایک فیصلے میں فریم ورک طے کیا، فیصلے میں قرار دیا گیا ضمانت کیس میں دی گئی آبزرویشنز عارضی نوعیت کی ہوتی ہیں، 1996 اور 1998 میں یہی اصول اپنایا گیا کہ ضمانت میں دی گئی آبزرویشنز عارضی ہوتی ہیں۔ذوالفقار نقوی کا کہنا تھا عدالتی فیصلوں میں قرار دیا گیا کہ ضمانت میں دی گئی آبزرویشنز ٹرائل کو متاثر نہیں کرتیں، 2022 میں محمدرفیق بنام اسٹیٹ کیس میں بھی یہی اصول طے کیا گیا۔

  • کے پی میں بارشوں اور سیلاب سے اموات پر افسوس ہے۔شرجیل میمن

    کے پی میں بارشوں اور سیلاب سے اموات پر افسوس ہے۔شرجیل میمن

    سندھ حکومت کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ایم کیو ایم کی سیاسی حکمت عملی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کو پہلے سے معلوم تھا کہ انہیں بلدیاتی انتخابات میں ایک بھی سیٹ نہیں ملے گی، اس لیے انہوں نے الیکشن لڑنے کی ہمت ہی نہیں کی۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ عوام نے ایک سیاسی جماعت کو مسترد کر دیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم نے بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کا مطلب عوام کی رائے کو نظرانداز کرنا ہے، جو کسی بھی جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہے۔سندھ کے سینئر وزیر نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں کلائمیٹ چینج کا موضوع اہمیت اختیار کر چکا ہے، اور موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ کی حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی تاکہ قدرتی آفات کے نقصانات کو کم کیا جا سکے۔

    شرجیل میمن نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کی مکمل انتظامیہ انتخابات کے دوران سڑکوں پر موجود تھی اور کسی بھی کوتاہی کو فوری دور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا اولین فرض ہے کہ عوام کی خدمت میں کسی قسم کی غفلت نہ ہو۔

    اس کے علاوہ، شرجیل میمن نے خیبرپختونخوا میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث ہونے والی اموات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا .

  • ہندوستان کے زیر تسلط شمال مشرقی علاقوں میں آزادی کی تحریکیں زور پکڑنے لگیں

    ہندوستان کے زیر تسلط شمال مشرقی علاقوں میں آزادی کی تحریکیں زور پکڑنے لگیں

    شمال مشرقی ہندوستان کے مختلف علاقوں میں آزادی اور خودمختاری کی تحریکیں تیزی سے زور پکڑنے لگی ہیں، جہاں کوکی نیشنل آرگنائزیشن کے 16 مختلف مسلح گروہوں نے یکجا ہو کر ایک متحدہ محاذ قائم کر لیا ہے۔ یہ تحریکیں سیاسی، ثقافتی اور علاقائی حقوق کے تحفظ کے لیے جاری ہیں اور اس سلسلے میں بھارت کے عوام بھی بھرپور طریقے سے کھڑے ہو گئے ہیں۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق، کوکی نیشنل آرگنائزیشن نے ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے میجر جنرل ٹی ایچ جرمن کو متحدہ کمانڈ کا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے مطابق، میجر جنرل ٹی ایچ جرمن 16 اگست 2025 سے متحدہ کمانڈ کی قیادت سنبھالیں گے۔ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمال مشرقی علاقوں کی مسلح آزادی تحریک ایک منظم اور مربوط حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔قابض بھارتی حکومت کے خلاف ناگالینڈ، منی پور، میگھالایہ اور آسام کے عوام ایک پلیٹ فارم پر آ کر متحد ہو گئے ہیں۔ یہ اتحاد نہ صرف علاقائی خودمختاری کے حق میں ہے بلکہ بھارتی حکومت کی نااہلی اور مظالم کے خلاف بھی ایک مضبوط ردعمل ہے۔ بھارتی حکام کی جانب سے حق خودارادیت کی آواز دبانے کی کوششیں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کئی علاقوں پر غیر قانونی طور پر قابض ہے، جن میں مقبوضہ کشمیر، جونا گڑھ، ناگالینڈ جیسے علاقے شامل ہیں۔ یہ علاقے اپنی ثقافت، زبان اور سیاسی شناخت کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں تاکہ اپنی آزادی اور خودمختاری کا حق حاصل کر سکیں۔

  • آپریشن سندور میں  بدترین شکست کے بعد سے مودی کا جنگی جنون بے قابو

    آپریشن سندور میں بدترین شکست کے بعد سے مودی کا جنگی جنون بے قابو

    مودی سیاسی دکھاوے اور ہزیمت چھپانے کے لیے بھارتی دفاعی صنعت کے اربوں روپے ضائع کرنے میں مصروف ہے

    رافیل کی ناکامی کے بعد جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار کی مقامی لڑاکا جہازوں کے ذریعے خطے کا امن برباد کرنے کی تیاری جاری ہے،مودی نے’ تیجس ‘کے اربوں ڈالر کے منصوبے کو اپنی ذاتی انا کے لیے فوجی ضرورت پر فوقیت دی ،بھارتی اخبار اکنامک ٹائمز کے مطابق؛بھارت نے 97 تیجس مارک 1A لڑاکا جہاز خریدنے کے لیے 62,000 کروڑ روپے کا آرڈر منظور کر لیا،نئے آرڈر کے بعد فضائیہ کے لیے مارک 1A جہازوں کی کل تعداد 180 ہو گئی، نئے جنگی جہاز فضائیہ کے پرانے MiG-21 طیاروں کی جگہ لیں گے ، جو جلد خارج کیے جائیں گے ، دورہ اسپین میں سابق ایئر چیف مارشل وی آر چاودھری 97 اضافی جہاز خریدنے کے منصوبے کااعلان کر چکے تھے، ‘ ہندستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ ‘کو مزید 200 مارک 2 جہاز اور ففتھ جنریشن کے لڑاکا طیاروں کے آرڈرز ملنے کی توقع ہے،نئے لڑاکا طیاروں کے 65 فیصد سے زائد پرزے مقامی پیداوار پر مشتمل ہیں، 1.6 لاکھ کروڑ روپے کی مجموعی لاگت سے دفاعی حصول کونسل نے ہیلی کاپٹروں کی خریداری اورلڑاکا جہازوں کی اپ گریڈیشن کی منظوری دی،

    تیجس صرف لڑاکا جہاز نہیں، بلکہ بھارت کی ناکامی، مودی کے تکبر اور پروپیگنڈے کی علامت ہے،آپریشن سندور میں رافیل کی ناکامی کے بعد مودی کی دفاعی پالیسی صرف سیاسی دکھاوا بن کر رہ گئی ہے،مودی سرکار کے دفاعی منصوبے عوام کی حفاظت کی بجائے جنگی جنون پروان چڑھانے پر مبنی ہیں ،دہائیوں کی محنت کے باوجود بھارتی فضائیہ کی ناکامیاں، بھارت کی نام نہاد دفاعی صنعت کی کمزوری کی عکاس ہیں،مودی کی ناقص جنگی منصوبہ بندی اور سیاسی دکھاوا بھارتی فوج کی استعداد کو مزید کمزور کر رہا ہے

  • پاک فوج کا سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز جاری

    پاک فوج کا سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز جاری

    پاک فوج نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کا سلسلہ تیزی سے جاری رکھا ہوا ہے۔ انجینئر کور کے دستے خاص طور پر شانگلہ اور بونیر میں سیلاب زدگان کی مدد کے لیے متحرک ہیں اور انہوں نے اپنی بھاری مشینری کی مدد سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کو تیز کیا ہے۔

    شانگلہ اور بونیر کے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کے انجینئر دستے سیلابی پانی کے باعث بند راستوں کو کھولنے اور متاثرہ خاندانوں کو ریسکیو کرنے میں مصروف ہیں۔ ریسکیو آپریشنز کے بعد پیر بابا بائی پاس کو تمام قسم کی ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے، جس سے مقامی لوگوں کی نقل و حرکت میں بہت آسانی پیدا ہوئی ہے۔علاوہ ازیں، پاک فوج نے عوام کی سہولت کے لیے پیر بابا بازار میں رات بھر ملبہ ہٹانے کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے تاکہ تجارتی سرگرمیاں جلد از جلد بحال کی جا سکیں۔پاک فوج کی بھاری مشینری نے سات مقامات پر لینڈ سلائیڈز سے متاثرہ 20 کلومیٹر طویل الوچ سے پُورن تک سڑک بحال کر دی ہے، جو اس خطے کے زمینی رابطے کی بحالی کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس کامیابی کے بعد پُورن گاؤں کا زمینی رابطہ بحال ہو چکا ہے اور امدادی سرگرمیاں مکمل بحالی تک جاری رہیں گی۔

    پاک فوج کے ان ریسکیو اور ریلیف آپریشنز سے سیلاب متاثرین کو فوری اور بروقت مدد فراہم کرنے میں بہت مدد ملی ہے اور متاثرہ علاقے میں زندگی کی بحالی کے لیے امید کی کرن روشن ہوئی ہے۔

  • مودی سرکار کے متنازعہ ترمیمی بل پر اپوزیشن کا لوک سبھا میں شدید احتجاج

    مودی سرکار کے متنازعہ ترمیمی بل پر اپوزیشن کا لوک سبھا میں شدید احتجاج

    آئینی ترمیم کی آڑ میں بی جے پی نے اپوزیشن کی نااہلی کا شکنجہ تیار کرلیا

    بی جے پی کی اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں رکھ کر وزارتوں سے برطرف کرنے کی سازش کی جا رہی ہے،بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق؛ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے لوک سبھا میں تین بڑے آئینی و قانونی بل پیش کردیے،بلوں کا مقصد سنگین فوجداری مقدمات میں زیرِ حراست اعلیٰ عہدیداروں کو نااہل قرار دینا ہے، آئین میں 130ویں ترمیم کے تحت بل میں آرٹیکل 75، 164 اور 239AA میں تبدیلی کی تجویز پیش کر دیا گیا،130ویں ترمیم کے تحت وزیراعظم، وفاقی وزرا، وزرائے اعلیٰ اور دہلی حکومت کے وزرا ہٹائے جا سکیں گے، اگر کوئی رہنما 30 دن مسلسل 5 برس یا زائد سزا کے مقدمے میں گرفتار رہے تو اسے ہٹانے کا اختیار ہوگا، البتہ ترمیم کے تحت رہائی کے بعد دوبارہ تقرری کا راستہ کھلا ہوگا، جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن بل کے تحت 130ویں ترمیم کی شرائط کے مطابق ہی وزرا کی برطرفی کی شق شامل ہے،یونین ٹیریٹریز میں وزرا پر بھی یہی نااہلی کا اصول لاگو ہوگا، کانگریس، اے آئی ایم آئی ایم اور ٹی ایم سی نے ترمیمی بلوں کی سخت مخالفت کردی،ترمیمی بلوں کا ایف آئی آر اور چارج شیٹ کے مرحلے پر سیاسی انتقام میں استعمال ہونے کا خدشہ ہے،

    اے آئی ایم آئی ایم کے رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے کہا کہ "یہ غیر آئینی بل محض شبہات اور بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر انتظامی اداروں کو جج اور جلاد بننے کا موقع دے گا” ٹی ایم سی کی رکن پارلیمان مہوا موئترہ نے کہا؛”یہ بھارتی جمہوریت کا سب سے سیاہ دن ہے، نیا بل وفاقی ڈھانچے اور عدلیہ دونوں کو بائی پاس کرتا ہے”کانگریس کے رکن پارلیمان ابھیشیک سنگھوی نے ایک پوسٹ میں لکھا؛ "انتخابات میں شکست نہ دے سکنے پر اپوزیشن کو ہٹانے کا آسان طریقہ، جانبدار اداروں کے ذریعے گرفتاریاں کرنا ہے”

    بی جے پی نئی قانون سازی کو مخالف آوازیں دبانے کا ہتھیار بنا رہی ہے،جہاں بی جے پی حکومت میں نہیں، وہاں ترمیمی بلوں کے تحت اپوزیشن کو نشانہ بنایا جائے گا،مودی سرکار کا ’’جرم ثابت ہونے سے پہلے سزا‘‘ کا نیا فارمولا سیاسی انتقام کے لیے استعمال ہوگا